EPISODE=9&10
آہل سے ملنے کے بعد وہ سوہا کے روم میں اگئی۔ روم میں گھپ اندھیرا تھا۔ اس نے سوئچ بورڈ پر ہاتھ رکھ کر بٹن پریس کیا تو روم میں روشنی پھیل گئی۔ وہ سوہا کے قریب آکر بیٹھ گئی جس نے آنکھوں پر بازوؤں رکھ کر سونے کی بھرپور ایکٹنگ کی۔
"سوہا !! اسنے ہولے سے پکارا اور ساتھ میں بازوں کو آنکھوں سے ہٹانے کی کوشش کی تو سوہا نے بے دردی سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
"کھا گئی میری خوشیوں کو تم !!. بہن نہیں ڈائین ہو. ایک بہن کی خوشی کا تو خیال کیا ہوتا۔ آگ لگا دی میرے سپنوں کو , حقیقت بننے سے پہلے بھسم کردیا۔" سوہا پھٹ پڑی۔
"سوہا!! بے یقینی سے زر کی آواز ہی خلق میں دب گئی۔
"تمہیں دو مہینے ہوگئے کہ آہل کو پسند کرنے لگی ہو۔ میں دو سال سے ان کی نکاح میں ہو۔ میں نے کب آگ لگائی۔ میں نہیں, تم خود ہم دونوں کے بیچ اگئی ہو۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آہل نے کبھی تمہیں اس نظر سے دیکھا بھی نہیں۔وہ میرے شوہر ہے۔ ایسا سوچنا بھی گناہ ہے تمہارے لئے۔ کیوں خود کو گناہ کا مرتکب کرنا چاہتی ہو۔۔۔
" دیکھو آپی !! میں آہل کو سچ میں پسند کرتی ہوں۔۔تم میری بہن ہو نا۔ پیار کرتی ہو مجھ سے۔ تو میرے لئے ان کو چھوڑ دو۔ دادا سرکار کو میں کیوں نظر نہیں آئی جو تمہیں پیش کردیا۔" پل میں تولہ پل میں ماشہ بنی سوہا زر کے دونوں ہاتھ ہاتھوں میں لیکر لہجے میں مٹھاس سموئے بولی۔
زر آنکھوں میں ڈھیر سارا تخیر لیکر خود سے تین سال چھوٹی بہن کو دیکھ رہی تھی۔ جو اتنی خود عرض بن چکی تھی کہ بہن کا گھر اجاڑنے چلی تھی۔ وہ بہن جس کو ابھی تک شوہر کا پیار تک نصیب نہیں ہوا.
" اور میرا بچہ!! زر اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر مقابل کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بل کھا کر کھڑی ہوگئی۔
"ابھی ٹائم ہی کتنا ہوا ہے۔ ایک منتھ تو گرا دو بچہ۔۔۔"
"چٹاخ!!!!!!!!!! بات مکمل ہونے سے پہلے ہی سوہا کے منہ پر طمانچہ پڑا۔
"ماں بننے کا احساس کتنا انوکھا ہوتا ہے۔ یہ تمہیں تب پتہ چلے گا جب تم خود ماں بننے کے عہدے پر فائز ہوجاؤگی۔ میں تم جیسی خود غرض بہن کے لئے اپنے بچے کی سانسیں چھین لوں۔ تمہیں اپنا شوہر دے دو۔ کیوں؟؟ کوئی کھلونا ہے آہل کہ تمہیں پسند آیا اور میں تمہیں دے دوں۔ جس طرح بچپن سے تم میری چیزیں ہتھیا کر خوش ہوتی تھی. تم اب بھی ویسے ہی ہو. دادا سرکار کو تم اس لئے نظر نہیں آئی کیونکہ آہل نے بذات خود میرا نام لیا تھا۔ آئیندہ تمہارے منہ سے آہل کا نام بھی سنا تو میں بھول جاؤں گی کہ تم میری بہن ہو۔ اب وہ صرف میرے شوہر نہیں میرے ہونے والے بچے کا باپ بھی ہے۔ تمہارے بہنوئی ہیں وہ. جتنی جلدی ہو سکے اس رشتے کو ایکسپٹ کرلو." زر اسے درشتی سے وارن کرکے کپبرڈ کی طرف بڑھ گئی۔ اور اپنے کپڑے اور ضرورت کی دوسری چیزیں اٹھا کر آہل کے روم میں جانے لگی کہ دروازے پر رک گئی۔
"میں اپنی ہر پسندیدہ چیز تمہارے ساتھ شئیر کرتی۔ کیونکہ جو کچھ مجھے پسند ہوتا قسمت کی ستم ظریفی دیکھے وہ تمہیں بھی چاہیے ہوتا تھا۔ بچپن سے عادت تھی تمہیں میری پسند کی چیزیں چھیننے کی۔ کاش اب بھی کوئی چیز شئیر کرنے کا بولتی۔ میں بغیر کسی مزاحمت کے آنکھ بند کرکے تمہارے حوالے کردیتی ۔مگر یہاں تم مجھ سے ایک جیتا جاگتا انسان مانگ رہی ہو۔ جس میں میری سانسیں اٹکی ہوئی ہے۔ اپنی ساری چیزیں واپس لیکر جارہی ہوں تاکہ تمہاری عادت چھوٹ جائے۔" یہ کہہ کر اپنی آنسوں پر مزید ضبط نا رکھ سکی اور رو کر نکل گئی۔
آہل کے روم میں وہ شکستہ حالت میں داخل ہوئی۔ وہ جو عنایہ سے ملکر تھوڑا ریلکس ہوا تھا۔ زر کی بکھری حالت دیکھ کر تڑپ تھا اور لمحے کا توقف لئے بغیر اسکے پاس پہنچا
"کیا ہوا تمہیں؟؟ رو کیوں رہی ہو؟؟۔ پھر سے کسی نے کچھ کہا ہے؟ بتاؤ مجھے۔ میں چھوڑوں گا نہیں کسی کو۔"
"نن۔نہیں۔ وہ بس اپنے گھر والوں کی بے حسی پر رونا آرہا یے۔ اپنے خون کیساتھ بھلا کوئی ایسا کر سکتا یے۔" زر نے ہاتھ کی پشت سے بے دردی سے آنسو صاف کئے۔
" اللّٰہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ پہلے تو مہلت دیتا ہے کہ کوئی بھٹک کر واپس اجائے تو اسے معاف کرے۔ مگر جب کوئی خدا بنا بیٹھتا ہے اسکا حال فرعون سے بدتر ہوتا ہے۔ ان کو دیا گیا وقت ختم ہوگیا ہے۔۔ کیونکہ ہر فرعون کے لئے ایک موسیٰ ضرور جنم لیتا ہے۔ آج کے بعد تمہیں ان لوگوں کے لئے تڑپتا ہوا نا دیکھوں۔ مجھے اپنا بچہ اور اس کی ماں دونوں ہیلتھدی چاہئے۔ سمجھی۔"
جی!!! زر نے تابعداری سے سر ہلایا۔
"گڈ !! تو مسز آہل آج سے تم میرے روم میں رہو گی میرے ساتھ. میرے قریب...." آہل نے اسے بازوؤں کے گھیرے میں لیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
صبح کا سورج ایک نیا باب لیکر طلوع ہوا۔ کسی کو پتا نہیں تھا کہ طوفان کون سا رخ موڑنے والا ہے۔ نئی ذندگی شروع کرنے کے لئے ہمیشہ صفحہ پلٹنا کافی نہیں ہوتا کبھی کبھی پوری کتاب بھی بدلنی پڑتی ہے۔ آج عنایہ کی پوری زندگی کی ازسر نو شروعات ہونے والی تھی۔ ناشتے کے ٹیبل پر آج عنایہ کی جگہ آہل کے پہلو میں زر پورے استحقاق کیساتھ برا جمان تھی. سب کو مکمل طور پر اگنور کرکے وہ وقفے وقفے سے زر کو کچھ نا کچھ کھلاکر وہاں بیٹھے گھر کے سربراہان کے غصے کو ہوا دے رہا تھا۔
سب نے ناشتہ کیا اور اٹھنے لگے تو اہل نے سب کے بڑھتے قدموں کو روکا۔
"کچھ حساب کتاب چکتا کرنے ہیں تم لوگوں سے"
سب نے نافہم نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ اور ہال میں پڑے صوفوں ہر براجمان ہوگئے۔
" کسی بھی انسان کو اس کے انتہائی کمزور پہلو سے مت توڑے, آپ صلاحیت کے چاہے جس درجے پر بھی ہوں, مکافات عمل اٹل ہے.بائے دا وے تم لوگوں کے پاس کیا ثبوت ہیں کہ اذلان کو عنایہ نے اپنے روم میں بلایا تھا." بلا تمہید آہل نے بات کا آغاز کیا۔
"اذلان کے موبائل میں ثبوت موجود ہے۔ جس سے بعد میں وہ لڑکی اور اذلان دونوں انکاری ہوگئے تھے۔ " سلطان میر نے تلخی سے کہہ کر پہلو بدلہ۔
"اذلان اپنا موبائل دو." آہل نے اذلان کیطرف ہاتھ بڑھایا۔
اذلان نے بغیر پس و پیش کے موبائل پکڑوایا۔
پہلا مسیج ہی عنایہ کے نمبر سے کیا گیا تھا۔
کچھ لمحے وہ بغور میسیج کو دیکھتا رہا پھر ایک خوبصورت مسکراہٹ لئے موبائل سکرین کو آف کردیا۔ اور اذلان سے مخاطب ہوا۔
"اذلان !! عنایہ سے تم کئے بار خود سے مخاطب ہوئے تھے نا۔ تم نے کبھی اس کے رویے کو نوٹس کیا تھا۔ آئی مین۔ اسکے بات کرنے کا انداز اسکا لہجہ چھبتا تھا تمہیں؟؟
"جی " اس سے پہلے ایک بار میں نے عنایہ کو دیکھا تھا باہر لان میں تو میں خود چلا گیا اس سے بات کرنے۔ مگر یہ میرے ہر بات کا بدتمیزی سے الٹا جواب دیتی۔" احساس توہین سے اذلان کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔
"ہمممم!! آہل نے ہنکارا بھرا۔
اور ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
" دوسری بات !! عنایہ بڑوں کو بھی تم کہہ کر مخاطب کرتی۔ مجھے بڑا آکورڈ فیل ہوا تھا۔ میں نے اسکو کئی بار ٹوکا کہ آہل جیسے بندے کیساتھ رہ کر بھی تم نے کچھ مینرز نہیں سیکھیں۔ بڑوں کو آپ کہہ کر بلاتے ہیں۔ تو وہ برا مان گئی." اذلان نے حرف بہ حرف سچ بولا۔
"جب تم عنایہ کے روم میں گئے۔ تب کیا ہوا؟؟
"عنایہ اس وقت سو رہی تھی۔ میں سمجھا اسکی طبیعت ذیادہ خراب ہوگی تو میں نے اسے ہلکا سا جھنجھوڑا ۔ اسکی آنکھ کھلی اور مجھے دیکھ کر وہ غصے سے پھٹ پڑی ۔ کہ میری اتنی ہمت اس کے کمرے میں گھس گیا۔ اور جلی کٹی سنانے لگی۔ پھر میں نے موبائل نکال کر اسے میسج دکھایا تو صحیح معنوں میں اسے دھچکا لگا۔ کیونکہ نمبر اسی کا تھا۔ اس نے موبائل کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر نہیں ملا. میں نے خود اسکے ساتھ ملکر کپبرڈ, دراز ہر جگہ چھان ماری۔ ہمیں موبائل نہیں ملا. عنایہ کو لگا میں ڈرامہ کر رہا ہوں۔ اور یہ سب میں نے جان بوجھ کر اسے بدنام کرنے کے لئے کیا ہے. بت آئی سوئیر !! میں کچھ نہیں جانتا۔ مجھے پتہ تھا آپ باہر گئے ہوئے ہیں. اور عنایہ کو کسی کی ہیلف کی ضرورت ہوگی۔ تبھی دوڑتا ہوا آیا۔ مگر جب میں باہر نکلنے لگا ,کسی نے باہر کی سائیڈ سے دروازہ بند کردیا تھا۔ میں نے بہت کوشش کی اوپن کرنے کی۔ نہیں کھلا. مجھے یقین آگیا کہ ہمیں ٹریپ کیا گیا ہے۔ لیکن سدا کی جذباتی عنایہ کو پھر بھی یہ سب مزاق لگ رہا تھا۔ اور اس نے دروازہ زور شور سے بجانا شروع کردیا۔ دروازہ کھلنے پر ایک ساتھ سبھی لوگ اندر داخل ہوئے۔
"جھوٹ !! جب ہم روم میں گئے۔ موبائل ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر پڑا تھا۔ ہم سب گواہ ہیں۔" سلطان میر بیچ میں مداخلت کرنے لگا۔
"ایک دم چپ!! تم لوگوں کی گواہی کی ایسی کی تیسی ؟؟ اہل نے اسے شٹ اپ کال دے دی۔
"موبائل وہاں کیسے آیا ہمیں نہیں پتہ۔ ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر میں نے خود چیک کیا تھا آہل. بار بار" عنایہ بول اٹھی۔
"مطلب اسی وقت عنایہ کے روم میں جو بھیڑ جمع تھی اسکا فایدہ اٹھا کر کسی نے موبائل واپس رکھ دیا۔ انٹرسٹنگ!! مجرم تو کافی شاطر نکلا" آہل نے طنزیہ مسکراہٹ خاضرین پر اچھالی۔
" اذلان کے کہنے کے مطابق عنایہ کو بڑوں سے بات کرنی کی تمیز نہیں۔ ہر کسی کو تم کہہ کر مخاطب کرتی ہے۔ تو یہ میسیج ٹائپ کرتے وقت عنایہ میں اتنی تمیز کہاں سے آگئ۔ جو اس نے اذلان کو "آپ" کہہ کر بلایا." آہل نے موبائل لہرایا۔ تینوں بھائیوں کو سانپ سونگھ گیا۔
"انسان کو جیسے بولنے کی عادت پڑ جائے تو وہ عادت اتنی جلدی نہیں چھوٹتی۔ مطلب صاف ہے یہ میسج عنایہ نے کیا ہی نہیں۔ کسی اور کی کارستانی ہے۔ بندہ چاہے جتنا بھی خود کو ہوشیار کیوں نا سمجھے,کہی نا کہی سراغ چھوڑ ہی دیتا ہے۔ بات بلکل کلئیر ہے۔ عنایہ پر تم لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا ہے۔ پہلے عنایہ کا موبائل چھپا کر اس سے ازلان کو مسیج کرنا ,ازلان کا آنا, روم کا بند ہوجانا, سب ایک سوچی سمجھی سازش ہے. دونوں بے خبری میں مار کھا گئے۔ اب مجھے عنایہ کے لئے انصاف چاہئے۔ میں کیس کر سکتا ہوں تم لوگوں پر۔ اذلان تم خود کی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے تیار ہو نا." آہل بڑی ہوشیاری سے ان کے بنائے گئے داؤ کھیلنے لگا۔
"جی !! میں نے اپنی ماں کے سر کی قسم کھائی ہے کہ میں ان سب میں شامل نہیں۔ اگر آپ کیس کرنا چاہتے ہیں تو بھی میں اپنی بات پر ڈٹا رہوں گا۔ پیچھے نہیں ہٹوں گا." اذلان راضی ہوگیا۔
"ہممم۔۔۔!!!
اب تو دو ہی راستے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ معاملہ گھر میں ہی سلجھا کر رفع دفع کیا جائے۔ دوسرا ہم یہ کیس کورٹ میں لے جائیں گے۔ اور مجھ میں اتنا دم ہے کہ سچ کی بنیاد پر کیس جیت جاؤں۔ مگر وہ کیا ہے نا تم لوگ تھوڑے شریف ہو۔ کہاں کورٹ کچہری کے چکر میں پڑنا چاہو گے۔ اور پھر یہاں اس حویلی میں بھی جوان لڑکیاں ہیں۔ سب سے زیادہ اثر ان پر ہوگا۔" آہل باری باری دلچسپی سے سب کے چہرے کے اتار چڑھاؤ نوٹ کر بات کر رہا تھا۔
"میں نے بولا بھی تھا۔ اسکل کے چوکرے میں کوئی تو بات ہے۔ اسے ہلکے میں مت لو۔ مگر تم ضد پر قائم تھے.اب بھگتو اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماری" ایاز میر نے بھائی کے کان میں غصے سے پھنکارتے ہوئے سرگوشی کی۔
ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ پھر سے اہل نے گلا کھنکار کر بات شروع کی۔
"اور مجھے یقین ہے کہ تم لوگ کبھی نہیں چاہو گے کہ معاملہ گھر کی دہلیز سے باہر جائے۔ تم لوگوں کی عزت کی نیلامی ہو۔ اور گھر کی بات گھر میں ہی رہے تو ہم اذلان اور عنایہ کا نکاح کروا دیتے ہیں۔ اگر تم لوگ راضی نہیں تو ہم آج ہی حویلی والے سب مردوں کے اوپر ہتک عزت کا کیس دائر کردیں گے۔" آہل بڑی ہوشیاری سے انہیں اپنے انگلیوں پر نچانے رہا تھا۔
"دماغ تو خراب نہیں ہے تمہارا. ہم خاندانی لوگ ہیں۔ میرا بیٹا کیوں اس دو ٹکے کی لڑکی کو اپنی زوجیت میں لےگا۔ جس کے آگے پیچھے کوئی نہیں۔ ماں باپ کا اتا پتہ نہیں۔" ایاز میر بھپر گیا۔ جبکہ شزا کا تو مانو کسی نے پیٹ میں چھڑی گھونپ دی ہوں۔ وہ اذلان کو بچپن سے چاہتی تھی۔ اور یہاں کسی اور کو مفت میں مل رہا ہے۔
"اذلان تمہارا کیا فیصلہ ہے۔" اس نے گھوم پھر کر ایک بار ہھر اذلان کو میدان میں اتارا۔
"میں راضی ہوں.!! اذلان بلا چون و چرا مان گیا۔
"تم ہمارے خلاف جاؤگے۔ اپنے باپ کے خلاف"۔ ایاز میر بجلی کی سی تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اذلان کا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑا ۔
"جی! آپ لوگوں کو چاہیے تھا۔ مجھے صفائی کا موقع دیتے۔ میرا اعتبار کرتے۔ تو سب مل بیٹھ کر ان سب کے پیچھے جس کا ہاتھ ہے اس شخص کو بے نقاب کر سکتے تھے۔ مگر آپ لوگوں نے نا تو میرا یقین کیا۔ نا میرا ساتھ دیا۔ مشکل وقت میں اکیلا ہی چھوڑ دیا۔مگر اللّٰہ اپنے بندے کو بکھرنے سے پہلے تھام ہی لیتا ہے۔ وہ مجھے ٹوٹنے نہیں دے گا ۔ " اذلان کے لہجے میں کانچ جیسی چبھن تھی۔
"باؤلے ہو کیا۔ جانتے بھی ہو کیا بول رہے ہوں۔ ہمارے شان میں گستاخی کرنے کے جرم میں حویلی اور خاندان دونوں سے دربدر کر دئیے جاوگے۔" اب کے بار امان میر نے اپنی اوقات دکھا دی۔
"واوو !! آج تو سب کے تالے کھل گئے۔" آہل نے امان میر پر سرد نظر ڈالی.
" ہوجانے دو چاچا سرکار !! وہ تو میں نے گستاخی نہیں کی تھی تب بھی آپ لوگوں نے ساتھ نہیں دیا۔خاندان کا مطلب جانتے ہیں آپ لوگ ۔ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کو فیملی کہتے ہیں۔ ناکہ اپنے ہی خون پر الزام لگا کر کٹہرے میں کھڑا کرکے سزا سنانا۔ یہ جو انسان سامنے بیٹھا ہے پتہ ہے کس کے لئے لڑ رہا ہے۔ اس لڑکی کے لئے۔ جو نا تو اسکی سگی بہن ہے نا بیٹی۔ اور یہاں آپ سب میرے اپنے ہو پھر بھی میرے لئے کسی نے سٹینڈ نہیں لیا۔ شزا تم!! تم تو مجھ سے پیار کی دعویدار تھی نا۔ تم نے بھی آواز دبا دی۔ تمہارے پیار کے لئے بھی چھوٹا سا ٹیسٹ تھا یہ جو تم ہار گئی۔ اتنا بے مول تو نہیں تھا میں۔ اور فکر نا کرے آپ لوگ,اتنا کما سکتا ہوں میں کہ بیوی کی ضروریات پوری کرسکوں۔"
"آہل بھائی میں تیار ہوں!! جب چاہے میں پورے دل سے عنایہ کو اپنی بیوی بنا لوں گا۔"
سب کی نظریں شزا پر آکر ٹہر گئی۔ جس کا دل اچھل کر خلق میں آگیا تھا. اس نے پاس پڑے صوفے کا سہارا لیا ورنہ زمیں بوس ہوجاتی۔
" بھائی آپ کو حویلی سے جانے کی کوئی ضرورت نہیں. میری رخصتی ہوگی تو عنایہ میری جگہ یہاں آئے گی, حویلی کی بیٹی بن کر. میں نے اور آہل نے ڈیسائیڈ کیا ہے کہ ہم اپنا حصہ عنایہ کے نام کردیں گے۔ تاکہ وہ سیکیور رہے اپنے گھر میں۔" ایک بار پھر سب نے کینہ توز نگاہیں زر پر ڈال دی۔
"شام کو تیار رہنا۔ میں مولوی اور گواہوں کا بندوبست کردوں گا۔" آہل نے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔
"لڑکے کی طرف سے مجھے بطور گواہ پیش کرنا۔ حدید نے اذلان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دوستی کا فرض نبھایا.
" سوری یار!! جس وقت تمہیں ضرورت تھی میں موجود نہیں تھا"
"حدید تم ان لوگوں کا ساتھ دو گے.؟؟" بازی سلطان میر کے ہاتھوں ریت کی طرح سرک رہی تھی۔ تو جی جان سے لرز اٹھے ۔
"جی بابا !! میں آپ لوگوں کی طرح خودعرض اور بے حس نہیں ہوں. مجھے بھروسہ ہے اذلان پر۔ ہم لوگ بھی یہ کیس جیت سکتے ہیں۔ کیونکہ اذلان بے قصور ہے۔ مگر اس کی جلدبازی کیوجہ سے عنایہ کے کردار پر انگلی اٹھی ہے۔ تو یہ بلکل ٹھیک فیصلہ ہے کہ وہ عنایہ کو وہی مان وہی عزت لوٹائے۔ جو یہاں کے لوگوں نے چھینا ہے۔ حدید کا لٹھ مارنے والا انداز تھا.
"آج شام کو نکاح ہے تو جس کو شرکت کرنی ہے۔ ویلکم ۔ پھر جمہ کے بابرکت دن پر عنایہ اور زر کی رخصتی ہوگی ایک ساتھ. میں بھی پبلکلی اپنی شادی اناؤنس کروں گا." آہل پرسکون چال چلتا ہوا ثوبیہ بیگم کے سامنے کھڑا ہوا۔
"آپ کو تو خوش ہونا ساسوں ماں!! ایک ساتھ بیٹے اور بیٹی کی فرض سے سبکدوش ہو جائے گی۔ آپکا آنا تو بنتا ہے۔ کب تک فرسودہ روایات کے دباؤ میں آکر بچوں کی خوشیوں سے منہ موڑےگی۔" پینٹ کے جیبوں میں دونوں ہاتھ ڈالے آنکھوں میں فاتحانہ چمک لئے کھڑا تھا.جبکہ ثوبیہ بیگم بغیر کسی تاثر سے اسے دیکھنے لگی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
"اوہ...... ایم سوری !! میں نے تمہیں کچھ دیر پہلے تمہیں عنایہ کے روم میں جاتے دیکھا تو سوچا زر کی طبیعت پوچھ لوں." عاتکہ جو بغیر ناک کئے روم میں داخل ہوگئی۔ آہل اور عنایہ کو ایک دوسرے میں مگن دیکھ کر خفت مٹانے کو وضاحت دینے لگی۔
" کوئی بات نہیں !! آپ کبھی بھی آسکتی ہیں مجھ سے ملنے.' زر آہل کے حصار سے نکل کر اس کے قریب آگئی جس سے آہل کے وجود میں شرارے ڈوڑنے لگے.
" میری موجودگی میں آنے سے احتراز کیا کرے تو بہتر ہوگا." صبر کے غصیلے گھونٹ پی کر آہل نے خود کو ترش بولنے سے باز رکھا۔ کیونکہ عاتکہ سے زر کی محبت مثالی تھی اور وہ زر کو سٹریس نہیں دینا چاہتا.
" آہل۔۔۔۔ !!
وہ اپنے اشتعال کو دبانے باہر نکلنے لگا کہ عاتکہ نے پیچھے سے پکارا۔ اس کے قدم ٹھٹھکے مگر رخ موڑنے کی زحمت نہیں کی۔
" مبارک ہو بیٹا!!
" بیٹا....؟؟ مجھے کچھ خاص پسند نہیں آیا یہ لفظ. تصحیح کرلے. داماد جی کہہ کر بلائے. اور کس چیز کی مبارک باد؟؟ آہل نے چونک کر جھٹکے سے رخ اسکی طرف موڑ دیا.
" کم آن آہل!! ہم پیرنٹس بن رہے ہیں نا تو اس خوشی میں" زر نے عاتکہ کے گرد بازوؤ حمائل کرکے جواب دیا. جو کہ آہل کے خوبرو چہرے پر نظریں جمائے ساکت کھڑی تھی.
"آپکی بیٹی ماں بننے والی ہے تو ماں ہونے کے ناطے اسے مبارک باد دے. میں اپنی خوشیاں اکیلے سلیبریٹ کرتا آیا ہوں." آہل طنزیہ مسکان لئے گویا ہوا۔
"میرے قریب آنے کی یا پیار جتانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے. میرا اس گھر سے صرف ایک ہی رشتہ ہے, ان چاہے داماد کا۔ وہ بھی ختم ہوجائے گا بہت جلد۔ کیوں کہ میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے کر جارہا ہوں. ہمیشہ ہمیشہ کے لئے." آہل کے الفاظ تھے کہ ہتھوڑے کے وار جو عاتکہ کے دل کے آر پار ہونے لگے. قدم لڑکھڑائے تو زر نے تھام لیا۔
" کیا ہوا ؟؟ جھٹکا لگا نا. آپ کو تو اپنے بچوں کو دیکھے بغیر نیند نہیں آتی. کبھی کس کو گود میں لٹا کر سلاتی ہیں کبھی کس کے محبت کا دم بھرتی ہیں۔ کبھی کس پر محبت جتاتی ہیں۔ تھکتی ہوگی آپ۔ تو میں نے سوچا کیوں نا آپکو تھوڑی سی رعایت دی جائے۔ زر کا خیال میں اچھے سے رکھ سکتا ہوں۔ جب تک یہاں ہیں ہم , جی بھر کر اسے دیکھ کر ممتا کو تسکین پہنچانے کی کوشش کرے. " اگر کسی چیز میں آہل ایکسپرٹ تھا تو وہ الفاظ سے گھاؤ دینا تھا۔ اب بھی وہ وہی کرنے لگا تھا۔
" کیوں کر رہے ہو تم ایسا؟؟ عاتکہ نے نمکیں پانی خلق سے اتارا.
"کیونکہ مجھے نفرت ہیں آپ سے مسز کامل یزدان...!!! " آہل نے تنفر سے چبا چبا کر لفظوں کے نشتر پھینکے.
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
لیٹ ایپیسوڈ ملنے کے لیے معذرت.
میں ٹھیک نہیں ہوں جس کی وجہ سے لیٹ پوسٹ ہو رہی ہے جی
اب ان شاءاللہ ڈیلی پوسٹنگ ہوگی"ماں ہو تمہاری.. اور زر میری بہو ہے. میری خواہش پر تم دونوں کا نکاح کروایا تھا بابا سرکار نے۔ اور اب تم اسے مجھ سے چھین کر لے جارہے ہو." عاتکہ کی ہمت جواب دے گئی تھی۔
"رئیلی؟؟؟ زرا پھر سے کہیں.. ماں؟؟؟ سننے میں اور بولنے میں جتنا دل کو بھاتا ہے نا, دیکھنے میں ویسی فیلنگز ہی نہیں آرہی.
ہاہاہاہاہاہا. اور بیس سال بعد ماں منظر پر آگئی. عجیب بات ہے نا. جس کو جنم دیا تھا اسے کردہ ناکردہ گناہوں کی سزا میں غیروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور نام نہاد اپنوں کو سینے سے لگا کر سر آنکھوں پر بٹھا کر رکھا ہے. اور بڑی بات کسی کو معلوم بھی نہیں ہے کہ عاتکہ میر کا کوئی بیٹا بھی ہے. جس کو پیدا ہوتے ہی نانا کی گود میں ڈال کر جیسے خود کو اس کے وجود کے بوجھ سے آزاد کرواکر اپنے فرائض سے سبکدوش ہوگئی. کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ میں آپکے کسی بہکتے.........."
چٹاخ!!!!!!
" ایک اور لفظ نہیں. تم کسی گناہ کا بوجھ نہیں تھے. " عاتکہ پر اس کی باتیں گراں گزر رہی تھی
جبکہ ہنس ہنس کر آہل کے آنکھیں پانیوں سے بھر گئی۔ جبکہ اسے پاگلوں کی طرح پہلی دفعہ ہنستے دیکھ کر زر کو وہ کوئی جنونی لگا۔
" پھپھو پلیز !! زر آہل کے دہکتے رخسار پر ہاتھ رکھ کر التجائیہ گڑگڑائیں۔
" تو انہیں سمجھاؤ نا کوکھ میری بھی اجڑ گئی تھی۔ اس کے وجود کو چھپانے کی بہت سی وجوہات تھی. ورنہ اب تک شوہر کیساتھ کیساتھ اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی." عاتکہ کی آواز پست ہو گئی۔
" تو اب میں کونسا زندہ ہوں؟؟ آپکا بیٹا بیس سال پہلے مر گیا تھا. یہاں جو آپکے سامنے کھڑا آہل نظر آرہا ہے یہ صرف ایک مٹی کا پتلا ہے جو سانس لے رہا ہے۔ مجھ سے میرا بچپن میرے ماں باپ چھیننے والے اور کوئی نہیں, اس حویلی کے لوگ ہے۔ جنہیں میں بخشنے والا نہیں۔ اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب بے باق کرنے ایا ہوں ان لوگوں سے۔میں نے اپنی پھپھو کو اپنی آنکھوں کے سامنے تڑپتے, سسکتے ہوئے دم توڑتے دیکھا ہے۔ اور ان کی سانسیں چھینے والے لوگ بھی یہی تھی۔ آپ پہلے کی طرح بے نیازی کا چولہہ اوڑھ کر بیٹھ کر صرف لطف اٹھائے۔" آہل کا خلفشار خون بلند ہوگیا تھا۔
" آہل کیا کرنے والے ہو تم؟؟ تم ایسا کچھ بھی نہیں کرو گے." عاتکہ کا خوبصورت چہرہ سوز الم کی تشریح کر رہا تھا۔ جوانی کی دہلیز پار کرنے کے بعد بھی اسکی خوبصورتی ماند نہیں پڑی تھی.
" اور مجھے روکے گا کون؟؟ آپ ؟؟ آہل نے سفاکیت کی انتہاء کرکے آنکھ دبا دی۔
" تم لوگ کنٹینیو کرو میں ذرا نکاح کی تیاریاں دیکھ لوں۔" وہ سوکھی پتی کی طرح لرزتی عاتکہ میر پر ایک نظر ڈال کر زر کو محاطب کر گیا ۔اور سیٹی بجاتا ہوا نکل گیا۔
" زر یہ آہل کیا بول کر گیا ہے۔ وہ مجھ سے دور ضرور تھا مگر میں ایک لمحے کے لیے اس کی یاد سے غافل نہیں ہوئی۔ میرا اللّٰہ گواہ ہے میں نے پل پل اسے یاد کیا ہے۔ اس کو باہوں میں لینے سینے سے لگانے کے لئے تڑپی رہی۔ اتنے سال آزمائش کے بعد مجھے بیٹا ملا ہے تو میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہا ہے۔ میرے جینے کی وجہ ہے آہل۔ میں اسے کسی بدلے کے نذر نہیں کرنا چاہتی۔ دائمی جدائی نہیں سہہ سکوں گی. اسے کہو میرے زخموں کو ناسور بنانے کی کوشش نا کرو. پتا نہیں میرے نصیب کی یہ سیاہ بختی کب جان چھوڑے گی" عاتکہ کے اواز میں دکھ کا عنصر نمایاں تھا۔
" پھپھو آپ حوصلہ رکھیں۔ اور اپنے بیٹے پر یقین بھی۔۔وہ ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے آپکو مجھے یا کسی بے گناہ کو خطرہ ہو۔ مگر گناہ گار کو سزا ملنی چاہئے۔ چاہے وہ میرا باپ یا چچا ہی کیوں نا ہو۔ آہل نے بہت کچھ سہا ہے۔ خود کو دوش مت دے۔" زر عاتکہ کی ہمت باندھنے لگی۔جبکہ عاتکہ آہل کے تند و تلخ جملوں پر سکتے میں تھی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
" عنایہ کو زر نے اپنا ایک کامدار نیا سوٹ پہنایا بغیر کسی آرائش کے بھی وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔ اور ساتھ میں سر پر سرخ گوٹھے والا دوپٹہ سجایا۔ پیراڈائز سے سحر بھی آئی ہوئی تھی۔ جس کو آہل نے بذات خود بلایا تھا۔
"سوہا!! اکلوتا بھائی ہوں تمہارا۔ تم تو کم از شرکت کرسکتی ہو نکاح میں۔ تمہارے گریز کی وجہ میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ " نکاح خواں آگیا تھا۔ اذلان بھی سادہ سفید کاٹن کے شلوار قمیص میں ملبوس اس وقت سوہا کے روم میں موجود تھا۔
" بھائی میں بہت خوش ہوں آپ کے لئے۔ مگر وہ لڑکی مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ جو آپکے لئے اور ہم سب کے لئے تکلیف کا باعث بنی۔ میں نے ہمیشہ شزا کو اپنے بھابھی کے روپ میں دیکھا ہے۔ وہ آپکو چاہتی تھی بے انتہا۔ اس کے بے تابیاں آپ سے بھی ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ دل ٹوٹا ہے اس کا۔ آپ کی زندگی کا اتنا اہم دن ہے۔ مگر میں نہیں آسکوں گی. شزا میری دوست ہے۔ اس کے لئے مجھے بہت گلٹی فیل ہورہا ہے. اوپر سے زر آپی کی خفیہ شادی, یہ سب کچھ میں ایکسپٹ نہیں کر پا رہی "سوہا نے نکاح میں نا آنے کی وجہ بتا دی۔
" ہم سب اوپر والے کے رحم وکرم پر ہیں۔ سب کچھ طے ہوتا ہے۔ ہم صرف ان کے فیصلوں کے آگے سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔میں نے بھی نہیں سوچا تھا کہ میرے ساتھ ایسا کچھ ہوگا۔ اور زر کے نکاح کا سن کر میں خوش ہوں۔ آہل کسی بھی لڑکی کا آئیڈیل ہوسکتا ہے۔ زر خوش قسمت ہے اسے آہل جیسا شوہر ملا۔ جو اس پر جان چھڑکتا ہے۔ چھوڑو یہ سب۔ اگر تمہیں اپنے بھائی کی خوشی واقعی عزیز ہے تو اپنا ایگو سائیڈ پر رکھ کر آجانا۔ مجھے خوشی ہوگی۔" اذلان نے اسکے سر پر بوسہ دیا اور نکل گیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
"اذلان !! یہ نکاح کے بعد عنایہ کو پہنا دینا۔ خاندانی کنگن ہیں۔ میرے نکاح والے دن تمہاری دادی نے مجھے پہنائے تھے۔" وہ ہال کی طرف جارہا تھا جہاں آہل اور باقی افراد نکاح خواں کے پاس موجود اس کے انتظار میں تھے۔ کہ آہل کی ماں ثوبیہ بیگم نے اسے پکارا۔
" مجھے کچھ نہیں چاہیے ماما . بس آپکی دعائیں چاہئے۔ عنایہ کے لئے ماں چاہئے." اذلان نے اسکے ہاتھ میں موجود کنگن پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جبکہ آنکھیں کرب و اذیت سے بھر آئی۔
" اذلان میں اس عمر میں طلاق کا ٹیگ ماتھے پر سجا کر نہیں جی پاؤں گی۔" ثوبیہ بیگم آبدیدہ ہوگئی۔
" اللّٰہ نا کرے۔ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔ میرے جیتے جی آپ ایسے خدشے اور وہم کیسے پال سکتی ہیں۔ بابا سرکار آپکو اپنی زندگی سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں تو بے شک کردے۔ آپکا بیٹا ہمیشہ آپ کے پاس رہے گا۔ آپکے کی ڈھال بن کر۔ پھینک آئے خود کے اوپر پہنے بے ہودہ روایات کی دبیز چادر کو۔ اپنے اور اپنے بچوں کے لئے جینا سیکھ لے ماما۔ ہمیں آپ کی ضرورت ہے ہر قدم پر۔" اذلان ماں کو گلے لگائے تاسف بھرے بھاری لہجے میں گویا ہوا۔
اس نے اذلان کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر اسکے ماتھے پر لب رکھ دئیے۔
" میں آوں گی میرا بچا۔"
اذلان کا من ایک دم ہلکا ہوگیا۔ جیسے سر سے کوئی بہت بھاری بوجھ سرک گیا ہو۔ اور سر ہلا کر اس کے ہاتھ سے کنگن لیکر پاکٹ میں رکھ دئیے اور ہال کی طرف بڑھ گیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
حویلی میں سے صرف حدید اور ثوبیہ بیگم نے نکاح میں شرکت کی تھی۔ اذلان اتنے میں بھی خوش تھا۔ نکاح ہوگیا تو اذلان سب سے گلے مل کر مبارک باد وصول کرنے لگا۔ اہل کے قریب آکر وہ تھوڑے فاصلے پر رک گیا۔
" عنایہ جس شکستہ حالت میں مجھے ملی تھی ٹوٹی ہوئی بکھری بلکل پاگل سی۔ بات بات پر بپھر جاتی۔ خود کو اذیت دینے کی کوشش کرتی۔ مجھے اسے واپس زندگی کی طرف لوٹانے میں عرصہ گزر گیا۔ یہ سب تمہیں اس لئے بتا رہا ہوں کہ اب اس کی زندگی کی ڈور تمہارے ہاتھ میں تھما دی۔ تم نے اسکی حفاظت اور عمر بھر ساتھ نبھانے کا عہد کیا ہے۔ اور امید رکھتا ہوں تم اپنے وعدے کا مان رکھو گے۔ عنایہ کا کوئی بھی نہیں ہے۔ رشتوں کی تلخیوں سے نابلد ہے وہ۔ اس کے پاس صرف ایک ہی رشتہ تھا۔ آہل یزدان کا۔ مگر وہ اہل خود کسی کی امانت تھا۔ عنایہ تھوڑی سر پھری سی ہے مگر دل کی بہت اچھی ہے۔ اگر کبھی کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو بجائے بدگمان ہونے کے اس کا بچپنا سمجھ کر معاف کر دینا۔ وہ تھوڑی الجھی سے ہے مگر تم سلجھا دینا۔ یہ مت سوچنا کہ وہ کسی بدلے کے عوض تمہارے سر پر مسلط کی گئی ہے۔ " آہل خلاف معمول ذیادہ بول گیا اور اذلان کو گلے لگایا۔
" مجھے خود سے جڑے لوگوں کے حوالے بھی بہت عزیز ہے اذلان!! ۔اس کے کان میں گھمبیر سرگوشی کرکے وہ دور ہٹا ۔
" تھینکس آہل بھائی!! اور مجھے اپنی بہن سے بہت پیار ہے۔ مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں عنایہ کون ہے۔ مگر میں اس سے پیار کرنے لگا تھا۔ اور پیار میں باقی ساری باتیں بے معنی ہوجاتی ہے۔"اذلان اسکے وجیہہ سپاٹ چہرے پر نظریں جمائے قدرے تحمل سے گویا ہوا۔
" جاؤ اپنی بیوی سے مل لو" آہل اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر گویا ہوا.
"جی!! اذلان بے یقینی سے اسکی طرف دیکھنے لگا۔
" ہاں جاؤ.. حویلی میں رواج ہے نا نکاح کے بعد بیوی سے ملنے کا منہ دکھائی دینے کا۔ مل لو۔" آہل سنجیدگی سے گویا ہوا۔
عنایہ کو زر کے روم میں شفٹ کیا گیا تھا۔ اذلان ناک کرکے روم میں داخل ہوا تو عنایہ کو اپنی ماں کے سینے سے لگے دیکھ کر اس کے رگوں میں سکون سرائیت کرنے لگا۔
" مبارک ہو بیٹا!! سب سے پہلے عاتکہ اس کے گلے لگی۔"
"تھینکس پھپھو!! اور ساتھ میں کھڑی زر کو بھی خود سے لگایا۔
پھر وہ ماں کے قریب آیا تو اسکی ماں نے بے ساختہ اسے سینے سے لگایا۔ اور کئی آنسو اذلان کے کندھے نے جذب کر دئیے۔
" ماما رونا نہیں۔ آپ کا بیٹا آج بہت خوش ہے۔ پلیز" اذلان نے اسکے آنسو صاف کئے۔
" بھائی عنایہ سے نہیں ملنا؟؟ زر اس کی بے چینی نوٹ کرکے شرارتا گویا ہوئی
" ہاں وہ۔۔۔۔۔۔ مل لوں گا." طویل سانس کھینچ کر بدقت لہجے کو نارمل کرکے اس نے عنایہ پر ایک سرسری نظر ڈالی تو خواس سلب ہوگئے۔ سرخ ٹھمٹماتا چہرہ, ساتھ میں سرخ رنگ دوپٹے کے ہالے میں اسکا من موہنی چہرہ دہک رہا تھا۔ جو انگلیوں کو آپس میں الجھائے ہاتھوں کی لغزش کو قابو کرنے کی تگ و دو میں بری طرح ناکام تھی۔
زر اپنی ماں اور عاتکہ بیگم کو ساتھ لیکر روم سے نکل گئی۔
" مبارک ہو !! عنایہ کو کندھوں سے پکڑ کر نرمی سے اپنے ے مقابل کھڑا کرکے وہ اپنائیت سے لبریز لہجے میں گویا ہوا۔
عنایہ کے ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی۔ اسنے سختی سے آنکھیں میچ لی۔
اس کے گلاب چہرے کو اوپر اٹھا کر اس نے عنایہ کے ماتھے پر مہر محبت ثبت کی۔
عنایہ اس کے گرم لبوں کی نرماہٹ محسوس کرکے کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی۔
" دد... دور رہو تت۔۔۔ تم!! اپنی دل کی دھڑکنیں سست پڑتے دیکھ کر وہ خواس باختہ ہوگئی۔
بولڈ سی عنایہ کو اوسان صحیح معنوں میں خطا ہوگئے۔ اذلان کے ہونٹوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ بکھرنے لگی۔ اور عنایہ کو سینے سے لگایا۔
" مجھے سو بار بھی زندگی ملے تو میں ہر بار تمہارا انتخاب کروں گا۔ مجھے تم سے محبت کرتے رہنا پسند ہے۔ کسی بھی بدلے کی تمنا کئے بغیر" آہل نے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوتے کان کی لو کو ہلکا سا چھوا۔
"چچ۔چپک کیوں رہے ہو" وہ فاصلہ بنا کر شرم و حیا سے سرخ ہوتی جھجھکتی ہوئی بولی۔ اذلان کی پرحدت نظروں کا ارتکاز وہ خود پر محسوس کرکے کان کی لو تک سرخ ہوگئی۔
" بقول تمہارے میری صورت تو قابل قبول ہے۔ تم ایک نظر اٹھا کر دیکھ سکتی ہو مجھے۔" اذلان نے اسکی کہی گئی بات دہراکر اپنے درمیان اجنبیت کی دیوار گرانے کی کوشش کی.
"مم۔مجھے جانا ہے." محرم کی قربت واقعی حواس جھنجھوڑ دیتی ہے۔ اپنی اتھل پتھل سانسوں کے بیچ کہہ کر رخ موڑ کر جانے لگی۔
" عنایہ !! اذلان نے بےتابی سے پکارا۔ عنایہ کے چلتے قدم رک گئے۔
" تمہیں پانے کے کے لئے بہت کچھ کھو دیا۔ پلیز تم مجھے کبھی مت دھتکارنا۔ باقی کا سفر تمہارے سنگ طے کرنا ہے" اس کے قریب آکر عنایہ کا نرم سفید بایاں ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں لیکر اس میں کنگن پہنائے۔ اور کنگن پر اپنے لب رکھ دئے۔ اذلان کے ملتجانہ الفاظ اور بے تکلفی سے چھونے پر عنایہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔ بغیر کوئی جواب دئیے وہ روم سے نکل گئی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
" میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟؟ عنایہ نیچے آکر تنے نقوش کیساتھ عاتکہ کے سامنے کھڑی ہوگئی جو صوفے پر زر کیساتھ بیٹھی تھی۔
" ہاں بلکل میری جان !! ادھر آو میرے پاس بیٹھ جاؤ۔" عاتکہ جلدی سے اپنے پہلو میں اس کے لئے جگہ بنا گئی۔۔ وہ بغور عاتکہ کے چہرے پر چھائی خلوص و محبت کی کلیاں دیکھنے کی لگی۔
" کیا ہوا؟؟.ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟؟ عاتکہ نے اسے خود کیطرف ٹکٹکی باندھے دیکھا تو مسکرا کر استفسار کیا۔
" یہ بھی میری طرح سوچ رہی ہیں کہ آپ اتنی پیاری کیوں ہے۔ اور آپکا ڈمپل تو واہ!! کمال کا ہے. میں تو دیوانی ہوگئی ہوں۔ ہیں نا؟؟ " سحر نے بیچ میں مداخلت کرکے عنایہ کے گرد بازوؤ پھیلائے۔۔ ہال میں داخل ہوتے آہل نے سحر کے آخری الفاظ پر اذیت سے آنکھیں میچی۔ عاتکہ نے آہل کے چہرے پر کرب کے آثار دیکھے۔
آہل چہرے پر بیزاریت سموئے اندر داخل ہوا تو عنایہ بےتابی سے اٹھ کر اسکی طرف لپکی اور اسکے سینے سے لگ کر ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور رو پڑی۔
"ششش!! آہل نے اسکے سر پر نرمی سے بوسہ دیا۔
" مجھے یہاں نہیں رہنا آہل!! اپنے گھر جانا ہے." عنایہ بچوں کی طرح نروٹھے پن سے بولی ۔
"اب کی جان کاری کے لئے عرض ہے بھابھی بیگم کہ اب تمہارا گھر یہی ہے." آہل کے پیچھے اندر آتے حدید نے ہلکا سا ٹانٹ کیا۔ لہجے میں مزاح کی آمیزش شامل تھی۔۔
" بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے حدید!! اب یہ تمہارا گھر ہے۔۔ اور تم یہاں رہو گی۔ اور تمہارا بھائی بھی تو ادھر ہی رہتا ہے نا۔" آہل اسے دلاسہ دیتے ہوئے روانگی میں ہی عنایہ کے فکر میں مغلوب ہوکر بول اٹھا مگر اگلے پل اپنے الفاظ کی گہرائی جان کر ایک دم سب کے حیرت و بے یقینی سے ملے جلے تاثرات کو دیکھ کر وہ سٹپٹا گیا۔۔
" بھائی؟؟؟ حدید کی بھنویں اپر کو شوٹ ہوئی۔
" ہاں اذلان کے بھائی ہو نا تم.." آہل نے جلدی سے وضاحت پیش کرکے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی مگر زر اور عاتکہ کو اسکا انداز کچھ کھٹکا۔ عاتکہ ایک جہاندیدہ خاتون تھی۔ پل میں سامنے والے کی سوچ پڑھ لیتی۔ آہل نے اس کی طرف دیکھنے سے مکمل احتراز کیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
"یار عنایہ ایک کپ چائے تو پلا دو." حدید اور اذلان آفس سے تھکے ہارے آئے تو عنایہ کو زر کیساتھ بیٹھتے دیکھ کر اس نے دکھتے سر کو پکڑ کر فرمائش کی۔ جبکہ عنایہ اس کی غیر متوقع فرمائش پر الجھن کا شکار ہو گئی۔ اذلان بھی حدید کی بات سن کر روم میں جانے کے بجائے اس کے ساتھ ہی بیٹھ کر عنایہ کے چہرے پر پھیلتے رنگوں کو دیکھنے لگا۔
" میں بناتی ہوں بھائی !! زر نے حدید کو آنکھوں ہی آنکھوں میں باز رہنے کی تلقین کی۔
" ارے میرا من کر رہا ہے یار عنایہ کے ہاتھوں کی چائے پینے کا۔ اتنا تو کر سکتی ہیں نا میرے لئے۔آفٹر آل اکلوتا دیور ہوں اس کا. اور اہل نے تو اسکا بھائی بھی بنا دیا" حدید کے بڑھتے اصرار پر عنایہ کی رنگت فق ہوگئی۔ جبکہ اذلان ٹوڑی کے نیچے مٹھی جما کر محفوظ ہونے لگا۔
" مجھے چائے بنانی نہیں آتی." عجیب زبردستی تھی پیچھے ہی پڑ گیا۔ عنایہ اصلی ٹون میں واپس آکر بڑبڑائی۔
" تو سیکھ لینے میں کیا حرج ہے۔ آج شروعات مجھ سے ہی کرلو۔ یقین مانو جیسے بھی بنے گی میں خوشی خوشی پی لوں گا۔" عنایہ کی آڑی رنگت سے مخفوظ ہوتا وہ مسلسل اسے چھیڑنے لگا۔ شزا اور سوہا بھی ہال میں آکر بیٹھ گئی۔ عنایہ کیساتھ اپنے بھائی کی بے تکلفی دیکھ کر وہ دانت پیستے رہ گئی۔ " کلموہی سب کو قابو میں رکھنے کا ہنر رکھتی ہیں"
" آہل نے کبھی کوئی کام نہیں کرنے دیا۔ ہمارے گھر میں نوکروں کی فوج ہمہ وقت موجود ہوتی تھی۔" عنایہ نے غذر پیش کیا۔
" یار ٹرائی تو کر نا۔ پیار سے بناوگی تو اچھی بنے گی۔ اور پھر تمہارا یہ شوہر ہے نا یہ ہیلف کردے گا۔ سکھا دے گا تمہیں۔ بہت اچھی چائے بناتا ہے۔ کیوں اذلان ؟؟" اس نے لگے ہاتھوں اذلان کو بھی انولو کیا جو اذلان کو زور کا اچھوکا لگا۔۔
" میں خود تھک کر آیا ہوں۔ اور تمہاری بے ڈھنگ فرمائشیں میری بیوی کیوں پوری کرے۔" اذلان نے ہری جھنڈی دکھا دی۔ جبکہ حدید کے اگلے عمل سے سب پر خیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ۔
اس نے عنایہ کو ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کیا اور اسے ساتھ لئے کچن میں جانے لگا کہ سلطان میر کی کاٹ دار آواز سماعتوں میں گھونجی ۔
" یہ کیا بے ہودگی پھیلانے لگے ہو تم لوگ۔اور حدید تمہیں کوئی احساس بھی ہے تم کیا کر رہے ہو۔ یہ لڑکی زبردستی ہمارے سروں پر مسلط کردی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے رشتوں میں دراڑ پڑ چکی ہے۔ ہوش کے ناخن لو۔ کیوں اسے سر پر سوار کر رہے ہو۔"
" چاچا سرکار!! آپ اس طرح میری بیوی کی انسلٹ نہیں کر سکتے۔ اب اس گھر کی عزت ہے یہ۔ "میر خاندان" کی بہو ہے " اذلان بجلی کی تیزی سے عنایہ کے قریب آکر اس کا دفاع کرنے لگا۔
" اسے میر خاندان کی بہو ہم نے تسلیم نہیں کیا۔ بہتر ہوگا اسے ہماری نظروں سے دور رکھو۔ چھبتی ہیں میری نظروں کو " سلطان میر عنایہ کے سپید پڑتے چہرے کو دیکھ کر اندر تک سرشار ہوا۔
" میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ عنایہ کی نظریں تم لوگوں کے مکروہ چہروں پر نا پڑے۔ اسلئے میں نے ایک فیصلہ لیا ہے ہم حویلی کو دو حصوں میں تقسیم کردیں گے۔" آہل نے کوٹ صوفے کی طرف اچھال کر آستیں کہنیوں تک چڑھائے۔
" ہم خاندانی لوگ ہیں آہل یزدان۔!! جائیداد کا بٹوارہ نہیں کرتے۔ چاہے ہمارا سر ہی کیوں قلم نا ہوجائے۔ وراثت کی تقسیم وہ بھی اس بدزات لڑکی کے لئے, سوال ہی پیدا نہیں ہوتا" سلطان میر نے تنفر بھری نظر عنایہ پر ڈالی۔
" بٹوارا تو تم لوگوں کے بابا سرکار خود کرچکے ہیں. میں تو صرف آگے کا لائحہ عمل طے کروں گا۔ جس کا مجھے پورا اختیار ہے۔" آہل موبائل نکال کر ایک نمبر ڈائل کرنے کے بعد کان سے لگا گیا
" ہاں مس شہری!! وہ فایل ڈرائیور کے ہاتھوں بھجوا دو جلدی" بات مکمل کرکے اس نے کال کاٹ دی۔
" عنایہ!! تمہیں ان لوگوں سے دبنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ہم نے حویلی کا آدھا حصہ تمہارے نام کیا ہے۔ کاغذات تیار ہوچکے ہیں۔ اپنے لئے لڑنا سیکھو. " آہل عنایہ کو خود سے لگائے صوفے پر بیٹھ گیا۔
" آہل مجھے کچھ نہیں چاہئے۔ صرف سکون چاہئے جو مجھے اپنے گھر میں ملتا ہے۔ یہاں میرا دم گھٹ رہا ہے۔ ہم آزاد ماحول میں پلے بڑھے ہیں۔ مجھے اس قید میں نہیں رہنا۔ جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر رائی کا پہاڑ بن جاتا ہے۔ بار بار کسی نا کسی کے عتاب کا نشانہ بنتی ہوں۔" عنایہ اردگرد سے بے نیاز اپنی ہی دکھڑے رو رہی تھی جبکہ اس کی باتوں سے اذلان کی دھڑکنوں میں طغیانی برپا ہورہی تھی۔
" تمہیں میں نے سکھایا تھا نا کوئی ادب سے پیش آئے تو واجب ہے تم پر احترام کرنا, ورنہ لوگوں کے لہجے اس کے منہ پر مارا کرو۔" آہل کی کنپٹی کی رگیں پھڑک اٹھی۔
" اذلان اپنی بیوی کو لے جاؤ اور اسے سمجھاؤ۔ شادی کے بعد لڑکیاں سسرال میں اچھی لگتی ہے۔" آہل کے بولنے سے پہلے ہی عاتکہ نے اذلان کو حکم دیا۔
" عاتکہ !! تم کون ہوتی ہو ہمارے بیچ بولنے والی۔ اگر آئندہ ہمارے معاملات میں مداخلت کرنے کی حماقت کی تو زبان گدی سے کھینچ کر نکال دوں گا۔" سلطان میر اتنا تیز دھاڑا کہ عاتکہ کے قدم لڑکھڑائے, گرنے والی تھی کہ پاس کھڑی زر نے جلدی سے اسے تھام لیا۔
" سلطان میر......!!
آہل حلق کے بل چلایا۔ اور دوسرے لمحے وہ توقف لئے بنا سلطان میر کے روبرو کھڑا تھا۔
" تم نے میری بیوی پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ میں خاموش رہا۔ اب اگر دوبارہ ان کے ساتھ اونچی آواز میں بات کی تو میں عمر کا لخاظ بھول جاؤں گا۔" عاتکہ کی دگرگو حالت دیکھ کر آہل آپے سے باہر ہوگیا۔ جبکہ آہل کے اس طرح اوور ریکٹ کرنے پر عاتکہ ہراساں سی پیچھے ہٹنے لگی۔
" ہم کسی ایرے غیرے کو یہ اجازت قطعی نہیں دیں گے کہ وہ ہمارے گھر کے معاملات میں دخل اندازی کرے۔ اپنی بیوی کو لیکر دفع ہوجاو یہاں سے. باقی ہمارے حویلی کی کسی فرد کیساتھ رشتہ داریاں نبھانے کی ضرورت نہیں۔۔" ایاز میر نے درشتی سے کہہ کر اسکی اوقات دکھا دی۔
بھائی اور بیٹے کو ایک دوسرے کے مقابل دیکھ کر عاتکہ کی طبیعت بگڑنے لگی۔ خوف و اندیشے کی گھنٹیاں کانوں میں بجنے لگی۔
" تم لوگوں کی شہ دینے پر یہ اجنبی لڑکا آج اتنا اترا رہا ہے نا۔ تم لوگوں نے ڈیل دی ہوئی ہے." ایاز میر کا خون ابل رہا تھا حویلی والوں کو اسکی طرف داری کرتے ہوئے۔
آہل کو اپنی شریانیں ضبط سے پھٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔ دل بغاوت پر اتر ایا۔ دل کے کسی کونے میں دبکے ہوئے بیٹا ہونے کے احساس نے سر اٹھایا۔ زر کے ہاتھوں سے عاتکہ کا بازو چھڑا کر اس نے عاتکہ کو اپنے پیچھے کردیا۔ اور اسکے آگے آہنی دیوار بن کر کھڑا ہوگیا۔
" آہل نہیں۔.!!! عاتکہ نے اپنا لغزش زدہ ہاتھ آتش فشاں بنے بیٹے کے کندھے پر رکھ کر اس کے اندر ابلتے ہوئے مادے کو پھٹنے سے روکا۔
آہل نے اپنے کندھے پر لرزتا لمس محسوس کرکے وہ ہاتھ نرمی سے اپنے مضبوط آہنی ہاتھ میں لیکر اس پر عقیدت سے لب رکھ کر اس کی ڈھارس باندھی۔ جبکہ عاتکہ کہ آنکھیں شدت جذبات سے بند ہوگئی اور وہی آہل کے بازوؤں میں ڈھیر ہوگئی۔
موم!!!!!!!!! آہل کی دلخراش چیخیں حویلی کے درودیوار ہلا گئی۔
.png)
Comments
Post a Comment