EPISODE 1 & 6
دل کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی باتیں،
خوابوں کی دنیا میں، خوابوں کی راتیں۔
محبت کی خوشبو، وفا کی روشنی،
زندگی کی راہوں میں، چمکتی خوشی۔
چپکے چپکے دل کی دھڑکن سنو،
اس کی خاموشی میں کتنی کہانیاں ہیں۔
رنگ برنگے احساسات کی بوندا باندی،
زندگی کی کتاب میں، یہ سب کہانیاں ہیں۔
خود سے ملنے کا یہ لمحہ خاص ہے،
دل کی وادیوں میں، یہ سفر بے مثال ہے۔
محبت کا چہرہ، دوستی کی روشنی،
دل کی گہرائیوں میں، یہ سب خوشبوئیں ہے
سورج کی اجلی روشنی ہر سو چھائی ہوئی تھی ۔ سردیوں کی ٹھندی ٹھندی ہوائیں بارش کا پتا دے رہی ۔
پنجاب کے اس چھوٹے سے شہر میں یہ ایک چھوٹا سا سکول ہے ۔ جہاں سے بچوں کی پڑھنے کی آوازیں سنائی دیں رہی تھی ۔
إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ،
اس کی خوبصورت آواز کا بچوں نے پیچا کیا
"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،
وہ بلیک کالر کے سادہ سے عبائے میں نفاست سے نکاب کیے بچوں کو پڑھا رہی تھی ۔
میم اریشہ ایک سادہ سے خلیہ والی (آیا) نے اسے مخاطب کیا
یس اس نے سر ہلا کر کہا
میڈم آپ کو بلا رہی ہے
اوکے آپ میری کلاس کو دیکھں میں میم سے بات کر کے آرہی ہو۔
Ma I come in mam
آفس میں بیٹی ایک انتیس سے تیس سال کی عورت نفاست سے بیٹھی فون کال میں مصروف تھی
یس اسے دیکھں کر سر ہلایا میں اپ سے بعد میں بات کرتی حم ہاں اوکے اللہ خافظ
وہ ان کے مقابل صوفے پر بیٹھ گئی میم آپ نے بلایا
ہاں میم اریشہ ام ۔۔ آپ کی کلاس سے ہر روز کمپلینز آتی ہے ۔کھبی بار بار پچوں کو مارنا کھبی کاپی صیحیح سے چیک نہیں آج بھی ریخام کے گھر سے کمپلین آئی ہے ۔کے جی ہمارے بچے کو تھپڑ مارا ہے میم نے وہ نرمی سے کہتے ہو اس کی طرف دیکھنے لگی ۔
میم وہ بچا بہت شرارتی ہے ۔ اور پڑھتا ایک لفظ بھی نہیں ہے ۔اس نے صاف گوئی سے کہا
دیکھے میم میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ بچوں کو بہت پیار سے ہینڈل کیا جاتا ہے ۔مگر آپ میری بات کو سیریس نہیں لیتی ہر روز کی کمپلین سے میں بہت تنگ آ گئی ہو ان نے دراز کھولتے ہوئے کہا
پر میم اس کا سانس اٹکا
آیم سوری بٹ آپ نے میرے لیے کوئی اور چوئز نہیں چھوڑی آپ کا لک میں نے کتنی بار آپ سے کہا ہے کہ سکول میں عبایا علاؤ نہیں ہے مگر آب خیر چھوڑے ان نے بیزاری سے کہا یہ آپ کی سیلری
مگر میم وہ پھٹی پھٹی نظروں انھیں دیکھ رہی تھی ۔
آپ ایک قابل لڑکی ہے مجھے یقین ہے آپ کو اس سے بھی بہتر سکول میں جاپ مل جائے گی ۔ان نے اسے پیسے پکڑا تے ہوئے کہا
اس نے بمشکل اپنے انسو روک کر جی کہا وہ جو اس کے جواب کا انتظار کر رہی تھی ٹھنڈے ردعمل پر خیران ہوئی ۔
میم اگر میری کسی بات کا آپ کو برا لگا تو مائنڈ نے کیجئے گا
نہیں نہیں کوئی بات میں سمجھ سکتی ہوں اللہ خافظ وہ خد کو سنبھالتے ہوئے باہر نکالی ایک قدم چلنا بھی اس کے لیے محال تھا ۔ ٹیچرز کے سوالوں سے بچنے کے لیے اس نے بنا بتاۓ جانے کا سوچا
×××××××××××××××××××
گھر آ کر وہ بنا کسی سے بات کیے کمرے میں چلی گئی کیا ہوا اریشہ اتنی جلدی کیوں آگی امی نے خیرانی سے پوچھا
بس طبیعت تھوڑی سی خراب ہے امی وہ عبایا لٹکاتے ہوئے بولی
کیوں کیا ہوا صبح تو ٹھیک تھی ۔وہ فکر مند ہوئی
تھوڑا سر میں درد ہے امی
اچھا تم ریسٹ کرو میں چائے اور میڈیسن لاتی ہو کتنی بار کہا ہے چھوڑ دو یہ سکول کیوں حد کو ہلکان کرتی ہو وہ کہ کے باہر چلی گئی
وہ بیڈ میں گرنے کے انداز میں لیٹی
سبخان اللہ والحمد اللہ اس کے فون کی بل بھی
اسلام وعلیکم اس نے تھکی ہوئی آواز سے کہا
یار تم کہا چلی گئی کائنات پریشان ہوتے ہوئے بولی
تمہیں میم نے نہیں بتایا
کیا کیا نہیں بتایا
میم نے مجھے سکول سے نکال دیا
کیا کائنات نے چونک کر کہا
ہاں
کیو ں اور تم مجھے بنا بتاۓ چلی گئی
تو اور کیا کرتی میں آپ سیٹ تھی اور ویسی بھی میرے سر میں درد تھا ۔
او اچھا تم ریسٹ کرو میں کل آوگئی وہاں مل کر تمہارے لیے نئی جاب ڈھونڈے گے اوکے باے اللہ خافظ
خم اللہ خافظ اس نے بیزاری سے کہا فون بند کر کے وضو کیا پھر نماز ادا کرنے لگی نماز ختم ہو چکی تھی۔ عریشہ نے آہستگی سے ہاتھ اٹھائے، پلکیں بھیگی ہوئی تھیں۔ چہرہ تھکا تھکا مگر پُرامن لگ رہا تھا۔
"یا اللہ… شکریہ، تُو نے مجھے حیا دی، ایمان دیا، ہدایت کا راستہ دکھایا…"
اس کی آواز دھیمی تھی، جیسے دل بول رہا ہو، زبان نہیں۔
"مجھے آج سکول سے نکال دیا گیا… لیکن میں جانتی ہوں، تُو میرے ساتھ ہے۔ تُو ہی مجھے سنبھالے گا۔"
ایک ہلکی سی مسکراہٹ اُس کے آنسوؤں میں چھپ گئی۔
"یا اللہ… مجھے حوصلہ دے، صبر دے، اور ہمت دے کہ میں تیرے راستے پر ثابت قدم رہوں۔ مجھے ایسا بنا دے کہ لوگ میرے کردار سے تُجھے پہچانیں… آمین۔"
اس نے آہستہ سے چہرہ ہاتھوں میں چھپایا، جیسے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہو۔
×××××××××××××××××××××
نسٹ اسلام آباد کی ٹوپ ٹن یونیورسٹی میں سے ایک ہے اور یہ میکینیکل انجینرنگ یونیورسٹی پاکستان کی مشہور ترین یونیورسٹی ہے ۔اس کے ہر ڈپارٹمنٹ ایک کیفے ہے مگر یہاں کے دو مشہور کیفے Concordia 1 اور Concordia 2 ہے ۔
اس وقت کونکورڈیاں 1 میں گہما گہمی تھی مرد اور عورتیں کھانا کھانے اور خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔طلحہ شہریار بلیک پینٹ اور بلو شرٹ میں اس وقت ہاتھ میں فون پکڑے کھانے میں مصروف تھا۔
طلحہ مائے ڈالینگ میں تمہیں کب سے ڈھونڈ رہی تھی تہریم نے بھیٹے ہوئے جھلملا کر کہا
کیوں خیریت طلخہ نے کھانا کھاتے ہوئے کہا
تمہیں پتا ہے شام کو ایک بڑا کنسرٹ ہونے والا ہے میں وسیم اور رمیز جارہے ہیں تم چلو گے تہریم نے چہک کر کہا
ہاں یہ کوئی کہنے کی بات ہے ۔ اس نے لاپروائی سے کہا
ٹرن ٹرن اس کے فون نے رنگ کیا
ڈیڈ کا فون اسے فکر ہوئی
ہیلو ڈیڈ طلخہ
کہا ہو ان کی رعب دار آواز گونجی
وہ ڈیڈ میں یونیورسٹی ہوں کیوں
جلدی واپس آؤ
مگر کیوں ڈیڈ وہ پریشانی سے بولا
ابھی کے ابھی گھر آؤ واپس ان نے کال کاٹ دی
کیا ہوا تہریم نے چونکہ کر کہا کیا کہا تمہارے ڈیڈ نے
پتا نہیں وہ مزید پریشان ہو چلو میں جارہا ہو باے
دعا کرو بچت ہو جائے ورنہ کنسرٹ میں نہیں جا پاؤں گا اوکے وہ فون اٹھا کر باہر کو بھاگا
مگر طلحہ تہریم نے اسے روکنا چاہا
یار سمجھا کرو ڈیڈ غصے میں ہے پتا نہیں کیا ہوا انھیں
اچھا پھر کال کر کے بتانا اوکے تہریم فکر مندی سے بولی
ہاں اوکے باے
×××××××××××××××××××××
شہریار ملک پاکستان کے مشہور بزنس مین ہے ان کا بزنس پاکستان دور دور علاقوں تک پھیلا ہوا ہے اس وقت وہ اپنے بنگلے نما گھر کے ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ہاتھ میں ٹی وی کا ریموٹ پکڑے چینل بدل رہے تھے ۔
سامیہ شہریار کچن میں اپنی پرانی اور فرمانبردار ملازمہ شازیہ کو حکم دینے میں مصروف تھے ۔
ان نے بلیک لونگ گاؤن پہن رکھا تھا اور بال ہلے رول کیے ہوئے تھے ۔ہلکا پھلکا میکپ کیے وہ کہی جانے کو تیار تھی
دیہان سے کرو میرا اتنا کمیتی سیٹ ہے یہ وہ سخت لیجے میں بولی
مام مام طلحہ بوکھلا ہوا ان کے پاس آیا
کیا وہ بات کرتے کرتے چونکی آ گئے تم
مام ڈیڈ نے مجھے فون کیا وہ بہت غصے میں تھے طلحہ نے پریشان سے کہا
"ادھر آؤ، صاحبزادے
اوکے وہ ان کے پاس صوفے پر بیٹھے ہوئے بولا
تمہارے پروفیسر میراج کا فون آیا تھا (اس کے پروفیسر جو کہ شہریار کے بہت اچھے دوست دراصل ان کے جاسوس جو اس کی ہر حرکت پر نظر رکھتے تھے)
بابا ایسا کچھ نہیں ہے ۔ میں ساری کلاسز اٹینڈ کرتا ہو وہ گھبراتے ہوئے بولا
تمہیں کیسے پتا میں تمہاری کلاسز کی۔ بات کرنے والا ہو انھیں وہ ابرو چڑھا کر بولے
وہ ڈیڈ اس نے ماتے کو چھوا ۔ وہ۔۔۔۔دراصل
ہاں بول دو جھوٹ ۔ باب سے یہی تربیت کی ہے تمہاری ماں نے تمہاری ماں تھوڑا کیٹی پارٹی سے فارغ ہو تو پتا چلے گھر کوئی شہ ہے ۔ اب غصے کا رخ ان کی طرف تھا ۔
میں نے کیا کیا ہے ہمیشہ مجھے نہ بلیم کیا کریں ۔اگر اپنا تھوڑا سا وقت نکال کر اگر آپ ہم توجہ دیتے تو آج ایسا نہ ہوتا سامیہ نے غصے سے کہا
بہرحال اسے سمجھا دو ایک ہفتے تک اس کا گھر سے نکالنا اور پاکٹ منی بند اگر ایک ہفتہ اس نے ساری کلاسز نہ لی تو یہ میرے ساتھ آفس جائے گا ان نے اٹل لہجے میں کہا
بٹ ڈیڈ
میں نے جو کہا سن لیا تم نے شہریار نے اس کی آنکھوں میں غصے سے دیکھتے ہوئے کہا
جی ڈیڈ وہ بے زار ہوا
سلمان گاڑی نکالو وہ باہر جاتے ہوئے بولے
تم فکر نہ کرو میں سمجھاؤ گی انھیں سامیہ نے اس کے۔ کھندے پر ہاتھ رکھا
ان کے ہاتھ کھندے سے کھٹکا کر وہ غصے میں اپنے کمرے کی طرف بڑھا
طلحہ کام ڈاؤن وہ پیچھے سے پکار رہی تھی
×××××××××××××××××××××××
تھوڑا ریسٹ کرنے کے بعد وہ بہتر محسوس کر رہی تھی فون پر ٹائم دیکھا مغرب کی نماز کا وقت نکالنے کو تھا ۔ اس نے جلد سے وضو کیا اور نماز ادا کر کے سورہ الواقعة پڑھی تلاوتِ قرآن کے بعد کمرے سے باہر آئی
امی ٹی وی لاؤنچ میں ٹی وی لگائے سبزی کاٹ رہی تھی ۔ان کا پسندیدہ ڈرامے لگا ہو تھا۔
اٹھ گئی تم اسے باہر نکالتے دیکھ کر پوچھا
جی بابا کہا ہے ان کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی
وہ کام سے باہر گئے ہوئے ہے ۔ اب طبیعت کیسی ہے تمہاری
بس بہتر ہو امی
چلو اچھا ہے اب کچھ دن سکول سے آف کرلو دو دن بعد خنین کی شادی بھی ہے ۔
جی اس نے کہا
( امی کو بتاؤں جاب کے بارے میں یا نہیں ۔ خنین کی شادی کے بعد نئی جاب ڈھونڈ لو گی ) اس نے دل میں سوچا
کیا سوچ رہی ہو امی رک کے اسے دیکھنے لگی
آہ کچھہ نہیں دے مجھے یہ میں کرتی ہو ۔ آپ رہنے دے وہ ان کے ہاتھ سے لیتے ہوئے بولی ۔
ارے تم تھکی ہوئی آئی ہو سکول سے میں کر لو گی
اب ٹھیک ہوں میں دے مجھے
اچھا چلو ٹھیک ہے ان نے ہار مان لی
کل تیار رہنا دونوں چلے گئے شاپنگ پر اپنے لیےکچھ اچھے سے کپڑے لے لیا تمہارے بابا نے پیسے دیے ہے
جی اس نے بس اتنا ہی کہا اور کچن میں کھانے کا انتظام کرنے لگی۔
ولید نے کتنے دن ہو گئے فون نہیں کیا پتا نہیں کیسا ہوگا میرا بچا نصرت پریشانی سے بولی ۔
وہ ٹھیک ہوں گے امی آپ پریشان نہ ہو بعد میں کال کرو گی انھیں پھر آپ بات کر لیجیئے گا ۔
ارشد محبوب اریشہ کے والد میڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ان کا چھوٹا سا کپڑے کا کاروبار تھا ۔ ان کی بیوی نصرت ان دونوں کی دو اولادیں تھی ایک ولید ارشد اور دوسری اریشہ ارشد ۔ ولید شادی تھا اور اس کی بیوی بینش اور ایک سال کی بیٹی فاطمہ الگ کرائے کے گھر میں رہتے تھے
بینش الگ گھر میں رہنا چاہتی تھی ۔جس پر ارشد محمود نے اعتراض کیا مگر ان دونوں نے کوئی بات نہ مانی اور الگ گھر میں شفٹ ہوگئے ۔اب وہ ان کے بغیر رہنے کے عادی ہو گئے تھے ۔
××××××××××××××××××××
وہ اپنے کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے تیار کھڑا تھا ۔سٹاہلیش ہیر کٹ گرے جینز میں اوپر بلیک کوٹ کھولا ہو تھا جس کے اندر بلیک ونٹر شرٹ پہنے ہوئے تھوڑا سا اور سپرے کر کے مطمعین ہوا۔
کہا جا رہے ہو ۔سامیہ نے اسے تیار ہوتے دیکھ کر پوچھا
ایک کنسرٹ میں جا رہا ہوں مام وہ سادہ انداز میں بولا
چکھ یاد ہے تمہارے ڈیڈ نے کیا کہا تھا
مھجے یاد ہے مام وہ بیزار ہوا
تم پھر بھی جا رہے ہو ان نے خیرانی سے پوچھا
مام یہ کھوکھلی دھمکیاں مجھے پر اسر انداز نہیں ہوگی اوکے سو بائے وہ فون اور والٹ اٹھا کر باہر نکالا
مگر طاخہ ان نے بے بسی سے کہا
باے
طلحہ واپس آؤ ابھی سامیہ نے اونچی آواز میں کہا
اوکے مگر کنسرٹ کے بعد گاڑی سے ہاتھ باہر نکال کر اس نے کہا
وہ دانت پستی اسے جاتا دیکھ رہی تھی
××××××××××××××××××××
امی آجائے میں نے کھانا لگا دیا ہے اس نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا
کیا ہوا امی وہ پریشان سی لگ رہی تھی ۔
تمہارے ابا ابھی تک نہیں آئے بیٹا اللہ خیر کرے
کچھ نہیں ہوگا امی وہ آتے ہی ہونگے آپ کھانا شروع کریں وہ سمجھتے ہو بولی ۔
سبخان اللہ والحمد اللہ فون بار بار رنگ کر رہا تھا
آپ کھائے میں اٹھاتی ہو امی کو کہ کے وہ کمرے میں چلی گئی
اسلام وعلیکم ہیلو کون
دوسری طرف سے آواز آئی
کیا یااللہ وہ پریشانی سے بولی
جی اچھا ہم آتے ہیں کون سا ہاسپیٹل میں جی جی اوکے اللہ خافظ
امی امی وہ باہر کو بھاگی
کیا ہوا اللہ خیر کرے اتنا گھبرائی ہوئی کیو ہو۔
امی دکان سے فون آیا تھا بابا کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے
کیا یا اللہ کہا ہے وہ
وہ ہاسپیٹل میں ہے چلیں جلدی کریں ہم نے ہاسپیٹل جانا ہے
ہاں چلو جلدی کرو یا اللہ انھیں اپنے خفظوں امان میں رکھنا آمین
امین چلے جلدی کریں میں چابیاں لاتی ہو وہ عبایا پہنے چلی گئی
××××××××××××××××××××××
یہ پنجاب کا ایک سرکاری ہسپتال تھا وہ اور نصرت امرجنسی وارڈ کے باہر بینچ میں بیٹھی بار بار اللہ سے دعائے مانگ رہی تھی ۔
ایک گھنٹے سے ڈاکٹر اندر تھے نا جانے وہ کس خال میں تھے
اریشہ میرا دل بھیٹا جا رہا ہے نصرت رونے لگی
پریشان نہ ہوں امی کچھ نہیں ہوگا انھیں میں نے بھائی کو کال کی ہے وہ آرہے ہوں گا سب ٹھیک ہو جائے گا مھجے اپنے اللہ پر پورا بھروسا ہے۔
ڈاکٹر باہر نکلی تو وہ بھی کھڑی ہو گئی
پیشنٹ کے ساتھ کون ہے ڈاکٹر باہر نکالتے ہوئے بولی
اسلام وعلیکم ڈاکٹر بابا کی طبیعت کیسی ہے
اب خطرے سے باہر ہے لگتا ہے کوئی گہرا صدمہ ہوا ہے انھیں خیر میں کچھ دوائیں لکھ کر دے رہی ہو باقاعدہ وقت پر کھلانی ہے ۔ اور کچھ دن مکمل ریسٹ کروائیے انشاللہ وہ جلد ہی بہتر ہو جائے گے۔
جی شکریہ وہ اتنا ہی کہ پائی
ہم ان سے مل سکتے ہیں ۔ سامیہ نے کہا
جی کچھ دیر میں انھیں روم شفٹ کر دے گے آپ مل لیجیے گا
جی شکریہ اس نے سکھ کا سانس لیا
یاللہ آپ کا بہت بہت شکریہ میرے پیارے اللہ اس نے دل میں کہاانھیں کمرےمیں شفٹ کیے کافی ٹائم ہو چکا تھا اریشہ ان کے پاس بیٹھی تھی جبکہ نصرت کھڑی تھیں ۔
اریشہ کا نقاب کافی بیگ چکا تھا رونے کی وجہ سے البتہ نصرت اب سمبل چکی تھی ۔
مجھے کچھ نہیں ہو میرا بیٹا میں بلکل ٹھیک ہو
بابا کیا ہوا تھا آپ کو آپ کو پتا ہے میں اور امی کتنا پریشان ہوگئے تھے ۔حدا نخواستہ اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو میرا اور امی کا کیا ہوتا۔
اس پل ارشد کا دل کانپا اگر انھیں کچھ ہو جاتا تو ان کی بیٹی کا کیا ہوگا انھیں جلد سے جلد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا ان نے دل میں ایک فیصلہ کیا
ارشیہ
ولید اور بینش اندر داخل ہوئے بینش نے تین سال کی فاطمہ کو گود میں اٹھایا ہوا تھا ۔
بھائی ارشیہ کھڑی ہوئی
ابو کی طبیعت کیسی ہے ولید نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا ۔
اب بہتر ہے الحمد ڈاکٹر کل تک ڈسچارج کر دے گے ۔
ابو ولید ان کے قدموں میں بھیٹا
ان نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا
مجھے سے بات نہیں کریں گے آپ
سامیہ اسے کہوں کہ یہاں سے چلا جائے میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا ہوں ۔
ولید تم باہر جاؤ میں بات کروں گی ان سے وہ اس وقت کوئی تماشہ نہیں چاہتی تھی ۔
جی ولید آنسوں پونچھ کر کھڑا ہوا۔وہ اور بینش باہر نکالے گئے
دیکھ لیا آپ نے آپ نے اپنی جاب کی نہیں کی بھاگ بھاگ آئے مگر یہاں کسی کو پروا ہی نہیں آپ کی کیسے منہ پھیر لیا آپ سے ان نے میں تو کہتی ہو واپس چلتے یہاں ویسے بھی ہمارے کسی کو ضرورت نہیں ۔ وہ بینچ میں بیٹھتے ہوئے بولی
ولید کھندے ڈھیلے کیے پریشان میں ڈوبا تھا
وہ دونوں بھی باہر اگئی
بیٹآ وہ ابھی ناراض ہیں ان کی باتوں کو دل پر مت لینا
امی آپ اور اریشہ گھر جائے بہت ٹائم ہو چکا ہے میں رات کو ابو کے پاس ہی رہو گا بینش تم بھی فاطمہ کو لے کر امی کے ساتھ جاؤں کل ابو ڈسچارج ہو جائے گے پھر ہم گھر چلے جائیں گئے
مگر ولید
میں آپ لوگوں کے لیے کیب بک کرواتا ہوں وہ بینش کو اگنور کرتے ہوئے بولا
×××××××××××××××××××××××
اللہ تعالیٰ نے گانے کو نا پسندیدہ قرار دیا ہے کیوں کہ یہ ہمارے ایمان کو تباہ کرتا ہے ہمارے اندر وبال پیدا کرتا ہے ہمیں صحیح غلط کی پہچان بلا دیتا ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گانا دل میں نفاق کو اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو اگاتا ہے
اسلام آباد میں اس وقت پاکستان کے بیسٹ ریپر سنگر بوہیمیا کا کنسرٹ ہو رہا تھا ۔سب مرد عورتوں ڈانس میں مشغول حدا کو بُھلائے بیٹے تھے
وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ڈانس کر رہا تھا ۔ پاکٹ میں اس کا فون تھرتھرا رہا تھا ریپسونگ اس کے فیوریٹ تھے وہ پاگلوں کی طرح ہیڈ بیگنگ میں مصروف تھا
اپنے کمرے میں بھیٹے شہریار لگاتار تین کال کر چکے تھے ۔ وہ غصے سے پاگل ہو رہے تھے ۔
سامیہ بیڈ میں بیٹی ہاتھوں میں کچھ لگا رہی تھی ۔
ان نے فون بیڈ میں پھینکا
جب میں نے ایک بار منع کیا تھا پھر کس کے کہنے سے باہر گیا ہے تمہارا لاڈلہ
میں نے تو کتنا منع کیا تھا مگر وہ آپ کا ہی بھیٹا ہے آپ کی طرح زدی ہے وہ لاپروائی سے کہتے ہوئے سونے کے لیے لیٹ گئی ۔
شہریار اپنا سر پیٹ کر رے گئے
ٹرن ٹرن ٹرن
ان کا فون رنگ کیا ہیلو ان نے فون کان سے لگاتے ہوئے کہا
وعلیکم السلام ارشد یار کہا ہو آج کل آج کیسے یاد آئی اس پرانے دوست کی ان کا موڈ ایک دم بہتر ہوگیا
سب ٹھیک ہےاس وقت فون کیا بھابی اور بچے سب ٹھیک ہے
ہاں الحمد اللہ
اچھا میں کل لازمی چکر لگاتا ہو ہاں
اوکے اللہ خافظ۔
××××××××××××××××××
صبح اس کی آنکھ لیٹ کھلی ٹائم دیکھا تو آٹھ بج چکے تھے ۔ اس کی نماز بھی رہ گئی تھی ۔ وہ اٹھ کر باہر آئی جلدی سے بھائی کو کال کی ۔
ہیلو اسلام وعلیکم بابا ٹھیک ہے اب
اچھا انھیں کب ڈسچارج کریں گے ہاں اوکے میں بنا لو گی اس نے فون بند کرکے جلدی سے ناشتہ بنا پھر سب کو جگا کر ناشتے ک کہا
ولید کو فون کیا کیا کہا اس نے
جی امی وہ ایک دو گھنٹے میں آجائے بابا کو ڈسچارج کر دیا ہے ان نے وہ ناشتہ لگاتے ہوئے بولی
ناشتے کے بعد اس نے جلد سے گھر کی صفائی کی بینش نے ایک بار بھی اسے مدد کروانے کا نہیں کہا وہ آرام سے بیٹی فاطمہ کو فیڈر کر وا رہی تھی ۔ نہ ہی اس نے مدد کہا ویسے بھی وہ کون سا یہاں رہتے ہیں ۔مہینے میں ایک بار ولید آہ کے چند ہزار انھیں پکڑا کر چلا جاتا ۔ اب انہیں اس کے بغیر رہنے کی عادت ہو چکی تھی ۔
صفائی کے بعد وہ کچن میں چلی گئی بھائی آہ ہی رہے ہو گے ان کے لیے ناشتہ تیار کرنے لگی۔
ڈور بیل بجی تو اس نے جلد سے جا کے دروازہ کھولا ولید ارشد کو پکڑ کر اندر لا رہا تھا ۔ آجائیں بابا اس نے دوسری طرف سے ارشد کو سہارا دیا
لیٹ جائیں یہاں اس نے اور ولید نے بابا کو بیڈ میں لٹایا یہ ان کی دوائیں ہے ٹائم میں دینا
میں گوشت لاتا ہوں بابا کو سوپ بنا کر دینا اوکے وہ کہ کے باہر نکل گیا
ٹھوڑی دیر بعد وہ گوشت اور پھلوں کے ساتھ واپس آیا
اس نے لفافے اسے پکڑیا ابا کے لیے سوپ بناؤ انھیں سوپ پلانے کے بعد دوائیاں کھلا دینا اوکے
جی آپ بیٹھے میں ناشتہ لاتی ہو آپ کے لیے وہ کچن کی طرف گئی
نہیں ناشتہ بینش دہ دے گی مھجے تم ابا کے لیے سوپ بناؤ ولید کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے بولا
بینش مجھے ناشتہ دو
ہاں آرہی ہو فاطمہ کو ناشتہ کروا رہی تھی ۔ میں ابھی لاتی ہو وہ مھیٹی آواز میں بولی
×××××××××× ××××××××××
صبح کی دھوپ نے سارے محل کو روشن کر رکھا تھا شہریار سربراہی کرسی میں بیٹھے ناشتہ کرنے میں مصروف تھے ۔بلیک کلر کے کرتے میں ہو بے وقار لگ رہے تھے ۔ان کی ساتھ کرسی میں سامیہ ڈیزاینر لانگ بلو کمیز کے ساتھ ہم رنگ ڈوپٹا کہنے میں ڈالے سٹائل سے ناشتے میں مصروف تھی ۔
شازیہ
جی صاحب جی شازیہ بھاگتی ہوئی آگے آئی
طلحہ کہا ہے وہ بریڈ چھپاتے ہوئے بولے
وہ اپنے کمرے میں صاحب
بلا کر لاؤ ذرا
گوڈ مورنگ ایوری ون وہ مسکراتے ہوئے ڈاہنگ ہال میں داخل ہوا
کہا تھے تم رات کو
میں کمرے میں تھا وہ بھیٹے ہوئے بولا
ٹھا ان نے زور سے ٹیبل پر ہاتھ مارا وہ دونوں بلبلا اٹھے
شرم آنی چاہیے تمہیں اپنے باب سے جھوٹ بولتے ہوئے ذرا شرم نہیں آئی ۔ رات کے دو بجے اپنے گھر میں چوروں کی طرح گھستے ہوئے زرا سا بھی تمہیں اپنے باپ کی عزت کا خیال ہے وہ زور سے دہاڑے
تم اندر جاؤ وہ شازیہ کو کہ کے ان کی طرف مڑی ایسا بھی کیا ہو گیا جو آپ یو نوکروں کے سامنے میرے بچے کو ذلیل کر رہے ہو
ذلیل ذلیل تو اس نے مجھے کر د مھجے میری برسوں مخنت کی کمائی تم ماں بیٹا آرام سے فضول کاموں میں برباد کر رہے ہو ۔
غصے سے اس کی آنکھیں سرخ ہوگئ وہ با مشکل خد کو کنٹرول کر رہا تھا
کم سے کم اسے ناشتہ تو کر لینے دیں
کرو ناشتہ کرو وہ غصے میں آگ بگولہ ہو کے باہر نکل گئے
طلحہ تم انھیں چھوڑوں تم ناش ۔۔۔۔
وہ واپس اپنے کمرے میں چلا گیا
×××××××××××××××××××
وہ کام سے فارغ ہو کے کمرے آئی تو ظہر کی نماز کا ٹائم گزر چکا تھا ۔ ارشد کہ ہارٹ اٹیک کی خبر سارے رشتے داروں کو مل چکی تھی ۔ہر گھنٹے کے بعد کوئی نہ کوئی ان کی حیرت دریافت کرنے آجاتا اس چکر میں اسے نماز کا ٹائم ہی نہیں ملا
ٹرن ٹرن اس کے فون نے رنگ کیا
اسلام وعلیکم ہیلو
وعلیکم السلام ہیلو اریشہ کیسی ہو میں صادیہ ہو
میں الحمد اللہ ٹھیک ہوں آپی آپ کیسی ہے
الحمد اللہ میں بھی ٹھیک ہوں ۔ کل میں نے مدرسے میں میلاد النبی صلی اللہ علیہِ وآلہ وسلّم کی محفل کا اہتمام کیا ہے ۔یہاں سے پڑنے والے پہلے بیج کو سرٹیفکیٹ ملے گے ان میں تم بھی شامل ہو کل تم نے لازمی آنا ہے ۔
جی آپی انشاءاللہ میں لازمی آؤ گی ۔
ماشاءاللہ چلے پھر کل مدرسے میں ملاقات ہو گئی اللہ خافظ
جی ٹھیک ہے انشاءاللہ اللہ خافظ وہ پرجوش سے بولی
صادیہ آپی اس کی مدرسے کی آپی تھی وہ شروع سے ہی ان سے ہی پڑتی آرہی تھی اب اس کا مدرسے کا کورس مکمل ہونے کے بعد اریشہ کا اپنا مدرسہ کھولنے کا ارادہ تھا مگر ارشد کی بیماری کی وجہ سے وہ اپنا مدرسہ بھولتی جاری تھی ۔حیر اب جب اسے سرٹیفکیٹ مل رہا ہے تو وہ انشاللہ جلد ہی اپنا مدرسہ بنائیں گی۔وہ پرجوش ہو کر ٹی وی لاؤنچ میں آئی صوفے پر ایک بڑی عمر کے لیکن شاندار پرسنالٹی والے مہمانوں کو دیکھ کر رک گئی ۔
یہ اریشہ ہے وہ جو انھیں دیکھ کر حیران تھی چونک کر امی کی طرف دیکھا
اسلام وعلیکم بھیٹا کیسی ہو
وہ کھڑے ہوئے اور شفقت سے ہاتھ اس کے سر پر رکھتے ہوئے کہا
م۔۔ میں ٹھیک ہوں الحمد اللہ وہ انھیں پہچان نہیں پائی اس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا اگر ان کے آنے کا پتا ہوتا تو نکاب کر کے آتی شرم سے اس کا منہ لال ہو گیا ۔
مھجے نہیں پہچانا تمہارے باب کا دوست ہو میں شہریار
پہلے جب دیکھی تھی بہت چھوٹی تھی اب تو بڑی ہو گی ہے ماشاءاللہ
وہ نصرت کو دیکھتے ہوئے بولے
جی بھائی بھٹیاں جلدی بڑی ہو جاتی مسکراتے ہوئے بولی
میں چائے لاتی ہو وہ کچن میں بھاگی ۔
اچھا بھابھی زرا ان برخوردار کو جگائے میں ذرا کلاس تو لو وہ واپس بھیٹتے ہوئے بولے
جی بھائی میں انھیں اٹھاتی ہو وہ کمرے میں چلی گئی
اس شدید شرمندگی محسوس ہوی
پاگل لڑکی ہو تم بھی اریشہ دھیان ہی نہیں ہوتا کیسی چیز کا وہ چائے کا پانی چلئے پر رکھتے ہوئے خودکلامی ہوئی
××××××××××××××××××××
شہریار ارشد کے مقابل صوفے پر بیٹھے ہوئے ان سے باتے کر رہے تھے ۔ نصرت کچن میں چلی گئی
وہ یاد ہے تمہیں ہم سر پرویز کو کیسے چکما دے کر بھاگ آتے تھے شہریار ہستے ہو بتا رہے تھے ۔ارشد ان کی بات پر ہسنے لگے وقت کتنی جلدی گزر جاتا ہے ۔ مھجے بہت برا لگا
تم نے مھجے اپنی حالت کے بارے میں کیوں نہیں بتایا وہ سنجیدگی سے بولے۔
جو ہونا تھا ہو گیا تمہیں بتا کے کیا پریشان کرتا وہ نر لہجے میں بولے اس وقت میں نے تمہیں ایک حاصل مقصد کے لیے بلایا ہے ۔ ایک احسان ہے اگر تم مجھ پر کرلو تو مجھ لگے گا میں اپنی ہر پریشان سے آزاد ہو
کیا پریشانی ہے تم مجھے بتاؤ میں ضرور مدد کرو گا وہ ارشد کی طرف دیکھتے ہوئے بولے
اریشہ اب بڑی ہو چکی ہے اور میری خالت کا تمہیں ہی پتا ہے ولید نے شادی کے بعد ہم سے منہ موڑ لیا ہے سوچتا ہوں اگر مجھے کچھ ہو گیا تو میری بچی کا کیا ہو گا۔ اچھے رشتےبہت مشکل سے ملتے ہے اور میں اپنی زندگی میں اریشہ کو جلد سے اس کے گھر خوش دیکھنا چاہتا ہوں وہ نرمی سے بولے
اللہ نہ کریں ارشد تم کیسی باتیں کررہے ہوں تمہیں کچھ نہیں ہو گا اور جہاں تک خیال اریشہ کا ہے تو وہ میری بھی بیٹی ہے میں اس کے لیے ابھی تم سے اپنے بھیٹے طلحہ کا رشتہ مانگتاہو وہ ان کی طرف دیکھیں لگے
تم سچ کہ رہے ہو شہریار وہ امید سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولے
بلکل ارشد مھجے بھی اپنے بیٹے کے لیے اچھی لڑکی کی تلاش تھی ابھی جب اریشہ کو دیکھا تو مھجے اپنے بیٹے کا خیال آیا اریشہ اور نصرت چائے لے کر اندر آرہی تھی جب ان کی آواز سے اس کے قدم رک گئے
وہ آگئے بڑے اور اسے کے سر پر ہاتھ رکھا آج سے تمہاری بیٹی میرے بیٹے کی امانت ہے اس گھر میں وہ مسکراتے ہوئے بولے
ارشد کی بوڑھی آنکھوں میں آنسوں جاری ہوگئے
ان نے والٹ سے کچھ پیسے نکال کر اس کی طرف بڑھائے
یہ لو بیٹا
وہ شاکی نظروں سے انھیں دیکھ رہی تھی لو اریشہ امی نے اشارہ کیا
شہریار نے پیسے اس کے ہاتھ میں رکھے اور دلاسہ دیے کر واپس بیٹ گیا نصرت اسے چائے سرف کرنے لگی
مگر بھائی صاحب سامیہ بھابھی
اسے میں سمجھا دو گا بھابھی آپ اس کی فکر نہ کریں بس
نکاح کی تیاریاں کریں انشا اللہ کچھ دنوں میں دونوں کو لے کر آؤ گا۔
وہ بہت کچھ بول رہے تھے مگر اریشہ اپنے کمرے میں آگئی
دل بہت بے چین ہورہا تھا اس نے جلدی سے وضو کیا اور مصلہ پر بھیٹ گی
**"یا اللہ…
مجھے نہیں معلوم وہ کیسا ہے…
لیکن تُو سب جانتا ہے۔
میرے لیے اسے آسان بنا دے۔
میرے دل کو صبر دے، اور میرے پردے کو اس کے دل کی عزت بنا دے۔
یا رب…
میرے دل میں جتنی دعائیں ہیں،
سب تیرے سامنے رکھ دی ہیں…
بس تُو میری زندگی کو اپنی رضا کے سائے میں لے آ۔
میرے سجدوں کو برباد نہ کرنا، یا اللہ…
بس تُو راضی ہو جا… بس تُو راضی ہو جا…"**
وہ دیر تک سجدے میں رہی —
خاموش… پر اندر سے بہت کچھ کہہ چکی تھی۔
تمہیں یاد آؤں گی..
جب پہاڑوں پر برف اُترے گی،
جب ہر طرف خاموشی چھا جائے گی،
جب پتے جھڑ جائیں گے،
جب ساون لوٹ آئے گا،
جب رم جھم دل بہلائے گی،
جب پھول کھل اٹھیں گے…
"میں تمہیں یاد آؤں گی..."
جب تنہائی کاٹ کھائے گی،
جب رشتے ٹوٹ جائیں گے،
جب آنکھیں نم ہو جائیں گی،
جب اذیت چھا جائے گی،
"میں تمہیں یاد آؤں گی..."
جب اندھیرا طاری ہوگا،
جب سویرا روٹھ جائے گا،
جب دنیا ستائے گی…
جب العنکبوت اپنے جال پھیلائے گا…
تب بھی… "میں تمہیں یاد آؤں گی!"
یہ ایک سادہ مگر پرسکون سا گھر تھا… جس پر "دارالعلوم" کا بینر لہرا رہا تھا۔
مدرسہ نیچے، اور اوپر رہائش۔
شازیہ آپی، اپنے والد کا خواب پورا کر رہی تھیں — ایک روشن مدرسہ، باحیا بیٹیوں کے لیے۔
اریشہ اندر داخل ہوئی تو شازیہ آپی سامنے ہی تھیں۔
"السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپی!"
"وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ، اریشہ… کیسی ہو؟"
دونوں گرمجوشی سے ملیں۔ کچھ دیر باتوں کے بعد وہ اُس کمرے میں جا بیٹھی جہاں میلاد ہونا تھا۔
قالینوں پر سفید چادریں، سامنے منبر، اور بہت سی باپردہ لڑکیاں…
اس نے اپنی پرانی سہیلیوں (فیضہ، ماہرہ، ام ہانیہ) کو بھی دیکھا۔
"تم کب شادی کرو گی؟ ماہرہ کو اب سہیلیوں کی شادی کی پریشانی کھائیں جا رہی تھی
اریشہ مسکرائی جب اللہ چاہے گا۔"
ہنسی خوشی باتیں ہو رہی تھیں جب فیضہ نے خوشی سے سرگوشی کی
"تم خالہ بننے والی ہو…"
ماہرہ شرما گئی، اور سب لڑکیاں کھلکھلا اٹھیں۔
اسی دوران شازیہ آپی تشریف لائیں اور محفل کا آغاز ہوا۔
ماہرہ نے تلاوت کی، نعتیں ہوئیں، اور آخر میں شازیہ آپی کی دل ہلا دینے والی تقریر
ایسا دل، جو اللہ کے آگے جھک جائے۔
ایسا دل، جس میں عاجزی ہو، محبت ہو، خوفِ خدا ہو، صبر ہو، اور سکون ہو…
انہوں نے آیاتِ قرآنی، احادیث، اور حضرت محمد ﷺ کی مثال سے واضح کیا کہ اللہ کے محبوب بندے وہ ہوتے ہیں جن کا دل نرم اور مطمئن ہو۔
آخر میں شازیہ آپی نے کہا:
> "یہی قلبِ مخبت ہے — جو انسان کو اللہ سے جوڑ دیتا ہے۔"
ساری محفل میں خاموشی اور آنکھوں میں آنسو…
اریشہ کی پلکیں بھیگ گئیں۔
اسی لمحے اسے قرآن مکمل کرنے پر سرٹیفکیٹ دیا گیا — شازیہ آپی نے اس کا نام لیا،
"یہ میری پہلی طالبہ ہے… محنتی، باحیا، اور باصلاحیت۔"
اریشہ کی آنکھیں بھیگ گئیں… اس نے دل میں عہد کیا
"ایک دن، میں بھی اپنا مدرسہ کھولوں گی۔"
*******
شہریار اور سامیہ گارڈن میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔
"تیاری مکمل ہو گئی ہے۔" شہریار نے چائے کا سپ لیتے ہوئے پوچھا
کس کی؟"سامیہ حیرت سےکہا
"طلحہ کے نکاح کی۔
سامیہ ناراض ہوئی
"طلحہ راضی نہیں ہے، اور آپ زبردستی کر رہے ہیں۔"
شہریار نے نرمی سے کہا
"میں اس کا باپ ہوں، اس کی بہتری کے لیے کر رہا ہو
"بھلائی؟ کس بات کی بھلائی؟ آپ نے یہ بھی نہیں سوچا کہ لڑکی کون ہے، کہاں سے ہے، کس خاندان کی ہے!"
سامیہ کا لہجہ تلخ ہو گیا۔
"میں نے سب کچھ سوچا ہے، سامیہ۔ تم صرف ظاہر دیکھ رہی ہو، میں باطن دیکھ رہا ہوں۔"
شہریار کی آواز میں اب سختی آ چکی تھی،
"طلحہ کو اگر سدھارنا ہے تو اُسے کسی عریشہ جیسی لڑکی کی ضرورت ہے۔ وہ لڑکی اسے وہ سکون دے سکتی ہے جو تمہاری پسند کی کوئی لڑکی نہیں دے سکتی۔"
"اور اگر طلحہ نے اُس نکاح کو کبھی قبول نہ کیا تو؟ اگر اُس کی زندگی جہنم بن گئی تو؟"
شہریار نے نظریں سامیہ کی آنکھوں میں ڈال کر کہا:
"جہنم تو وہ ابھی جی رہا ہے۔ بے راہ روی، بدتمیزی، نافرمانی — کب تک چلے گا یہ؟ اگر میں آج کچھ نہ کروں، تو کل ہم اُسے کھو دیں گے۔"
سامیہ خاموش ہو گئی۔ الفاظ جیسے اُس کے گلے میں اٹک گئے ہوں۔
*******
طلحہ اپنے کمرے میں فلم دیکھ رہا تھا۔
چپس، کولا، آرام — مکمل دنیا سے لاپروا۔
شہریار نے کمرے میں داخل ہو کر کہا
"بیٹا، میں نے تمہارے لیے ایک لڑکی پسند کی ہے۔ ابھی صرف نکاح ہوگا، شادی بعد میں۔"
طلحہ کچھ کہہ نہ سکا۔
دل میں الجھن تھی۔
"ڈیڈ، میں ابھی ذمہ داری کے لیے تیار نہیں…"
شہریار نے نرمی سے سمجھایا:
"ابھی صرف نکاح ہے، تم دونوں ایک دوسرے کو جان پاؤ گے۔"
وہ سوچ دھوبی گیا
کیا سوچ رہے ہوں
"اوکے ڈیڈ… جیسے آپ چاہیں۔"
یہ جملہ نکلا، مگر دل میں ایک بھاری پن چھوڑ گیا
ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی
*******
شوکت خوشی سے چیخا
"نصرت! کل شہریار بھائی آ رہے ہیں نکاح کے لیے!"
نصرت کی آنکھوں میں آنسو…
"اللہ تیرا شکر ہے…"
اس نے اریشہ کو پکارا
"اریشہ بیٹا، سامان کی فہرست بناؤ…
جب ان نے بتایا
"کل تمہارا نکاح ہے…"
تو اریشہ کے قدم لرز گیے۔
دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
اریشہ تمہیں اس نکاح سے کوئی اعتراض تو نہیں ہے
"امی… مجھے اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں۔"
اریشہ نے بمشکل مسکرا کر کہا، مگر دل اندر سے کانپ رہا تھا۔
طلحہ پھر سے مووی دیکھ رہا تھا۔
سامیہ نے طیش سے کہا:
"یہ کیا سن رہی ہو میں؟ تم نے ہاں کر دی؟"
"ڈیڈ چاہتے تھے۔"
"اور تمہاری ماں کی مرضی کچھ نہیں؟ تمہارے دل کی کوئی پروا نہیں؟"
"اب اس گھر میں مرضی اُسی کی چلتی ہے جس کے پاس پیسہ ہے۔"
اس جملے نے سامیہ کا دل توڑ دیا…
اپنی ماں سے زیادہ تمہیں اپنے ڈیڈ کا حرام کا پیسہ عزیز ہے وہ جھلس کر رہ گئی
مام ریلیکس
کیا ریلیکس تم نے اسے ایک بار دیکھا تک نہیں اسے پتا نہیں کس حاندان سے ہے کس ذات کی ہے
مام مجھے ان چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا مجھے ڈیڈ کی پسند پر پورا بھروسہ ہے اگلے دو گھنٹوں کی بحث کے بعد وہ مانی
×××××××××××××××××××
دو لوگ… جنہیں ایک دوسرے کے بارے میں کچھ نہیں معلوم
ایک لڑکی… جو تقدیر کے آگے سر جھکا رہی ہے
ایک لڑکا… جو راضی ہے مگر راضی دل سے نہیں
کیا یہ رشتہ صرف ایک رسم ہے؟
یا کسی دعا کا صلہ؟
نکاح ایک عبادت ہے، جہاں محبت صرف جذبہ نہیں بلکہ ذمہ داری بن جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا پاکیزہ رشتہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے سکون اور رحمت کا ذریعہ بنایا ہے۔
آج ان کا چھوٹا سا لان مہمانوں کی آمد سے بھرا ہوا لگ رہا تھا ۔ لان کو وائٹ آرٹیفیشل فلاورز سے سجایا گیا تھا ۔ سب لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔
آج دو دل نہیں، دو ایمان ایک ہو رہے ہیں۔ یہ صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ ایک دعا کا قبول ہونا ہے۔
اریشہ کی سہیلیاں مل کر اسے تیار کرنے اور اسے چھیڑنے میں مصروف تھی ۔ وہ شرم کے مارے منہ جہکائے مسکرا رہی تھی ۔
اللہ کے حکم سے جب دو مسلمان نکاح کے بندھن میں بندھتے ہیں، تو ان کی زندگی میں برکت، محبت اور سکون نازل ہوتا ہے۔
اپنے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا طلحہ بال بنا رہا تھا ۔ اس نے بلیک سادہ کرتا پہنا ہو تھا ۔ بال جیل سے کھڑے کیے ہو پرفیوم کا چھڑکاؤ کرنے لگا اس کا چہرہ بے تاثیر تھا۔
نکاح وہ بندھن ہے جو صرف دنیا تک محدود نہیں، بلکہ جنت تک ساتھ لے جاتا ہے — اگر دونوں اللہ کی رضا کے راستے پر چلتے رہیں۔
سادہ سے لان پھلوں کی مہک سے جگمگا رہا تھا ۔ہلی سی سجاوٹ اور سفید کرسیوں پر بیٹھے مہمان دلھے کو ستائش سے دیکھ رہے تھے ۔وہ لاپروائی سے بیٹا فون کال میں مصروف تھا۔
جب رشتے اللہ کی رضا کے لیے بنتے ہیں، تو ان میں محبت بھی عبادت بن جاتی ہے۔
وہ خاموشی سے بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھوں پر مہندی کی خوشبو بسی تھی اور دل بےاختیار دھڑک رہا تھا۔ قاضی صاحب نے نکاح کے الفاظ دہرائے،
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔ اس نے ہلکی مگر واضح آواز میں "قبول ہے" کہا۔ لمحہ بھر کو کمرہ خاموش ہو گیا، پھر سب نے خوشی سے "ماشاءاللہ" کہا۔ دعاؤں اور محبتوں میں لپٹا یہ لمحہ اُس کی نئی زندگی کا آغاز تھا۔
نکاح کی ساری کاروائی مکمل کرنے کے بعد ان سب نے مسجد میں نماز جمعہ ادا کی
ارشد اب ہمیں اجازت دو شہریار جانے کے لیے کھڑے ہوئے
ارے ایسے کیسے کھانے وقت ہو گیا ہے یار بنا کھانا کھائیں تم یہاں سے نہیں جا سکتے وہ مان سے بولے
ارے نہیں یار کھانا پھر کبھی ابھی ایک امپورٹنٹ بزنس میٹنگ ہے۔ وہ گھڑی دیکھتیں ہو بولے
نہیں بلکل بھی نہیں ایسے کیسے بھابھی اور طلحہ پہلی بار ہمارے گھر آئے ہے بنا کھانا کھائیں آپ لوگ نہیں جاسکتے اس بار نصرت بولی
طلحہ صوفے میں بیٹا ساری کاروائی دیکھ رہا تھا ۔ جبکہ سامیہ شدید بیزار لگ رہی تھی ۔
انکل ہمیں طلحہ بھائی کی اور اریشہ کی نکاح کی تصویریں بنانی کیا آپ انہیں بول دے گے ۔ کائنات نے شرماتے ہوئے کہا۔
ارے کیوں نہیں بیٹا اس میں کون سی بڑی بات ہے اس سے پہلے کے ارشد کچھ کہتے شہریار مسکراتے ہوئے بولے
جاؤں بیٹا ان نے طلحہ کی طرف اشارہ کیا
یار مام اب یہ کیا ڈرامہ ہے وہ سامیہ کے کان میں بڑبڑایا
تمہیں ہی شوق تھا نہ ڈیڈ کی پسند کی لڑکی سے شادی کرنے کا تو اب بکتوں وہ تنزیہ مسکراتے ہوئے بولی
**********
یہ کیا کررہی ہو ۔ وہ اپنا مانگ ٹیکا اتارنے ہی والی تھی کے سارہ نے اسے روکا
کیا مطلب کیا کر رہی ہو یار نماز پڑھنے جارہی ہو ۔ اریشہ چونک کر بولی
خبردار ابھی کہی نہیں جارہی تم ابھی ہم نے تمہاری اور طلحہ بھائی کی تصویریں بنانی ہے ۔ وہ مسکراتے ہوئے بولی
کیا یار تمہیں پتا ہے میں تصویریں نہیں بناتی پہلے بھی تم سب نے مجھے ویسے ہی زبردستی اتنا تیار کر دیا اور اب تصویریں وہ روہانسی ہوئی ۔
یار مجھے پتا ہے تم پردا کرتی ہو ہم تمہارے فون میں تصویریں بنائیں گے پرامس وہ دونوں چہک کر بولی
مگر یار اس نے اجتجاج کیا
کوئی اگر مگر صرف پانچ منٹ لگے گے اوکے وہ اس کا ڈپٹے سے منہ ڈہکتے ہوئے بولی
اب یہ کیا ہے وہ مزید غضہ ہوئی مجھے شرم آرہی ہے میں ان سامنہ کیسے کرو گی وہ رونے کو تھی
یار اب ساری زندگی تمہیں ان کے ساتھ گزارنی ہے سامنا تو کرنا ہی ہے نا اس بار فضہ بولی
ہٹو ہٹو لڑکیوں دلہا صاحب ارے ہے کائنات نے سب کو چوکنے کیا
اسلام وعلیکم طلحہ بھائی un فضہ اور سارہ ہم آواز بولی
وعلیکم السلام وہ بے زار لگ رہا تھا ۔
وہ پاس رکھی کرسی کہسکا کر بیٹھ گیا ۔
وہ سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگی ۔البتہ اریشہ سر جھکا بیٹھی تھی ۔
خم خم اس بار فضہ نے گالا کہنگالا طلحہ بھائی
ام وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوا
آپ کا نکاح زبردستی ہوا ہے کیا
نہیں اس نے انجان بنتے ہوئے کہا
منہ کیوں لٹکایا ہوا ہے آپ نے اپنی دلہن کو ایک بار گھونگٹ آٹا کر نہیں دیکھیں گے ۔
او اچھا تو یہ بات ہے پھر یہ لو وہ جھٹ سے بڑا اور اس کا لال ڈوبٹا اٹھایا جس پر اس کا نام لکھا تھا۔
وہ ایک دم مسخور ہو گیا وہ ہلکے پھلکے میکپ میں سادہ اور معصوم سی گردن جھکا کر بیٹھی کنفیوز لگ رہی تھی ۔ اس کا دل دھڑکنے لگا ۔
یار بھائی تو فریز ہو گئے دونوں کھلکھلا کر ہنسی ان کے ہسنے پر وہ تھوڑا شرمایا
سارہ انھیں پوز بتاتی رہی اور تصویریں فضہ بنا رہی تھی ۔
اریشہ جبرن وہاں تصویریں بناوا رہی تھی ایک تو اسے ختم آرہی تھی اور اوپر سے نماز کا ٹائم جارہا تھا ۔ طلحہ بار بار اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
سارہ بس بس بہت تصویریں بنا لی ہے تم دونوں نے اب پلیز مجھے جانا ہے نماز کا ٹائم نکالا جارہاہے وہ ان کا جواب سنے بنا باہر نکل گئی
سو اب مجھے بھی اجازت دو وہ جانے کے لیے کھڑا ہوا
اوکے سارہ نے مسکرا کر کہا
ویسے وہ واپس مڑا وہ تصویریں مجھے بھی سینڈ کرنا اوکے
جی جی کیوں نہیں سارہ نے گردن کو حم دیا۔
گڈ وہ واپس کو مڑا
ارے رکے تو سارہ نے واپس آواز لگائی
کیا وہ واپس مڑا
نمبر دے گے تو سینڈ کرو گی نہ طلحہ بھائی وہ سب ہسنیں لگی ۔
اچھا لکھوں اس نے نمبر لکھ کر سارہ کے ہاتھ میں دیا اور باہر نکل گیا۔
*********
شہریار نے جانے سے پہلے کچھ پیسے اریشہ کے ہاتھ میں رکھے اور سر پر ہاتھ رکھ کر ڈھیروں دعائیں دینے کے بعد جانے کی اجازت چاہی اور اپنے گھر کو روانہ ہوئے
آپ خوش ہے اپنی منمانی کر کے سامیہ تیکھہ اندازہ میں بولی
بھیی ہم آج بہت خوش ہے شہریار سامیہ کو چھڑاتے ہوئے بولے مگر یہاں کوئی اور بھی ہے جو ہم سے زیادہ خوش ہے وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے پچھلی سیٹ پر بیٹھے طلحہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے جو مسلسل مسکرا رہا تھا
سامیہ نے اس کی طرف انگاروں بری نظر سے دیکھا
ارے مام ڈیڈ ہماری لڑائی کروانا چاہتے ہیں ۔ ورنہ آپ جانتی ہے مجھے کہا انٹریسٹ ہے شادی وغیرہ میں وہ معصوم شکل بنا کر بولا
جانتی ہو یہ سب تمہارے ڈیڈ کے کارنامے ہے اب توپ کا رخ واپس شہریار کی طرف تھا ۔ دیکھا تھا ان لوگوں کو مہمانوں کو بیٹانے تک کی جگہ نہیں ان لوگوں کے پاس اس گھر کی بیٹی ہماری بہوں بنے گی وہ شدید غصے میں تھی
سامیہ ان سب چیزوں سے کیا فرق پڑا ہے یہ سٹیٹس قوم ذات یہ سب پہلے کی باتیں ہے ہمیں بس اپنے گھر کی خوشیاں دیکھنی ہے اپنی اولاد کی خوشیاں اپنے گھر کے سامنے پہنچ کر ان نے ہارن بجایا جانتی ہو لائف پارٹنر وہ ہوتا ہے جو آپ کے ساتھ زندگی کے ہر مرحلے میں ہوتا ہے — آپ کا ساتھی، دوست، سہارا اور شریکِ حیات۔
بس بس میرے سامنے یہ فلمی باتیں کر کے مجھے آمادہ نہیں کر سکتے ہیں آپ وہ گاڑی سے باہر نکل گئی
طلحہ وہ کمرے میں جانے ہی والا تھا کے شہریار نے اسے آواز لگائی
یس ڈیڈ اس نے سوالیہ نظروں سے انھیں دیکھا
تمہیں تو کوئی پرابلم نہیں ہے نہ اس رشتے سے یہ نہ ہو کے بعد میں تم بھی اپنی ماں کی طرف مجھے کوستیں رہو وہ سامیہ کی شکاعتیوں سے بیزار ہو چکے تھے
نو ڈیڈ I am happy اس نے مسکراتے ہوئے بولی
ان کے دل میں سکون کی راحت ہوئی
بیٹا وہ بہت اچھی لڑکی ہے مجھے یقین ہے وہ ہمارے گھر کو جنت بنا دے گی وہ اس کے کھندے میں ہاتھ رک کر بولے
امید ہے ایسا ہی ہو طلحہ کھندے اچکھا کر بولا اوکے اب میں سونے کا رہا ہو اوکے گڈ نائٹ وہ اپنے کمرے کی طرف بھاگا.
کمرے میں آ کر کافی دیر تک وہ اریشہ کے بارے میں سوچتا رہا وہ اتنی خوبصورت تو نہیں مگر پھر بھی نہ جانے کیوں وہ اس کا چہرہ بھول نہیں پارہا تھا ۔ بار بار فون کو دیکھ رہا تھا کب سے وہ اس کی کال کا انتظار کر رہا تھا اسے لگا شاید وہ کال کریں گی مگر دیر رات تک انتظار کرتے کرتے وہ سو گیا
********
اللہ اکبر اللہ اکبر
فجر کی اذان کی ایک آواز اس کی آنکھ کھل گئی
اَلْـحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْهِ النُّشُوْرُ۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت (نیند) کے بعد زندہ کیا، اور اسی کی طرف (ہمیں) لوٹ کر جانا ہے۔ دعا پڑھے کے بعد اس نے وضو کیا اور مصلہ بیچا کر نماز ادا کی پھر اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں
"اے میرے رب!
جس طرح تو نے آج میرے نصیب میں یہ نئی زندگی لکھی،
اسی طرح میرے دل میں اپنے خوف اور اپنے دین کی محبت کو ہمیشہ کے لیے بسا دے۔
تو نے مجھے ایک رفیقِ حیات عطا کیا،
تو ہمیں ایک دوسرے کے لیے رحمت، سکون اور محبت بنا دے۔
ہماری اس رشتے کو صرف دنیاوی بندھن نہ بنا، بلکہ آخرت کا وسیلہ بھی بنا دے۔
میرے دل میں جو گناہوں کا بوجھ ہے، اسے اپنے کرم سے دھو دے،
اور اس نئی شروعات کو میری توبہ کی قبولیت کا آغاز بنا دے۔
اے دلوں کے مالک!
میرے حجاب کو میرے نکاح کے بعد بھی میری عزت بنا،
اور مجھے اپنے شوہر کے ساتھ دین کی راہ پر چلنے والا جوڑا بنا دے۔
آمین، یا رب العالمین۔"
نماز کے بعد اُس نے کمرے کی ترتیب سنواری۔ ہر شے کو نرمی سے چھوتی، جیسے نیا آغاز کرنے جا رہی ہو۔ بستر درست کیا، پردے کھولے اور میز پر پڑی کتابوں کو سلیقے سے رکھا۔
کچن میں جا کر ناشتہ بنایا۔ چائے کی خوشبو اور تلے ہوئے پراٹھے کی سنہری خستگی نے صبح کو مکمل کر دیا۔ ناشتہ کر کے اُس نے خود کو آئینے میں دیکھا—چہرہ پُرسکون، آنکھوں میں نئی روشنی۔
پھر اُس نے دھیان سے اپنا حجاب چنا، بیگ تیار کیا، اور ایک بار آخری بار دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر دل ہی دل میں دعا کی:
"یا اللہ، آج کے دن کو میرے لیے باعثِ خیر بنا، میری محنت کو قبول فرما اور میرے لیے روزی کمانے کا ذریعہ بنا دے "
پھر وہ اعتماد سے دروازہ کھول کر باہر نکلی گھر سے تھوڑی دُوری پر ایک نیا سکول کھلا تھا جو کے بلو سٹار کی دوسری برانج تھی اسے امید تو نہیں مگر پھر بھی اس نے بھاری دل کے ساتھ سکول میں قدم رکھا ۔
جیسے ہی وہ سکول کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی، اُس کے قدم تھوڑے دھیمے ہو گئے۔ نیا ماحول، اجنبی چہرے، اور دل میں ہلکی سی گھبراہٹ۔
مین گیٹ کے ساتھ ہی دائیں طرف ایک چھوٹا سا بینچ پڑا تھا، جہاں ایک درمیانی عمر کی عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ چالیس سے اوپر کی عمر، سانولا رنگ، جھریوں سے بھرا چہرہ، آنکھوں میں ایک خاص مٹھاس۔
اسلام وعلیکم
وعلیکم السلام آیا نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
میں یہاں جاب کے انٹرویو کے لیے آہی تھی
آپ بیٹھیں سر آنے ہی والے ہو گے آیا نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
جی شکریہ اریشہ ہلکہ سا مسکرائی
وہاں ایک گراؤنڈ میں دو پچے کھیل رہے تھے باقی وہاں کوئی نہیں تھا شاید وہ کچھ زیادہ ہی جلدی آگئی تھی اسے دل میں ملال ہوا ا
آیا اسے وائس پرنسپل کے آفس میں بیٹھا کر چکی گئی تھی
تقریبا آدھے گھنٹے بعد آیا نے اسے پرنسپل کا بتایا
اوک کوئی بات نہیں اریشہ یہ جاب نہ بھی ملی تو کوئی بات نہیں دنیا میں اسکولز کی کمی نہیں ہے وہ حد کو سمجھا رہی تھی
اسلام وعلیکم
وہ جو نظریں جھکائے دل میں کچھ سوچ رہی تھی ایک دم چونکی
وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ
سو میم اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
اریشہ جانگیر اس نے اعتماد سے کہا
اوکے مس اریشہ جانگیر جیسے کے میں نے آپ کو فون میں بتایا تھا کے آپ کا میم شمائلہ نے مجھے بتایا تھا ۔ وہ ایک انتس تیس سال تک کا لڑکا تھا ہلکا سانولہ مگر ہینڈسم مگر سنجیدہ
according to her آپ مونٹیسوری کے لیے اچھی ٹیچر ہے سو میں آپ کا ڈیمو نہیں لوگا کیوں میم شمائلہ پر مجھے پورا یقین ہے ۔آپ کے three days trials ہو گے ان میں ہم آپ کی abilities کو جج کریں گے اگر آپ ہماری ڈیمانڈ میں پوری اتری تو ہم آپ کو رکھ لے گے سو "If you agree, you can join us starting tomorrow."
میں آج سے شروع کر سکتی ہو اس نے ایک پل میں فیصلہ کر لیا
صدرہ ان نے آیا کو بلایا sure
یس سر میم اریشہ کو ان کی کلاس بتا دو
یس سر آیا نے سر ہلایا
اریشہ بیگ اٹھاتے ہوئے کھڑی ہو ۔ بہت شکریہ وہ مدہم آواز میں بولی
اُسے تھرڈ کلاس دی گئی تھی۔ وہ بچوں کو بہت محبت اور محنت سے پڑھا رہی تھی۔ معصوم بچوں کی چمکتی آنکھیں اور دلچسپی سے بھرا ہوا انداز اُس کے دل کو خوشی دیتا۔ وہ دل سے چاہتی تھی کہ ہر بچہ کچھ نہ کچھ نیا سیکھے، آگے بڑھے۔
دو تین بار پرنسپل بھی کلاس میں آئے، خاموشی سے پیچھے کھڑے ہو کر اُس کی تدریس کا جائزہ لیا۔ بعد میں اُسے گائیڈ بھی کیا، سراہا بھی اور چند تدریسی مشورے بھی دیے۔ عریشہ ہر بات توجہ سے سنتی، سیکھنے کی لگن اُس کے چہرے سے عیاں تھی۔
دن طویل لگ رہا تھا، جیسے گھڑی کی سوئیاں تھک گئی ہوں۔ بچوں کی چھٹی کا وقت جیسے دُور ہوتا جا رہا ہو۔ لیکن آخرکار وہ لمحہ بھی آیا جس کا اُسے شدت سے انتظار تھا۔ چھٹی کی گھنٹی بجی، بچوں کی خوشی سے بھری آوازیں کمرے میں گونج اٹھیں۔
عریشہ نے جلدی سے پرنسپل سے اجازت لی اور بیگ اُٹھا کر باہر نکل پڑی۔ سورج کی روشنی کچھ نرم ہو چکی تھی، اور ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی۔ اُس کے قدم تیز تھے، جیسے گھر پہنچنے کی بےتابی ہو۔
ابھی وہ اسکول کے گیٹ سے باہر نکلی ہی تھی کہ فون بج اُٹھا۔ اُس نے جلدی سے پرس سے موبائل نکالا، اسکرین پر ایک انجان نمبر جگمگا رہا تھا۔ اُس نے ہلکی سی الجھن کے ساتھ کال اُٹھائی۔
"اسلام علیکم، کون؟" اُس نے نرمی سے پوچھا۔
"وعلیکم السلام!" دوسری طرف سے خوش دلی اور مانوس انداز میں جواب آیا۔
"سوری، میں نے پہچانا نہیں، کون؟" اُس نے پیشانی پر بل لاتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔
"ارے! پہچانا نہیں؟ میں طلحہ ہوں… آپ کا شوہر!" دوسری طرف سے شوخی سے کہا گیا۔
اُس کے قدم ایک دم تھم گئے۔ جیسے وقت لمحہ بھر کے لیے رک گیا ہو۔ دل کی دھڑکن اچانک تیز ہو گئی۔ چہرے پر حیرت اور اضطراب کی ملی جُلی کیفیت چھا گئی۔
"آپ کو یہ نمبر کہاں سے ملا؟" اُس نے آہستہ مگر مضبوط لہجے میں پوچھا۔
آپ کو میرا نمبر کس نے دیا اس نے اپنا سوال دہرایا
ویل نمبر لینا میرے لیے کوئی بڑی بات نہیں۔
سارہ نے وہ سمجھ چکی تھی
ہاں سارہ سے لیا ہے اور کچھ
دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔ جیسے لفظ کھو گئے ہوں۔
خیر، فون اس لیے کیا ہے کہ میرے کچھ دوستوں نے نکاح کی خوشی میں لنچ پلان کیا ہے۔ کل دوپہر کو تیار رہنا میں لینے آ جاؤں گا
عریشہ ایک لمحے کو ساکت ہو گئی۔
"کیا آواز میں حیرانی بھی تھی اور الجھن بھی۔
طلحہ کا لہجہ اب قدرے تلخ تھا
اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ بیوی ہو تم میری۔ اپنے ساتھ لے جانا کوئی جرم تو نہیں
نہیں… وہ مطلب… ہمارا نکاح ابھی کل ہی ہوا ہے اور… اس طرح باہر جانا… تھوڑا عجیب لگ رہا ہے۔
عریشہ نے گہرا سانس لیا… اچھا میں پاپا سے پوچھ کے آپ کو بتاؤں گی۔
طلحہ کا لہجہ ذرا سخت ہو گیا
اب تمہیں پاپا سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، تم اب میری بیوی ہو… تمہاری ذمہ داری اب مجھ پر ہے۔
وہ پل بھر کو خاموش رہی… پھر دھیمے مگر مضبوط لہجے میں بولی
ابھی صرف نکاح ہوا ہے… رخصتی نہیں۔ ابھی میں آپ کے گھر کی نہیں، اپنے گھر کی بیٹی ہوں۔
طلحہ کی سانس جیسے اندر رک گئی ہو…
تو مطلب تمہارا شوہر ہونا کچھ معنی نہیں رکھتا
ایسا ہرگز نہیں ہے، لیکن کچھ رشتے وقت مانگتے ہیں… اور کچھ فاصلوں کو عزت دینا پڑتی ہے۔
طلحہ کو جیسے اس جواب کی توقع نہیں تھی۔
اس نے لمحے بھر توقف کیا… پھر تلخ لہجے میں بولا
ٹھیک ہے… جیسے تمہاری مرضی۔ میں کال کا انتظار کروں گا۔
اس کے لہجے میں واضح بے زاری تھی۔
میں انتظار کروں گا باے اس نے کال کاٹ دی
***********
گھر آ کر اس نے نصرت کو طلحہ کی کال کا بتایا
میں منع کرو
کیوں ان نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
میرا دل نہیں چارہا
اس میں کون سی بڑی بات ہے وہ کہ رہا ہے تو چلی جاؤ نصرت لاپروائی سے بولی
مگر امی مجھے عادت نہیں ہے ان چیزوں کی پتا نہیں وہاں کس طرح کے لوگ ہو گے آپ کو پتا ہے مجھے ان چیزوں سے الجن ہے وہ روہانسی ہوئی
دیکھوں بیٹا وہ تمہارا شوہر ہے اب اس کی فرمانبرداری تم پر فرض ہے اور ویسے بھی چند گھنٹوں کی بات
اس کے لاکھ منع کرنے کے باوجود امی نے اسے زبردستی جانے کے لیے راضی کر لیا
شوکت نے بھی اسے بنا کوئی سوال کیے اجازت دے دی مگر اس کا دل بوجھل تھا
کیوں یہ وہ خود نہیں جانتی تھی
***********
اگلا دن اسے نصرت کے کہنے پر جلدی چھٹی لے کر آنا پڑا آج اس کا سکول میں دوسرا دن تھا ۔ چونکہ ٹرائیل تھا اس لیے انھیں کوئی احتراز نہیں ہوا
وہ آئینے کے سامنے کھڑی نکاب پہن رہی تھی جب امی نے اسے طلحہ کی آمد کا بتایا
وہ لائیٹ پینک لان کے خوبصورت ڈیزائنر لانگ کمیز کے ساتھ کھلا سیمپل ٹروزار پہنے ہوئے تھی ۔ نفاست کے ساتھ ہم رنگ ہیجاب کیے ہوئے تھے ڈریس کا ڈپٹا اس نے کھندے ڈال دیا حود کو اچھی طرح نیحارنے کے بعد وہ بیگ کھندے میں لٹکائیں باہر آگئی
اسلام وعلیکم
وہ چائے پی رہا تھا اس کی آواز سن کر گردن اٹھا کر اسے دیکھا
اس نے غور سے اس کے پورے سراپے کا جائزہ لیا پھر نظرین اس کے نکاب پر ٹک گئی
چلے وہ اس کی نظروں میں جھلکتی ناپسندیدگی کو دیکھ چکی تھی
وہ بنا کچھ بولے باہر نکالا وہ بھی اس کے پیچھے باہر چل پڑی
وہ فرینٹ سیٹ کا ادروازہ کھل کر اندر بیٹ گئی
وہ کار وینڈو کے باہر بھاگتے ہوئے درختوں کو دیکھ رہی تھی دل میں بار بار آیت قرسی پڑھ رہی تھی پہلی بار وہ کسی انجان مرد کے ساتھ اسے بھیٹی تھی وہ اس کا شوہر تھا مگر وہ ان کمفر ٹیبل تھی۔
تم نے یہ چہرے پر کیا لپیٹ رکھا ہے اسے اتاروں وہ بہت غیر آرام دہ ہو رہا تھا جیسی وہ اس کی بیوی نہیں ناجانے کون مولینی بیٹی ہے
میں اس میں کم فرٹیبل ہو اس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا
مگر میں نہیں ہو وہ سامنے دیکھ رہا تھا
مجھے کوئی مسلئہ نہیں ہے تو آپ کو بھی نہیں ہونا چاہئے
تم جانتی ہو میں تمہیں وہاں کیوں لے کر جارہا ہوں سب دیکھنا چاہتے ہیں تمہیں
میں کوئی شو پیس نہیں ہو وہ سخت مگر ٹھنڈے لہجے میں بولی تم جانتی ہو، وہاں صرف میرے قریبی دوست ہوں گے۔ کوئی باہر کا بندہ نہیں۔ وہ سب میرے بھائیوں جیسے ہیں، تو تمہیں ان کے سامنے اس طرح جانے کی کیا ضرورت ہے؟
طلحہ نے ناگواری سے کہتے ہوئے ایک نظر اس کے نقاب پر ڈالی۔
اریشہ نے نگاہیں وینڈو پر رکھتے ہوئے دھیمے لیکن مضبوط لہجے میں جواب دیا
"وہ آپ کے بھائی ہوں گے، میرے تو نہیں۔
طلحہ نے طنزیہ ہنسی ہنسی،
"اوہ، تو تم ان لڑکیوں میں سے ہو؟
اریشہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
وہ خود ہی بولتا چلا گیا
"مجھے ایسے نکاب والی لڑکیاں پسند نہیں، جو خود کو آسمان سے اترا فرشتہ سمجھتی ہیں۔ دو باتیں کرنا بھی مشکل ہو، ہر بات پر مذہب کی دلیل پکڑا دینا۔
وہ اب سڑک پر نہیں، خود اپنے لہجے پر زور دے رہا تھا۔
اریشہ نے پرسکون انداز میں کہا،
اگر اپنی حدود میں رہنا آپ کو فرشتہ بننے جیسا لگتا ہے، تو مجھے وہ بھی قبول ہے۔نا چاہتے ہوئے ہوئے بھی بہت ہرٹ ہوئی تھی ۔ اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا
طلحہ نے ہلکی سی طنزیہ ہنسی ہنسی، پھر کندھے اچکا کر کہا
"میں بہت سی ایسی لڑکیوں کو جانتا ہوں جو نقاب کرتی ہیں… اور اندر سے کیا کچھ کر رہی ہوتی ہیں، یہ کسی سے چھپا نہیں۔
اریشہ کے اندر کچھ ٹوٹا۔
پل بھر کو خاموشی چھا گئی۔
اس کی انگلیاں بیگ کی زپ پر ٹھہر گئیں۔ دل تیز دھڑکنے لگا، آنکھیں پلکوں کے پیچھے نم ہونے لگیں… لیکن چہرہ ویسا ہی پُرسکون رہا۔
اس نے آہستہ سے کہا،
"آپ نے میری چادر پر الزام لگایا ہے، میرے کردار پر نہیں۔ اور اگر نقاب کرنے والی چند لڑکیاں آپ کو گمراہ لگی ہیں… تو شاید آپ کی نظر نے انہیں ویسا بنایا ہو
اب وہ رو دینے کو تھی
گاڑی روکے
کیا طلحہ نے چونک کر اسے دیکھا
میں نے کہا گاڑی روکے وہ نہایت سخت لہجے میں بولی
طلحہ کو شدید جھٹکا لگا اس نے گاڑی روکی تو وہ بیگ اٹھا کے ہاتھ نکال گئی
وہ بھی اس کے پیچھے باہر نکلا کہا جارہی ہو گھر جارہی ہو وہ بنا رکھے اگھے بڑھتی گئی
وہ تیز قدموں سے اس کے پیچھے آیا اور بے ساختہ اس کا کاندھا تھامنے کی کوشش کی۔
اریشہ ایک دم چونک گئی۔ اس نے فوراً پیچھے ہٹتے ہوئے اپنا دوپٹہ مضبوطی سے سنبھالا۔
اس کی آواز بھیگ گئی تھی، مگر لہجہ اب بھی ٹھہرا ہوا تھا،
دور رہیں… ہاتھ نہ لگائیں۔
طلحہ نے قدم پیچھے کھینچے، کچھ کہنے کے لیے لب ہلے، مگر الفاظ نہیں نکلے۔
اریشہ نے گردن جھکا لی، جیسے ضبط کے آخری کنارے پر کھڑی ہو۔
"آپ میرے شوہر ہیں، لیکن اس رشتے کا مطلب صرف اختیار نہیں ہوتا… اعتماد بھی ہوتا ہے۔ اور وہ ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا۔
وہ آہستگی سے پلٹی، اور سیدھے قدموں کے ساتھ آگے چل پڑی۔
طلحہ نے صرف خاموشی سے اسے جاتے دیکھا… وہ واپس گاڑی میں بھیٹا ہی تھا کے رمیز کی کال آگئی
ہیلو
کہا ہو یار تم دونوں ہم کب سے ویٹ کررہے جلدی آؤ
یار میں نہیں آسکوں گا ابھی
کیوں بھائ کیوں نہیں آئے گا خیریت تو ہے
ابھی کار ڈرائیو کر رہا ہو بعد میں کال کرتا ہو اسنے کال کاٹ دی
طلحہ نے بےچینی سے اسٹیئرنگ پر ہاتھ مارا، اور نظریں سامنے جما دی
***********
وہ بے دردی سے آنسوؤں صاف کرتی ہوئی آگئے جا رہی تھی آنسوؤں جو بہت دیر ضبط کیے ہوئے تھے وہ اپنا ضبط کہو بیٹھے تھے ایک لاوہ کی طرف باہر نکلنے کو بے تاب تھے مگر ابھی وہ نہیں رونا چاہتی تھی اس لیے ضبط کیے جارہی تھی
وہ تیزی سے چلتی جا رہی تھی۔ قدم بےسمت تھے، مگر دل کا شور بڑھتا جا رہا تھا۔ آنسو مسلسل آنکھوں سے بہہ رہے تھے اور وہ انہیں بار بار بے دردی سے صاف کر رہی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہاں جا رہی ہے، بس ایک ہی خواہش تھی—یہ سب ختم ہو جائے، وہ لمحہ، وہ احساس، وہ سب کچھ۔
اریشہ! گاڑی میں بیٹھو! طلحہ کی آواز اس کے پیچھے گونجی، لیکن وہ رکی نہیں۔
اریشہ، پلیز رُک جاؤ! اس نے آگے بڑھ کر اس کا راستہ روک لیا۔
مجھے مت روکے طلحہ! اس نے آنکھیں اُٹھا کر غصے میں کہا۔ میرے پاؤں سلامت ہیں، میں خود جا سکتی ہوں، بہت شکریہ! وہ سخت لہجے میں بولی
وہ گاڑی سے باہر نکلا
اوکے ام سوری مجھے معاف کر دو اب چلوں
میں نے کہا نا میں چلی جاؤ گی ہٹے میرے راستے سے
دیکھوں تمہیں باحفاظت پہنچانا میری ذمیداری ہے میں نے تمہیں لایا تھا اگر ڈیڈ کو پتا چلا تو وہ غضہ ہو گے
وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی
اس نے اپنے زور دے کر کہا پلیز
چند لمحے کی خاموشی... پھر وہ آہستگی سے گاڑی کی طرف بڑھی۔ طلحہ نے دروازہ کھولا، وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔ خود بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کی۔
پورا راستہ خاموشی سے کٹا..
وہ کچھ بولے بغیر دروازہ کھول کر اتر گئی۔
وہ اسے دور جاتے دیکھ رہا تھا
The marriage happened your way, Dad…
but somewhere along the way, I lost mine.
اس نے گہری سانس لی اور گاڑی واپس موڑ لی
*********
جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوئی، نصرت بیگم کچن میں برتن دھو رہی تھیں۔ عریشہ کی آہٹ سنی تو چونکیں،ہاتھ جھاڑ کر برتن چھوڑتے ہوئے اس کے قریب آئیں۔
کیا ہوا بیٹا؟ سب خیریت تو ہے؟
عریشہ نے نقاب چہرے سے ہٹایا، اور ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر سجا لی — وہی بناوٹی مسکراہٹ، جو اندر کی سچائی کو چھپانے کی ناکام کوشش تھی۔
جی وہ… بس آپ…
الفاظ حلق میں اٹکنے لگے۔
نصرت بیگم نے غور سے اس کی آنکھوں میں دیکھا،
کیا ہوا عریشہ؟ کچھ چھپا رہی ہو؟ ابھی تو گئے تھے تم لوگ، کھانا بھی کھایا یا نہیں؟
عریشہ نے نظریں چُرا کر چادر سنبھالی،
اصل میں راستے میں گاڑی کچھ دیر کو خراب ہو گئی تھی، پھر طلحہ نے کہا ویسے بھی وقت نکل چکا ہے، تو واپس آ جاتے ہیں۔
نصرت بیگم نے ماتھے پر بل ڈالے،
ارے! مگر وہاں تو تمہارے انتظار میں ہوں گے سب؟ کیب کروا لیتے، یا کسی ٹیکسی میں چلے جاتے
،
"طلحہ نے انھیں فون کر کے معذرت کر لی تھی… کہنے لگے بعد میں کبھی سہی۔عریشہ نے نظریں نیچی رکھتے ہوئے جواب دیا
نصرت بیگم مطمئن تو نہ ہوئیں، مگر بیٹی کی تھکن کو دیکھ کر خاموش ہو گئیں۔
عریشہ آہستہ قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔
دروازہ بند کیا، چادر اتاری… اور جیسے پورے بدن پر بوجھ سا آ گیا ہو۔
ایک طوفان اندر تھا، ایک سکوت باہر۔
طلحہ کی وہ باتیں دماغ میں گونجنے لگیں:
مجھے ایسے نکاب والی لڑکیاں پسند نہیں، جو خود کو آسمان سے اترا فرشتہ سمجھتی ہیں…
میں بہت سی ایسی لڑکیوں کو جانتا ہوں جو نقاب کرتی ہیں… اور اندر سے کیا کچھ کر رہی ہوتی ہیں…
ہر جملہ، ایک تیر بن کر واپس دل میں لگتا جا رہا تھا۔
اس نے خود کو مضبوط کرنا چاہا،
مگر آنکھوں کی نمی اب ضبط سے باہر تھی۔
خاموش آنسو اس کے گالوں پر بہتے گئے۔
میں نے صرف اپنی حدود میں رہنے کی بات کی تھی…
میں نے کسی کو تکلیف نہیں دی…
پھر بھی میرے پردے کو طعنہ بنا دیا گیا…
اسے لگا جیسے وہ اس رشتے میں اپنا وجود گھٹاتی جا رہی ہو، اور جواب میں تذلیل مل رہی ہو۔
سمیٹتی جا رہی ہو۔
آج… وہ ٹوٹ گئی تھی۔
دل سے، لہجے سے، خوابوں سے۔
خاموش آنکھوں میں آنسو لرز رہے تھے۔
اس نے تھرتھراتے ہاتھوں سے اپنے آنسو پونچھے، دھیمے قدموں سے وضو کیا…
اور جائے نماز پر بیٹھ گئی۔
اپنے رب کے سامنے…
وہ سب کہنے جو کسی انسان کو نہیں کہہ سکی۔یا اللہ…
میری چادر کو تیری پناہ چاہیے۔
میرے وقار کو تیری رضا…
اگر یہ رشتہ میری آزمائش ہے، تو مجھے صبر عطا کر۔
اگر یہ شخص میری قسمت ہے، تو اس کے دل کو ہدایت دے۔
اور اگر یہ میرا حق نہیں، تو مجھے اس کی چاہ سے بھی آزاد کر دے۔
مجھے صرف وہی عطا کر، جو مجھے تیرے قریب کرے۔ آمین۔
کچھ دیر وہ سجدے میں ہی رہی،
جیسے وہاں سکون مل رہا ہو
*....**....**
چپکے چپکے دل میں جو طوفان پلتا ہے،
پردے کے پیچھے وہ خاموشی بھی چلتا ہے۔
نرمی سے جو جھکتی ہیں نظریں، کچھ کہے بغیر،
ان میں بھی ایک کہانی، ایک دعا سی پلتی ہے ہر پہر۔
جنہیں دنیا کمزور کہتی ہے، وہی رب کے قریب ہوتے ہیں،
سجدوں کی خوشبو سے مہکتے دل، نصیب ہوتے ہیں۔
یہ پردہ نہ کمزوری ہے، نہ قید کا در،
یہ تو عزت کا تاج ہے، جنت کا سفر۔
وہ سجدے کی حالت میں تھی مغرب کی اذان سے وہ چونکی اب وہ پُرسکون محسوس کررہی تھی ۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ میرے نکاب کے بارے میں کیا سوچتا یااللہ اگر یہ آزمائش ہے تو مجھے اس میں ثابت قدم رکھنا ۔وہ مسکرارہی رہی تھی ۔
××××××××××××××××××
اسلام آباد کی وہ شامیں جب سورج مارگلہ کی پہاڑیوں کے پیچھے ڈوبتا ہے، شہر سنہری روشنی میں نہا جاتا ہے۔ ہر طرف ایک پرسکون خاموشی ہوتی ہے، اور درختوں کی ہلکی ہلکی سرسراہٹ جیسے کسی نرمی سے کہی گئی دعا ہو۔ صاف ستھری سڑکیں، خوشبو بکھیرتے پھول، اور پہاڑوں کے دامن میں بسے اس شہر کی اپنی ہی ایک شان ہے — شفاف، مہذب، اور پر وقار۔
اسی شہر کے دل میں، بلیو ایریا کے قریب واقع "سیج کیفے اینڈ کریل ویسٹرنڈ" اپنے مخصوص ذائقوں اور خوبصورت انٹیریئر کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اندر داخل ہوتے ہی مہنگی خوشبوؤں، لکڑی کی نرم روشنیوں اور خفیف سی موسیقی کا امتزاج ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتا ہے۔
وہ درمیانی میز پر بھیٹا گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا وسیم اور رمیز اس کے سامنے بھیٹے ہوئے تھے
اس میں اتنا پریشان ہونے والی کون سی بات اگر وہ پردا کرتی ہے تو اچھی بات ہے نا ہر مرد کی یہ خواہش ہوتی ہے کے اس کی بیوی کو اس کے علاؤ کوئی نہ دیکھ وسیم اسے سمجھنا چارہا تھا
وہ بات نہیں ہے مجھے ایسی وائف چاہیے تھی جو میرے ہم قدم ہو میرے ساتھ زندگی کے ہر رنگ میں قدم سے قدم ملا کر چلے۔ جو میرے لائف اسٹائل کو سمجھے یونو "پردہ، نماز، محرم نا محرم… یہ سب اس کی دنیا ہے، اور میری دنیا اُس سے الگ ہے۔ وہ... اس رشتے کے لیے شاید فٹ نہیں ہے میں نے ہمیشہ چاہا کہ جب ہم کہیں ساتھ جائیں تو لوگ ہمیں دیکھ کر کہیں — یہ ایک مکمل جوڑا ہے
وسیم نے ہلکی سانس لی، مگر تم جانتے تھے کہ وہ پردہ کرتی ہے، پھر نکاح کیوں کیا؟"
ڈیڈ کی پسند تھی وہ اور میں تو اس کے بارے میں پہلے کچھ نہیں جانتا تھا وہ وہ جوس پیتے ہوئے بولا
تو تمہیں اپنے ہم مزاج لڑکی چاہیے تھی۔رمیز بولا
طلحہ نے نگاہیں میز پر گاڑ دیں، ہاں، مجھے ایسی لڑکی چاہیے تھی جو میرے ساتھ چلے، صرف میرے پیچھے نہیں۔ وہ جو میری ہمسفر ہو، ہمفکر ہو… صرف ایک سایہ نہیں۔"
وسیم کچھ لمحے خاموش رہا، پھر بولا، تمہارے انداز سے لگتا ہے تم یہ رشتہ نبھانا نہیں چاہتے۔
طلحہ نے کندھے جھٹک دیے،
"میں چاہتا ہوں، لیکن دل کے خلاف جینے کا ہنر نہیں آتا مجھے
رمیز نے گہری سانس بھری، کبھی دل کے ساتھ تھوڑا عقل کو بھی چلانا پڑتا ہے، طلحہ
دیکھ اب اس کا ایک ہی حل ہے یا تو اسے except کر لے یا چھوڑ دے
نہیں یار یہ ممکن نہیں ہے ڈیڈ مجھ آق کر دے گے
طلحہ نے پہلو بدلا، لیکن کچھ نہ کہا۔ باہر رات مزید گہری ہو چکی تھی — بالکل اُس الجھن کی طرح جو اس کے دل میں تھی۔
×××××××××××××××××××××
آج اسکول میں اُس کا تیسرا دن تھا۔ پچھلے دو دنوں کی طرح آج بھی پرنسپل سر نے اُس کی کارکردگی پر خصوصی نظر رکھی۔ وہ دل لگا کر بچوں کو پڑھاتی، خاموش طبع، باحیا اور اصولوں پر قائم رہنے والی۔
بریک ہوتے ہی ایک اسٹاف ممبر آیا،
"میم، سر نے آپ کو آفس میں بلایا ہے۔"
اریشہ نے نرمی سے سر ہلایا، چادر سنبھالی اور آفس کی طرف بڑھ گئی۔
دروازے پر دستک دی،
"سر، میں اندر آ سکتی ہوں؟"
"Yes, Miss Arisha, come in."
وہ دبے قدموں اندر آئی اور سامنے صوفے پر باادب انداز میں بیٹھ گئی۔ پرنسپل نے ایک نظر اُس پر ڈالی، پھر فائل بند کر کے گویا ہوئے:
ان تین دنوں میں آپ کی کارکردگی ہم نے بغور دیکھی ہے بچوں کے ساتھ آپ کا انداز، اسٹاف کے ساتھ آپ کا رویہ، سب کچھ متاثر کن رہا۔
وہ خاموشی سے سنتی رہی
"ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے ادارے کا مستقل حصہ بن جائیں۔ البتہ، چونکہ آپ نئی ہیں، اس لیے ابتدائی طور پر تنخواہ پندرہ ہزار رکھی گئی ہے۔"
ایک لمحے کے لیے اریشہ کے چہرے پر سکوت طاری ہو گیا۔ اس نے نظریں جھکا کر آہستگی سے کہا،
سر، میں آپ کے اعتماد اور ان الفاظ کے لیے تہہِ دل سے مشکور ہوں، لیکن معذرت کے ساتھ... یہ معاوضہ میرے موجودہ حالات کے لیے کافی نہیں۔
پرنسپل نے چونک کر اُسے دیکھا۔
سر، میں نے پورے دل سے یہ تین دن کام کیا، لیکن میرے گھر کی ضروریات اور میری ذمہ داریاں اس رقم سے پوری نہیں ہو سکتیں۔ شاید میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں یہاں مزید کانٹینیو کر سکوں۔
ام دیکھیے میم اریشہ… میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ ایک قابل اور محنتی ٹیچر ہیں۔ لیکن ہمارا اسکول نیو اوپن ہوا ہے، ابھی بچے بھی کم ہیں۔ بجٹ محدود ہے۔ اس لیے ہم ابتدائی طور پر صرف پندرہ ہزار کی سیلری دے سکتے ہیں۔ جیسے جیسے بچوں کی تعداد بڑھے گی، ہم سیلری میں اضافہ بھی کریں گے—آپ کی اور پورے اسٹاف کی۔
کمرے میں لمحہ بھر کے لیے خاموشی چھا گئی۔ اس کے لہجے میں تلخی نہیں تھی، بلکہ ایک تھکا ہوا وقار تھا۔ اس نے آہستگی سے اٹھ کر اجازت چاہی،
شکریہ سر، السلام علیکم۔
اور پھر وہ اپنے قدموں کی چاپ لیے آفس سے باہر نکل گئی... دل میں اک عجیب سی خالی سی ٹھہراؤ لیے۔
×××××××××××××××××××××××
حد ہوتی ہے، وہ تین دن پہلے نہیں بتا سکتے تھے؟ خامخواہ تم نے اتنے دن لگائے! کم سے کم ان تین دنوں کا معاوضہ تو دے دیتے
امی بہت غصے میں تھیں۔ ان کے لہجے میں بیٹی کے لیے دکھ بھی تھا اور بے بسی بھی۔
اریشہ نے دھیمے لہجے میں کہا،
کوئی بات نہیں امی… کہیں اور نوکری مل جائے گی، ان شاءاللہ۔
برا تو اُسے بھی بہت لگا تھا، لیکن وہ اپنی ماں کی طرح بےچین نہیں ہوئی تھی۔ اُس کا دل مطمئن تھا، جیسے یقین ہو کہ جو راستہ بند ہوا ہے، وہ اصل منزل کی طرف جانے کے لیے بند ہوا ہے۔
وہ اپنے اللہ پر پورا یقین رکھتی تھی — وہی بہتر عطا کرے گا
لمحے بھر کو خاموشی چھائی ہی تھی کہ اچانک دور بیل بجی۔
امی آواز سے چونکیں،
جاؤ، دروازے پر کوئی ہے۔
اریشہ دوپٹہ سنبھالتی تیزی سے باہر بھاگی، دروازہ کھولا تو سامنے انکل شہریار کھڑے مسکرا رہے تھے۔
السلام علیکم!
وعلیکم السلام انکل۔ وہ ہلکا سا چونکی، پھر جلدی سے بولی، کیسے ہیں آپ؟
الحمدللہ، بیٹا۔ تم کیسی ہو؟
جی، اللہ کا شکر ہے۔اندر امی کو آواز دی،
امی، شہریار انکل آئے ہیں۔
امی کچن سے نکلیں، چہرے پر حیرت اور خوش اخلاقی کے تاثرات لیے۔
ارے! وعلیکم السلام بھائی صاحب، آئیے، آئیے۔"
شہریار صوفے پر شوکت کے برابر بیٹھے، حال چال پوچھنے لگے۔
طبیعت کیسی ہے اب؟
نصرت نے سر ہلایا اور شکوہ بھرے لہجے میں بولیں
کیا بتاؤں بھائی صاحب… اپنا ذرا بھی خیال نہیں رکھتے۔ لاپروائی ہی لاپروائی۔ دوا وقت پر نہیں، کھانا بے وقت، اور اب تو وٹامنز بھی چھوڑ دیے ہیں۔
شہریار نے ہلکا سا قہقہہ لگایا،
بس، مردوں کی یہی فطرت ہے۔ جب تک کوئی زبردستی نہ کروائے، اپنی صحت کو سنجیدہ نہیں لیتے۔
امی بھی تھوڑا ہنس دیں، ماحول کچھ ہلکا ہوا
ویسے ہماری بیٹی کیا کرتی ہے۔ وہ چائے جارہی تھی جب شہریار نے اس سے پوچھا
انکل میں BS English کر رہی ہوں، تیسرے سمسٹر میں ہوں۔
کون سی یونی ورسٹی میں
اس نے نظریں جھکالی پراویٹ
کیوں پراویٹ کیوں
بھائی صاحب آپ تو جانتے ہے ولید جتنی رقم دیتا ہے اس سے بہ مشکل گھر کے اخراجات پورے ہوتے ہیں ۔ اس لیے یہ جاب کرتی ہے
"بیٹا... تم جو جاب کر رہی ہو، وہ اپنی جگہ، لیکن تمہاری تعلیم بھی بہت اہم ہے۔ ولید جو رقم دیتا ہے، اس سے بمشکل گھر کے اخراجات ہی پورے ہوتے ہیں، یہ ہم جانتے ہیں۔"
وہ تھوڑا رُکے، پھر محبت سے بولے
"ایسا کرتے ہیں... میں پروفیسر میراج سے بات کرتا ہوں، تمہارا داخلہ طلحہ کی یونیورسٹی میں کروا دیتے ہیں۔ وہیں ساتھ ساتھ پڑھائی مکمل کر لینا۔
ارے نہیں انکل اس کوئی ضرورت نہیں
اریشہ ٹھیک کہ رہی ہے بھائی صاحب اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے
کیوں ضرورت نہیں ہے بھابھی اریشہ اب صرف بہو نہیں... میری بیٹی ہبھی ہے۔ میری ہمیشہ سے خواہش رہی کہ میری بھی کوئی بیٹی ہو، جو میرے دل کے قریب ہو۔ اور اللہ نے اسے پورا کردیا
اریشہ کی پلکیں جھک گئیں، آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ لبوں پر ایک خاموش سی مسکراہٹ آ گئی۔
ان نے فون نکالا اور پروفیسر میراج کو کال ملائی
السلام علیکم مراج، شہریار بول رہا ہوں۔
ایک بات پر تمہاری رہنمائی چاہیے تھی۔
میری بہو ہے اریشہ... میں چاہتا ہوں اُس کا داخلہ تمہاری یونیورسٹی میں ہو جائے، طلحہ کے ساتھ۔
ذہین بچی ہے، کچھ سبجیکٹس پہلے پڑھ چکی ہے۔ تم ایک بار ایویلیوئیٹ کروا لو، اگر ممکن ہو تو داخلہ دے دینا۔
بہت شکریہ۔
یہ لو بیٹا، مراج تم سے تمہارے سبجیکٹس پوچھنا چاہتے ہیں۔ جو تم نے پڑھنے ہیں، وہ بتا دو۔
اریشہ نے آہستہ سے فون تھاما، چند لمحے بات کی اور پھر فون بند کر دیا۔
کیا کہا انہوں نے؟" شہریار نے پوچھا۔
انہوں نے کہا کہ BS English یہاں نہیں کروایا جاتا۔ اریشہ نے نرمی سے جواب دیا۔
"کون سے سبجیکٹس ہیں پھر؟" شہریار نے مزید پوچھا۔
"Mass Communication، Public Administration اور Psychology..." اریشہ نے بتایا۔
تھوڑی دیر خاموش رہی، پھر بولی، "میں نے Mass Communication رکھ لیا ہے۔"
بہت اچھا کیا بیٹا۔شہریار نے سر ہلاتے ہوئے کہا، کل طلحہ کے ساتھ یونیورسٹی چلی جانا، اور جو کتابیں وغیرہ درکار ہوں، وہ وہیں سے لے لینا۔"
اریشہ نے خاموشی سے سر ہلایا
وہ مطمئن اور پُرسکون لگ رہی تھی۔
گھر کے حالات ایسے نہیں تھے کہ وہ خود سے یونیورسٹی میں داخلہ لے سکتی،
مگر اللہ نے شہریار کو اس کا وسیلہ بنا دیا۔
وہ حیران بھی تھی... اور دل کے اندر کہیں شکر سے بھر گئی تھی

nice
ReplyDelete