EPISODE=11,12&13
موم!!!!! آہل نے عاتکہ کو باہوں میں بھر لیا اور انہیں پاس پڑے صوفے پر احتیاط سے لٹا کر اسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکا چہرہ تھپتھپانے لگا۔ جبکہ آہل کے منہ سے سننے والے لفظ 'موم' پر حویلی والے حیرت اور بے یقینی سے ششدر رہ گئے۔ پورے حویلی میں جیسے موت کا سناٹا چھا گیا۔
" آہل بھائی پانی!! اذلان نے پانی کا گلاس اس کے آگے کردیا ۔ تو آہل نے جھٹ سے گلاس میں انگلیاں ڈبو کر عاتکہ کے چہرے پر پانی کی چھینٹیں مارے۔
"موم آنکھیں کھولے پلیز!! . آہل کی گھٹی گھٹی آواز حلق سے نکل آئی۔اردگرد سے بے نیاز وہ عاتکہ کے چہرے پر جھکا۔ بے اختیار اسکے نم رخسار پر لب رکھ گیا۔ پھر کسی کو بھی سوچے سمجھنے کا موقع دئیے بغیر وہ دوبارہ عاتکہ کو باہوں میں بھر کر باہر کی طرف بھاگا کہ سلطان میر کے سامنے قدم ٹھٹھکے ۔
" دعا کرنا سلطان میر!! میری ماں کو کچھ نا ہو ورنہ حویلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا میں۔ ایسی بھیانک موت دوں گا تم سمیت ان سب کو جو میری ماں کو تکلیف دینے کا باعث بنے۔ آخری رسومات کے لئے تمہارے ٹکڑے بھی نہیں ملیں گے۔" آہل کی پھنکارتی آواز میں ایک وحشت تھی کہ سب سہم گئے۔ آہل کے پیچھے اذلان اور حدید بھی برق رفتاری سے نکل گئے۔
" یہ کیا اول فول بک کر گیا ہے۔ دماغی توازن تو بگڑ نہیں گیا ہے۔" پیچھے حویلی میں صرف خواتین اور ایاز میر, سلطان رہ گئے تو دونوں بھائی بیٹھک میں چلے ائے۔ ایاز میر نے استفہامیہ نگاہوں سے سلطان میر کو دیکھ کر زہرخند لہجے میں پوچھا۔
" پتہ نہیں بھائی صاحب!! میں تو خود حیران ہوں. عاتکہ کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ یہ بیٹا کہاں سے آگیا جو ڈنکے کی چوٹ پر اسے ماں کہہ کر ہمیں انگلی دکھا کر چلا گیا؟؟ سلطان میر نے داڑھی کجھانے ہوئے کہا۔
" تم نے تو پوری چھان بین کی تھی نا آہل کی۔ کہ اسکے آگے پیچھے کوئی نہیں۔ اور عاتکہ کے اس عاشق کے گھر بھی تم خود گئے تھے۔" ایاز میر کی آنکھوں سے نفرت آمیز شرارے نگل رہے تھے۔۔
" جی بھائی صاحب!! میں خود گیا تھا اپنے ساتھیوں کے ہمراہ. اور پوری تسلی کرکے واپس لوٹا تھا۔ عاتکہ کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ اس کا افئیر چل رہا تھا۔ جبکہ بابا سرکار بھی سب کچھ جانتے تھے۔ اسکی بے جا لاڈ پیار نے عاتکہ کو سرپھرا بنا دیا تھا۔ اس کے عاشق کے ہاتھ پیر تڑوا کر اوپر پہنچانے کا پورا بندوبست کیا تھا میں نے۔ اور اس کی ننھی حسین بہن جو بڑا پھڑپھڑا رہی تھی اس پر بھی ہاتھ اچھے سے صاف کرکے آدھ مرے حالت میں چھوڑ کر آیا تھا۔" سلطان میر اپنے گھناؤنے فعل کو یاد کرکے ایک بار پھر شیطانیت سے مسکرایا۔
" وہ تو ٹھیک ہے مگر یہ لڑکا کون ہے۔؟؟ تم ایک بار پھر سے تفتیش کرلو۔ کچھ تو گڑ بڑ ہے۔ اس لڑکے کی آنکھوں میں انتقام کی شغلے بھڑک رہے تھے۔ جتنا شاطر دماغ ہے اسکا کچھ تو ٹھان لیا ہوگا۔" ایاز میر کا چہرہ آہل کا تنبیہی دو آتشی لہجہ یاد کرکے تاریک پڑ گیا۔
" میں دیکھتا ہوں. مگر مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کچھ ہوگا۔ سب کا دماغی خلل ہوگا" آہل نے واقعی سب کو اچھنبے میں ڈال دیا تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
حویلی میں موجود تمام حواتین لبوں کو مقفل کئے ہال میں ساکت بیٹھی تھی۔ کچھ دیر پہلے جو طوفان آیا تھا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ آہل کا جنونی رد عمل یاد کرکے سب کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے۔
" آپی !! کون ہے آہل؟؟ شزا سے مزید برداشت نہیں ہوا تو زر سے پوچھ لیا۔ جو کب سے پتھریلے تاثرات چہرے پر سجا کر بیٹھی تھی۔
" پھپھو کا بیٹا." زر نے یک لفظی جواب دیا۔
" جہاں تک ہمیں جان کاری حاصل ہے۔ پھپھو کی شادی نہیں ہوئی, تو پھر بیٹا کہاں سے آگیا۔ کیا بغیر شادی۔۔۔۔۔۔۔
" شزا !!! زر کی کاٹ دار آواز نے شزا کو سٹپٹانے پر مجبور کیا۔
" ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے شزا!! حقیقت بھی یہی ہے۔ سالوں سے پھپھو یہاں حویلی میں ہماری نظروں کے سامنے موجود ہے۔ ہم نے تو کبھی اس کے شوہر یا بچوں کو نہیں دیکھا تو یہ اچانک بیٹا یو ٹیوب سے ڈاؤن لوڈ ہوکر اٹپکا ۔" سوہا تو زر کی بے نیازی پر سلگ گئی۔ وہ ثو پہلے سے زر سے سخت نالاں تھی۔ اب موقع ملا تھا دل کا غبار نکالنے کا۔
" تم لوگ ویٹ کرو آہل کے آنے کا۔ سب کو اپنے سوالوں کے جواب مل جائیں گے." زر نے شٹ اپ کال دے دی۔
" کیوں تمہارا شوہر تم سے بھی اپنے راز چھپاتا ہے جو تمہیں بھی نہیں معلوم. یا صرف اپنے نفس کی تسکین کے لئے بیوی بنایا ہے۔ " سوہا اس کا اطمینان دیکھ کر مشکوک لہجے میں گہرا وار کر گئی۔
"سوہا!! ثوبیہ بیگم تو اس کے ڈنک مارتے لب و لہجے پر متعجب تھی۔
" کیا مام!! صحیح تو بول رہی ہوں." سوہا نے نفرت سے پہلو بدلہ.
" عنایہ معافی مانگو ان سے" وہ پہلی دفعہ تھا جب آہل نے عنایہ کو بری طرح لتاڑا تھا.
" آپ مسکرائے پلیز!! بہت پیاری لگ رہی ہے۔
" عنایہ!! آپ کو نہیں لگتا ان لیڈی کے چن پر جو ڈمپل بنتا ہے, ہوبہو آہل بھیا جیسی دکھتی ہے" سحر کی گئی پیشن گوئی نے حواس جھنجھوڑ دیے۔
عنایہ اپنے روم میں آکر جلے پیر بلی کی طرح ادھر اُدھر چکر لگا رہی تھی۔ آہل کی لہو رنگ آنکھیں یاد کرکے اس نے خوف سے جھرجھری لی۔
" مم۔میں نے آہل کی موم سے بدتمیزی کی تھی؟؟ اف میرے اللّٰہ!! میں اپنے اس عمل کا مداوا کس طرح کروں گی۔ ڈفر عنایہ تمہاری کوئی کل سیدھی نہیں" خود کو ملامت کرکے وہ بے دم سی صوفے پر بیٹھ گئی۔
" یا اللّٰہ !! انہیں ٹھیک کردے. میرے آہل کو مزید آزمائش میں مت ڈالے۔ مم معافی مانگ لوں گی ان سے۔" زندگی میں پہلی بار اس نے اللّٰہ کیطرف رجوع کیا۔ وضو کرکے سالوں بعد اس نے جائے نماز بچھا کر نیت باندھ لی۔ اس کامل یقین کیساتھ کہ دعا کی قبولیت کا دروازہ صرف اللّٰہ کے سامنے سر بسجود ہونا ہے۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
"پیشنٹ سے رشتہ!!! ڈاکٹر نے اپنے مخصوص پیشہ ورانہ انداز میں ایمرجنسی سے اضطرابی کیفیت میں باہر پریٹ مارتے ہوئے آہل سے پوچھا جو چند سیکنڈز میں ڈاکٹروں کی دوڑیں لگوا کر ایمرجنسی میں بھیج چکا تھا۔
" ماں ہے میری.. وہ ٹھیک تو ہے نا۔ بے ہوش کیوں ہوئی تھی." ایک ہی سانس میں وہ سوالات کی بوچھاڑ کرگیا۔
" جی ان کی حالت اب بہتر ہے۔ مگر انہوں نے کسی بات کا بہت ذیادہ سٹریس لیا ہے۔ بی پی بھی شوٹ کرگیا ہے۔" ڈاکٹر نے تحمل سے جواب دیا۔
" ڈاکٹر صاحب!! کیا ہم مل سکتے ہیں۔؟؟ آہل کو ضبط سے مٹھیاں بھیجتے دیکھ کر اذلان نے پہل کی۔
"آفکورس!! انہیں وارڈ میں منتقل کردیا گیا ہے۔لیکن کوشش کیجئے گا کہ انہیں جن باتوں سے دھچکا لگا تھا اس کے سامنے وہ باتیں دہرانے سے گریز کیا جائے۔" ڈاکٹر ہدایات دیکر چلا گیا۔ تو تینوں اندر داخل ہوئے۔
" پھپھو کیسی ہیں آپ !! سب سے پہلے حدید عاتکہ کے قریب گیا۔ اور اسکے گرد بازوؤ پھیلا کر اسکے سر پر لب رکھے۔
" مم۔ میں ٹھیک ہوں بیٹا!! وہ میرا آہل؟؟؟ اس نے کن اکھیوں سے حدید اور اذلان کو دیکھ کر حفت سے آنکھیں چرا لی۔
" وہ بھی ادھر ہی ہے۔ دونوں نے پیچھے دروازے کے قریب شکستہ حالت میں کھڑے آہل کی طرف دیکھا جو مضبوط قدم اٹھا کر قریب آیا۔
" آہل میرا بچا!! عاتکہ کے لبوں سے سرسراتی سرگوشی نکلی۔ اس نے دونوں بازوؤں واہ کرکے تڑپ سے پکارا تو اہل ان کی مخدوش بکھری حالت دیکھ کر اس کے ناتواں بازوؤں میں سما گیا۔ عاتکہ بے قراری سے اس کے چہرے پر جابجا اپنی ممتا نچھاور کرکے برسوں کی تشنگی مٹانے لگی۔ اپنے چہرے پر مہربان نرم لمس محسوس کرتے آہل کے تڑپتے دل کو ٹھنڈک مل گئی
" موم !! وہ تھک کر آہل کے سینے سے لگی تو اہل نے بے ساختہ اسے اپنے چوڑے سینے میں بھینچ لیا۔اور اس کے سر پر پیار کیا۔
" تم وعدہ کرو, مجھے چھوڑ کے کبھی نہیں جاوگے۔" عاتکہ نے پھر سے اس پر پیار کی برسات شروع کردی۔ تو آہل کا دل پل بھر کو سکڑا۔
" پرامس موم!! آپکو مزید ان سفاک لوگوں کے رحم وکرم پر چھوڑ کر نہیں جاؤں گا"۔ آہل نے اس کے بہتے آنکھوں پر اپنے لب رکھے۔
" اذلان !! تم جاکر ڈسچارج پیپرز تیار کروالو۔"
" جی !! وہ حدید کو ساتھ لیکر وارڈروم سے نکل گیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
عاتکہ کو حویلی لا کر وہ چینج کرنے اپنے روم میں چلا ایا۔ دروازہ کھول کر اندر قدم رکھے کہ غیر ارادی طور پر نظر سامنے صوفے کی پشت پر سر رکھے آنکھیں بند کئے عنایہ پر پڑی تو چونک گیا۔ قدم پل بھر کو ساکت ہوگئے۔ خوشگوار تاثرات لئے اس نے آہستہ سے دروازہ بند کردیا اور دبے قدموں عنایہ کے قریب آکر اس کے سراپے پر ایک طائرانہ نظر ڈالی۔
" ڈارک چاکلیٹ کلر کے نماز اسٹائل دوپٹے کے ہالے میں سفید چہرے پر الگ قسم کا سکون تھا۔ جو اذلان کی دھڑکنوں کو منتشر کر گیا۔
"عنایہ!! اس نے اپنے دل کے بے ہنگم شور کو دبانے کے لئے اسے ہولے سے پکارا۔ کیوں کہ جس انداز میں وہ صوفے پر بیٹی تھی۔ اگر مزید تھوڑی دیر اور سوتی رہی تو گردن ایک طرف لڑھک سکتی تھی۔
" آ آپ آگئے." خود پر جھکتے اذلان کو دیکھ کر وہ اچھل کر سیدھی ہوئی۔ جبکہ اذلان اس کی دھوپ چھاؤں جیسی عادت پر متخیر آنکھیں پھیلائے سن ہو گیا, جس نے تم سے آپ تک کا سفر بہت جلدی طے کیا تھا۔ جو اذلان کے لئے کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔
" جی !! اذلان کے ہونٹ مزید کچھ کہنے سے انکاری ہوگئے۔ کیونکہ وہ ابھی اسے اپنا الوزن سمجھ رہا تھا۔ جبکہ عنایہ کو استحقاق کی ساتھ اپنے روم میں کھڑے دیکھ کر اس کا انگ انگ پرسکون ہوگیا۔
" وہ موم۔۔۔۔۔ مم۔ میرا مطلب آپکی پھپھو کی طبیعت کیسی ہے؟؟ عنایہ نے بے چینی سے اذلان سے استفسار کیا جس کے چہرے پر گہرے صدمے کی پرچھائیاں تھی۔
" بہتر ہے اب۔ ڈسچارج کرکے لے آئیں ہیں انکو." اذلان نے اس کے چہرے پر فکر و الم کی داستان دیکھی۔
" تمہیں کیا ہوا؟؟ اچانک سے عنایہ کے رخسار پر آنسو کی لڑیاں بہنے لگی تو اذلان نے اسکے تر رخسار پر بے چینی سے اپنا ہاتھ رکھا۔
" یہ سب میری وجہ سے ہورہا ہے نا۔ سب کی زمہ دار میں ہوں۔۔نا میں یہاں آتی نا, نا آپ کو مجھ سے زبردستی نکاح کرنا پڑتا اور نا آپکی پھپھو میرے لئے آواز اٹھاتی نا ان کی طبیعت بگڑتی." وہ ہچکیوں میں روتی ہوئی خود کو کوسنے لگی۔اس کی اس قدر شدت سے رونے پر اذلان کو لگا جیسے اسکے پورے وجود کو کسی سے آری سے چھیر لیا۔
" کچھ بھی تمہاری وجہ سے نہیں ہوا۔ بار بار خود کو اذیت دینا بند کردو۔" اذلان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جاکر اپنے چاچا کا جسم گولیوں سے چھلنی کردے جو صنف نازک کے ساتھ اس طرح بے رحمی سے پیش آتا تھا۔
" تم جاؤ پھپھو سے مل آو۔ دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا." اذلان نے بے چینی اور بے بسی کے ملے جلے کیفیت میں اسکا گال سہلایا۔ وہ خود اہل کے منہ سے اتنا بڑا انکشاف سن کر شاکڈ تھا۔ اور پھر عاتکہ کی تڑپ اور بے قراری, اور اس کے منہ سے اقرار سن کر تو جیسے بات پر پکی مہر لگ گئی کہ آہل عاتکہ کا ہی بیٹا ہے۔ وہ یقین اور بے یقینی کی بھنور میں پھنس چکا تھا۔
"عنایہ!! اچانک کچھ سوچ کر اس نے عنایہ کے بڑھتے قدموں کو روکا.
" ہاں! وہ جو عاتکہ سے ملنے جارہی تھی۔ اذلان کے پکارنے پر پلٹ کر دیکھا۔
" تم جانتی تھی کہ آہل پھپھو کا بیٹا تھا؟؟
" نہیں!! مجھے بھی آج ہی معلوم ہوا ہے." وہ بہت باریک بینی سے عنایہ کے چہرے کو کھوجتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ جس پر کسی قسم کے جھوٹ کا شائبہ تک نہیں تھا۔
" ہممممم!! ٹھیک ہے تم جاؤ." اس نے بوجھل طبیعت کے ساتھ کہا۔
عنایہ ہال میں آئی تو سب عورتوں کو عاتکہ کے ارد گرد بیٹھے دیکھ کر وہ بھی اس کی طرف چلی آئی جو پہلے کی نسبت بجھی بجھی سی برسوں کی بیمار لگ رہی تھی۔
" آپ ٹھیک ہیں؟؟ آہل جو عاتکہ کی دوائیاں زر کی سمجھا رہا تھا۔ اس نے ٹھٹھک کر عنایہ کے چہرے پر چھائی فکرمندی اور تشویش کو دیکھا۔
" ہاں میری جان!! میں ٹھیک ہوں. تم ادھر آؤ میرے پاس." عاتکہ نے اسکو اپنے پاس بٹھایا تو وہ غائب دماغی سے اس کے پاس بیٹھ گئی۔
" تمہاری بے غیرتی کی داد دینی پڑے گی. میری پھپھو کی اس حالت کی زمہ دار تم ہو۔ انفیکٹ جب سے تمہارا یہ منحوس سایہ حویلی پر پڑا ہے۔ کچھ بھی صحیح نہیں ہورہا۔ ہماری ہستی بستی زندگی کو ناسور بنا دیا ہے۔ چلی کیوں نہیں جاتی یہاں سے۔ ہم سب کی خوشیاں کھا گئی تم..." ابھی وہ عاتکہ سے معذرت کرنے کے لئے الفاظ کا چناؤ کر رہی تھی جو اس کے لئے کسی پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنے کے مترادف تھا۔ کہ شزا نے آکر زور سے اس کا بازو دبوچا اور جھٹکے اسے عاتکہ کے پہلو سے اٹھا کر پیچھے کی طرف دھکیلا کہ زمیں بوس ہونے سے پہلے دو مضبوط ہاتھوں نے اسے سنبھال لیا.
" شزا.....!! حدید عنایہ کو اپنے بازؤں کے حلقے میں لیکر شرر باز نگاہوں سے شزا کو دیکھنے لگا۔
عنایہ جو ٹوٹی شاخ کیطرح حدید کے سینے سے لگی تھی. خود کو چھڑانے کے لئے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر روتی ہوئی فاصلہ بنانے لگی کہ حدید نے اسکی کوشش ناکام بنا دی اور اسے خود سے لگایا تو اس منظر نے شزا کے پورے وجود کو جلا کر راکھ کردیا۔۔ جبکہ آہل سینے پر ہاتھ باندھے زیرلب مسکرایا۔ ( اب آئے گا مزا)
" سب کو اپنی بےہودہ اداؤں کا گرویدہ بنا لیا ہے نا تم نے۔ پہلے مجھ سے میرے بچپن کی محبت چھین لی۔ اب میرے بھائی پر ڈورے ڈال رہی ہو. شرم نام کی کوئی چیز ہے تم میں۔" شزا تحقیر آمیز لہجے میں کہہ کر اس کے قریب آئی۔ کہ اچانک عنایہ کا ہاتھ اٹھا اور اس کے چہرے پر گہرا چھاپ چھوڑ گیا۔ سب ہکا بکا رہ گئے عنایہ کی جرات پر۔
" جو کبھی تمہارا تھا ہی نہیں تو اس لیکر اتنی برہم کیوں ہو رہی ہو۔ یا ذیادہ غم اپنے ریجکٹ ہونے کا لیا ہے۔ چلو میں تو ہوں بدکار اور بےہودہ ۔تم کونسا دودھ کی دھلی ہو۔ جو ایک نامحرم کی محبت کا روگ لگایا کر بیٹھی ہو۔ مجھ سے ذیادہ گری ہوئی تو تمہاری سوچ ہے۔ آئیندہ میرے بارے میں بات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا آج تو صرف تھپڑ مارکر منہ بند کردیا, اگلی بار منہ توڑتے ہوئے تھوڑی بھی نہیں ہچکچاوں گی۔" چہرے پر غضب ناک تاثر لیکر اس نے مضبوط لب و لہجے میں کہہ کر خود کو حدید کی گرفت سے چھڑا لیا اور جاکر پورے حق سے عاتکہ کے سینے سے لگی اپنے اندر کے اشتعال کو دبانے لگی۔
" میں نے آنکھ کھولتے ہی جس انسان کو اپنے قریب پایا۔ اپنا محافظ پایا. وہ آپکا بیٹا ہی تھا. اور مجھے یہ اظہار کرنے میں کوئی ہتک محسوس نہیں ہوتی کہ میں آہل یزدان سے محبت کرتی ہوں. مجھے خاندان کا مطلب نہیں پتہ۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم بچوں کی تربیت کن خطوط پر کی جاتی ہے۔ مگر عمر کی سیڑھیاں چڑھتے وقت جب جب میرے قدم ڈگمگائے مجھے آہل نے تھام لیا۔ مجھے زمانے کے گرم و سرد ہوا سے بچایا۔ میرے پاس خاندان کے نام پر صرف ایک ماں تھی وقت کی بے رحم لہروں نے انہیں مجھ سے چھین لیا۔ میں نہیں جانتی میرا باپ کون ہے۔ جب بھی ماں سے پوچھتی اس کے لب مقفل ہوجاتے۔ میں نے کئی بار آہل سے پوچھا کہ ان کی موم کہاں ہے۔؟؟ مجھے موم چاہئے تھی۔ مگر وہ ہر بار یہ کہہ کر ٹال۔دیتا کہ وہ حویلی میں ہے ابھی ملنا ناممکن ہے۔ کونسی حویلی, یہ کبھی نہیں بتایا. میں دس سال کی تھی کہ میرے ساتھ ذیادتی۔۔۔۔۔
"عنایہ..... آہل کی بلند کاٹدار آواز نے اس کو مزید بولنے سے روکا۔
" آج بولنے دو آہل!! اس نے سرخ ڈوروں سے مزین آنکھیں آہل پر گاڑ دی۔ جبکہ آہل نے ضبط سے ہونٹ بھینچے۔
" میری ماں کی ڈیتھ ہوگئی تو دور کی ایک خالہ اپنے ساتھ لے گئی۔ مگر اس کے گھر مجھے عجیب طرح کی بے سکونی تھی۔ خالہ کی غیر موجودگی میں اسکا شوہر مجھے عجیب طریقے سے چھوتا۔ میں اتنی چھوٹی بھی نہیں تھی کہ اچھے اور غلیظ ارادوں میں فرق نا کرپاتی۔ مگر میں اپنی رسوائی کے خوف سے چپ تھی۔ ایک دن تو حد ہی ہوگئی۔ خالہ کی غیر موجودگی میں خالو نے مجھے روم میں بند کرکے میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی۔ میں چیختی چلاتی رہی۔۔ شائید آللہ کو مجھ پر رحم آگیا اور پڑوسیوں نے میری آوازیں سن لی اور دیواریں پھلانگ کر خالہ کے گھر گھس آئے اور مجھے اس حیوان کی حیوانیت سے بچایا۔ تب میرا مرد اور عورت دونوں ذات سے اعتماد اٹھ گیا۔ مجھے آہل اپنے گھر لیکر ایا۔ جو میرے لئے کسی فرشتے سےکم نہیں تھا۔ یہاں بھی میں نے خود کو مارنے کی کئی بار کوشش کی۔ مگر مجھے بچایا جاتا۔ مجھے خود اپنے وجود سے گھن آنے لگتی۔ مگر آہل نے مجھے سمیٹ لیا تھا۔ میرا ان سے اتنا پیار اور دل لگی بجا تھی۔ وہ ہے ہی اس قابل کہ اس سے عشق کیا جائے۔ اب تک میری ہر بدتمیزی کو برداشت کرتا آیا ہے۔ اور میں نے کیا کیا ان کی ماں کی بے عزتی کی۔ جس ماں سے ملنے کی لئے میں ترستی رہی ان کو برا بھلا کہا۔ آپ چاہے تو مجھے سزا دے سکتی ہے۔۔ مگر میں نے ساری عمر کے قیمتی شب وروز ماں کے بغیر گزاری ہے۔ مجھے آپکی شفقت بھری سایے سے محروم نہیں ہونا۔ مجھے آپکے پاس رہنا ہے۔" آخر میں عنایہ کی ہمت جواب دے گئی اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ ہال میں موجود سب خواتین کی آنکھیں بھی نم تھی سوائے شزا کے۔ حدید کو لگا کہ عنایہ کے اتنے بڑے نقصان پر اسکا کلیجہ باہر نکال دیا گیا ہو۔ جب کہ اذلان ضبط کی انتہاؤں پر تھا۔ عنایہ کی خود ترسی اور خود اذیتی کے احساس سے اس کے اندر مسلسل توڑ پھوڑ جاری تھی۔۔ مزید کچھ سننے کی اس میں سکت نہیں تھی تو اپنے روم میں چلا ایا۔
" کس نے کہا میں اپنی بچی سے ناراض ہوں. اور وہ بھی اتنی پیاری بچی۔ نفسیات کی رو سے دیکھا جائے تو جن بچوں کا بچپن ماں باپ کے بغیر گزر جاتا ہے۔ وہ تھوڑے سے سرپھرے اور ادب سے محروم ہوتے ہیں۔ اور ذیادہ تر لوگوں سے بھی بےزار ہوتے ہیں۔ تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کی اصلاح کریں۔ ناکہ نکتہ چینی ۔تمہاری پرورش آہل نے کی ہے۔ جسکے خود کا بچپن بغیر والدین کے گزرا ہے۔ اسلئے تم میں ادب و لخاظ کی کمی ہے ۔ اور یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ کیوں کہ ہمارے گھر میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کی تربیت بہترین خطوط پر ہوئی ہے مگر وہ بھی پست ذہنیت کے مالک ہیں۔" عاتکہ نے تاسف سے اچٹی نگاہ شزا پر ڈالی جس کی آنکھوں میں کانچ جیسی چھبن تھی۔
" عنایہ!! موم کو آرام کی ضرورت ہے۔ باقی باتیں بعد میں۔" آہل نے عنایہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے کہا۔
"جی!! اس نے تابعداری سے سر ہلایا تو زر انہیں لیکر روم میں چلی گئی. آہل بھی اس کے پیچھے چلا گیا۔
ہال میں حدید, عنایہ, سوہا ,اسامہ اور شزا رہ گئے۔
" عنایہ آپی!! مجھے آپ اپنا بھائی بنا لے." سب سے پہلے اسامہ نے ماحول میں چھایا کثافت کم کرنے کے لئے قدم اٹھایا۔
" تم تو دیور ہو نا۔" روانی میں عنایہ کے منہ سے پھسل گیا تو جلدی زبان دانتوں میں دبائی۔
" نہیں !! حدید بھائی دیور کے عہدے پر سوٹیبل ہے۔ " اسامہ نے پہلے سے طے کر رکھا تھا۔
" رشتے جتائے نہیں نبھائے جاتے ہیں۔ مجھے بڑا بھائی چاہیے تھا جو مخافظ بن کر رہے۔ تو یہ رتبہ میں حدید بھائی کو دے چکی ہوں اور وہ ثابت بھی کرچکے ہیں کہ وہ ایک بہترین محافظ ہیں." عنایہ آنکھوں میں ڈھیر سارا پیار سموئے حدید کی طرف بڑھ گئی تو حدید نے اسے گلے لگایا.
" یہ کھلم کھلا بے انصافی ہے" اسامہ نی منہ بسورا۔ تو تینوں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
" عنایہ یہ چائے اذلان کو دے آنا." انیلا بیگم نے حدید اور اذلان کے لئے چائے بنائی۔ حدید نے اپنا کپ اٹھا لیا تو انیلا بیگم نے اذلان کا کپ اسے تھما دیا۔
" جی !! اس نے اثبات میں سر ہلایا
وہ اذلان کے روم میں آگئی تو اذلان روم میں نہیں تھا. واشروم کا ڈور بند تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل کے اوپر کپ رکھ دیا۔ اور صوفے پر بیٹھ کر اذلان کا ویٹ کرنے لگی۔
تھوڑی دیر بعد اذلان فریش ہوکر ٹاول سے بال رگڑتا ہوا باہر نکلا تو عنایہ کو دیکھ کر چلتے ہاتھ رک گئے۔
" آپ کے لئے چائے لے کر آئی ہوں۔" عنایہ نے اپنے آنے کی وجہ بتا دی۔
" تم نے بنائی ہے؟؟ اذلان نے ٹاؤل اسٹینڈ پر ڈال کر متجسس ہوکر پوچھا۔
" نہیں !! چچی سماں نے دے دی." اس نے انیلا بیگم کا حوالہ دیا۔
" تمہیں یقین تھا مجھ پر کہ میں جان بوجھ کر تمہارے روم میں نہیں آیا تھا۔"؟؟ اچانک غیر متوقع سوال پر عنایہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔
" کوئی بھی انسان اپنے ماں کی سر کی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا۔" نا اقرار نا انکار اور اپنی بات کہہ ڈالی۔
" ہممممم.!!! اذلان نے ہنکارا بھرا اور چائے کا کپ اٹھا کر بلکل اسکے قریب صوفے پر بیٹھ گیا۔
"مم میں چلتی ہوں. آپ آرام کرلے." اس کے نگاہوں کے شوخ تقاضوں سے گھبرا کر عنایہ بے ساختہ خود میں سمیٹتی چلی گئی۔
" ابھی تو آئی ہو۔ تھوڑی دیر اور رک جاؤ۔" اذلان نے نرمی سے اسکا بازو پکڑ کر اپنے مضبوط گرفت میں لیکر اپنےقریب کیا تو وہ بے اختیار مچل اٹھی۔
" بب۔باہر سب موجود ہیں." عنایہ نے بوکھلا کر مزاحمت کی۔
" تو؟؟ اب تو پورے جملہ و حقوق تمہارے نام مخفوظ کر چکا ہوں۔ گھمبیر لہجے میں کہتا ہوا اس نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھ دیا۔ اور اسکی گردن کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ عنایہ نے دوپٹے پر گرفت مضبوط کی۔
" اب۔۔ ابھی رخصتی نہیں ہوئی۔ پلیز!!! کانپتے لہجے میں اسے وارن کیا۔
" مجھے خود کو یہ یقین دلانے دو کہ تم میری ہو." اذلان نے بہت نرمی سے اس کے ہاتھ ہٹا کر گردن کو دوپٹے سے ازاد کیا۔ تو اس نے حفت سے آنکھیں میچ لی۔ جبکہ اذلان اسکی گردن پر جھکا اپنے محبت کے لمس سے اسے معطر کرکے خود بھی بہکنے لگا۔
اذ۔اذلان.!!!! گردن پر مونچھوں کی چھبن سے عنایہ نے سسکاری لی۔ اذلان نے اسے صوفے پر لٹایا اور خود اس پر سایہ فگن ہوگیا۔ اور جابجا اس کے وجود پر اپنا مہکتا لمس چھوڑنے لگا۔ آج وہ شاید ساری حدیں توڑ بھی دیتا کہ دروازے پر ہونے والی دستک اسے ہوش میں لے ایا۔ تو وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔ جبکہ خمار آلودہ نظریں عنایہ کے خون چھلکاتے چہرے پر ٹہری جو لمبی لمبی سانسیں لے کر خود کو کمپوز کرنے کی کوششوں میں تھی تو والہانہ انداز میں اسے سینے سے لگایا۔ دوبارہ ہونے والے دستک پر عنایہ اپنی جگہ سے اچھلی۔ اور دوپٹہ کندھے پر ڈال کر عجلت میں دروازہ کھول کر باہر نکلی۔ دروازے میں کھڑا حدید اس کی پھرتی ہر حیران سا اندر داخل ہوا۔
" تم نے کچھ کہا اس سے؟؟ حدید نے تیکھی چتونوں سے صوفے پر بیٹھے اذلان کو دیکھا جو دونوں ہاتھوں کی مدد سے ماتھے پر بکھرے بال سنوار رہا تھا۔
" شوہر ہونے کا ڈیمو دے رہا تھا جو تمہارے بے وقت مداخلت کی وجہ سے نہیں دے پایا۔" اذلان نے خشمگیں نظروں سے اسے دیکھ کر نفی میں سر ہلایا تو حدید کا قہقہ بے ساختہ تھا۔
" میں تو تمہیں بڑا شریف آدمی سمجھتا تھا." حدید نے اسے شرمندہ کرنا چاہا۔
" لیکن بدقسمتی سے میں ہوں نہیں۔" اذلان نے کپ اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا۔
" اب تو یہ چائے کھڑوی ہی لگے گی. " حدید نے مخفوظ لہجے میں کہا تو اذلان نے خونخوار نظروں سے گھورا۔
" بتا بھی دو اب کیوں کباب میں ہڈی بن کر آگئے ۔ اچھے بھلے موڈ کو سپوائیل کردیا۔
" وہ پھپھو کے بارے میں بات کرنی تھی." حدید سس کے پاس صوفے پر بیٹھ گیا۔
" میں بھی اسی کشمکش میں مبتلا ہوں۔ مگر ابھی پھپھو کی طبیعت دیکھ کر پوچھنا گوارا نہیں۔اسلیے کل استقامت سے پوچھ لیں گے۔" اذلان کپ ٹیبل پر رکھ کر سنجیدگی سے گویا ہوا۔
" مگر گھر کے بڑے بزرگوں کا ردعمل کافی جارہانہ ہوسکتا ہے۔ ہمیں ہر طرح کے سچویشن کے لئے خود کو تیار رکھنا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ پھپھو یا عنایہ اس بار پھر کسی کے عتاب کا نشانہ بنے۔" حدید کو اب دونوں کی فکر ستائے جا رہی تھی۔
" ماضی کے بہت سارے باب ایسے ہیں جو ہم سے پوشیدہ رکھے گئے ہیں۔ اور آہل اسی کہانی کا ایک اہم کردار ہے۔ آہل کا یہاں آنا۔ دادا سرکار کا عنایہ اور اہل کا نکاح کروانا اسی کہانی کی ایک کڑی ہے۔ جب تک وہ سارے راز افشاں نہیں ہوجاتے ہم نے خالات کو قابو میں رکھنا ہے۔ " اذلان کے دماغ میں کچھ دیر پہلے والا منظر رقص کرنے لگا جب عنایہ کی ذات پر بار بار کیچڑ اچھالا جارہا تھا۔ اور وہ چاہ کر بھی اس کی تکلیف کم نہیں کرسکتا۔
" اوکے میں چلتا ہوں. اگر تمہیں ڈیمو کمپلیٹ کرنا ہو تو عنایہ کو بھیج دوں." حدید آخر میں پھر شوخ ہوا۔
" نو تھینکس!! اذلان نے سہولت سے منع کردیا۔۔کیونکہ وہ خود کسی کمزور لمحے کے نذر ہوکر عنایہ سے اسکی معصومیت چھیننا نہیں چاہتا تھا.
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
اگلا قسط ماضی کا شروع ہوگا۔ تو جلدی جلدی react کرکے اپنی رائے دے۔ عنایہ کا حویلی والوں سے کیا رشتہ ہوسکتا ہے۔۔زر بیٹا!! میں اب ٹھیک ہوں۔ تم جاؤ اپنے روم میں اپنے شوہر کو دیکھ اؤ۔ کچھ کھایا بھی نہیں میرے بچے نے. عجیب ہٹ دھرمی ہے۔ بندہ ڈپریشن میں بھلا کھانے سے کیوں اختجاج کرتا ہے۔ اسے بتاؤ بھوکے پیٹ دماغ کی بتی نہیں چلتی. برسوں سے سینے میں جلتے انتقام کی آگ کو ہوا دی ہے تو اب اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مناسب ڈائیٹ لو. مجھے تو اس کی خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ لگ رہی ہے۔ " رات کے کھانے کے بعد زر نے عاتکہ کو میڈیسن دی اور اس کے ساتھ ہی لیٹنے لگی کہ عاتکہ نے منع کردیا۔
" پھپھو میں خود عجیب توہمات کا شکار ہوں۔ انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے ہم پھر سے اپنوں سے بچھڑ نا جائے۔ دوسرا آہل جنم نہیں لینا چاہئے۔ " زر تو سوچ سوچ کر ہلکان ہورہی تھی۔ عاتکہ کو میڈیسن دے کر وہ کچن میں آئی اور آہل کے لئے دودھ گرم کرکے لے گئی تو اسے صوفے کی پشت سے سر ٹکائے کال پر کسی سے محو گفتگو پایا۔ صوفے کی بیک سائیڈ پر آکر اس نے آہل کے کندھوں پر بازوؤں ٹکا کر سامنے کیمرے پر نظر ڈالی تو مہد کو دیکھ کر سلام کیا۔
" اسلام وعلیکم مہد بھائی!! کیسے ہیں آپ؟؟
" وعلیکم السلام!! آئی ایم گڈ.. تم کیسی ہوں" مہد نے خوش اخلاقی سے جواب دیا ۔
" میں بھی اچھی ہوں۔۔
" جلدی فنش کریں ." عنایہ نے ہاتھ میں پکڑا گلاس اہل کے منہ سے لگایا۔ تو اس کے چہرے کے زاویے بگڑے۔ جبکہ زر اسے آنکھوں سے تنبیہ کرنے لگی۔
۔
" ہاہاہاہاہاہا... زر یہ کیا کر رہی ہو؟؟ اس کو کھانا کھلا دو یار ۔ جتنی ہیلتھدی اس کی جسامت ہے تو دودھ سے اسے تھوڑا فرق بھی نہیں پڑنے والا۔" مہد نے امڈنے والا قہقہ دبایا۔
" بھائی !! آپکے دوست اب خود باپ بننے جا رہے ہیں مگر ان کی عادتیں دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ ان کی شادی کی عمر نہیں تھی کھیلنے کھودنے کی تھی. " زر نے پھر سے گلاس اس کے لبوں سے لگایا تو وہ ایک سانس میں پی گیا۔
" ڈفر !! تو باپ بننے جارہا ہے اور مجھے بتانے کی زحمت نہیں کی." مہد بپھر گیا۔
" کیا یار !! اتنا الجھا ہوا ہوں یاد ہی نہیں رہا۔" آہل نے ٹشو کے لئے ہاتھ بڑھایا کہ زر نے جلدی سے ہاتھ میں پکڑے ٹشو سے اس کے لبوں کے کنارے صاف کئے۔۔
" جانتی ہو نا تم مجھے دودھ نہیں پسند. مگر تم پھر بھی اپنی ضد منوا لیتی ہو۔ اور یہ کونسا وقت ہے روم میں آنے کا۔ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا مسز ۔ ابھی میں خود آنے والا تھا تمہاری کلاس لینے"۔ الوداعی کلمات کہہ کر آہل نے فون بند کرکے گلاس ٹیبل پر رکھ کر کہا۔
" میں آرہی تھی. پھپھو کو میڈیسن دے رہی تھی۔" عنایہ نے لیٹ آنے کی وجہ بتا دی۔
" سو گئی موم؟؟ آہل نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا۔
"ہاں!! آپکو لے کر کافی وریڈ ہے." آہل کی گود سے لیپ ٹاپ اٹھا کر خود وہاں بیٹھ گئی۔
" ہمممممم..!!! ہونا بھی چاہیے۔ یہ بتاؤ تمہاری طبیعت ٹھیک تو ہے نا۔ میرا بچہ تنگ ونگ تو نہیں کرتا." اس کے کندھے پر ہونٹ رکھ کر استفسار کیا۔
" بچے کا باپ کوئی کسر چھوڑے تو بچہ تنگ کرے گا۔ آپ نے تو قسم کھائی ہے ہمارا سکھ چین برباد کرنے کی. پتہ نہیں کیا کرنے والے ہیں آپ۔ میرا تو دل بیٹھا جارہا ہے۔ نفسیاتی ہوگئے ہیں. کبھی کبھی مجھے بھی آپ سے ڈر لگنے لگتا ہے۔" زر اس کے گردن میں منہ چھپا کر ناراضگی کا برملا اظہار کرگئی۔
" لوگ نفسیاتی اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ انہیں اتنی شدت سے توڑا جاتا ہے کہ وہ جذبات کھو دیتے ہیں۔ مگر ڈونٹ وری۔ تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔ نا اپنے بچے کو۔" آہل اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا۔
" آہل مجھے ہر لمحہ آپ اپنے سامنے چاہئے۔ جس طرح آپ کا بچپن محرومیوں میں گزر گیا۔ میں نہیں چاہتی میرا بچہ بھی آپ کی طرح سفر کرے۔ پلیز چھوڑ دے اپنی ضد." زر اس کے چہرے کو ہاتھ کے پیالے میں لیکر آبدیدہ ہوگئی۔
" یار تم بیویاں نا کبھی کبھی ایموشنل ہوجاتی ہو۔ میں ایک بار کسی چیز کی ٹھان لوں۔ تو نتائج پر دھیان نہیں دیتا۔ مجھے انصاف دلانا ہے۔ اپنی موم کو,اپنی پھپھو کو, عنایہ کو۔ جتنا خسارا ان لوگوں کے حصے میں ایا ہے اس کی تلافی تو ممکن نہیں مگر یہاں تک آکر قدم ڈگمگائے تو کچھ نہیں کر پاؤں گا۔۔ ہمت نہیں ہارنی۔۔ تمہیں میرا ساتھ دینا ہے۔ آہل کا طاقت ہو تم۔" آہل نے اسکے ماتھے پر لب رکھ کر خود سے لگایا۔۔
" مگر میرا بچہ ؟؟ زر نے میکانکی انداز میں پیٹ پر ہاتھ رکھا۔
" بچے کو کچھ نہیں ہوگا۔ میں ہونے ہی نہیں دوں گا۔ بھروسہ ہے نا تمہیں اپنے بچے کے باپ پر." آہل نے اسکے پیٹ کے اوپر رکھے ہاتھ پر بوسہ دیا۔
"ویسے میں نے تو دھیان ہی نہیں دیا۔ تم پہلے سے زیادہ حسین ہوتی جارہی ہو۔ یہ میری قربت کا اثر ہے نا جو دن بہ دن کھلتی جارہی ہو" آہل نے اسکے رخسار پر انگوٹھا پھیرا تو وہ لال گلابی یوگئی۔
" مکھن نا لگائیں. اور بتائے مجھے کونسے معرکے سر کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں آپ کہ اردگرد کا ہوش ہی نہیں۔" زر اسکے ہاتھوں کی گستاخیوں سے بچنے کی کوششوں میں تھی۔
" فی الحال تو ہزبنڈ ہونے کا بھرپور فائیدہ اٹھانے والا ہوں۔ کیوں کہ میری بیوی بہت کم میسر آتی ہے۔۔ تو گزرے شب وروز کا حساب چکتا کرنا ہے. اتنا ہینڈسم ہزبنڈ ملا ہے تمہیں۔ تمہیں چاہئے خود پاس آکر ڈھیر سارا پیار وصولو. ہماری چارمنگ سے تو لڑکیاں کافی مرغوب نظر آتی ہے۔ بیوی کو قدر ہی نہیں" آہل کی رینگتی انگلیاں اپنے کمر پر محسوس کرکے زر کا سانس خلق میں اٹک گیا۔ تو اکتاہٹ اور بے چینی سے مزاحمت کرتے پہلو بدلا۔
" اپنی مزاحمت ترک کردے مسز۔ میں نے دو سال کافی شرافت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب مزید میں اپنی من مانیوں پر اتر آیا تو کل خود سے بھی نظریں ملانے کے قابل نہیں رہو گی۔" آہل کی ذو معنویت پر وہ شرم و غصے کی کیفیت سے دوچار ہوگئی۔
" آپ مجھے سچ سچ بتائے۔ کیا واقعی اپنے نفس کی تسکین کے لئے بیوی بنایا ہے مجھے یا پھر واقعی میں آپکی من چاہی بیوی ہی ہوں۔" بالآخر اپنے گریز اور بدگمانی کی وجہ زبان پر آہی گئی۔ جو کب سے سوہا کی باتوں کے زیر اثر اس سے نالاں تھی۔ فطری حیا و شرمندگی سے دوچار آنکھیں جھک گئی۔
" کس نے پہنائی تمہیں یہ بدگمانیوں کی چادر۔ یہ تمہارے پیٹ میں پلنے والا وجود بھی تمہیں یہ باور کروانے میں ناکام رہا ہے کہ تم آہل یزدان کی چاہت بن چکی ہو۔ میرے خاندان کی نسل کو آگے بڑھانے والی ہو تم ۔" بھاری لہجہ میں کہتے ہوئے اس کے سرکتے لب گردن پر گردش کرنے لگیں تو زر کو اپنا دل کنپٹیوں میں دھڑکتا ہوا محسوس ہونے لگا تو بے ساختہ نگاہیں چراگئی۔ جبکہ آہل نے اسے باہوں میں بھر کر بیڈ پر لٹایا اور اس کے اوپر بلینکٹ سیٹ کرکے سیدھا ہوا۔
" آئیندہ اس طرح کی فضول گوئی سے گریز کرو. ورنہ مجھے محبوب سے شوہر بننے میں سیکینڈ بھی نہیں لگے گا۔" سپاٹ لہجے میں کہہ کر اس کے رخسار پر شدت بھرا لمس چھوڑ کر وہ دور ہٹا کہ زر نے جلدی سے اس کی کلائی پکڑ لی۔
" کہاں جا رہے ہیں اپ؟؟
" ایک اہم پروجیکٹ پر کام کرنا ہے اس کی فائل تیار کرنی ہے. تم آرام کرو." آہل نے اس کے ہاتھ کی پشت کو انگوٹھے سے سہلایا۔
" کام بعد میں بھی ہوسکتا ہے۔" اس کی آنکھوں کے بھیگے گوشے دیکھ کر وہ کام کرنے کا ارادہ ملتوی کرکے بیڈ کے دوسری طرف آیا اور اسے باہوں میں بھر کر لیٹ گیا۔
"پتہ ہے سحر اس دن پھپھو کو دیکھ کر حیرتوں کی زد میں تھی۔ اور پھپھو کے ڈمپل کو دیکھ کر بھی کافی متخیر تھی۔ کہ اس کے بھیا کا بھی اسطرح بنتا ہے۔ اس معصوم کو نہیں پتہ کہ یہ جان لیوا ڈمپل آپ نے پھپھو سے چرایا ہے" زر نے اہل کے ڈمپل کو ہلکا سا چھو لیا۔ جبکہ آہل بغیر کسی ردعمل کے آنکھیں بند کئے لیٹا رہا.
" آہل !! اس کےوجود میں کوئی جنبش نا پا کر وہ دوبارہ گویا ہوئی۔
"ہممممم !! آہل نے خمار آلودہ نظریں واہ کئے۔
" ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لیا ہے. کل دو پہر دو بجے تیار رہنا۔ ایک بار چیک اپ کروا لیں گے تو تسلی ہو جائے گی۔" آہل نے کہہ کر نکھیں دوبارہ موندھی۔
" جی!! اور آہل کے شرٹ کے بٹنوں سے کھیلتے ہوئے ایک ایک کھولنے لگی کہ آہل کے خوبصورت لب متبسم ہوئے۔
" کیا کر رہی ہو؟؟ استغفرُللہ !! شوہر کے سونے کا فایدہ اٹھا کر اسکی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرنےلگی ہو۔ میں تو تمہیں شریف اور معصوم سمجھ رہا تھا۔" سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے اسنے اسکے چلتے ہاتھوں کو گرفت میں لیا۔ تو وہ حیرت و بے یقینی سے پھیلی متحیر آنکھوں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
" آہل وہ مم۔ میں۔۔ "
" ہاہاہاہاہاہاہاہا .!!! اسکے ہونق بنے تاثرات کو دیکھ کر وہ کھل کے ہنسا۔
" جان نکال دی میری.." اسکے سینے پر زور سے مکے مار کر وہ چیخی۔
" صاف صاف بولنے میں کیا حرج تھا مسز " معنی خیزی سے کہتا ہوا آہل نے اسکا سر تکیہ پر منتقل کیا۔
" کک۔کیا ؟؟؟ اسے اپنے اوپر حاوی دیکھ کر وہ بوکھلائی۔
" کہ ڈئیر ہسبنڈ!! مجھے اپنی قربت کے کچھ حسین پل سونپ دو. " لائٹ آف کرکے اس کے چہرے پر جھک کر اس کے پور پور کو اپنے لمس سے مہکاتے ہوئے اپنی آغوش میں سمٹ لیا اور بے خودی کے برسات میں اسے اپنے ساتھ بھیگتا چلا گیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
" اسلام وعلیکم اینڈ صبح بخیر پھپھو !! کیسی طبیعت ہے اب اپکی؟؟ اذلان اور حدید صبح ہی عاتکہ کے روم میں اس کی طبیعت پوچھنے خاضر تھے۔ عاتکہ نے دونوں کو پیار سے گلے لگایا ۔
" وعلیکم السلام!! الحمدللہ اب ٹھیک ہوں۔ خوش رہو" عاتکہ دونوں کی بلائے لینے لگی۔
" کوئی کام تھا کیا؟؟ دونوں کو اشاروں کنایوں میں ایک دوسرے سے ہم کلام دیکھ کر عاتکہ نے پوچھا۔
" جی پھپھو!! حدید نے تائید کی۔
" یہی پوچھنا ہے کہ آہل کون ہے نا؟؟ عاتکہ جانتی تھی وہ خود سے سوال پوچھنے سے ہچکچا رہے ہیں۔
" ہاں !! ہم سب آپ پر جان چھڑکتے ہیں۔ آپ ہمارے لئے ماں سماں ہے۔ مگر آہل کی بے قراری اور اسکا پاگل پن ہضم نہیں ہو رہا تھا۔۔" اذلان احتیاط سے الفاظ کا چناؤ کر رہا تھا ۔ مبادہ کہیں عاتکہ کی عزت نفس مجروح نا ہو۔
" گڈ مارننگ موم !! ٹھاہ کیساتھ روم کا دروازہ کھلا اور خوشبو میں رچا بسا بلیک پینٹ پر وائیٹ شرٹ کے اوپر بلیک کوٹ پہنے اپنی شاندار پرسنالٹی لئے بالوں کو جل س سیٹ کیا ہوا, آہل نے روم میں قدم رکھا۔ جس کے پہلو میں فریش سی کھلتی گلاب کی مانند زر کو استحقاق کیساتھ کھڑے دیکھ کر عاتکہ نے دل میں دونوں کی دائمی خوشیوں کی دعا مانگی۔ جس کے چہرے پر گزری رات کی محبتوں کی داستان رقم تھی۔
" گڈ مارننگ!! اٹھ گیا میرا بچا!! عاتکہ نے دل ہی دل میں اسکی نظر اتاری ۔
" جی!! اب آپکی طبیعت بہتر ہے؟؟ عاتکہ کے قریب آکر اس کے سر پر بوسہ دیکر وہ اذلان کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔
" آپ کو دیکھ لیا تو اب بھلی چنگی ہوگئی." عاتکہ نثار ہوتی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
" تم دونوں کی صبح صبح یہاں نازل ہونے کی وجہ جان سکتا ہوں ؟؟ مخصوص اکھڑ انداز میں کہہ کر آہل کی بھنویں اپر کو شوٹ ہوئی۔
" وہ ہمممم۔ " حدید اور اذلان ان کی اچانک آمد سے بوکھلا گئے۔
" میری خبر گیری کرنےآئے تھے۔" عاتکہ نے پیار سے حدید کے کندھے پر ہاتھ پھیرا ۔ تو آہل نے کندھے اچکائے ۔
" میں آفس جارہا ہوں۔ ایک کلائنٹ کیساتھ میٹنگ ہے۔ زر یہی ہوگی آپکے پاس. آج آپ مکمل بیڈ ریسٹ کرے گی۔ خود کو ہلکان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کچھ بھی چاہئے ہو تو زر کو بتا دینا۔ " آہل نے گھڑی پر ایک سرسری نظر ڈال کر اسے ہدایات دی اور پھر سے عاتکہ کے ماتھے پر لب رکھ کر زر کے قریب آگیا۔
" موم کا خیال رکھنا اور اپنا بھی۔ کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا۔" اسے خود سے لگا کر کنپٹی پر لب رکھ کے نکلنے لگا کہ اندر داخل ہوتی عنایہ کو دیکھ کر قدم روک لئے۔
آہل!! میرا ایڈمشن کب کروانا ہے۔ کل لاسٹ دیٹ ہے." عنایہ نے فارم اس کو ہاتھ میں دیا۔ تو وہ کھوجتی نگاہوں سے عنایہ کے چہرے کو دیکھنے لگا۔ جو کترائی سی کھڑی تھی۔
" اذلان!! ایڈمشن کروادگے نا تم!! اس نے بلا توقف فارم اذلان کی طرف بڑھایا جو اس نے سرعت سے تھام لیا۔
" عنایہ کا ہاتھ میں نے پوری دلی آمادگی سے تھاما ہے۔ کوشش کروں گا کہ اس کی معیار پر پورا اتروں." اذلان نے عنایہ کے خوبصورت بیزار اور قدرے اکتاہٹ سے لبریز چہرے کو دیکھا تو سنجیدہ سرد آواز میں بولا۔
" گڈ!! آہل اس کی اچھائی کا قائل ہوگیا تھا ۔وہ واقعی اسکے ماں کی پرچھائی تھا۔ عنایہ کو خود سے لگاکر روم سے نکل گیا۔
" آپ کو دیکھنے آئی تھی صبح ,مگر آپ سورہی تھی اس لئے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا۔" عاتکہ کو دیکھ کر وہ دونوں ہاتھوں کو آپس میں الجھائے مخاطب ہوئی۔
" تم آج سے رخصتی ہونے تک میرے ساتھ میرے روم میں سووگی۔" عاتکہ نے کھلے دل سے آفر کی۔
"مم۔میں؟؟ زر کی آنکھیں بے یقینی سے پھیلی۔۔ جبکہ اذلان اس کے للجائے اور تھوڑے شرمائے روپ پر فدائیہ نظریں جمائے ہوئے تھا۔
" ہاں!! تاکہ کوئی سرپھرا تمہیں تنگ نا کرے." عاتکہ نے شوخ نظر پاس بیٹے اذلان پر ڈالی۔
" پھپھو ناٹ فئیر یار!! آپکو چاہئے تھا کہ اسے میرے روم میں شفٹ کردیتے تاکہ مجھے بھی شادی شدہ والی فیلنگز آتی نا۔۔ آپ اس پر پہرے بھٹارہی ہے۔" اذلان اچھا خاصا بدمزہ ہوگیا جبکہ اس کی اس طرح بےباکی پر عنایہ کی ہتھیلیاں پسینے سے نم ہوگئی۔ کل کی اسکی گستاخیاں یاد کرکے وہ کان کی لو تک سرخ ہوگئی۔ اور اسکے چہرے کے یہ دلکش رنگ اذلان نے غور سے دیکھے۔
" چل بدتمیز!! میری بیٹی کو تنگ گیا نا تو کان کھینچ لینے ہیں میں نے۔" عاتکہ نے اسے دھموکا جڑا۔
"مجھے بھی جانا ہے یونیورسٹی۔ آپ چھوڑ دیں گے۔" عنایہ نے دھڑکتے دل کیساتھ ہوچھا۔
" آج تو ہم بزی ہیں۔ کہیں جانا ہے. کل ان شاءاللہ لے کر چلا جاوں گا اور ساتھ میں یڈمشن بھی کروادوں گا۔" اسے کے چہرے پر فوکس کرتے ہوئے نظرے اسکی صاف شفاف گردن پر ٹہر گئی تو کل کی اپنی منہ زور گستاخیاں یاد کرکے اسکا دل زوروں سے دھڑکا۔
" بچی کو تاڑنا بند کرودو." اسکی بے خود نگاہیں زر پر مرکوز دیکھ کر حدید نے ٹوکا۔جبکہ خود پر اذلان کی بےباک نظریں گاڑھے دیکھ کر عنایہ نے رخ موڑا اور بھاگ گئی۔
" پھپھو!! ہمیں دیر ہورہی ہے۔ آپ کیساتھ کافی کچھ ڈسکس کرنا ہے۔" حدید اور اذلان بھی ساتھ میں آٹھ گئے۔
" ہاں مجھے بھی تم لوگوں کو کچھ بتانا ہے بیٹا۔ اپنے بیتے کل کے بارے میں۔جنہیں لیکر تم لوگ کافی متجسس ہو۔" عاتکہ کو دونوں پر یقین تھا کہ اسکا ساتھ دے گی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
"حدید!! میں ایک منٹ میں عنایہ سے ملکر آتا ہوں۔ تم گاڑی نکالو۔" اذلان نے کان کجھاتے ہوئے نظریں چرائی۔
" صرف پانچ منٹ!! ہم الریڈی لیٹ ہے۔" حدید کی بات ختم بھی نہیں ہوئی کہ وہ لمبے ڈگ بھرتا عنایہ کے روم میں داخل ہوا ۔اچانک روم کا دروازہ کھلنے پر عنایہ جو بالوں میں برش کر رہی تھی کہ ہاتھ سے برش چھوٹ گیا۔۔
" یہ کیا آپ ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتے ہیں۔ جان نکال دی۔" اچانک افتاد پر عنایہ بوکھلائی۔ جھک کر برش اٹھانا چاہا کہ اذلان نے اسکی کلائی پکڑ کر ایک جھٹکے سے اپنی سمت کھینچا جو کٹی پتنگ کیطرح اس کے سینے سے لگی۔
" تم سے ملنے کے لئے اتاؤلہ ہورہا تھا یہ بندہ ناچیز" عنایہ کے کھلے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر اس نے گھمبیر سرگوشی کی تو عنایہ کا وجود سنسنایا۔جبکہ اذلان اس کے چہرے پر جھک کر اپنی من مانیوں پر اتر آیا۔
اسکی شدت آمیز لمس سے عنایہ کے قدم لڑکھڑائے ۔ جبکہ اذلان کی طلب بڑھنے لگی.
" اگر مجھے امپورٹنٹ کام کے لیے جانا نہیں ہوتا تو میں آج تمہیں بتا دیتا کہ جب تم پاس ہوتی ہو تو میں بے خودی کے سمندر میں غوطہ زن ہونے لگتا ہوں۔" عنایہ کے گھنیر پلکوں پر اپنے لب رکھ کر وہ دور ہوا۔
" بد تمیز!! عنایہ دھک دھک کرتے دل پر ہاتھ رکھ کر چھینپ کر چہرہ جھکا گئی۔
" بدتمیزی کیا ہوتی ہے وہ بعد میں بتا دون گا۔ اب چلتا ہوں۔۔" عنایہ کو سینے سے لگاتے وہ دور ہوا۔ اگر تھوڑی دیر اور رک جاتا تو قدم زنجیر پا ہوجاتے۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
" آپ روئی ہو ؟؟ کسی نے کچھ کہا آپ سے؟؟ عنایہ جو عاتکہ کے اصرار پر کچن میں چلی آئی تھی کہ تیاری میں اپنی ساس کا ہاتھ بٹھائے خالانکہ وہ صاف بتا چکی تھی کہ اسے کچن کا کوئی کام نہیں آتا۔ مگر وہاں ساس کی جگہ انیلا بیگم کے سوجے گال اور سوجھی آنکھیں دیکھ کر ڈھیر سارا ملال نے آگھیرا ۔
" نن۔نہیں!! بس طبیعت ٹھیک نہیں." انیلا بیگم نے بدقت آنکھیں چرائی اور عجلت میں ہاتھ چلانے لگی۔
" آپ مجھ سے کچھ چھپا رہی ہے نا؟؟ اور یہ آپکی گردن پر زخم کا نشان کیسا ہے؟؟ عنایہ کو اسکا انداز کھٹکا جب کہ اسکی گردن پر بنے نشان کو دیکھ کر اسکے چہرے پر تفکر کے سائے لہرائے ۔
" کک۔کچھ نہیں ہوا۔تمہیں کچھ چاہئے۔" انیلا بیگم کے سر میں درد کی ٹھیس اٹھی۔
" آپ نے بھی ابھی تک مجھے اپنی بہو تسلیم نہیں کیا نا۔ اسلئے مجھے دھتکار رہی ہے ۔" عنایہ اسکے ردعمل پر کافی خیران تھی۔۔
" تم میرے اذلان کی بیوی ہو. مجھے اپنے بچوں سے بہت پیار ہے۔ اور اس حوالے سے تم میرے لئے بہت خاص ہو۔" انیلا بیگم کو عنایہ سے ایسے الفاظ کی توقع نہیں تھی۔
" تو پھر آپ مجھے بتائیں آپ کو کیا ہوا ہے؟؟ اور یہ آپکے گردن پہ نشان کیسا ہے۔؟؟
" ایسے کتنے زخم ہیں جو میرے روح تک کو چھلنی کرچکے ہیں۔ یہی میری زندگی کا کڑوہ سچ ہے۔ جس کے ساتھ میں خاموشی سے زندگی گزار رہی ہوں۔ اگر کریدوں گی تو خود کو اذیت دوں گی. " انیلا بیگم کے چہرے پر دکھ تکلیف کے آثار عیاں ہوگئے۔
" آپ کے ہسبنڈ آپکو مارتے ہیں؟؟ سب سے پہلے عنایہ کے ذہن میں جو سوال گردش کرنے لگا اسے زبان دے دی۔۔
" میرا اذلان باقی مردوں جیسا سفاک نہیں ہے۔۔وہ کسی نازک کلی کیطرح تمہیں سمبھال کر رکھے گا۔" انیلا بیگم نے سوال گول کردیا۔
" جانتی ہوں میں انہیں. مگر یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔" عنایہ نے اسکے چلتے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
" آپ کو حدید بھائی کی قسم!! مجھے بتا دے ہوا کیا یے؟؟. عنایہ جب سے آئی تھی اس نے بلا ضرورت یہاں کی عورتوں کو ایک دوسرے کیساتھ بات کرتے نہیں دیکھا تھا۔۔ایک خول قائم تھا سب کے درمیان۔ جبکہ انیلا بیگم اسے ہاتھ سے پکڑ کر اسکے روم میں لے آئی اور دوپٹہ اپنے وجود سے الگ کرکے اسکے مقابل کھڑی ہوگئی۔
" یی۔یہ کس نے کیا۔؟؟ عنایہ کے سینے میں پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی۔
" جنہیں لوگ سرتاج کہتے ہیں۔ مجازی خدا بھی کہا جاتا ہے۔ ہم جسے اپنا مخافظ سمجھتے ہیں۔۔انہی کے دئیے گئے زخم ہیں جو مجھے دیمک کی طرح اندر ہی اندر چاٹ رہے ہیں۔ ان کو تسکین یہ زخم دے کر ملتا ہے۔ یہ گھاؤ کبھی بھرتے نہیں. ان کی نظر میں میں بیوی نہیں کوئی زرخرید رکھیل ہو. جس وقت وہ پاس ہوتے ہیں اس لمحے میں شدت سے موت کی دعا مانگتی ہوں۔" عنایہ اسکے جسم پر موجود جلنے کے نشان واضح دیکھ رہی تھی۔۔جو کہ سیگریٹ کے سے داغے گئے تھے۔
" وہ کیوں ایسا کرتے ہیں۔ آپ حدید بھائی کو بتا سکتی ہیں نا۔ جس طرح وہ میرے لئے سٹینڈ لیتا ہے۔ آپ کے لئے کچھ بھی کر جائیں گے۔ کب تک یہ اذیتیں برداشت کریں گی آپ" عنایہ تو زلزلوں کی زد میں تھی۔
" کبھی نہیں۔۔ میں اپنے بچوں پر انکے باپ کا یہ بھیانک روپ آشکارا نہیں کروں گی۔ وہ ایک سائیکو انسان ہے. وہ دوسری عورتوں کے پاس بھی جاتے ہیں۔ ان سے طلب تو پوری کرلیتے ہیں مگر نفس کی تسکین اسے یہ زخم دے کر ملتی ہے۔ اور اس وقت وہ جلاد بنا ہوتا ہے۔ میری ہر تڑپ پر اس کے چہرے پر عجیب طرح کا سکون دیکھنے کو ملتا ہے۔" انیلا بیگم کی باتیں حواس سلب کرنے کے لئے کافی تھے۔۔
" مجھے یقین ہے میرے برے دن ختم ہونے والے ہیں۔۔ میں نے آہل کی آنکھوں میں چھپے کرب کو دیکھ چکی ہوں۔ اسے سلطان میر کے کالے کرتوتوں کا علم ہے۔ اور یہ پردہ بہت جلد فاش ہونے والا ہے۔ مجھے اس کے لیے دکھ ہوتا اگر صرف میں اسکی ظلم بربریت اور ہوس کا شکار ہوتی مگر ہر دوسری مجبور عورت کی مجبوریوں کو خریدنا سلطان میر کا جنون بن چکا ہے۔ جس کی اسے بھیانک سزا ملے گی۔ اور اللّٰہ کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے۔" انیلا بیگم نے دوپٹہ سر پر اوڑھ کر عنایہ کو گلے لگایا۔ جس کا چہرہ لٹھے کی مانند سپید پڑ گیا تھا۔
" تم آہل , اذلان یا حدید کو کچھ نہیں بتاؤگی." عنایہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ اسے سکتے میں چھوڑ کر نکل گئی۔صبح سے شام ہوگئی مگر عنایہ آنیلا بیگم کی باتوں کے زیر اثر پورا دن بےچین رہی۔ کئی بار عاتکہ نے اسکی غائب دماغی نوٹ کر وجہ جاننے کی کوشش کی مگر اس نے گھما پھرا کر بات ٹال دی۔
" آپ کہیں جارہی ہے؟؟ زر کو بڑا سا چادر پہنے روم سے باہر نکلتے دیکھ کر عنایہ نے لہجے کے تاثرات ہموار رکھتے ہوئے سوال داغا۔
" ہاں وہ آہل ڈاکٹر کے پاس لے کر جا رہا ہے۔ چیک اپ کروانے۔" زر نے چادر سے پورا جسم اچھی طرح چھپا لیا.
" آپ کو بیٹا ہوگا کہ بیٹی؟؟ اچانک غیر متوقع سوال پر زر نے ششدر نگاہوں سے اسے دیکھا۔
" ہم نے ابھی چیک اپ نہیں کروایا. تو نہیں معلوم۔ اور ہم ڈاکٹر سے نہیں پوچھیں گے کہ بیٹا ہے یا بیٹی. جو اللّٰہ تعالیٰ عطا کرے گا۔ ہم بخوشی قبول کر لیں گے۔" ڈھیروں تاثرات چہرے پر سجائے زر نے سنجیدگی سے جواب دیا
" مگر میں چاہتی ہوں آپ لوگوں کا بیٹا ہو" عنایہ کی نئے شگوفے ہر وہ بت بن کر رہ گئی۔کئی ساعت تو لب بولنے سے انکاری ہوگئے۔
" کیوں؟؟ زر نے اس کے قدرے مرجھائے چہرے کو دیکھا۔ جس کے لہجے کے خالی پن نے ماحول کو بوجھل کردیا۔
" کیونکہ بیٹیوں کے باپ کو پل پل مرنا پڑتا ہے اپنی بیٹی کو زندہ رکھنے کے لئے. جب مجھے ڈپریشن کے دورے پڑتے تھے تب آہل پوری پوری رات جاگ کر گزارتے. ہماری حفاظت پہ مامور گارڈز کی موجودگی بھی انکا ڈر خوف کم نہیں کرسکتی تھی۔ مگر اب سوچتی ہوں جب اپنی بیٹی ہوگی تب تو آہل کی روح تک بے سکون ہوگی اپنی بیٹی کو زمانے کے ہوس ذدہ نظروں سے چھپانے میں۔ میں نہیں چاہتی کوئی اور عنایہ پیدا ہو جو سیاہ بخت ہو " اذیت اور ملال سے عنایہ کی آنکھیں بھر ائی۔ عنایہ کی سوچوں کا محور جان کر زر کا دل حقیقی معنوں میں کرلایا۔ یہ سچ تھا آنکھ کھلتے ہی اس نے کبھی اپنے گھر میں عورت ذات کی کوئی قدر,کوئی ویلیو نہیں دیکھی۔ بات بات پر باز پرس کی جاتی تھی۔ عورتوں کو ہمیشہ حقیر سمجھا جاتا ۔ مگر اپنی بیٹی کے بارے میں سوچ کر اسکا دماغ ماؤف ہونے لگا۔ اور اس نے عنایہ کے رخسار پر لڑیوں کی شکل میں بہتے آنسو کو صاف کرکے اسے گلے لگایا۔۔
" اگر اہل پرائے بیٹی کے لئے اپنی نیند کی قربانی دے سکتا ہے۔۔ان کے لئے دنیا سے لڑ سکتا ہے ۔۔ پوری دنیا کی خوشیاں ان کے قدموں میں لاکر ڈھیر کرسکتا ہے۔ تو سوچو اپنی بیٹی, اپنے خون کے لئے وہ کس حد تک جا سکتا ہے۔ میں چاہتی ہوں مجھے بیٹی ہی ہو تاکہ اہل دنیا کو دکھا دے کہ بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی اور صرف نصیب والوں کو ملتی ہیں۔ دوسری عنایہ جنم نہیں لے گی۔" زر نے اس کے رخسار پر نرمی سے بوسہ دیا
" میں آہل سے پیار کرتی تھی بے انتہا۔ مگر نادان اتنی تھی کہ ان کے حددرجہ توجہ اور کئیر کو پیار سمجھنے لگی۔ اسکے دور جانے کے احساس ہی اتنا جان لیوا تھا کہ میں خود کو اس کے وجود سے جوڑنے کی سعی کرنے لگی۔ مگر آہل نے کبھی میرے جذبات کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ اسکا دھتکارنا مجھے گہری اذیت سے دوچار کرتا تھا۔ آپ کیساتھ شادی کا سن کر میں ٹوٹ کر بکھر گئی تھی۔ مگر ہر بار ٹوٹنے کا مطلب ہمیشہ ختم ہونا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھار ٹوٹنا زندگی کا ازسرِنو آغاز بھی ہوتا ہے۔ اب مجھے پتہ چلا کہ آہل کے ساتھ رہتے ہوئے مجھے صرف اسکی عادت ہوگئی تھی۔اور بات صرف محبت کی نہیں ہوتی, بعض اوقات بنا محبت کے ہم کسی کے اس قدر عادی ہوجاتے ہیں کہ وہ عادت محبت سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوجاتی ہے۔اس کے دور جانے کا خیال ہی سوہان روح بنا ہوتا تھا۔ مگر اذلان کے ساتھ ایک جائز رشتے میں بندھنے کے بعد مجھے رئیلائز ہوگیا کہ پیار کا احساس ہی الگ اور انوکھا ہوتا ہے۔ جو فیلنگز میں اذلان کے لئے رکھنے لگی ہوں وہ مجھے کبھی اہل کے لئے آئے ہی نہیں۔ میں اذلان کی اچھائیوں سے عشق کرنے لگی ہوں۔ کیا آپ میری کوتاہیوں کو پس پشت ڈال کر مجھے نند اور بھابھی کے روپ میں ایکسپٹ کرلے گی؟؟" عنایہ لڑکھڑاتے انداز میں اس پر اپنے رشتے کی حقیقت واضح کرنے لگی۔
" مجھے اس پل تم پر اتنا ڈھیر سارا پیار آرہا ہے کہ میں چاہتی ہوں کہ اسکا عملاً اظہار کر ڈالوں۔ مگر یہ کام میں اپنے بھائی پر چھوڑ دیتی ہوں۔ اور میں ایک جپھی پر گزارا کولوں گی۔" زر نے اسے خود میں زور سے بھینچا۔
" میں نے تمہیں پہلے دن سے ہی بھابھی کے روپ میں قبول کیا تھا۔ میرا بھائی میری جان ہے۔ میرا مان ہے۔ تو تم بھی مجھے اتنی ہی عزیز ہو۔۔"
" تھینکس!! عنایہ کے دل سے رفتہ رفتہ کثافت چھٹنے لگی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
" جب انیلا بھابھی کی بات سلطان بھائی سے پکی ہوگئی تب بڑوں نے میری زندگی کا فیصلہ بھی مجھ سے پوچھے بغیر کردیا۔ میں تو ہتھے اکڑ گئی۔ کیونکہ میں ایک تعلیم یافتہ با شعور لڑکی تھی۔ اور معاشرے میں پروان چڑھتی فضول قسم کی فرسودہ روایات کی خلاف تھی۔ اور یہ وٹے سٹے کا رواج یہاں برسوں سے قدم جمائے کھڑا تھا۔ جس کے حق میں میں بالکل نہیں تھی۔ مگر بڑوں کے سامنے بلاخوف اپنے رشتے سے انکار میرے لئے انگاروں پر چلنے کے مترادف تھا۔ مگر میں چپ بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھی۔ میں اپنے خاندان کی واحد لڑکی تھی, جو پہلے کالج اور پھر کالج سے یونیورسٹی تک کا سفر طے کر پائی تھی۔ اور وجہ بابا سرکار کی میرے ساتھ بے پناہ چاہت و الفت تھی۔ میں گھر کی اکلوتی بیٹی تھی۔ کسی اور کا تو نہیں مگر بابا سرکار کی لاڈلی تھی۔کوئی بات منوانے ہوتی تو بھوک ہڑتال کر لیتی۔ پھر چاروناچار سب کو ہتھیار ڈالنے پڑتے۔ مرتی کیا نا کرتی کے مصداق مناسب وقت کا انتظار کرتے ہوئے ابھی فی الحال خاموش رہنے میں عافیت سمجھی۔ کیونکہ الطاف بھی ولایت پڑھنے گئے تھے۔ اور میں اپنے کلاس فیلو کامل میں انٹرسٹ لینے لگی تھی. یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے ہاں خاندان سے باہر رشتے طے کرنا سنگین جرم سمجھا جاتا تھا۔ مگر پیار و محبت کے جذبے کے ساتھ بغاوت کا جذبہ بھی سر اٹھاتا ہے۔ وقت پہیہ لگا کر اپنی رفتار سے تیز گزرتا گیا۔ میں نے کئی بار بابا سرکار سے بات کرنے کی کوشش کی مگر تربیت آڑے آگئی۔ وہ لاکھ مجھ پر جان چھڑکتے تھے , لاڈ اٹھاتے , جائز ناجائز خواہشات آنکھ بند کرکے پوری کرلیتے مگر یہاں بات دو خاندانوں کے درمیان تعلقات کی تھی۔ اور میرے انکار کی صورت میں تعلقات کشیدگی اختیار کر سکتے۔ جیسے ہی الطاف پاکستان پہنچ گیا میں پہلی فرصت میں ان سے ملنے چلی گئی۔ کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ اب یہ لوگ مزید بات کو طول نہیں دیں گے۔ اور رشتہ پکا ہوجائے گا۔ الطاف ایک اچھی شکل وصورت کا خوبصورت نوجوان تھا۔ جو کسی لڑکی کا خواب ہوسکتا تھا مگر میرے لئے وہ صرف راستے کا ایک کانٹا تھا۔ موقع ملتے ہی میں نے ان کے کانوں میں رشتے کی بات ڈال دی. ان کے خیالات جان کر میرا دل گداز ہونے لگا کہ وہ بھی وہاں اپنی کسی کلاس فیلو کیساتھ ریلیشن شپ میں تھا۔۔اور بات بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ دونوں شادی کرنا چاہتے تھے۔ مگر خاندان کے فیصلوں نے ان کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی ہے۔ اسلیے وہ خود کو ان نام نہاد رشتے کی زنجیر سے آزاد کرانے آیا تھا۔ اور ساتھ اس لڑکی کو بھی لیکر آیا تھا۔ موقع غنیمت سمجھ کر میں اس کے کندھے پر بندوق چلانے لگی۔ لڑکی کا اس کے ساتھ پاکستان آنا میرے لئے کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ میں نے مظلومیت کی چادر چڑھاکر خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ کیونکہ مجھے یقین تھا کہ الطاف کوئی نا کوئی راستہ ضرور نکالے گا۔ کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نا ٹوٹے۔ پھر ایک دن میں تائی اماں کے گھر گئی تھی انیلا بھابھی سے ملنے تو الطاف کے روم کے سامنے سے گزرتے ہوئے میں نے اس کی آواز سنی۔ وہ کسی لڑکی سے فون پر گفتگو کر رہا تھا۔ اور اس کو ایک ہوٹل کا کہہ کر وہاں اس سے ملنے والا تھا۔ میری دلی مراد بھر آئی۔ میں سیدھا گھر چلی گئی اور بابا سرکار کو فورس کرنے لگی کہ آج مجھے باہر اچھے سے ریسٹورنٹ میں لنچ کروادے۔ میں نے اچھے نمبروں سے ٹاپ کیا تھا۔ تو بابا سرکار بغیر حیل و حجت کے مان گئے۔ میں انہیں اسی ریسٹورنٹ لے کر گئی جہاں الطاف اور وہ لڑکی ملنے والے تھے۔ اور کبھی کبھی سب کچھ ہمارے توقعات کے عین مطابق ہوجاتا ہے۔ بابا سرکار نے الطاف کو دیکھا جو کسی لڑکی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا۔ بابا سرکار سے مزید برداشت نہیں ہوا اور ان کے سروں پر سوار ہوکر استفسار کیا۔ اب چھپانا بےکار تھا. الطاف نے معذرت کرکے بابا سرکار کو سچائی بتا دی۔ کہ وہ عاتکہ کو دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا ہے۔ آپ خود کسی طرح یہ رشتہ ختم کردے۔ تب بابا سرکار نے وہ فیصلہ لیا جو گاؤں کی تاریخ میں رقم ہوگیا۔ میرا رشتہ ختم کروادیا۔ دوسری طرف انیلا بھابھی کے باپ یعنی کے تایا ابو نے انیلا بھابھی کا رشتہ دینے سے انکار کیا مگر الطاف نے اپنی طرف سے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا۔ تب جاکر معاملہ رفع دفع ہوگیا اور ایسے میں سلطان بھائی کی شادی ہوگئی۔ میں نے ڈھکے چھپے الفاظ میں بابا سرکار کے سامنے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ پہلے تو وہ سخت برہم ہوگئے مگر بعد میں انہوں نے سوچنے کا ٹائم مانگا۔ بابا سرکار نے کامل یزدان سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ بابا سرکار نے یونیورسٹی کے قریب میرے لئے ایک فلیٹ لیا تھا. ایگزیم کے دنوں میں اکثر ملازمہ کہ معیت میں وہاں قیام کرتی۔ وہاں بابا سرکار کامل سے ملے۔ وہ ہمارے یونیورسٹی کا ایک قابل و ہونہار سٹوڈنٹ تھا۔ خالیہ امتحانات میں اس نے صوبے بھر میں ٹاپ کیا تھا ۔ ہر اخبار, نیوز چینل میں اسکی کارکردگی کو سراہا گیا تھا۔ تو بابا سرکار بھی انکے بارے میں کافی کچھ جان گئے تھے۔ وہ ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔ والدین کا انتقال ہوگیا تھا۔ فیملی کی نام پر سکی ایک چھوٹی بہن تھی تیرا سال کی۔ باپ سرکاری ملازم تھا تو اسکی پنشن سے گھر کا خرچہ بمشکل پورا ہوتا تھا۔ باقی اس نے اپنی اسٹڈی اسکالر شپ کے ذریعے مکمل کی۔ بابا سرکار کو اسکے سلجھے ہوئے شخصیت نے کافی متاثر کیا اور انہوں نے رشتے کے لئے خامی بھری مگر سب سے بڑا مرحلہ بھائی لوگوں کو منانے کا تھا۔ کیونکہ وہ لوگ کبھی اس طرح مڈل کلاس فیملی میں میرا رشتہ ہونے کے حق میں نہیں تھے۔ اس لئے بابا سرکار نے فیصلہ لیا کہ وہ سب کے علم میں لائے بغیر ہمارا نکاح پڑھوا دیں گے۔ اور حالت بہتر ہوتے ہی رحصتی کروادیں گے۔ میری خواہش پر میرا کامل کے ساتھ نکاح پڑھوایا۔ بابا سرکار نے پوری کوشش کی بھائی لوگوں کو منانے کی مگر سلطان بھائی کسی صورت تیار نہیں تھے۔ کہ غیروں میں بہن بیاہنے کا مطلب جائیداد میں اور بھی حصہ دار آئیں گے۔ تو تینوں بھائی بابا سرکار کے فیصلے کے خلاف دیوار بن کر کھڑے ہوگئے اور کھل کر مخالفت شروع کردی۔ مگر اب تو نکاح ہوچکا تھا۔ بابا سرکار کو بیٹوں سے اتنے سخت ردعمل کی توقع نہیں تھی۔ ان دنوں ہماری امی کی طبیعت ناساز ہوگئی ڈاکٹروں نے جواب دے دیا۔ اور میرے فائینل کے ایگزامز بھی شروع ہوگئے۔ تو بابا سرکار نے مجھے فلیٹ پر واپس بھیج دیا کہ میں اپنے پیپرز پر فوکس کروں۔ کیونکہ گھر کا ماحول کافی تناؤ ذدہ ہوچکا تھا۔ امی کی طبیعت کیوجہ سے بھائیوں نے چپ سادھ لی تھی۔ میری سوچوں کا محور اماں حضور اور گھر کے حالات تھے۔ میری سٹڈی کافی متاثر ہورہی تھی۔۔ایسے میں کامل نے میرا پورا ساتھ دیا۔ اکثر رات دیر تک وہ مجھے پڑھاتا تو اپنی بہن صدیقہ کو😕 بھی ساتھ لیکر آتا۔ کیونکہ ان کے گھر میں اور کوئی نہیں تھا۔ جس کے سہارے وہ بہن کو چھوڑ آئے۔میرے پیپرز بخیریت اختتام پذیر ہوئے اور میں واپس حویلی آنے کی تیاری کرنے لگی کہ اچانک میری طبیعت خراب ہوگئی۔ میں نے بابا سرکار کو کال کرکے اپنی طبیعت کی خرابی کا بتایا انہوں نے کامل کو مجھے چیک اپ کے لئے لیجانے کا بولا ۔ وہ خود ایسی خالت میں گھر سے نہیں نکل سکتے۔ ہم چیک اپ کرنے گئے تو ڈاکٹر نے جو رپورٹ تھما دی میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔کیونکہ میں امید سے تھی". اتنا کہہ کر عاتکہ نے مارے اہانت و شرمندگی کے سر جھکایا۔ تو اذلان اور حدید نے نظروں کا تبادلہ کیا۔
" جب رشتہ پاک اور جائز ہو۔ تو محرم کی قربت سکون دیتا یے۔ ان دنوں میں ڈپریشن کا شکار تھی۔ پے درپے ہونے والے واقعات نے مجھے ہلا کے رکھ دیا۔ اور اس وقت کامل میرے ساتھ میرے فلیٹ پر رہ رہا تھا۔ ہم بھی کسی کمزور لمحے میں بہک گئے تھے۔ اب کامل خود صحیح معنوں میں تذبذب کا شکار تھا۔ وہ رخصتی چاہتا تھا۔ مگر جیسے ہی ہم حویلی پہنچے ایک اور قیامت منتظر تھی۔ اماں حضور کا انتقال ہوگیا تھا۔ ان کے جانے کا دکھ اتنا بڑا تھا کہ میں اردگرد سے بے نیاز اپنے خول میں مقید ہوگئی۔ اماں حضور کو گئے چالیس دن ہوگئے تو کامل نے مجھے بابا چضور سے بات کرنے پر فورس کیا۔ کیونکہ میرا تیسرا مہینہ چل رہا تھا اور اگر ایسے میں بات سامنے آتی تو بدنامی ہوجاتی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے بابا خضور کو پوری سچائی بتا دی۔ پہلے تو وہ کافی مشتعل ہوگئے۔ لیکن ایک بار پھر بھائی لوگوں سے بات کی۔ اب کے بار وہ ۔لوگ باقائدہ دھمکیوں پر اتر آئے ۔ کہ وہ کامل کو جان سے مار ڈال دیں گے۔ اس ساری صورتحال میں میرا چوتھا منتھ شروع ہوگیا تو بات چھپانی مشکل ہوگئی۔ کہ اچانک بابا سرکار نے میرے ایڈمشن کا شوشہ چھوڑا۔ وجہ صرف مجھے گھر اور خاندان والوں کی نظر سے چھپا کر رکھنا تھا۔ ورنہ پاک دامنی پر کلنک لگ جاتا۔کیونکہ میرے ماں بننے کے اثرات کافی حد تک نمایاں ہوگئے تھے۔ بھائی لوگوں کو بھلا کیا اعتراض تھا۔ بابا سرکار مجھے واپس اپنے فلیٹ پر لے کر ائے اور میرے ساتھ رہنے لگے۔ مگر کامل مجھے اپنے گھر رکھنے پر بضد تھا ۔ بابا سرکار مان گئے اور میں کامل کے ساتھ رہنے لگی۔ میری پوری زمہ داری بابا سرکار نے اپنے سر لی تھی۔ کامل ٹہرا ایک خوددار بندہ, وہ بابا سرکار کو کئی بار صاف انکار بھی کر چکے تھے کہ وہ اپنے بیوی بچے کی زمہ داری اٹھا سکتا ہے۔ بابا سرکار نے انکی ایک نہیں سنی۔ وقت پر لگا کر گزر گیا۔ میری ڈلیوری میں ایک منتھ رہ گیا کہ واشروم میں نہاتے ہوئے میرا پیر پھسل گیا اور توازن برقرار نا رکھتے ہوئے میں اوندھے منہ فرش پر گر گئی۔ مجھے ہاسپٹل لے جایا گیا۔ میری طبیعت کافی کریٹیکل تھی۔ آپریشن کا بولا گیا۔ کامل نے بابا سرکار کو ارجنٹ کال کرکے بلایا۔ بابا سرکار نے ایک سے بڑھ کر ایک ماہر ڈاکٹر کا بندوبست کروایا۔ کیونکہ ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق بچے کے بچنے کے چانسز ففٹی پرسنٹ تھے۔ مگر وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ آپریشن کامیاب رہا۔ اور میرے آہل نے آنکھیں کھول دی۔ میرے تو نصیب کھل گئے۔آہل کو پاکر میں جیسے ہواؤں میں اڑنے لگی تھی۔ مگر ہماری خوشیوں کی عمر کافی کم نکلی۔ میں وقتاً فوقتاً حویلی جاتی اور اسے عرصے میں کامل خود آہل کی دیکھ بھال کرتا۔ پھر ایک منخوس لمحہ ہماری خوشیوں کو نگل گیا. بھائیوں کو شک ہوگیا کہ میں نے چپکے سے شادی کی ہے۔ بابا کو آہل سے دلی لگاؤ تھا۔ جب ہمارے پاس ہوتے گھنٹوں اسے پیٹھ پر سوار کرکے پورے گھر میں گھماتے۔ پورے گھر میں آہل کی کھلکھلاہٹیں گھونجتی رہتی۔ آہل کے پانچویں جنم دن پر بابا سرکار مجھے اور اہل کو شہر😕 لیکر جانا چاہتے تھے۔ صدیقہ کا پیپر تھا اس دن, تو کامل ہمارے ساتھ نہیں جاپایا۔ ہم نے بھی جانے کا ارادہ ترک کیا مگر کامل نے ہمیں مجبور کیا جانے کے لئے۔ بقول کامل کے ان کے بیٹے کا جنم دن یادگار ہوجانا چاہیے ۔ انہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ پیچھے میرے بھائیوں نے کامل کے پیچھے اپنے فالتو کتے چھوڑ دیے تھے انہوں نے اس بات کی تصدیق کروائی کی کامل کی شادی ہوئی ہے۔ اور لگے ہاتھوں سلطان بھائی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آگئے اور غنڈہ گردی کرکے گھر پر دھاوا بول کر ہماری ہستی بستی زندگی کو آگ لگا دی۔ مگر مجھے وہاں موجود نا پاکر اس کے ارادوں پر پانی پھیر گیا۔ اور واپسی کے لیے پر تولنے لگے کے صدیقہ کو دیکھ کر سلطان بھائی کے اندر وخشی جانور نے سر اٹھایا۔ اور کامل جو پاس مارکیٹ سے سودا سلف لینے گیا تھا۔ ان کی واپسی ہوئی تب بہت دیر ہوچکی تھی۔ صدیقہ کی عصمت لوٹی گئی تھی۔۔معصومیت کو داغدار کردیا گیا تھا۔ اپنی بہن کی اجڑی حالت دیکھ کر کامل کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور سلطان بھائی پر ٹوٹ ہڑے۔ مگر ان کے گارڈز نے کامل کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ جب ہم واپس آگئے تو کامل کی سانسیں مدھم چل رہی تھی۔ اور ساتھ میں صدیقہ کی حالت زار دیکھ کر بابا سرکار نے دونوں کو ہاسپٹل شفٹ کروایا۔ خفیہ طریقے سے دونوں کا علاج ہوتا رہا کہ ایک بار پھر سلطان کی کانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی۔ وہ تو صدیقہ کو مرا ہوا سمجھ کر چھوڑ چکا تھا۔ مگر ابھی تک اس کی سانسیں چل رہی تھی۔۔ سلطان میر نے ہسپتال میں اسے مروانے کی سرتوڑ کوششیں کی۔ مگر بابا سرکار کی سیکیورٹی کے پیش نظر اسے مکمل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ کہ ایک دن اچانک ہمیں خبر ملی کہ صدیقہ کی زندگی نے وفا نہیں کی اور اٹھارہ سال کی عمر میں اتنی سفاک موت ماری گئی۔" عاتکہ نے ایک اچٹی نظر حدید پر ڈالی۔ مگر اس کی دگرگو حالت دیکھ کر اس نے مزید کچھ بولنے سے خود کو روکا۔
" غلط !! پھپھو کی ڈیتھ نہیں ہوئی تھی وہ مزید زندگی کا بوجھ اپنے معصوم ناتواں کندھوں پر اٹھانے کے لئے زندہ رہی۔" پاکٹ میں دونوں ہاتھ اڑستا ہوا آہل شکستہ قدم لئے اندر داخل ہوا۔ اس کے چہرے پردرد کی ایسی تحریر رقم تھی جو صاف ظاہر کرتا تھا کہ وہ ان لوگوں کی گفتگو کسی حد سن چکا تھا۔ اذلان اور حدید کو اس لمحے وہ کہیں بھی مضبوط چٹانوں جیسا مرد نہیں لگا جو کسی کو بھی چاروں شانے چت کرنی کا ہنر جانتا تھا۔ جبکہ اسکی بات سن کر تینوں نفوس اپنے اندر بھڑکتی اذیت و تکلیف کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں ناکام رہے ۔

Comments
Post a Comment