EPISODE=14&15
" یہ تربیت کی ہے تم نے میرے بچوں کی. آج وہ میرے سامنے گھر کے بنائے گئے اصولوں سے روگردانی کر رہا ہے۔ تم نے پڑھائی ہیں یہ پٹیاں انہیں ذلیل عورت۔۔ میرے بچوں کو میرے خلاف کھڑا کیا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں تمہارے ساتھ کیا کچھ کرسکتا ہوں۔" سلطان میر نے اسے بالوں سے پکڑ کر بے دردی سے گھسیٹا۔
" مم۔ میں نے حدید کو کچھ نہیں بتایا۔ مجھے اپنے بچوں کی قسم۔ اگر بتانا ہوتا تو پچیس سال پہلے بتاتی۔" انیلا بیگم اسکی اپنی گرفت سے اپنے بال نکالنے کی کوششوں میں ہلکان ہورہی تھی۔ تکلیف اتنی زیادہ تھی کہ آنکھوں سے پانیوں کا سمندر بہہ رہا تھا۔
" مکار عورت!! ٹسوے بہانہ بند کردو۔ اور اپنے بیٹے کو سمجھاؤ۔ اگر آج کے بعد اس نے ہمارے روایات سے بغاوت کرنے کی کوشش کی تو خود کو طلاق یافتہ کہلانے کے لئے تیار کرلو۔ تم اس گھر میں صرف میرے بچوں کی وجہ سے رہ رہی تھی ورنہ مجھے تمہارے اس دو ٹکے کے وجود سے کبھی وہ خوشی وہ سکون نہیں ملا جو مجھے چاہئے ہوتا۔ سلطان میر منہ سے مغلظات بک رہا تھا۔
"آہہہہہہہہہ.!!! انیلا بیگم کا سر ایک جھٹکے سے چھوڑ کر وہ ہاتھ جھاڑ کر کھڑا ہوگیا نتیجے میں سر بہت زور سے دیوار کے ساتھ جالگا۔ اسکی چیخیں حویلی کے در و دیوار ہلا گئی۔
" مام!! عنایہ جو ہال میں بیٹھی سحر کے ساتھ موبائل پر بات کر رہی تھی۔ موبائل صوفے پر پھینک کر دیوانہ وار بھاگتی ہوئی سلطان میر کے روم تک پہنچ گئی۔ اور دھڑام سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔ سامنے کا منظر دیکھ کر اسکی آنکھیں دہکنے لگی۔ حویلی میں آج تک کسی نے اتنی ہمت نہیں دکھائی کہ کسی کے روم میں بلااجازت داخل ہو۔۔یہ جرآت عنایہ نے دکھائی۔سامنے زمین پر نڈھال بکھری خالت میں انیلا بیگم کو گھنٹوں میں سر دبائے ہچکیاں لیتے دیکھا۔ تو اسکے قریب جاکر بیٹھ گئی۔
" اے لڑکی !! تمہاری اتنی ہمت. سلطان میر کے روم میں بے دھڑک اندر داخل ہونے کی گستاخی کرنے کی" سلطان میر تو عنایہ کی اس قدر ڈھٹائی پر تلملایا
" پہلی بات!! میرا نام لڑکی نہیں عنایہ میر ہے۔ میر خاندان کی بہو اور اذلان میر کی بیوی ہوں۔ اور دوسری بات!! میں اس حویلی کے آدھے حصے کی مالکن ہوں۔ تو میرا جب اور جہاں جی چاہے گا میں جاؤں گی۔مجھے روکنے کی کسی کی اوقات نہیں." آخر سلطان میر کا خون شامل تھا عنایہ میں کچھ تو بد اخلاقی دکھانی تھی۔
" آدھا حصہ, میر خاندان کی بہو۔۔۔ مائی فٹ۔ جتنا اونچا پروان اڑنا ہے اڑ لے۔ کیونکہ مجھے پر کاٹنے آتے ہیں۔ جلد ہی تمہارا پتا بھی کاٹ دوں گا ۔" سلطان میر نے آگ بگولہ ہوکر حقارت سے کہہ کر ایک تنفر بھری نظر انیلا پر ڈالی اور نکلنے لگا کہ عنایہ کے کاٹ دار آواز نے ان کے قدم جھکڑ لئے۔
" جھوٹے شان و شوکت اور تکبر میں ڈوب کر آپ لوگ یہ بھول گئے ہیں کہ اللّٰہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ اور اب کے بار آپ ایسے منہ کے بل گرے گے کہ خاک ہو جائیں گے" سلطان میر نے سنی ان سنی کرکے دہلیز پار کی۔
" آپ پلیز اٹھنے کی کوشش کرے۔ کیوں سہہ رہی ہیں آپ" عنایہ نے بے حال ہوتی انیلا بیگم کو سہارا دے کر اٹھانے میں مدد دی۔
" بیٹا تم خود کو ان معاملات میں مت گھسیٹو۔ یہ ہمارا روزمرہ کا معمول ہے۔۔اب ہم عادی ہوچکے ہیں۔ یہ سنگ دل لوگ تمہیں بھی کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔" انیلا بیگم کی آواز میں عنایہ کو ہلکا دکھ ہلکورے لیتا ہوا محسوس ہوا۔
" میرا جتنا نقصان ہونا تھا ہوچکا موم!! اب کھونے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں۔ اور آپ شائید بھول رہی ہیں کہ میرا ایک عدد بھائی ہے جو مجھ پر جان چھڑکتے ہیں۔ اور آپ نے بولا تھا نا کہ اذلان حویلی کے مردوں جیسا نہیں تو انہوں نے تاحیات میرا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ تو مجھے ان اوچھے دھمکیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔" عنایہ نے انیلا بیگم کو بیڈ پر بٹھایا اور اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی تو ایک دم بالوں کو ایک گھچا ہاتھ میں ایا۔ جس کو بےدردی سے اکھاڑ لیا گیا تھا۔
" موم!! یہ ؟؟؟؟ عنایہ نے ہاتھ میں پکڑے بالوں پر ایک حیرت بھری نظر ڈالی تو ایک دم اپنی ماں کیساتھ ہونے والی زیادتیوں کا احساس غالب آگیا اور وہ انیلا بیگم کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
" نا رو میری بچی۔ " انیلا بیگم اسکے سر پر پیار کرنے لگی۔۔جبکہ اس کے منہ سے لفظ موم سن کر عجیب سا سرور رگ و پے میں سرایت کرنے لگا۔
" میں آپ کو مزید یہ جبر مسلسل جھیلنے نہیں دوں گی۔ میری ماں اس طرح کی زیادتیاں سہہ کر موت کو گلے لگا گئی تھی۔ مگر آپ کو ہمت دکھانی ہے۔ اس طرح عزت نفس کو مجروح کرکے آپ ذندہ کیسے رہ رہی ہے۔ اپنے لئے نہیں تو ہمارے لئے خود کو مضبوط بنائے۔ آج تک بیوی ہونے کا فرض نبھاتی آئی ہے۔ اور اب ایک ماں ہونے کا فرض نبھانا ہے۔ پھینک ائے اپنے اوپر سے یہ مظلومیت کی چادر۔ جب عورت ماں بنتی ہے تو اس میں سو عورتوں جتنی طاقت آجاتی ہے۔ اور ہم بنیں گے آپکی طاقت۔ آپ بس قدم اٹھائے۔ لوگ جرم کرتے وقت اوپر بیٹھے منصف ذات کو فراموش کر دیتے ہیں جو جلد یا بدیر انصاف کرنے والا ہوتا ہے۔" عنایہ کا نڈر اور مضبوط انداز انیلا بیگم کی ڈھارس بنا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
" تمہیں پورے گھر میں ڈھونڈا اور تم یہاں چپ کے بیٹھی ہوں۔ " وہ شام کو آفس سے گھر آیا تو بےتاب نظروں نے عنایہ کو اردگرد تلاشا مگر کہیں دکھائی نا دی۔ تو کچن میں اسے اپنی موم کیساتھ مصروف دیکھ کر سے خوشگوار طمانیت کا احساس ہوا۔
" ہاں بیٹا!! تمہاری بیوی کو کوکنگ کا شوق چڑھا ہے۔ ابھی پوچھ رہی تھی کہ اذلان کو کھانے میں کیا کیا پسند ہے وہ مجھے سکھا دے۔" ثوبیہ بیگم اپنی بہو کو نثار ہوتی نظروں سے دیکھ کر بولی۔
" واؤ!! ان خاص الخاص عنایات کیوجہ." وہ عنایہ کے قریب آکر اسکی پشت پر کھڑا ہوگیا تو اس کے قریب آنے پر عنایہ کا سانس خلق میں اٹک کیا۔ اگر وہ رخ موڑتی تو یقیناً اذلان کے سینے سے لگ جاتی۔
" آپ ادھر چئیر پر جاکر بیٹھ جائے نا۔ میرے سر پر کیوں چڑھ رہے ہیں؟؟ عنایہ اپنی ساس کی موجودگی میں اس کے اتنے پاس ہونے پر شرم سے لال گلابی ہوگئی۔ جبکہ ثوبیہ بیگم خاموشی سے کچن سے نکل گئی۔کیونکہ اپنے بیٹے کی آنکھوں کی وارفتگی وہ دیکھ چکی تھی۔
" وہ اس لیے مسز !! کہ پورا دن آپکا یہ من موہن مکھڑا دیکھے بغیر گزار دیا تو طلب بڑھتی جارہی تھی " ماں کے نکلتے ہی وہ تھوڑا اور قریب ہوکر عنایہ کے گرد حصار باندھ کر اسکا پشت سینے سے لگایا اور اسکے کندھے پر لب رکھے۔
" ہم کچن میں کھڑے ہیں۔ ہر جگہ شروع ہوجاتے ہیں۔"..عنایہ بدک کر ہٹنے لگیں کہ اذلان نے اسکی کوشش ناکام بنا دی۔
" شوہر تھکا ہارا گھر واپس آئے تو اچھی بیویاں استقبال کرتی ہے۔ اور شوہر کو اپنا دیدار کرواکر اسکی دن بھر کی تھکان اتار دیتی ہے۔" ہنوز اسے بازوؤں کے حصار میں لیکر اسکے سرخ گلنار چہرے کو فوکس لئے ہوئے تھا۔ جبکہ لب بار بار گستاخی پر اکسا رہے تھے۔
" یہ کیا شوق پال رکھا ہے تم نے۔ یہ ماسیوں والا خلیہ دیکھا ہے تم نے ؟؟ اذلان کو اسکا یہ روپ کوفت میں مبتلا کرنے لگا۔ملگجا سا سیاہ لباس پہنے ,پسینے سے تر وجود, جسم سے اٹھنے والی ملی جلی مصالحوں کی خوشبوؤں۔
" پھپھو بول رہی تھی کہ شوہر کے دل کا راستہ معدے سے ہوکر گزرتا ہے۔ اسلئے آپکے دل میں جگہ بنانے کے لئے چھوٹی سی کاوش ہے۔" عنایہ نے اپنی کمر کے گرد باندھا دوپٹہ کھول کر سر پر ٹکایا۔
" تم الریڈی اس دل کے اونچے مسند پر براجمان ہو۔ س کے لئے یہ تھرڈ کلاس حربے آزمانے کی قطعی ضرورت نہیں۔ گھر میں ملازمین موجود ہیں۔" عنایہ کے بےپروہ سراپے پر نظر ڈال کر اسکے بکھرے بالوں کو کانوں کے پیچھے اڑستے ہوئے اسکی دھڑکنوں کو منتشر کرگیا۔
" آپ جاکر فریش ہوجایے۔ میں آپ کے لئے چائے بنا کے لاتی ہوں۔" عنایہ خود پر اسکی گہری نظریں مرکوز دیکھ کر اسے منظر سے ہٹانے لگی۔
" مجھے چائے نہیں اپنی بیوی چاہئے۔ مگر اس حالت میں بلکل نہیں۔ جلدی سے چینج کرکے میرے روم میں آجاؤ"۔ اذلان حکم دیتا جانے لگا۔
" میں ادھر بالکل نہیں آرہی". حیا اور جھجھک کی ملی جلی کیفیت میں وہ گویا ہوئی تو اذلان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نے گھیرا ڈالا۔
" کیوں؟؟ وہ ایک قدم پھر اسکے قریب آکر پرتپش لہجے میں استفسار کر گیا۔
" آپ مجھے تنگ کرتے ہیں۔" عنایہ کا چہرہ دہکنے لگا۔
" اپنی بیوی کو تنگ نہیں کروں گا تو کس کو کروں گا؟؟ تعجب کی بات ہے۔ ویسے بھی روایتی بیویوں والا انداز اپنایا ہوا ہے تو سراہے جانے کے قابل ہو" اذلان نے میٹھا طنز کیا۔اور اگلے لمحے انچ بھر کا فاصلہ مٹا کر وہ عنایہ کو اپنے حصار میں لے چکا تھا۔ اور اپنی شدتیں اس پر لٹانے لگا۔ اس کی قربت میں بہکتی عنایہ اس وقت یہ فراموش کر چکی تھی کہ وہ کہاں اور کس حالت میں کھڑی ہے۔
" یا اللّٰہ!! اذلان بھائی گھر میں چھوٹے بچے بھی ہے۔ ان کاموں کے لئے اگر بیڈروم کا استمعال کیا جائے تو ہم جیسے بچوں کا بھلا ہو جائے گا۔"
اسامہ کی آواز سن کر عنایہ سرعت سے دونوں ہاتھ اس کے کندھے پر جما کر فاصلہ قائم کرتی رخ بدل گئی ۔جبکہ اسامہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے رخ موڑ کر کھڑا تھا۔۔عنایہ کو اس کی معصومیت پر ڈھیر سارا پیار ایا۔
" ہاں ضروری تو نہیں کہ صرف بیڈروم میں ہی بیوی پر پیار آجائے۔۔کچن میں بھی تو آسکتا ہے۔ اب میری بیوی ہے ہی اتنی پیاری تو خود کو کنٹرول رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔" اذلان نے کمال بے نیازی کا مظاہرہ کرکے اسامہ کے کندھے پر مکہ جڑ دیا۔
" لا حولہ ولا قوہ!!۔ میر خاندان کے سب سے سلجھے ہوئے صاحبزادے کا خطاب ملا ہے اپکو۔۔اگر اس طرح کسی نے کھلے عام آپکو یہ چیف حرکتیں کرتے دیکھ لیا تو کیا عزت رہ جائے گی۔" اسامہ نے دونوں ہاتھوں سے کانوں کو پکڑا۔
" ہاں تو میری بیوی ہے نا۔۔کسی اور کی بیوی کو تھوڑی نا چھیڑتا ہوں۔ اور میں اب بھی ایک نہایت شریف بندہ ہوں۔ یقین نہیں آتا تو اپنی بھابھی سے پوچھ لو۔" اس نے عنایہ کی پشت پر نظر ڈالی جو اپنی حفت مٹانے کے لئے مصروف ہونے کا ناٹک کرنے لگی۔
" رہنے دیجئے آپ۔! مجھے ترس آریا ہے بھابھی پر کیسے شیرنی بنی پھرتی تھی۔ نکاح کے بعد تو جیسے وہ وائر کاٹ دی گئی۔ دیکھو اب بھی بے چاری کب سے منہ چھپائے کھڑی ہے۔" اسامہ کی بات پر عنایہ کا سیروں خون جلا۔ اذلان کا غصہ وہ برتنوں پر نکال کر دل ہی دل میں اسے صلواتیں سنانے لگی۔اسامہ پانی کا بوتل فریج سے نکال کر چلا گیا۔تو عنایہ نے ہاتھ میں پکڑا باؤل اسکی طرف پھینکا جسکو کچن میں داخل ہوتے آہل نے پھرتی سے کیچ کرلیا۔ ورنہ آج تو اذلان کا سر لازمی پھٹ جاتا۔
" کیا ہو رہا ہے یہ؟؟ آہل نے تیکھے چتونوں سے دونوں کو گھورا۔ جبکہ اذلان نے بھاگ جانے میں عافیت سمجھی۔
" عنایہ شوہر پر ہاتھ نہیں اٹھاتے۔" آہل نے ایک تیز تند سلگتی نظر عنایہ پر ڈالی۔
" آپ ہاتھ اٹھانے سے منع کر رہے ہیں میرا دل چاہتا ہے میں ان کا سر پھاڑ دوں ۔ ان کو بھی کچھ بول دے نا کہیں بھی شروع......"
" عنایہ مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی۔" آہل کے پیچھے عجلت میں اندر داخل ہوتی زر نے اس کی بات کاٹ دی۔
" ایک منٹ زر...!! یہ کچھ بولنے والی تھی۔ بات تو مکمل کر لینے دو۔ " آہل نے زر کے بازو پر گرفت بنایا تو اذلان کے منہ کے زاویے بگڑے۔
" یہ ان دونوں میاں بیوی کے آپس کا معاملہ ہے نا۔ آپ چھوڑے انہیں۔ کیوں بیچ میں ٹانگ اڑا رہے ہیں" زر نے انہیں آنکھیں دکھائی۔ اور عنایہ کو اپنے ساتھ لیکر چلی گئی تو اذلان نے شکر کا کلمہ پڑھا۔
"شادی ہونے تک عنایہ سے دور رہ۔" اذلان کے قریب آکر آہل کا لہجہ یکایک سرد ہوا۔
" آپ نے بھی تو شادی سے پہلے میری بہن کو اپنے روم میں شفٹ کردیا ہے۔ یہ پابندیاں آپ پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ میں تو بس بات کرنے آیا تھا۔" اذلان کو اچھی خاصی تپ چڑھ گئی۔
" میں نے بولا تین دن تک تم مجھے عنایہ کے آس پاس بھی دکھے نا تو یہ شادی میں نے پوسٹ پونڈ کروادینی ہے۔" آہل کے تیوری کے بل نمایاں ہوگئے۔
" ہاں تب تک زر بھی آپ....... " اذلان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اس نے ایک ہاتھ سے بے اذلان کی گردن دبوچی۔
" مجھے روکنے کی کسی کی اوقات نہیں۔ اگر زر کے لاڈلے بھائی نا ہوتے تو اب تک تمہاری روح پرواز کر چکی ہوتی۔ " آہل نے اسکی گردن پر دباؤ ڈالا تو وہ کھانسنے لگا۔
" آہل !! یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ چھوڑے انہیں. جان نکال دیں گے کیا." عنایہ جو چولہا بند کرنے واپس آئی تھی۔ آہل کی اس قدر بے رحمی پر اسکا پورا وجود سن ہوا اور دونوں کے درمیان کھڑی ہوکر اہل کے ہاتھوں سے اذلان کی گردن چھڑا لی۔ تو اذلان کی آنکھوں کی چمک گہری ہوگئی۔ اور لب بے ساختہ مسکرا دئے۔
" میری مرضی جانے بغیر آپ نے میرا رشتہ اذلان سے طے کیا تھا. اب اگر میری زندگی کی ڈور ان کے ہاتھوں تھمائی ہے تو میری خواہش ہے کہ آپ ان کو وہی عزت وہی مان دے جو آیک داماد ڈیزرو کرتا ہے۔ ناکہ اسطرح گریباں پر ہاتھ ڈال کر رغب جماتے ہیں۔" عنایہ کے لہجے میں خفگی نمایاں تھی۔ جبکہ آہل اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہوا تھا۔ وہ صرف عنایہ کو پرکھنا چاہتا تھا کہ وہ اس رشتہ پر صرف سمجھوتہ تو نہیں کر رہی۔ اب وہ عنایہ کی طرف سے مطمئن تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
"آپ تو میرے بھائی کے پیچھے ہی پڑ گئے۔ مطلب حد ہوگئی۔ اپنے لئے کوئی رولز ریگولیشن نہیں۔ اور دوسروں کو اپنے اشاروں پر نچاتے ہیں اپ۔ کیا دقت ہے آپکو, اگر وہ عنایہ کے ساتھ تھوڑا ٹائم سپنڈ کرنا چاہے تو کیا قباحت ہے۔ اپنا وقت بھول گئے۔ ایک منٹ چین سے نہیں رہنے دیتے مجھے۔ " اہل کا کوٹ اتارتے وہ مسلسل دل کی بھڑاس نکال رہی تھی۔
" مطلب پیار میں بھائی کا پلڑا بھاری ہے۔ شوہر سے زیادہ بھائی سے محبت جتائی جارہی ہے۔" آہل نے کلائی کو گھڑی کے بوجھ سے آزاد کرتے طنز کا تیر اچھالا۔
" مجھے صرف ہمدردی ہے ان سے۔ آپ کیوں ان کے جذبات کیساتھ کھیل رہے ہیں۔ عنایہ چاہنے لگی ہے بھائی کو۔ دونوں کو سپیس دو۔ تاکہ ایک دوسرے کو سمجھے۔ مگر آپکے منطق میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ رقیبوں والی رگ کہاں سے پھڑک رہی ہے" شکوہ کناں نظروں سے آہل کو دیکھ کر وہ اس کے کپڑے نکالنے لگی ۔ کہ موبائل رنگ ٹون پر زر نے دانت کچکچائے۔
" سر!! برائیڈل ڈریس زر اور عنایہ کا سیم ہوگا یا پھر الگ الگ ڈیزائینر کی خدمات لینی پڑے گی۔" آہل کے پی اے شہری سلام و دعا کے بعد ڈائیریکٹ مدعے پر ائی۔
" ہاں سیم ہی ہونی چاہئے۔ مگر عنایہ کو ڈارک پرپل کلر پسند ہے۔تو اسکی پسند کا خیال رکھا جائے۔ اور میری پسند سے تم واقف ہو۔" آہل دانستہ سسپنس کریٹ کرنے لگا۔زر جو کان لگا کر کھڑی تھی اس کے لاپروا انداز پر پیچ و تاب کھا کر رہ گئی۔
" ناک چھوٹی ہوجاتی موصوف کی, اگر مجھ سے جھوٹے منہ میری پسند پوچھ لیتے۔" وہ زیر لب بڑبڑائی۔
وارڈروب سے آہل کا ڈریس نکال کر وہ واش روم کی طرف بڑھنے لگی کی آہل نے اس کی کمر کے گرد حصار بنایا۔
"اپنے سوچوں کو منفی سمت دوڑانے کو لگام دے مسز!! مجھے بھلا کیا اعتراض ہوگا دونوں کے پاس آنے سے۔ میں ٹہرا تھوڑا سرپھرا بندہ ۔ اپنے طریقے سے جانچ پڑتال کرتا ہوں۔ اذلان میری چوائس تھا۔ اس کے جذبات سے سب واقف تھے۔ مگر میں شادی ہونے سے پہلے عنایہ کے دل تک رسائی چاہتا تھا کہ نکاح کے بول کتنے حد تک پنجے گاڑ چکا ہے۔ یقین رکھو مجھ پر۔" زر کے کندھے سے دوپٹہ ہٹا کر وہاں اپنے لب نرمی سے رکھے۔ جبکہ زر کے اعصاب ڈھیلے ہوگئے۔
" آپ کی کپڑے نکال دیے۔ جاکر فریش ہو جائے" انہیں پٹری سے اترتا دیکھ وہ جزبز ہوتی گویا ہوئی۔
"بلکل بھی نہیں۔ ابھی تو تم سے ملنے لگا ہوں ۔یہ وقت میرا ہے تو مجھے کھل کر جینے دے
۔۔" زر کے گرد حصار مضبوط کرکے اسکے گال کیساتھ اپنا گال رب کرتا اسکی بیوٹی بون ہر انگوٹھا مسلتا ہوا اسکی دھڑکنیں بے ترتیب کرگیا۔ جبکہ آہل کے ہاتھ کو جھٹکے سے ہٹا کر وہ اسکی سمت رخ موڑ کر اسکے سینے سے لگ گئی۔ تو آہل کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ رقص کرنے لگا۔
" آہل تم پر جی جان سے فریفتہ ہوچکا ہے مسز آہل.!! اب تو تمہیں ان کی شدت بھری قربتیں جھیلنے کے لئے کافی حوصلہ درکار ہے۔میں چاہتا ہوں تم ہر لمحے میرے پاس رہو۔ مجھے دیکھو تاکہ میرے بچے پر میرا رنگ ذیادہ چڑھے۔" آہل اسے سینے سے لگائے بیڈ تک لے ایا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ماضی۔۔۔۔
" نانا سرکار !! کہاں گئی آپکی لاڈلی پوتی؟؟ ساری لڑکیاں تو نکل گئی۔ انکو پک کرنے کے چکر میں مجھے دیر ہو جائے گی " آہل ماتھے پر لاتعداد شکن ڈالے بار بار کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھ رہا تھا۔۔
" لو ۔آگئی وہ ۔ " دور سے زرعونہ کو دوسری لڑکیوں کے ہمراہ آتے دیکھ کر نانا سرکار کی خوشی سے بھرپور آواز سماعتوں میں پڑی۔ لمحے کی دیر تھی اہل کی نظریں سامنے گئی تو سیاہ شلوار قمیض پر سیاہ شیشوں والا کشمیری شال پہنے اپنے خوبصورت قد و قامت اور بے انتہا حسن سے مالا مال زرعونہ پر نظر پڑتے ہی آہل کی دھڑکنوں میں تلاطم برپا ہوگیا۔ دھوپ کی تمازت سے رخسار کافی حد تک گلابی پڑ چکے تھے۔ اپنے دادا سرکار کو گاڑی کے فرنٹ سیٹ پر براجمان دیکھ کر زرغونہ گاڑی کے قریب ائی۔ اور بیک ڈور کھول کر اندر بیٹھ گئی۔
" کیسا رہا پیپر؟؟ عالم میر نے پوتی پر شفقت بھری نظر ڈال کر استفسار کیا۔۔
" اوٹ سٹینڈنگ دادا سرکار !! ان شاءاللہ اس بار بھی آپکی پوتی ہی ٹاپ کرکے اپنے دادا سرکار کا نام روشن کرے گی۔" زر نے گردن اکڑا کر تفاخر سے کہا۔ مگر بیک ویویو مرر میں ڈرائیور کی جگہ کسی انجان کو بیٹھے دیکھ کر اسکی چلتی زبان کو بریک لگ گئی۔ کیونکہ اسی وقت ڈرائیو سیٹ پر موجود شخص کی گرے پرکشش آنکھیں شیشے میں نظر آتی آنکھوں سے ٹکرائی تو زر نے جلدی سے نگاہوں کا زاویہ تبدیل کیا۔ کیا دادا سرکار نے ڈرائیو تبدیل کردیا ہے۔ مگر یہ تو کہی سے بھی ڈائیور نہیں لگ رہا۔ اس نے ایک بار پھر بلا ارادہ نظریں مرر پر ٹکا دی۔ وسیع پیشانی پر بکھرے کالے بال, شرٹ کے آستین کہنیوں تک فولڈ کئے, بالوں سے بھرے سرخ و سفید کلائی پر بیش قیمت گھڑی پہنے, کہیں سے بھی ڈرائیور لفظ اس پر چج نہیں رہا تھا۔ جبکہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹا شخص کنپٹی سہلاتا ہوا مضطرب انداز میں گاڑی چلا کر اس کے حرکات و سکنات کو بخوبی نوٹ کر رہا تھا ۔
" دادا سرکار ہمارا ڈرائیور کہاں ہے؟؟ اپ نے دوسرا ڈائیور کب ہائیر کیا ہے۔" زر سے مزید برداشث نہیں ہوا تو پوچھ لیا۔ جبکہ اپنے لئےڈرائیور کا لفظ سن کر آہل نے ایک جھٹکے سے گاڑی روک دی۔ اور ایک سلگتی نظر پیچھے سیٹ پر بیٹھی زر ہر ڈالی اور پھر خفگی بھری نظر پاس بیٹھے اپنے نانا پر۔ کہ دیکھو اتنے خوبرو نواسے کو ڈرائیور بنا دیا۔
" ہاہاہاہاہاہاہا ... دادا سرکار کا قہقہ بے ساختہ تھا۔ اسے بھی تھوڑی شرارت سوجھی۔
" میں نے سوچا اشرف بابا اب بوڑھے ہوچکے ہیں تو اس کی جگہ کسی جوان ڈرائیور کی خدمات لی جائے۔ کیوں تمہیں پسند نہیں آیا۔؟؟
" نن۔نہیں دادا سرکار!! وہ ایسے ہی بول دیا۔ آج سے پہلے انہیں کبھی نہیں دیکھا نا۔ اور لگ بھی تو ڈرائیور نہیں رہا۔" بے اختیار زر کی زبان پسلی اور چہرہ حفت سے سرخ ہوگیا۔ جبکہ آہل کا دل چاہا اسکے گال پر بکھرے رنگ کو اپنی انگلیوں سے چھو کر دیکھے کہ یہ قدرتی رنگ ہے یا خوبصورت دکھنے کے لیے مصنوعی رنگ چڑھایا ہے۔ پھر اپنی سوچ پر ہزار بار خود کو کوسا۔
" ہاں تو آپکے دادا سرکار کا ڈرائیور ہے , بندے میں کچھ تو الگ اور خاص دکھنا چاہئے نا۔" آہل کے خوبرو چہرے کے جازب غضلات بری طرح تن گئےتو دیکھ کر دادا سرکار نے مزید اسے سلگایا۔
" آہل یزدان!! آہل یزدان نام ہے میرا میڈم!! اور میں کوئی ڈرائیور نہیں بلکہ ملک کے نامور شخصیات میں میرا شمار ہوتا ہے۔ اور جس گاڑی کو تم اپنے دادا کی جاگیر سمجھ رہی ہوں یہ میری انتہائی ذاتی ملکیت ہے۔ وہ تو تمہارے دادا سرکار کی گاڑی راستے میں خراب ہوگئی تھی۔ اور لفٹ مانگنے کھڑے تھے تو مجبور بزرگ سمجھ کر میں نے انہیں لفٹ دی۔" اہل نے براہ راست اسکی آنکھوں میں جھانک کر کہا تو وہ گڑبڑائی جبکہ عالم میر کا چہرہ اس قدر حجالت پر سرخ ہوگیا تو اہل نے آنکھ کا کونا دبا کر نانا کو اچھا خاصا بدمزہ کر انہیں یہ باور کروایا کہ آپ کا ہی نواسہ ہو۔ اپ کا کھیل آپ پر الٹ کردیا۔
" ناہنجار!!
جبکہ دونوں کے مابین لفاظی جنگ سے قطعی انجان زرغونہ کو اس پل بڑا اشتیاق ہوا کہ کاش وہ یہ چہرہ دیکھ پائے۔ مگر آہل یزدان کے شیطانی دماغ میں اس وقت صرف ایک بات گردش کر رہی تھی۔ ایاز میر کی بیٹی۔۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کل ایپیسوڈ تیار تھی مگر یہاں نیٹ کا کچھ ذیادہ برا حال ہے۔

Comments
Post a Comment