Skip to main content

Posts

Showing posts from July, 2025

روح یارم

میرا دل تم پے قربان

EPISODE=1&2 لے جائے گے لے جائے گے دل والوں دلہنیاں لے جائے گے ماہی مسکراتے ہوئے گنگناتے ہوئے روم میں داخل ہوئے   کچھ شرم کرو ماہی جب دیکھو گاتی رہتی ہو پتا نہیں کس پر چلی گئی ہو زویا ماہی کو گاتے دیکھ کر غصے سے بولی  ارے کیا ہو گیا ہے زویا شادی والا گھر ہے ناچ گانا تو ہوگا نہ تم کیا چاہتی ہو سوگ منانے لگ جائے ماہی منہ بناتے ہوئے بولی  استغفرالله ماہی تم سے تو اللّه ہی بچائی زویا نے کانو کو ہاتھ لگا کر کہا  جس پر ماہی کا قہقہ پورے روم میں گونجا جب ک زویا تو گھورتی ہی رہ گئی  پھر تو تمہاری دعائیں قبول ہو گئے ہے  اللّه نے تمہاری مجھ سے جان چھڑالی ہے اس لیے اب تمہاری شادی ہو رہی ہے ماہی نے ہنستے ہوئے  زویا کے گال کھینچتے ہوئے کہا جس پر زویا نفی میں سر ہلانے لگی  ارے تم دونوں یہاں پر بیٹھی باتیں کر رہی ہو پتا ہے نا پھپھو آ رہی ہے تیاری ہی کرلو روحان کمرے میں آتے ہوئے بولا  اہ میں آ ہی رہی تھی باہر اس ماہی کی بچی نے مجھے باتوں میں لگا لیا زویا اپنے سر پر ہاتھ مارتے کمرے سے نکل گئے  بھائی میں بھی ایئر پورٹ آپ ک ساتھ جاؤ گی پھوپھو کو لی...

Novel Name میرے نصیب

EPISODE=7&8 " تم مجھے اگنور کیوں کر رہی ہو. اتنی اکڑ کس بات کی ہے تمہیں ۔کب سے وضاحتیں دے دے کر تھک گیا میں. کہ مجھے جہیز وغیرہ میں کوئی انٹرسٹ نہیں۔ یا پھر تم نے کسی اور کو اپنے اداؤں کا اسیر بنایا ہے. کوئی اور مجھ سے بہتر مل گیا ہے. یا مجھ سے امیر باپ کی اولاد کو جال میں پھنسایا ہے۔ تم جیسی یتیم لاوارث لڑکیوں کا تو کام ہی ......." " چٹاخ!!!!!!!  فضا میں تھپڑ کی زوردار آواز گھونجی۔ " میں سحر یزدان ہو. کس نے بولا میں دو ٹکے کی لڑکی ہوں. یتیم ضرور ہوں مگر لاوارث نہیں. ایک شہزادے کی بہن ہوں. جو میری ماں,  میراباپ, بھائی دوست سب کردار خوش اسلوبی سے نبھا کر مجھے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھتے ہیں۔ زمانے کے گرم سرد ہوا سے بچا کر رکھتا ہے۔ آہل یزدان کی بہن ہوں میں.  تم جیسے بدتمیز, بد اخلاق اور لالچی انسان کو میں جوتی کی نوک پر رکھنے کی روداد نہیں۔ میرے بھائی نے تمہیں پرکھنے میں کوئی غلطی نہیں کی. تم جیسے سڑک چھاپ غنڈے موالی جیسے لڑکوں کو وہ ایک نظر دیکھ کر پہچان لیتا ہے۔"  سحر نے ہنکارا بھر کر استہزائیہ لہجے میں اسے آئینہ دکھایا۔ جو روز کی طرح آج پھر سحر کے پیچھے کا...

Novel Name میرے نصیب

EPISODE=5&6  " میں مر جاؤں گی آہل!! آپکی ںےرخی برداشت کرتے کرتے اتنی نہیں ٹوٹی, جتنی تمہارے دور جانے سے بکھر جاؤں گی."  زر کی آواز ایسی تھی جیسے کسی گہرے کھائی میں گری ہو. "اور اگر تم آج چلی گئی تو میں جیتے جی مر جاؤں گا." آہل اسکے پاس آکر دوزانو بیٹھ گیا اور اسے سینے سے لگا کر خود میں بھینچا۔ "مجھے ضرورت ہے تمہاری !! تھک گیا ہوں خود سے لڑتے, حالات سے لڑتے. اگر تمہیں تکلیف دی ہے تو کم اذیت میں میں بھی نہیں تھا." آہل کے لہجے میں ایسی تڑپ تھی کہ زر کی نظریں اٹھی اور مقابل کی شدت سے سرخ آنکھوں سے ٹکرائی. "بہت ضدی ہے آپ !! زر نے ہتھیار ڈال دئیے. سچ تھا وہ خود آہل سے دور جانا نہیں چاہتی تھی۔ وہ اس کے پیروں میں اپنی محبت کی زنجیریں ڈال کر اسے فتح کرکے قید کرنا چاہتی تھی. کسی بہکتے ہوئے لمحے کے نظر ہوکر خود کو گنوانا نہیں چاہتی تھی . مگر ایک تو یہ ظالم سماج والے, اور دوسرا اپنی بہن کے جذبات جان کر اسکے دل میں خدشات نے جنم لیا تھا۔ آہل اسے واپس بیڈ تک لے آیا. اور بلینکٹ دونوں کے اوپر ڈال کر اسے خود میں سمیٹ لیا اور اس کے ماتھے پر لب رکھ کر اس پر گھیرا مزی...