EPISODE= 17&19
یارم آپ نے گاڑی کب لی ۔۔۔؟ روح اس کے ساتھ آ کر گاڑی میں بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی ۔
یہی تو مسئلہ ہے جانےمن آپ ہمارے ساتھ باہر نکیں تو آپ کو پتہ چلے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ۔محبت سے اس کا ہاتھ چومتے ہوئے بولا ۔
ہاں تو آپ اگر مجھے پہلے بتا دیتے کہ گاڑی ہے تو نامجھے سردی کا ڈر ہوتا اور نہ ہی میں کمرے میں رہتی ۔وہ منہ بنا کر بولی ۔
ہاں تو میرا بےبی تم نے پوچھا ہی کب ۔ ویسے بھی تم نے تو وہیں سے مجھے کہا تھا کہ خبردار جو بستر میں گھسے ہم ساری جگہیں گھومنے کے لیے جائیں گے اور یہاں آکر الٹا ہی ہوگیا تم بستر میں گھسی ہو اور میں تمہاری منتیں کر رہا ہوں ۔
ہاں تو مجھے تھوڑی نہ پتا تھا کہ یہاں اتنی سردی ہوگی ۔
وہ بھی ہارنے کے موڈ میں بالکل نہ تھی تھی ۔
ویسے یارم آپ خضر بھائی سے کیا بات کر رہے تھے فون پے
روح کو اچانک ہی اس کی فون کال یاد آگئی ۔
تمہارے بور ہونے کے بارے میں ۔ وہ شرارتی انداز میں پوچھنے لگا ۔
نہیں آپ کے دادا کے بارے میں ۔آپ فون پر اپنے دادا کے بارے میں بات کر رہے تھے نا میں نے سنا تھا آپ نے دادا کہا تھا
روح جتنے سیریز انداز میں بولی تھی یارم کا قہقہ اتنا ہی بلند تھا یہ پہلی بار ہوا تھا جب یارم نے اس کے سامنے قہقہ لگایا ۔
او میری جان تم بہت معصوم ہو ۔اس لئے تو پیار کرتا ہوں تم سے لو یو ۔ وہ گاڑی کی پرواہ کیے بغیر روح پر جھکا تھا ۔
یارم گاڑی چلائیں ایکسیڈنٹ ہو جائے گا وہ اپنا حیا سے دمکتا چہرہ چھپاتے ہوئے بولی ۔
کچھ نہیں تمہارا یارم تمہیں کچھ نہیں ہونے دے گا ۔
تمہیں پتا ہے یہ میری زندگی کے سب سے حسین دن ہیں ۔ہم ہر سال یہاں آئیں گے ۔اور ایسے ہی رہیں گے ۔
ہاں ہم اپنے بچوں کو بھی لے کے آئیں گے آگلے سال روح بنا سوچے سمجھے بولی تھی ۔اور پھر جب اپنی بات سمجھ میں آئی تو یارم کو دیکھے بغیر باہر دیکھنے لگی
اچھا تو ایک سال میں تمہارا کتنے بچے پیدا کرنے کا ارادہ ہے وہ بالکل سیریز انداز میں پوچھ رہا تھا ۔
یار م دیکھ کر گاڑی چلائیں اور میرے ساتھ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔
ہاں بالکل اگر تمہارے ساتھ فری ہو جاؤ تو تم بالکل ہی فری ہو جاتی ہو ۔ہیں نا وہ شرارت سے آنکھ دباتے ہوئے بولا ۔
یارم آپ بلکل اچھے نہیں ہیں مجھے نہیں کرنی آپ سے بات وہ اپنا لال اناڑی چہرا لئے منہ پھیر گئی۔
وہ لوگ اس وقت
Reykjavík.
کی خوبصورت سڑک پر تھے
جہاں پر بہت بڑا بازار تھا ۔
یارم ہم یہاں کیوں آئے ہیں ۔سارا بازار ہی بند تھا تقریبا کوئی کوئی دکان کھلی ہوئی تھی ۔
Reykjavík
آئس لینڈ کے ان شہروں میں سے تھا جہاں پر پلازے اور بلڈنگ نہیں بنائی جاتی
اور اگر بنائی بھی جائیں تو ان کی لمبائی اتنی زیادہ نہیں ہوتی جتنے کے باقی شہروں میں ۔
یارم اسے اپنے ساتھ ایک بوتیک کے اندر لایا تھا ۔
اس نے وہاں کاؤنٹر پر کھڑے آدمی سے کچھ پوچھا ۔
اور اس آدمی نے مسکراتے ہوئے اسے جواب دیا اور کہیں کا راستہ بتایا ۔
یارم ایک بار پھر سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے جانے لگا
وہ بھی بنا اس سے کچھ پوچھے اس کے ساتھ چلتی گئی۔
سنو اس روم کے اندر جاؤ یہ لڑکی تمہیں ڈریس دکھائے گی تمہیں وہ ڈریس پہن کر باہر آنا ہے ۔
اس نے اس کے پیچھے کھڑی لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
اس لڑکی کو اپنے انتظار میں کھڑا دیکھ کر روح بنا کچھ پوچھے اس لڑکی کے ساتھ اندر جانے لگی
لڑکی نے اسے ایک خوبصورت سر خ رنگ کا فراک نماڈریس دکھایا ۔دیکھنے والا باآسانی اس کی قیمت کا اندازہ لگا سکتا تھا ۔
وہ لڑکی کی کوئی بات نہیں سمجھتی تھی شاید وہ لڑکی بھی یہ بات جانتی ہے اس لیے صرف اسے دیکھ کر مسکرائے جا رہی تھی۔
ہائے اللہ اس کے بھی بازو نہیں ہیں۔ مجھے یارم سے بات کرنی ہے روح نے اس لڑکی سے اردو میں کہا ۔
جبکہ وہ لڑکی بنا اس کی بات سمجھے آگے سے مسکرائے جا رہی تھی ۔
دیکھیے مسکرانا بند کریں مجھے میرے شوہر سے بات کرنی ہے پلیز انہیں بھلا دیں اس بار روح نے تفصیل سے کہا لیکن وہ لڑکی پھر بھی پاس کھڑی مسکراتی رہی ۔
جیسے اسے صرف مسکرانے کے ہی پیسے ملتے تھے ۔
وہ لڑکی کو ایسے ہی چھوڑ کر باہر نکل آئی ۔لیکن اب وہاں یارم نہیں تھا۔
یہ کہاں چلے گئے ۔۔۔؟ وہ خود سے سوال کرتی واپس اندر آ گئی ۔
جہاں وہ لڑکی ابھی بھی مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی ۔ایک پل کے لئے روح کا دل چاہا کہ اس کی مسکراہٹ نوچ کر کہیں پھینک دے۔
کیسی عجیب لڑکی ہے آپ کیا کروں اگر یارم واپس آگئے تو مجھ پر غصہ ہوں گے ۔
پہن لوں ہاں تو وہ شرٹ بھی تو پہنی تھی ۔اس کے اوپر بھی توشال کی تھی اس کے اوپر بھی کر لونگی ۔
اور ویسے بھی یا رم نے بتایا تھا کہ یہاں پر مجھے اچھے کپڑے نہیں ملیں گے ۔
ویسے بھی یہ فراک کتنی خوبصورت ہے صرف بازو ہی نہیں ہیں نا ۔اور یارم نے دیکھ کر ہی خریدا ہوگا ۔
اس نے سوچتے ہوئے ڈریس کو اپنے ہاتھوں میں لیا ۔اور پہننے چلی گئی ۔
ڈریس پہن کر واپس نکلی ۔ہاتھ میں یارم کے کپڑے اور اپنی شال تھی ۔
لڑکی نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے وہ کپڑے لینے چاہے جب روح نے فورا ہی شال کو اپنے ہاتھ میں سختی سے پکڑ لیا ۔
اور اپنے بے لباس بازوؤں کو ڈکنے لگی ۔
روح نے اپنے آپ کو شال سے اس طرح سے کور کیا کہ وہ کہیں سے بھی بے لباس نہ ہو ۔
اور پھر اسے وہ لڑکی باہر آنے کا راستہ دکھانے لگی
وہ کمرے سے باہر نکلی تو یارم تیار تھری پیس سوٹ میں کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا ۔
کالے رنگ کے سوٹ جس میں اس نے وائٹ کلر کی شرٹ پہنی تھی وہ بے حد ہینڈسم رہا تھا ۔
مجھے پتہ تھا تم کور کر لو گی ۔اس نے روح کی شال ٹھیک کرتے ہوئے کہا ۔
کیسا لگا ڈریس ۔۔؟ اس نے اس کا بھرپور جائزہ لیا ہے ۔ ریڈ کلر کی پرنسز ڈریس میں وہ کسی باربی ڈول سے کم نہ لگ رہی تھی ۔
اچھا ہے ۔ لیکن سلیوزلیس ۔ روح نے منہ بنا کر جواب دیا تو یار م کے ڈمپل نمایاں ہوگئے ۔
کوئی بات نہیں بے بی وہاں میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہوگا تمہیں دیکھنے والا
وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامتے ہوئے بولا ۔
یارم ہم کہاں جا رہے ہیں روح ایکسائٹڈ سی اس کے ساتھ چلتے ہوئے پوچھنے لگی ۔
یارم میں ان ہائی ہیلز میں ٹھیک سے چل نہیں پا رہی ۔اس نے اپنے جوتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
جو کہ اس لڑکی نے اس کی ڈریس کے ساتھ میچنگ اس کے پیروں کے قریب رکھے تھے ۔
وہ اسے یہ نہیں پتا پائی کہ اس نے کبھی ہائی ہیلز نہیں پہنی ۔
میں اٹھا کے لے چلوں۔ وہ شرارت سے رکا تھا
نہیں میں چل سکتی ہوں ۔اس سے پہلے کہ یارم سچ میں اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیتا وہ تیزی سے آگے کی طرف بڑھی اور بری طرح سے لڑکھر آئی ۔
اس سے پہلے کہ وہ گرتی یارم اسے اپنی باہوں میں بھر چکا تھا ۔
شرم کے مارے روح اپنی نگاہیں تک نہ اٹھا پا رہی تھی۔
یارم لوگ دیکھ رہے ہیں پلیز مجھے نیچے اتاریں۔
نہیں روح یہاں کے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا ان سب باتوں سے اور دوسری بات تو میری بیوی ہو میں جو چاہے کروں۔
وہ کہتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھا اور آکر واپس اسے گاڑی میں بٹھایا ۔
روح نے شکر کا کلمہ پڑھتے ہوئے جلدی سے اپنی سائڈ کا دروازہ بند کیا ۔
یارم ہم جا کہاں رہے ہیں آپ بتا تے کیوں نہیں مجھے ۔
وہ پھر سے پوچھنے لگی ۔
وہاں جہاں میرے اور تمہارے علاوہ کوئی تیسرا نہ ہو ۔
اب ایک دم چپ ہو کر بیٹھ جاؤ تمہیں پتا ہے مجھے ڈرائیونگ کے دوران بات کرنا بالکل پسند نہیں ۔
وہ سختی سے کہتا ہوا اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا ۔
جبکہ روح سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں موندنے لگی
خبردار روح سونامت ۔تمہاری نیندوں کا کچھ کرنا پڑے گا ۔
وہ اسے واڑن کرتے ہوئے بولا ۔
اور پھر تھوڑی ہی دیر بعد یارم نے اندھیرے میں گاڑی روک دی۔
چلو آو روح۔ وہ اسے گاڑی سے نیچے اترنے کے لئے کہہ رہا تھا لیکن اس اندھیری سڑک پر وہ دونوں کہاں جاتے یہاں تو صرف ایک جنگل تھا وہ بھی برف سے ڈھکا ہوا ۔
یا جنگل سے نکلتی شاہد ایک سڑک۔
یارم ہم یہاں کیوں لائے ہیں اندھیرے میں کچھ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھنے لگی ۔
کیونکہ آج میں تم سے کچھ سوال پوچھنا چاہتا ہوں اور اگر تم نے ان کے بالکل ٹھیک جواب دیے تو میں تمہیں اپنے ساتھ واپس لے چلوں گا اور نہیں تو تمہیں یہی جنگل میں چھوڑ دوں گا ۔وہ بالکل سیزیر موڈ میں بول رہا تھا ۔
اگر ہمت ہے تو چھوڑ کر دکھائیں ۔ مجھے پتہ ہے آپ میرے بغیر نہیں رہ سکتے ۔میں آپ سے دور چلی گئی تو یہاں کی سڑکوں پر پاگلوں کی طرح گھومے گے آپ ۔ کیا دعویٰ تھا وہ کچھ ہی دنوں میں سمجھ چکی تھی کہ یارم اسے چھوڑ نہیں سکتا ۔
روح۔۔۔ اس نے جذبات کی شدت سے اس کا نام پکارا تھا
روح سوالیہ انداز سے اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔
آئی لو یو ۔آئی لو یو سو مچ ۔بالکل ٹھیک کہتی ہو تم اگر تم مجھ سے دور ہوئی نہ تو میں واقع ہی ان سڑکوں پر پاگلوں کی طرح گھوموں گا ۔
فی الحال تو تم نے میرا پاگل پن دیکھا ہی نہیں میں سچ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا ۔
مجھ سے کبھی دور تو نہیں جاؤ گی نہ ۔۔۔؟وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ سوال وہ بار بار اس سے کیوں پوچھ رہا ہے جبکہ وہ یہ بات اچھے سے جانتا تھا کہ اگر وہ سے دور جانے کی کوشش کرے تو وہ اسے دوسری دنیا سے بھی ڈھونڈ نکالے گا
یارم میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی ۔اوراگر جاونگی بھی تو کہاں جاؤں گی آپ کے علاوہ ہے ہی کون میرا ۔
وہ گاڑی سے نکل کر اس کے ساتھ چلتے ہوئے کہنے لگی ۔
اچھا بتاؤ کتنا پیار کرتی ہو مجھ سے ۔
کرتی بھی ہو کہ نہیں وہ اس کا ہاتھ تھامے ساتھ چلتے ہوئے کہنے لگا ۔
یارم آپ میری ہر بات میں شامل ہیں ۔
آپ میری ہر سانس میں شامل ہیں ۔
ہر نماز کے بعد کی دعا ہیں آپ ۔
میں خود بھی نہیں جانتی کہ آپ میرے لئے کیا ہیں
یارم آپ میرے لئے میرا سب کچھ ہیں ۔
اب آپ اسے میری محبت کہہ لیں یا کچھ اور لیکن آپ سے زیادہ عزیز مجھے اس دنیا میں اور کوئی نہیں ہے ۔
جب آپ صبح کام پر جاتے ہیں تو میں سارا دن آپ کا انتظار کرتی ہوں۔ اور پھر جب آپ واپس آکر وہ شرمائی تھی ۔یارم کے ڈمپل نمایاں ہوئے ۔
وہ اپنے شوہر کے سامنے اپنے ہی شوہر کے سارے دن کی بے تابیاں بیان نہیں کر پاتی تھی ۔
جانتی ہو رؤح میری ماں کہا کرتی تھی ۔
اگر کسی شخص کی محبت آپ کی ہر نماز کی دعا بن جائے تو سمجھ لو وہ محبت عشق بن کر آپ کی روح میں اتر چکی ہے ۔
میں تمہاری روح میں اترنا چاہتا ہوں روح۔ اندھیرے میں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔
جبکہ روح کے وجود کو اس نے اپنے آپ میں چھپایا ہوا تھا ۔
آپ کتنی محبت کرتے ہیں مجھ سے بتائیں مجھے روح نے پوچھا ۔
محبت ہاہاہا ۔ وہ قہقہ لگا کر ہنسا تھا ۔
تم میرا عین ہو تم میرا شین ہو تم میرا کاف ہو
روح یارم کے دل سے روح میں اترا ہوا عشق ہے۔
روح کی آنکھوں سے بے تاب آنسو چھلکے
روح تم میری زندگی میں آئی پہلی خوشی ہو میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں اتنا خوش قسمت انسان ہوں کہ مجھے تم جیسی لڑکی ملے گی ۔
وہ محبت سے اسے اپنے ساتھ لگائے اس کے آنسو صاف کر رہا تھا جبکہ آہستہ آہستہ یہ سفر ابھی جاری تھا
یارم آہستہ آہستہ کہتا اسے اپنے ساتھ لے کہیں جا رہا تھا ۔ کچھ فاصلے پر اسے تھوڑی سی روشنی نظر آئی ۔
ان کی گاڑی کہیں پیچھے چھوٹ چکی تھی ۔
دیکھا تو سامنے ایک چھوٹا سا گھر تھا ۔جس کے اندر کی لائٹس جل رہی تھی ۔
یارم یہ روح نے سامنے چھوٹے سے گھر کی طرف اشارہ کیا ۔
ہاں میری جان اب تم نے اگلے سال ہمارے بچوں کے ساتھ یہ آنے کا پلان بنایا ہے تو میں نے سوچا ان کے لیے گھر بھی تو ہونا چاہیے ۔
بہت چھوٹا گھر ہے وہ یہاں پر بڑے گھر نہیں ملتے ۔ یہاں سب لوگ ایسے ہی چھوٹے چھوٹے مکانوں میں رہتے ہیں ۔
میں نے آبادی سے الگ تھلگ ایک چھوٹا سا گھر لیا ہے ۔
میں نے بہت سوچا تمہیں کیا کیا گفٹ دوں ۔
پھر میرے ذہن میں یہی ایک چیزآئی ۔ کیسا لگا ۔۔؟ یارم نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔
بہت پیارا ہے ۔۔۔یار م نے دیکھا کہ روح رونے کی مکمل تیاری پکڑ چکی ہے
بالکل میرے جیسا ۔یارم نے شرارت سے کہا ۔
آپ کب سے پیارے ہو گئے ۔پیاری صرف لڑکیاں ہوتی ہیں روح نے اس کی غلط فہمی دور کرنی چاہی ۔
ہاں یار لڑکے تو ہاٹ ہوتے ہیں میرے جیسے یا لڑکیاں ہاٹ بھی ہوتی ہیں۔ وہ شرارت سے آنکھ دبا کر بولا ۔
یارم آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں چھوڑیں مجھے میرے گھر کے اندر جانا ہے۔
وہ اپنا آپ چھڑا کر اپنا گلابی چہرہ لیے اندر جانے لگی ۔
سوری بےبی آج تو نہیں چھوڑوں گا آج آخر ہمارے نئے گھر میں ہمارا پہلا دن ہے ۔
اس نے روح کو اپنی باہوں میں اٹھا تے ہوئے شرارت سے کہا ۔
باقی گھر صبح دیکھ لینا فی الحال صرف بیڈروم ہی دیکھو ۔
وہ اس پر جھکتے ہوئے بولا۔ اور اسے لیے سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔
صبح جب روح کی آنکھ کھلی تو صبح کے 10 بج رہے تھے ۔
اس نے اپنے آپ کو یارم کی باہوں میں پوری طرح سے قید پایا ۔
شرمیلی سی مسکان مسکراتے ہوئے یارم کا ہاتھ اپنے اوپر سے ہٹانے لگی ۔
جب یارم نے اسے اور کس کے اپنی باہوں میں بھرا
یارم پلیز چھوڑیں صبح کے 10 بج رہے ہیں کتنا وقت ہو چکا ہے ۔وہ اس کی باہوں سے اپنا آپ چھڑواتے ہوئے بولی ۔
تم نے کیا کرنا ہے اتنی جلدی جاگ کر۔ لیٹی رہو ایسے ہی میں تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں وہ اس کے بالوں میں منہ چھپاتے ہوئے بولا ۔
یار م مجھے بھوک لگی ہے ۔یارم کو رات والی ٹون میں واپس آتے دیکھ کرجلدی سے کہا
نہ تمہاری نیند ختم ہوتی ہے نہ تمہاری بھوک ختم ہوتی ہے پہلے بتاؤ تمہارا کھانا جاتا کہاں ہے ۔
تمہیں لگتا کیوں نہیں ہے ۔اپنی حالت دیکھو ۔کچھ کھایا پیا کرو ۔
ہاں تا کہ آپ کی طرح موٹی ہو جاؤں ۔بازو دیکھیں ہیں آپ نے اپنے کتنے موٹے ہیں ۔۔
لڑکی لوگ ایسی بوڈی لانے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں دو سال کا کورس کرکے ایسے مسلز بناتے ہیں ۔
اور جسے تم موٹاپا کہہ رہی ہو نا لڑکیاں مرتی ہیں ایسی لکس پے ۔یارم نے اسے ان مسلز کی اہمیت سمجھانا ضروری سمجھی ۔
پتا نہیں کون سی لڑکیاں ہیں جو ایسی لکس پر مرتی ہیں ۔ روح نے ناک سے مکھی اڑائی ۔
مطلب تم نہیں مرتی ہو میری لکس پے ۔یا رم نے اپنی توپوں کا رخ سیدھا اسی کی طرف کیا ۔
ہیلو منہ دھو کر رکھے ۔مجھے آپ کی لکس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے مجھے تو بس آپ کے یہ ڈمپل تھوڑے سے اچھے لگتے ہیں ۔روح نے اس کے گال پر انگلی رکھتے ہوئے کہا
تھوڑے سے ۔یارم نے اس کی نقل اتاری ۔
ہاں بالکل تھوڑے سے باقی آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں
چلو جی کچھ تو اچھا ہے ۔یارم نے بھرپور اپنے ڈمپلز کی نمائش کرتے ہوئے کہا ۔اور لگے ہاتھ اک پیاری سی گستاخی بھی کردی۔
یارم آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں روح نے سرخ ہوتے چہرے سے کہا ۔
ہاں پتا ہے میں بالکل بھی اچھا نہیں ہوں لیکن میرے ڈمپلز تھوڑے سے اچھے ہیں ۔
یارم آنکھ دباتے ہوئے بولا ۔
چھوڑیں مجھے۔ مجھے میرا گھر بھی دیکھنا ہے اس سے اپنا آپ چھڑاتے ہوئے جلدی سے اٹھی ۔
یارم باہر برف گر رہی ہے ۔لیکن یہاں تو بالکل بھی سردی نہیں ہے ۔
وہ سیڑھیاں اتر کے نیچے آئی تھی جہاں شیشے کی بڑی سی دیوار کے باہر برف گر رہی تھی
وہ جلدی سے سیڑھیاں چڑھ کے واپس بیڈ روم میں آئی اور یار م کو بتانے لگی ۔
یار م نے مسکرا کر اس کی ایکسائٹمنٹ دیکھی
میں تو پہلے ہی کہتا تھا جب برف گرتی ہے تب زیادہ سردی نہیں ہوتی ہاں لیکن برف گرنے کے بعد وہ بہت سردی ہوتی ہے ۔
اس لئے احتیاط ضروری ہے ۔
یارم نے اس کی شال ٹھیک سے اس کے کندھوں پر پھیلاتے ہوئے کہا ۔اس نے ابھی تک رات والی ہی ڈریس پہن رکھی تھی ۔
میں ابھی تھوڑی دیر میں ہوٹل جاؤں گا ۔
اور وہاں سے آتے ہوئے تمہارے لئے کچھ ڈریسیز لاؤں گا ۔
اور یہاں پر تم کسی بھی قسم کے ڈریس پہن سکتی ہو ۔کیونکہ یہاں میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہوگا ۔
ہم اگلے پانچ دن یہاں رکیں گے پھر واپس دوبئی جائیں گے
یار م نے اسے اپنے قریب کرتے ہوئے بتایا
یارم اگر ہم واپس ہی جانے والے تھے تو آپ نے گھر یہاں کیوں ہے خریدا ۔روح نے حیرانگی سے پوچھا
کیونکہ ہم ہر سال یہاں چھٹیاں منانے آئیں گے میری جان ۔
اب ہر سال ہم ہوٹل میں تو نہیں رہ سکتے نہ ۔یارم نے پیار سے اس کے بالوں کو چھیڑتے ہوئے کہا ۔
یارم آپ کے پاس کیا بہت پیسے ہیں ۔وہ تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے پوچھنے لگی ۔
ہاں بہت۔کیوں تمہیں کچھ چاہیے کیا ۔ وہ مسکرایا
مجھے لپسٹک لینی ہے ۔ روح نے جلدی سے فرمائش کردی ۔
یارم قہقہ لگا کر ہنسا ۔
روح تم لپسٹک کے لئے مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ میرے پاس کتنے پیسے ہیں ۔
اس میں ہنسنےوالی کون سی بات ہے ۔میری آپی کے پاس بہت ساری لپسٹک تھی ۔
وہ کبھی کبھی مجھے بھی لگاتی تھی ۔ روح ایکسائٹمنٹ میں بتاتے ہوئے کب اس کے اتنے قریب بیٹھ گئی اسے خود بھی پتا نہ چلا ۔
احساس تب ہوا جب یار م اسے پوری طرح سے گھیر چکا تھا ۔
یارم پلیز چھوڑیں۔روح کا دل زور سے دھڑکنے لگا ۔ یارم کی قربت میں اس کا یہی حال ہوتا تھا اس نے اپنا آپ چھڑوانے کی ناکام سی کوشش کی ۔
جب یارم نے اس کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر اس کی مزاحمت کو ناکام بنا دیا ۔
نہیں مجھے کہیں نہیں جانا یہیں رہنا ہے ۔مجھے ابھی آرام کرنا ہے روح نے اسے فیصلہ سنایا
لیکن روح تم یہاں کیسے رہو گی ۔میں تمہیں اکیلے چھوڑ کر نہیں جا سکتا ۔
میں اپنے گھر میں بھی اکیلے نہیں رہ سکتی ۔۔۔یارم کچھ نہیں ہوگا مجھے
کیا ہوگیا ہے آپ کو میں اوپر رہوں گی پلیز میں اس وقت بالکل سفر نہیں کرنا چاہتی ۔
نہیں روح یہاں خطرہ ہے یہاں جنگلی جانور ہیں۔ میں تمہیں اکیلے نہیں چھوڑ سکتا نہ جانے مجھے کتنا وقت لگ جائے ۔یارم کسی حال میں سے اکیلا چھوڑنے کو تیار نہ تھا
او ہو میں باہر نکلوں گی تو جنگلی جانور آئیں گے نہ اور ویسے بھی جنگلی جانور رات کو آتے ہیں آج تو اتنی روشنی ہے یہاں۔ اب پلیز آپ جائیں اگر آپ لیٹ جائیں گے تو پھر لیٹ واپس آئیں گے ۔
اور پھر آتے ہی میری نیند کی دشمن بن جائیں گے ۔روح جلدی جلدی بولتی اپنی زبان دانتوں کے نیچے دبا گئی
اس کے بات سن کر یارم کے ڈمپل نمایاں ہوئے ۔
ٹھیک کہہ رہی ہو تم ۔جلدی جاؤں گا تو جلدی آؤں گا کیونکہ واپس آ کے مجھے تمہاری نیند کا دشمن بھی بننا ہے
وہ شرارت سے کہتا ہوا اٹھا
او دروازہ اندر سے ٹھیک سے لاک کرو ۔
اور جب تک میں نہ آؤں باہر مت نکلنا ۔ یہاں دور دور تک کوئی نہیں آتا جاتا۔
خیال رکھنا اپنا۔ میرے لئے ۔۔محبت سے اس کا ماتھا چومتے ہوئے بولا اور باہر نکل گیا ۔
اس کے جانے کے بعد روح نے پورا گھر دیکھا جو کہ وہ صبح ہی دیکھ چکی تھی ۔
گھر کی سیٹنگ ٹھیک نہیں تھی جو کہ اس نے خود اپنی مرضی سے کرنی تھی ۔
تھوڑی دیر کے گھومنے پھرنے کے بعد اسے پتہ چلا گھر میں ہر جگہ ہیٹنگ سسٹم لگا ہے ۔جس کی وجہ سے گھر کے اندر سردی نہیں لگتی ۔
وہ اب سمجھی تھی ۔ یارم کے پچھے دروازہ بند کرنے کے لیے جاتے ہوئے سے اتنی سردی لگ رہی تھی ۔
تو اندر آتے ہی اسے سردی کیوں نہیں لگی ۔
یہ سچ تھا کہ برف گرتے ہوئے اتنی سردی نہیں محسوس ہوتی تھی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انسان جتنی سردی محسوس کریں اسے اتنی سردی لگتی ہے ۔
اور روح سے زیادہ اچھی طرح سے سردی کون محسوس کر سکتا تھا یہ بات یارم بہت زیادہ اچھے طرح سے سمجھ چکا تھا اسی لیے اس نے اس گھرمیں اسپیشلی ہیٹنگ سسٹم لگوایا تھا ۔
اور اب گھومنے کے بعد وہ ٹی وی کے سامنے آ بیٹھی ۔
اور پھر تھوڑی ہی دیرمیں بور ہو کے وہ اپنے بیڈ روم میں آئی ۔
یار م کی پرفیوم اور سگریٹ کی ملی جلی مہک ابھی تک کمرے میں موجود تھی ۔
یارم سگریٹ بہت پیتا تھا ۔اور اس چیز سے روح کو کوئی اعتراض نہ تھا ۔
کیوں کہ اس کی بہن تانیہ بی امی اور بہنوں سے چھپ چھپا کر سگریٹ پیتی تھی ۔
اس کو پتہ ہونے کے باوجود اس نے یہ بات کبھی کسی کو نہ بتائی۔ خیر وہ بتا دیتی تو ویسے بھی کون اس کی سنتا ۔
وہ یہی سب سوچتے ہوئے آکر بیڈ پر لیٹ گئی ۔
وہ اب بھی اپنی آج کی اور کل کی زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی کتنا کچھ بدل چکا تھا یہاں آکے۔
کتنی الگ ہو چکی تھی اس کی زندگی ۔پاکستان میں تو اسے خود کے لیے سوچنے کو بھی وقت نہ ملتا تھا ۔وہاں کون تھا اس کی پرواہ کرنے والا ۔ اس کو پوچھنے والا ۔وہ دن رات کام کرتی تھی کوئی نہیں تھا جو اس کے بیمار ہونے پر اسے ڈاکٹر کے پاس لے کے جاتا ڈاکٹر کے پاس لے کے جانا تو دور کوئی اسے دوائی تک نہیں لاکے دیتا تھا ۔
سب کے کھانے کے بعد اگر کھانا ختم ہو جاتا اور اس کے لیے کچھ نہ بچتا تو کوئی اس سے یہ نہیں پوچھتا تھا کہ تم نے رات میں کھانا کھایایا نہیں ۔
اور یہاں کوئی تھا ۔جو اس کی ذرا سی بات بھی کتنے غور سے سنتا تھا ۔اس کی پرواہ کرتا تھا ۔اس کے کھانا نہ کھانے پر سو بار پوچھتا تھا ۔
کتنی بدل چکی تھی اس کی زندگی ۔یارم اس سے محبت نہیں عشق کرتا تھا اور اس عشق پر وہ ایمان لے آئی تھی ۔
سوچتے سوچتے نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی
آنکھ کھلی تو باہر تھوڑا تھوڑا اندھیرا چھا چکا تھا وقت دیکھا تو شام کے تین بج رہے تھے ۔
یارم ابھی تک نہیں آئے ۔
یہ کہاں رہ گئے وہ سوچتے ہوئے اٹھی اور کھڑکی کا پردہ ہٹایا ۔
دور سڑک پر ایک آدمی چلتے ہوا جارہا تھا ۔اس نے کمبل نما شال سے خود کو ڈھکا ہوا تھا ۔یا شاید اس نے کوئی جیکٹ پہن رکھا تھا ہڈی والا دور سے سمجھ نہیں آرہا تھا
یارم نے تو کہا تھا یہاں کوئی بھی آتا جاتا نہیں ۔یارم نے بتایا تھا کہ یہاں دور دور تک نہ کوئی بازار ہے اور نہ ہی کوئی گھر ۔
تو پھر کیا آدمی کون تھا ۔
کہیں کوئی رستہ تو نہیں بھول گیا ۔
سوچتے ہوئے پردہ برابر کیا اور واپس بیڈ پر بیٹھ گئی ۔
تھوڑی دن میں آدمی کو بلاکر واپس نیچے آگئی ۔
یارم اب تک نہیں آئے ۔فون بھی نہیں لائے اپنا ورنہ پوچھ لیتی ۔
چلو ٹی وی دیکھتی ہوں ۔ اس نے سوچااور ایک بار پھر سے ٹی وی آن کرکے بیٹھ گئی ۔
یارم کو گئے ہوئے تقریبا ڈھائی گھنٹے ہو چکے تھے ۔ہوٹل یہاں سے بہت فاصلے پر تھا ۔
اس سے تو بہتر تھا ساتھ ہی چلی جاتی ۔وہ سوچتے ہوئے ایک پر پھر سے ٹی وی بند کر کے کمرے میں آگئی ۔
یہاں کھانا بنانے کا کوئی سامان موجود نہ تھا ۔
ورنہ وہی بنا لیتی ۔
یارم نے جانے سے پہلے اسے بریڈ کھلا کر چائے پلائی تھی
اور اب اسے ہلکی ہلکی بھوک بھی محسوس ہو رہی تھی
کمرے میں آنے کے بعد اس نے ایک بار پھر سے یارم کے انتظار میں سڑک دیکھنے کے لئے پردہ ہٹایا ۔
تو دیکھا وہ آدمی ابھی بھی وہیں اسی جگہ کھڑا ہے ۔
باہر برف گرنا شروع ہو چکی تھی ۔اور وہ آدمی ابھی تک وہی کھڑا تھا ۔
یا اللہ یہ کیسا آدمی ہے اس طرح سے برف میں کھڑا ہے ۔
یقیناً یہ آدمی راستہ بھول کے اس طرف آگیا ہے ۔
شاید اب کسی گاڑی یا لفٹ کا انتظار کر رہا ہوگا ۔
مجھے اس کی مدد کرنی چاہیے لیکن یہ تو میری زبان سمجھتا ہی نہیں میں اسے کیسے بتاؤں گی کہ وہ غلط جگہ آیا ہے ۔
اف جیسے بھی بتاؤں لیکن میرا فرض بنتا ہے کہ میں اسے صحیح راستہ دکھاؤں۔
روح نے سوچتے ہوئے اپنی شال کو ٹھیک سے سر پر لیا ۔
اور گھر سے باہر نکل آئی ۔
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اس آدمی کی طرف بڑھنے لگی ۔
لیکن پاس آنے پر اسے عجیب سا احساس ہونے لگا ۔
اسے لگا جس کے پاس وہ جا رہی ہے وہ انسان نہیں بلکہ کوئی اور چیز ہے ۔
لیکن اب وہ اس کے بہت قریب آ چکی تھی ۔اور اس کی سوچ بالکل ٹھیک تھی ۔وہ انسان نہیں بلکہ کوئی اور مخلوق تھی ۔
وہ چیز روح کی موجودگی کو محسوس کر چکی تھی ۔
روح نے اپنے قدموں ہی روک لیے ۔چیز پلٹ کر کی طرح دیکھنے لگی ۔
اور اسے دیکھتے ہی روح کی چخح نکلی۔ یارم نے بالکل ٹھیک کہا تھا یہاں پے خوفناک اور خطرناک ترین جانور ہے
نہ جانے انسان نما دکھنے والی یہ کونسی چیز تھی ۔جس کے ہاتھ میں کسی جانور کا ایک چھوٹا سا بچہ اور منہ خون سے لت پت تھا ۔
اور اب اس کا اگلا شکار روح تھی
خطرناک ترین جانور جس کے منہ اور ہاتھوں پر خون لگا تھا اس نے کسی چھوٹے سے جانور کے جسم کا کوئی حصہ اپنے ہاتھوں میں لیا ہوا تھا ۔
اس کا پورا جسم سفید تھا پیچھے سے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی آدمی لمبا سا جمپر پہن کے کھڑا ہے ۔
لیکن پاس آنے کے بعد پتہ چلا کہ یہ کوئی آدمی نہیں بلکہ ایک جانور ہے
اس کا قد کسی عام آدمی کی طرح تھا ۔ مگر جسمانی لحاظ سے کافی موٹا تھا ۔
اور بالکل عام آدمیوں کی طرح دو پیروں پر چل رہا تھا
شکل خطرناک ترین سوورجیسی تھی ۔
روح کی تو جیسے سانس ہی تھمنے لگی ۔
وہ خطرناک جانور تیزی سے اس کی طرف لپکا ۔
روح کو لگا کہ جیسے وہ اپنی آخری سانسوں کے بہت قریب ہے ۔بس کچھ ہی دیر میں اس کی زندگی ختم ہونے والی ہے
وہ خطرناک ترین جانور اس کی طرف بڑھنے لگا تھا ۔اور اب کچھ ہی لمحوں میں اس پر حملہ کرنے والا تھا ۔
وہ چیخ مارتی جیسے ہی پیچھے کی طرف بھاگنے لگی۔
کوئی اس کے اوپر سے چھلانگ لگاتا اس خطرناک جانور اور روح کے بییچ آ رکا ۔
اور اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی کوئی چیز جانور کی گردن کے اندر گھسا دی
یارم۔۔۔ بببھاگیں ۔۔۔۔یہاں سے ۔۔۔۔۔ چلے یارم ۔۔پلیز چلے۔۔۔ یہاں سے ۔روح کہتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
لیکن روح کے لئے سمجھنا مشکل تھا کہ وہ جانور ابھی تک پیچھے کیوں کھڑا ہے ان پر حملہ کیوں نہیں کر رہا ۔
روح نے جب اسے کھینچنے کی کوشش کی تو جانور بھی ساتھ قدم اٹھا رہا تھا ۔
چلے یہاں سے ورنہ ۔
اندر جاو روح۔ وہ بنا کسی ڈر کے بولا ۔
لیکن روح نے اسے کھینچنا نہ چھوڑا ۔جب روح نے یارم کے ہاتھ پر خون لگا دیکھا ۔
وہ خون یارم کا نہیں بلکہ اس خطرناک جانور کا تھا ۔یارم کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جو اس جانور کے گردن کے اندر تھی ۔
اور گردن سے نکلتا ہوا خوں یارم کے ہاتھ پر گر رہا تھا
یارم نے ایک جھٹکے سے وہ چیز اس کی گردن سے نکال کر جانور کو دھکا مارا ۔
وہ دور جا کر زمین پر گرا ۔ خون تیزی سے اس کی گردن سے نکل رہا تھا ۔
یار م ۔۔۔۔چلیں۔ ۔۔ یہاں سے ۔روح نے سہمے ہوئے انداز میں کہا ۔
نہیں یہ زندہ ہے ۔جب تک میں اسے مار نا دوں نہیں جاؤں گا ۔
یارم نے ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑایا اور پھر سے اس جانور کی طرف بڑھا ۔
اور پھر اس کے قریب بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا وہ درد سے تڑپ رہا تھا ۔
یارم چھوڑیے اسے چلے یہاں سے ۔روح نے اونچی آواز سے کہا ۔
جبکہ یارم اگلے ہی لمحے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چیز اس کی گردن پر زور زور سے مارنے لگا ۔
جانور عجیب و غریب آوازیں نکال رہا تھا ۔
جس سے روح اور زیادہ ڈر رہی تھی ۔
یارم بس کریں وہ مر چکا ہے ۔
گیارہ سے بارہ بار چاقو اس کے جسم کے اندر گھسانے کے بعد بھی یارم کو چین نہ ملا تھا ۔
نہیں روح ابھی بھی زندہ ہے ۔عجیب جنونی انداز میں بولا اور ایک بار پھر سے اپنی کاروائی شروع کر دی
یارم بس کردیں وہ ویسے بھی مر جائے گا ۔
روح نے ایک بار پھر سے اس کے قریب آ کر کہا
نہیں اسے مارنے کا حق صرف مجھے ہے ۔اس کی ہمت کیسے ہوئی تم پر حملہ کرنے کی ۔یہ تمہیں مجھ سے دور لے کے جانے والا تھا ۔یہ تمہیں مار دینے والا تھا روح یہ میرا مجرم ہے ۔میں اسے ایسے نہیں چھوڑوں گا
وہ دیوانوں کی طرح کہتا ایک بار پھر سے چاقو جانور کے جسم کے اندر باہر کرنا شروع کر چکا تھا ۔
جیب انداز تھا اب روح کو اس سے ڈر لگنے لگا تھا وہ کیسے کسی کی اتنی بے دردی سے جان لے سکتا ہے ۔
وہ اس سے کچھ فاصلے پر اسے دیکھنے لگی ۔
اس کے نس نس میں یارم کا ڈر گردش کر رہا تھا
جانور کے جسم سے ہر قسم کی حرکت ختم ہوچکی تھی یقیناً وہ مر چکا تھا لیکن یارم اب تک اسے مارے جا رہا تھا
وہ ہمت کرکے اٹھی اور اس کے پاس آئی
یارم ۔۔۔۔اب۔ ۔۔تو مر گیا ۔۔۔۔۔اب بس۔۔۔ کردیں۔ ۔۔
روح ڈرتے ہوئے اس کے قریب آکر بولی ۔
مگر یار م اس کی بات سن کہاں رہا تھا اس نے تو اپنی کاروائی اب تک جاری رکھی تھی ۔
وہ مسلسل چاقو جانور کو مارے جا رہا تھا ۔
کہتے ہیں کسی مردہ جسم کے اندر سے چاقو نکالنے کے لئے بہت ہمت چاہیے ۔نہ جانے یہ ہمت یارم کہاں سے لا رہا تھا ۔
لیکن اس نے یہ کام ابھی تک روکا نہیں تھا ۔
مزید یہ سب کچھ دیکھنا روح کے بس سے باہر تھا جانور مکمل طور پر ہو خون سے لت پت اور اس کا خون پوری طرح سے برف پر گرا ہوا تھا ۔ وہ دیوانہ وار ایسے مارے جا رہا تھا
روح کو اس کی دیوانگی سے عجیب خوف آنے لگا ۔
روح وہاں سے اٹھی اور اپنے گھر کی طرف بھاگ گئی ۔
یارم نے اسے دور جاتے ہوئے دیکھا ۔
اور ایک بار پھر سے دیوانوں کی طرح اور زیادہ غصے سے اسے مارنے لگا ۔
تم میری روح کو مارنے آئے تھے
۔میری روح کو مجھ سے دور کرنا چاہتے تھے
۔ دیکھو کیا انجام ہوا تمہارا ۔
کوئی بھی میری روح کو مجھ سے دور کرے گا میں اس کا ایسا ہی حال کروں گا ۔
روح بس صرف میری ہے ۔صرف میری سنا تم نے ۔وہ چلاتے ہوئے کہہ رہا تھا اور اپنا کام جاری رکھا
وہ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو اس کے پورے کپڑے خون سے بھرے ہوئے تھے ۔
روح زمین پر بیٹھی مسلسل رو رہی تھی ۔
وہ اس کا ڈر سمجھ کر اس کے قریب آیا ۔
اسے روح پر اس طرح سے باہر نکلنے پر بہت غصہ آرہا تھا لیکن یہ وقت غصہ نکالنے کا نہیں تھا بلکہ روح کو اس ڈر سے باہر نکالنے کا تھا
تمہیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے روح میں ہوں نا تمہارے ساتھ ۔
کچھ نہیں ہوگا تمہیں ۔
اپنے ہاتھ سے بہتا خون صاف کرتے ہوئے یارم اس کی طرف بڑھا ۔
جو بری طرح سے ڈری سہمی ہوئی تھی ۔
یارم ۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔نے۔۔۔ اسے ۔۔یارم۔ ۔۔ آآآپ ۔ ۔ ۔ اااایسا ۔۔۔۔۔۔کیسے کر ۔۔۔سکتے۔۔۔ ہیں ۔روح نے سہمے ہوئے انداز میں یارم کا ہاتھ اپنے سے دور ہٹانے کی کوشش کی ۔
روح میں ایسا نہیں کرتا تو وہ تمہیں مار ڈالتا ۔
لیکن اب تمہیں گھبرانے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
وہ جانور اب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تمہیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے
مجھے ۔۔۔اس ۔۔۔جانور سے ۔۔۔ڈڈڈر نہیں ۔۔۔۔۔لگ رہا یارم ۔۔۔ مجھے آپ سے ڈڈرررر۔ ۔۔۔ لگ رہا ہے ۔
یارم۔ ۔۔ آپ کو اندازہ ۔۔۔۔۔بھی ہے آپ نے ۔۔۔۔۔کیا کیا ہے۔۔۔۔۔ اس کے۔۔۔ ساتھ ۔
پلیز میرے پاس مت آئیں پلیز مجھ سے دور رہیں روح کہتی ہوئی تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر اندر سے دروازہ بند کر چکی تھی
تمھیں مجھ سے لگ ڈر رہا ہے روح مجھ سے اپنے یارم سے ۔
دیوانہ وار اپنے ہاتھ میں لگا خون دیکھتا اور پھر دروازے کی طرف جو اندر سے بند تھا ۔
اپنا سارا غصہ وہ جانور پر نکال کے آیا تھا ۔
اس لیے روح پر غصہ نکال کر ا سے مزید ڈرا نہیں سکتا تھا ۔
مجھے یہ سب کچھ روح کے سامنے نہیں کرنا چاہیے تھا ۔روح کو وہاں سے بھیج کر مجھے اس جانور کو مارنا تھا ۔
لیکن اب کیا ہوسکتا ہے ۔
آج نہیں تو کل تو تمہیں سب کچھ پتہ چل ہی جائے گا نہ ۔
تمہیں ویسے بھی تو سب کچھ پتہ چل جائے گا تو پھر کیا ہر بارایسے ڈرتی رہو گی تم ۔
تمہیں سمجھنا ہوگا ۔
تمہیں سمجھنا ہوگا کہ میں ایسا ہی ہوں ۔۔۔ اور ہمیشہ ایسا ہی رہوں گا ۔اور اگر تم ایسے ہی ڈرتی رہو گی ۔تو کیسے گزارا ہوگا ہمارا
آج جانور کی موت پر تم اتنی اداس ہو رہی ہو اور جب کل تم میرے ہاتھوں کہیں لوگ مرتے دیکھو گی تب تمہارا کیا حال ہوگا ۔
تمہیں اس سب کے لئے تیار رہنا ہوگا ۔۔۔
لیکن اگر تو مجھ سے دور ہو گی تو نہیں میں تمہیں مجھ سے دور نہیں جانے دوں گا ۔
نہیں میں تمہیں یہ سب کچھ نہیں بتاؤں گا ۔
پھر بھی پتہ چل گیا تو ۔تو میں تمہیں کبھی خود سے دور نہیں جانے دوں گا ۔
فی الحال سب کچھ ٹھیک ہیں سب کچھ نورمل ہے تمہیں کچھ بھی نہیں پتا اور میں کچھ بھی پتا نہیں چلے دوں گا ۔
اپنے آپ کو ریلیکس کرتے ہوئے بولا
لیکن ایک عجیب سی وحشت تھی جو اندر تک جا چکی تھی ۔
وہ صرف ایک جانور تھا جو روح جان لے سکتا تھا
وہ ابھی تک نیچے صوفے پر بیٹھا اپنے کمرے کا بند دروازہ دیکھ رہا تھا ۔
وہ اٹھا اور باہر گاڑی سے آکر اپنا سامان نکالا ۔
اس نے آج روح کے لئے بہت ساری شاپنگ کی تھی جس کی وجہ سے اسے اتنا وقت لگ گیا ۔
وہ سارا سامان لے کر اندر آیا اور وہاں سے اپنے لئے ایک سوٹ نکال کر اپنے گندے خون آلود کپڑے اتارے
باتھ لے کر فریش ہوا ۔
تاکہ جسم سے اس گندے جانور کے جسم کے خون کی بدبو ختم ہو
اب اس کا ارادہ روح کو منانے کا تھا ۔مجھ سے روٹھ کر گئی تھی ۔
لیکن یارم فرق نہیں کر پایا تھا کہ وہ اس سے روٹھ کر نہیں بلکہ ڈر کر دور ہوئی ہے
یارم نے سب سے پہلے کچن میں آکر کھانا نکالا جو کہ وہ اپنے ساتھ لایا تھا ۔
اسے پتہ تھا اب تک تو روح کو بہت سخت بھوک لگی ہوگی ۔
صبح بھی بہت ہلکا پھلکا ناشتہ کیا تھا اس نے
کمرے تک آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا ۔
دروازہ پہلے سے ہی کھلا ہوا تھا ۔یعنی کہ جو تب سے یارم سمجھ رہا تھا کہ وہ اس سے ناراض ہے اندر سے دروازہ لاک کر کے بیٹھی ہے وہ اس کی غلط فہمی تھی
وہ اندر آیا تو وہ بیڈ کے پاس زمین پر بیٹھی اپنے گھٹنوں کے گرد ہاتھ باندھے گھٹنوں پر سر رکھیے شاید رو رہی تھی ۔
وہ اس کے قریب آ کر بیٹھ گیا ۔
روح ۔میں جانتا ہوں میری جان آج جو کچھ بھی ہوا ہے وہ بہت غلط تھا ۔
میں بھی ڈر گیا تھا لیکن اس جانور سے نہیں تمہیں کھونے سے ۔تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے کہ میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں ۔
ادھر دیکھو میری طرف روح اس نے روح کو اپنی طرف کرتے ہوئے کہا ۔
جو غصے سے دوبارہ منہ پھیر گئی
تمہارے علاوہ کوئی نہیں ہے میرا ۔
اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو کیا ہوتا میرا میں تو جیتے جی مر جاتا نہ
یارم پلیز ایسی باتیں مت کریں ۔
وہ جو اس سے منہ پھیرے دوسری طرف دیکھ رہی تھی اس کے ایسا بولنے پر تڑپ کر اس کی طرف ہوئی
تو پھر کیا کروں روح ۔میں اپنی زندگی تمہارے بغیر سوچ بھی نہیں سکتا ۔اور تمہیں کس نے کہا تھا باہر جانے کے لئے ہاں منع کرکے گیا تھا پھر کیوں گئی تم باہر ۔وہ اس سے پوچھنے لگا۔
یارم مجھے لگا باہر کوئی آدمی ہے شاید اس طرف راستہ بھٹک گیا ہے میں تو صرف اسے راستہ بتانے جا رہی تھی ۔وہ معصومیت سے سوں سو ں کرتی بولی
تمہیں ایک خطرناک جانور کوئی آدمی لگ رہا تھا یارم کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنی بے وقوف ہے ۔
پیچھے سے تو آدمی ہی لگ رہا تھا ۔نہ جانے وہ کون سی مخلوق تھی اور تو اور وہ دو پیروں پہ چل رہی تھی جانورتو چار پیروں پہ چلتے ہیں نہ ۔اس کی سوں سوں اب بھی جاری تھی
جس پر یارم کے ڈمپل نمایاں ہوئے جو وہ جلدی سے چھپا گیا یہ نہ ہو کہ روح بُرا منا جائے ۔
ویسے تمہیں خود یہاں کا راستہ پتہ ہے جو اس بے چارے آدمی میرا مطلب ہے اس دو پیر والے جانور کو بتانے جا رہی تھی ۔
یا انسانیت کے جوش میں یہ بات سوچی ہی نہیں یارم اب اس کی کلاس لے رہا تھا ۔
یہ بات میں نے واقعی اس وقت نہیں سوچی تھی اس نے شرمندگی سے اپنی غلطی قبول کی ۔
اب بھی ڈر لگ رہا ہے وہ اس کے قریب بازو کا گھیرا بناتے ہوئے بولا ۔
یارم آپ نے اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا ۔مجھے اس سے زیادہ آپ سے ڈر لگ رہا تھا آپ کر کیا رہے تھے یارم آپ کو ہو کیا گیا تھا اس وقت
کو پتا ہے اس وقت آپ میرے یارم بالکل نہیں لگ رہے تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی اور انسان ہے
وہ جو اس کے غصے اور بے رحمی کی وجہ سے اس سے دور ہوئی تھی اس میں اپنا پرانا یارم دیکھ کر پھر سے اس کے قریب آ گئی اور اس کے سینے پے سر رکھے پوچھنے لگی ۔
تم نہیں جانتی روح وہ بہت خطرناک جانور تھا ۔تمہاری سوچ سے زیادہ خطرناک ۔
اگر میں اسے ٹھیک سے نہیں مارتا تو وہ ہمارے لیے مزید خطرناک ہو سکتا تھا ۔وہ اسے پیار سے اپنی باتوں میں پھسلا رہا تھا ۔
تمہیں پتا ہے ۔وہ ایک برفانی سوور تھا ۔وہ انسانوں کی طرح اس لئے چلتا ہے کیونکہ اس کے کمر کی ہڈی بالکل سیدھی ہوتی ہے ۔
انسانوں کی طرح ۔لیکن مجھے یہ بات سمجھاو کہ تمہیں وہ انسان کیوں لگا ۔
مطلب تمہیں کیسے لگا کہ وہ انسان ہے ۔یارم اپنی ہنسی چھپائے پوچھنے لگا ۔
آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں روح نے روٹھتے ہوئے کہا
بالکل نہیں میری جان میں تو بس پوچھ رہا ہوں اتنا خطرناک جانور جو پیچھے سے بھی اتنا برا لگتا ہے ۔
یارم کو اپنی ہنسی رکنا مشکل لگ رہا تھا ضبط سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا
وہ بٙرا نہیں لگ رہا تھا مجھے لگا اس نے کوئی جمپر پہنا ہوا ہے جیسے عام انسان پہن کے چلتے ہیں ۔اب وہاں ہوٹل میں کتنے لوگ تھے جو اس طرح کے جیکٹ پہنے ہوئے تھے ۔مجھے لگا اس نے سردی سے بچنے کے لئے اس طرح سے اپنے آپ کو ڈریساپ کیا ہوا ہے ۔
روح نے اس کی بات کاٹتے ہوئے منہ بنا کر کہا ۔
اور کب سے اپنی ہنسی روکے یارم کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا مزید اپنا قہقہ روک نہ سکا
اچھا دفع کرو اسے جو ہونا تھا ہو چکا ہے اب کھانا کھاؤ ۔
وہ ہنستے ہوئے سے کھانے کی طرف متوجہ کرنے لگا ۔
سفر کی وجہ سے یارم کافی تھکا ہوا لگ رہا تھا ۔
وہ روح کے لئے کافی ساری شاپنگ کر کے لایا تھا ۔
روح کو ان میں سے بھی کم ہی چیزیں پسند آئی تھی ۔
چیزیں دیکھتے
چیزیں دیکھتے ہوئے سے ایک بار پھر سے وہی جانور یاد آگیا
یارم واپس چلتے ہیں مجھے یہاں نہیں رہنا ۔وہ اس کے قریب بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی ۔
بس پانچ دن اور ہم واپس چلیں گئے یارم نے اسے اپنے قریب کرتے ہوئے اس کا سر اپنے سینے پر رکھا ۔
نہیں یارم مجھے یہاں نہیں رہنا پلیز واپس چلے ہم یہاں نہیں رہیں گے ۔
یارم اس کا ڈر بہت اچھے طریقے سے سمجھ رہا تھا وہ ابھی تک اس جانور سے ڈری ہوئی تھی یا شاید اس سے ۔
اب وہ جانور واپس نہیں آئے گا ۔یا رم نے اسے سمجھانے کی کوشش کی
یارم ہم اگلے سال اپنے بچے بھی یہاں نہیں لائیں گے ۔اچانک اس کے کندھے سے سر اٹھا کر معصومیت سے بولی تو یارم مسکرائے بنا نہ رہ سکا ۔
میرا مطلب ہے کتنی خطرناک جگہ ہے یہ ۔اس نے یارم کے مسکراہٹ کو دیکھے بنا دوبارہ اس کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا ۔
ہمارے بچے ڈر جائیں گے ۔
روح کا انداز بالکل کسی بوڑھی ماں کی طرح تھا جو اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے ۔
اوکے جان ہم یہاں نہیں آئیں گے دوبارہ ۔آخر ہمارے بچوں کا سوال ہے ۔یارم کے ڈمپل گہرے ہو رہے تھے
یارم کے کہنے پر روح نے اس کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھی پھر شرما کر اس کے سینے میں سر چھپا گئی
میرا وہ مطلب نہیں تھا وہ ممنائی ۔
یارم آپ کے ہاتھ میں دوپہر میں وہ جو چھڑی تھی وہ کہاں ہے ۔روح کے سوال پر وہ اسے دیکھنے لگا
میرے پاس ہی ہے تم کیوں پوچھ رہی ہو ۔
میں نے ویسی ہی چھڑی کسی اور کے پاس بھی دیکھی ہے پتہ نہیں کس کے پاس ۔
دکھائیں مجھے وہ میں یاد کرنے کی کوشش کروں۔
چھوڑو یار تم نے کس کے پاس دیکھ لی فی الحال میرے بارے میں سوچو ۔
یارم نے اسے اپنے مزید قریب کرتے ہوئے کہا اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی ہو اس کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا
اس وقت وہ صرف اپنے اور روح کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا کسی چھری یا چاقو کے بارے میں نہیں
رات کا ناجانے کون سا پہر تھا روح کی آنکھ کھل گئی ۔
یارم اس کے ساتھ گہری نیند میں تھا ۔
نیند میں بھی اس نے روح کے گرد اتنا گھیرا بنائے رکھا تھا ۔
جیسے کوئی چھوٹا سا بچہ اپنا کوئی عزیز کھلونا اپنے پاس رکھ کر سوتا ہے ۔
دوپہر میں بھی وہ کافی دیر تک سوتی رہی
مزید لیٹے رہنا روح کو مشکل لگا ۔
اٹھ کر کھڑکی کی طرف آئی دن کا منظر اب بھی اس کے سامنے تھا ۔
دن کے بارے میں سوچ کر ایک بار پھر سے خوف نے اس کے گرد حصار بنا لیا
اس جگہ اس نے دوپہر کو وہ انسان نما جانور دیکھا تھا ۔
برف کی سفیدی ۔اور گھر کے اندر سے سارے لائٹ اون ہونے کی وجہ سے بھی باہر کافی روشنی لگ رہی تھی
اس نے باہر اسی جگہ پر دیکھا جہاں دوپہر کو یارم نے اس جانور کو مارا تھا ۔
اس وقت وہاں اسی نسل کے بہت سارے جانور تھے ۔اس نے دیکھا کہ وہ سارے جانور وہاں پہ اس مردہ جانور کا گوشت نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں ۔
کوئی کیسے اپنی ہی نسل کو اس طرح سے کھا سکتا ہے ۔
یا اللہ آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے ہمیں اس نسل میں سے نہیں بنایا ۔
لیکن کیا ہم میں اور ان میں کوئی فرق ہے ۔
کیا ہم لائق ہیں اشرف المخلوقات کہلانے کےاللہ نے ہمیں عقل دی ہے شعور دیا ہے ۔
صحیح اور غلط کی پہچان دی
۔لیکن آج بھی ایسے لوگ ہیں جو اپنے ہی رشتے داروں کا خون چوس رہے ہیں ۔
خون چوسنے کا مطلب یہ نہیں ہے کے وہ ان کے ساتھ کوئی درندگی نما کام کر رہے ہیں ۔
بلکہ جس طرح سے وہ ان کی دولت کو ہتھیانے کی کوشش کرتے ہیں ان کی لائف سٹائل کو اپنا رہے ہیں ۔ ان کی جگہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے مقام کو چھیننا چاہتے ہیں
ہاں کوئی فرق نہیں ہے ان میں اور ہم میں ۔
ہماری اس عقل اور شعور رکھنے والی قوم اور انسان نما یہ جانور بالکل ایک جیسے ہیں ۔
فرق بس اتنا ہے کہ وہ اپنے جیسی مردہ نسل کو کھاتے ہیں ۔
پر ہم انسان زندہ کو ایسے نوچتے ہیں
یارم کے لاکھ کہنے کے باوجود بھی وہ نہ مانی تو یارم واپس چلا آیا ۔
اور روح کی ضد کی وجہ سے اس وقت وہ دونوں ایئرپورٹ پر بیٹھے ہوئے تھے ۔
یارم اس سے آگے پیچھے کی باتیں کر رہا تھا جب کہ روح کا دھیان سامنے بیٹھے اس آدمی کی طرف تھا ۔
یارم نے دو تین بار اسے نوٹس کیا
روح وہ بہت ہینڈسم ہے کیا ۔۔۔؟
یارم نے جل کر پوچھا ۔
کون ۔۔۔؟ روح نے کہا
وہ آدمی جسے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی ہو ۔ یارم نے دانت پیس کر کہا تھا ۔
مجھے کیا پتا ہوگا پیارا میں تو اس کی گود میں بیٹھے ڈوگی کو دیکھ رہی ہوں
۔دیکھیں نا کتنا پیارا ہے کیوٹ سا ۔آپ تو کہتے تھے کہ اس ملک میں لوگ جانور نہیں پالتے
روح نے یارم کا دھیان چھوٹے سے کتے کی طرف کیا ۔
روح یہ ایئرپورٹ ہے یہاں پر دنیا کے بہت سارے لوگ ہیں اور یہ کتا اگر اس آدمی کا ہے بھی تو یہ اس ملک کا نہیں ہے اور وہ چھوٹا اور پیارا سا نہیں ہے ۔بہت تیز و ذہین قسم کی نسل ہے یہ ۔
یہ صرف دیکھنے میں چھوٹے ہوتے ہیں ۔اور وہ جتنا کیوٹ سا لگ رہا ہے نہ بالکل بھی کیوٹ نہیں بہت خطرناک ہے ۔
یہ صرف اپنے مالک سے وفادار ہوتے ہیں ۔
یارم نے تفصیل سے بتایا مگر روح کا اس کی طرف پسندگی سے دیکھنا ۔
اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا
۔روح کے پیار پر صرف اس کا حق تھا چاہے وہ چھوٹا سا جانور ہی کیوں نہ ہو ۔
یار م پلیز جائےنا اس آدمی سے پوچھیں کیا وہ ڈوگی ہمیں دے گا ۔
روح دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا میں کسی آدمی سے اس کا پالتو جانور کیوں مانگنے لگا ۔یارم نے انکار کرتے ہوئے کہا
یار م آپ تو کہتے تھے کہ آپ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں روح کو اچانک ہی اس کا پیار یاد آگیا ۔
روح میری جان میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ میں لوگوں سے ان کے کتے مانگتا پھروں گا ۔
اور تمہیں کیا لگتا ہے وہ آدمی وہ کتا ہنسی خوشی تمہیں دے دے گا ۔بیچارے نے بہت محنت سے پالا ہوگا اسے ۔
یارم نے بات ختم کرنا چاہی ۔
کہا ں پالا ہے اتنا چھوٹا تو ہے وہ پالوں گی میں اگر آپ اس کو یہاں لے آئیں گے تو ۔
ایک بار پوچھنے میں کیا حرج ہے آپ میرے لیے لپسٹک نہیں لائے تھے ۔روح کو اچانک ہی یاد آگیا کہ شاپنگ کی چیزوں کے بیچ میں لپسٹک نہیں تھی ۔
روح اب منہ پھیلا کر بیٹھ گئی تو یارم کو مجبوراً اٹھنا پڑا
اس کو آجاتا دیکھ کر ایکسائٹمنٹ سے چہرہ اس کی طرف کیا بیسٹ آف لک دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے دکھاتے ہوئے کہا
پلیز اس آدمی کو منا کر ڈوگی لے آئیے گا
یارم نے ایک نظر اپنی بے وقوف بیوی کو دیکھا اور پھر اٹھ کر اس آدمی کی طرف چل دیا
اب دبئی کا ڈان لوگوں سے کتے مانگتا پھرے گا ۔
Can i talk to you sir
یارم نے آدمی کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا
Oh yes..What do you want to say
آدمی نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
اس کے لب و لہجے سے لگ رہا تھا کہ وہ اردو میں بات کر سکتا ہے ۔
My wife has liked your dog so much and now she is insisting that I get her this dog
آدمی نے پہلے مسکراتے ہوئے اس کی بات سنی لیکن بات مکمل ہونے کے بعد اس کی مسکراہٹ بھی ختم ہوگئی ۔
No sir this dog is my pet i don't want to give it im sorry ۔ It's like my children to me .It's been with me for a long time .
آدمی نے انکار کرتے ہوئے کہا
See, I want this dog, you can take whatever you want at any cost, I will give you as much money as you want. My wife has very fondly asked me and Can not avoid any of his things, this dog as her choice and she should get it. I love my wife dearly .
یارم اب بھی اسے منانے کی کوشش کر رہا تھا ۔جبکہ اس کا دل چاہ رہا تھا اپنی پیچھے کی جیب سے بلیڈ نکال کر اس کی گردن کاٹے اور وہ کتا روح کو دے دے ۔
You can ask me anything in the world instead ۔I'm ready to give you anything . I am willing to give you 25000 Drhum for this dog . I think this price is enough for this Dog.
آدمی بے یقینی سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہا تھا ۔
تمہارے انڈین کرنسی میں یہ ایک کروڑ سے اوپر ہوگا ۔
یارم نے اس کے ہاتھ میں اس کا کارڈ دیکھتے ہوئے کہا جہاں راکیش ملہوترا لکھا تھا ۔
تمہارا دماغ خراب ہے تم ایک چھوٹے سے کتے کے لیے اتنے پیسے دینے کو تیار ہو۔
آدمی بھی اب اس سے اسی کی زبان میں بات کرنے لگا ۔
ہاں میں تمہیں اس کتے کے لئے تمہاری منہ مانگی رقم دینے کو تیار ہوں اگر یہ کم ہے تو اور دینے کو تیار ہوں ۔
مجھے میری بیوی کو یہ کتا تحفے میں دینا ہے ۔
یارم نے اس کی گود میں کتا دیکھتے ہوئے کہا ۔
تمہیں پتہ ہے مجھے اس دنیا میں بس یہی ایک جانور اچھا نہیں لگتا لیکن میری بیوی کو یہ بہت پسند آیا ہے ۔
تم یہ مجھے دے دو بدلے میں اپنی زندگی سنوار لو۔
If this is a golden chance for you, you can change your life ۔
یارم نے بات ختم کرنا چاہیی
موقعے سے فائدہ اٹھانا چاہیے یارم نے سوچتے ہوئے دیکھ کر کہا ۔
میں 30 ہزار درہم لونگا ۔وہ کافی دیر سوچنے کے بعد بولا تو یارم کی ڈمپل نمایاں ہوئے ۔
تمہیں تو کہا موقع کا فائدہ اٹھانا چاہیے اس کو ہنستا دیکھ کر وہ آدمی جلدی سے بولا ۔
ہاں بالکل کیوں نہیں ۔یارم نے اپنی جیب سے چیک بک نکالتے ہوئے کہا ۔
تھینک یو سو مچ ۔
تمہاری وجہ سے میری بیوی مجھ سے ناراض نہیں ہوگی۔ یارم نے چیک سائن کرتے ہوئے کہا ۔
یا تو تمہارے پاس پیسہ بہت ہے
یا تم تو اپنی بیوی سے بہت پیار کرتے ہو ۔
آدمی نے چیک تھامتے ہوئے کہا ۔
اگر تم سیدھے طریقے سے میرا مطلب ہے پیسے لے کر یہ کتا مجھے نہیں دیتے تو میں تمہیں مار کر لے جاتا ۔
اب تم خود ہی اندازہ لگا لو کہ میں اپنی بیوی سے کتنا پیار کرتا ہوں ۔ یارم کتے کی رسی پکڑ کر اسے کھینچتا ہوا اپنے ساتھ لے گیا ۔
مجھے پتا تھا آپ اسے لے آئیں گے ۔یہ کتنا پیارا ہے ۔
روح نے اس آدمی کی طرح اسے اپنی گود میں بٹھاتے ہوئے کہا ۔
روح اسے نیچے کرو کیا کر رہی ہو تم ۔نیچے کر اسے زہر لگتی ہیں مجھے یہ حرکتیں ۔
کیوں زہر لگتی ہیں اتنا پیارا ساتو ہے۔
میں اسے یہی بٹھوں گی اپنے ساتھ روح نے اس کے ساتھ کھیلتے ہوئے کہا ۔
رؤح یہ وہاں جائے گا جہاں باقی لوگوں کے جانور بیٹھے گے۔
اسے اس طرح سے اپنی گود میں بٹھانا لاؤڈ نہیں ہے ۔
یہ وہاں اکیلے ڈر جائے گا نا۔
روح نے معصومیت سے کہا ۔
بےبی یہ ڈوگ ہے یہ نہیں رہے گا ۔ڈوگ بہت بہادر ہوتے ہیں ۔تم بے فکر ہوکر اسے ایئر ہوسٹس کے حوالے کردو ۔
یارم نے اس کی بات سنی بغیر پاس کھڑے لڑکی کو اشارہ کیا ۔
جو فورا اس کے اشارے کی تکمیل کرتے ہوئے کتا اس کی گود سے اٹھا کر لے گئی ۔
یارم وہ ایسی کیسی مجھ سے پوچھے بغیر لے گئی اسے بلائیں واپس ۔روح ضدی انداز میں کہا ۔
بےبی اب کیا ہم ایک کتے کے لیے لڑیں گے یہاں پے۔یارم نے اسے دیکھتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی ۔
اسے باربار کتا مت کہیں وہ میرا شونو ہے ۔روح نے منہ بنا کر کہا ۔
وا بے بی نام بھی رکھ لیا ہے اتنا جلدی شونو۔ یارم نے ہنستے ہوئے کتے کا نام دہرایا ۔
یارم اپنے اس آدمی کو کیسے منایا شونو کے لئے ۔تھوڑی دیر کے بعد روح سب کچھ بھول بلا کر اس سے پوچھنے لگی ۔
پیسا سب کو منا لیتا ہے بے بی ۔یارم نے بس اتنا ہی کہا ۔
یار م آپ کو شونو کے لیے پیسے دینے پڑے ۔
میری وجہ سے آپ کے پیسے ضائع ہوگئے کسی اہم کام میں آجاتے ۔ روح اداسی سے بولی ۔
یارم کے لیے روح سے زیادہ اہم اور کچھ بھی نہیں ہے اپنی جان بھی نہیں ۔یارم نے اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے ہوئے کہا ۔
پھر بھی بہت زیادہ پیسے لیے ہونگے اس نے ۔کتنے پیسے لیے اس نے ۔
تیس ہزار۔
تیس ہزار یارم آپ نے اتنے پیسے کیوں دیے اسے ۔اس نے سمجھ کر رکھا ہے بہت امیر ہیں ہم ۔ایک بار مجھے مل جائے جان سے مار دوں گی اسے ۔ایک چھوٹے سے پپی کی قیمت تیس ہزار روپے۔حد ہوگئی تیس ہزار میں تو مہینے کا راشن آجاتا ہے گھرمیں۔
روح نے پریشانی سے کہا جبکہ یارم شکر منا رہا تھا کہ اس نے تسی ہزار درہم نہیں کہا
وہ اس وقت دبئی ایئرپورٹ پر تھے خضر پہلے ہی ان کا انتظار کر رہا تھا ۔
یارم وہ لوگ اپنے آپ ہی ہمیں شونو کو واپس کر دیں گے یا ہمیں پوچھنا پڑے گا۔
ساڈے گیارہ گھنٹے کے اس سفر میں روح نے اگر اس سے کوئی بات کی تھی تو وہ اس کے شونو کے بارے میں ہی تھی ۔
وہ اپنے آپ ہی واپس دے دیں گے ۔
یارم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے کہا ۔
یارم شونو کہاں رہے گا ہمارے ساتھ ہمارے روم میں یا پھر دوسرے روم میں ۔اس کے ساتھ چلتے ہوئے وہ پوچھنے لگی
وہ ہمارے کمرے میں کیوں رہے گا اور وہ دوسرے کمرے میں بھی کیوں رہے گا اب کیا ہم اسے الگ سے ایک بیڈروم دیں گے ۔یارم حیرانگی سے پوچھ رہا تھا ۔
یارم اب ہم اس سے یوں ہی تو نہیں چھوڑ سکتے جانوروں سے پیار کرنا چاہیے ۔
اور اوپر سے آپ نے اتنے پیسے دے کر خریدا ہے اس کو ۔اس آدمی نے تو ہمیں لوٹ لیا ۔
اگر کبھی زندگی میں میرے ہاتھ چڑگیا نہ تو آپ کے پیسے واپس ضرور نکلواؤں گی ۔
اچھی لوٹ مار مچارکھی ہے ان لوگوں نے ۔تیس ہزارکسی غریب سے پوچھیں تیس ہزار کی کیا اہمیت ہوتی ہے ۔
آپ کا بھی اچھا خاصا نقصان ہوگیا ۔ اب وہ جہاز سے نیچے اترنے لگے تھے۔
روح میرے پاس بہت پیسے ہیں تیس ہزار دے دینے سے میں غریب نہیں ہو جاؤں گا ہاں لیکن تم میرا اثاثہ ہو تمہیں کھو دیا تو غریب ہو جاؤں گا ۔
وہ مسکرایا تھا ۔جبکہ اس کی بات پر روح شرمآئی تھی ۔
آپ بھی نہ یارم کہیں پر بھی شروع ہو جاتے ہیں ۔
روح شرماتے ہوئے آگے بڑھی۔
جب کہ یارم نے وہ کتے والی باسکٹ پکڑی ۔
اور روح کے پیچھے آیا ۔
اس سفر میں سب سے خاص بات یہ ہوئی تھی کہ روح کو ڈر نہیں لگا تھا ۔
بس جہاز کے پرواز بڑھتے ہوئے وہ یارم کے سینے میں منہ چھپاگئی تھی
خضر پہلے سے ہی ان کے انتظار میں تھا ۔روح نے سے ہاتھ ہلا کر اپنی طرف متوجہ کیا ۔
وہ تیزی سے آیا اور ان کے ہاتھ سے پکڑنے لگا ۔
ارے نہیں خضربھائی میں اٹھا لوں گی آپ بتائیں کیسے ہیں آپ اور آپ کے گھر میں سب ٹھیک ہے ۔۔؟روح نے مسکراتے ہوئے پوچھا
جبکہ اس کی بات پر خضر کے ساتھ یارم کے بھی ہاتھ سست ہوئے تھے ۔
میرے گھر والے ۔۔۔۔وہ حیرانگی سے بولا
ہاں خضر تمہارے گھر والے ۔یارم نے اسے آنکھوں سے اشارہ کیا ۔۔
ہاں میرے گھر والے بالکل ٹھیک ٹھاک سب ایک دم فٹ ہیں خضر نے اس کا اشارہ سمجھتے ہوئے کہا ۔
ڈونٹ یو ٹیل می اب اس لڑکی کے لیے ہمیں گھر والے بھی پیدا کرنے ہوں گے ۔خضر نے چلتے ہوئے یارم کے کان میں کہا ۔
اگر ضرورت پڑی تو ہاں ضرور ۔یار م ایک آنکھ دباتے ہوئے مسکرایا ۔
واہ اس لڑکی نے تو تمہیں ہنسنا سکھا دیا ۔خضر کو خوشی ہوئی تھی ۔
لوگوں سے مانگنا بھی سکھا دیا ہے ۔یارم نے کتے والی ٹوکری کی طرف اشارا کیا ۔توخضر بھی مسکرایا ۔
سچ کہتے ہیں اس دنیا میں عورت سے زیادہ چالاک اور کوئی نہیں ۔خضراس کے ساتھ چلتے ہوئے بولا ۔
سچ ہی کہتے ہوں گے لیکن میری روح تو بہت معصوم ہے۔ یارم کے لہجے میں محبت ہی محبت تھی ۔
اللہ تمہیں خوشیاں نصیب کرے ۔اور تم ہمیشہ ایسے ہی رہو خوش اور مطمئن ۔خضر نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا ۔
اس خوشگوار تبدیلی سے اسے بھی بہت خوشی ہوئی تھی ۔
روح اور شونو کو گھر چھوڑنے کے بعد وہ اپنے افس آیا تھا خضر کے ساتھ ۔
اور آتے ہی پہلا تھپڑشارف کے منہ پر مارا تھا ۔
آفس کا ایک ایک کونہ چمکا دینے کے بعد بھی یہاں پر بہت گندا تھا یارم کے حساب سے ۔
آدھا گھنٹہ ہے تمہارے پاس مجھے ایک بھی کونے میں ذرا سے دول مٹی نظر آئی تو تمہیں معاف نہیں کروں گا ۔
یارم نے جانے سے پہلے اسے صرف صفائی کا کام سونپا تھا ۔
اور اب آفس کی حالت دیکھ کا یارم کویہ اپنی غلطی لگ رہی تھی ۔
ہائے کتنے زور سے مارا ظالم نے ۔مجھے تو لگا تھا کہ تم ڈیول سر کا بایاں بازو ہو ۔اور تم کیا نکلے آفس کے پیون ۔معصومہ نے ادا سے کہتے ہوئےقہقہ لگایا ۔
ارے یہ سب کچھ تو یہاں کا کوئی آدمی بھی کر سکتا ہے میں تو یہ سب کچھ اس لئے کر رہا ہوں تاکہ کسی کو بتا سکوں کہ شادی کے بعد ایک بہت اچھا ہسبنڈ ثابت ہو سکتا ہوں ۔شارف نے مسکراتے ہوئے اسے آنکھ ماری ۔
ہاہاہا تم عاشق ہی بنو شوہر بنا تمہارے بس میں نہیں ۔معصومہ نے پھر سے طنز کیا ۔
ویسے بھی آج کل کے لڑکے صرف عاشقی ہی کر سکتے ہیں ۔وہ کہہ کر جانے لگی جب شارف نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
وہی تو کہہ رہا ہوں عاشقی تو سب کرلیتے ہیں ہم کچھ نیا کریں گے چلو شادی کرتے ہیں۔یارم کو پتہ تک نہیں تھا کہ شارف اس ریلیشن شپ میں کافی حد تک آگے بڑھ چکا ہے
یہاں تک کہ شارف یارم سے اپنی شادی کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا ۔
لیکن معصومہ تھی جس کا کہنا تھا کہ وہ صرف دوست ہیں اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ۔
دیکھو شارف میں تمہیں پہلے بہت بار بتا چکی ہوں میں یہاں اپنے بابا کی موت کا بدلہ لینے آئی ہوں شادی بیاہ کرنے نہیں ۔
اس لئے بار بار ایک ہی بات کرکے مجھے انبیرس مت کرو۔
اس کی بات سن کر شارف اداس ہوگیا ۔
اور اس کی اداسی معصومہ کو بھی اچھی نہ لگی تھی ۔
دیکھو شارف میں تمہاری فیلنگز کی قدر کرتی ہوں ۔لیکن فی الحال میرا مقصد کچھ اور ہے ۔
ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ ۔وہ اس کےہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالتی وہاں سے چلی گئی ۔
اس کا مطلب ہے مجھے ڈیول سے جلد سے جلد بات کرنی ہوگی ۔
وہ شارف ہی کیا جسے آسانی سے بات سمجھ آجائے ۔
ہاں بولو کیا خبر ہے انسپیکٹر صارم اپنے گھر میں بیٹھا فون پر بات کر رہا تھا ۔
احتیاطً وہ گھر سے باہر نکل آیا تھا ۔جہاں اس کی بیٹی باہر کھیل رہی تھی
اسے ہی خبر دے دوں۔ مجھے کیا ملے گا ۔
ڈارلنگ تم چاہتی کیا ہو جو چاہو گی وہ ملے گا میری جان
وہ آواز کافی کم رکھ رہا تھا کہ اس کی بیٹی تک نہ پہنچے۔
اتنا دھیرے کیوں بول رہے ہو انچی آواز میں بولو نا ۔وہ ایک ادا سے بولی تھی ۔
ڈارلنگ میں کام کر رہا ہوں نا ۔تم بولو نہ میری جان کیا ہوا ہے ۔وہ التجا کر رہا تھا ۔
جبکہ سارا دھیان اندر تھا ۔
اگر عروہ سن لیتی تو اچھا خاصا ہنگامہ ہوتا ۔
پہلے کہو یو لو می ۔وہ شاید اس کی بے بسی کو انجوائے کر رہی تھی ۔
افکورس آئی لو یو ۔۔تمہارے لیے تمہیں اتنا کچھ سوچ رہا ہوں ۔میں نے فیصلہ کر لیا ہے ۔یہ ڈیول کا کیس حل ہوتے ہی نہ میں تم سے شادی کروں گا ۔
لیکن اس کے لئے تمہیں میری بہت ساری مدد کرنی ہوگی ۔اس کے لہجے میں صرف سچائی تھی ۔جس پر معصومہ دل و جان سے ایمان لے آئی تھی ۔
مجھے تم پر پورا یقین ہے صارم اور میں تمہاری پوری مدد کروں گی اچھا سنو میری بات خبر یہ ہے ۔وکرم دادا انڈیا سے منڈے کو دبئی آ رہا ہے ڈیول نے اسے یہاں بلایا ہے ۔
کوئی راشد کیس کے سلسلے میں وہ لوگ کوڈواڈ میں بات کرتے ہیں اس لئے مجھے زیادہ سمجھ نہیں آتی۔
معصومہ نے الجھتے ہوئے کہا کیونکہ وہ راشد کیس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی ۔
کیا مطلب ہے تمہارا ڈیول واپس آگیا ہے دبئی ۔۔۔؟ صارم پریشان ہوا تھا ۔
ہاں ڈیول سر آج ہی واپس آئے ہیں
دیکھو معصومہ اس کی نظر سے بچ کر رہنا وہ تمہیں دیکھ کر ہی سب جان لے گا ۔وہ بہت چالاک ہے چیل کی نظر رکھتا ہے ۔
تمہیں ہوشیار رہنا ہوگا ۔اب تم جاؤ ان لوگوں کے پاس میں فون رکھ رہا ہوں ۔اس نے سامنے سے عروہ کو آتے دیکھ کر کہا ۔
دیکھ رہی ہوں میں آپ کو آج کل آفس کا کام گھر پے اٹھا لاتے ہیں ہم دونوں کی تو پرواہ ہی نہیں ہیں آپ کو ۔وہ روٹھے ہوئے انداز میں بولی تو صارم مسکرایا ۔
تو کیا کروں جان من تمہیں دیکھے بنا میرا گزارا نہیں ۔اسی لئے تو آفس سے جلدی آ جاتا ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت تم دونوں نہیں بلکہ تینوں کے ساتھ گزار سکوں ۔
اس نے محبت سے عروہ کے بھرے ہوئے وجود کو دیکھا ۔
جہاں سے دو مہینوں کے بعد اس کا دوسرا بچہ اس دنیا میں آنے والا تھا ۔
میں نے سب کچھ ہنڈل کرلیا ہے لیکن مجھے یہ لڑکی معصومہ بہت چالاک لگتی ہے مجھے لگ رہا ہے یہ بیچ میں کوئی گڑ بڑ کر رہی ہے ہم سے چھپ کر ۔خضر نے اسے کام کی تفصیل بتاتے ہوئے معصومہ کے بارے میں بتایا ۔
جبکہ اس کی بات سننے کے بعد شارف کا چہرہ غصے سے سرخ ہونے لگا تھا ۔
کیوں بھائی معصومہ بے شک کیوں ہے مجھ پر نہیں ہے ۔کل یہ کہہ دینا کہ میں بھی غداری کر رہا ہوں ڈیول کے ساتھ ۔شارف توبرک ہی اٹھا تھا ۔
شارف آرام سے وہ بات کر رہا ہے نہ ۔یارم کو اس کا اس طرح سے بیچ میں بولنا بالکل پسند نہ آیا تھا ۔
یہ معصومہ پر جھوٹا الزام لگا رہا ہے جس دن سے وہ یہاں آئی ہے ۔ایسی ہی بکواس کیے جا رہا ہے ۔
آخر مسئلہ کیا ہے اسے اس سے مجھے سمجھ نہیں آتا ۔ہر بات میں کہیں نہ کہیں اس نے معصومہ کا ذکر کرنا ضروری ہوتا ہے ۔
شارف غصے سے خضر کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔
دیکھو شارف بیکار میں میرے ساتھ بحث مت کرو وہ بھی اسے لڑکی کیلئے ۔خضر کو بھی اچھا خاصہ غصہ آگیا ۔
بس بہت ہوگیا کیا پاگلوں کی طرح دوسرے سے لڑ رہے ہو تم لوگ آرام سے بیٹھ جاؤ ۔
یارم کے غصے سے کہنے پر دونوں بیٹھ گئے ۔
آج کے بعد کسی تیسرے کی وجہ سے میں نے تم دونوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ۔
تو یاد رکھنا میں بھول جاؤں گا کہ تم دونوں میرے لیے کیا ہو ۔
اور وہ لیلیٰ کہاں ہے ۔۔۔؟ چھوڑ تو نہیں گئی ہمیں ۔ڈیول نے کہا ۔
کیوں تم اسے مس کر رہے ہو خضر نے شرارتاً کہا تھا ۔
نہیں اگر چھوڑ کر چلی گئی ہے تو دوسری ہیکر ڈھونڈنے میں وقت لگے گا خاصی انرجی ویسٹ ہو گی۔
اور اوپر سے پارٹی بھی تو کرنی ہوگی بھلا ٹلنے کی خوشی میں۔ یارم بالکل سیریس انداز میں بولا تھا جبکہ اس کی بات مکمل ہونے کے بعد خضر اور شارف کا قہقہ بے ساختہ تھا
کیونکہ باہر سے ٹک ٹک کی آواز آنا شروع ہو چکی تھی ۔
اور یہ آواز لیلیٰ کی ہائی ہیلز کی تھی ۔
یعنی کے ہمارے نصیب میں پارٹیز نہیں لکھی۔
خیر مزاق کا وقت ختم ہوچکا ہے جاو اپنے کام پر لگ جاؤ ۔
یارم نے فون نکالتے ہوئے کہا ۔
اور روح کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔
وکرم دادا کی خاطر تواضع میں کوئی کمی نہ رہے ۔اس نے جاتے ہوئے شارف اور خضر سے کہا تھا ۔

Comments
Post a Comment