Skip to main content

Posts

Showing posts from August, 2025

روح یارم

Novel Name میرے نصیب

EPISODE=14&15 " یہ تربیت کی ہے تم نے میرے بچوں کی. آج وہ میرے سامنے گھر کے بنائے گئے اصولوں سے روگردانی کر رہا ہے۔ تم نے پڑھائی ہیں یہ پٹیاں انہیں ذلیل عورت۔۔ میرے بچوں کو میرے خلاف کھڑا کیا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں تمہارے ساتھ کیا کچھ کرسکتا ہوں۔" سلطان میر نے اسے بالوں سے پکڑ کر بے دردی سے گھسیٹا۔ " مم۔ میں نے حدید کو کچھ نہیں بتایا۔ مجھے اپنے بچوں کی قسم۔ اگر بتانا ہوتا تو پچیس سال پہلے بتاتی۔" انیلا بیگم اسکی اپنی گرفت سے اپنے بال نکالنے کی کوششوں میں ہلکان ہورہی تھی۔ تکلیف اتنی زیادہ تھی کہ آنکھوں سے پانیوں کا سمندر بہہ رہا تھا۔ " مکار عورت!! ٹسوے بہانہ بند کردو۔ اور اپنے بیٹے کو سمجھاؤ۔ اگر آج کے بعد اس نے ہمارے روایات سے بغاوت کرنے کی کوشش کی تو خود کو طلاق یافتہ کہلانے کے لئے تیار کرلو۔ تم اس گھر میں صرف میرے بچوں کی وجہ سے رہ رہی تھی ورنہ مجھے تمہارے اس دو ٹکے کے وجود سے کبھی وہ خوشی وہ سکون نہیں ملا جو مجھے چاہئے ہوتا۔ سلطان میر منہ سے مغلظات بک رہا تھا۔ "آہہہہہہہہہ.!!! انیلا بیگم کا سر ایک جھٹکے سے چھوڑ کر وہ ہاتھ جھاڑ کر کھڑا ہوگیا نتیج...

Novel Name میرے نصیب

EPISODE=11,12&13 موم!!!!! آہل نے عاتکہ کو باہوں میں بھر لیا اور انہیں پاس پڑے صوفے پر احتیاط سے لٹا کر اسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکا چہرہ تھپتھپانے لگا۔ جبکہ  آہل کے منہ سے سننے والے لفظ 'موم' پر حویلی والے حیرت اور بے یقینی سے ششدر رہ گئے۔ پورے حویلی میں جیسے موت کا سناٹا چھا گیا۔  " آہل بھائی پانی!! اذلان نے پانی کا گلاس اس کے آگے کردیا ۔ تو آہل نے جھٹ سے گلاس میں انگلیاں ڈبو کر عاتکہ کے چہرے پر پانی کی چھینٹیں مارے۔  "موم آنکھیں کھولے پلیز!! . آہل کی گھٹی گھٹی آواز حلق سے نکل آئی۔اردگرد سے بے نیاز وہ عاتکہ کے چہرے پر جھکا۔ بے اختیار اسکے نم رخسار پر لب رکھ گیا۔ پھر کسی کو بھی سوچے سمجھنے کا موقع دئیے بغیر وہ دوبارہ عاتکہ کو باہوں میں بھر کر باہر کی طرف بھاگا کہ سلطان میر کے سامنے قدم ٹھٹھکے ۔ " دعا کرنا سلطان میر!! میری ماں کو کچھ نا ہو ورنہ حویلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا میں۔ ایسی بھیانک موت دوں گا تم سمیت ان سب کو جو میری ماں کو تکلیف دینے کا باعث بنے۔ آخری رسومات کے لئے تمہارے ٹکڑے بھی نہیں ملیں گے۔" آہل کی پھنکارتی آواز میں ایک وحشت تھی کہ ...

Novel Name میرے نصیب

EPISODE=9&10 آہل سے ملنے کے بعد وہ سوہا کے  روم میں اگئی۔ روم میں گھپ اندھیرا تھا۔ اس نے سوئچ بورڈ پر ہاتھ رکھ کر بٹن پریس کیا تو روم میں روشنی پھیل گئی۔ وہ سوہا کے  قریب آکر بیٹھ گئی جس نے آنکھوں پر بازوؤں رکھ کر سونے کی بھرپور ایکٹنگ کی۔  "سوہا !! اسنے ہولے سے پکارا اور ساتھ میں بازوں کو آنکھوں سے ہٹانے کی کوشش کی تو سوہا نے بے دردی سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔   "کھا گئی میری خوشیوں کو تم !!. بہن نہیں ڈائین ہو. ایک بہن کی خوشی کا تو خیال کیا ہوتا۔ آگ لگا دی میرے سپنوں کو , حقیقت بننے سے پہلے بھسم کردیا۔" سوہا پھٹ پڑی۔  "سوہا!! بے یقینی سے زر کی آواز ہی خلق میں دب گئی۔  "تمہیں دو مہینے ہوگئے کہ آہل کو پسند کرنے لگی ہو۔ میں دو سال سے ان کی نکاح میں ہو۔ میں نے کب آگ لگائی۔ میں نہیں,  تم خود ہم دونوں کے بیچ اگئی ہو۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آہل نے کبھی تمہیں اس نظر سے دیکھا بھی نہیں۔وہ میرے شوہر ہے۔ ایسا سوچنا بھی گناہ ہے تمہارے لئے۔ کیوں خود کو گناہ کا مرتکب کرنا چاہتی ہو۔۔۔ " دیکھو آپی !! میں آہل کو سچ میں پسند کرتی ہوں۔۔تم میری بہن ہو نا۔ پیار کرتی ہو مجھ...