یہ منظر دبئی کے بہت بڑے شہر راس الخیمہ کا ہے ۔اس شہر کو راس الخیمہ اس لیے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں خیموں سے مشاہبت رکھنے والے چھوٹے چھوٹے مکان ہیں
جو ساحل سمندر پر موجود ہیں ۔
وہ اس طرح کے چھوٹے چھوٹے کام کرنے کے لیے خود نہیں آتا تھا لیکن اس وقت سوال اس کے لایفٹ ہینڈ شارف کا تھا
وہ جو بچپن سے اس کے ساتھ تھا اس کے ہر کام میں برابر کا شریک ۔
آج وہ اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا وہ اس وقت دبئی کی ایک بہت بڑی جیل میں تھا ۔اس کا وفادار ساتھی اس پر جان نچھاور کرنے والے کو وہ اس طرح سے نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔
یہ سچ تھا کہ ڈان کو اس سے کوئی محبت نہ تھی اس کے ساتھ کوئی دلی وابستگی نہ تھی مگر وہ اس کے لئے جان دینے کا حوصلہ رکھتا تھا اور ڈان کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت تھی ۔
رات ایک بجے کا وقت تھا راس الخیمہ شہر دن میں جتنا ویران اور خاموش ہوتا رات میں اتنا ہی روشنیوں سے بھرا ہوتا ۔
اور ڈان اکثر اپنے کام روشنیوں میں کرنے کا عادی تھا کیونکہ اسے پتہ تھا ۔کہ گناہ کار کو اس کا گناہ نہیں بلکہ گناہ چھپانے کا طریقہ مار دیتا ہے
اس لیے وہ جو بھی کرتا کھلے عام کرتا وہ اپنے کسی بھی کام میں کوئی غلطی نہیں کرتا تھا ۔
شاید یہی وجہ تھی کہ 32 سال کی عمر میں وہ انڈرورلڈ کارڈان تھا ۔گناہوں کی دنیا میں قدم رکھتے ہی ڈان نے اس شہر میں ڈان نامی کہیں کیڑے مکوڑوں کو مسل ڈالا
دوبئی کا بچہ بچہ ڈان داڈیول کو جانتا تھا لیکن کوئی بھی اس کی شکل سے واقف نہ تھا
وہ اتنی صفائی اور ہوشیاری سے کام کرتا تھا کے ساتھ کھڑے خضر کو بھی پتا نہیں چلتا ۔
شارف بے گناہ نہیں تھا اس نے بھی کہیں گناہ کیے تھے لیکن جس چیز کا الزام ابھی اسے دیا جارہا تھا وہ اس نے نہیں کیا تھا اور ڈان کو یہ منظور نہ تھا کہ اس کی ٹیم میں کسی کو اس طرح سے ٹارگٹ کیا جائے
اسے جن لوگوں سے مطلب نہ ہوتا ان سے وہ کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا نہ ہی دوستی اور نہ ہی دشمنی لیکن
واثق ملک نے اسے سامنے سے لکارا تھا اس کے لایفٹ ہینڈ شارف پر الزام لگا کے اسے جیل کے اندر کروا دیا تھا اور یہی چیز ڈان کوغصہ دلارہی تھی ۔
واثق ملک جوکہ فون پر اسے دھمکیاں دے چکا تھا کہ وہ شارف کو پھانسی کے پھندے تک پہنچائے گا ۔اس وقت اس سے چھپ کر ان چھوٹے چھوٹے مکانوں میں سے کسی ایک مکان میں تھا ۔
اس نے واثق ملک کو کہا تھا کہ چھپنے سے بہتر ہے کہ وہ سامنے آ کر اس سے بات کرے لیکن واثق ملک نہ مانا اسی کی وجہ سے آج شارف ایک ہفتے سے زیادہ وقت سے جیل میں تھا۔
وہ ڈان کا لایفٹ ہینڈ تھا اسے جیل میں کسی چیز کی کمی نہ تھی اے۔ سی 'ٹی وی' بیڈ وہ ڈان کا خاص بندہ تھا اسے ہر چیز مہیا کی گئی تھی ۔
لیکن جیل سے زیادہ ڈان کو یہاں اس کی ضرورت تھی جس کی وجہ سے اس کا باہر ہونا ضروری تھا ۔
وہ تنگ گلی سے نکلتا ہوا ایک گھر کے اندر داخل ہوا جہاں اس کے کچھ آدمی ایک آدمی کو زمین پر بیٹھائے اس کے سر پر بندوقیں تانے کھڑے تھے ۔
وہ بالکل خاموشی سے آکر صوفے پر بیٹھ گیا اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا ۔
واثق ملک نے ذرا سی نگاہ اٹھا کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا ۔گنے کالے بال جو پیچھے کی طرف پونی میں بندے ہونے کے باوجود بھی ماتھے کو کور کیے ہوئے تھے ۔سرخ و سفید رنگت ۔سبز آنکھیں ہلکی ہلکی داڑھی ذرا ذرا سی موچ ۔وہ جب بات کرتا تھا اس کے گال پر ایک ڈمپل نمایاں ہوتا ۔لیکن یہ شخص ہنستا نہیں تھا ۔
اس لیے آج تک جس نے بھی اس کے گال کا ڈمپل دیکھا تھا اس سے بات کرتے ہوئے ہی دیکھا تھا ۔
بے شک وہ عربی شہزادہ ہنستے ہوئے بھی قیامت ڈاہتا ہو گا
جب کاٹنے کی اوقات نہ ہو تو بھونکنا بھی نہیں چاہیے وہ اس کے سامنے شان بے نیازی سے صوفے پر بیٹھتا ہوا بولا
اب تک واثق ملک کوڈان کے سامنے اپنی اوقات کا اندازہ اچھے سے ہو چکا تھا ۔
وہ اتنے چھوٹے سے علاقے میں آ کر چھپ کے بیٹھ چکا تھا لیکن ڈان نے اسے یہاں سے بھی ڈھونڈ نکالا ۔
مجھے معاف کردو ڈیول مجھ سے غلطی ہوگئی ۔تم جیسا کہو گے میں ویسا کروں گا پلیز مجھے مت مارنا ۔
اسے جیسے ہی اندازہ ہوا کہ اب وہ ڈان سے بچ نہیں سکتا وہ رونے لگا ۔
تم۔تمہیں ثبوت چاہیے نا اپنے آدمی کے بے گناہ ہونے کا میں تمہیں ابھی ثبوت دیتا ہوں وہ جلدی سے زمین سے اٹھنے لگا جب اس کے آدمیوں نے بندوق پر زور ڈال کر اسے واپس بٹھادیا
تمہیں کیا لگتا ہے اگر میں یہاں تک پہنچ سکتا ہوں تو کیا تم سے ثبوت نکالنا میرے لیے مشکل ہے وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھنے لگا
ویسے بہت صفائی سے کام کیا ہے تم نے مجھے تمہارا کام کرنے کا انداز پسند آیااس کے لہجے میں واثق ملک اپنا مذاق اڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا
تمہیں کیا لگتا ہے واثق میرے لیے شارف کو چھڑوانا مشکل ہے نہیں میں جب چاہوں اسے جیل سے نکلوا سکتا ہوں ایسے ایسے اس نے اپنے ہاتھ کی دو انگلیوں سے چٹکی اس کے آنکھوں کے سامنے بجاتے ہوئے کہا
تم جانتے ہو میں تمہیں کیوں ڈھونڈ رہا ہوں واثق ملک میں تمہیں شارف کے لئے نہیں بلکہ ان لڑکیوں کے لیے ڈھونڈ رہا ہوں جس کی ویڈیو تمہارے پاس ہے
وہ لڑکیاں جو باحفاظت ترکی میں ہیں لیکن ان کی فحاش ویڈیو آج بھی تمہارے پاس موجود ہیں
میں یہاں شارف کے لئے نہیں بلکہ ان لڑکیوں کے لئے آیا ہوں ۔
اس ویڈیو کا اورجنل پرنٹ میرے سامنے ریمو کرو اور باقی کی خود کرواؤ ابھی تمہارے پاس صرف 10 منٹ ہے ۔
اس نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا
لیکن اب میں کچھ نہیں کر سکتا وہ ویڈیو تو سائٹ پر ریلیز ہوچکی ہے ۔اب تو کرڑووں لوگ دیکھ چکے ہوں گے
کیا یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے ڈان نے اس کے سر پر بندوق تانتے ہوئے اس کی بات کاٹی ۔
نہ نہیں رکو میں کچھ کرواتا ہوں مجھے مت مارنا وہ پھر سے التجا کرنے لگا
دس منٹ ڈان کا لہجہ سفاک تھا ۔
اور پھر سامنے کھڑا شخص اسے اپنے کرتب دکھانے لگا اپنی جان بچانے کے لئے یہ شخص کچھ بھی کرنے کو تیار تھا وہ کپکپاتے ہاتھوں سے کبھی ایک طرف فون کرتا تو کبھی دوسری طرف ۔جبکہ اس کے آدمی اس کے گھر کی تلاشی لے رہے تھے ۔
کیونکہ جو بھی تھا اس کے سارے آدمیوں کا ریکارڈ بہت صاف تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ شارف کے خلاف بھی ایسا کوئی جھوٹا ثبوت رہے
اور پھر وہی ہوا دس منٹ کے اندر ان لڑکیوں کی ہر ویڈیو سائٹ سے ہر قسم کی دوسری فحاش جگہ سے دور کردی گئی ۔
وہ لڑکیوں جو شادی کے بعد اپنے خاوند کے ساتھ ہنی مون کے لیے یہاں آئی تھی ۔واثق ملک نے ہوٹل کے رومز میں کیمرہ لگا کر ان کی ویڈیوز بنائیں جینے بعد میں سائیڈ پر ریلیز کرکے بہت پیسہ کمانے کا ارادہ تھا ۔
وہ کپلز شاید یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ان کے ساتھ کیا ہونے جا رہا تھا ۔لیکن ڈیول جانتا تھا وہ جانتا تھا کہ ان کی زندگی کس طرح سے برباد ہو سکتی ہے ۔
ڈیول میں نے ہر قسم کا پرنٹ ریموو کروا دیا ہے لیکن وہ رکا
لیکن کیا۔۔۔۔؟ وہ غصے سے چلایا
ان ویڈیوز کا ایک پرینٹ پاکستان پہنچا دیا گیا ہے ۔اس کی بات سن کر ڈیول نے ایک نگاہ اپنے دائیں طرف کھرے خضر پر ڈالی جو کہتا تھا کہ اس کا ملک بہت پاک صاف ہے بہت نیک ہے ۔اس کے ملک میں کوئی فحاش کام نہیں ہوتا لیکن اب پاکستان بھی دنیا کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا خضر اس سے نگاہ نہیں ملا پا رہا تھا
کوئی بات نہیں پاکستان سے میں نکلوا لوں گا اسے ایک ہفتے بعد صدیق کی بیٹی معصومہ یہاں آنے والی ہے میں اسے کہہ دوں گا وہ لے آئے گی ۔خضر نے حل پیش کیا ۔تو ڈان اٹھ کر کھڑا ہوگیا اب اس کا یہاں کوئی کام نہ تھا
پھر پیچھے مڑا اور واپس اس کے سامنے آ کر رکا
جانتے ہو واثق لوگ کہتے ہیں کہ جس کا کوئی اپنا نہیں ہوتا وہ دوسروں کی ماں بیٹیوں کی عزت کرتے ہیں لیکن آج تم نے ثابت کردیا کہ یہ بات بالکل غلط ہے ۔
جن لڑکیوں کے تم نے وہ ویڈیو بنائی وہ ا بھی اپنی زندگی شروع کر رہی تھی ذرا سوچو اگر وہ ویڈیو ان لڑکیوں تک پہنچ جاتی تو کیا کبھی زندگی میں خود سے نظر ملانے کے قابل رہتی ۔
چوری کرو ڈاکہ ڈالو قتل کرو لیکن ڈیول زنا نہیں کرنے دے گا۔
تم ایک اچھے آدمی تھے وہ رکا
مگر تھے
واثق ملک کو بات سمجھنے کا موقع دینے سے پہلے ہی گولی چلی سامنے کھڑا وجود بے جان ہو گیا
💕
وہ صبح سات بجے کے اٹھی ہوئی تھی روز کی با نسبت آج کام اتنا زیادہ تھا کہ اسے عصر پڑھنے کا وقت بھی نہ ملا صبح سے سانس لینے کی بھی فرصت نہ تھی آج گھرمیں نو قسم کے کھانے بنائے گئے آخر رانیہ اپی کا رشتہ جو آرہا تھا ۔وہ اندر تیار ہو رہی تھی اپنی دو بہنوں تانیہ ماریا کے ساتھ
اس کے ہاتھ میں لذت تھی
وہ صبح سے ہی کچن میں گھسی تھی سب کام کر چکی تھی اسے تین بجے سے پہلے ہی گھر سے نکلنا تھا کیونکہ امی کا حکم تھا کہ جب تک یہ رشتے والے یہاں سے چلے نہ جائے تب تک اپنی شکل کسی کو نہ دکھائے ان کا گھر اتنا چھوٹا سا تھا کہ کوئی بھی چھپ کر نہ بیٹھ سکتا
پورے گھر میں صرف دو ہی کمرے تھے ایک میں جہاں ان کی بیٹیاں رانیہ تانیہ اور ماریا رہتی تھی دوسرا کمرا جہاں امی رہا کرتی تھی اور تیسرا کچن یہ اتنا چھوٹا سا گھر تھا کہ باہر کھڑے شخص کو پورا پورا کمرہ نظر آتا ۔
اس لئے امی کا حکم تھا کہ جیسے ہی کھانا بن جائے اور سارا کام ختم ہوجائے وہ جلدی سے یہاں سے اٹھ کر فاطمہ بی کے گھر چلی جائے ۔
کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ سوتیلی بیٹی ایک بار پھر سے اس کی بیٹیوں کا کام خراب کردے ۔وہ صبح سے گھن چکر بنی ہوئی تھی ۔اور آج اتفاق ایسا تھا کہ امی نے صبح سے اسے ایک بھی تھپڑ نہ مارا تھا ۔
اسے صرف فاطمہ بی بی کے گھر جانے کی اجازت تھی جہاں دوپہر میں وہ بچوں کو قرآن پڑھآتی تھی جس کی فاطمہ بی بی اس کی امی کو تنخواہ دیتی تھی ۔
اسکے علاوہ محلے کے بچوں کے والدین بھی اسے کچھ نہ کچھ دیتے رھتے اگر اسے روح کے وجود سے کوئی فائدہ نہ ہوتا تو تظیم اسے کب کا اس گھر سے نکال چکی ہوتی ۔
آخر ان کے شوہر کے دھوکے سے تو یہ اولاد تھی ۔
انکے شوہر نے دو شادیاں کی تھیں پہلی شادی تظیم سے جن میں سے ان کی تین بیٹیاں تھی بیٹا نہ ہونے کی صورت میں انہوں نے دوسری شادی کرلی لیکن تظیم سے چھپ کر
جب تظیم کو یہ بات پتا چلی تو بہت دیر ہوچکی تھی بیٹا تو انہیں دوسری بیوی سے بھی نہ ہوا بس ایک ان چاہا وجود روح دنیا میں آگئی۔
وہ معصوم سی لڑکی ہر کسی سے پیار کرنے والی لیکن یہاں اسے کوئی پیار نہیں کرتا تھا سوائے فاطمہ بی بی کے ۔
وہ معصوم لڑکی اپنا بچپن کھو چکی تھی وہ 19 سال کی ہوچکی تھی گورنمنٹ سکول میں اس نے میٹرک کر لیا لیکن اس کے آگے اپنا تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھ سکی وہ پڑھنا چاہتی تھی کچھ بننا چاہتی تھی لیکن کچھ بھی نہ کر پائی
اس کے حصہ میں محبتیں نہ تھی اگر کچھ تھا تو تین بہنوں یا امی کے تھپڑ وہ دن میں درجنوں کے حساب سے اس کے منہ پر اپنے نقش بناتے
وہ احساس کمتری کا شکار لڑکی اپنے آپ سے بھی محبت نہیں کرتی تھی اسے فاطمہ بی بی کے گھر میں جانے کی اجازت بھی صرف اس لئے تھی کیونکہ وہ اس کی امی کو مہینے کے پانچ ہزار روپے دیتی تھی ۔
فاطمہ بی بی جانتی تھی کہ اس کے ساتھ اس گھر میں کیا کیا ہوتا ہے روح بچپن سے ان کے پاس آتی تھی کہ انہیں وہ پیاری سی لڑکی بہت عزیز تھی
اس کی ماں کا نام نور تھا ۔اور اس کے باپ کو اس سے محبت نہ تھی ۔اس کی ماں نے اس کا نام روح نور رکھا تھا یعنی کہ وہ اپنی ماں کی روح تھی اس سے اس کی بچپن کی یادیں چھین لی گئی ۔وہ صرف چند دنوں کی تھی جب اس کی ماں اسے دنیا کی ٹھوکروں میں چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے چلی گئیں اس کے باپ کواس۔ سے کوئی مطلب نہ تھا وہ تو بس اسے اٹھا کے اس کی سوتیلی ماں کے پاس لے آیا تھا ۔
سوتیلی اولاد سے بھی بلا کوئی محبت کرتا ہے ۔اس کے باپ نے کبھی ا سے پیار سے نہ دیکھا اور سات سال کی عمر میں ہی وہ یتیم ہوگئی ۔
اس کی سوتیلی ماں کو جو ذرا سا اپنے شوہر کا ڈر تھا کہ اس کے سامنے روح کو کچھ نہ کہتی وہ ختم ہو گیا سات سال کی عمر میں ہی اس سے اس کا بچپن چھین لیا گیا تظیم نے صاف لفظوں میں کہا کہ فری کی روٹی نہیں ملے گی کام کرنا ہوگا ۔
سات سال کا بچہ جو اپنے کپڑے بھی خود نہیں بدل سکتا روح نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں جارو اٹھا لیا اسے ساتھ بیٹھ کر کھانے کی اجازت نہ تھی جو بچتا ہے وہی کھانے کو ملتا ۔
وہ روتی نہ تھی اسے ان سب چیزوں کی عادت ہوچکی تھی ۔
اسے آواز نکالنے کی اجازت نہ تھی وہ بھی انسان تھی اسے بھی غصہ آتا تھا لیکن اسے جب غصہ آتا ہے وہ اپنے آپ پر نکالتی تھی
امی کے چھوٹے سے کمرے میں بس ایک ہی بیڈ تھا اسے زمین پر سونے کی جگہ میسر تھی
اسے یہ پتہ نہ تھا کہ یہ چٹائی کب سے اس کے پاس ہے لیکن وہ جب سے سو رہی تھی اسے یہی پھٹی پرانی چٹائی دی گئی تھی ۔
میٹرک تک سکول جاتی رہی جو اسی کے محلے میں ایک گورنمنٹ سکول تھا یہ بھی فاطمہ بی بی کی ہی مہربانی تھی جو اس کی امی کی منتیں کر کے اسکول میں داخل کروا دیا ۔وہ پڑھائی میں بہت اچھی تھی فاطمہ بی بی کا کہنا تھا کہ اگر وہ ایسی پڑھتی رہے تو کچھ بن سکتی ہے ۔
15 سال کی عمر میں جب اس نے میٹرک پاس کیا تو امی نے کہہ دیا کہ آب گھر کے کام کاج سیکھے گی وہ کیا سیکھتی اسے سب کچھ آتا تھا ۔
بچپن سے ہی وہ سب کچھ کر لیتی تھی مگر اسے کسی کے سامنے بولنے کی اجازت نہ تھی غلطی سے ان کے گھر میں کوئی مہمان یا کوئی رشتہ دار آتا تو یہی سوچتا کہ شاید یہ بچی گونگی ہے ۔
اس کی سب سے چھوٹی بہن ماریا بھی اس سے 6 سال بڑی تھی اور تینوں ابھی کنواری تھی اس سے پہلے رانیا کے لئے ایک رشتہ آیا تھا لیکن جب انہوں نے روح کو سامنے دیکھا تو کہہ دیا کہ ہمیں اس سے شادی کروانی ہے اگر آپ کو منظور ہو تو
جس کے بعد روح بیچاری کے جسم پر نہ جانے کتنے ہی زخم تھے امی بات بات پر اسے مارنے لگتی کہتی تو جو ان کے سامنے آئی اسی لیے میری بچی کا رشتہ ٹوٹ گیا
وہ روتی تڑپتی لیکن کون سنتا تھا اس کی وہ ساری رات روتی تھی اور وہ بے حس عورت جسے لوگ ماں کہتے تھے بےخبر سوتی رہتی ۔
وہ جانتی تھی کہ اس دنیا میں اس کا کوئی نہیں ہے اور فاطمہ بی بی وہ تو صرف پروسن ہے وہ بس اس کے نام پر پانچ ہزار روپیہ اس کی ماں کی ہتھیلی پر رکھ دیتی تھی اسے ایک گھنٹہ گھر سے باہر رہنے کی اجازت تھی لیکن صرف فاطمہ بی بی کے گھر اور کہیں جانے کی خواہش بھی نہ تھی وہ صرف فاطمہ بی بی سے اپنا دکھ بانٹتی اس کے زخم دیکھ کر وہ رحمدل عورت اکثر رو پڑتی
اور کہتی
وہ دن دور نہیں جب تمہاری زندگی میں ایک شہزادہ آئے گا اور تمہیں اس دنیا سے نکال کر اپنے ساتھ لے جائے گا ۔تمہیں خوشیاں دے گا محبت دے گا تمہاری ہر خواہش کو پورا کرے گا ان کی بات سن کر وہ ہنس دیتی
شہزادے شہزادیوں کی زندگی میں آتے ہیں فاطمہ بی بی ۔
میری زندگی میں کوئی شہزادہ نہیں آئے گا اگر اسے آنا ہوتا تو اب تک آ چکا ہوتا ۔امی بہت زیادہ پریشان بیٹھی تھی مہمانوں کو گئے ہوئے ابھی تقریبا دو سے تین منٹ ہی ہوئے تھے لیکن ان کی شکلیں ہی بتا گئی تھی رانیہ ان لوگوں کو کچھ خاص پسند نہیں آئی ۔
امی مجھے نہیں لگتا کہ یہ لوگ رشتہ کریں گے دیکھو کیسے عجیب سے سوال پوچھ رہے تھے ہماری رانی سے ۔ ماریہ نے بات شروع کی ۔
ٹیبل پر کھانے پینے کی چیزیں بکھری ہوئی تھی اچھی خاصی مہنگی ترین دعوت کی گئی تھی تانیہ کو توخرچے کا سوچ سوچ کرہول اٹھ رہے تھے ۔
ارے پریشان مت ہو مجھے تو لگتا ہے یہ رشتہ ہوجائے گا اب میری رانی ہے ہی اتنی خوبصورت امی نے رانیہ کا میک اپ سے لدا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا ۔
جبکہ لڑکے کی بہن نے بڑی مہارت سے پوچھا تھا ارے رانیہ جی پارٹی میک اپ کرتے ہوئے تو تین سے چار گھنٹے لگ جاتے ہیں آپ نے یہ اتنا سارا کھانا کیسے بنایا ۔
جس پر امی نے کہا کہ ان کی بیٹی ہر فن مولا ہے ۔
ویسے امی ایک بات آپ نے نوٹ کی ان لوگوں نے صرف کھانے کی ہی تعریف کی وہ بھی اس منہوس کے ہاتھ کے بنے ہوئے کھانے کی ۔تانیہ نے ساری توجہ روح کی طرف دلوائیں ۔
ہاں امی بلائیں اسے یہ سارا سامان اٹھائے یہاں سے مجھے تو اس رشتے کوئی اچھی امید نہیں ہے ماریہ نے اٹھتے ہوئے کہا ۔
اور گھر کی دیوار پہ جاکے کھڑی ہوئی
فاطمہ بی بی روح کو گھر بھیجیں لہجے میں دنیا بھر کی عزت اور محبت سموکر کہا کیونکہ دنیا کے سامنے وہ روح کی سوتیلی نہیں بلکہ سگی بہنیں تھیں
یہ بات الگ تھی کہ فاطمہ بی بی سے کچھ بھی چھپا ہوا نہ تھا
اسی لئے تو ماریا کی آواز سنتے ہی روح نے کاپتی آواز سے کہا آپی میں بس ابھی آئی اور دوڑتے ہوئے دروازے سے نکل کر اپنے گھر کے دروازے کے اندر آگئی
آگئی منہوس۔ اٹھائو یہ سب ۔رانیہ نے اپنے چہرے پر آئے ہوئے بالوں کو اسٹائل سے پیچھے کرتے ہوئے اسے کہا
تو وہ تیزی سے آگے بڑھی اور سامان اٹھانے لگی
جب کہ وہ چاروں ٹانگ پہ ٹانگ رکھے وہی باہر صحن میں کرسیوں پر بیٹھی تھی
جب دروازہ بجا اور ایک خوبصورت سا نوجوان اندر داخل ہوا رانیہ فورا الرٹ ہوگئی ۔۔
جب کہ ماریہ اور تانیہ بھی کھڑی ہو کر اسے دیکھنے لگی سب سے پہلے امی سمبھلی
ارے واحد بیٹا کچھ بھول گئے تھے کیا آؤ نا امی نے خوشامدی انداز میں کہا
آنٹی دراصل میرا موبائل وہاں ٹیبل پر رہ گیا ہے واحد مسکراتے ہوئے آگے بڑھا اور میز سے اپنا فون اٹھانے لگا تب ہی روح کچن سے نکلی اور ٹیبل کی طرف آئی
وہ سامنے کھرے لڑکے کو دیکھے بغیر ہی ٹیبل سے سامان اٹھانے لگی ۔لیکن اس کا سارا دھیان روح پے دیکھ کے رانیہ کہ آنکھیں غصے سے سرخ ہونے لگی
اسے کیا مسئلہ تھا واحد کے سامنے باہر آنے کی ضرورت کیا تھی ۔
یہ ہمارے گھر میں کام کرتی ہے امی نے واحد کا دھیان روح کی طرف دیکھتے ہوئے روح کو ہاتھ سے کھینچ کر پیچھے کیا سخت نظروں سے اسے اندر جانے کا اشارہ کیا روح فوراً ہی کچن میں جا کر چھپ گئی ۔
آنٹی آپ کے گھر میں کوئی نوکر کام کرتا ہے اس کا ذکر آپ نے پہلے نہیں کیا واحد کا دھیان ابھی بھی کچن کے دروازے کی طرف ہے جہاں روح ابھی غائب ہوئی تھی
ہاں بیٹا وہ دراصل اسی محلے سے ہی آتی ہے تھوڑا بہت کام کرتی ہے تو میری رانیہ اسے کچھ نہ کچھ دے دیتی ہے انہوں نے اس کا دھیان ایک بار پھر سے رانیہ کی طرح دلانے کی کوشش کی لیکن اس کی شکل کی بیزاری ہی بتا رہی تھی کہ اسے رانیہ میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے
اسی محلے میں گھر ہے اس کا۔ ۔ ۔۔۔کہاں ۔۔۔۔؟واحد نے جیسے ان کی اگلی بات سنی ہی نہ تھی
جبکہ اندر بیٹھی روح کو ایک بار پھر سے اپنی شامت آتی ہوئی نظر آرہی تھی
اور پھر ویسا ہی ہوا تقریبا کچھ ہی دیر بعد باہر سب سے پہلے رانیہ کے چیخنے چلانے کی آوازیں آنا شروع ہوئیں
میں نے کہا تھا نا امی یہ لڑکی میرا گھر نہیں بسنےدےگی دیکھا دیکھا آپ نے کیسے وہ اس کی طرف دیکھ رہا تھا اور اسی کے بارے میں پوچھ رہا تھا اور اس کے گھر کی انویسٹیگیشن کر رہا تھا
یہ لڑکی کبھی میرا گھر نہیں بسنے دے گی میں اسے جان سے مار ڈالوں گی جان بوجھ کر یہ واحد کے سامنے آئی ہے وہ تیزی سے کچن کی طرف کی اور روح کے کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ کر باہر لانے لگی ۔
جب کہ ایسا کرنے سے تانیہ اور ماریا کی آنکھیں چمک اٹھیں انہیں بھی تو ہاتھ صاف کرنے کا موقع مل ہی گیا تھا ۔انہیں تو صبح سے ایک بار بھی ہاتھ اٹھانے کا موقع نہ ملا تھا
دیوار سے دیوارجڑی ہونے کی وجہ سے اسے چلانے کی اجازت نہ تھی نہ جانے کتنی دیر خاموشی سے ان چاروں کی مار کھاتی رہی ۔
کبھی کبھی دل چاہتا تھا کہ وہ بھاگ جائے اس دنیا سے یا خود کشی کر کے مر ہی جائے وہ اکثر اللہ سے پوچھتی تھی اگر اس کے ماں باپ مار ڈالے تو اسے زندہ کیوں زندہ رکھا محبت کے قابل لڑکی تو ہرگز نہ تھی اگر محبت کے قابل ہوتی تو کوئی تو اس سے محبت کرتا ۔
کوئی تو ہوتا جو اس کے زخموں پر مرہم لگاتا وہ ایک انچاہا وجود تھی اتنی مار کھانے کے باوجود اتنی ذلت کے باوجود اس اٹھ کر رات کا کھانا بنایا خود کھانے کی ہمت نہ تھی ۔
عشاء کی نماز ادا کرکے چٹائی پر لیٹ گئی
اگلے دن دوپہر گیارہ کے قریب وہ لوگ واپس آئے انہیں اتنی جلدی جواب کی امید نہ تھی اور نہ ہی رانی کل کے طرح آج تیار تھی بلکہ وہ تو ابھی ابھی اٹھی تھی
امی نے خوشامدی انداز میں انہیں بلایا لیکن اگلی بات پر ان کا چہرہ اُفق ہوگیا
وہ لڑکی جو آپ کے گھر میں کام کرتی ہے ذرا بتائیں اس کا گھر کہاں ہے وہ دراصل واحد نے جب سے اسے دیکھا ہے ہمیں ایک پل کو بھی چین نہیں لینے دیا
کچن میں کھڑی روح کی روح ایک بار پھر سے کانپ گئی بھی تو کل کے زخم ہرے تھے ۔
جب کہ کچھ ہی دیر میں باہر امی کی آواز آنے لگی وہ تمام لہٰذومروت بھولی ا نہیں سنانے میں مصروف تھی ۔
امی نے اونچی اونچی آواز میں کہا اگر اسے رانیہ پسند نہیں ہے تو روح بھی نہیں ملے گی کیونکہ وہ اسی گھر کی لڑکی ہے۔
اسی منہوس نے دورے ڈالے ہونگے اس پر پہلے تو میں اسے رفع دفع کرونگی اس گھر سے ۔امی نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا ۔
جبکہ ان لوگوں کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اس گھر میں آ کر انہوں نے اس بچی کی جان مشکل میں ڈال دی ہے
اس عورت نے ایک نظر کچن کی کھڑکی سے جھانکتی معصوم سی اس لڑکی پر ڈالیں جو اپنی شامت کا انتظار کر رہی تھی
اور چلی گئی
امی اونچی اونچی آواز میں روح کو پکار رہی تھی وہ سست قدموں سے چلتی باہر نکلی ۔جہاں امی ہاتھ میں پائپ اٹھائے ۔۔ اسے پاس آنے کا اشارہ کر رہی تھی۔
💕
سر وہ فائل میرے ہاتھ لگ چکی ہے جس پر ان سب لوگوں کے نام لکھے ہیں جن کے پاس وہ ویڈیو تھی ۔
اس کے علاوہ میں نے وہ ویڈیو ریموو کردی ہے
اور میں کچھ ہی دنوں میں دبئی پہنچ آؤں گی
ڈان کے ساتھ کام کرنا تو میرا خواب ہے ڈان کے ساتھ کام کر کے ہی میں اپنے بابا کا بدلہ لونگی مجھے پتا ہے کہ وہ بابا کا بدلہ لینے میں میری مدد ضرور کریں گے معصومہ نے انفارمیشن دیتے ہوئے کال بند کر دی ۔
خضر نے یہ بات آکر ڈان کو بتائی
ڈان پہلے ہی اپنی ٹیم میں ایک لڑکی کو رکھ کر پچھتا رہا تھا اب دوسری لڑکی کو اپنے ساتھ رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا
اس لیے اس نے خضر کو کہا کہ جتنی جلدی ہو سکے لڑکی کے سامنے اس کے باپ کے قاتل کو ختم کیا جائے تاکہ وہ لڑکی اپنی زندگی میں آگے بڑھے
جب کہ کسی اور لڑکی کا نہ سن کر ڈان کے قریب صوفے پر بیٹھی اسٹائلش لیلیٰ کے لب مسکرا اٹھے
مجھے پتا ہے اس دنیا میں کوئی بھی لڑکی میری جگہ نہیں لے سکتی اس نے قدرے ہلکی آواز میں خضر سے کہا کیونکہ ڈان کے سامنے اس طرح کی کوئی بھی بات کرنا آلاوڈ نہیں تھا
کچھ دیر بعد لیلیٰ بھی چلی گئی
تم لیلیٰ کے بارے میں کیا سوچتے ہو خضر نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
ؐلیلیٰ کے بارے میں کیا سوچتا ہوں وہ ایک لڑکی ہے میری ٹیم میں کام کرتی ہے اگر اچھی ورکر نہ ہوتی تو شاید میں اسے اپنے ساتھ نہیں رکھتا
لیلیٰ ایک بہت اچھی ہیکر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت خوبصورت بھی تھی۔
لیلیٰ تمہیں پسند کرتی ہے وہ تم سے شادی کرنا چاہتی ہے خضرنے اس کا دھیان لیلیٰ پر لے جانے کی ناکام سی کوشش کی
تو ڈان نے اس چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
تم شادی کرلو گھربساو وہ تمہارا کام بھی سمجھتی ہے لیلیٰ کے ساتھ اچھی گزرے گی
خضر تم میرے بچپن کے دوست ہو بچپن کا ساتھ ہے ہمارا میں اپنے ہاتھوں سے تمہیں نہیں مارنا چاہتا اسی لیے کسی دن ٹائم نکال کے زیادہ نہیں بس آدھا گھنٹہ تم خود کشی کر لو کیونکہ مجھے تمہیں اپنے ہاتھوں سے مارتے ہوئے بالکل اچھا نہیں لگے گا ۔
وہ سفاک انداز میں بولا ۔
وہ محبت کرتی ہے تم سے صرف تمہارے لئے ہے وہ یہاں پر تمہیں اس کے بارے میں سوچنا چاہیے وہ تمہارے ساتھ وفادار ہے ۔
خضر نے ایک اور ناکام کوشش کی لیکن اس بار ڈیول کی گھوری نے اس کا منہ بند کر دیا
میں انڈرورلڈ کاڈان ہوں خضر عشق سے حسین ہے میری دنیا
وہ کہہ کر جانے لگا
اور اگر تمہیں عشق ہو گیا تو ۔۔۔؟خضر نے جیسے آج ہار نہ ماننے کی ٹھان رکھی تھی
اس دنیا میں وہ لڑکی ہی نہیں بنی جس کے عشق میں یارم کاظمی گرفتار ہو جائے
وہ اسے سخت نظروں سے گھورتا وہاں سے نکل گیا
ہر انسان کا جوڑ بنا ہے اس دنیا میں تمہیں بھی کوئی نہ کوئی ضرور ملے گی پھر پوچھوں گا تم سے عشق حسین ہے یا تمہاری دنیا
۔
💕
میں نے تو اس وقت ہی کہا تھا اس لڑکی کو گھر سے نکال دو جب اس کا باپ مرا تھا تب تو تم نے میری بات سنی نہیں اس وقت تمہیں فری کی نوکرانی چاہیے تھی
ابھی تو کچھ نہیں اس کی خوبصورتی تیری ساری بچیوں کی زندگی برباد نہ کر گئی تو نام بدل دینا
اقصی خالہ جو کہ امی کی بچپن کی سہیلی تھی ان کے گھر میں آئی تھی
تومیں کیا کروں تم ہی بتاو یہ لڑکی میری بچیوں کی زندگی برباد کر دے گی دوسری بار رانیہ کا رشتہ ٹوٹا ہے 29 سال کی ہوگئی ہے وہ لیکن ابھی تک کنواری بیٹھی ہے
ہائے یہ منہوس تیری بیٹیوں کا نصیب کھا جائے گی
اقصی خالا نے دونوں ہاتھ ملتے ہوئے کہا
اپنی بیٹیوں کو بٹھا ایک طرف اور جلدی سے اس کے ہاتھ پیلے کرکے اس کو رفع دفع کر تا کہ تیری بیٹیوں کے اچھے رشتے آئے خالہ نے کہا
ارے کہاں سے کرو شادی میرے پاس اسکیلئے پھوٹی کوڑی نہیں ہے بڑی مشکل سے میں نے اپنی بیٹیوں کے لئے جہز جمع کیا ہے
ارے تجھ سے جہز مانگ کون رہا ہے میں ایک عورت کو جانتی ہوں وہ نہ رشتے کرواتی ہے
لیکن کچھ نہیں لیتی الٹے پیسے دیتی ہے
اقصی خالہ نے سرگوشی والے انداز میں کہا
کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا امی کا انداز بھی سرگوشانہ تھا ۔
ارے وہ کوئی دبئی میں شیخ رہتا ہے لڑکی خوبصورت اور کم عمر ہونی چاہیے فون پر لڑکی سے نکاح پڑھاتے ہیں اور دبئی بلا لیتے ہیں پہلے لڑکی اس شیخ کے ساتھ رہتی ہے اور بعد میں ۔ خالہ بولتے بولتے خاموش ہوگئی
بعد میں ۔۔۔؟
بعد میں شیخ لڑکی کو آگے بھیچ دیتا ہے آخر جو لڑکی کے آباؤ اجداد کو رقم دیتا ہے وہ واپس وصول بھی تو کرنی ہوتی ہے
کیا مطلب ہے لڑکی بیچ دیتے ہیں امی اب بات کو سمجھیں تھی
توبہ توبہ معصوم سی لڑکی ہے میں اس کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں کروں گی چند پیسوں کے لیے نہیں بیچوں گی امی نے فورا انکار کر دیا
اقصی کی سہلی جو کافی عرصے سے مشہور تھی کہ لڑکیوں کے نکاح دبئی میں پڑھاتی ہے اس نے کہی بار کہا کہ میری بیٹیوں کے نکاح کروا دو لیکن اقصی خالہ ہمیشہ ہی ٹال دیتی
ارے ٹھیک ہے جیسی تمہاری مرضی میں یہ تھوڑی کہہ رہی ہوں اسے بیھج دو میں تو بس تم کہہ رہی تھی کہ راستے سے ہٹاؤ میں نے تو بس آئیڈیا دیا
اب تمہاری بیٹوں کی زندگی برباد کر رہی ہے 25 سال کی تو ماریا ہوگئی ہے اور جب تک یہ یہاں رہیں گی تب تک تمہاری بیٹیوں کا کہیں کوئی چانس نہیں ہے
اور جنہیں تم چند پیسے کہہ رہی ہوں نہ بی بیس لاکھ ہیں ارے دھوم دھام سے اپنی بیٹیوں کی شادی کر سکتی ہو تم خالا بس اتنا بول کر اپنا بیگ اٹھا کر اٹھنے لگی
بیس لاکھ ۔امی کامنہ رقم سن کر کھل گیا
ارے یہ تو کچھ بھی نہیں لڑکی خوبصورت اور کم عمر ہو جیی کہ روح ہے تو بیس پچیس اور تیس میں بھی بدل سکتے ہیں خالہ مزید لالچ دیتے ہوئے گھر سے باہر نکل گئی....ات کے تقریبا تین بجے کا وقت تھا تظیم نہ جانے کب سے نگاہیں روح کے سوئے ہوئے وجود پر ڈالے اسے اپنی نظروں میں لیے ہوئے تھی ۔
جب کے دماغ میں بار بار اقصی کی باتیں گونج رہی تھی۔
ذرا سوچو تظیم تمہاری بیٹیوں کی زندگی سمبھل جائیگی اور ساتھ میں اس مصیبت سے بھی چھٹکارہ مل جائے گا ۔
بھولو مت یہ تمہاری شوہر کے دھوکے کا نتیجہ ہے وہ تم سے محبت کے دعوے کرتا تھا اور تم سے چھپ چھپا کر کسی اور لڑکی سے نہ صرف شادی کر رکھی تھی بلکہ اس میں سے ایک اولاد بھی پیدا کی ہوئی تھی
ارے سوتیلی مائیں کہاں پوچھتی ہیں مگر تم نے نہ صرف اسے گھر میں رکھا بلکہ اس کی پرورش بھی کی ۔
کب تک اسی کے بارے میں سوچتی رہو گی تمہاری بیٹیاں اس کی وجہ سے کنواری بیٹھی ہیں رانیہ کا دوباررشتہ اس کی وجہ سے ٹوٹ چکا ہے ۔
تظیم بیگم کے دماغ میں اقصی خالہ کی باتیں چل رہی تھی جبکہ کی آنکھیں اب تک روح کے معصوم سے چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔
ویسے تو وہ ہر لڑکی کے بیس لاکھ روپے دیتا ہے لیکن اس کے پورے تیس لاکھ مانگوں گی
ارے زرا سوچو تیس لاکھ روپے دے گا شیخ اور کوئی ایسے ہی نہیں اٹھا لے جائے گا پہلے نکاح پڑھآئے گا جائز رشتے میں باندھ کر پھر بلائے گا اسے وہاں ۔اور دبئی جائے گی ذرا سوچ باہرے ملک جا کر بھی کبھی کسی کی زندگی برباد ہوئی ہے ۔
اور یہ تو اتنی تیز طراز ہے خود ہی سب سنبھال لے گی ۔
اقصی کی اس بات پر تظیم نے ایک بار پھر سے اس کے معصوم چہرے کو دیکھا کیا واقعی وہ اتنی تیز ہے کہ اپنا آپ خود سنبھال لے ۔
نہیں نہیں ۔میں اس لڑکی کے ساتھ ایسا نہیں کروں گی اتنا بڑا گناہ میں سوچ بھی کیسے سکتی ہوں نہیں میں نہیں کروں گی اس کے ساتھ ایسا ناجانے وہ شیخ اس کا کیا حال کردے۔
وہ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئی
تین تین بیٹیاں ہیں تیری عمریں نکلتی جا رہی ہیں کل کون بہائے گاانہیں پہلے اس مصیبت سے جان چھڑا ۔
ایک بار پھر سے اقصی کی باتوں نے اسے کادھیان اپنی طرف کھینچا ۔
ایک طرف اس کی تین بیٹیاں تھیں جن سے وہ بے تحاشہ محبت کرتی تھی اور ان کی زندگی میں بے انتہا خوشیاں دیکھنا چاہتی تھی ہر ماں کی طرح اس کا بھی خواب تھا کہ اس کی بیٹیاں خوشحال زندگی گزارے ۔
جبکہ دوسری طرف معصوم سی روحِ نور جو صرف اس کے سہارے پر بیٹھی تھی جو صرف اس ۔ کو جانتی تھی صرف اس پر بھروسہ کرتی تھی جو اسے امی کہہ کر بلاتی تھی وہ بھی تو اس کی بیٹی تھی ہاں مگر سوتیلی ۔
💕
وہ آج شارف سے ملنے جیل میں آیا تھا
نہیں بھائی میں بالکل ٹھیک ہوں یہاں مجھے ہر چیز مہیا کی گئی ہے لیکن پھر بھی ایسا لگتا ہے جیسے اپنا فرض نہیں نبھا رہا موت کبھی بھی آ سکتی ہے چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے انسان کبھی بھی مر سکتا ہے مجھے ڈر ہے بھائی میں اس طرح سے نہ مر جاؤں
صرف شارف ہی اسےبھائی کہہ کر بلاسکتا تھا کیونکہ وہ بچپن سے ہی اس کے ساتھ تھا زیادہ تر وہ بھی اسے ڈیول کہتا تھا اس کی ٹیم میں کام کرنے والے باقی سب لوگ اسے سر یا ڈیول کہہ کر پکارتے تھے جب کہ خضراسے کبھی ڈیول یا اس کے نام سے بلاتا تھا
میں چاہتا ہوں مجھے موت آئے تو میں آپ کے لئے کچھ نہ کچھ کر رہا ہوں بھائی میں آپ کے لئے جان دینا چاہتا ہوں ۔
اور دیکھیے گا میں ایک نا ایک دن آپ کے لیے جان ضرور دوں گا ۔
ہو گئی تمہاری تقریر اب بند کرو یہ ڈرامہ میں تمہیں یہ بتانے آیا تھا کہ کچھ دنوں میں پاکستان سے ایک لڑکی آنے والی ہے اس کے پاس ایک فائل ہوگی جس نے ان سب لوگوں کے نام لکھے ہیں جن کے پاس وہ فحاش ویڈیو ہے ۔اور ان سب کے بھی جن کے پاس کبھی وہ ویڈیو تھی ۔
اگر چاہتا تو میں اس فائل کو کسی اور طریقے سے بھی یہاں منگوا سکتا تھا ۔
لیکن صدیق کی بیٹی بھروسے کے قابل ہے اسی لئے میں نے یہ کام اسے دیا ہے ۔
اور آگے یہ کام تم کرو گے میں کچھ ہی دنوں میں تمہیں یہاں سے نکلوا لوں گا تمہاری بے گناہی کا ثبوت میرے پاس ہے اگلے کچھ دنوں میں کورٹ میں پیشی ہوگی اور تمہیں باعزت بری کر دیا جائے گا۔
اور اگر یہاں پر مسئلہ ہو تو خود سنبھال لینا ہر وقت میری طرف مت دیکھا کرو چھوٹے موٹے جھگڑے کر کر تمہیں کیا لگتا ہے میں سارے کام کاج چھوڑ کر تمہاری صلح کروانے یہاں آؤنگا ۔تو تمہاری غلط فہمی ہے کوئی چھوٹے سکول کے بچے نہیں ہو جو دوسرے بچے سے لڑو گے تو والدین تمہیں بچانے آئیں گے ۔اس لیے بہتر ہوگا کہ آئندہ مجھے یہاں تمہاری کوئی شکایت نہ ملے ۔
وہ بہت دنوں سے آپ کو دیکھا نہیں تھا اس لئے میں آپ کو مس کر رہا تھا بھائی ۔آپ کو تو پتہ ہے آپ کے علاوہ میرا ہے ہی کون بات کرتے کرتےوہ ایموشنل ہوگیا
وہ جب اسے بھائی کہتا تو آپ کہہ کر پکارتا اور جب ڈیول کہتا تو تم کہہ کر بلاتا
تمہاری گرل فرینڈ ہوں جو تم مجھے مس کر رہے تھے ۔اور اب تم مجھے دیکھو گے تو تمہیں چین آ جائے اور سکون سے بیٹھ جاؤ گے کسی لوفر عاشق کی طرح ۔وہ کب سے حاموش بیٹھا ا سے سن رہا تھا لیکن اب بولا تو پاس کھڑے خضر اور سامنے بیٹھے شارف دونوں کی ہنسی چھوٹ گئی
لیکن وہ نہیں ہنسا وہ ہنستا نہیں تھا ۔
اب تمہاری کوئی شکایت نہ ملے مجھے ایک ہی ہفتے میں تمہیں یہاں سے نکلوا لوں گا ۔
وہ اٹھتے ہوئے سخت نظروں سے ان دونوں کو گھورتے ہوئے بولا تو دونوں کی بتیسی خاموش ہو کر اندر بیٹھ گئی
💕
ڈان اٹھ کر باہر چلا گیا تو خضراس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا
لیلیٰ کیا ٹھیک سے ان کو تنگ نہیں کر رہی جو اس طرح سے مرچیں چھپائے ہوئے ہیں شارف نے غصے کی وجہ پوچھی
ارے وہ کیا تنگ کرے گی جب سے اس سے پتہ چل رہا ہے کہ ہماری ٹیم میں کوئی اور لڑکی آنے والی ہے بچاری جل جل کر دھواں ہو رہی ہے ۔
ہزار بار توکل کا یہ کہہ چکی ہے کہ اگر وہ لڑکی معصومہ اس سے زیادہ خوبصورت ہوئی تو اس کا کیا ہوگا ۔
جبکہ یہ بات وہ اچھے طریقے سے جانتی ہے کہ ڈان کو اس میں بالکل بھی کوئی انٹریسٹ نہیں ہے ۔
پھر بھی ڈان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہے مجھے تو لگتا ہے کسی دن تنگ آکر ڈان اس سے شادی کر ہی لے گا ۔
مجھے بھی یقین ہے کہ بھائی کی شادی لیلیٰ بھابھی سے ہوگی اسی لیے تو میں نے اسے ابھی سے بھابھی بلانا شروع کر دیا ہے ۔
ہاں بیٹا ایک بار ڈان کے سامنے بھی بلانا اسے بھابھی میں بھی تو دیکھوں تیرے منہ میں زبان رہتی ہے کہ نہیں
خضر نے گویا اسے چیلنج کیا ۔
ایم سوری میں ابھی تیرا یہ چیلنج قبول نہیں کرسکتا کیونکہ میری یہ زبان ابھی بہت سارے کارنامے سرانجام دینے والی ہے اس لیے مجھے اس کی ضرورت ہے ۔
جسے میں رسک میں نہیں ڈال سکتا ۔
آخر اسی زبان سے ہی تو میں نے اللہ کے سامنے بھائی کے لیے دعائیں کرنی ہے کہ جلدی سے انہیں لیلیٰ سے محبت ہو جائے آئے اور پھر اس سے شادی ہو جائے ۔
لیکن پھر یہ محبت والی بات سوچ کے نہ میں تھوڑا کنفیوز ہو جاتا ہوں ۔کیونکہ محبت تو ان لوگوں کو ہوتی جن کے اندر کوئی جذبات ہوں ۔بھائی کے اندر تو کوئی جذبات ہی نہیں ہیں۔
لیکن پھر میں یہ سوچتا ہوں کے سارے دل اللہ پاک نے بنائے ہیں سب کے اندر جذبات بھی وہی پیدا کرتے ہیں ۔ایک نا ایک دن بھائی کے دل میں بھی محبت جیسا جذبہ ضرور پیدا ہوگا ۔
شارف نے کہا ۔
اور تمہیں کیا لگتا ہے کہ اللہ وہ جذبات لیلی کے لیے پیدا کرے گا ۔خضر نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا ۔
لیلیٰ کی محبت میں سچائی ہے لیلیٰ سے زیادہ پیار انہیں اورپیار کوئی نہیں کر سکتا اور اللہ کسی کے دل میں محبت اسی کے لئے ڈالتا ہے جو اس سے سچی محبت کرتا ہو
اور تمہیں یہ بھی لگتا ہے کہ ڈیول کو لیلیٰ سے زیادہ اور کوئی پیار نہیں کر سکتا
ہاں بالکل تم نے شاید دیکھا نہیں لیلیٰ نے دو بار بھائی کے لئے گولی کھائی ہے جہاں بھی بھائی کی جان خطرے میں ہوتی ہے وہ سب سے آگے ہوتی ہے ۔
لیلیٰ بھائی سے بہت پیار کرتی ہے اس کے پیار کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا اور مجھے یقین ہے کہ لیلیٰ بھائی کو خود سے پیار کرنے پر مجبور کردے گی
اور اگر ڈیول کو کسی اور سے پیار ہوگیا میرا مطلب ہے کسی تیسرے سے تو ۔
خضر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
ہاہاہاہا تمہیں کیا لگتا ہے ایسا کبھی ہو سکتا ہے بھائی کو پیار ہاہاہا(جوک آف دا ڈے ) بھائی کو کبھی کسی سے محبت نہیں ہوسکتی ۔
اور اگر ہو بھی گئی تو تمہیں کیا لگتا ہے لیلی کسی تیسرے کو برداشت کرے گی اپنے اور بھائی کے بیچ میں ۔
اسی لیے تو میں معصومہ کو لے کر پریشان ہوں ۔
سمجھ میں نہیں آ رہا کہ بیچاری کیسے کہوں معصومہ کوئی لیلیٰ کو
💕
تمہیں کیا لگتا ہے ڈیول میں اتنی آسانی سے تمہارے آدمی کو جیل سے باہر آنے دوں گا ۔نہیں ایسا نہیں ہوگا نہیں ہونے دوں گا شارف کو اب پھانسی کے پھندے تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔
اب تم بھی اپنے وفادار آدمی کو بھول جاؤں انسپیکٹر صائم نے اس کے سامنے آتے ہوئے کہا ۔
ارے انسپیکٹر صائم آپ یہاں یہ وقت تو آپ کی بچی کے سکول سے چھٹی کا ہے نہ اب یہ مت کہیے گا کہ میرا دیدار کرنے کے لئے آپ اپنی بچی کو اسکول سے لینے نہیں گئے ۔
اتنی لاپروائی اچھی نہیں ہوتی وہ بھی تب جب آپ نے شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالا ہو ۔
مجھے اس طرح سے مت دیکھیں انسپکٹر صاحب ارے میں آپ کی بچی کو کچھ نہیں کروں گا ڈیول اپنے دشمنوں کی کمزوریوں کو استعمال نہیں کرتا یہ ڈیول کے کام کرنے کا انداز نہیں ہے ۔
مگر آپ کی بیٹی بہت پیاری ہے ۔میں اور کچھ نہیں چاہتا بس اتنا چاہتا ہوں کہ آئندہ مجھ سے مخاطب ہونے سے پہلے آپ یاد رکھیں کہ آپ کی بیٹی بہت پیاری ہے ۔
بات کرتے ہوئے اس کے گال پر ڈمپل نمایاں ہو رہا تھا ۔
جبکہ سامنے کھڑے انسپکٹر صائم کا دل چاہا کہ اس کے خوبصورت چہرے کو بگاڑ کر رکھ دے جو اس کے چارسالہ بیٹی کے بارے میں بات کر رہا تھا ۔
لیکن وہ مجبور تھا دوبئی کی پولیس کسی عام باشندے پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتی تھی اور دبئی کی عوام کی نظروں میں ڈان ایک عام آدمی تھا جس سے بہت کم لوگوں نے دیکھ رکھا تھا ۔
💕
ارے میں نے صرف تصویر بھیجی تھی ان لوگوں نے ایڈوانس میں پانچ لاکھ بھیج دیے میں نے تو ابھی کہا بھی نہیں تھا کہ لڑکی کو بیچیں گے بھی کے نہیں
اقصیٰ نے اس کے سامنے پانچ لاکھ کی گڈی رکھتے ہوئے کہا ۔
اقصی میں ایسا کوئی کام نہیں کروں گی میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا تھا میں روح کو نہیں بیچوں گی کہیں نہیں جائے گی وہ یہی رہے گی ۔
اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری اجازت کے بغیر تم نے ان لوگوں کو تصویر بھیجی کیوں۔۔۔۔؟ تظیم بیگم کو غصہ آگیا تھا۔
اوہو اس وقت میری منتیں کر رہی تھی کہ اس لڑکی نے میری زندگی تباہ کردی ہے اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہوں میں نے تمہاری ہمدردی ہی کی تھی ۔
مگر مجھے کیا پتا تھا کہ یہ ہمدردی میرے ہی گلے پر جائے گی ۔
ان لوگوں کو لڑکی پسند آئی اور وہ لوگ تیس لاکھ دینے کو بھی تیار ہیں ۔
لیکن تمہیں کیا ضرورت ہے ان پیسوں کی تمہیں تو اپنی بیٹیوں کی زندگی برباد کرنی ہے ۔
ایسے ہی ساری زندگی بیٹھی کنواری رہ جاینگی میرا کیا ہے میں تو یہ پیسے واپس بھیجوا دوں گی
صرف تصویر دیکھ کر پانچ لاکھ پیچ ڈالے 30 لاکھ زرا سوچ کہاں سے کہاں پہنچ جائیں گی تیری بیٹیاں ۔
خیر تیری مرضی ابھی میں ذرا بھائی کے گھر جا رہی ہوں یہ پیسے تم اپنے پاس رکھو واپسی پر لے جاؤں گی۔
اقصی نے شاطرانہ انداز میں کہتے ہوئے بیگ اٹھایا اور باہر نکل گئی ۔
جبکہ تعظیم نے کپکپاتے ہاتھوں سے وہ گڈی پکڑی اور اندر جا کر اپنے کمرے میں رکھنے لگیں اس کا سارا دھیان ان پیسوں پرتھا
اس کی تینوں بیٹیوں کی زندگی سمبھل سکتی تھی اور ساتھ میں روح سے جان بھی چھوٹ سکتی تھی لیکن اس کا ضمیر اسے بار بار ایسا کرنے سے روک رہا تھا اس کا ضمیر ایک معصوم لڑکی کی زندگی برباد ہونے نہیں دے رہا تھا لیکن کب تک ۔۔۔۔؟اب مجھے صرف روح چاہیے روحِ نور
مجھے روحِ نور ہر قیمت پہ چاہیے سن لو اقصی ۔
تم نے اس کی تصویر مجھے بھیجی تھی تمہیں بھیجنے سے پہلے یاد رکھنا چاہیے تھا کہ اگر اس لڑکی پر شیخ کا دل آگیا تو کسی بھی طرح اسے حاصل کر لے گا ۔اس لڑکی کے گھر والے مانے یا نہ مانے لیکن اب وہ لڑکی مجھے چاہیے تمہارے پاس 24 گھنٹے کا وقت ہے ان 24 گھنٹے میں اگر تم نے ان لوگوں کو نکاح کے لئے تیار نہ کیا تو میں تمہارا وہ حال کروں گا جو تم نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا ہوگا
شیخ صاحب میں ہر کوشش کر چکی ہوں لیکن اس کی سوتیلی ماں اسے بیچنے پر تیار ہی نہیں ہے ۔
یہاں تک کہ میں نے یہ بھی بتا دیا کہ آپ اسے تیس لاکھ دینے کو تیار ہیں لیکن وہ ماننے کو تیار ہی نہیں ۔
مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں کیا کروں لیکن اگر آپ کہتے ہیں تو میں ایک اور کوشش کر لوں گی ۔
اگر 30 لاکھ پر نہیں مانتے تو پھر انہیں چالیس پے مناؤ اور اگر پھر بھی نہیں مانتی تو میرے لوگ اسے اٹھا لائیں گے ۔اور یاد رکھنا کہ اس وقت صرف وہ لڑکی نہیں بلکہ تمھاری بیٹیاں بھی ساتھ ہوں گی
شیخ کے بات نے اقصی کے رونگٹے کھڑے کر دیے ایسا بھی کیا ہے اس لڑکی میں کہ شیخ اس پر اتنے پیسے لٹانے کو تیار ہے ہمیں تو کبھی اتنی اچھی نہیں لگی مانا بہت خوبصورت ہے لیکن شیخ نے اس سے پہلے بھی تو بہت خوبصورتی دیکھی ہوگی
مجھے وہ لڑکی چاہیے کسی بھی قیمت پر جب سے میں نے اسے دیکھا ہے میرا دل کسی کام پے نہیں لگ رہا اب جب تک میں اس لڑکی کو حاصل نہ کر لو ں تب تک سکون سے نہیں بیٹھوں گا
شیخ دھاڑتے ہوئے بول رہا تھا
جبکہ اس سے کوسوں دور کھڑی اقصیٰ تھر تھر کانپ رہی تھی
شیخ صاحب میں آخری کوشش کرتی ہوں ہو سکتا ہے اس بار وہ مان جائے آپ مہربانی کرکے میری بیٹیوں کو کچھ مت کیجئے گا میں اسے منا لوں گی ۔
کیا ضرورت پڑی تھی مجھے بھی روح کی فوٹو اتنی جلدی بھیجنے کی یہ شیخ تو بالکل پاگل ہوگیا ہے ۔
ٹھیک ہی کہتی ہے تظیم ایک نمبر کی فسادان ہے یہ اپنے ساتھ ساتھ میری بیٹیوں کو بھی پھسائے گی منہوس
صبح ہوتے ہی پہلے تظیم کے گھر جاؤں گی شیخ کا فون بند کرکے وہ تظیم کے گھر جانے کا پلان بنانے لگی
💕
میرا ایسی پارٹیز میں جانا ضروری نہیں تم لوگ جاؤ وہ سامنے کھڑے خضر سے کہہ رہا تھا جو اسے کتنی دیر سے پارٹی پر جانے کے لیے منا رہا تھا ۔
جانا ضروری ہےڈیول ان لوگوں نے اتنا اصرار کرکے بلایا ہے اور ساتھ میں تمہیں یہ بھی بتا دوں کہ ان لوگوں کو تم سے بہت ضروری کام ہے جو تمہارے علاوہ اور کوئی نہیں کر سکتا تا ۔خضر کا ارادہ آج پکا اسے اپنے ساتھ لے جانے کا تھا
کام ان کو ہے۔ مجھے نہیں پیاسا خود کنوے کے پاس آتا ہے کنوا چل کر نہیں جاتا پیاسے کے پاس ۔انہیں اگر مجھ سے اتنا ہی ضروری کام ہے تو آ کر مجھ سے مل سکتے ہیں لیکن اپاریمنٹ لیکر
اگر میرا ارادہ ہوا تو میں ملوں گا اب تم لوگ یہاں سے جا سکتے ہو ۔
ڈیول ڈارلنگ چلتے ہیں نہ ہم تھوڑی دیر انجوائے کریں گے ۔لیلیٰ اپنے تنگ چست لباس میں چلتی ہوئی اس کے قریب آئی اور اس کی گلے میں باہیں ڈالتے ہوئے بولی ۔
میں تمہیں کتنی بار کہہ چکا ہوں لیلیٰ اپنی لمٹس میں رہا کرو یہ نہ ہو کے تمہیں اٹھا کر ایک بار پھر سے وہی پھینک آوں جہاں سے اٹھا کر لایا تھا ویسے بھی تمہارے ہونے یا نہ ہونے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بہت کچھ جتلا رہا تھا ۔
جانتی ہوں تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن مجھے تو پڑتا ہے ۔اور یقین کرو بس ایک بار مجھے اپنی خدمت کا موقع دو تمہیں بھی فرق پڑنے لگے گا ۔
لیلیٰ اس طرح کی گفتگو صرف ڈیول کے سامنے ہی کرتی تھی اور کسی میں اتنی ہمت نہ ہوتی کہ لیلیٰ کے سامنے زبان بھی کھول پائے
بند کرو اپنی بکواس اور نکلو یہاں سے خبردار جو آئندہ اس لہجے میں مجھ سے بات کی ایک بات کان کھول کر سن لو تمہارے ہونے یا نہ ہونے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی آگے زندگی میں کبھی پڑے گا
تمہیں اپنے ساتھ رکھ کر میں کچھ زیادہ خوش بھی نہیں ہوں اس لیے بہتر ہوگا کہ جتنا جلدی ہوسکے اپنا بوریا بستر سمیٹو اور میری نظروں سے دور ہو جاؤ کیونکہ اگر میں نے دور کیا تو شاید تم دنیا سے ہی دور ہو جاؤ
ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کرتے ہوئے کہا
میں تم سے پیار کرتی ہوں ڈیول بہت پیار تمہیں ایک دن نہ دیکھوں تو ایسا لگتا ہے جیسے میری سانسیں گھٹ رہی ہوں اور تم کہتے ہو کہ تمہیں چھوڑ کر چلی جاؤں نہیں جاسکتی ڈیول میں تم سے دور نہیں جاسکتی بہت بہت پیار کرتی ہوں تم سے اور مجھے یقین ہے کہ ایک دن تم بھی مجھ سے پیار کرو گے ۔
اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا ۔
خضر کو برا لگا لیکن جس کے لیے وہ یہ سب کچھ بول رہی تھی اس کے توکان میں جوں بھی نہ رینگی ۔
میری زندگی میں لڑکی کا وجود کوئی اہمیت نہیں رکھتا لیلیٰ ۔مجھے کبھی کسی عورت سے محبت نہیں ہو سکتی ۔میں ہر عورت کی عزت کرتا ہوں تمہاری بھی ۔مجھے عورت اچھی لگتی ہے ماں کے روپ میں بہن کے روپ میں یہ خدا کا تحفہ ہے لیکن افسوس کے خدا نے یہ تحفے مجھے نہیں دیے ۔ پیار محبت سے میں بہت دور ہوں اور بہت دور رہنا بھی چاہتا ہوں میرے لیے یہ پیار محبت صرف ویسٹ آف ٹائم ہے ۔میں نہیں مانتا کہ ایک انسان کو ایک دوسرے انسان سے اتنی ٹوٹ کر محبت ہوسکتی ہے کہ وہ اس کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جائے ۔ اور اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو یارم کاظمی کو نہیں ہوگا مجھے کبھی کسی لڑکی سے محبت نہیں ہو سکتی۔
آج اس نے بہت دنوں بعد اس سے نرم لہجے میں بات کی تھی ۔
اب تم لوگ پارٹی میں جاؤ بس اتنا کہہ کر وہ جانے لگا ۔
اور اگر تمہیں کسی سے ایسی محبت ہوگئی تو پھر کیا کرو گے ۔۔۔۔۔۔؟ آواز اب بھی رندھی ہوئی تھی شاید وہ اپنے آنسوؤں کو بہنے سے روک رہی تھی
نہیں ہوگئی وہ ایڑیوں کے بل گھوم کر بولا
اور اگر ہوگئی تو۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اس نے پھر وہی سوال کیا ۔۔۔
کہا نا نہیں ہوگی ۔وہ پھر سے جانے لگا
اگر ہوگئی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ ٹوٹی بکھری حالت میں بولی
تو میں خود اسے اپنے ہاتھوں سے مار دوں گا اس بار وہ اتنے زور سے چلایا تھا کہ پورے ہال میں اس کی آواز کے بعد سناٹا پھیل گیا ۔
اور وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ ہال سے نکل گیا
💕
تظیم پانچویں بار اٹھ کر الماری کے پاس آئی تھی اور الماری کھول کر دیکھا تو وہ پیسوں سے بھرا لفافہ ابھی بھی وہیں پر موجود تھا
نہ جانے سے کیا ڈر تھا کہ بار بار اٹھ کر ان پیسوں کو دیکھتی اور پھر ایک نظر زمین پر سوئی روح کو دیکھتی
وہ اسے ہر روز مارتی پیٹتی گالیاں دیتی لیکن اس کے بارے میں کبھی اتنا غلط نہ سوچا تھا جتنا غلط اقصیٰ نے سوچ لیا وہ کبھی سے بیچنے کا نہیں سوچ سکتی تھی ۔
ان کے گھر کے حالات اتنے تنگ تھے کہ دو وقت کا کھانا بھی مشکل سے نصیب ہوتا ۔
نور کا باپ ایک سرکاری بینک میں چھوٹے عہدے کا آفیسر تھا ۔
اس کی پنشن آج بھی آتی تھی لیکن اس سے گھر کا گزارہ کرنا مشکل تھا اورتین بیٹیوں کی شادی تو ناممکن تھا
ایسے میں اسے گولڈن چانس مل رہا تھا اپنی بیٹیوں کی زندگی سنوارنے کا بلکہ اچھے سے اچھے طریقے سے شادی کرنے کا
لیکن اس سب کے لئے اسے روح کی قربانی دینی تھی اپنی تین بیٹیوں کی محبت میں یہ مشکل تو نہ تھا وہ تو ویسے بھی اس کے سر پر تھوپی گئی تھی ۔
وہ کوئی اس سے محبت تو نہیں کرتی تھی اور نہ ہی وہ اس کی اولاد تھی وہ تو ایک دھوکے کا نتیجہ تھا جو اس کے شوہر نے دیا تھا ۔
وہ کیوں اتنی فکر کرتی اس کی ۔ روح تو منہوس تھی جس نے اس کی بیٹی رانیہ کی دوبارشادی توڑوا دی
اسے نفرت تھی اس سے پھر کیوں سوچتی اس کے بارے میں
وہ نہیں تھی وہ اس کی بیٹی اور اگر بیٹی تھی بھی تو سوتیلی اسے اپنی سگی بیٹیوں کے بارے میں سوچنا تھا
💕
شیخ صاحب میں ان کے گھر جا رہی ہوں آخری بار بات کرنے کے لئے آپ کی بے چینیاں تو حد سے سوار ہیں مجھے سمجھ میں نہیں آتا اگر میں نے ان لوگوں کو منا بھی لیا تو
روح سے نکاح کے لیے تو کیسے آپ ایک ہی دن میں اسے اپنے پاس لے کے جائیں گے کیوں کہ اس لڑکی کے پاس نہ تو پاسپورٹ ہے اور نہ ہی ابھی تک اس کا شناختی کارڈ بنا ہے ۔
شناختی کارڈ نہیں بنا یہ کیسے ممکن ہے تم نے تو کہا تھا وہ 19 سال کی ہے ۔ شیخ نے پوچھا
ہاں شیخ صاحب اس کا کچھ نہیں بنا اس کی سوتیلی ماں نے ضروری نہیں سمجھا اس کا شناختی کارڈ بنوانا ۔
اور کوئی پاسپورٹ بھی نہیں ہے اس کے پاس کیسے لے کے جائیں گے آپ اسے ایک ہی دن میں بتائیں مجھے ۔آپ صبر کریں مجھے تھوڑا وقت دیں میں اس کی ماں کو بھی منا لوں گی اور شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا انتظام بھی کروا لوں گی اقصیٰ نے اسے پھسلانا چاہا
نہیں میں مزید انتظار نہیں کر سکتا مجھے وہ لڑکی چاہیے اور یہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی فکر مت کرو سب کچھ میں ہنڈل کرلونگا ایسے بہت سارے لوگوں کو بلایا ہے میں نے ۔ شیخ نے اقصیٰ کے ارادوں پر پانی پھیرتے ہوئے کہا ۔
ٹھیک ہے شیخ صاحب میں اس کی ماں سے بات کرتی ہوں اس نے کال بند کرتے ہوئے دروازہ کھٹکھٹایا
اندر آئی تو تظیم چارپائی پہ بیٹھی تھی ۔
ہاں تظیم لاؤ دو میرے پیسے مجھے واپس کرو جو شیخ صاحب کو واپس کرنے ہیں ۔
وہ ساتھ میں کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی
میں نے کل رات تمہاری اس بات کے بارے میں سوچا اور یہی فیصلہ کیا کہ مجھے میری بیٹیوں کی زندگی سنوارنے کے بارے میں سوچنا چاہیے تظیم نے تحمل سے کہا
مطلب مطلب تم روح کا نکاح کروانے کو تیار ہو۔اقصی خوشی سے چہکتے ہوئے بولی
ہاں میں روح کا نکاح کروانے کے لیے تیار ہوں جب تم چاہو مولوی اور شیخ کو لے کر یہاں آجاؤ ہم نکاح پروا دیں گے ۔
تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے مولوی صاحب کو میں لے آوں گی اور شیخ صاحب فون پر ہی نکاح کریں گے اس کے بعد اسے ہم دبئی بھیج دیں گے ۔اقصیٰ نے اسے جلدی جلدی بتانا شروع کیا ۔
لیکن روح اتنی جلدی نہیں جاسکتی کارڈ اور پاسپورٹ بننے میں وقت تو لگے گا نا ۔
تظیم نے کہا۔
ارے نہیں نہیں اس کے پاس بالکل وقت نہیں ہے وہ اسے ایسے ہی لے جائے گا ۔اقصیٰ نے ناک سے مکھی اڑائی
ایسے مطلب غیرقانونی طریقے سے تظیم نے پریشان ہوتے ہوئے کہا
ارے ہاں اور فکر مت کرو شیخ ایسا پہلے بھی کر چکا ہے وہ کئی لوگوں کو ایسے لے کے جا چکا ہے اس کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں
اگر کچھ الٹا سیدھا ہو بھی گیا تو ہمارا نام کہیں نہیں آئے گا اب تم رانیہ کی شادی کے بارے میں سوچو میں ذرا شیخ کو خوشخبری سنا کے آتی ہوں ۔ ۔
روح چائے بنا کر لائی تواقصیٰ اٹھ چکی تھی ۔
روح توکل تیاررہنا کل میں مولوی صاحب کو لے کے آؤں گی کل تیرا نکاح ہے دبئی جائے گی تو دبئی اقصیٰ روح کے سر پر دھماکہ کرتی جلدی سے گیٹ سے باہر نکل گئی جبکہ وہ بے یقینی سے اپنی ماں کے چہرے کو دیکھ رہی تھی جو نظریں جھکاۓ زمین پر گاڑے ہوئے تھیکچھ ہی دیر میں اس کا نکاح تھا کسی نے اس سے کچھ نہ پوچھا
اس پر تو یہ بھی احسان تھا کہ نکاح سے پہلے بتا دیا گیا کہ کل تمہارا نکاح ہے ۔
فاطمہ بی بی اس کے پاس آ بیٹھی لیکن اس سے پہلے کے فاطمہ بی بی اس سے کچھ پوچھتی ماریا اسکے قریب آ بیٹھی گئی
جسے اس کی امی نے سخت نظروں سے گھور کر بھیجا تھا کہ کہیں وہ فاطمہ کو کچھ بتا ہی نہ دے اور پھر پورے محلے میں ان کی بدنامی ہو
وہ خاموشی سے سر جھکائیں بیٹھی رہی نہ تو کسی کو دیکھا اور نہ ہی کسی سے کوئی بات کی ۔
اسے تو یہ بھی نہ پتا تھا کہ اس کے ہونے والے شوہر کا نام کیا ہے ۔اور نہ ہی اسے جاننے میں دلچسپی تھی وہ تو آج اپنی یتیمی کا رونا رو رہی تھی آج صحیح معنوں میں ثابت ہوچکا تھا کہ وہ ایک یتیم تھی اس کے ماں باپ اسے دنیا میں تنہا چھوڑ کر چلے گئے ۔
اور اب کسی بھیر بکری کی طرح اس کی رسی کو کسی اور کے حوالے کیا جا رہا ہے ۔
اسے مار کھانے اور گالیوں سہنے کی عادت تھی لیکن نہ جانے وہ شخص اس کے ساتھ کیا کرے گا جس کے حوالے وہ کر دی جارہی تھی ۔
💕
سنو وہ لڑکی معصومہ آج چھے بجے کی فلائٹ سے پاکستان سے یہاں آنے والی ہے جیسے ہی وہ پیپرز تمہیں ملیں تم انہیں شارف کے حوالے کر دینا وہ کل جیل سے چھوٹ جائے گا
لیکن شمس کا کیا کریں گے ۔۔۔۔۔؟خضر نے پوچھا
اس کا تم کچھ نہیں کرو گے اسے میں خود ہیڈل کر رہا ہوں ۔ابھی کچھ ہی دیر میں میں اس سے ملنے جاؤں گا اگرسیدھے طریقے سے مان گیا تو ٹھیک ہے
ورنہ ویسے بھی بہت دنوں سے میں نے اپنے فیورٹ ہتھیار کا استعمال نہیں کیا اس نے اپنے ہاتھ میں رکھیں بلیڈ کی طرف اشارہ کیا ۔
خضر کا تو اس کے ساتھ جانے کا ارادہ تھا وہ ایک ہی پل میں کینسل ہو گیا ۔
وہ بلیڈ سے ان لوگوں کو مارتا تھا جن پر اسے حد سے زیادہ غصہ ہو ۔
اور بلیڈ سے وہ اتنی حطرناک موت دیتا تھا کہ کسی کے بھی رونگٹے کھڑے ہوجائیں ۔۔
خضر کو اس کے اس کہ اس ہتھیار سے نفرت تھی ۔
اس کابلیڈ کسی سانپ کی طرح اگلے بندے کے جسم پر رینگتا اور سرخ لکیریں چھوڑتا جاتا ۔
وہ بلیڈ کا استعمال تب کرتا تھا جب اگلے بندے کو تڑپا تڑپا کر مارنا ہو ۔
خضر کو اس کے بلیڈ سے جتنی نفرت تھی اتنا ہی ڈر لگتا تھا اکثر اپنی پریشانیوں کی وجہ وہ اسی سے مٹاتا تھا
💕
کچھ ہی دیر میں مولوی صاحب کی آواز آئی نکاح نامے پر شیخ کے دستخط پہلے ہی ہو چکے تھے ۔
اس نے ایک نظر بھی اٹھا کر پورا نکاح نامہ نہ دیکھا اسے جہاں کہا گیا اس نے سائن کر دیے ۔
مولوی صاحب نے رسم ادا کی تین بار اس سے اس کی مرضی پوچھی گئی جس کا ہونا یا نہ ہونا کسی کیلئے اہمیت نہ رکھتا تھا وہ خاموشی سے ساری کاروائی دیکھتی رہی
اس سے کیے گئے سوالوں پر اس نے حامی بھر دی
ہاں اسے وہ شخص قبول تھا جسے اس نے کبھی دیکھا بھی نہ تھا ۔
امی تو محلے والی عورتوں کے سامنے شیخ کی تعریفیں کئے جا رہی تھی
خود اس کی شکل تو نہ دیکھی تھی لیکن پھر بھی اسے خوش شکل کہہ رہی تھی ۔
ارے میں اپنی بیٹیوں کے بارے میں پہلے سوچتی تو لوگ کہتے کہ سوتیلی ماں ہے سوتیلی ماں بہت بری ہوتی ہے اس لئے میں نے پہلے اس کے بارے میں سوچا
آخر کل اگلے جہان میں جا کر اس کے باپ کو منہ بھی تو دکھانا ہے ۔امی تعریفیں سمیٹتی اسے بار بار اپنے سینے سے لگاتی پیار کر رہی تھی ۔
یہ بھی اس کی زندگی میں پہلی بار ہی ہو رہا تھا ۔
پھر ماریہ اور رانیہ اس کے قریب آگئی تھی ۔
تمہیں پتا ہے تمہارا شوہر کتنا امیر آدمی ہے اس کے پاس اتنا پیسہ کہ کوئی گن بھی نہ سکے ۔
راج کر و گی راج اور وہاں جاکے ہمیں بھول مت جانا ۔میرا مطلب ہے ہمیں فون وغیرہ کرتی رہنا ۔
آپی آپ تو ایسی کہہ رہی ہیں جیسے میں آج ہی جا رہی ہوں روح نے بے دلی سے کہا۔
ہاں تو آج ہی تو جا رہی ہو ماریہ نے اس کے سر پر دھماکہ کیا ۔
کیا مطلب ۔۔۔۔؟اس نے حیرت سے پوچھا
ارے مطلب ہم نے تمہارا سامان وغیرہ پیک کر دیا ہے خیر تمہارا سامان ہے ہی کتنا تمہارے کپڑوں میں تو وہی ہمارے پرانے دیئے ہوئے کپڑے تھے لیکن میں نے اور ماریا نے ہمارے عید والے سوٹ تھے نہ وہ تمہارے کپڑوں میں رکھے ہیں اس کے علاوہ بھی میں نے اپنے کچھ سوٹ تمہارے کپڑوں میں رکھ دیے ہیں تانیہ اور رانیہ کے کپڑے تمہیں ٹھیک سے پورے نہیں آتے لیکن میرے کپڑوں میں تم اچھے سے اجسٹ کر سکتی ہو ۔
ابھی تو تم دبئی جا رہی ہووہاں تمہیں تمہارا شوہر لے ہی دے گا اور کپڑے ۔لیکن گزارے کے لئے ہم نے رکھ دیے ہیں اب وہ یہ نہ کہے کہ ہم نے تمہیں کچھ دیا ہی نہیں ۔
وہ اپنے پرانے کپڑوں کا احسان بھی اس طرح سے جتا رہی تھی جیسے نئے خرید کر لائیں ہوں ۔
وہ کچھ نہ بولی خاموشی سے انہیں سنتی رہی ۔
💕
تھوڑی دیر کے بعد فاطمہ بی بی ایک بار پھر سے اس کے قریب آگئی
مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ تم آج ہی جا رہی ہو یہ تو ابھی تظیم نے بتایا تم نے مجھے اپنی شادی کے بارے میں کیوں نہیں بتایا انہوں نے پریشانی سے پوچھا
سچ تو یہ تھا کہ انہیں تظیم پر بھروسہ نہیں تھا نجانے وہ عورت اس کے ساتھ کیا سے کیا کردے ۔
میں تمہیں بہت کچھ دینا چاہتی تھی لیکن تم نے پہلے مجھے بتایا ہی نہیں یہ کچھ چیزیں میں تمہارے لئے لائی ہوں ۔
انہوں نے اس چھوٹے سائز کا قرآن جس کا سائز ایک پاکٹ جتنا تھا ۔اس کے ساتھ ایک جائے نماز ۔ایک عبایا دیا جس کے ساتھ ہم رنگ سکاف تھا اس کا رنگ ہلکا آسمانی تھا ۔
یقینا انہوں نے اپنے ہاتھ سے اسے سلائی کیا تھا ۔
وہ ایک غیر عورت ہو کر اسے نئی چیزیں لا کر دے رہی تھی اور اس کے اپنے جو آج اسے یہاں سے بھیجتے ہوئے بھی اپنی اترن دے رہے تھے ۔
اس نے خاموشی سے وہ تینوں چیزیں پکڑلی ۔
مجھے نہیں پتا تمہارا شوہر کیسا ہوگا میں نے تو سنا ہے کہ دبئی کے مردوں نے چار چار نکاح کیے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی میں تمہارے لئے دعا کرتی ہوں کہ تمہارے ساتھ ایسا کچھ نہ ہو ۔
میں چاہوں گی کہ تم حقیقت پسند بنو ہر طرح کی سچویشن کے لئے تیار رہو وہ غور سے فاطمہ بی بی کو سن رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ عورت اسے کبھی غلط مشورہ نہیں دے گی
میں نےتمہارے شوہر کو نہیں دیکھا میں نہیں بتا سکتی کہ وہ کیسا ہوگا ۔مگر اتنا کہہ سکتی ہوں ۔کہ مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے مجھے یقین ہے کہ تمہاری معصومیت اور خوبصورتی اسے تمہاری طرف راغب کر لے گی بلکہ تم اسے خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دو گی ۔
تم خود صبر سے کام لینا میری بچی تیری زندگی میں کبھی کچھ اچھا نہیں ہوا اب اللہ تیرے ساتھ اتنا برا نہیں کرے گا ۔
بس تو ہر قسم کی سچویشن کے لیے تیار رہنا وہ تیرا شوہر ہے تیرا سائبان اس کی مرضی کے خلاف کبھی کوئی کام مت کرنا ۔یہ میرا نمبر ہے تیرا شوہر مجھ سے بات کرنے کی اجازت دے تو مجھے فون ضرور کرنا ۔انہوں نے ایک چھوٹا ساکاغذ اس کی طرف دیتے ہوئے کہا ۔
اپنا بہت سارا خیال رکھنا زندگی رہی تو دوبارہ ضرور ملیں گے وہ اس کا ماتھا چومتے اس کے قریب سے اٹھی ۔
جب روح نے ان کا ہاتھ تھاما اور ا ٹھ کر کھڑی ہوئی اور ان کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
تھوڑی دیر کے بعد اسے بتایا گیا کہ چھ بجے کی فلائٹ سے سے دبئی جانا ہے وہ پریشان سی کھڑی سب کو دیکھ رہی تھی
وہ کیسے کسی دوسرے ملک جا سکتی تھی اس کے پاس کسی دوسرے ملک جانے کے کاغذات ہی کہاں تھے اس کے پاس تو کچھ بھی نہ تھا ۔
امی اور ان کی تین بیٹیاں اسے چھوڑنے ایئرپورٹ تک آئی تھی پھر اسے کچھ کاغذات اور ایک فائل دی جس میں نکاح نامہ تھا یہ تو وہ جانتی تھی لیکن دوسرے کاغذات میں پاسپورٹ اور شناختی کارڈ تھا ۔
جو کم ازکم اس کے نام پر نہ تھا لیکن شناختی کارڈ پر اسی کی تصویر لگی تھی۔ یہ سب کچھ جھوٹا تھا وہ پکڑی جاسکتی تھی لیکن یہاں کیسے پروا تھی اسے غیر قانونی طریقے سے دوسرے ملک بھیجا جارہا تھا ۔
ان لوگوں کو اتنی بھی کیا جلدی تھی صبر کر لیتے اس کا شوہر آگر اتنا خرچہ کرنے کو تیار تھا تو اصلی کارڈ اور پاسپورٹ بھی تو بنوا سکتا تھا ۔
پھر کچھ ہی دیر میں کچھ آفیسر اس کے پاس آئے
آپ پریشان نہ ہونا آپ کی مسز کو ہم صحیح سلامت دبئی پہنچا دیں گے وہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا یقینا اس کا شوہر تھا ۔
ماریا رانیہ اور تانیہ نے سرسری سے اسے گلے سے لگایا وہ رونا چاہتی تھی اپنوں سے جدا ہونے کے غم میں وہ بہت رونا چاہتی تھی ۔
لیکن ان تینوں کا رونے کا کوئی پلان نہ تھا لیکن جب امی نے اسے گلے لگایا تو ان کی آواز میں نمی تھی
سن روح میں نے تیرے ساتھ جو کچھ بھی کیا مجھے معاف کر دینا مجھے کبھی بد دعامت دینا اس کا ماتھا چومتے ہوئے انہوں نے روتے ہوئے کہا اس نے کہاں کبھی امی کا یہ لہجہ سنا تھا ۔
اور پھر سب سے مل کر وہ چلی گئی افیسرز نے اسے لا کر جہاز میں بٹھایا ۔
اس کے ہاتھ پیر کانپ رہے تھے وہ بالکل اکیلی تھی کوئی نہیں تھا اس کے ساتھ کسی کو نہیں جانتی تھی وہ بس اسے اپنے شوہر کے پاس پہنچنا تھا
وہی اس کا آسرا تھا وہی سہارا تھا ۔
💕
اس نے شمس کو بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر اس نے ڈیول کی بات نہ مانی شاید وہ ا سے ٹھیک سے جانتا نہیں تھا اس کا یہی کہنا تھا کہ ایک تیس بتیس سال کا مرد 45 سال کے آدمی کا کیا بگاڑ سکتا ہے
اور پھر اس نے وہ کیا جو اس 45سالہ آدمی نے کبھی نہیں سوچا تھا ۔
خضر کی سوچ کے مطابق بلیڈشمس کے جسم پر رینگ رہا تھا کسی سانپ کی طرح اپنی سرخ لکیریں چھوڑتا ہوا ۔
لیلیٰ نے اسے ایک ہی باراس انداز میں دیکھا تھا اس کے بعد وہ ایک مہینہ اس سے دور رہیں ۔
اس نے آج بھی لیلیٰ کو اپنے ساتھ آنے کی آفر کی تھی لیکن اس کے ہاتھ میں بلیڈ دیکھ کر وہ اس کے ساتھ نہ آئی ۔
اس نے شمس کے نہ صرف ہاتھوں کی بلکہ پوری جسم کی رگیں کاٹ ڈالیں ۔
وہ اس کے سامنے تڑپ تڑپ کر مر رہا تھا لیکن وہ ساتھ والی کرسی پر بیٹھ کر سگریٹ سلگا رہا تھا ۔
اس کی چیخیں سن کر اسے عجیب سا سکون مل رہا تھا ۔
اس نے اس کی ساری رگیں کاٹ دی لیکن گردن کی رگ نہیں کاٹ پایا کیونکہ وہ اپنے ساتھ صرف تیس بلیڈ لایا تھا اگر ایک بھی فالتو لایا ہوتا تو اسے اتنی دیر اس کی چیخیں برداشت نہ کرنی پڑتی ۔
💕
جبکہ دوسری طرف خضر معصومہ کو لانے ایئرپورٹ کے لئے نکل چکا تھا ۔
معصومہ نے اس سے کہا تھا کہ وہ اس سے کورڈورڈ میں بات کرے گی تاکہ اسے کوئی بھی پہچان نہ پائے لیکن خضر کو اپنی بیوقوفی پر بہت افسوس ہو رہا تھا کیونکہ اس نے معصومہ سے اس کی تصویر تک نہ مانگی ۔
اب وہ اسے کیسے پہچانے گا ۔
چلو یہ بھی شکر تھا کہ اس نے معصومہ سے اس کے کپڑوں کا رنگ پوچھ لیا ۔ورنہ آج تو یقیناً ڈیول نے اس کا کچھ نہ چھوڑنا تھا ویسے بھی وہ آج بلیڈ یوز کر رہا تھا ۔
وہ ابھی کھڑا ہر طرف نظریں دوڑا رہا تھا جب نظر سامنے سے آتی ایک معصوم سی لڑکی پر پڑی جو کافی ڈری سہمی تھی ۔
اس نے آسمانی رنگ کا عبایا پہنا تھا جس کے ساتھ اس نے ہم رنگ آسمانی رنگ کا ہی اسکاف لیا تھا ۔
مل گئی معصومہ ۔وہ تیزی سے چلتا ہے اس کے قریب آیا
تم پہنچ گئی میں تو پریشان ہو گیا تھا کہ تمہیں پہچانوں گا کیسے ۔خیر وہ پیپرز تو لائی ہونا تم ۔۔۔؟ اس نے فکر مندی سے پوچھا کیوں کہ اگر اس بار پیپرز میں کچھ گڑبڑ ہوجاتی تو ڈیول اسے نہیں چھوڑنے والا تھا ۔
جی ہاں میں پیپر لے آئی ہوں تو آپ ہیں میرے شوہر اس نے حیرانگی سے پوچھا ۔
شوہر ۔۔۔؟ خضر کو جھٹکا لگا
سر آپ مجھے ایئرپورٹ پر لینے آئے گے تو میں آپ کو وہاں کورڈواڈ میں محاطب کروں گی کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ میرے پیچھے کچھ لوگ لگے ہیں ۔اسے معصومہ کی فون پر کی گئی گفتگو یاد آئی ۔
شوہر۔۔۔۔۔ہاں شوہر تمہارا گھر پے ہے چلو میں تمہیں اسی کے پاس لے جانے آیا ہوں پیپرز مجھے دو ۔خضر نے بات سنبھالتے ہوئے پیپر مانگے
نہیں پیپر تو ہیں انہی کو دونگی اس نے معصومیت سے کہا
تم مجھ پر یقین کر سکتی ہومیں اس کا وفادار آدمی ہوں ۔خضر نے کہا
نہیں پیپرز میں انہی کو دوں گی ۔خضر کو لگا کے اس نے ایک بار پھر سے اس سے پیپر مانگے تو معصومہ رونے لگے گی وہ صرف نام کی معصومہ نہیں پھر وہ سچ میں بہت معصوم تھی
فون پر بات کرنے والی لڑکی تو نہیں لگ رہی تھی وہ تو بہت بولڈ اور ٹیلنٹڈ لگ رہی تھیوہ آکر گاڑی میں بیٹھے تب بھی روح کافی زیادہ ڈری ہوئی تھی
اب نورمل ہوجاؤ ۔مزید ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے خضر نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جبکہ اس کی چھٹی حس اسے کچھ غلط ہونے کا اشارہ کر رہی تھی ۔
کیا مطلب روح نےمعصومیت سے پوچھا
مطلب یہ کہ اب تمہیں ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے محترمہ اپنی اصلیت پر آ جاؤ ۔اور وہ فائل میرے حوالے کر دو ۔۔
خضر سے اب مزید برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بھائی مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا اور میں آپ کو بتا چکی ہوں کہ یہ فائل میں اپنے شوہر کو دوں گی تو آپ بار بار کیوں مانگ رہے ہیں مجھ سے ۔روح نے اس کی طرف دیکھ کر پریشانی سے کہا کیونکہ اس کی باتیں روح کے سر کے اوپر سے گزر رہی تھی ۔
بھائی میں تمہیں بھائی لگتا ہوں۔خضر نے اسے گھور کے دیکھا کچھ نہیں کہہ رہا میں تمہیں تو ڈیول ہی سنبھالے گا اس نے اکتا کر کہا اور گاڑی کی سپیڈ تیز کردی ۔
جبکہ روح اس کی باتوں کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرنے لگی ڈیول کیا یہ بےڈنگا نام اس کے شوہر کا تھا لیکن یہ کیسا نام ہے اس نے تو کبھی پہلے نہیں سنا ۔ایک ہی دن میں زندگی کتنی حسین لگنے لگی تھی ۔
اس کا شوہر نہ صرف دیکھنے میں اچھا تھا بلکہ بات بھی کتنی محبت سے کرتا تھا ۔
یہاں تو سب ہی لوگ عربی میں بات کرتے ہیں ۔لیکن وہ اس سے اردو میں ہی بات کر رہا تھا ۔
امی اتنی اچھی کیسے ہوگئی کہ اس کی شادی اتنی حسین آدمی سے کردی تو کیا انہیں تب اپنی بیٹیوں کا خیال نہ آیا تھا ۔
یا سچ میں وہ اس کی بھلائی چاہتی تھی ۔
وہ اپنی سوچوں الجھی پورا حال دیکھ چکی تھی ۔
اسے تو گھر ہی لگ رہا تھا ۔لیکن کھانا رکھ کے جانے والے آدمی نے اسے بتایا تھا کہ یہ گھر نہیں ہے بلکہ کام کی جگہ ہے ۔ کمرے میں آرام کرنے کے لیے بھی کوئی چیز نہ تھی سوائے کرسی کے
وہ اسے جس کمرے میں چھوڑ کر گیا تھا وہیں بیٹھی گئی ۔
آگے پیچھے جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اگر وہ اپنے شوہر کی مرضی کے خلاف کوئی کام کرتی اور وہ اس سے روٹھ جاتا تو ۔۔۔۔؟
ابھی تو وہ ٹھیک سے جانتی بھی نہیں تو کیسے مناتی وہ اسے۔
اس نے کہا تھا تم کھانا کھا کر یہی آرام کرو واپس آ کے باتیں کریں گے ۔
میں کیا بات کروں گی ان سے ۔وہ شرماتی گھبراتی بیٹھ کے سوچتی رہی ۔
کیا پہلے بھی بے وقوفوں کی طرح بولنا شروع ہوگئی اب نہیں بولوں گی ایسے ۔سوچ سمجھ کر بات کروں گی وہ یہ نہ سمجھے کہ میں پاگل ہوں ۔
💕
میں آپ کی کچھ مدد کر دوں ۔ اس نے یہاں ایک چیز جو بہت زیادہ نوٹ کی وہ یہ تھی ایک آدمی ہال صاف کرنے کی چیزیں لے کے کھڑاتھا ۔
اور ہر پانچ دس منٹ کے بعد صفائی کرنا شروع کر دیتا ۔
جب کہ روح کو تو ہال بہت صاف ستھرا لگ رہا تھا شاید ایسی آدمی کی محنت کا کمال تھا ۔
نومیم ہم کر لینگے آپ آرام کریں ۔
آدمی کا لہجہ عربی لیکن بات وہ اردو میں کر رہا تھا ۔
یہاں پہ سب لوگ اردو میں بات کرتے ہیں۔۔۔؟ اس سے رہا نہ گیا تو پوچھنے لگی ۔
جی میم یہاں سب ہی لوگ اردو میں بات کرتے ہیں جس کو اردو نہیں آتی وہ سیکھ لیتا ہے جیسے میں نے سیکھی ۔
ڈیول اپنے سارے کام اردو میں کرواتے ہیں ۔
تاکہ محالف پارٹی ہمیں نہ سمجھ سکے ۔
سامنے کھڑے آدمی نے اسے تفصیل سے سمجھایا ۔شاید اسے ابھی تک یہ بات پتا نہیں تھی کہ وہ معصومہ نہیں بلکہ کوئی اور ہے
حسن تم جاؤ میں ان سے بات کرتی ہوں
روح نے مڑ کر دیکھا تو صبح دروازے والی لڑکی کھڑی تھی لیکن اب اس کے کپڑے کچھ اور تھے
اسے دیکھ کر ذرا مسکرائی اور اشارے سے اسے اندر کمرے میں بلایا روح بھی اس کے پیچھے چل دی
نام کیا ہے تمہارا اسنے مسکرا کر پوچھا تو روح بھی ذرا سا مسکرائی
روحِ نور
میں لیلیٰ ہوں یہاں کام کرتی ہو
تمہارا نکاح کیسے ہوا میرا مطلب ہے تم اپنے شوہر کو پہچان نہیں پائی۔لیلیٰ کو اس لڑکی کے بارے میں پوچھنے کے لئے کہا گیا تھا سو وہ نورملی اپنا کام کرنے لگی ۔
یارم نے اس پر سختی کرنے سے منع کیا تھا ۔
کیونکہ اس کا ارادہ اس لڑکی کو صحیح سلامت اس کے گھر تک پہنچانا تھا ۔
جی وہ دراصل فون پر نکاح ہوا تھا میں نے دیکھا نہیں ان کو اس لئے پہچان نہیں پائی۔
مطلب تم نے اس کی کوئی تصویر بھی نہیں دیکھی تھی آئی مین پہلے لڑکی سے پوچھا جاتا ہے کہ تم شادی کرنے کے لیے تیار ہو تصویر دکھائی جاتی ہے بات وغیرہ ہوتی ہے فون پر ۔
نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا ۔مجھے تو نکاح سے ایک دن پہلے پتہ چلا تھا کہ میرا نکاح ہے رو ح نے مسکراتے ہوئے بتایا جیسے اپنا ہی مزاق بنا رہی ہو ۔
او اچھا یعنی ارینج میرج ہے لیلیٰ نے اس کے احساس کمتری دور کرنے کی کوشش کی
جی وہ بس اتنا ہی بولی
اوکے دن مجھے تمہارا پاسپورٹ اور آئی ڈی کارڈ مل سکتا ہے ۔
لیلی مطلب کی بات پر آ چکی تھی
جی میں دیتی ہوں لیکن وہ اصل نہیں ہے یہ تو آپ جانتی ہی ہوں گی وہ کچھ کنفیوز ہو کر بولی
اصل نہیں ہے ۔۔۔؟ تم یہاں کیسے آئی پھر لیلیٰ کو جھٹکا لگا
وہ سب کچھ تو مجھے نہیں پتا یہ سب کچھ تو میرے شوہر ہی جانتے ہوں کہ آپ ان سے پوچھیں اس نے اپنا پاسپورٹ آئی ڈی کارڈ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
جبکہ لیلی اپنا گھومتا ہوا سر لے کر باہر نکل گئی ۔
💕
اس کا مطلب وہ لڑکی غیر قانونی طریقے سے یہاں آئی ہے
اور اس کا یہ شوہر رمیزشیخ اس نام کا کوئی آدمی نہیں یے اس شہر میں
اور میں نے ایئرپورٹ سے بھی پتہ کیا ہے اس نام کی کوئی بھی لڑکی دبئی آئی ہی نہیں
اور نہ ہی اسے لینے کوئی ایئرپورٹ آیا تھا ورنہ انتظامیہ میں کوئی رپورٹ درج ہوتی
آئی ڈی کارڈ پر کیا نام لکھا ہے اور پاسپورٹ کہاں ہے اس لڑکی کا لیلیٰ خضر نے پوچھا
ہاں میں نے لے لیا تھا یہ ہے اپنے ہاتھ میں پکڑا پاسپورٹ اور آئی ڈی کارڈ اس کے حوالے کیا
جس پر تصویر تو اسی کی لگی تھی لیکن نام کسی اور کا درج تھا
مجھے تو یہ کوئی گیم لگ رہا ہے شارف نے کہا جو ابھی کچھ دیر پہلے ہی جیل سے چھوٹ کر آیا تھا
گیم تو ہے یہ لیکن ہمارے ساتھ نہیں اس لڑکی کے ساتھ
اس لڑکی کے گھر والوں کے بارے میں پتہ کرواؤ ۔
اس گیم میں اس کے گھر والے بھی شامل ہیں
اس نے تحمل سے سمجھاتے ہوئے کہا ۔
مطلب تمہیں لگتا ہے کہ اس لڑکی کے گھر والوں نے ہی اسے یہاں بیھجا ہے ۔
خضر نے بات میں حصہ لیا
مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے
خیر لیلیٰ آج کی رات اسے اپنے ساتھ لے جاو اس نے لیلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
نہیں ڈیول میں تو کلب جانے والی ہوں اور میرا تو کافی دیر تک وہاں رہنے کا ارادہ ہے یہ اکیلی میرے گھر میں کیا کرے گی اور اسے دیکھ کر لگتا نہیں ہے کہ یہ میرے ساتھ کلب آنا چاہے گی ۔لیلیٰ نے پریشانی سے کہا جو بہن جی ٹائپ کو اپنے ساتھ کلب تو نہیں لے جا سکتی تھی
۔ میرے ساتھ بھیج دو شارف نے ذرا شرارتی مگر کم آواز میں کہا
جس پر خضر نے اسے گھور کر دیکھا یقیناً ڈیول نے نہیں سنا تھا اگر سن لیتا تو اس کا قورمہ بنا دیتا
معصومہ کا کیا انتظام کیا ہے آج کی رات ڈیول نے پوچھا
نئی لڑکی ہے اس طرح اسے چھوڑ تو نہیں سکتے اس لیے میں نے گودام میں اس کا انتظام کروایا تھا اس کے بابا بھی وہیں رہتے تھے اس کا کہنا ہے کہ جہاں اس کے بابا رہتے تھے یہ وہی رہنا چاہتی ہے خضر نےتفصیل سے بتایا
وہاں پر بھی اس لڑکی کو نہیں رکھ سکتے وہاں اسلحہ ہے اسلحہ دیکھ کر کہیں کچھ گڑبڑ ہی نہ ہوجائے لیلیٰ نے کہا
اور کسی ہوٹل میں بھی نہیں رکھ سکتے اگر پولیس کو شک ہو گیا تو مزید مصیبت شارف نے کہا
ٹھیک ہے یہ میرے ساتھ رہ گئی ڈیول نے کچھ سوچتے ہوئے تینوں کے سر پر دھماکہ کیا
تمہارے ساتھ کیوں رہے گی وہ لیلیٰ نےاپنا غصہ دباتے ہوئے کہا
لیلیٰ میں تمہارے آگے جواب دہ نہیں ہوں اور یہ بات آخری بار بتا رہا ہوں ۔
اسے لگتا ہے کہ میں اس کا شوہر ہے اگر میرے ہوتے ہوئے وہ کہیں بھی اور گئی تو مزید مسئلہ بن جائے گا
میں گناہ گار بندہ ہوں اس لڑکی کے ساتھ کچھ بھی برا نہیں ہونے دے سکتا اور اس کی مدد نہ کر کے مزید گناہگار نہیں ہو سکتا
اسے صحیح سلامت اس کے گھر پہنچاوں گا ۔
تب تک اس لڑکی کو پتہ نہیں چلنا چاہیے کہ ہم کیا کرتے ہیں اور کون ہیں ۔
نورمل انسانوں کی طرح اس کے ساتھ رہو خاص کرکے تم اس نے لیلی کو گھورتے ہوئے کہا ۔
لیکن وہ تمہیں اپنا ہزبنڈ سمجھتی ہے ڈیول اس نے ہزبنڈ پر زور دیتے ہوئے کہا
ہاں لیکن میں اس سے اپنی بیوی نہیں سمجھوں گا میری نظر میں وہ کسی اور کی بیوی ہے اور ہم تب تک اس کی غلط فہمی ہم دور نہیں کرسکتے جب تک یہاں سے چلی نہیں جاتی ۔
اگر کسی کو پتا چل گیا کہ یہاں کوئی انجان لڑکی ہمارے ساتھ ہے سب سے پہلے انسپیکٹر صارم الرٹ ہوگا ۔
وہ تو پہلے ہی ہمارے پیچھے پڑا ہے
صرف ایک موقع کی تلاش میں ہے وہ صرف ایک
وہ بھی تم میں سے کسی کی نہیں بلکہ میری ایک غلطی پر نظر رکھے ہوئے ہے اور میں اسے موقع نہیں دے سکتا ۔
اور اگر لڑکی کو پتہ چل گیا کہ ہم کون ہیں تو سب سے پہلے یہ پولیس میں جائے گی ۔
مجھے سمجھ میں نہیں آتا انسپیکٹر صارم تمہارے پیچھے کیوں پڑا ہے ہم سب بھی تو ہیں میں کتنی بار اس کادھیان تمہارے اوپر سے ہٹا کر اپنے طرف دلانے کی کوشش کی لیکن پھر سے وہ تمہارے خلاف ثبوت کیوں ڈھونڈنے لگتا ہے انسپکٹر صارم ہمیں کیوں کچھ نہیں کہتا
کیونکہ اگر درخت سے سارے پتے اتار کر پھینک بھی دیے جائیں تو بھی درخت نئے پتے اگا لیتا ہے ۔لیکن اگر اسی درخت کو زمین سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے تو وہ بنجر ہو جائے گا اور اس کے سب پتے سوکھ جائیں گے انسپیکٹر صارم کی نظر درخت پہ ہے پتوں پر نہیں
💕
وہ صبح دس بجے سے لے کر اب تک اسی کمرے میں بیٹھی تھی ۔وہ سفر کی وجہ سے اتنی تھکی ہوئی تھی لیکن پھر بھی یہاں پر کوئی آرام کرنے کے لئے جگہ نہ تھی اسے آرام کرنے کی عادت بھی نہ تھی سارا دن تو وہ کسی نہ کسی کام پر لگی رہتی اور اب بھی کمرے میں گھوم رہی تھی جب آہیستہ سے دروازہ کھٹکھٹا کر وہ اندر آیا
گھر چلیں لہجے میں اب بھی وہی نرماہٹ تھی
وہ مسکرائی ۔
جی چلیں
اس نے صبح سے وہی برقہ پہن رکھا تھا
وہ اپنا سامان اٹھانے لگی تو یارم نے اسے منع کردیا
تم رہنے دو میرا آدمی لے آئے گا اسے چلنے کا اشارہ کرکے وہ آگے چل دیا وہ بھی جلدی سے اس کے پیچھے آئی
وہاں کھڑے آدمی نے اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا ۔
ٹی وی ڈراموں میں اسی طرح سے نوکروں کو دروازہ کھولتے دیکھتی تھی آج اپنے لیے ایسی خاطر تواضودیکھ کر اس کی ہنسی نکل گئی
پھر دھیرے سے تھینک یو بول دیا
گاڑی میں ان دونوں میں کوئی بات نہ ہوئی
پھر ایک جگہ یار م نے گاڑی رو کی اور گاڑی سے نکل کر نہ جانے کہاں چلا گیا
آگے پیچھے نظردوڑاتی جب روح کی نظر سڑک پر گئی اس نے جب چھوٹے چھوٹے بچوں کو سڑک پر لیٹے ہوئے دیکھا تو سوچنے لگی
یا اللہ یہ سب ضرور میری طرح یتیم ہوں گے بچوں کی بےبسی دیکھا اسے اپنا بچپن یاد آنے لگا
اسے پتہ بھی نہ چلا کہ کب یارم گاڑی میں آکر بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ ھوگئی
خاموشی طویل تھی ۔
لگتا ہے ہوا پانی بدلنے کی وجہ سے تمہاری طبیعت خراب ہو رہی ہے کب سے اس کی سوں سوں کی آواز سنتا بولا
نہیں میں تو بالکل ٹھیک ہوں اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا
اوّ اچھا تم رو رہی ہو ۔۔یارم نے اب اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
کیوں رو رہی ہو تم یارم خود بھی سمجھ نہ پایا کہ یہ سوال اس نے کیوں پوچھا ہے شاید اس نے اس طرح سے کسی کو کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا تھا
وہاں چھوٹے بچے ۔۔۔ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی
کیا پاکستان میں بیکاری نہیں ہیں ۔۔ ۔ ؟ اس نے آرام سے پوچھا
ہیں لیکن سڑک پے نہیں سوتے ۔وہ اس سے یہ نہیں کہہ پائی کہ وہ کبھی گھر سے باہر نکل کر سڑکوں پر ایسے سوتے کسی بیکاری کو دیکھ نہیں پائی ۔
ہممم
خاموشی ایک پر پھر سے چھا گئی
💕
گاڑی ایک بلڈنگ کے قریب آکر رکی ۔
یہاں سے اندر چلی جاو یہ چابی پکرو فلیٹ نمبر 8 اور یہ کھانا بھی لے جاؤ ۔میں گاڑی پارک کر کے آتا ہوں
یارم نے اسے چابی اور کھانا پکڑاتے ہوئے کہا
وہ فورا گاڑی سے باہر نکل گئی ۔
لیکن اندر نہیں گئی بلکہ وہیں کھڑا ہوکر اس کا انتظار کرنے لگی ۔
وہ اسے یہ کیسے کہتی کہ ا سے اکیلے جانے میں ڈر لگتا ہے کیا سوچے گئے وہ کہ یہ ہر چیز سے ڈرتی ہے ۔اسی لئے وہیں رک کر اس کا انتظار کرنے لگی
تقریبا چار پانچ منٹ میں وہ اس کے ساتھ آ کر رکا
وہ میں آپ کا انتظار کر رہی تھی اس نے پوچھا نہیں لیکن پھر بھی روح بتانے لگی
ٹھیک ہے چلو ۔ اس کے ہاتھ سے چابی لے کر وہ آگے کی طرف چلنے لگا ۔
ایک نیا سفر تھا اس کے لیے وہ اس کی قدم سے قدم ملا کر چلنے لگی ۔
اس نے لفٹ کا بٹن پریس کیا ۔لفٹ نے انہیں ان کی منزل تک پہنچایا ۔وہ اس کی ہر حرکت کو غور سے دیکھ رہی تھی ۔اس کے چہرے کو دیکھ کر بار بار ایک عجیب سی شرم اسے آگھیرتی تھی ۔۔ کبھی وہ شرماتے ہوئے اپنی انگلیاں چٹکتی ۔ کبھی اپنی آنے والی زندگی کا سوچ کر مسکراتی ۔لیکن وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بنا رہا ۔
💕
اس نے آکر فلیٹ کا دروازہ کھولا فلیٹ بہت برا نہ تھا دروازے پر رک کر ایک ہی نظر میں اس نے سارا فلیٹ دیکھ لیا ۔
دو بیڈروم ایک کچن باتھ روم کا دروازہ کہیں نہیں تھا ضرور بیڈ روم کے ساتھ تھے۔ لیکن فلیٹ بالکل صاف ستھرا تھا
تم یہاں بیٹھو میں کھانا نکل کے لاتا ہوں اس نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا
آپ کیوں کریں گے میں کرتی ہو نا یہ تو عورتوں کے کام ہیں اس نے جلدی سے اس کے ہاتھ سے کھانے کے شاپر لئے اور اوپن کیچن کی طرف آگئی
یارم کچھ نہیں بولا کیونکہ وہ کسی بھی طرح اسے شک میں نہیں ڈال سکتا تھا
جبکہ اس کی نظریں کچن کی طرف تھی
پورے گھر کی طرح یہ بھی صاف ستھرا تھا اس کا مطلب تھا کہ اس کا شوہر صفائی پسند ہے روح نے اچھی بیویوں کے طرح جلدی سے یہ بات اپنے دماغ میں بٹھا لی
پھر کھانا برتنوں میں نکال کر لائی
دونوں نے آرام سے کھانا کھایا
نہ جانے اس ڈش کا کیا نام تھا مگر تھی بہت مزے کی
وہ یہ تو نہیں جانتا تھا کہ اسے کیا پسند ہے اور کیا نہیں لیکن پھر بھی وہ اپنی طرف سے ایسی چیز لے کے آیا تھا جسے وہ سکون سے کھالے اور ایسا ہی ہوا تھا
اس نے سکون سے کھانا کھایا اور پھر برتن نہ صرف وہاں سے اٹھ کے لے گئی بلکہ اچھے سے دھو کر واپس اسی جگہ پر رکھ کر باہر آئی
آپ چائے پیتے ہیں ۔۔۔؟ یارم کھانا کھا کر آرام سے آنکھیں بند کرکے صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا جب پیچھے سے نرم سی آواز سنی
ہاں ۔اسے سوال عجیب لگا لیکن پھر جواب دیا شاید وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی تبہی بے تکے سوال پوچھ رہی تھی
میں بناؤں آپ کے لیے۔۔۔۔؟ اس نے پیار سے پوچھا ۔
ہاں بناؤ وہ اس وقت تنہائی چاہتا تھا اب وہ اسے کسی بھی بہانے سے میسر ہو کیا فرق پڑتا ہے ۔
لیکن اس کی بات سن کر روح خوشی سے اٹھی اور چائے بنانے چلی گئی
اور پھر اگلے پانچ منٹ بعد وہ چائے کے ساتھ حاضر تھی
وہ ویسے بھی رات کو چائے پینے کا عادی تھا لیکن ہمیشہ وہ خود بناتا تھا آج پہلی بار کسی دوسرے کے ہاتھ کی چائے پینے جا رہا تھا
تم اس کمرے میں سوجانا میں اس کمرے میں سوؤں گا اسنے چائے پیتے ہوئے کہا
کیا مطلب میں کچھ سمجھی نہیں چہرے کی رونق غائب ہوئی تھی ۔
میرا مطلب ہے مجھے کچھ کام کرنا ہے تم بیکار میں ڈسٹرب ہوگی ویسے بھی سفر سے تھکی ہوئی ہو تم اس کمرے میں جا کر آرام کرو میں اپنا کام ختم کر لوں۔
جی اچھا ۔وہ کہہ کر چائے کے کپ اٹھانے لگی ۔
یہ رہنے دو میں اٹھا لوں گا تم جاؤ آرام کرو وہ ہمیشہ سے اپنے کام خود کرتا تھا ۔
میرے ہوتے ہوئے آپ کام کیوں کریں گے ۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولی اور کپ اٹھا کر کچن میں چلی گئی ۔
تقریبا پانچ منٹ کے بعد گیلے ہاتھ اسکارف سے صاف کرتی باہر نکلی ۔اس نے اپنا برقہ اب تک نہ اتارا تھا
ایک بات کہوں آپ سے کمرے میں جاتی ہوئی واپس پلٹی
کہو ۔یارم نے اس تھوڑی دیر میں یہ اندازہ لگایا تھا یہ لڑکی بہت شرمیلی اور بہت باتونی ہے۔
مسکرانا صدقہ جاریہ ہے ۔وہ بنا پلٹے فوراً اپنے کمرے کی میں چلی گئی
جبکہ یارم نے اپنے گال پے ابھرنے والے بےساختہ ڈمپل کو بڑی مشکل سے روکا تھاصبح یارم کی آنکھ کھلی تو پورے گھر میں خوشبو پھیلی ہوئی تھی ۔
وہ آرام سکون سے اٹھا فریش ہو کر باہر آیا تو اس کے اندازے کے عین مطابق روح کیچن میں گھسی کچھ کر رہی تھی
اپنے اس فلیٹ میں اس نے آج تک اپنے علاوہ کسی دوسرے وجود کو اتنی صبح نہ دیکھا تھا ۔
وہ شروع سے ہی اس طرح سے رہتا تھا کہ کوئی اسے پہچان نہ پائے یہ فلیٹ جس بلڈنگ میں تھا وہاں پر بہت ساری فیملیز رہتی تھی جن میں زیادہ تر انڈین اور پاکستانی تھی ۔
ان سب کو یارم کے بارے میں کچھ بھی پتہ نا تھا اگر کسی کو کچھ پتا تھا توبس اتنا کے ایک لڑکا ہے جو یہاں رہتا ہے ۔ اور چھوٹی موٹی جاب کرتا ہے ۔یارم کا ریکارڈ اتنا صاف تھا کہ آج تک پولیس اس تک نہ پہنچ پائیں
مگر انسپکٹر صارم کی محنت اور لگن ہی تھی جس نے اسے اس تک پہنچنے میں اس کی مدد کی ۔
وہ خود بھی انسپکٹر صارم کواس کی ہمت اورقابلیت کی داد دیتا تھا ۔
ارے آپ اٹھ گئے آپ بیٹھے میں ناشتہ لگاتی ہوں ۔وہ کچن سے باہر ٹیبل تک آئی تو اسے دروازے پر کھڑا دیکھ کر بولی
ویسے مجھے پتہ نہیں ہے کہ آپ صبح ناشتے میں کیا پسند کرتے ہیں لیکن پھر بھی میں نے پراٹھے بنائے ہیں ۔
لیکن آپ کہنگے تو کچھ اور بھی بنا دوں گی ۔
اس وقت وہ بنا عبایا کہ کالا چوڑی دار پاجامہ اور سرخ قمیض پر کالا دوپٹہ سلیقے سے سر پہ جمائی کھڑی تھی ۔
ہاں مگر کپڑے اس کے لحاظ سے تھوڑے لوز تھے ۔
سفید رنگت کالی آنکھیں ۔لمبے بال جو دوپٹے سے باہر کمر سے نیچے جھول رہے تھے ۔وہ بہت خوبصورت تھی لیکن یارم جتنی نہیں ہاں لیکن اس کے چہرے کی معصومیت خوبصورت سے خوبصورت انسان کو مات دینے کے لیے کافی تھی ۔
نہیں ۔میں یہ کھا لوں گا ۔تھنک یو میرے لئے ناشتہ بنانے کے لیے اور سوری تمہیں میرے لیے اتنی زحمت کرنی پڑی وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ اتنا کیوں بولنے لگا ہے وہ تو ضرورت سے زیادہ کبھی نہیں بولتا تھا
ارے زحمت کیسی اب یہ سب کچھ مجھے ہی تو کرنا ہے ۔
صفائی کے لیے کون آتا ہے میرا مطلب ہے گھر کی صفائی کون کرتا ہے ۔
وہ کھانے کے لئے بیٹھا تھا جب روح نے پاس بیٹھ کر سوال پوچھا ۔
میں خود میں اپنے گھر کے سارے کام خود کرتا ہوں مجھے دوسروں لوگوں کے کیے گئے کام پسند نہیں آتے اور دوبئی میں آسانی سے نوکر ملنا بھی بہت مشکل ہے ۔
یہاں تقریباً سب ہی لوگ اپنے کام خود کرتے ہیں ۔
اور کھانا بھی خود بناتے ہیں ۔۔۔؟روح نے حیران ہو کر پوچھا
زیادہ تر خود ہی بناتا ہوں اور اگر دیر ہو جائے تو باہر سے لے آتا ہوں ۔
بس اتنا کہہ کر وہ ناشتہ کرنے لگا ۔مگر اسے یہ نہیں کہہ پایا کہ اسے خاموشی میں کھانا کھانا پسند ہے ۔ وہ بس اس لڑکی کو یہ نہیں بتانا چاہتا تھا کہ وہ ایک ڈان ہے اور یہ لڑکی غلط ایڈریس پر پہنچی ہے ۔
لیکن اس کے لیے اس لڑکی سے باتیں کرنے ضروری تو نہ تھی ۔ وہ کیوں اسے اپنی پرسنل باتیں بتا رہا تھا رات میں اس نے جب کہا کہ وہ دوسرے کمرے میں سو جائے تو اس کی اداسی کیوں اس سے پریشان کر گئی تھی ۔
خوبصورت سے خوبصورت لڑکی اس کی زندگی میں آئی تھی اس نے پلٹ کر کبھی ان کی طرف دیکھا بھی نہیں ۔لیلی اس کی ایک نظر پہ بیٹھی تھی لیکن اس نے لیلیٰ کو کبھی اتنی اہمیت نہ دی۔
لیکن اس لڑکی کی صرف اداسی اسے پریشان کر رہی تھی وہ چاہتا تھا کہ جس طرح سے یہ لڑکی ہنستی کھیلتی یہاں آئی ہے اسی طرح سے اپنے گھر پہنچ جائے ہاں وہ بس اس کے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دینا چاہتا تھا اس کی معصومیت کو برباد نہیں ہونے دینا چاہتا تھا
بس یہی تو وجہ تھی ۔
کیسا بنا ہے ۔۔۔؟اپنی سوچوں میں وہ بیٹھا آرام سے ناشتہ کر رہا تھا جب اچانک سے روح کی آواز بہت قریب سے محسوس ہوئی ۔
وہ ایکسائٹڈ سی کھڑی اس سے پوچھ رہی تھی ۔
اچھا بہت اچھا بس اتنا سا بول کر وہ پھر سے ناشتہ کرنے میں مگن ہو گیا
میں آپ کے لیے روز بناؤں ایک بار پھر سے وہ ایکسائیڈ سی اس سے پوچھنے لگی ۔
روز ۔۔۔؟ ہاں روز بناؤ ۔ وہ کیوں اسے بتا نہیں پا رہا تھا کہ وہ صرف ایک یا دو دن اس کے ساتھ رہے گی پھر تو اسے جانا ہے اپنے گھر جہاں اس کا اصل شوہر ہے ۔
میں کام پر جارہا ہوں تم یہیں رہو میں جلدی واپس آنے کی کوشش کروں گا ۔
ناشتہ کر کے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔اس کا ارادہ جب تک اس لڑکی کے گھر والوں کا ملنا تھا اس کو یہی رکھنے کا تھا ۔
بالکل عام روزمرہ کی جاب کرنے والے آدمی کی طرح وہ تیار ہوا۔جینز کے اوپر وائٹ شرٹ اور گلے میں ٹائی اور ہاتھ میں بریف کیس پکڑ کر گھر سے نکلا اور جانے سے پہلے سے دروازہ بند کرنے کا بول گیا
💕
کچھ پتہ چلا اس لڑکی کے بارے میں اس نےخضر سے پوچھا
نہیں میں کل سے لگا ہوں لیکن اس لڑکی کے بارے میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔
اب فیک آئی ڈی کارڈ پر ہم کیسے اس کے گھر والوں کو ڈھونڈیں ۔
ہممم ۔ اور اس لسٹ کا کیا ہوا شارف اپنا کام کر رہا ہے ۔۔۔؟
نہیں اس نے ابھی شروع نہیں کیا وہ میرے ساتھ اس لڑکی کے گھر والوں کو
کیا لڑکی لڑکی لگا رکھا ہے تم لوگوں نے اپنے کام پر دھیان دو وہ لڑکی ہمارا کام نہیں ہے ۔
اس نے غصے سے خضرکی بات کاٹی ۔
ہاں لیکن میں چاہتا تھا کہ اس لڑکی کے گھر والوں کا پتہ چل جائے تو ہم صحیح سلامت سے واپس پہنچا دیں پھر اپنے کام پر دھیان دیں اسے غصے میں دیکھ کر خضر نے وضاحت پیش کی
اس لڑکی سے زیادہ ضروری کام ہے ہمہیں فی الحال اپنے کام پر دھیان دو اس لڑکی پر نہیں ۔
ہاں لیکن ڈیول ایک دو دن میں ہی ہم اس لڑکی کے بارے میں سب انفارمیشن ڈھونڈ لیں گے اور
خضر تم وہ کروجو میں کرنے کے لئے کہہ رہا ہوں فلحال اس لڑکی کو ایک سائیڈ پر رکھو اور ضروری کام کرو اس نے پھر سے خضر کی بات کاٹی
اوکے جیسا تم کہو ۔
💕
مجھے ہال چیکگ کرنی ہے ۔ یہ سرچ وارنٹ ہے آپ چیک کرسکتے ہیں ۔
یہ اس مہینے میں تسیری چیکنگ وارنٹ تھی۔
وہ جب بھی فارغ ہوتا تو ایسا ہی سرچ وارنٹ نکلوا کر یہاں آ جاتا
ضرور انسپکٹر صارم کیوں نہیں آپ کا اپنا ہی ہال ہے جب دل چاہے آئیں چیکگ کریں ۔
شارف نے پورا دروازہ کھولتے ہوئے کہا ۔
کل ہی تو وہ جیل سے چھوٹ کے آیا تھا اور پچھلے 10 دن سے اس نے سب سے زیادہ اسی شخص کی شکل دیکھی تھی اورانسپیکٹر صارم یہ وہ پہلا اور آخری شخص تھا جسے وہ آج کی تاریخ میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔
بہت شکریہ اتنی مہمان نوازی تو مجھے ہضم نہیں ہوگی صارم نے مسکرا کر کہا ۔
ہضم تو کرنی پڑے گی انسپیکٹر صارم ا آخر آپ کی مہمان نوازی کا قرض چکانا ہے ۔
جیل میں اس پر کسی بھی قسم کا تشدد نہ کیے جانے کا اوڈرتھا لیکن صارم پھر بھی وقت بے وقت ہاتھ صاف کرتا رہا ۔
اکرم انسپکٹر صاحب کے لیے کچھ کھانے پینے کو منگاؤ یہ تو گھر کے جمائی راجہ ہوگئے ہیں جو کبھی بھی آ ٹپکتے ہیں ۔
شارف نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اس کے ہر دوسرے تیسرے دن آنے پر چوٹ کی ۔
لیکن وہ کہتے ہیں نہ پولیس والے ڈھیٹ مٹی کے بنے ہوتے ہیں صارم بھی اُسی مٹی کا بنا تھا ۔
چیکگ شروع ہوچکی تھی صارم کے ساتھ آئے پولیس والوں نے ہال کا ستیاناس کر دیا تھا ۔
یہ تو شکر تھا کہ ڈیول یہاں نہیں تھا ورنہ گندگی اور بے ترتیبی سے اسے نفرت تھی ۔
مجھے اندازہ نہیں تھا کہ دبئی کے پولیس والے اتنے ظلم ہوتے ہیں ۔صارم نے اپنے پیچھے سے نرم سی آواز سنی ۔
مڑکے دیکھا تو پیچھے خوبصورت لیکن نازک سی لڑکی کھڑی تھی ۔
یہ لڑکی کون ہے پہلے تو اسے تم لوگوں کے ساتھ نہیں دیکھا اس نے شارف سے پوچھا۔
اس سے کیا پوچھ رہے ہیں مجھ سے پوچھیں انسپکٹر صاحب جتنے اچھے طریقے سے میں آپ کو بتاؤں گی کوئی نہیں بتا پائے گا وہ صارم کے قریب اس کے بازو میں اپنا بازو ڈالتے ہوئے بولی ۔
حد میں رہو لڑکی یہ نہ ہو کہ اسی ہاتھ میں ہتھکڑی پہنا کے اندر کردو ں۔ اس نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑوایا
ہائے ظالم کیا دھمکیاں دیتے ہو ۔دل کرتا ہے خود ہی تمہاری جیب سے ہتھکڑی نکال کر پہن لو ں ایک ادا سے بولتی ہوئی وہ اس کی گردن میں ہاتھ ڈالنے لگی
انسپکٹر صاحب معصوم لوگوں کو نہیں تڑ پاتے
پلیز پہنا دیں نہ ہماری معصومہ کو ہتھکڑی دیکھیں نہ کیسے منتیں کر رہی ہے آپ کی ۔شارف نے جیسے اس کی سفارش کی تھی ۔
معصومہ ۔۔۔۔ضرورت سے زیادہ معصوم ہے یہ ۔ اور ہتھکڑی تو میں ضرور پہنوں گا اسے ۔لیکن فی الحال میں اپنا کام کرنے آیا ہوں اگلی بار ان کے لئے ہتھکڑی ضرور لے کر آوں گا
اس کا ہاتھ اپنی گردن سے جھٹکتے ہوئے کہا
پنک کلرکی پہنوں گی معصومہ نے معصومیت سے آنکھیں پپٹائی جبکہ معصومہ کی بات سن کر آگے پیچھے ڈیول کے سبھی آدمی دبی دبی ہنسی ہنس رہے تھے ۔
یہ تو شکر تھا کہ دبئی کی پولیس کو اردو نہیں آتی تھی
جبکہ معصومہ ابھی بھی محبت پاش نظروں سے اسے گھورے جا رہی تھی۔
اس کی نظروں سے تنگ آکر صارم نے پولیس والوں کو چلنے کا آرڈر دیا
کیا دبئی کے پولیس والے اتنے پیارے ہوتے ہیں
۔معصومہ ابھی تک اس دروازے کو گھور رہی تھی جہاں سے صارم نکلا تھا ۔
یہ بندہ شادی شدہ ہے ایک بچی کا باپ ہے ۔معصومہ کی بڑبڑاہٹ سن کر شارف تیزی سے بولا ۔
مگر پھر بھی بہت ہنڈسم ہے ۔لائن مارنے میں کوئی برائی بھی نہیں ۔مجھے تو بہت پیارا لگا
معصومہ نے اس کی شادی شدہ ہونے کا کوئی اثر نہ لیا
ڈیول سے زیادہ ۔۔۔؟۔شارف نے پوچھا کیوں کہ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کوئی لڑکی یار م کو چھوڑ کر کسی دوسرے آدمی کے بارے میں بات کرئے
ارے ڈیول سر کے ساتھ وہ چڑیل ہمیشہ چپکی رہتی ہے ۔ان دونوں میں کچھ چل رہا ہے کیا معصومہ نے پوچھا ۔
ہاں چل رہا ہے چھ سال سےتو یکطرفہ ہی چل رہا ہے لیلیٰ ڈیول سے محبت کرتی ہے ۔لیکن ڈیول کی نظر میں اس کے جذبات کی کوئی اہمیت نہیں ۔
شارف نے بتایا
اور اکڑتی تو ایسے ہے جیسے ڈیول سر اس کے بوائے فرینڈ ہوں ۔معصومہ کولیلیٰ کچھ خاص پسند نہیں آئی تھی
💕
یارم کے جانے کے بعد اس نے سارا گھر شیشے کی طرح چمکایا ۔
ایک ایک چیز کو رگڑرگڑ کر صاف کیا ۔چھوٹا سا گھر تھا فٹافٹ صاف ہوگیا
اس کے بعد کچن میں آئی ۔اور وہی عمل کچن میں دہرایا ۔
کچن میں کھانے پینے کی ہر چیز موجود تھی ۔
لیکن وہ جانتی تھی اس کے شوہر کا راستہ پیٹ سے نہیں بلکہ صاف صفائی سے نکلتا ہے ۔
لیکن وہ اسے بھوکا بھی تو نہیں مار سکتی تھی کھانے کے لئے بھی کچھ نہ کچھ تو بنانا ہی تھا ۔
بہت سوچ بچار کر کے اسے دال چاول ہی نظر آئے ۔
حد ہے مطلب اب میں اپنے شوہر کے لئے زندگی میں پہلی بار کچھ بنانے جارہی ہوں تو کیا دال چاول بنا کے دؤں گی ۔۔
کیا سوچیں گے وہ میرے بارے میں مجھے کچھ اور بنانا نہیں آتا ۔۔
ہاں تو ان کے سوچنے سے پہلے ہی میں بتا دوں گی کہ میں سب کچھ بنا لیتی ہوں لیکن گھر میں یہی تھا تو میں نے یہی بنا دیا ۔
ہاں یہی ٹھیک ہے میں بھی نا پتا نہیں کیا کیا سوچتی رہتی ہوں ۔اپنی تمام تر سوچوں کو ایک طرف رکھ کر وہ کھانا بنانے میں جھٹ گئی ۔
ابھی اس نے دال چاول صاف کر کے ہی رکھے تھے جو کہ پہلے سے ہی صاف تھے ۔
کے دروازے کی بیل بجی ۔
ہائی یہ کون آ گیا ہے جو بھی آیا وہ عربی میں بات نہ کرتا ہو اسے تو میری کوئی بات سمجھ میں نہیں آئے گی ۔
چلو میں تو پھر اشاروں سے سمجھا لوں گی وہ کیسے سمجھائے گا ۔
یہی سب سوچتے ہوئے وہ دروازے تک آئی
دروازہ کھولا تو سامنے 3خواتین کھڑی تھی
اسلام علیکم ہم آپ کے پروسی ہیں یہ ساتھ والے فلیٹ میں رہتی ہیں ۔
ایک عورت نے میٹھے لہجے میں کہا
وعلیکم سلام ائیں اندر آئیں ا سے امید نہ کہ دبئی میں اردو میں بات کرنے والی کوئی عورت اسے ملے گی
بیٹا آپ کو پہلے کبھی یہاں نہیں دیکھا ۔وہ لڑکا جو اس فلیٹ میں رہتا ہے اس کو ہم اکثر آتے جاتے دیکھتے رہتے ہیں ۔ آپ آج ہی آئی ہیں کیا دوسری عورت نے اس سے سوال کیا
نہیں آنٹی میں کل آئی تھی میں ان کی بیوی ہوں ۔شادی کے بعد میں پہلی بار یہاں آئی ہوں ۔اس نے فون پر نکاح والی بات گل کر کے بتایا ۔
اچھا اچھا بہت اچھی بات ہے ۔بیچارہ ویسے بھی اکیلا رہتا تھا ۔اب تم آگئی ہو تو بچارے کی تنہائی بٹ جائے گی ۔
وہ عورتیں اسے باتوں میں لگا کے ادھر ادھر کی باتیں بتانے لگی ۔
اور کچھ ہی دیر میں اسے یہ بھی بتا دیا کہ بلڈنگ کے کون کون سے گھروں میں نہیں جانا کونسی عورتیں اچھی ہیں اور کونسی عورتیں اچھی نہیں
وہ بھی سب کی باتوں کو ایسے ذہن نشین کر رہی تھی جیسے وہ ہر کسی کے گھر میں جانے والی ہو
بلکہ تم ایسا کرنا کہ کل ہم ایک کٹی پارٹی رکھیں گے ۔
اس میں ہم بلڈنگ کی ان سب عورتوں کو بلائیں گے جن کے ساتھ تم اٹھ بیٹھ سکتی ہو۔تمہاری عمر کی بھی لڑکیاں ہوں گی وہاں ۔
جی انٹی میرے شوہر آجائیں میں ان سے پوچھ کر آؤں گی ۔
ہماری بلڈنگ میں بھی شوہر کی اجازت سے آیا جایا کرو گی۔
خیر وہ منع تو نہیں کرے گا لیکن پھر بھی تم پوچھ لینا مگر آنا ضرور ہم تمہارا انتظار کریں گے ۔
اور تھوڑی دیر مزید بیٹھ کر چلی گئی ۔
یااللہ اب کیا امی اور آپی کی طرح میری بھی سہیلیاں ہوں گی جو گھر آیا کریں گی۔ ہائے کتنا مزا آئے گا
کیا خاک مزہ آئے گا یہ سب تو مجھ سے اتنی بڑی ہے ۔ہاں لیکن انہوں نے یہ بھی تو کہا کہ وہاں میری عمر کی بھی لڑکیاں ہوں گی ۔
تیز تیز پیاز کاٹتی وہ خود ہی بڑبڑا رہی تھی ۔
💕
آج صبح سے ہی یارم لیلیٰ کے ہاتھ نہیں لگا وہ اپنے کام نپٹاتا رہا اور لیلیٰ بن پانی کی مچھلی بنی رہی
اسے ساری رات یہ سوچ کر نیند نہیں آئی کہ وہ دونوں ایک ساتھ ایک فلیٹ میں ہیں
جبکہ یہ بات لیلی سے چھپی ہوئی نہیں تھی کی کسی قسم لڑکی یارم کو ایکٹریکٹ نہیں کرتی ۔
لیکن پھر بھی یارم تھا تو مرد ۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اتنی خوبصورت معصوم لڑکی اس کے پاس ہو اور وہ بالکل بھی اس میں دلچسپی نہ لے ۔
لیکن وہ مجھ سے زیادہ خوبصورت تو نہیں ۔ ۔ میں کیوں اتنی خوفزدہ ہو رہی ہو وہبھی اس لڑکی کے لیے ۔جسے صرف ڈیول بچانا چاہتا ہے ۔شاید میں کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہوں۔ وہ لڑکی تو ویسے بھی کچھ ہی دنوں میں چلی جائے گی ۔
بس اس کے گھر والوں کے بارے میں پتہ لگنے کی دیر ہے اور ویسے بھی وہ لڑکی شادی شدہ ہے ڈیول کسی شادی شدہ لڑکی میں کبھی بھی دلچسپی نہیں لے گا ۔
لیکن وہ لڑکی سارا دن اس کے گھر پہ کر کیا رہی ہوگی ۔
وہ ساتھ ساتھ تیز تیز چلتی ہال کے چکر کاٹ رہی تھی اور ساتھ ساتھ بڑبڑا رہی تھی ۔
چل کے دیکھ لیتے ہیں شارف نے کہا ۔
تمہارا مطلب ہے ڈیول کے گھر چلتے ہیں ۔
ہاں میرا مطلب ہے ڈیول کے گھر چلتے ہیں
ہم ڈیول کو کہتے ہیں کہ آج ہم چاروں ساتھ ڈنر کریں گے اور ساتھ اس لڑکی کو بھی لے لیتے ہیں ۔یقین کرو ڈیول کا اس لڑکی کو بھوکا مارنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوگا ۔
💕
تم تینوں گاڑی میں بیٹھو میں تب تک اس کو لے کے آتا ہوں یارم کہہ کر جانے لگا لیکن لیلیٰ بھی جلدی سے گاڑی سے باہر نکلی ڈیول نہ جانے وہ لڑکی تیار ہونے میں کتنا ٹائم لگا ہے میرا خیال ہے ہمیں بھی اوپر ہی انتظار کرنا چاہیے ایسے گاڑی میں بیٹھے رہنا اچھا نہیں لگتا
اپنی بات ختم کرکے اس نے فورا شارف کو اشارہ کیا جو اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگا ۔
یار م ان کی بحث سنے بغیر ہی آگے نکل گیا وہ تینوں بھی اس کے پیچھے بھی آئے اس نے دروازہ کھٹکھٹایا جو اندر سے لاکڈ تھا
روح تو جیسے اسی کے انتظار میں کھڑی تھی فورا دروازہ کھل گیا ۔
بنا پوچھے دروازہ کیوں کھولا تم نے ہماری جگہ کوئی اور بھی ہو سکتا تھا آئندہ احتیاط کرنا یارم کا لہجہ ذرا سخت تھا
جی مجھے لگا اب کون آئے گا آپ کے علاوہ اس لیے بنا پوچھے دروازہ کھول دیا وہ اپنی انگلیاں مروڑتے ہوئے بولی
ہاں ٹھیک ہے لیکن آئندہ احتیاط کرنا جلدی سے تیار ہو جاؤ ہم باہر جا رہے ہیں ڈنر کرنے
یارم نے اپنے پیچھے کھڑے بندوں کو اتنی بھی اہمیت نہ دیں کہ گھر کے اندر بلائے لیکن وہ اتنی بے مروت نہ تھی
کھانا تو میں نے بنا دیا تھا ۔
میرا مطلب ہے آپ نے بتایا نہیں تھا کہ ہم شام میں کہیں باہر جانے والے ہیں اس لیے میں نے کھانا بنا دیا ۔وہ پریشانی سے بولی
کوئی بات نہیں لڑکی وہ کھانا تم فریج میں رکھ دو ۔
اور ہمارے ساتھ چلو خضر جلدی سے بولا
لیکن اس کے بات پر یار م نے گھوم کر ا سے دیکھا پہلی بات اس کا نام لڑکی نہیں روح نور ہے ۔
دوسری بات اس نے کھانا بہت محنت سے بنایا ہے اور اب تم لوگ ڈنر یہی کرو گے ۔
اور تیسری بات میں اپنی بات دہرانے کا عادی نہیں ہوں بس اتنا کہہ کر اندر چلا گیا اور وہ تینوں شرافت سے اس کے قدم کے ساتھ قدم ملا تے اندر آئے اور آ کر بیٹھ گئے
لیلیٰ کا تو مانو بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کچھ کر بیٹھے جب تک یہ تینوں یہی رہے یارم کمرے سے باہر نہ نکلا ۔
لیکن خضر اور شار ف نے کے کھانے کی اتنی تعریف کی کہ شاید ہی کبھی زندگی میں کسی نے کی ہو ۔جبکہ لیلیٰ نے اپنا منہ بند ہی رکھا
پھر وہ تینوں چلے گئے توروح نے یارم کے کمرے کا دروازہ بجایا ۔
وہ تینوں چلے گئے اس نے پوچھا
جی چلے گئے
اچھا تم کھانا لگاؤ میں آرہا ہوں ۔یہ بات کہنے کے بعد اسے یاد آیا تھا کہ وہ اس کی اصلی بیوی نہیں ہے ۔
جی وہ میں یہی تو بتانے آئی تھی ۔اس کے کمرے کے اندر آگئی
وہ لیپ ٹپ پرکام کرنے میں مصروف تھا اسے ایک نظر دیکھا ۔وہ صبح والے لباس میں ہی تھی
کیا بتانے آئی تھی ۔۔۔؟یارم نے اسے نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے پوچھا
وہ مجھے پتا نہیں تھا آپ کے دوست بھی کھانے پر آئیں گے تو جتنا کھانا میں نے بنایا تھا وہ ختم ہوگیا اب ہم دونوں کو بھوکا سونا پڑے گا ۔اس نے معصومیت سے کہا
دونوں کو مطلب تم نے بھی کھانا نہیں کھایا
اس نے نفی میں سر ہلایا
لڑکی تم کیا پاگل ہو کم ازکم خود تو کھا لیتی
وہ دن میں مجھے لگا شاید آپ واپس آئیں گے لیکن آپ نہیں آئے تو مجھے بھی خیال نہیں آیا کھانا کھانے کا لیکن ابھی بہت بھوک لگی ہے ۔معصومیت سی معصومیت تھی
اور آپ اپنے دوست کے سامنے کہہ رہے تھے کہ میرا نام روح نور ہے اور خود مجھے لڑکی کہہ کے بلا رہے ہیں ۔
اس نے مزید منہ پھلایا ۔
جاو تیار ہو جاؤ باہر چلتے ہیں کچھ کھاتے ہیں ۔اگر بات صرف اس کی اپنی ہوتی تو وہ رات بنا کھائے رہ لیتا لیکن یہ لڑکی اس کے گھر کی مہمان تھی آج نہیں تو کل اسے چلے جانا تھا اور سچ تھا وہ اسے بھوکا نہیں مار سکتا تھا اور دوپہر میں بھی اس نے کچھ نہیں کھایا تھا ۔
ارے تیار کیا ہونا ہے صرف عبایا ہی تو ڈالنا ہے ابھی دو منٹ میں ہوجائے گا ۔
اپنے کہیں کہ مطابق وہ جلدی سے دوسرے کمرے میں گئی اور دو منٹ میں واپس آگئی ۔
چلیں اس نے دروازے سے ذرا سا جھنک کر پوچھا ۔
چلیں ۔۔۔ وہ اسی کے انداز میں بولا باہر نکلا
ویسے میری کل والی بات پر عمل نہیں کیا آپ نے اس کے ساتھ لفٹ کے اندر جاتی بولی ۔
کون سی بات۔۔۔؟ یار م نے پوچھا
ارے وہ صدقہ جاریہ والی بات ۔
ڈمپل ایک بار پھر سے ابھرا تھا لیکن اس بار اس نے چھپانے کی کوشش نہیں کی ۔
گاڑی میں وہ مسلسل اس سے کچھ نہ کچھ بات کر رہی تھی کبھی اس سے پوچھتی کہ اس کا پسند یدہ کلر کونسا ہے تو کبھی پوچھتی سے کھانے میں کیا پسند ہے
پہلے تو وہ اگنور کرتا رہا پھر کہا یہ سب کچھ تمہارے جاننے کے لئے نہیں ہے ۔
ارے ایسے کیسے میری جاننے کے لئے نہیں ہے اگر مجھے آپ کی پسند نہ پسند معلوم ہی نہیں ہوگی تو کیسے آپ کی پسند پر چلوں گی
آپ مجھے بتا دیں آپ کو کھانے میں کیا پسند ہے میں آپ کی پسند کی ساری ڈشز بناؤں گی اور جو نہیں آتی وہ بھی سیکھ لوں گی
پر آپ کو ایک اور بات تو بتائی ہی نہیں آج نہ دوپہر میں تین عورتیں آئی تھی ہمارے گھر میں وہ کہہ رہی تھی کہ وہ ہمارے پڑوس سے ہیں ۔۔۔ انہوں نے مجھے پارٹی پر بلایا ہے میں جاؤں کیا ۔۔۔؟ وہ تیز تیز بولتی اس سے پوچھنے لگی
نہیں کہیں بھی جانے کی ضرورت نہیں ہے گھر پہ رہا کرو کوئی بھی ہو دروازہ مت کھولاکرو ۔یارم نے ایک ہی جملے میں جواب دیا
کوئی نہیں نہ وہ اتنے پیار سے بلا رہی تھی میرے خیال میں مجھے جاننا چاہیے اس طرح تو انہیں برا لگ سکتا ہے نہ
میں نے کہا تم کہیں نہیں جاؤگی اس بار یارم کے لہجے میں تھوڑی سی سختی تھی ۔
وہی سختی جو گھرآنے پر بنا پوچھے دروازہ کھولنے پر کی تھی ۔
ٹھیک ہے میں نہیں جاؤں گی لیکن وہ آنٹیاں کہہ رہی تھی وہاں میری عمر کے بھی لڑکیاں آئے گی ۔
اور بتا رہی تھی کہ ہماری بلڈنگ میں کون کون سے لوگ اچھے نہیں ہیں اور ان سے بات مت کرنا ۔یارم کو جو لگا تھا اس پر سختی کرنے سے وہ بولنا بند کر دے گی اس کی غلط فہمی آگے دو منٹ میں ہی دور ہو چکی تھی ۔
تم کتنا بولتی ہولڑکی اتنا کیسے بول لیتی ہو یہ بھی نہیں پوچھ سکتا کہ تم کیا کھاتی ہو چونٹی جیتنا تو کھاتی ہو تم ہڈیوں کا ڈھانچہ بھی تم سے زیادہ وزنی ہوتا ہوگا ۔
اب تھوڑی دیر خاموش ہو کر بیٹھ جاؤ تاکہ میں سکون سے ڈرائیونگ کر سکوں ۔
ٹھیک ہے اب میں کچھ نہیں بولوں گی آپ سکون سے گاڑی چلائیں میں تو ویسے بھی کچھ نہیں بولتی ہوں ۔ گھرمیں مجھے کوئی نہیں بولنے دیتا تھا ماریا آپی رانیہ آپی تانیہ آپی وہ تو مجھے بات ہی نہیں کرنے دیتی تھی ۔ اور جب کوئی مہمان آتا تھا تو آمی کہتی تھی کہ یہ تو گونگی ہے ۔
لیکن فاطمہ بی بی کہتی تھی تم اپنے شوہر سے باتیں کرنا بہت ساری ۔
بولتے بولتے وہ ایک بار پھر سے شروع ہوگئی جب یارم نے اسے سخت نگاہوں سے گھورا
اچھا میں ابھی کچھ نہیں بولوں گی پکا وعدہ ۔
اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے سیدھی بیٹھ گئی ۔
گڈ گرل ۔گھرجا کے جتنا مرضی بول لینا ۔ڈرائیونگ کے دوران مجھے بالکل بات سننا پسند نہیں ۔
اس کا اس طرح سے اداس ہو کر بیٹھنا اسے پسند نہیں آیا تھا اس لئے صفائی دینے لگا ۔
اس کے بات پر اس نے صرف گردن ہلائی بولی کچھ نہیں اور پھر سارے راستے خاموشی رہی
💕
لیلیٰ کا کلب آنے کا ارادہ تھا جو کینسل ہو گیا وہ سیدھی اپنے گھر میں آئی تھی اور اب دائیں سے بائیں گھوم رہی تھی وہ لڑکی یارم کے گھر پر اس طرح سے رہ رہی تھی جیسے اس کی اصلی بیوی ہو
کیسے اپنی مرضی سے ہر طرف گھوم پھر رہی تھی اس کی ہمت کیسے ہوئی کھانا بنانے کی
یہ تو شکر تھا کہ یارم اسے کوئی اہمیت نہیں دے رہا تھا ان لوگوں کے آتے ہی یارم کمرے میں چلا گیا
جبکہ خضر کے پوچھنے پر یارم نے اسے بتایا تھا کہ وہ دوسرے کمرے میں سوتی ہے یہ بات جان کر لیلی کو بہت سکون ملا
تم میری جگہ کسی کو نہیں دوگے میں جانتی ہوں ڈیول تمہاری آخری منزل میں ہوں تمہیں مجھ تک ہی آنا ہوگا ۔
وسکی کے گھونٹ برتی نشے کو اپنے اندر اتار رہی تھی
اس لڑ کی کو جلد سے جلد یہاں سے ہٹانا ہوگا ۔
میں تو اس معصومہ سے ڈر رہی تھی ۔جس کو ڈیول نے دوسری بار دیکھنا بھی گوارا نہ کیا ۔
لیکن یہ لڑکی اس کا مجھے کچھ کرنا ہوگا ۔
مجھے اس لڑکی کے گھر والوں کے بارے میں جلدی سے جلدی پتہ کرنا ہوگا جتنا جلدی ہو سکے اسے ڈیول کی گھر سے نکالنا ہوگا ۔
💕
گاڑی آکر بلڈنگ کے باہر رکی ۔ساری ڈرائیونگ کے دوران وہ ایک لفظ بھی نہ بولی۔
تم چلو اوپر میں گاڑی پارک کر کے آتا ہوں اس نے روح کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
جبکہ روح دوسری طرف منہ پھیرے سیٹ سے سر ٹکائے بیٹھی تھی
لڑکی میں تم سے بات کر رہا ہوں گاڑی سے نیچے اترو اور اوپر جاؤ ۔
سنو میں تم سے اس نے روح کا کندھا ہلا کر دیکھا تو وہ سو رہی تھی یا اللہ میں نے کیسے سوچ لیا یہ لڑکی میرے ایک بار کہنے کے بعد بات نہیں کرے گی ۔یہ سو رہی ہے اگر سو نہ رہی ہوئی ہوتی تو اب تک میرا دماغ کھا چکی ہوتی ۔
روح اٹھؤ اوپر جاؤ ۔
اس نے ایک بار پھر سے اس کا کندھا ہلایا ۔۔
لیکن وہ نہیں اٹھی۔
ایک پل کے لئے یارم کو اس کی نیند پر رشک آ یا ایک دن بھی اگر یارم ایسی نیند لے لے تو اگلے دن صبح اس کی ڈیڈ بوڈی ملے ۔
گاڑی پارک کرنے کے لیے وہ اسے اپنے ساتھ ہی لے گیا ۔واپسی پر دوسری طرف سے آکر اسے اٹھانا چاہا لیکن پھر بھی وہ نہ اٹھی
اسے اس طرح بے خبر نیند سوتے ہوئے بے ساختہ اس کے گال پر ڈمپل نمایاں ہوا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ صدقہ جاریہ والی بات یاد کرکے آج یہ ڈمپل اس نے کتنے لوگوں سے چھپایا تھا ۔
اسے یاد بھی نہیں تھا کہ روح کے آنے سے پہلے وہ کب آخری بار مسکرایا تھا ۔اس نے آہستہ سے روح کو اپنے بازوں میں اٹھایا اور ریموٹ سے گاڑی لاک کی ۔
اسے لے کر لفٹ میں آیا ۔اور اپنی فلیٹ کا بٹن پریس کیا ۔
لیکن اگلے ہی پل نظر روح کے چہرے پر پڑی جہاں شرارتی سے مسکان کھلی تھی ۔
اس نے غور سے اس کے چہرے پر دیکھا جہاں وہ بار بار ایک آنکھ کھول کر اسے دیکھ رہی تھی لیکن پھر اسے بھی اندازہ ہوگیا کہ روح کی شرارت کو پکڑ چکا ہے
میں تو ہڈیوں کے ڈھانچے سے بھی گئی گزری ہوں اس سے بھی کم وزن ہے میرا اب مزا آیا ۔۔۔؟ اور شرارت سے چہرے چمکا کے بولی
اس کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر ایک بار پھر سے اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔لیکن اس سے نیچے نہیں اتارا
آپ کا نام کیا ہے ۔۔؟ اچانک سوال پر یارم نے اس کا چہرا دیکھا ۔
کیوں نکاح نامے پر نام نہیں دیکھا تھا وہ یہ سوال پوچھنا نہیں چاہتا تھا پھر نہ جانے کیا سوچ کر پوچھ لیا ۔
ہائے تب تو مجھے ہوش ہی نہیں تھا نام دیکھنے کا ۔اب تو یہی سوچ سوچ کے میں پریشان ہو رہی تھی کہ مجھے اپنا گھر چھوڑ دینا پڑے گا ۔
آپ کے دوست آپ کو وہ کیا بولتے ہیں ہاں ڈیول یہ کیسا عجیب سا نام ہے ۔۔۔؟ پہلے تو میں نے سوچا پھر سوچا ہو سکتا ہے آپ کا نک نیم ہو ۔ایسا عجیب سانام تو کوئی والدین نہیں رکھتے ۔
بتائیں نا یہی نام ہے آپ کا ڈیول ۔۔۔؟
ہاں یہی نام ہے میرا ۔ اب بالکل خاموش ہو جاؤ نہیں تو یہی پھینک دوں گا
نہیں پھینکنے کی ضرورت نہیں ہے آپ مجھے نیچے اتار دیں ۔وہ جلدی سے بولی ۔
کیونکہ اپنی شرارت کے وقت اسے یاد نہیں آیا تھا کہ وہ اس کی باہوں میں کتنا شرمندہ ہوگی وہ تو بس اپنا بدلہ لینا چاہتی تھی بس اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ ہڈیوں کا ڈھانچا نہیں ہے ۔
لیکن تب اس بات کا احساس نہیں تھا کہ وہ اس کے اتنا قریب ہوگا ۔
اس شخص کی کچھ پل کی قربت اسے ہوش حواس سے بیگانہ کر رہی تھی ۔ یقیناً یہ شخص اس کا ہوگیا تو وہ تو مر ہی جائے گی ۔
یارم نے نہ تو اسے نیچے اتارا ۔نہ ہی اس کی شرمانے کا کوئی اثر لیا ۔اس نے گھر کا دروازہ کھولا اور اسے آگے صوفے پر بٹھا دیا
یہاں بیٹھو آرام سے اور میری بات سنو وہ اس کے سامنے آ بیٹھا ۔کچھ کھایا پیا کرو ورنہ جتنا تمہارا وزن ہے نا ہوا سے اڑ جاؤ گی تم اس طرح سے اکیلی باہر مت نکلنا ۔یہ نہ ہو کے ہوا تمہیں اڑا کے کہیں لے جائے اور میں تمہیں ڈھونڈ بھی نہ پاؤں گا اپنا ڈمپل چھپاتا وہ اٹھااورکیچن میں ایا ۔
دو کپ چائے بنائی اور ایک کپ لا کر اس کے سامنے رکھا وہ جو حیران اور پریشان سوچ رہی تھی کہ وہ اس سے اپنا بدلہ لے چکی ہے ۔سب دھرا کا دھرا رہ گیا وہ تو ابھی بھی اس ہڈیوں کا ڈھانچہ کہہ رہا تھا بلکہ اب تو ہوا میں اکیلے نکلنے سے بھی منع کر رہا تھا ۔
اللہ کرے میں اتنی موٹی ہوجاؤ کہ آپ میری ایک پھونک سے اڑ جائیں۔
کیا میں اسے بددعا سمجھو ں وہ جو آرام سے ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا پرسکون انداز میں بولا ۔
نہیں میں تو کسی کو بددعا نہیں دیتی ۔
بہت اچھا کرتی ہو۔ اب جاؤ تم روم میں آرام کرو ۔ اسے حکم دے کر اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا ۔ وہ اس زندگی سے باہر آیا تھا جس میں وہ جینا نہیں چاہتا تھا ۔
وہ جانتا تھا ایک سیدھی سادی زندگی اس کی منتظر نہیں ہے ۔وہ ایک ڈان ہے گناہوں کا بادشاہ ۔ایک ڈیول شیطان ۔یہی ہے اس کی حقیقت ۔وہ عام لوگوں کی طرح ایک عام زندگی نہیں گزار سکتا ۔
یہ لڑکی جو اتنے سالوں کے بعد اسے یہ بتانے آئی تھی کہ وہ انسان ہے ہنس بول سکتا ہے کسی اور کی امانت تھی کسی اور کی بیوی ۔ وہ کیوں اس کی طرف کھینچتا جا رہا تھا ۔
کیوں وہ اس سے دور نہیں جا پا رہا تھا وہ اس سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا ۔اس کی کوئی بات سننا نہیں چاہتا تھا ۔
لیکن پھر بھی وہ یہ سب کچھ کر رہا تھا ۔
آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں ۔۔۔؟ وہ اپنے لیپ ٹاپ پے نظریں جمائے سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا جب اسے روح کی آواز سنائی دی ۔
نہیں ۔۔اس نے بڑی صفائی سے انکار کیا ۔
پھر اس کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگا ۔
اب میں ہر نماز کے بعد دعا کروں گی کہ آپ کو مجھ سے محبت ہو جائے وہ اداسی سے بولی شاید اس کے رویے سے بھی اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ سے محبت نہیں کرتا
مت کرنا روح ایسا غلطی سے بھی مت کرنا ۔
کیونکہ اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی نہ تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں مجھ سے الگ نہیں کر پائے گی تم خود بھی نہیں ۔ اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی نہ تمہاری زندگی میں سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں رہے گا ۔تم ہر روز پچھتاوگی مجھ سے محبت کرنے پر لیکن تمہارے پاس رائے فرار نہیں ہوگا ۔ وہ بولتے بولتے صوفے سے اٹھ اور دوسرے کمرے میں چلا گیا ۔اندر سے زور سے دروازہ بند کرنے کی آواز آئی تھی ۔
جبکہ کمرے کے باہر روح ساکت کھڑی اس کے لفظوں کو معنی دے رہی تھی کھانا کھاتے ہوئے وہ اچانک چونکا تھا
پھر سمبھل کر بولا
میں تمہیں وقت دے رہا ہوں ۔اس رشتے کو سمجھنے کے لئے ایک انجان شخص کے ساتھ ساری زندگی گزارنا بہت مشکل ہے روح۔ میں نہیں چاہتا کہ تم میرے ساتھ کسی قسم کا کوئی سمجھوتا کرو۔ جہاں خوشیاں ہوں وہاں سمجھوتا نہیں ہوتا ۔
لیکن اس کے لیے پہلے محبت کا ہونا ضروری ہوتا ہے ۔
۔کھانا تو کھلا دیا ایک کپ چائے ملے گی ۔یارم نے اسے موضوع سے ہٹ آیا ۔
میں پہلے نماز ادا کر لوں اس نے پوچھا
وائی ناٹ ۔
وہ اٹھ کر وضو کرنے چلی گئی تو یارم نے اپنا لیپ ٹاپ اٹھا لیا
وہ تقریبا پانچ منٹ میں نماز پڑھ کے فارغ ہوئی اور اس کے لئے چائے بنا کر لائی
یہ کیا آج تمہاری نماز اتنی جلدی کیوں ختم ہوگئی دعا نہیں مانگی کیا ۔۔؟ اس نے چائے کا کپ تھمے ہوئے پوچھا
چائے بنانی تھی نا اس نے وجہ بتائی۔
دعا مانگتی رہا کرو دعاوں میں بہت اثر ہے ۔وہ مسکر آیا تھا
آپ مسکراتے ہوئے بہت پیارے لگتے ہیں آپ کو پتہ ہے آپ کے دونوں گال پے ڈمپلز ہیں اس نے ایکسائٹڈ ہوکر اس کی معلومات میں اضافہ کیا تھا ۔
کیا بات کر رہی ہو مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا وہ کھل کر ہنسا
آپ ایک ڈمپل مجھے دے دینا ۔
ہاہاہا تم دونوں رکھ لو ۔
آپ مسکراتے ہوئے بہت پیارے لگتے ہیں ماشاء اللہ اس نے کھل کر تعریف کی تھی
بس تمہاری صدقہ جاریہ والی بات پر عمل کر رہا ہوں ۔وہ مسکراتے ہوئے بولا ۔
اچھا میں اب سونے جا رہی ہوں ۔روح نے اٹھتے ہوئے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چل دی
سنو اس نے پکارا
جی وہ پلٹی تھی
دعا مانگتی رہا کرو ۔وہ مسکرا کر بولا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہوگیا ۔
❤
یارم سے کسی نے سوال پوچھنے کی ہمت نہ کی اور نہ ہی وہ کسی کو جواب دینا ضروری سمجھتا تھا
ہاں لیکن لیلیٰ اسے گھورے جا رہی تھی جس کا اس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا ۔
انسپکٹر صاحب نے نہیں کہا کچھ بھی میرے جانے کے بعد اس نے خود ہی بات شروع کی
نہیں تمہارے جانے کے بعد وہ بھی نکل گیا تھا لیکن میں تم سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں تم نے صارم کے سامنے جھوٹ کیوں بولا ۔
جانتے ہو جب وہ لڑکی چلی جائے گی تب ہمارے خلاف گواہی دے سکتی ہے اور اگر اس نے گواہی نہ بھی دی تب بھی بری پھسے گی ۔
بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی فی الحال تو وہ یہی ہے ہمارے ساتھ ۔
کل ہمارا ایک آدمی مارا گیا وہ پولیس کے ہتھکنڈے چڑھ چکا تھا ۔اس نے خودکشی کرلی ۔
اس کے گھر والوں کو ایک موٹی رقم بھیج دو اور افسوس کے لیے بھی چلے جانا ۔
مجھے ضروری کام ہے ورنہ میں خود ہی چلا جاتا ۔
تب ہی شارف کمرے میں داخل ہوا میں کہیں نہیں جاؤں گا یار اس طرح سے کسی کے مرے ہوئے گھر والوں کو دیکھ کر مجھے بہت عجیب لگتا ہے افسوس ہوتا ہے
جب وہ لوگ اپنے بچھڑے ہوئے کو روتے ہیں ۔
وہ بیچارہ تو ہمارے ساتھ کام کرتے کرتے ہی مارا شاید اب وہ لوگ ہمیں قصوروار سمجھ رہے ہونگے ۔
اسے چار سال پہلے سزائے موت سنائی گئی تھی یعنی کہ پھانسی تب اسے میں نے بچایا تھا اگر وہ تب مر جاتا نہ تو اس کے گھر والے چار سال سے رو رہے ہوتے ۔
لیکن اب وہ سے اچھے الفاظ میں یاد کر کے رو رہے ہونگے اور اس نے اپنی فیملی کے لئے اتنا کچھ کیا ہے
وہ اپنی زندگی کی امید پہلے ہی کھو چکا تھا اس کے اندر جینے کی خواہش ویسے بھی نہیں تھی ۔
لیکن وہ میرے ساتھ کام کرنا چاہتا تھا میرے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا ۔وہ اچھا تھا ۔لیکن ایک مشین سے کم نہ تھا ۔
میں یہ نہیں کہتا کہ مجھے میری ٹیم میں زندہ دل لوگ چاہیے لیکن ایسے آد مردہ لوگوں کے لیے بھی میری ٹیم میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔
تم دونوں جاؤ اور اس نے لڑکی کو بھی ساتھ لے جاؤ جب سے آئی ہے اس نے کام تو کچھ کیا نہیں ہے ۔
جب کہ اپنا فیصلہ سنا چکی ہے کہ وہ یہاں سے واپس نہیں جانے والی خضر نے اس کی بات مکمل کی
اچھی لڑکی ہے وہ شارف مسکرایا تھا ۔
وہ صدیق کی بیٹی تھی شارف ۔خضر نے غصے سے کہا کیونکہ وہ اس کی رنگین طبیعت سے اچھے سے واقف تھا
لیکن پھر بھی وہ اتنا گرا ہوا تو ہرگز نہ تھا کہ صدیق کی بیٹی کے ساتھ کچھ ایسا ویسا کرتا
وہ تو ان لڑکیوں کے پاس جاتا تھا جو خود ہی سے ویلکم کرتی تھی ۔
❤
سارا دن روح بس ایک ہی بات سوچتی رہی وہ آدمی جو اس کے سامنے مرا تھا اس نے ڈیول کا نام لیا تھا
پولیس والے نے اس سے پوچھا تھا کیا ڈیول کا آدمی ہے کیا اور اس کے لیے کام کرتا ہے
تو اس نے انکار کر دیا تھا اس کا کہنا تھا کہ وہ کسی ڈیول کو نہیں جانتا
اور پھر جب اس نے اس پولیس والے کے سامنے ڈیول کا نام لیا تھا ۔وہ کیسے عجیب نظروں سے اسے گھورنے لگا تھا
لیکن پھر یہ بھی تو کہا تھا کہ وہ نہ جانے کس ڈیول کے بات کر رہی ہے وہ تو ایک ہی ڈیول کو جانتا ہے ۔
لیکن یہ بات تو لئے ٹھیک ہو گئی انسپیکٹر اس کے شوہر کو جانتا تھا ۔
اور اسے اس تک پہنچا دیا اسے اس انسپکٹر کو تھینک یو ضرور بولنا چاہیے لیکن یہ تہ تھا کہ اب وہ گھر سے نکلنے کی غلطی کبھی نہیں کرے گی ۔
نہ جانے کتنے پریشان ہوئے ہوں گے یہ میرے پیچھے نہ جانے کہاں کہاں ڈھونڈا ہوگا مجھے ۔ میں بھی نہ بیوقوفوں کی طرح اٹھ کر چل دی
آج کیا بناوں ان کے لئے وہ فریج کھولے ہوئے سوچ رہی تھی
جس کے اندر سب سامان موجود تھا
❤
سر یہاں سگریٹ پینا الاؤ نہیں ہے پٹرول پمپ کا ورکر اس کے قریب آکر بولا
کیوں ۔۔۔؟
پیٹرول پمپ ہے آگ لگ سکتی ہے اس نے بتایا
اور تم نے جو کسی کی زندگی میں آگ لگائی ہے اس کا کیا ۔
کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا وہ آدمی غصے سے بولا تھا
ایک تیرہ سال کی بچی کے ساتھ زیادتی کر کے تم نے اس کی زندگی کو آگ ہی تو لگائی ہے ۔
اس لڑکی کا میرے ساتھ افیئر چل رہا تھا روز گفٹ اور پیسے مانگی تھی مجھ سے ۔اتنی چھوٹی بچی نہیں تھی جتنا تم لوگ سمجھ رہے ہو میں نے بس اپنی دی ہوئی رقم وصول کی ہے اور ویسے بھی کورٹ سے باعزت بری ہو چکا ہوں ۔
وہ آدمی بولے ہی جا رہا تھا جب اس نے اپنے پیٹ پر کچھ محسوس کیا اور پھر درد سے بلبلا اٹھا
کورٹ سے تم بری ہوچکے ہو لیکن ڈیول کی عدالت میں نہیں ۔اور کوئی بھی زنا کارڈیول کی عدالت سے اس طرح سے بری نہیں ہوگا ۔
ڈیول کی عدالت میں اس گناہ کی سزا صرف اور صرف سزائے موت ہے ۔
پیٹرول ہولڈرز سے پیٹرول کا پائپ نکالا ۔
وہ درد سے بلبلاتے ہوئے آدمی کے منہ میں ڈال دیا ۔
تم جانتے ہو وہ لڑکی خودکشی کر چکی ہے اس نے اپنی زندگی ختم کرلی تم جیسے انسان کے لیے ۔
تم نے کہا اک تیرہ سال کی بچی تم سے تحفے اور رقم لیتی تھی لیکن میری نظر میں وہ ایک چھوٹی بچی تھی ۔
پیٹرول اس آدمی کے اندر تک جا چکا تھا سانسس پھولنے لگی تھی لیکن یہاں سانس لینے کی اجازت دی کون رہا تھا ۔
انصاف تھا ڈیول کا انصاف ہر زناکار کے لیے ۔
اس نے ایک جھٹکے سے زمین پر پھینکا ۔اور اپنی جیب سے سگریٹ نکالا ۔ماچس کی تلی سے اپنا سگریٹ جلایا اور وہی جلتی تیلی اس آدمی پر پھینک دی ۔
اور ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہاں سے نکل گیا ۔
اسے نہ اس آدمی سے مطلب تھا اور نہ ہی اس پٹرول پمپ سے ۔اسے آج ہی پتہ چلا تھا کہ اس پیٹرول پمپ میں وہ اکیلا نائٹ ڈیوٹی کرتا ہے
ورنہ اس کام کے لیے اسے کوئی اور جگہ کا انتخاب کرنا پڑتا ۔
وہ گھر آیا تو شرٹ پہ سرخ خون کے دھبے تھے شاید اس آدمی کے پیٹ پر بلیڈ چلاتے ہوئے لگے تھے ۔
اس نے گھر جاتے ہی کپڑے چینج کرنے کے لئے اپنے کمرے کا رخ کیا لیکن روح اسے دیکھ چکی تھی وہ فورا دوڑکر اس کے پاس آئی
کیا ہوا ہے آپ کو یہ خون کہاں چوٹ لگی ہے آپ کو ایک پل میں ہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔
وہ مجھے چوٹ نہیں لگی ۔وہ ایک آدمی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا راستے میں اسے ہسپتال پہنچارہا تھا شاید کپڑوں پر یہ دھبے لگ گئے ۔
آپ ٹھیک ہیں نہ وہ روتے ہوئے پوچھ رہی تھی ۔
وہ مسکرایا میں بالکل ٹھیک ہوں ۔
چینج کر کے آتا ہوں پھر اطمینان سے دیکھ لینا ۔
اس کا گال تھپتھپا کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔
جبکہ روح ایک بار پھر سے جائے نماز پر بیٹھ گئی وہ کمرے سے باہر نکلا تو اسے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ۔
یہ لڑکی کیوں مجھے اتنا گناہگار کر رہی ہے ۔ وہ سوچتے ہوئے صوفے پر آبیٹھا
ڈیول نے اپنے آفس میں اعلان کیا تھا کہ آپ یہاں پر روح کا ذکر بالکل بھی نہیں کیا جائے گا وہ جہاں ہے بالکل ٹھیک ہے جب اس کے گھر والوں کا پتہ چل جائے گا اسے بھیج دیا جائے گا ۔
اس بات سے لیلٰی کی پریشانی اور بھرنے لگی لیکن اب آفس میں اس کا ذکر بھی منع کردیا گیا تھا ۔
جبکہ لیلیٰ کو اس کے گھر جانے کی بھی اجازت نہ تھی
ڈیول کا کہنا تھا کہ سب اپنے اپنے کام پر دھیان دو ۔جبکہ خضرکو ایک ہی پریشانی کھائی جا رہی تھی کہ آخر وہ کے گھر والوں کا پتا کیوں نہیں کر رہا یا کیوں نہیں کرنے دے رہا ۔
لیکن پھر بھی خضر چپ نہ رہا وہ یارم سے چھپا کر روح کے گھر والوں کو ڈھونڈنے لگا لیکن یہ بات بھی ڈیول سے چھپی نہ رہی ۔
آج نہیں تو کل اس لڑکی نے چلے جانا ہے ۔اس لڑکی کے گھر والوں کا پتا کرنا چاہیے وہ کسی کی بیوی ہے ۔
اگر مجھے لگا کہ ایسا کرنا چاہیے تو میں خود کر لوں گا تم اپنے کام پر دھیان دو اس کے انداز میں غصہ دیکھ کر وہ بھی خاموش ہوگیا
اییک مہینہ گزر چکا تھا۔ روح اس کا سارا کام اپنے ہاتھ سے کرتی تھی یارم نے اپنا گھر بدلوانے کے بارے میں سوچا تو اس نے کہا کہ وہ یہی ٹھیک ہے ۔۔
یارم نےاسے باہر پارک میں بیٹھنے کی اجازت دےدی ۔لیکن وہ ان عورتوں سے باتیں نہیں کر سکتی تھی ۔لیکن پھر بھی اگر وہ سامنے آجائیں تو حال و خیریت پوچھ لیتی تھی لیکن یارم سے چھپ کر
شارف اور خضر ہر دوسرے تیسرے دن اس کے ہاتھ کا بنایا ہوا کھانا کھانے آتے تھے جب کہ لیلٰی کو یہاں آنے کی اجازت نہ تھی
اس نے ڈیول والی بات کا ذکر بھی اس کے سامنے کیا تھا جب اس نے کہا کہ یہاں ہر کوئی اپنے آپ میں ایک ڈیول ہے ۔
ڈیول مطلب ۔۔۔۔؟ روح نے پوچھا
ڈیول مطلب شیطان ۔۔یارم نے بتایا ۔
استغفراللہ آپ کوئی شیطان تھوڑی ہیں اس کی بات پر چہرے پر ذرا سا ڈمپل نمایاں ہوا پھر غائب ہوگیا
میرا نام یارم ہے ۔یارم کاظمی ۔تم مجھے یارم کہا کرو ۔
میں کیسے آپ کو یارم کہوں وہ شرمائی تھی ۔
کیوں نہیں کہہ سکتی ۔۔۔؟ یہ میرا نام ہے ۔ وہ پوچھنے لگا ۔
آپ کے نام کا مطلب ۔ وہ کچھ بولتے ہوئے حاموش ہوگی ۔
ہاں بولو نام میرے نام کا مطلب دلبر ۔محبوب۔ صنم ۔ہے نہ ۔وہ اس کے چہرے پر شرم و حیادیکھ کر محفوظ ہو رہا تھا
آج وہ اس کیلئے فون لے کے آیا تھا ۔تاکے دن میں اس سے بات کر سکے سارا دن اسکی بیچین نظریں اس کا انتظار کرتی تھی ۔
پھر کل تو اس نے کہہ دیا سارا دن اس سے بات کرنے والا کوئی نہیں ہوتا
میرا دل کرتا ہے آپ سے باتیں کرنے کو آپ کام سے تھک کر آتے ہیں کھانا کھاتے ہیں سو جاتے ہیں صبح اٹھ کر چلے جاتے ہیں ۔
سارا دن مجھے آپ کا چہرہ نظر نہیں آتا ۔اس نے معصومیت سے منہ بنا کر کہا تھا
اچھا میں کل تمہارے لیے موبائل لے آؤں گا پھر جب تمہارا دل کرے تو مجھے فون کر لینا
کیا آپ میرے لئے فون لینگے پھر تو میں فاطمہ بی بی سے بھی بات کروں گی ۔
وہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی تھی
نہیں ہرگز نہیں ۔تم سوائے میرے اور کسی سے بات نہیں کر سکتی اس فون پر ۔اس نے غصے سے کہا تھا
لیکن میں جب سے یہاں آئی ہوں ایک بار بھی پاکستان فون نہیں کیا امی سے بات نہیں کی رانیہ آپی تانیہ آپی ماریا آپی کسی سے بھی نہیں آواز تک نہیں سنی کسی کی وہ اداسی سے بولی تھی ۔
ٹھیک ہے اگر ایسی بات ہے تمہیں فون لے کر نہیں دوں گا میں نہیں چاہتا کہ تم میرے علاوہ کسی سے بات کرو ۔
اس نے اپنا فیصلہ سنایا اور اپنے کمرے میں چلا گیا ۔
جب تھوڑی دیر کے بعد وہ اس کے پیچھے آئی ۔
اچھا ٹھیک ہے میں کسی سے بات نہیں کروں گی صرف آپ سے کروں گی ۔
لیکن آپ تو ان سے بات کر کے ان کی خیریت پوچھ سکتے ہیں نہ آپ کے پاس ہے نہ امی کا نمبر ۔روح نے پوچھا
ہاں میں اکثر ان سے بات کرتا رہتا ہوں سب کچھ ٹھیک ہے ۔
اس نے جھوٹ بولا
اور آج اس کے لیے فون لے آیا تھا لیکن اس کے علاوہ اس فون میں سب نمبر بلاک تھے ۔ یہاں تک کہ وہ پولیس میں بھی فون نہیں کر سکتی تھی ۔
اگر اسے اتنی سمجھ ہوتی تو وہ ضرور پوچھتی ۔
کیا تم نے واقعی ہی شادی کر لی ہے صارم اب تک بے یقینی سے کافی شاپ میں بیٹھا تھا اس کے سامنے یارم بیٹھا آرام سے کافی پی رہا تھا ۔
میں تمہارا بچپن کا ساتھی ہوں یارم تو میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو تم نے مجھے بلایا تک نہیں ۔
مجھے یقین نہیں آرہا تم جھوٹ بول رہے ہو یہ شادی نہیں ہوئی ۔ ۔صارم کب سے بولے جا رہا تھا لیکن یارم کب سے قریب بیٹھی اس کی بیٹی کے گالوں کو چھو رہا تھا
ماہرہ اسکول کیوں نہیں گئی اس نے صارم کے بات کو اگنور کرتے ہوئے مائرہ سے پوچھا ۔
مایلا کی طبیعت کھراب تی تاچو (مائرہ کی طبیعت خراب تھی چاچو ) عربی طرزو لہجے کی وجہ سے وہ اردو نہیں بول پاتی تھی ۔اور پھر جب بولنے کی کوشش کرتی تو اکثر اس کی زبان توتلا جاتی۔
پہلے میری بات کا جواب دو صارم نے کہا ۔
میں ضروری نہیں سمجھتا اس نے ایک ہی جملے میں سے جواب دے کر پھر سے مائرہ کے ساتھ مصروف ہوگیا ۔
ہم دوست ہیں نہ یارم صارم نے پوچھا
اچھا کیا ایساتھا کبھی ۔صدیق میرا دوست تھا ۔بہت پیارا دوست ۔لیکن تم نے کیا کیا ۔۔وہ دھیمی آواز میں غرایا تھا ۔۔
میں اپنا فرض نبھا رہا تھا یا رم۔ وہ اسی کے انداز میں بولا
اور میں اپنا فرض نبھا رہا ہوں ۔
میرا فرض مجھے میرے فرض کے ساتھ غداری کرنے والوں سے دوستی کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔
یارم ہم ایک ساتھ دبئی آئے تھے ۔تم نے اور صدیق نے غلط راستہ پکڑا صدیق اپنی منزل تک پہنچ چکا ہے یارم میں تمہیں سزا نہیں ہونے دوں گا قانون و انصاف سے ہٹ کر ۔
قانون اور انصاف ۔ہمیں تمہارا قانون انصاف نہیں چاہیے صارم۔ہم اپنا قانون خود بناتے ہیں ۔
فلحال میں تم سے یہ ساری باتیں کرنے نہیں آیا میں صرف مائرہ سے ملنے آیا تھا ۔ وہ ماہرہ کا گال چومتے ہوئے اٹھا تھا ۔
کیا تم اس لڑکی سے محبت کرتے ہو یارم ۔ صارم نے پوچھا
اس کا جواب میں تمہیں کچھ دن بعد دوں گا
ہو سکتا ہے کچھ دن بعد مجھے تمہاری ضرورت پڑے ۔بس اتنا کہہ کر وہ نکل گیا ۔
جب کے صارم اسے آتا ہوا دیکھ رہا تھا پیار محبت فیملی ان سب چیزوں سے بہت دور تھا یہ انسان ۔بلکہ انسان تھا ہی کہاں صارم بچپن سے جانتا تھا اسے ۔ یا اللہ یارم کو کبھی اس لڑکی سے محبت نہ ہو ورنہ اس بیچاری لڑکی کا کیا بنے گا
کیونکہ یار م کا جو روپ میں نے دیکھا ہے وہ کسی نے نہیں دیکھا ۔اس کا پاگل پن اس لڑکی کو مار دے گا ۔
بچپن میں اس نے ایک کھلونے کے لئے یارم کا پاگل پن دیکھا تھا ۔ اور سچ تو یہ ہے کہ وہ بھی ایک کھلو نے سے زیادہ اس کے لیے کچھ نہ ہو گی ۔
ایک معصوم لڑکی کو اس کے ہاتھوں برباد مت ہونے دینا
آج لیلیٰ کا برتھ ڈے ہے اور وہ چاہتی ہے کہ ہم اس کے ساتھ پارٹی کریں شارف نے آکر اسے بتایا ۔
ہاں تم لوگ جاؤ میں نے کہاں منا کیا ہے ۔یارم نے کہا
جبکہ دھیان سارا لیپ ٹاپ کی سکرین پر تھا جہاں ایک منی سکرین پر ہیکنگ سسٹم سے کسی کا موبائل فون کھلا تھا
جسے یارم بہت غور سے دیکھ رہا تھا
ڈیول جب سے یہ لڑکی روح آئی ہے تم تو اسی کے پیچھے پڑ گئے ہو تمہیں خیال ہی نہیں رہا لیلیٰ کا اس نے سکرین پر نظریں جمائے دیکھا جہاں روح کا موبائل سسٹم کھلا ہوا تھا۔وہ روح کے ایک ایک موومنٹ پر نظر رکھتا تھا لیلیٰ کا روز روز رونا دھونا دیکھ کر آج شارف نے اس کے سامنے منہ کھولا تھا
روح سے پہلے بھی لیلی میرے لیے کام کرنے والی ایک ورکر تھی اور اب بھی ہے ۔ اس سے زیادہ نہ وہ پہلے کچھ بھی اور نہ ہی آگے کچھ ہوگی ۔
اب مزید کوئی بکواس کرنے کی ضرورت نہیں نکلو یہاں سے میں اپنا کام کر لوں
وہ پیار کرتی ہے تم سے ۔شارف نے کہا
تو میں کیا کروں میں نے کہا ہے اسے مجھ سے پیار کرنے کے لیے دماغ خراب کر رکھا ہے اس لڑکی نے اور تم دونوں نے بھی میرا اگر اب تم نے یہ پیار کا ذکر میرے سامنے کیا تو گولی مار دوں گا اسے بھی اور تم لوگوں کو بھی وہ غصے سے دھارتے ہوئے بولا اور لیپ ٹاپ اٹھا کر پھینک دیا۔
میں پارٹی کا کہنے آیا تھا ہم صرف ورکر نہیں ہیں دوست بھی ہیں تم نے کہا تھا ایک دوسرے کی خوشیوں میں شامل ہونا کوئی احسان تو نہیں شارف نے گھبرآتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹائیں ۔
فائن ۔ میں آ جاؤں گا ۔اب جاؤ یہاں سے اس نے گھورتے ہوئے کہا تو شارف باہر نکل گیا ۔
پھر دروازے پہ منتظر معصومہ اور لیلی کو دیکھا ۔ ذرا سا مسکرایا
مشن ڈن ۔ اس نے لیلی کے ہاتھ پر تالی بجاتے ہوئے کہا ۔
بس اب میرا کام ہو جائے ۔ لیلیٰ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
سر گولی مار دیں گے ۔میں تم لوگوں کے ساتھ شامل نہیں ہوں معصومہ نے کہا ۔
تمہارا نام کہں نہیں آئے گا لڑکی ۔
لیکن ڈیول کو ایک دو پیگز سے نشہ نہیں چڑھتا ہمیں کچھ بڑا کرنا ہوگا ۔کیوں نا ہم ڈبل ڈوز پلز یوز کریں ۔شارف نے مشورہ دیا ۔
آہستہ بولو بےوقوف اگر اس رائٹ ہینڈ نے سن لیا تو پلان شروع ہونے سے پہلے ہی وہ ہمیں گولی مار دے گا ۔
تم لوگوں کو تو پھر گولی مار کے آسان موت دے گا مجھے بلیڈ سے مارے گا ۔
اور اتنا کرو جتنا میں نے کہا ہے اور ویسے بھی میں تم سب کی ہونے والی مالکن ہو تو میرا آرڈر فولو کا نہ تم پر فرض ہے لیلیٰ نے ادا سے کہا ۔
وہ جلدی گھر جانا چاہتا تھا لیکن لیلی کے برتھ ڈے کی وجہ سے اس سے یہاں نہ پڑا ۔یہ کلب لیلیٰ چلاتی تھی ۔
دنیا کے سامنے اس سے کوئی کام تو کرنا ہی تھا ویسے پولیس کی نظر میں وہ ڈیول یعنی یارم کاظمی کے ساتھ کام کرتی تھی جس کی دبئی میں ایک میڈیسن کمپنی تھی ۔
یہ کام صرف وہ دنیا کو دکھانے کے لئے کرتے تھے ۔ ورنہ اصل کام اور اصل مشن ان کے کچھ اور تھے ۔
کرائم کی دنیا میں انہیں ہر کوئی جانتا تھا ۔دبئی ان کا اصل ٹھکانہ تھا ۔۔ صدیق اسکا بہت وفادار آدمی تھا وہ بیس سال پہلے اس کے ساتھ پاکستان سے یہاں آیا تھا ۔
تب اس کا جان و عزیز دوست صارم اسکے ساتھ تھا لیکن وقت کے ساتھ صارم نے اپنی راہ بدل لیں ۔
صارم کوڈان ڈیول کو پکڑنے کا کام دیا گیا تھا پچھلے چھ سال سے وہ اس کے پیچھے پڑا تھا لیکن کوئی بھی ایسا ثبوت جو اسے سلاخوں کے پیچھے پہنچا دے صارم کے ہاتھ نہیں لگا تھا ۔
صارم کا کہنا تھا کہ وہ یہ راستہ چھوڑ دے ۔ اس میں سوائے نقصان کی اور کچھ نہیں ۔
جبکہ یارم کا جنون اسے یہ کام چھوڑنے نہیں دے رہا تھا ۔
وہ جس آدمی کے آگے کام کرتا تھا اسے مار کر اس نے اس کی کرسی سنبھالی تھی ۔
اور پھر ایسے کہی لوگوں کو مار کر سیڑھیاں چڑھتاوہ ڈیول بنا تھا ۔
شارف نے اس کے ڈرنک میں ڈبل ڈوز پلز ملائی تھا ۔جس کا پہلا سیپ لیتے ہی اس نے لیلی کی طرف دیکھا تھا ۔
لیلیٰ نے گھبرا کے نظریں چرائی اسے پتہ چل چکا تھا کہ وہ سمجھ چکا ہے کہ اس کی ڈرنک میں کچھ ملایا گیا ہے ۔
ایم سوری ۔اسے مسلسل اپنی طرف دیکھتا پا کر لیلی ممنائی تھی ۔
اگر آج تمہارا جنم دن نہیں ہوتا تو میں برسی ضرور بناتا ۔ڈرنک ایک ہی سیپ میں ختم کرتا گلاس وہی پھینکتا وہ نکل گیا ۔
خضرا سے روکو ۔اس کی ڈرنک میں ڈبل ڈوز پلز ہیں وہ ڈرائیونگ نہیں کرسکے گا ۔
لیلیٰ نے فکر مندی سے کہا ۔
وہ یارم کاظمی ہے لیلیٰ ۔ایسی چھوٹی موٹی پلز اس کا کچھ بھگار نہیں سکتی وہ نشے کبھی اپنے آپ پرحاوی نہیں ہونے دیتا ۔ڈونٹ وری ۔
وہ گھر آیا تو روح روز کی طرح اس کا انتظار کر رہی تھی جب کہ وہ پہلے ہی اسے فون کرکے بتا چکا تھا کہ آج وہ جلدی نہیں آئے گا کیونکہ اس کے ساتھ کام کرنے والے ورکر کا برتھ ڈے ہے ۔
میں نے کہا تھا نہ کھانا کھا کے سو جانا تم ابھی تک میرا انتظار کر رہی ہو۔وہ اس کے قریب آ کر پوچھنے لگا
مجھے نیند نہیں آرہی تھی اس لیے ۔ وہ اٹھ کر اس کے پاس آ گئی ۔
بہت وقت ہوچکا ہے روح ۔ ۔اسے کھینچ کر اپنے قریب کرتے ہوئے کہا ۔
آپ شراب پی کےآئیں ہیں اس نے بے یقینی سے پوچھا شاید وہ نوٹ نہ کر پاتی ۔ لیکن اس سے پہلے وہ کبھی اس کے اس طرح سے قریب نہیں آیا تھا اور اس کی آواز میں خمار تھا
ہاں بالکل تھوڑا سی اپنے ہونٹوں سے اس کا ماتھا چھوتے ہوئے بولا ۔
آپ جائیں آرام کریں ۔وح کو اپنی باہوں میں لیے یارم کی گستاخیاں بھرتی جارہی تھی ۔
اس کے ماتھے کو اپنے لبوں سے چھوتے یارم نے اس کے بال کھول دیے ۔
میں آپ کے لئے چائے بنا کے لاتی ہوں ۔روح نے اپنا ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھ کر ایسے خود سے دور کیا ۔
اور اگر میں تمہیں آج خود سے دور جانے کی اجازت نہ دوں تو ۔اس کی تھوڑی پکڑ کر اس کا چہرہ اونچا کر کے پوچھا ۔
یہ کیا ہوگیا ہے آج آپ کو ۔کہیں پیار تو نہیں ہو گیا مجھ سے لگتا ہے میری دعا پوری ہوگی روح نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔
پیار ہاہاہا پیار تو تمہیں دیکھتے ہی ہو گیا تھا ۔
اس دن جب تم بنا بتائے کہیں چلی گئی اس دن مجھے تم سے محبت ہو گئی تھی ۔
اور آج عشق ہو گیا ہے ۔
اور اگر عشق ہو جائے تو دوری ناممکن ہوجاتی ہے
میرے پیار اور محبت نے بہت صبر کیا ۔لیکن کیا کروں یہ عشق بےصبرا ہے ۔ یہ تمہاری ہاں کا انتظار نہیں کرے گا ۔
ایک ہی جھٹکے سے سے خود سے قریب کرتے ہوئے اپنی باہوں میں اٹھا لیا ۔
یارم میری بات سنیں ۔
وہ ا سے اپنے والے کمرے میں لے کے آیا تھا اسے بیڈ پر لٹا کر خود بھی اس کے بلکل قریب لیٹ گیا ۔
یارم ۔
نہیں ۔ آج کچھ مت بولو ۔
آج سے تم میری ہو صرف میری ۔یارم کاظمی کی ۔ آج میں تمہیں اپنا بناوں گا ۔ اب تم مجھ سے کبھی دور نہیں جاسکتی
کس سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے ۔ میں اپنے پیار پر کنٹرول کر سکتا تھا ۔ لیکن تم نے دعائیں مانگ مانگ کر مجھے خود سے عشق کرنے پر مجبور کیا ۔
اب تم ہی میرا ہونا ہوگا ہمیشہ کے لئے ۔ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب تر کر لیا ۔
روح کے بال اس کے چہرے پر بکھرنے لگے ۔
بس پھونک ماراس کے چہرے سے بال ہٹائے ۔وہ کھلائی تھی
ایسے ہی طلئسم پڑھ پڑھ کر تم نے مجھے خود سے پیار کرنے پر مجبور کیا ہے مجھے بھی تو بتاؤ یہ کونسا تعویذ عشق ہے ۔
میں تو نہیں بتاؤں گی جو نے شرارت سے کہا جبکہ ہاتھ دونوں یارم کے ہاتھوں میں قید تھے ۔
مت بتاؤ روحِ جان آج یارم کاظمی اپنے سارے سوالوں کے جواب خود لے لے گا ۔
اسے خود بھی جھکتے دیکھ کر روح نے اپنے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی ۔جب روح کے ہاتھ سے کانچ کی چوڑیاں ٹوٹی ۔ اور اگلے ہی لمحے یارم نے اس سے خود سے دور پھینکا ۔
اچانک اس جھٹکے کے لیے روح تیار نہ تھی بے اختیار اس کے منہ سے چیخ نکلی ۔
پھر شرمندہ سی ہو کر یارم کو دیکھنے لگی جو بے یقینی سے دیکھ رہا تھا ۔
یارم میرا وہ مطلب نہیں تھا اس سے پہلے کے روح اسے کچھ کہتی کیا وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا
یا خدایا یہ کیا کرنے جا رہا تھا میں ۔ اس کام سے مجھے نفرت ہے جس چیز سے مجھے گھن آتی ہے وہی کام میں روح کے ساتھ کرنے جارہا تھا۔
پھر روح کے ساتھ زنا کرنے جارہا تھا۔
میں اس لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے جارہا تھا جسے دیکھتے ہی میرے دل کی دنیا بدل گئی ۔
جسے دیکھتے ہیں میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ اسے کبھی خود سے دور نہیں جانے دوں گا ۔
وہ فلیٹ سے باہر نکل آیا اور اپنے فون سے خضر کو کال ملانے لگا ۔
کہاں ہو تم اس وقت ۔۔؟
میں اور شارف ابھی لیلی کے قلب سے واپس آئے ہیں کیوں خیریت ۔
ایسا کرو ایک مولوی پکڑ و اسے لے کر میرے فلیٹ پر آ جاؤ
مولوی کیوں خیریت ہے نا اور اس وقت میں مولوی کا انتظام کہاں سے کروں اس وقت تو کوئی مولوی نہیں آئے گا ۔
میں نے نہیں کہا مولوی آئے گا یا نہیں اس کے سر پر بندوق رکھو اپنے ساتھ لے کر یہاں آؤ تمہارے پاس صرف 10 منٹ ہیں اور اپنے ساتھ کچھ گواہ بھی لے آنا ۔
وہ فون بند کر چکا تھا مولوی کا انتظام کرنا ان دونوں کا کام تھا
کیا میری مزاحمت کی وجہ سے چلے گئے کیا وہ مجھ سے مایوس ہوگئے ہیں ۔
اللہ جی نہ جانے کتنا ناراض ہوئے ہوں گے مجھ سے میں کیسے مناوں گی یا نہیں ۔
ابھی تو سب کچھ ٹھیک نہیں ہوا تھا میں نے خراب کر دیا ۔
کیا ضرورت پڑی تھی مجھے ہاتھ چھڑوانے کی ۔
میں کیا کروں کیا باہر جاکے دیکھوں نہیں نہیں اگر زیادہ غصے میں ہوئے تو پھر سے تھپڑ لگا دیں گے ۔
ہاں تو کام بھی تو تھپڑ کھانے والا کیا ہے میں نے ۔
ابھی کوئی یہی سب کچھ سوچ رہی تھی کہ باہر کچھ لوگوں کی آوازیں آنے لگیں ۔
یہ اتنی رات کو کون آیا ہے ۔
اس سے پہلے کے وہ خود اٹھ کر دیکھتی ۔
یارم واپس کمرے میں آیا ۔
اسے واپس کمرے میں آتا دیکھ کر وہ فوراً اس کے قریب آئی
یارم سچی میرا مطلب یہ نہیں تھا جو آپ سمجھے میں آپ کو مجھ سے دور نہیں کر رہی تھی ۔ میں تو بس اپنا ہاتھ سوری پلیز مجھے معاف کر دیں پلیز مجھ سے ناراض مت ہوں ۔ اس کے سینے سے لگی وہ بری طرح رو رہی تھی ۔
سنو میری بات سنو اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے کہنے لگا ۔
میں سمجھ سکتا ہوں ۔ اس طرح سے فون پہ ہوئے نکاح کو قبول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ نہیں جانتا ہوں تم اس نکاح کو قبول نہیں کر پا رہی اسی لئے تم نے خود کو مجھ سے دور کیا ۔
لیکن اب میں سب کچھ ٹھیک کردوں گا ہمارا دوبارہ نکاح ہو گا اور وہ بھی آج ہی ۔چلو باہر آؤ ۔میں نے گواہ اور نکاح خواں کو بلایا ہے ۔
دوبارہ نکاح ۔۔۔؟
ہاں دوبارہ نکاح اب دوپٹہ سر پر لواور باہر چلو ۔
اس کا دوپٹہ خود اس کے سر پر ڈالتا اس کا ہاتھ تھام کر باہر لے آیا ۔
وہ بہت سارے لوگ تھے اور تقریبا سب ہی یارم کے کام کرنے والے تھے اور تقریبا سب ہی حیران اور پریشان کھڑے تھے ۔
لیکن سب سے زیادہ حیران تو لیلیٰ تھی
مولوی صاحب نکاح کی رسم شروع کرے یارم نے آرڈر دیا ۔
ایک منٹ میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں میرے ساتھ آنا خضر نے اسے کہا اور یارم کے کمرے میں آگیا
جلدی بولو یارم نے اس کے پیچھے آکر کہا ۔
یار میں یہ لڑکی پہلے سے کسی کے نکاح میں ہے اور نکاح کے اوپر نکاح نہیں ہو سکتا ۔ تم تھوڑا سا صبر کر لو پہلے اس کی اطلاع کرواؤ پھر تمہارا نکاح جائز ہوگا اس طرح سے نکاح نہیں ہو سکتا ۔خضر نے رخ سے نکاح کی وجہ نہ پوچھی تھی وہ خود ہی اس کی آنکھوں میں اس کے لیے چاہت دیکھ چکا تھا اور آج سے نہیں نہ جانے کتنے دن سے وہ روح کے لئے اس کی فکرمندی دیکھ رہا تھا
وہ اس کیلئے ہاتھ جذبات رکھتا ہے یہ بات خضر پہلے ہی سمجھ چکا تھا ۔
وہ آدمی مر گیا حضر میں نے مار دیا اسے یارم نے ایک اور دھماکا کیا ۔
کیا ۔ لیکن کیوں ہم سیدھے طریقے سے دور سے بات کر سکتے تھے تو میں اسے مارنے کی کیا ضرورت تھی ۔
اس میں مجھ سے میری روح کو چھیننے کی کوشش کی اسے جینے کا کوئی حق نہیں تھا ۔
روح اس کے نکاح میں تھی تم سے ملنے سے پہلے ہی خضر نے چھپا چھپا کر کہا ۔
اب تو ہو گیا نہ جو ہونا تھا اب نکاح پر والے نہیں ہونے والی باہر میرا انتظار کر رہی ہے ۔
اتنا کہہ کے یارم رکا نہیں بلکہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔کسے بے بسی سے قدم اٹھاتا اس کے پیچھے آیا ۔
تھوڑی دیر بعد نکاح کی رسم ادا ہوئی
لیلی آنکھوں میں آنسو لیے اس کے نکاح میں شامل تھی
مولوی صاحب نے پہلے یارم کا نکاح پڑوایا
اور پھر روح کے طرف آئے
روحِ نور ولد احمد خان آپ کا نکاح سید یارم کاظمی والد سید ابراہیم کاظمی کے ساتھ پچاس لاکھ سکہ راج الوقت قرار پایا ہے کیا آپ کا قبول ہے ۔۔۔۔
مولوی کے الفاظ روح کے کان میں گونج رہے تھے ۔
اس نے بے یقینی سے سامنے دیکھا ۔جہاں یارم اسے نظروں کے حصار میں لیے بیٹھا تھا ۔
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے مولوی صاحب نے پھر سے پوچھا ۔
یارم ذرا سا مسکرایا تھا ۔اور اسے نظروں سے بولنے کا اشارہ کیا ۔
قبول ہے ۔ اس کے چہرے کو دیکھتے وہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولی تھی ۔وہ کھل کر مسکرایا تھا
سوال پھر سے دہرایا گیا ۔ روح نے وہی جواب دیا
نکاح کی رسم ادا ہوئی سب نے مبارکباد دی ۔
لیکن ایک سوال تھا جو روح کے ذہن میں گردش کر رہا تھا
جب روح کا پہلے نکاح ہوا تھا تب امی نے کسی شیخ کا نام لیا تھا ۔
لیکن اس نکاح خواہ نے کسی شیخ کا نام نہیں لیا ۔
لیکن اس وقت تو ہوش ہی کہاں تھا کچھ جاننے کا خود سمجھنے کا ۔
یہ موقع تو اسے یارم نے دیا تھا ۔
مولوی صاحب میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں
اگر لڑکی پہلے سے شادی شدہ ہو لیکن اس کا خاوند مر چکا ہو۔ اور وہ کسی اور کے نکاح میں آجائے تو کیا یہ نکاح جائز ہے ۔یارم نے مولوی صاحب کو چھوڑنے کے لیے کہا تھا لیکن اس سے پہلے خضر نے مولوی صاحب کے سامنے سوال رکھ دیا
یارم بھی اس کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا ۔
تم نے ادھوری بات بتائی مولوی صاحب کو خضر رکومیں پوری بتاتا ہوں ۔
اگر لڑکی کو دھوکے میں رکھ کر اس سے جھوٹا نکاح کرلیا جائے میرا مطلب ہے ۔کہ فون پر نکاح کیا جائے بس ایک طرف کی کارروائی مکمل کی جائے ۔
فون پر لڑکی کو ریکارڈنگ سنائی جائے ۔ نکاح نامے پر جعلی نام سے دستخط کیے جائیں ولدیت بھی غلط بتائی جائے ۔ پرنکاح میرا مطلب ہے جھوٹا نکاح ہونے سے پہلے ہی وہ آدمی مر جائے تو کیا یہ نکاح جائز ہے خضر تمہیں اس طرح سے یہ سوال پوچھنا چاہیے تھا ۔
اس نے خضر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جب کے وہ حیرانگی سے دیکھ رہا تھا ۔
نہیں ہر گز نہیں یہ تو نکاح ہی نہیں ہے ۔نکاح میں سب سے زیادہ ضروری ولدیت کا ٹھیک ہونا ہے ۔دونوں طرف سے مکمل کاروائی گواہوں کے بنا پر کی جاتی ہے ۔
ہاں بالکل لوگ فون پر نکاح کرتے ہیں ۔ لیکن مردہ انسان نکاح کیسے کر سکتا ہے اگر صرف اس کی آواز تھی لیکن وہ مر چکا ہے تو یہ نکاح ہوا ہی نہیں ۔مولوی صاحب حیرانگی پریشانی سے نکاح کیے وردات سن رہے تھے
آپ کا بہت شکریہ مولوی صاحب ۔آپ چلیے گاڑی میں تشریف رکھیے خضر ابھی آپ کو آپ کے گھر چھوڑ آئے گا
یہ سب کچھ کیا تھا ۔تم نے یہ سب کچھ مجھے کیوں نہیں بتایا اور یہ سب کچھ تم نے کب جانا ۔۔۔۔؟
وہ آدمی کیسے مرا ۔۔۔؟
جس دن روح یہاں پہ آئی تھی تمہیں یاد ہے میں شمس سے بات کرنے گیا تھا اسے سمجھانے گیا تھا کہ جو کام وہ کر رہا ہے وہ غلط ہے تم جانتے ہو وہ کام کیا تھا خضر ۔۔؟ شمس شیخ وہاں پاکستانی لڑکیوں سے جعلی نکاح کرکے انہیں یہاں بلاتا تھا جتنی خوبصورت لڑکی اس کی اتنی زیادہ قیمت ۔
اور پھر انہیں یہاں لاکر بیچ دیتا تھا ۔
میں نے اسے سمجھایا کہ اسے یہ کام نہیں کرنا چاہیے اس نے میری بات نہیں مانی ۔اور میرے ہاتھوں مارا گیا ۔
شمس اس جعلی نکاح کے لیے رمیز شیخ کا نام استعمال کرتا تھا ۔
جس دن میں نے پہلی دفعہ روح کو دیکھا ۔وہ معصوم چہرہ میری دنیا ہلا گیا خضر ۔میں اسے اپنی زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہتا تھا میں جانتا ہوں میرے مستقبل میں اندھیرے کے سوا اور کچھ نہیں لیکن روح نے مجھے مجبور کر دیا ۔
اس نے مجھے خود سے محبت کرنے پر مجبور کردیا ۔ اب اس کے بغیر رہنا بہت مشکل ہو گیا ہے ۔وہ ہمیشہ سے اپنی ہر بات اس سے شیئر کر دیتا تھا صارم کے بعد خضر اس کے لیے بہت خاص ہو گیا تھا ۔
ٹھیک ہے میں مولوی صاحب کو چھوڑ کے آتا ہوں تم بھابھی کے پاس جاؤ باقی باتیں ہم کل صبح کریں گے بہت وقت ہوگیا ہے ۔ خضر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
بھابھی ۔۔۔؟آج آخر کار وہ لڑکی سے بھابھی بن ہی گئی تھی
ہاں اب اسے لڑکی کہتے ہوئے اچھا نہیں لگے گا وہ مسکراتے ہوئے بولا
لیکن لیلی کا کیا ہوگا خضر نے پوچھا
مہربانی فرما کے اس وقت لیلیٰ کا نام لے کر میرا موڈ مت خراب کریں ۔آپ یہاں سے تشریف لے کے جا سکتے ہیں ۔
یارم نا ک سے مکھی ارتا ہوا نکل گیا ۔
سب کو بیج کر اس نے دروازہ بند کیا اور اپنے کمرے میں آیا لیکن یہاں روح نہیں تھی ۔
یقیناً وہ دوسرے کمرے میں تھی ۔
میرے دل کی دنیا ہلا کر آپ دوسرے کمرے میں منہ چھپائے بیٹھی ہیں یہ تو بری ناانصافی ہے ۔
وہ مسکراتا ہوا ہے اس کے کمرے میں آیا ۔
وہ بیڈ پے بیٹھی تھی ۔۔تمہارے پاس 2 منٹ ہیں جلدی سے دوسرے کمرے میں آؤ ۔ وہ دروازے سے حکم جاری کرتا واپس پلٹ گیا
ابھی کچھ گھنٹے پہلے بھی وہ اس کی باہوں میں تھی ۔لیکن اس کے ہاتھ چھڑآنے کی وجہ سے وہ برامنا گیا پراب توروح اس کو ناراض کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔
وہ اپنا دل مضبوط کرتی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اس کے کمرے تک آئی۔
اور اپنے پیچھے سے دروازہ بند کرنے کی آواز آئی اس نے فورا پلٹ کر دیکھا تو وہ دروازہ بند کیے اس کے سامنے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا ۔
وہ آہستہ آہستہ بالکل اس کے قریب آ کر رکا اور اس کے کان کے قریب جھکا ۔
تم جو آ رہے ہو پہلوں میں اب ہوش کسے آئے گا
اے عشق زرارک تو سہی یہ عشق فنا ہو جائے گا
WellCome to my life
میرا بننے کے لئے شکریہ ۔
روح ِنور سے روحِ یارم بننے کے لئے شکریہ ۔
آج سے تم یارم کی روح ہواور اگر روح یارم سے دور ہوئی تو یار م بے جان ہو جائے گا ۔اور میں جانتا ہوں تم اپنے یار م کو کبھی بھی جان نہیں ہونے دو گی ۔
مجھے کبھی چھوڑ کر تو نہیں جاؤ گی نہ وعدہ کرو مجھ سے روح چاہے کچھ بھی ہو جائے کبھی مجھ سے دور نہیں جاؤگی کرو وعدہ اس کے بلکل قریب کھڑا
اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے وہ اس سے وعدہ مانگ رہا تھا
روح نے بس اپنی نظریں جھکا ئیں۔ جب یار م کی گرفت اپنء چہرے پر ذرا سخت ہوتی محسوس ہوئی ۔
اس نے یارم کے ہاتھوں پے اپنے ہاتھ رکھے ۔
کرو وعدہ کے مجھ سے کبھی دور نہیں جاؤ گی چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔
وعدہ ۔وہ با مشکل اس کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے بولی ۔
تھیک یو سو مچ روح میں تمہیں اتنا پیار دونگا کہ تمہیں میرے علاوہ کسی کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔
اس کے کان میں سرگوشی کرتے ایک جھٹکے سے اپنے قریب ترکیا۔
آج میری روح کو میری روح قرار دے گی
آج تو تیرا یارم اپنی جان سے جائے گا ۔
یارم نے پورے استحاق سے اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ دیے۔اور اس کا نازک سر آپا اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے بیڈ پے اٹھا لایا ۔
تمہیں پتا ہے روح تم سے پہلے میری زندگی میں کوئی خواہش نہ تھی ۔لیکن جب تم میری زندگی میں آئی تو میری چاہنا تمہیں پیار کرنا۔ بس تمہیں ہی سوچنا ۔تمہارا بن جانا ۔
اف کتنی خواہشیں دل میں جاگ آئی ہے ۔ پتا نہیں تم سے پہلے ہی ساری خواہشات کہاں سوئی تھی ۔ اس کے چہرے پر جابجا اپنے محبت کی مہر ثبت کرتا وہ ا سے اپنی محبت کا یقین دلانے لگا ۔ اسے اپنی زندگی میں کبھی کسی عورت کی کمی محسوس نہ ہوئی تھی ۔ لیکن روح کے زندگی میں آنے کے بعد اسے ہمیشہ اپنی زندگی میں روح کی کمی محسوس ہوئی ۔ یہ نازک سی لڑکی کب اس کے لیے اتنی خاص ہوگی وہ خود بھی نہیں جانتا تھا ۔
وہ تو کی بھی نہیں جانتا تھا کہ جب روح کو پتہ چلے گا کہ یار م وہ شخص ہے ہی نہیں جس کے لیے وہ اتنی دور یہاں آئی ہے ۔
وہ تو بس اس کے عشق میں گرفتار ہو چکا تھا اس سے روح چاہیے تھی کسی بھی قیمت پر ۔ چاہے اس کے لیے اسے اپنی جان سے ہی کیوں نہ جانا پڑے ۔ مگر یہ تہ تھا کہ وہ روح کا نام اپنے نام سے کبھی الگ نہیں ہونے دے گا ۔
روح صرف اس کی ہے صرف اسی کا حق ہے اس پر کوئی روح کو سوچنے کے لیے اسے دیکھنے کے لیے اس سے بات کرنے کے لیے یارم کی اجازت لیگا ۔
یارم کی شدتوں اور جسارتوں سے گھبرتی اسی کے باہوں میں پناہ لیتی لڑکی اسے دیوانہ کر گئی ۔ یارم کے ہر انداز میں روح کے لیے بے پناہ محبت تھی ۔ وہ اس کے عشق میں ڈوبا اس پر اپنے محبتوں کی برسات کرتا رہا ۔
رات دھیرے دھیرے گزر رہی تھی ۔اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ روح کو اپنا آپ اور بھی حاذ لگنے لگا ۔ وہ اپنے آپ کو کبھی منہوس سمجھتی تھی ۔ یارم کی پناہوں میں متاعِ جاں سے کم نہ تھی ۔
وہ اس کے باہوں میں پرسکون نیند سو رہی تھی جب اذانوں کی آواز گونجنے لگی ۔
اٹھو میری جان نماز کا وقت ہوگیا ۔اس نے آہستہ سے اس کے کان میں سرگوشی کی
یارم اسے اپنی زندگی میں شامل کرکے ایک پل نہ سو سکا
روح کی سونے کے بعد بھی اس کے ذہن میں بس ایک ہی بات چلتی رہی ۔
کیا سچ جانے کے بعد وہ اسسے نفرت کرنے لگے گی ۔ جس طرح سے اس کے اپنے سے دور ہوئے وہ بھی سے دور چلی جائے گی ۔
اس کے ذہن میں اٹھتے ہر سوال کا جواب نہیں تھا وہ کبھی سے خود سے دور نہیں جانے دے گا ۔ ا سے کچھ بھی پتا ہی نہیں چلنے دے گا ۔ وہ اسے کبھی ان لوگوں کے پاس واپس نہیں جانے دے گا جہاں سے وہ آئی تھی ۔ اگر وہ ان لوگوں سے کبھی ملے گی نہیں تو اسے پتہ کیسے چلے گا ۔
یارم اسے ان سے دور کر دے گا ۔جن کی وجہ سے روح اس سے دور ہو سکتی ہے
اور یہ فیصلہ کرکے وہ کچھ حد تک پرسکون ہو چکا تھا
اٹھ جاؤ جان یہ نہ ہو کہ تمہاری نیند کی وجہ سے تمہاری نماز قضا ہو جائے
پھر کہو گی کہ میری وجہ سے ایسا ہوا ہے ۔ جب کہ میں نے تو تمہیں تنگ بھی نہیں کیا جاتا ۔ اس کے کانوں میں سرگوشی کرتے اس کے کان کی لو چومتا تو مسلسل سے جگانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
مجھے نہیں پتا تھا اتنی خطرناک نیند ہے تمہاری ورنہ تو تمہاری نیند سے بہت سارے فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں ۔
تو پھر کیا خیال ہے ۔۔؟
وہ جو مزے سے نیند میں اس کی باتیں سن رہی تھی اسے واپس رات والی ٹون میں آتا دیکھ کر فورا اٹھ کر بیٹھ گئی
مجھے نماز پڑھنی ہے ۔
اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ اس کے ہوش ٹھکانے لگاتا وہ بھاگ کر واش روم میں بند ہوگی ۔
اب تو تمہیں بھاگ کر بھی میرے ہی قریب آنا ہے ۔
اٹھ کر بیٹھا اور بیڈ کی کراون سے ٹیک لگاتا ہوا واش روم کے دروازے کو دیکھتا رہا
روح فریش ہو کر باہر آئی ۔تو وہ اسے دیکھ رہا تھا ایک شرمیلی سی مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھوا ۔
آپ اگر مجھے ایسے ہی دیکھتے رہیں گے تو میں باہر جاکے نماز ادا کرونگی ۔وہ ہلکا سا منمنائی
نوٹ کر رہا ہوں ۔ کل رات سے تمہاری بولتی بند ہوگئی ہے ایسا بھی کیا ہوگیا رات میں ۔ وہ شرارتی انداز اپنائے اسے نظروں کے حصار میں لے لیتا ہوا پوچھ رہا تھا
میں باہر جارہی ہوں ۔ شرماتی ہوئی جانماز اٹھا کر باہر جانے لگی
ارے یار میں نے کیا کہا بس پوچھ ہی تو رہا ہوں کہ ایسا کیا ہوگیا رات میں اچھا ٹھیک ہے اب میں کچھ نہیں کہوں گا
تم آرام سے نماز پڑھو ۔ وہ مسکراتے ہوئے نظر پورے کمرے میں گھمانے لگا ۔
وہ کافی دیر کھڑی اسے دیکھتی رہی ۔ لیکن وہ اس سے بالکل بے نیاز ظاہر ہونے کی کوشش کر رہا تھا ۔
روح نے وہی نماز بچھائی اور نیت باندھی ۔
اسے مکمل نماز میں مصروف دیکھ کر ایک بار پھر سے اس سے جان لٹاتی نظروں سے دیکھنے لگا ۔
اسے لگا تھا کہ وہ پانچ سات منٹ میں نماز سے فارغ ہو جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ نماز تو فورا ختم ہوگئی لیکن یہ دعا تھی جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی
پھر تقریبا پندرہ منٹ کے بعد وہ دعا مانگ کر جانماز اٹھانے لگی
میں تو مل گیا تمہیں اب کیا مانگ رہی تھی اللہ سے اس نے شرارت سے پوچھا ۔
مانگ نہیں رہی تھینک یو بول رہی تھی ۔ انہوں نے میری سن لی ۔ تو تھینک یو تو بنتا ہے نہ ۔ مسکرا کر اسے جواب دیتی وہ اس کے لئے ناشتہ بنانے باہر نکل گئی ۔وہ ناشتہ بنا کر لائی تو یارم شاور لے چکا تھا اس نے ناشتہ ٹیبل پر لگایا جبکہ یارم شیشے کے سامنے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا روح کا سارا دھیان ناشتے لگانے پر ہی تھا
کل سے آج وہ اسے اپنے دل کے زیادہ قریب لگ رہی تھی ۔
اتنی صبح ناشتہ کون کرتا ہے ۔وہ اس سے پوچھنے لگا ۔
جبکہ وہ خود بھی جانتا تھا کہ وہ اس سے چھپنے کی کوشش کررہی ہے ۔
میں نے سوچا آپ کو بھوک لگی ہوگی ۔ اس کے منہ میں جو کچھ آیا کہنے لگی
ہاں یار بھوک تو بہت لگی لیکن کھانے کے لیے نہیں پیار کرنے کے لیے۔ کھنیچ کر اسے اپنے قریب کرتے اس کے بالوں میں منہ چھپاتے ہوئے بولا۔
روح کی توجیسے جان پر بن آئی تھی اسے رات کے روپ میں واپس آتے دیکھ کر
لیکن مجھے کھانے کے لیے بھوک لگی ہے ۔۔۔ اس نے اپنا آپ چھڑاتے ہوئے بولا ۔
تو مجھے کھا جاؤ۔ تم مجھے کھا لو میں تمہیں کھا لیتا ہوں ۔
دونوں کی بھوک ختم ہو جائے گی۔ اس نے ایک بار پھر سے اسے اپنے قریب کرتے ہوئے اس کو گرفت میں لیا اور بازوں کا گھیرا تنگ کیا ۔
مجھے یہ ڈش پسند نہیں میں نہیں کھاتی ۔ اس نے پھر اپنا آپ چھڑانا چاہا
ٹرائی تو کرو بہت ٹیسٹی ہے ۔ یہ کہتے ہوئے وہ اس کے لبوں پر جھکا ۔اور پورے اسحاق سے اپنے آپ کو سیراب کرنے لگا ۔
پھر جب اس کے لبوں کو آزاد کیا تو اس کے چہرے پہ اپنی سنگت کی رنگ دیکھنے لگا ۔
جہاں بکھری حیا اور سرخی اسے سکون دے رہی تھی
کیسی لگی۔ اگر چاہو تو یہ ڈش تمہیں روز مل سکتی ہے ۔ اور اگر نہ بھی چاہو توبھی یہ ڈش تمہیں روز ضرور ملے گی ۔
کیونکہ یہ ڈش میری فیورٹ ہے ۔ اور اس کے نرم و نازک گلابی لبوں کو انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے بولا ۔
لگتا ہے آپ نے ناشتہ نہیں کرنا ۔ وہ اپنی شرم و حیا چھپانے کی ناکام کوشش کرنے لگی ۔
میں نے تو کر لیا ناشتہ ۔ اور یقین کرو اس سے زیادہ مزے دار آج تک نہیں کیا ۔وہ ذو معنی انداز میں بولا
اور جو میں نے اتنی محنت سے بنایا ہے ۔ وہ اس سے نظریں چراتے ہوئے بولی ۔ جبکہ ہاتھ کبھی دوپٹہ گھوما رہا تھا تو کبھی ناخون منہ جا رہے تھے ۔
وہ اس کی حالت سے محفوظ ہو رہا تھا ۔
اچھا یار کرتے ہیں ناشتہ آؤ بیٹھو ۔ اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر بٹھایا اور خود سامنے بیٹھ گیا ۔
ویسے تم نے میرے ایک سوال کا جواب نہیں دیا ناشتہ کرتے ہوئے اسنے پھرسے اسے مخاطب کیا ۔
کون سی بات کا جواب ۔۔؟ وہ نہ سمجھی سے پوچھنے لگی
ارے وہی کہ کل تک تو تمہاری زبان کینچی کی طرح چل رہی تھی ۔ایک رات میں ایسا کیا ہوگیا کہ یہ بند ہوگئی ۔ وہ شرارت سے پوچھ رہا تھا ۔
جبکہ ناشتہ کرتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپے۔
اچھا اچھا سوری سکون سے ناشتہ کرو میں کچھ نہیں کہتا ۔وہ ہنستے ہوئے بولا
آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں مجھے نہیں کرنا آپ کے ساتھ ناشتہ۔ وہ اٹھ کر باہر جانے لگی
جب یار م نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔کل رات تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ مجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤ گی تو اب کیوں جا رہی ہو وہ بالکل سیریس لگ رہا تھا ۔
باہر جارہی ہوں کوئی پاکستان واپس نہیں جا رہی روح نے بتانا ضروری سمجھا ۔
پاکستان واپس تو اب تم کبھی جا بھی نہیں سکتی ۔ لیکن مجھے چھوڑ کر یہاں سے باہر بھی نہیں جاسکتی۔
تمہیں مجھ سے دور جانے کی یہاں باہر بھی اجازت نہیں ہے ۔آرام سے بیٹھو اور ناشتہ کرو۔۔۔ وہ بلکل سیریس ہو کر بول رہا تھا روح کو اس کے انداز زت ایک مہینے پہلے والے وہ تھپڑ یاد آئے ۔
تو پھر سے ایک بار اس کے قریب ہی بیٹھ گئی
اچھا نہ میری جان اب میں مذاق نہیں کرتا لو کرو ناشتہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے کھلانے لگا ۔
ناشتہ کرنے کے بعد وہ برتن اٹھا کر کچن میں گئی تو واپس ہی نہ آئی
تو وہ خود ہی اسے ڈھونڈتا ہوا کچن میں آ پہنچا ۔
یہ جو مجھ سے چھپنے کی کوشش کر رہی ہو نا یہ بالکل بیکار ہے تم چاہ کر بھی مجھ سے نہیں چھپ سکتی چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں چلی جاؤ
تمہارا یارم تمہیں ہر جگہ سے ڈھونڈ نکالے گا ۔
میں کیوں چھپنے لگی آپ سے بلا میں تو کام ختم کر رہی ہوں ۔ وہ مسکرائی تھی لیکن سچ تو یہ تھا کہ کل رات کے بعد وہ اس کی بے باک نظریں سے چھپ جانا چاہتی تھی
اس کی نظریں اسے نظریں جھکانے پر مجبور کر دیتی ۔
اچھا آج سے پہلے تو اتنا کام نہیں تھا یہاں پر ۔تم دو گھنٹے سے یہاں گھسی آخر کر کیا رہی ہو ۔وہ جانچتی نظریں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
میں صفائی کر رہی ہوں۔ اس نے پورے کچن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں جائے جاکر تیار ہوں آپ نے اپنے کام پر نہیں جانا ۔اس نے نظریں چراتے ہوئے کہا ۔
نہیں شادی کی پہلی صبح کون پاگل کام پے جاتا ہے ۔میں تو اپنی بیوی کے ساتھ ٹائم سپنڈ کروں گا ۔ اس نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا
نہیں نہیں آپ کو جانا چاہیے بہت سارے کام ہیں آپ کو نقصان ہو جائے گا میں تو یہی ہوں ۔وہ جلدی جلدی بولی تھی ۔ کیونکہ اس سے پہلے یارم ایک دن بھی اس کے پاس گھر پہ نہ رکھا تھا اور اس نے جب پوچھا کیا وہ بہت بزی ہے اپنے کام میں تو کہنے لگا کے اس کے پاس بہت کام ہے سانس لینے کی بھی فرصت نہیں ۔
ارے بھاڑ میں جائے کام میں تو اپنی بیوی کے پاس رہوں گا میں اپنی بیوی کے ساتھ چند دن بھی نہ گزار پاؤں تو اتنا کام کرنے کا کیا فائدہ ۔۔۔؟
وہ محبت سے اس کے گال چومتے ہوئے بولا ۔
جب کہ وہ اپنے گال پہ ہاتھ رکھے اسے دیکھنے لگی ۔
وہ تمہارے گال پہ سرخی تھوڑی کم ہو گئی تھی میں نے سوچا لگا دو ں وہ مکمل شرارتی انداز میں بولا
چند دن ۔۔؟ وہ اس کی حرکت کو اگنور کرتے ہوئے پوچھنے لگی ۔
ہاں یار ہنی مون پہ جانا ہے ۔تمہیں گھمانے پھرانے میں تمہیں اپنی فیورٹ جگہ لے کے جاؤں گا جہاں میں اکثر جاتا ہوں ۔ بہت پرسکون جگہ ہے تمہیں بہت اچھا لگے گا ۔
وہ آپ سارا وقت میرے ساتھ ہوں گے وہ کچھ سوچتے ہوئے پوچھنے لگی ۔
ہاں بے بی ہنی مون پہ میاں بیوی دونوں ہر وقت ساتھ رہتے ہیں ۔ اور تمہیں تو ویسے بھی اب میں خود سے الگ نہیں ہونے دوں گا
روح اپنے دھیان میں یہ نوٹ ہی نہیں کر پائی کہ وہ کب اس کے بالکل قریب آ کر کھڑا ہوا ۔ اور اس کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے اسے اپنے مزید قریب کیا
جانتی ہو روح میں نے کبھی اپنے لئے تمہاری جیسی لڑکی کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ میں نے تو کبھی بھی شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اگر کرتا بھی تو اپنی جیسی کسی لڑکی سے لیکن دیکھو نہ مجھے ملا بھی تو کون ۔۔۔تم
معصوم سی پیاری سی گڑیا جیسی ۔ میں نے تو اپنی زندگی میں کوئی نیکی نہیں کی پھر اللہ نے تم جیسی پری میرے نصیب میں کیسے لکھ دی۔
میں دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان ہوں ۔
تم مجھے کبھی چھوڑ کر تو نہیں جاؤگی نہ۔ وہ اس کی کندے پر جھکا سر رکھے آنکھیں بند کیے بول رہا تھا ۔
اگر میں جانا چاہوں تو بھی کیا آپ مجھے جانے دیں گے روح شرارت سے بولی ۔ جب کہ کل سے اب تک وہ ہزار بار اسے کہہ چکا تھا کہ وہ کبھی اسے خود سے الگ نہیں ہونے دے گا
نہیں بالکل نہیں کبھی نہیں ۔تم میری ہو ۔ اور میں اپنی کوئی بھی چیز خود سے دور نہیں جانے دیتا ۔جو میرا ہے وہ صرف میرا ہے ۔ تم خود بھی چاہو تو بھی مجھ سے دور نہیں جاپاوگی ۔
یارم آج آپ بہت خوش ہیں نا
ہاں بہت ۔جواب مختصر تھا مگر جسارتیں برتی جا رہی تھی ۔
آپ کی اس خوشی میں میں آپ سے کچھ مانگو ں تو آپ دیں گے نہ ۔
تم جان مانگ لو وہ اس کا ماتھا چومتے ہوئے بولا ۔
وہ تو ہے ہی میری اسے مانگنے کی کیا ضرورت ہے وہ اترائی تھی ۔
تو پھر کیا چاہے ۔۔۔؟ یارم نے اس کا دوپٹہ کھینچتے ہوئے کہا ۔
پلیز مجھے گھر فون کرنے دیں ۔ وہ منت بھرے لہجے میں بولی ۔
مگر وہ اس کی سن کہاں رہا تھا ۔ وہ تو اس کی گردن میں منہ چھپائے اسے محسوس کرنے میں مصروف تھا ۔
یا شاید سن کر اگنور کر گیا تھا ۔
آئی لو یو سومچ ۔ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے وہ ایک بار پھر سے اس کے لبوں پر جھکا ۔
یارم میری بات سنں۔ وہ اس کی خوشبو کو اپنے اندر اتارتا۔
مدہوش ہونے لگا ۔
فی الحال تم سنو ۔ یہ دھڑکن کیا کہہ رہی ہے ۔اس کا سر اپنے سینے پر رکھتا ۔ہوا بولا
یہ دل تم سے کچھ کہنا چاہتا ہے ۔کچھ سنا چاہتا ہے ۔ یہ صرف تمہارے لیے دھڑکتا ہے ۔ اسے جواب دو ۔ اس کی بات سنو ۔ اسے اپنے بے حد قریب کیے وہ اس کی سانسس اتھل پتھل کر چکا تھا ۔
اسے باہوں میں اٹھائے اپنے کمرے میں لے آیا ۔ اور اسے بیڈ پر لٹا کر اس پر جھکا
میں چاہتا ہوں تم صرف میرے بارے میں سوچو میرے بارے میں بات کرو ۔ مجھے پیار کرو ۔ مجھے آج تک ایسا شخص نہیں ملا جو مجھ سے محبت کرتا ہو
تم مجھ سے محبت کرتی ہو نہ ۔اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوچھنے لگا ۔
خاموش کیوں ہو بولو نہ کرتی ہو نہ مجھ سے پیار ۔ وہ اس سے ہلکا سا جھنجھوڑ کر بولا
ہاں ۔ کہتی ہوں بہت پیار کرتی ہوں ۔وہ نظریں جھکاتے ہوئے بولی ۔
جبکہ اس کا اظہار سن کر وہ سرشار ساہو کر اس پر جھکا ۔
آئی لو یو ۔اس کے چہرے پر جابجا اپنی محبت کی مہر ثبت کر وہ اسے دنیا کی سوچوں سے دور لے گیا
اس کا فون دو بار بج کر بند ہوچکا تھا ۔جبکہ وہ گہری پرسکون نیند سو رہا تھا روح باہر صوفے پے بیٹھی ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی ۔
جبکہ اسے پتہ تھا کہ یارم کا فون بج رہا ہے ۔لیکن اس وقت وہ یارم کا بالکل سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
اس نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی اس سے اتنی محبت کرے گا ۔
یارم صرف کہتا نہیں تھا بلکہ سچ میں اس سے بہت محبت کرتا تھا اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھ کر وہ ایک ہی رات میں مغرور ہوگئی تھی ۔
فون دوبارہ بج بج کر بند ہوگیا ۔
فون بھی یارم کی گہری نیند تھوڑنے میں ناکامیاب رہا تھا ۔
اب بندہ فون نہیں اٹھا رہا تو اگلا بندہ خودہی سمجھ جائے کہ وہ فون نہیں اٹھا رہا ضرور وہ بیزی ہوگا یا شاید اس سے بات نہیں کرنا چاہتا لیکن ڈھیٹ بن کے فون کرتا ہی رہے گا نہ جانے کون ہے یہ ۔
باہر ٹی وی دیکھتے مصروف انداز میں بولی
بہت دیر تک انتظار کرتی رہی کہ شاید یارم فون اٹھالے لیکن اس نے تو آج قسم کھا رکھی پھر مجبور ہو کر کمرے میں آ گئی ۔
یارم اٹھیں کب سے آپ کا فون بج رہا ہے ۔ وہ جو دروازے سے بولتی ہوئی آئی تھی اندر یارم کو دیکھا تو اس کے ہاتھ میں فون تھا جو وہ اپنے ہاتھ میں الٹا سیدھا گھما رہا تھا ۔
ارے آپ جاگ رہے ہیں تو فون کیوں نہیں اٹھا رہے بیچارا نہ جانے کب سے فون کرکرکے ہلکان ہوئے جا رہا ہے ۔
میں نے کل ان کمینوں کو سمجھایا بھی تھا کہ آج کے دن مجھے بالکل ڈسٹرب نہ کیا جائے لیکن انہیں دیکھو مجال ہے جو ایک بھی کام خود سے کرلیں ۔
وہ فون کو غصے سے گھورتے ہوئے بولا
ہوسکتا ہے کوئی بہت ضروری کام ہو آپ کو بات کر لینی چاہیے ۔وہ کہتے ہوئے اس کے بالکل قریب آگئی تھی ۔
بالکل بھی نہیں آج کا سارا دن میں اپنی بیوی کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں ۔ اب بندہ سکون سے اپنی میرج لائف بھی انجوائے نہ کرسکے تو فائدہ کیا ہے ان سب کا ۔۔جو بھی ہے خود سنبھال لیں گے اتنے ننے کا کے نہیں وہ میری ٹیم کے سبھی لوگ بہت ایکٹیو ہے ۔
یارم نے کہتے ہوئے روح کو اپنی طرف کھینچا اور اس کے ساتھ ہی ایک بار پھر سے اس کا فون بجنے لگا ۔
روح کھلکھلا کر ہنسی۔
لیکن یارم جلدی سے فون کاٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوا
بہت ہنسی نہیں آرہی تمہیں ۔۔۔؟۔
اسے ایک بار پھر سے اپنے قریب کرتے ہوئے کہا ۔
یارم اٹھا لیجئے نافون کوئی ضروری کام ہوگا ۔ روح نے اتنے پیار سے کہا ۔کہ یارم کا دل چاہا کہ فون کرنے والے کی جان نکال دے۔
جان اس وقت تم سے ضروری کچھ نہیں ہے ۔ اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں کے قریب لے جاتے ہوئے فون پھر سے بجا ۔اور اس بار غصے سے یارم کا چہرہ سرخ ہونے لگا ۔ جس کا اندازہ روح نے باآسانی لگایا تھا ۔
کون مر گیا ہے جو تم لوگ تھوڑا صبر نہیں کر سکتے یارم بولا نہیں بلکہ پھنکارا تھا ۔
ابھی تک تو کوئی نہیں مرا ہے اگر تم کچھ دیر میں ہسپتال نہ پہنچے تو لیلیٰ ضرور مر جائے گی ۔ فون سے شارف کی آواز ابھری ۔
کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں وہ ابھی بھی غصے میں تھا ۔
رات لیلی بہت ڈسٹرب تھی تمہاری نکاح کی وجہ سے اس نے اپنے کلب میں ڈرگز اوور ڈوز لے لیا ہے جس کی وجہ سے اس کی جان خطرے میں ہے ۔تم نے اس کے ساتھ ٹھیک نہیں کیا یارم تم نے اس کی محبت کا یہ صلہ دیا ۔
شارف نے دکھ سے کہا ۔
میں آ رہا ہوں ۔ اس نے بس اتنا کہہ کے فون بند کر دیا ۔
میں نے کہا تھا نہ کوئی ضروری کام ہوگا ۔ورنہ کوئی اس طرح سے آپ کو بار بار ڈسٹرب کیوں کرتا آپ جائیں فریش ہوں تب تک میں آپ کے کپڑے نکالتی ہو ں۔
یارم نے ہاں میں سر ہلایا اور اٹھ کر واش روم چلا گیا ۔
وہ چینج کرکے جانے لگا ۔آجاو دروازہ بند کر لو اندر سے ۔اس نے روح کو پکارا ۔ تو روح اس کے ساتھ ہی باہر تک آئی۔
جب یارم جاتے جاتے پلٹا ۔
ایک کس مل سکتی ہے ۔وہ جو کب سے سیریس شکل بنائے ہوئے تھا اب پلٹ کر بولا تو رو ح اچانک ہی نروس ہونے لگی
نی نہیں آپ جائیں نہ اپنے کام پر ۔وہ کنفیوز ہو کر بولی
تم نے مجھے انکار کیا اور تم چاہتی ہو میں ایسے ہی چلا جاؤں ۔ وہ بالکل سیریس لگ رہا تھا ۔
شرافت سے تم خود مجھے کس کردو کیونکہ اگر میں نے کیا تو تمہیں شریف نہیں لگے گا ۔ اور ہوسکتا ہے میرا انداز بھی تمہیں پسند نہ ائے۔اب بالکل اسکے قریب کھڑا تھا
جبکہ روح سمجھ نہیں پائی کہ وہ دھمکی دے رہا ہے یا فرمائش کر رہا ہے ۔
آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں ۔ وہ منہ بنا کر بولی
ہاں بے بی میں بالکل بھی اچھا نہیں ہوں اور اگر تم نہیں چاہتی کہ میں مزید بُرا ہوکر یہیں رک جاؤں تو تم مجھے اس نے اپنے ہونٹوں کی طرف ارشارہ کیا ۔
جب کہ وہ بت بنی نظریں زمین پر گاڑے ہوئے تھی۔
فائن ۔وہ ایک قدم اٹھاتا اندر کی طرف بڑھا ۔
نہیں نہیں آپ جائیں اپنے کام پر روح اس کی نیت دیکھ کر فوراً بولی ۔
ٹھیک ہے پھر وہ اس کے قریب جھکا ۔
آنکھیں تو بند کریں ۔خود کو گھورتے پاکربولی ۔
ڈمپل نمایاں ہوئے ۔جوحُکم میری جان ۔وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے بولا ۔
اور ایک بار پھر سے اس کے قریب جھکا
مرتی کیا نہ کرتی اس نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما۔
اور پھر آہستہ سے اپنے کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کو اس کے ماتھے پر رکھا ۔ ڈمپل مزید گہرے ہوئے ۔
اس سے زیادہ تم سے امید بھی نہیں تھی خیر تھینک یو سو مچ ۔وہ روح کی تھوڑی چومتا مسکراتا ہوا نکل گیا روح نے سکون کا سانس لیا ۔
وہ سیدھا ہوسپیٹل آیا اور دھڑلے سے دروازہ کھولتا ہوا ہسپتال کے اس کمرے میں آیا جہاں لیلیٰ تھی ۔
شارف اور خضر پہلے سے ہی یہاں موجود تھے
وہ تیزی سے لیلیٰ کی طرف آیا جو بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔
اس نے لیلی کو گردن سے پکڑا اور وہی بیڈ پر لٹا دیا جبکہ شارف اور خضر تیزی سے اس کی طرف بڑھے تھے جنہیں اشارے سے روکتا ہوا بولا ۔
اگر ایک بھی قدم آگے کی طرف برایا تو تم دونوں کے پیر کاٹ کے دبئی کی سڑکوں پر بھیک منگواؤں گا ۔
اور تمہیں بہت شوق ہے مرنے کا خضر میرا ریوالور دو میں ایک ہی بار اس کی جان نکالتا ہوں ۔
کہا تھا تمہیں کہ یہ سارے ڈرامے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے وہ سختی سے اس کی گردن پر ہاتھ جمائے ہوئے پھنکار رہا تھا
ڈیول وہ مر جائے گی ۔شارف چلایا تھا
می۔ میرا سس۔ سانس بند ہو رہا ۔۔۔پپ۔ ۔پلیز ۔لیلی نے کچھ بولنے کی کوشش کی ۔
ہاں تم تو مرنا چاہتی ہونا میں تمہاری موت آسان کر رہا ہوں ۔
پلیز چھوڑو مجھے میرا سس۔ ۔۔لیلیٰ نے کچھ بولنے کی کوشش کی لیکن گردن پر دباؤ ہونے کی وجہ سے نہیں بول پائی
بیکار میں ڈرگز لینے کی کیا ضرورت تھی لیلیٰ میرے پاس آ جاتی میں خود گولی مار دیتا ۔
اس نے ایک جھٹکے سے لیلیٰ کو چھوڑا تو وہ دور جا کربیڈ سے زمین پر گری ۔
لیلیٰ میرے ساتھ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ یہ تمہارا آخری موقع ہے ۔اگر اس کے بعد تم نے اس طرح کی کوئی بھی حرکت کی تو میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے ماروں گا اور پلیز اگر تمہیں خودکشی کرنے کا بہت شوق ہے تو میرے پاس آؤ ۔
تمہیں پتا ہے ۔ مجھے اس طرح سے موت دینے میں بہت مزہ آتا ہے ۔
تم نے میرے ساتھ ٹھیک نہیں کیا ڈیول میں تمہاری بیوی کو سب بتا دوں گی جب اسے پتہ چلے گا نہ کہ تم ایک ڈان ہو ایک قاتل ہو وہ تمہیں چھوڑ کر چلی جائے گی نہ جانے لیلیٰ میں اتنی ہمت کہاں سے آئی کہ وہ بول اٹھی
وہ اس کے پاس زمین پر آبیٹھا ۔اور ایک جھٹکے سے اسے بالوں سے پکڑ کر سیدھا کیا ۔
میں تمہاری زبان کاٹ دوں گا تمہیں وہ موت دونگا جو آج تک کسی کو نہیں ملی ہوگی ۔ تڑپ تڑپ کر مرو گی ۔
کیا کرو گے زیادہ سے زیادہ گولی مار دو گے لیکن میں پھر بھی تمہاری بیوی کو ضرور بتاؤں گی اگر مجھے سکون نہیں مجھے قرار نہیں تو تمہیں کیوں لینے دوں وہ آنکھوں میں آنسو لیے بولی
۔جانتی ہو لیلیٰ زندہ انسان کو زمین کے اندر کیسا محسوس ہوتا ہے ۔
نہیں نہ۔۔۔؟ میں بتاتا ہوں ۔۔
فرض کرو میں تمہیں ایک تابوت میں بند کرکے جنگل میں زمین کے اندر دفنا رہا ہوں وہاں تمہیں سانس نہیں آئے گی آہستہ آہستہ تمہاری سانس رکنے لگے گی ۔ تم تابوت کے اندر ہو میں تم پر مٹی پھینک رہا ہوں
تم اندر سے چلا رہی ہوپلیز مجھے بچاؤ کھولو مجھے نکالو مجھے یہاں سے میری سانس رک رہی ہے
۔ تمہیں زمین کے اندر دفن کر کے میں جا چکا ہوں۔ وہ بالکل اس کے قریب بیٹھا بتا رہا تھا ۔وہ بہت غور سے سن رہی تھی کیونکہ اسے پتہ تھا اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوگا ۔
وہاں جنگلی کتے کسی کے جسم کی خوشبو سونگھ کر تمہاری قبر کے اوپر گھومنے لگیں گے ۔
اتنے میں وہاں کے شیر بھی انسانی جسم کی خوشبو پہچان کر پہنچیں گے وہ کتوں کو مارنے لگیں گے ۔اگر تمہیں کتے کھائیں گے تو شیر اپنی بھوک کیسے مٹائیں گے
ڈیول یہ تم کیا کہہ رہے ہو پلیز چپ ہو جاؤ
قبر کے اندر آتی خوفناک تمہیں مزید خوفزدہ کردیں گی
لیلیٰ نے اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھنے چاہے لیکن اس سے پہلے ہی یار م نے اس کے ہاتھ تھام لئے
وہ انسانی جسم کی خوشبو پہچان کے غرانے لگےگے پورا جنگل جنگلی خوفناک جانوروں کی آوازوں سے گونجنے لگے گا ۔ قبر کے اندر تمہاری سانسیں روک رہی ہوگی ۔
تم خود بھی اپنی سانسوں کی آواز نہیں سننا چاہوں
گی کہیں وہ جنگلی جانور تمہاری آواز سن کر تمہیں زمین سے نکال کر چیرپھاڑ نہ دے
پھر زمین کے اندر کی مخلوق ۔کیڑے مکوڑے سانپ بچھو تمہارے جسم پر رینگے
پلیز بس کردو ڈیول ۔ لیلیٰ نے روتے ہوئے کہا ۔
تمہیں خود بھی سمجھ نہیں آئے گا کہ تابوت کے اندر وہ کہاں سے تمہارے جسم پر پہنچے
بس بس پلیز مجھے کچھ مت بتاؤ میں کچھ کسی کو کچھ نہیں کہوں گی ۔
بس تمہاری بیوی کو کچھ نہیں بتاؤں گی اپنے اوپر رینگتے جانوروں کو محسوس کرکے وہ چلائی تھی ۔
۔اگلے ہی لمحے یار م نے اس کا منہ اپنے ہاتھ میں دبوچا ۔
اگر تم نے روح کو مجھ سے دور کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہ تو میں تمہاری موت کو اس طرح سے سوچوں گا کہ تمہارے ان سپوٹر ز کی آنے والی ہزار نسلیں کانپ اٹھیں گی اس نے سامنے کھڑے خضر اور شارف کی طرف اشارہ کیا
مجھے بلیک میل کرنا اتنا بھی آسان نہیں ہے لیلیٰ اس نے ایک جھٹکے سے لیلی کو پیچھے کی طرف چھوڑا ۔
اس سینے میں دل صرف روح کے لئے دھڑکتا ہے باقی دنیا کے لیے میں وہی ڈیو ل ہوں جس کے ہاتھ آج تک نہیں کانپے
جبکہ باہر بینچ پہ بیٹھی معصومہ بُری طرح سے کانپ رہی تھی ۔
ڈیول میں اس سب میں شامل نہیں ہوں مجھے نہیں پتہ لیلیٰ نے یہ سارا ڈرامہ کیوں کیا مجھے تو بس اس کے ہسپتال آنے کے بارے میں پتا چلا تو میں یہاں آیا ۔
میں ان سب کا ساتھ نہیں دے رہا تھا مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتا ۔
وہ ہسپتال کے کمرے سے باہر نکلا تو ہیں خضر بھی اس کے پیچھے آیا ۔ کیونکہ وہ اپنی موت ویسی نہیں چاہتا تھا جیسے اس نے لیلیٰ کو اس کی موت بتائی تھی ۔
کیا آپ لیلیٰ کو واقعی ویسے مارنے والے ہو معصومہ نے پوچھا ۔
وہ اس سے زیادہ بات نہیں کرتی تھی اس سے دور دور ہی رہتی تھی لیکن آج جو کچھ بھی ہوا ۔اس کے بعد تو اسے مزید ڈر لگنے لگا تھا لیکن خضر نے اسپتال کے کمرے سے باہر نکل کر اسے ساتھ آنے کا اشارہ کیا تو وہ ساتھ چلتی پوچھنے لگی
تمہارے بابا کو ایسے ہی مارا گیا تھا ۔ انہیں بھی زندہ زمین میں دفن کردیاگیا تھا ۔میں نہیں جانتا زندہ انسان زمین کے اندر کیسا محسوس کرتا ہے لمحہ لمحہ سانس رکھتے ہوئے کیسا محسوس ہوتا ہے ۔
اس دن مجھے گولی لگی تھی اور ہم جنگل کہ بیچوں بیچ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں تھے ۔
جب باہر سے جانوروں کی ایسی ہی خطرناک آواز آ رہی تھی ۔
ان لوگوں نے پہلے تمہارے بابا کو زمین کے اندر دفن کرکے انہیں مارا اور پھر بعد میں جنگلی جانوروں نے انکی لاش کو زمین کے اندر سے نکال کر ۔صدیق اس کے لئے عزیز تھا وہ آگے کچھ نہیں بول پایا
مجھے یقین ہے کہ تم بہت مضبوط ہو لڑکی ۔ وہ اس کے سر پہ ہاتھ رکھتا باہر نکل گیا ۔
جبکہ اپنی باپ کی بے بس موت پر وہ آنسو بہاتی وہی بینچ پر بیٹھ گئی
ڈیول میں تمہیں ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا آج لیکن پھر اگر تم یہاں آ ہی گئے ہو تو پلیز وسیم اور راشد کا بھی حل نکال دو ۔
وہ لوگ اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کرنے پر راضی نہیں ہے انہوں نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ وہ کسی ڈیول سے نہیں ڈرتے ۔۔
تو چلو پھر انھیں ڈراتے ہیں ۔
میں روح کے ساتھ ایک پرسکون وقت گزارنا چاہتا ہوں ۔اس لیے جلدی سے جلدی سارے کام ختم کر دینا چاہتا ہوں تمہیں میرا ایک کام کرنا ہے ۔
میں روح کو اپنے ساتھ کہیں باہر لے کے جانا چاہتا ہوں دو ٹکٹس کا انتظام کر دو لیکن روح کے اصل نام پے ۔
میں تب تک اپنے سارے کام نپٹا ڈالوں گا تمہارے پاس بس اتنا ہی وقت ہے پاسپورٹ بنوانے کے لیے ۔
ٹھیک ہے میں کردوں گا ۔ ڈیول میں تمہارے لئے بہت خوش ہوں لیکن تمہاری زندگی بہت الگ ہے کیا روح اس زندگی سے کمپرومائز کر پائے گی ۔میرا مطلب ہے تو اس لڑکی کے لیے ضرورت سے زیادہ ہی پروسیوز ہوتے جا رہے ہو ۔
مجھے لگا تھا یہ وقتی احساس ہے لیکن تم نے اس سے شادی کرلی ۔
لیکن جب اسے یہ سب کچھ پتہ چلے گا میرا مطلب ہے ۔
کون بتائے گا اسے یارم نےاس کی بات کاٹی ۔
ڈیول یہ چھپی ہوئی بات تو نہیں ہے ۔بہت لوگ جانتے ہیں اگر لیلیٰ نہیں تو کوئی اور سہی ۔
میں نے کہا نہ جو بھی مجھ سے میری روح کو الگ کرنے کی کوشش کرے گا میں اس کی روح نکال دوں گا ۔
تم بے فکر ہو جاؤ اتنی ہمت کسی میں بھی نہیں ہے ۔
مجھے وسیم اور راشد سے ملنا ہے
وہ خضر سے مزید اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا تھا
وہ خضر کے ساتھ وسیم اور راشد کے ٹھکانے پر آیا تھا۔
شارف آنا نہیں چاہتا تھا لیکن مجبور تھا ۔ شارف کا کہنا تھا کہ لیلی کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ بالکل غلط ہے کیونکہ وہ لیلیٰ کو اپنی بھابھی مان چکا تھا ۔
لیکن اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ ڈیو ل کے سامنے بھی ایسا کہتا ہے اس لئے شرافت سے ان کے ساتھ آگیا ۔
دیکھو میں تم دونوں کو پہلے سے بتا رہا ہوں اگر قتل کرنے کا ارادہ ہے تو میں اندر نہیں آوں گا میں ان گناہگار آنکھوں سے قتل نہیں دیکھ سکتا ۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ ایسے ہی ڈیول کے مارنے کے انداز سے ڈر لگتا ہے ۔
لیکن ڈیول کی گھوری نے اسے اندر آنے پر مجبور کر دیا ۔
باہر ان کے آدمی اپنے اپنے کام میں مصروف تھے وہ سیدھے ان کے آفس میں آئے اور سامنے کی کرسیوں پر بیٹھے ۔
اگر تم لوگ پھر سے اس ویڈیو کے لئے آئے ہو تو ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ وہ ویڈیو ڈیلیٹ نہیں ہوگا جس طرح سے تم نے واثق ملک کو مارا ہے اتنا کمزور ہمیں مت سمجھنا ۔
وسیم بیٹھتے ہوئے بولا ۔
ارے ہم نے تو ویڈیو کا ذکر بھی نہیں کیا ۔بیٹھو ہم آرام سے بات کرتے ہیں خضر نے کہا ۔
ویسے اگر تم ہمیں نائٹ سٹی والا ایریا دے دو تو ہو سکتا ہے وہ ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کے بارے میں ہم سوچیں ۔
اس نے نائٹ سٹی ایریا کانام لیا جوکہ ڈیول کے قبضے میں تھا ۔
مجھے منظور ہے وہ ویڈیو ڈیلیٹ کرو ۔ڈیو ل نے کہا
وسیم نے فاتحانہ نظروں سے راشد کی طرف دیکھا ۔
پہلے ان پیپرز پر سائن کرو وہ ساری تیاری کیے بیٹھے تھے ۔
ڈیول پیپر اٹھا کر دیکھنے لگا ۔
شارف وسیم راشد کا آفس دیکھو کتنا اچھا ہے ۔ خضر نے شارف کو محاطب کیا جبکہ وہ سوچ رہا تھا یہ فضول میں کیوں بول رہا ہے ۔
اس سے کئی گناہ زیادہ ہمارا آفس اچھا ہے کیونکہ وہ ساؤنڈ پروف ہے ۔شارف نے جتلانا ضروری سمجھا ۔
انکا افس شارف نے خود ڈیزائن کروایا تھا ۔اور اس معاملے میں وہ بالکل عورتوں جیسا تھا وہ اپنی چیز کو نمبرون سمجھتا تھا ۔
ہمارا افس بھی ساونڈ پروف ہے راشد نے ایک سٹائل میں کہا۔
تھینک یو بس اتنا ہی جننا تھا اس کے ساتھ ہی پھرتی سے ٹانگ گھماتے شارف نے ایک کک سے راشد کو زمین پر گرایا جبکہ دوسرے کو خضر سنبھال چکا تھا ۔
ڈیول یہ دھوکا ہے تم ہمارے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے ۔راشد چلایا تھاوہ کب سے باہر کھڑا ہون بجا رہا تھا اور روح کو فون پر پہلے ہی اپنے آنے کی خبر دے چکا تھا
لیکن وہ ابھی تک تیار نہیں تھی۔اور یارم کو انتظار کرنے کی عادت نہ تھی
وہ تیزی سے بھاگتی ہوئی بلڈنگ سے نیچے آئی اور آکر اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی
روح یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔
میں کب سے تمہارا یہاں کھڑے انتظار کر رہا ہوں اور تم پر آرام سے تیار ہو رہی ہو
میں تیار ہو رہی تھی اب تیار ہونے میں وقت تو لگ ہی جاتا ہے روح نے منہ بنا کر اس کی ڈانٹ سنی ۔
بالکل بھی نہیں روح تمہیں وقت کی قدر نہیں ہے تمہیں وقت کی قدر کرنی چاہیے تمہیں پتا ہے اس تھوڑی دیر میں کتنے کام نپٹا سکتا تھا ۔
اور تم اتنے وقت سے اوپر کیا رہی تھی میں تمہیں وہاں سے فون کرکے بتا چکا تھا کہ میں گھر آ رہا ہوں ۔
اور تم کون سے وہ فیشن ایبل لڑکیوں کی طرح میک اپ کرتی ہو ۔پھر تمہیں اتنا وقت کیوں لگا یارم ایک ایک سیکنڈ کا حساب مانگ رہا تھا ۔
آپ دیکھا نہیں لیکن میں نے میک اپ کیا ہے روح منہ بنا کر بولی ۔
ہاں بالکل مجھے نظر آ رہا ہے تمہاری آنکھوں میں کاجل ہے اور لبوں پر لائٹ پنک کلر کی لپسٹک ہے ۔لیکن محترمہ اسے میک اپ کوئی نہیں کہتا ۔
کیا مطلب کیوں نہیں کہتا میں نے اتنی محنت سے لگایا ہے اب میں ماریہ آپی کی طرح پروفیشنل تو نہیں ہوں نا ۔
آپ کو پتا ہے میری آپی اتنا اچھا میک اپ کرتی ہیں انہوں نے پورا کورس کیا ہے ۔ پورا بندہ بدل دیتی ہیں روح نے خوشی سے چہکتے ہوئے بتایا ۔آج سے زیادہ اسے کبھی ماریا کے اس کورس کی خوشی نہ ہوئی تھی
او پلیز یار میں تمہارا ماریانامہ نہیں سننا چاہتا ہوں تم نے مجھے اتنا انتظار کروایا اس کی تمہیں سزا ملے گی ۔
یارم سیریس انداز میں بولا
سزا آپ مجھے سزا دیں گے روح کو صدمہ ہوا ۔
اور نہیں تو سزا تو تمہیں ضرور ملے گی تاکہ آئندہ تم یہ غلطی بالکل نہ کرو ۔
یارم نے جھک کر اس کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھے ۔ روح کا چہرہ پل میں سرخی چھلکنے لگا ۔
ہم گاڑی میں ہیں روح نے یاددلانا ضروری سمجھا
ہاں اسی لیے اتنی کم سزا دی ہے ۔اگر گھر میں ہوتے تو سوچو تمہارا کیا حال ہوتا ۔
آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں ۔ انہوں نے منہ بنا کر کہا جب کہ نظریں ملانا اور مشکل ہو چکا تھا
ہاں میں بالکل بھی اچھا نہیں ہوں اور گھر واپس آنے کے بعد مجھ سے اچھا ہونے کی امید بھی مت کرنا ۔اس نے تہِ دل سے اس کا لگایا الزام قبول کیا
وہ اسے پہلے شاپنگ مال لے کے آیا اور اس کے لیے اس کی جسمانیت کے حساب سے کپڑے لینے لگا
ارے میرے پاس اتنے سارے کپڑے ہیں اور کپڑوں کی ضرورت نہیں ہے آپ کیوں بیکار میں اپنے پیسے برباد کر رہے ہیں ۔روح کو بےکار میں اتنا کچھ خریدنا بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔
بےبی تم پہ خرچ کرنے سے میرے پیسے برباد نہیں ہوتے تمہارے لئے تو کماتا ہوں ۔
میرا سب کچھ تمہارا ہے ۔اس کے گال پر چٹکی کاٹتے ہوئے کہا ۔
پھر شاپنگ میں مصروف ہو گیا اس نے سب کچھ اپنی پسند کالیا
اس بیگ کا میں کیا کروں گی ۔میں نہیں اٹھاتی یہ پرس وغیرہ ۔
مت اٹھاؤ لیکن پاس ہونا چاہیے ۔ اسے عورتوں کی شاپنگ کا زیادہ تجربہ نہ تھا اس کے ہاتھ میں جوآ رہا تھا وہ خریدے جا رہا تھا ۔
میں اسے کہیں رکھ کر بھول جاؤں گی روح نے اپنا مذاق اڑایا ۔
ہاہاہا یہ بھی اچھی بات ہے تم ایسا کرو تم مجھے اپنے گارڈ رکھلو تم جہاں جاؤ گی میں اسے اٹھا کر پیچھے پیچھے آوں گا ۔
یارم آپ کو کیا ہوگیا ہے آپ پہلے تو ایسے نہیں تھ یار م کی اس طرح کی باتیں روح کو کنفیوز کر رہی تھی
دیوانہ ہو گیا ہوں تمہارا۔ تمہارا سایہ بن کے رہنا چاہتا ہوں ۔۔ اف یہ شخص اظہار کے معاملے میں کتنا امیر تھا بات بات پر اپنے دل کی بات اس سے کہتا تھا ۔
روح اگر تم نے ناخن کھانے نہ چھوڑے تو میں تمہارا کھانا پینا بند کردوں گا یارم اس سے جب بھی کوئی ذومعنی بات کرتا ہے وہ اپنے ناخن کھانا شروع کر دیتی جبکہ یارم کو اس کی عادت سے چڑ ہونے لگی تھی
میں نہیں کھاتی یہ تو خود ہی منہ میں آجاتے ہیں وہ معصومیت سے بولی
ہاں بالکل تمہارے ناخنوں کی تو ٹانگیں ہیں جو اپنے آپ چل کے تمہارے منہ تک آجاتی ہیں ۔
آج کے بعد تمہارے ہاتھ تمہارے منہ میں دیکھنا تمہارے ہاتھ کاٹ دوں گا ۔ دھمکی دیتا اس کا ہاتھ پکڑ کر آگے چل دیا ۔
آپ میرے ہاتھ کاٹ دینگے ۔روح آنکھیں ٹپٹپاتی پوچھنے لگی
یارم نےگھور کر دیکھا
مطلب اگر آپ میرے ہاتھ کاٹ دینگے تومیں کھاؤں گی کیسے کام کیسے کروں گی کھانا کیسے بناؤں گی ۔
میں ہوں نہ اپنی بےبی کے سارے کام اپنے ہاتھ سے کروں گا ۔
اگر آپ کو مزید اعتراض نہ ہو تو ہم لنچ کر لیں ۔
یارم پھر سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چلنے لگا
ہاں چلیں ویسے بھی آپ کی جارحانہ باتیں سن سن کر میرے پیٹ کے چوہے بھی خودکشی کر لیں گے ۔
اور اگر میں سچ میں ایسا جارحانہ نکلا تو یارم نے ایک دم سیریس ہوا
تو میں بھاگ جاؤں گی روح ہنس کر بولی
بھاگ کر دکھانا جان نہ نکال دی تو کہنا ہاتھ کی گرفت سخت ہوچکی تھی ۔
لیکن کچھ نہیں بولی بس اس کے ساتھ چلتی رہی شاید یارم کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ وہاں سے دور جانے کی بات کرے
دونوں نے ہوٹل میں لنچ کیا یارم نے اس کی پسند ڈش مگوائی۔
وہ آرام سے کھانا کھا رہا تھا اس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھااسے مکمل نظرانداز کر چکا تھا
یار م آپ سے ناراض ہیں۔ روح جو کب سے نوٹ کررہی تھی کہ وہ اس سے بات نہیں کر رہا پوچھنے لگی ۔
ہاں ۔وہ مختصر سا جواب دے کر کھانا کھانے میں مصروف ہوگیا ۔
سوری یارم میں آئندہ تھا ایسی بات نہیں کروں گی آپ پلیز مجھ سے ناراض ہوں ۔ روح نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
ٹھیک ہے مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاو۔
یار م نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالتے ہوئے کہا ۔
روح نے ایک نظر پورے ہوٹل میں ڈالیں جو لوگوں سے بھرا ہوا تھا یارم یہاں سب کے سامنے وہ آنکھیں نکال کر اسے دیکھنے لگی ۔
کیوں ۔بیوی ہو میری ۔سب کے سامنے کھلانے میں کیا پروبلم ہے ۔۔
آپ گھر چلیں میں آپ کو اپنے ہاتھوں سے کھلاؤں گی روح نے ہار مانگتے ہوئے کہا۔
یہاں کیوں نہیں ۔اگر مجھے راضی کرنا چاہتی ہو تو یہی سب کے سامنے مجھے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاؤ ۔
یارم پلیز ایسےمت کریں روح نے منت کرتے ہوئے کہا ۔
ٹھیک ہے تم مجھے ناراض ہی رہنے دو ۔یا یارم نے ناراضگی سے چہرا پھیرا ۔جبکہ ڈمپل صاف شرارت کی گواہی دے رہا تھا ۔
لیکن روح کو ہوش ہی کہاں تھا ڈمپل کا وہ تو بس اس کی ناراضگی کا سوچ کر پریشان ہو رہی تھی
تھوڑی دیر کے بعد آخر اس نے ہار مان لی اور اپنے ہاتھ سے نوالہ بنا کر اس کی طرف کیا ۔جو یارم نے مسکراتے ہوئے کھایا ۔
لیکن اس کی شکل دیکھ کر اسے مزید شرارت سوجنے لگی۔
بے بی کیا کر رہی ہو یار لوگ دیکھ رہے ہیں وہ شرارت سے بولا ۔
روح نے گھور کر اس کی طرف دیکھا وہ اسی کی بات مان رہی تھی اور ابھی مزید نخرے دکھا رہا تھا ۔
آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں ۔ روح نے منہ بنا کر کہا تو یارم کاقہقہ بلند ہوا روح کے سامنے پہلی بار یارم اتنا کھل کر ہنسا تھا ۔
مگر تم بہت اچھی ہو ۔اس میں پیار سے اس کا گال چھوا ۔
آپ کے ڈمپلز بھی بالکل پیارے نہیں ہیں اور آپ مسکراتے ہوئے بالکل اچھے نہیں لگتے ۔روح نے مزید منہ بنا کر کہا ۔
اوئے میرے بارے میں جو بولنا ہے بول لو لیکن میرے ڈمپلز کے بارے میں کچھ مت بولنا ۔
میری بیوی مرتی ہے ان پر۔ یارم نے آنکھ دباتے ہوئے کہا ۔
آپ کی بیوی بھی بری ہے آپ بھی برے ہیں آپ کے ڈمپلز بھی بُرے ہیں اور آپ ہستے ہوئے اچھے نہیں لگتے ۔
روح کو ضرورت سے زیادہ ہی غصہ آ گیا تھا
لیکن اس طرح سے غصہ نکالتی ہو یارم کو بہت کیوٹ لگ رہی تھی ۔
وہ اس کی معصوم باتیں سن کر ہنس رہا تھا جبکہ دور کوئی تھا ۔ جو انکی اس ہنستی کھیلتی زندگی کو دیکھ کر خوش نہیں تھا ۔
آنے والا وقت ان کے لئے بہت کچھ چلا رہا تھا ۔
جس کے لیے یار م تیارتھا لیکن روح نہیں۔
شارف ابھی ابھی آفس میں آیا تھا دیکھا تو لیلیٰ بیٹھ کے رو رہی تھی اسے ہنسی بھی آ رہی تھی اور وہ لیلیٰ کیلئے پریشان بھی تھا ۔
لیکن لیلی کی حالت دیکھ کر اسے پتہ نہیں کیوں مزا آ رہا تھا ۔
ٹھیک ہے لیلٰی ڈیول سے پیار کرتی تھی بلکہ کرتی ہے لیکن ڈیول نے تو اسے کبھی نہیں کہا تھا کہ وہ اس کے لئے ایسے جذبات رکھے یہ اس کی خودساختہ محبت تھی ۔
لؐیلیٰ کیوں رورو کر ہلکان ہوئی جارہی ہو بس کردو ۔اپنے آگے پیچھے دیکھو یہاں بہت لوگ ہیں محبت کے قابل تم تو ایک ہی انسان سے دل لگا کر رونے بیٹھ گئی ہو
مجھے دیکھو میں تو ہر اس انسان سے محبت کرتا ہوں جو مجھ سے محبت کرتا ہے ۔
اور جو مجھے ایک بار ٹھکرادے میں نے دوبارہ اس کی طرف کبھی مڑ کر دیکھتا بھی نہیں ۔
شارف نے اپنی مثال دی اکثر لڑکیاں اسے اپنے پاس بلاتی تھی اور وہ خوشی خوشی سب کے پاس جاتا تھا اور جو لڑکی اس کی طرف سے منہ پھیر لیتی وہ اس کی طرف دیکھتا تک نہیں تھا ۔ 25 سال کا یہ لڑکا نہ صرف بہت خوبصورت تھا بلکہ بہت شوخ طبیعت رکھتا تھا
لیکن یہ بات لیلیٰ کیلئے کوئی اہمیت نہ رکھتی تھی کیونکہ وہ شارف کی طرح وقتی محبت نہیں کرتی تھی وہ ڈیول کو دل و جان سے چاہتی تھی لیکن ڈیول نے اس کی جگہ کسی اور کو دے دی ۔
اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ روح کو جا کر سب کچھ بتا دے لیکن جس طرح سے ڈیول نے اس کی موت کا نقشہ کھینچا تھا وہ یہ سوچ کر بھی کانپ جاتی ۔
اچھا یار رونا دھونا بند کرو میں بہت دنوں سے بور ہو رہا ہوں مجھے کوئی چیلنج دو وہ ا سے باتوں میں لگانے لگا ۔شارف اکثر جب بور ہوتا تو لیلیٰ اور خضر اسے ایسے چیلنج دیتے تھے جن ہر حال میں کرتے ہوئے وہ اپنی بوریت دور کرتا تھا ۔
تمہیں چیلنج پورا کرنا ہے نا میں تمہیں چیلنج دیتی ہوں تمہیں ڈیول کے فلیٹ میں جانا ہوگا اور وہ بھی ڈیول کو بتائے بغیر ۔وہ بھی اکیلے اور اس کے گھر جا کے اس کی بیوی کو بتاؤ گے کہ لیلی یعنی کہ میں اس کی بیوی سے کہیں درجے زیادہ خوبصورت اور اچھی ہوں
دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا ڈیول میری جان نکال دے گا ۔شارف اچھا خاصہ بوکھلا گیا
کیوں تمہیں چیلنج چاہیے تھا میں نے تمہیں چیلنج دے دیا اب تم ڈیول کو بتائے بغیر اس کے گھر میں جاؤ گے اور اس کے بعد جب میں اسے بتاؤں گی کہ تم اس کے گھر میں ہو تو وہ تمہاری بوریت بہت اچھے طریقے سے دور کرے گا ۔
لیلٰی جو کب سے اس کی باتیں سن رہی تھی اپنی ٹینشن بلا کر اسے چیلنج دینے لگی
شارف کا ہمیشہ سے ایک ریکارڈ تھا وہ جو بھی چیلنج لیتا اسے پورا کرتا چاہے کسی بھی قیمت پر اور اب تو لیلی کو اس نے خود کہہ کر یہ چیلنج لیا تھا اسے تو اب اس چیلنج کو کسی بھی حال میں پورا کرنا تھا
❤
وہ اپنا سارا کام نمٹا کر اپنے روم میں ریسٹ کرنے آئی تھی ۔یارم نے اس کے لیے نوکر کا انتظام کرنے کے لیے کہا لیکن اس نے صاف انکار کردیا اس کے آنے سے پہلے بھی یارم سارے کام خود کرتا تھا ۔
ایسے نے تو ویسے بھی کام کرنے کی عادت تھی اگر یہ سارے کام کرنے کے لئے بھی کوئی نوکر آتا تو اس کے لیے کرنے کو کچھ بھی نہیں بچتا ۔
اور گھرمیں کام ہی کتنا تھا ۔سارا کام نپٹاکر ویسے بھی وہ کتنی ہی دیر فارغ بیٹھی رہتی ۔
ابھی وہ سارا کام ختم کرکے اپنے کمرے میں آئی تھی ۔
جب دروازہ بجا ۔
ٹائم دیکھا تو دوپہر کا ایک بج رہا تھا ۔
یارم کا تو ابھی فون آیا تھا وہ اپنے آفس میں کام کر رہے ہیں تو پھر کون ہوسکتا ہے دروازے پر ۔
یارم نے اس طرح سے کسی کے لئے بھی دروازہ کھولنے سے منع کر رکھا تھا
روح دروازے کے قریب آ کر پوچھنے لگی کون ہے تو باہر سے شارف بولا ۔
ارے شارف بھائی روح خوش دلی سے اسے خوش آمدید کرنے لگی ۔
ہاں میں تمہیں ایک بات بتانے آیا ہوں لڑکی ۔وہ کہتا ہوں اندر آ کر بیٹھا ۔
جی کہیں کیا کہنے آئے ہیں ۔ خضر توا سے بالکل اپنی کسی چھوٹی بہن کی طرح ٹریٹ کرتا تھا لیکن یہ شار ف کافی نکچھڑا تھا وہ اس سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا تھا اور آج اس سے ملنے چلاآیا ۔
ہاں میں تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ لیلی تم سے اچھی اور تم سے زیادہ خوبصورت ہے ۔اس نے جلدی جلدی چیلنج ختم کر کے یہاں سے نکلنا تھا ۔
یہ تو مجھے بھی پتا ہے کہ وہ مجھ سے زیادہ خوبصورت ہیں اچھے کا تو نہیں کہہ سکتی میں انکے پاس زیادہ دیر تو نہیں رہی لیکن آپ کہہ رہے ہیں تو مان لیتی ہوں ۔
روح نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
دیکھو لڑکی یہ ساری میٹھی میٹھی باتیں نہ تم صرف بھائی کے سامنے کیا کرو میرے سامنے نہیں ۔ ۔ آج پھر اسے اچانک ہی یاد آگیا کہ ڈیول اس کے بھائی جیسا ہے ۔یا پھر شاید اسے بتانا چاہتا تھا کہ ڈیول کی زندگی میں اس کی بہت اہمیت ہے ۔
آپ بیٹھے میں آپ کے لئے چائے بنا کر لاتی ہوں کھانا کھایا آپ نے روح پوچھنے لگی ۔
نہیں ابھی نہیں کھا پایا ابھی جا کے کھاؤنگا ہاں چائے لے آؤ تم ۔اسے کہاں ڈیول ان کے گھر میں کبھی کھانے پینے کو کچھ نصیب ہوا تھا جو امید رکھتا ہاں لیکن جب سے یہ لڑکی آئی تھی اس کے ہاتھ کا مزے مزے کا کھانا دوسرے تیسرے دن نصیب ہو جاتا ۔
لیکن پھر نخرا دیکھانا بھی ضروری تھا آخر لیلیٰ کا دوست تھا اور اسے لیلیٰ کا ہی دیور بننا تھا اور اس کا دل بھی تو کہتا تھا کہ لیلیٰ اس سے اچھی اور اس سے زیادہ خوبصورت ہے یہ بات الگ تھی کہ وہ یہ بات بتانے کے لئے کبھی یہاں نہ آتا
روح مسکراتے ہوئے اس کے لیے کھانا لے کر آئی ۔آپ آرام سے کھانا کھائیں پھر میں آپ کو چائے بنا کے دوں گی خالی پیٹ چائے نہیں پیتے ۔
شارف کو اس وقت بہت بھوک لگی تھی اس لئے سارے نخرے ایک طرف رکھ کر کھانا کھانے لگا اب یارم کو پتہ لگنے سے پہلے اسے کچھ نہ کچھ کھانے کو تو نصیب ہو ہی چکا تھا ۔
ورنہ کیا پتا یارم سزا کے طور پر اسے قید خانے میں ہی ڈال دیتا ۔شارف میں بچپنا تھا اور چھوٹا ہونے کی وجہ سے اکثر غلطیاں کر جاتا تھا جس کی سزا کے طور پر ڈیول اسے قید خانے میں ڈالتا اور وہاں اسے پتلی دال اور روٹی کے ساتھ کھانا کھانے کو ملتا ۔
اور سامنے رکھی کچن کڑائی اس پتلی دال روٹی سے تو اچھی ہی تھی بلکہ بہت مزے کی بھی تھی ۔
تم میری شکل دیکھنا بند کر جاؤ میرے لئے چائے بناؤ اس نے آرڈر دیا تھا جیسے سامنے روح نہیں بلکہ کوئی ویٹرس کھڑی ہو ۔ چلو یار م کے آج تک دی گئی سزا کا بدلاوہ روح سے لے رہا تھا ۔
یہ بات الگ تھی کہ اگر یارم کو اس بارے میں پتہ چل جاتا تو وہ اس سے الٹا لٹکانے میں ایک سیکنڈ نہ لگاتا ۔
اچھی لیلیٰ ہے خوبصورت لیلیٰ ہے اور چائے لے کر میں آوں روح جو کب سے اس کے نخرے برداشت کر رہی تھی اس کے سامنے آکر بیٹھ گئی ۔
وہ تو چائے کی امید لیے بیٹھا تھا اچانک اسے گھورنے لگا
تم بھی اچھی ہو تو چاہے تو دےہی سکتی ہو شارف نے معصومیت سے کہا
وہ چائے کا عاشق تھا اور چائے کے لیے تو وہ کچھ بھی کر سکتا تھا
میں بھی اچھی ہوں یا میں ہی اچھی ہوں ۔ وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اس سے پوچھ رہی تھی ۔
چائے کے ساتھ پکوڑے بھی ملیں گے اس نے جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا
ہاں ضرور ملیں گے
تم لیلیٰ سے زیادہ خوبصورت اور اسے زیادہ اچھی بھی ہو شارف کسی ربورٹ کی طرح بولا تھا روح کی تو ہنسی نکل گئی
اور اگر تم مجھے چیلنج کرو گی تو یہ بات لیلیٰ کے منہ پر جا کر کہوں گا ۔
میں آپ کو ایسا چیلنج کیوں دوں گی روح نے کنفیوز ہو کر پوچھا
کیونکہ سب مجھے چیلنج دیتے ہیں جیہں میں پورا کرتا ہوں ہمیں زندگی میں نہ ہر قسم کے چیلنج کے لئے تیار رہنا چاہیے کوئی بھی ہمیں کوئی بھی ٹاسک دے سکتا ہے ۔ ڈیول کہتا ہے ہمیں ہر قسم کی سچویشن کو فیس کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔
یہ زندگی ہے اس میں کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔اسی لئے جو بھی مجھے چیلنج کرتا ہے نہ اس کا چیلنج ہر قیمت پر پورا کرتا ہوں ۔
تو یہ بات ہے پھر تو میں بھی آپ کو ایک چیلنج دونگی
ٹھیک ہے اس کے لئے میں تیار ہوں ۔لیکن اس سے پہلے تمہیں مجھے ایک بات بتا نی ہوگی
میں اچھا ہو یا خضر شارف کو آج پہلی بار یہ لڑکی اتنی بری نہ لگی تھی ۔شاید آج سے پہلے وہ اسے لیلیٰ کی نظروں سے دیکھتا تھا
آپ سے تو کبھی تفصیلی بات ہی نہیں ہوئی ہاں خضر بھائی بہت اچھے ہیں ۔اس نے دل سے تعریف کی
مطلب خضر مجھ سے زیادہ اچھا ہے شارف نے منہ بنا کر کہا
پانی پوری کھاتی ہو تم شارف اپنی فیورٹ لسٹ میں شامل ہوئے لوگوں کو اکثر اپنے پیسوں سے پانی پوری کھلاتا تھا ۔
کیا پانی پوری یہاں دبئی میں روح تو خوشی سے بے ہوش ہونے والی تھی ۔جبکہ پانی پوری کا نام سن کر منہ میں پانی آ گیا تھا
ہاں میں تمہیں لاکر دے سکتا ہوں لیکن اس کے لیے تمہیں میرا ایک کام کرنا ہوگا ۔
میں سب کچھ کروں گی جو آپ کہیں گے روح نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہا ۔
لڑکی پہلے بات تو سن لو ۔شارف نے اسے ہواؤں میں اڑنے سے پہلے ہی کھینچ کر زمین پر لا پٹکا
تمہیں اپنے پیارے لاڈلے بھائی خضر کے لیے بلڈنگ کے چھت پر چڑھ کر چلا چلا کر پانچ بار کہنا ہوگا کہ شارف خضر سے بہتر ہے خضر ایک نمبر کا لوفر ہے شارف کا کبھی مقابلہ نہیں کر سکتا شارف نے چھپا چھپا کر کہا ۔اس کے بدلے میں تم ایک نہیں بلکہ 5.5 پلیٹ پانی پوری کی لاکر کھلاؤں گا ۔
اور اگر آرام سے کہوں تو ایک پلیٹ ملے گی کیا ۔۔۔؟ روح نے معصومیت سے پوچھا
ہاں پیاری بہنا کیوں نہیں لیکن اس کے لیے تمہیں خضر کے کان میں کہنا ہوگا ۔ ۔
لیکن اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتی دروازہ بجااور دوبارہ اتنے جارحانہ انداز سے بجا کہ دونوں اپنی جگہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے
اوشٹ ڈیول آ گیا ۔ شارف نے ڈرتے ہوئے کہا
آپ کو کیسے یقین ہے کہ وہ ہوں گے روح نے پوچھا
مجھے پتہ ہے وہی ہوگا دیکھو تم مجھے بچا لینا ۔ تم میری پیاری بہن ہونا پلیز مجھے اپنے شوہر کے ہاتھوں سے بچا لینا ۔
انہوں نے ضرور آپ کو کسی اور کام کے لیے بھیجا ہوگا اور آپ یہاں آگئے یہی بات ہے نا ۔ ۔۔؟ روح نے پوچھا ۔
اور دروازے کی طرف جانے لگی ۔
کون ہے ۔۔؟
میں ہوں روح دروازہ کھولو باہر سے یارم بولا ۔
اس سے پلٹ کر دیکھا
میں اچھی یالیلیٰ ۔۔۔۔؟ انداز میں شرارت صاف جھلک رہی تھی
ارے تم اچھی ہو میری ماں خدا کے لیے مجھے بچا لینا ۔
شارف نے منت کی اور روح نے ہنستے ہوئے دروازہ کھول دیا
لیکن دروازہ کھولتے ہی یارم روح کو اگنور کرتا ہوا شارف کی طرف بھرا اور اسے گردن سے پکڑ لیا ۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی میں نے منع کیا تھا نہ تم لوگوں کو کہ یہاں کوئی نہیں آئے گا وہ غصے سے پھنکارا تھا ۔
یارم یہ کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑیں انہیں روح تو پہلے اس کے جارحانہ انداز پہ گھبرائی اور پھر آگے بھرکر شارف کو چھڑوانے لگی
شارف تم نے میرا بھروسہ توڑا ہے کیوں آئے تھے تم یہاں یہ لیلی مجھے بتا چکی ہے ۔
تمہارا تو میں وہ حشر کروں گا جسے تم ساری زندگی یاد رکھو گے ۔وہ غصے سے اس کی طرف بھرا جب روح نے اسے اپنی طرف کھینچا ۔
وہ مجھ سے ملنے آئے تھے ۔ کیا میرا بھائی مجھے اس گھر میں ملنے نہیں آسکتا ۔ بولتے ہوئے روح کی آواز کافی اونچی ہوگئی ۔خبردار جو آپ نے میرے بھائی کو کچھ بھی کہا وہ ان دونوں کے بیچ میں ڈال بن کے کھڑی تھی ۔
بھائی میں آپ کا بھروسہ کبھی نہیں توڑ سکتا آپ کے علاوہ میرا ہے ہی کون اس دنیا میں شارف کو پھر سے اموشنل دورہ پڑا تھا ۔ میں تو بھابھی کے ہاتھ کا کھانا کھانے آیا تھا وہ اب بہن سے بھابھی ہو گئی تھی ۔
اور ابھی مجھے چائے بنا کے دینے والی تھی کہ آپ آگئے وہ معصومیت سے بولا ۔
بہت بھوک لگی تھی تمہیں ۔کھانا تو تمہیں میں کھلاؤں گا ۔وہ ایک نظر روح کو دیکھ کر اسے گھورتے ہوئے بولا ۔
گھورنا بند کریں میرے بھائی پلس دیور کو ۔او خبردار جو انہیں ڈانٹا بھائی آپ یہاں بیٹھے میں آپ کے لئے چائے لاتی ہوں ۔
یہ یارم کی محبت ہی تھی جو اسے اتنا بولنے کی اجازت دے رہی تھی ۔ یارم کی محبت نے سے چند دن میں ہی بہت کونفیڈنس دیا تھا
شارف نے اجازت طلب نظروں سے یارم کی طرف دیکھا وہ سر جھٹک کا ٹائی ڈلی کرتا وہیں صوفے پر بیٹھ گیا ۔
بھائی میں آپ کا بھروسہ کبھی نہیں توڑ سکتا مجھے نہیں پتہ لیلیٰ نے آپ سے کیا کہا لیکن اس نے مجھے یہاں آنے کا چیلنج کیا تھا کہ میں روح بھابھی کو یہاں آ کر یہ کہوں کہ لیلیٰ ان سے زیادہ خوبصورت ہے ۔
پھر روح بھابھی میرے لیے کھانا لے کے آئی ۔ لیکن میرا یقین کریں میں آپ کا بھروسہ کبھی نہیں توڑوں گا میں روح بھابھی کو کبھی نہیں بتاؤں گا ۔
اور اگر آپ چاہتے ہیں تو میں چائے بھی پیئے بغیر یہاں سے چلا بھی جاؤں گا وہ معصومیت کے ریکارڈ توڑتے ہوئے بولا
کھانا ٹھوس چکے ہو تو چائے بھی پی کے ہی جانا آخرکار سالے ہو میرے ۔ یارم کو آج شارف کی معصومیت نے نہیں بلکہ روح کے دابنگ بول کر اپنے بھائی کے سپورٹ نے شاک کیا تھا ۔
شارف کو یہاں سے بیچنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلایا اس کا اب آفس جانے کا کوئی ارادہ نہ تھا ۔
لیلیٰ نے اسے یہ بتایا تھا کہ شارف روح کو سب کچھ بتانے کے لئے گیا ہے ۔اسے شارف پر بہت بھروسہ تھا لیکن پھر بھی روح کے معاملے میں وہ کسی پر یقین نہیں کر پاتا تھا ۔
جب سے روح اس کی زندگی میں شامل ہوئی تھی ایک عجیب سی ڈرا سے گھیرے ہوئے تھا کہیں وہ اس سے دور نہ ہو جائے کہیں وہ اس سے نفرت نہ کرنے لگے کہیں وہ اسے چھوڑ کر نہ چلی جائے ۔
مجھے خود ہی روح کو جلد سے جلد سب کچھ بتانا ہوگا ۔
لیکن کیا اس کے بعد وہ مجھے قبول کرے گی ۔
وہ ایک ہاتھ کھڑکی کی ٹکائیں کھڑکی سے باہر دیکھنے میں مصروف تھا ۔
جب کسی نے پیچھے سے اس سے اپنی باہوں میں لیا روح کا ہاتھ اُسکے سینے پر تھا اور وہ کا سر اس کی بیک پر ۔
آپ مجھ سے ناراض ہیں کیا ۔ وہ دھیمی آواز میں ممنائی تھی ۔
میں کیوں تم سے ناراض ہوں گا یارم نے اس کا ہاتھ تھام کر چوما۔
وہ شارف بھائی کی وجہ سے آپ سے اس طرح سے بات کی وہ معصومیت سے بولی ۔
یارم نے پلٹ کر اس کا سر اپنے سینے پر رکھا ۔
تم ایسے ہی مجھ سے بنا ڈرے بنا گھبرائے بات کیا کرو مجھے اچھا لگے گا ۔
میں نے شارف کو اور کام کے لیے بھیجا تھا لیکن وہ یہاں آیا ۔
اور میرا کام وہی کا وہی پرڑا رہا یارم نے بات بنائی ۔
کردیں گے نہ کام ۔آپ کو پتا ہے شارف بھائی مجھے پانی پوری کھلائیں گے ۔ روح نے خوش ہوتے ہوئے بتایا
کیا بات ہے مطلب کے تم شارف کی فیورٹ لسٹ میں شامل ہو چکی ہو ۔ خیر اچھی بات ہے ۔
آج سارا دن کیا کیا کیا ۔۔۔؟ اس وقت وہ صرف اپنے اور روح کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا ۔
اس لیے اس سے روز کی روٹین پوچھنے لگا ۔
پھر روح بھی سے اپنے سارے دن کی داستان سنانے لگی ۔
روح آجکل بہت لوگ میرے خلاف ہو گئے ہیں ۔الٹی سیدھی باتیں میرے خلاف پھیلا رہے ہیں ۔مجھے پھسآنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
تمہیں یاد ہے وہ انسپیکٹر جو تمہیں لے کر آیا تھا اس دن میرے آفس میں یار م نے اسے یاد دلوایا ۔
ہاں مجھے یاد ہے ۔۔۔ روح نے کہا
روح وہ آدمی میرے پیچھے پڑا ہے مجھے پھسانا چاہتا ہے میرے خلاف جھوٹے ثبوت بنا رہا ہے وہ تمہیں بھی میرے خلاف کر سکتا ہے ۔
مجھے یقین ہے کہ تم اس کی کسی بات کا بھروسہ نہیں کروگی ۔ لیکن پھر بھی لگا کہ مجھے تمہیں سب کچھ بتا دینا چاہیے ۔ یارم پچھلے کچھ دنوں سے نوٹ کر رہا تھا کہ صارم اس کے بہت آس پاس رہنے لگا تھا ۔
دو دن پہلے جب ریسٹورینٹ میں وہ دونوں لنچ کر رہے تھے تو وہ کچھ فاصلے پر اپنی کیپ سے چہرہ چھپائے ہوئے اس پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔
اسے یقین تھا کہ یارم کی غیر موجودگی میں وہ ضرور روح کو سب کچھ بتا دے گا ۔
اس لیے اس نے خود ہی روح کو ٹرپ کرنے کے بارے میں سوچا ۔
مجھے آپ پر پورا یقین ہے کوئی بھی مجھے آپ کے بارے میں کچھ کہے گا تم نے یقین کرلوں گی کیا ۔ آپ بالکل بے فکر ہو جائیں ۔وہ ا سے پریشان نہ ہونے کا کہ کر خود پریشان ہو چکی تھی ۔
ویسے اگلے ہفتے ہم ہنی مون پہ جا رہے ہیں ۔یارم نے اسے آنکھ مارتے ہوئے مسکرا کر کہا
جبکہ روح اس کی اس بے باکی پر سرخ ہو چکی تھی
یارم آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں وہ منہ بنا کر بولی
یارم نے اس کا دھیان بٹانا چاہا تھا۔جس نے وہ کامیاب ہوچکا تھا ۔
یارم مجھے شارف بھائی سے بات کرنی ہے آپ مجھے ان کا نمبر ملا کر دیں اس نے اپنا فون یارم کے حوالے کرتے ہوئے کہا ۔
کیا بات کرنی ہے میرے فون سے کرلو وہ اسے بتانا نہیں چاہتا تھا کہ اس کے فون میں اس کے علاوہ سب نمبر بلاک ہیں
مجھے انہیں چیلنج دینا ہے روح نے سوچتے ہوئے کہا ۔
روح یہ کوئی وقت ہے چیلنج دینے کا تم صبح اس سے بات کرنا ۔
یار م نے فون واپس رکھتے ہوئے کہا
نہیں نا آپ مجھے ابھی فون ملا کردیں ابھی میں ان سے بات کرو ںگی ۔
اس نے ضدی انداز میں کہا تو یارم شارف کو فون کرنے لگا ۔
وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ آخر وہ اس کی ہر بات کو کیوں مانتا ہے ۔
اس نے فون ملاکر فون اس کے حوالے کردیا ۔
ہاں ڈیول بولو شارف نے کہا
ارے میں ہوں روح میں نے آپ کے لئے چیلنج سوچ لیا ہے روح نے کہاتویارم بھی دلچسپی سے دیکھنے لگا ۔
بولو پیاری بہنا کونسا چیلنج ہے ۔۔۔؟شارف بھی ایکسائٹڈ ہو کر پوچھنے لگا ۔
آپ کو پتا ہے ہمارے گھر کے راستے میں ایک ہوٹل آتا ہے ۔
پیاری بہنا تمہارے گھر کے راستے میں ایک نہیں بلکہ بہت سے ہوٹل آتے ہیں کون سے ہوٹل کی بات کر رہی ہو تم ۔
ایک منٹ میں پوچھ کر بتاتی ہوں ۔
یار م ہم اس رات کہاں گئے تھے کھانا کھانے کے لئے وہ اسے انتظار کرنے کا بول کر یارم سے پوچھنے لگی ۔
الخنتہ الفندق۔یارم نے مختصر ہوٹل کا نام بتایا
الخنتہ الفندق۔آپ کو ابھی اسی وقت وہاں جانا ہوگا
لیکن اس سے پہلے نہ آپ کو آپ کے روم میں جتنے بھی بندے ہیں نہ مطلب خضر بھائی اور باقی سب ان سب کے کمبل چوری کرنے ہوں گے
چوری لڑکی تم مجھ سے چوری کروا رہی ہو وہ بھی خزانے نہیں بلکہ کمبل وہ اچھا خاصہ بدمزا ہوا
مگراس طرف یا رم کے ڈمپلز نمایاں ہونے لگے تھے وہ جانتا تھا وہ کیا کرنے والی ہے
چیلنج قبول کر رہے ہیں یا نہیں ۔۔۔؟ وہ اسے چیلنج کی ٹوپی پہنا کر نجانے کیا کرنے والی تھی
ٹھیک ہے پیاری بہن اگر یہ چیلنج ہے تو میں اسے قبول کرتا ہوں ۔
شارف نے یہ کہہ کر فون بند کیا ۔
اس فلیٹ میں بہت سارے لڑکے رہتے تھے جو تقریبا سب ہی ان کے ساتھ کام کرتے تھے
شارف چوری سے باری باری سب کے بستر کے قریب گیا اور بری صفائی سے سب کے اوپر سے کمبل نکالنے لگا ۔
ہیٹرز چلنے کی وجہ سے کسی نے محسوس بھی نہ کیا
آٹھ کمبل اس کے قبضے میں آ چکے تھے اس نے جلدی سے اپنی گاڑی میں ڈالے اور ہوٹل کے راستے چل دیا ۔
پھر وہاں پہنچ کر یارم کے فون پر روح کو فون کیا ۔
وہ تو کب سے انتظار میں بیٹھی تھی فورا فون اٹھایا ۔
اب کیا کروں پیاری بہنا ہوٹل کے اندر چلا جاؤں میں ۔
نہیں ہوٹل کے سامنے پارآپ کو جگہ نظر آ رہی ہے ۔
جو خا لی ہے وہاں اندھیرا ہے اس پر ایک بورڈ لگا ہے شاید بلب وغیرہ کا اشتہار ہے ۔
روح نے پورا نقشہ کھینچتے ہوئے بتایا
ہاں بالکل ہے لائٹس کا ایڈ ہے شارف نے جگہ پہچان لی تھی
اوپر بورڈ پر نہیں وہاں نیچے دیکھیں ۔روح نے کہا ۔
نیچے کیا ہے شارف نے پوچھا دوری اور اندھیرا ہونے کی وجہ سے اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا
مگر وہ فون بند کر چکی تھی شارف نے فون جیب میں ڈالا اور آگے بھر گیا
لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر ۔وہ پریشان ہو گیا اسے یقین نہیں تھا کہ روح اسے ایسا چیلنج دے گی
وہ فورا گاڑی کے پاس آیا اور وہاں سے کمبل نکالنے لگا
جلدی سے وہ کمبل نکالے اور دوڑ کر اس بورڈ کے نیچے آیا ۔
یہاں چھوٹے چھوٹے یتیم بے سہارا بچے زمین پر سردی سے کانپ رہے تھے ۔
اس نے جلدی سے بچوں کے اوپر کمبل ڈالنا شروع کیا ایک بچہ جاگ رہا تھا ۔
هل تعاني من نزلة برد؟۔
کیا تمہیں سردی لگ رہی ہے شارف نے پوچھا ۔۔۔۔؟
البردو نحن جائعون۔
سردی بھی اور وہ بھوک بھی بچے نے روتے ہوئے کہا شاید اسے بھی پہلی دفعہ کوئی ہمدرد ملا تھا ۔
شارف سے مزید بولانا گیا وہ فورا اٹھ کر اس پار ہوٹل میں گیا ۔
اور وہاں سے ان سب بچوں کے لیے کھانا لیا ۔اور پھر جلدی سے واپس آ کر انہیں کھانا کھلانے لگا ۔
اس کی آنکھ سے ایک آنسو چلکا شاید ہمدردی کا ۔
وہ روح کا شکر گزار تھا آج اس کی وجہ سے پہلی بار کوئی نیکی کی تھی ۔
ورنہ اسے تو ہمیشہ سے ایسے چیلنجز ملے تھے جینے پورا کرنے کے بعد اسے یا تو بہت برا محسوس ہوتا یا خود پر غصہ آتا ۔لیکن آج وہ دل سے خوش تھا ۔
اس نے روح کو فون کیا
روح نے فورا فون اٹھا لیا
تھینک یو مجھے ورلڈکی بیسٹ بہن دینے کے لیے ۔ بس اتنا کہہ کے اس نے فون بند کر دیا ۔
وہ ہنستے ہوئے یارم کو دیکھنے لگی ۔
تم مجھے بھی تو کہہ سکتی تھی اس کام کیلئے یارم نے کہا ۔
ہاں لیکن آپ یہ کام میرے لئے کرتے شارف بھائی نے یہ اپنے لئے کیا ہے ۔وہ ہنستے ہوئے بولی تو یارم نے اسے اپنے قریب کرنا چاہا
ابھی میرا آخری ڈرامہ ختم نہیں ہوا ۔
وہ فورا اس کے قریب سے اٹھ کر باہر جانے لگی ۔
ایک یہ لڑکی اور دوسرے اس کے ڈرامے وہ اٹھا اور اس کے پیچھے آکر صوفے پر بیٹھا جبکہ روح پوری طرح ڈرامے میں ڈوبی ہوئی تھی
وہ کبھی ٹی وی سکرین کی طرف دیکھتا تو کبھی اپنی پیاری بیوی کے ایکسپریشن جو صرف ڈرامہ دیکھتی نہیں تھی بلکہ فیل کرتی تھی
یارم آپ کے فون کا پاسورڈ کیا ہے ۔ اس کے سینے پر سر رکھے اس کے فون کو ہاتھوں میں لیے پوچھ رہی تھی یارم آنکھیں موندے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا
گیس کرو یار م نے آنکھیں موندے ہوئے کہا
ڈیول ہوگا ۔روح اسے دیکھتے ہوئے بولی
اور لکھنے لگی
یہ تو غلط ہے روح نے منہ بنا کر کہا ۔
اس انسان کا نام ہے جس سے میں سب سے زیادہ پیار کرتا ہوں یارم نے اس کی مدد کرنی چاہی
روح نے پہلے سوچا بھی شرماتے ہوئے اپنا نام لکھنے لگی
ارے اس کا پاسواڈ تو میرا نام ہے روح نے شرماتے ہوئے کہا
کیا بات کر رہی ہو مجھے تو پتا ہی نہیں تھا یارم نے حیران ہوتے ہوئے کہا تو روح ہنسنے لگی
آپ بہت اچھے ہیں ۔ وہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی ۔
وہ اس سے اتنا پیار کرتا تھا کہ اپنا پاسورڈ بھی اس کے نام پر رکھا تھا
ایسے مت کہو اب تم پھر سے شرماؤ گی مجھے تم پر پھر سے پیار آئے گا اور پھر تمہیں میں بالکل بھی اچھا نہیں لگنے لگاوں گا۔
یار م شرارت سے کہتا ہوا اس پر جھکا ۔
اس سے پہلے کہ وہ اس کی بات کا مطلب سمجھ کر وہ بھاگتی پکڑی گئی
وہ صبح اٹھا تو روح اس کے قریب ہی سو رہی تھی جب سے اس نے روح کو اپنی زندگی میں شامل کیا تھا وہ کام پر بھی دیر سے جاتا تھا یہی وجہ تھی کہ صبح نماز پڑھ کے روح دوبارہ سو جاتی ۔
وہ اسے ایسے ہی سوتا چھوڑ کر فریش ہو کر باہر آیا ۔
مسزیارم کاظمی آپ روز میرے لئے ناشتہ بناتی ہیں آج آپ کا شوہر آپ کو اپنے ہاتھوں سے ناشتہ کروائے گا ۔
وہ کچھ سوچتے ہوئے اس کے لئے ناشتہ بنانے لگا ۔
تب ہی دروازے پر دستک ہوئی اس نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے ہی خضر کھڑا تھا ۔
میں یہاں سے جا رہا تو سوچا ساتھ چلتے ہیں وہ مسکراتے ہوئے بولا
یا رم نے دروازہ کھول کر اسے اندر آنے کا اشارہ کیا
رات کو ایک عجیب واقعہ ہوا ڈیول ہم سب لڑکوں کے کمبل چوری ہو گئے مطلب حد ہے اب ڈان کے گینگ میں چوریاں ہونے لگی ہیں ۔مجھے تو لگتا ہے اپنے ہی کسی لڑکے کی شرارت ہے
خضر نے کہا تو یارم کے گال پر ذرا سا ڈمپل نمایاں ہوا ۔
تم کیا کر رہے ہو وہ اسے کچن میں کچھ کرتا دیکھ کر پوچھنے لگا ۔
تمہاری بھابھی کے لیے ناشتہ بنا رہا ہوں یارم نے کہا
مطلب جوڑو کا غلام خضر حیران اور پریشان ہو کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا
وہ روز میرے لئے ناشتہ بناتی ہے میرے کپڑے دھوتی ہے میرا گھر سنبھالتی ہے ۔ میری ہر ضرورت کا خیال رکھتی ہے اور اگر ایک دن میں اس کے لیے ناشتہ بناؤں گا تو کیا میں جوڑو کا غلام ہو جاؤں گا ۔
یارم نے اس کی طرف دیکھ کر کہا
ارے میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔اس سے پہلے کے خضر کچھ اور کہتا روح کمرے سے باہر نکل کی نظر آئی ۔
اسلام علیکم بھائی کیسے ہیں آپ ۔۔۔؟
وعلیکم سلام میں ٹھیک ہوں
یہاں آئیں بھابھی آج آپ کے خاوند محترم نے اپنے ہاتھوں سے آپ کے لئے ناشتہ بنایا ہے ۔خضر مسکراتے ہوئے بولا
آپ نے کیوں بنایا میں بنا دیتی نہ روح کو شرمندگی ہوئی ۔
تم روز بناتی ہو سوچا آج میں تمہیں اپنے ہاتھوں کا ذائقہ چکاوں ۔
یارم نے اس کے لیے کرسی گھسٹی ۔
خضر بھائی آپ کے گھر میں کون کون ہے ۔ ناجانے روح کے دل میں کیا سمائی کہ پوچھنے لگی ۔
کوئی نہیں ۔خضر کی جگہ جواب یار م نے دیا تھا
آپ مجھے چھوڑیں آپ بتائیں آپ کے گھر میں کون کون ہے خضر نے مسکرا کر پوچھا ۔شاید وہ اپنے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
میرے گھر میں امی اور تین بہنیں ۔اور پڑوس میں فاطمہ بی بی وہ بھی بالکل میری ماں جیسی ہیں جب میں پیدا ہوئی تب میری سگی امی اور ابو فوت ہوگئے تھے مجھے میری دوسری امی نے پالا ہے ۔
دوسری امی مطلب سوتیلی ماں خضر نے پوچھا ۔
جی ۔روح بس ہی بولی
یارم پلیز مجھے آج گھر فون کرنے دیں ۔
وہ اتنی محبت اور منت بھرے انداز میں بولی یار م اسے دیکھ کر رہ گیا اگر وہ اس کے منہ پر انکار کرتا تو آج وہ بہت ہرٹ ہوتی ۔اسی لیے بہانہ بنانے لگا
وہ دراصل میرے پاس اب نمبر نہیں ہے روح ورنہ میں تمہاری بات کروا دیتا تمہارے گھر والوں سے ۔یارم نے بات بنانے کی کوشش کی ۔
ہاں بھابھی وہ ڈیول کا فون خراب ہوگیا تھا اور نمبر سارے ڈیلیٹ ہوگئے تھے ۔ خضر نے بھی ساتھ دینے کی کوشش کی۔
میرے پاس فاطمہ بی بی کا نمبر ہے میری شادی والے دن انھوں نے مجھے میں ابھی لاتی ہوں روح جلدی سے اٹھی اور کمرے میں چلی گئی ۔
ڈیول اب کیا ہوگا ۔خضر نے پریشانی سے پوچھا ۔
میں اسے خود سے دور نہیں جانے دوں گا چاہے جو بھی ہو جائے اگر آج سچ پتہ چل بھی گیا تو بھی میں اسے خود سے دور نہیں جانے دوں گا ۔وہ میری ہے اور میں جانتا ہوں میرا خدا اسے مجھ سے نہیں چیننے گا ۔یارم نے کمرے کے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جہاں ابھی روح گئی تھی ۔
وہ ہاتھ میں کاغذ کا ایک ٹکڑا لیے ہوئے ان کی طرف آئی ۔
یہ نمبر ہے ۔وہ یارم کے آگے سے فون اٹھاکر نمبر ملانے لگی
بیل جارہی ہے ۔۔وہ ایکسائٹڈ ہوتے ہوئے بولی ۔
جبکہ خضر یارم کو دیکھ رہا تھا جو ٹیبل پر ہاتھ کی انگلی سے لائنیں بنانے میں مصروف تھا ۔
یارم جب ٹینشن میں ہوتا تھا تو ایسے کرتا تھا ۔اور پھر ایسے ہی اس ٹینشن کی وجہ کو جڑ سے اکھاڑ دیتا ۔
اسلام علیکم کیسی ہیں آپ فاطمہ بی بی وہ چہکتے ہوئے بولی ۔اور یارم کو لگا کہ کوئی اس کی سانسوں کی ڈوری کو آہستہ آہستہ کھینچ رہا ہے۔
خضر کو اندازہ تھا آج نہیں تو کل تو روح کو سب کچھ پتہ چل ہی جائے گا لیکن اتنا جلدی ۔ اسے تو یہی لگ رہا تھا کہ روح کے پاس پاکستان کا کوئی رابطہ نہیں ہے ۔
میں بالکل ٹھیک ہوں ۔جی وہ بھی بالکل ٹھیک ہیں
نہیں وہ بہت اچھے ہیں میرا بہت خیال رکھتے ہیں ۔
ہاں میں بہت خوش ہوں ۔ روح کی باتوں سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ دوسری طرف جو عورت ہے اسے یارم کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتا ۔
جبکہ یہ بات یار م پہلے ہی کلیئر کر چکا تھا ۔کہ شمس اور روح کے جھوٹے نکاح کے بارے میں کون کون جانتا ہے اور کون کون نہیں ۔
شمس کا پاکستان میں روح کے گھر میں کسی سے بھی کوئی رابطہ نہ تھا ۔وہ تو صرف ایک عورت کے تھرو یہ سب کچھ کر رہا تھا یار م اس کی ساری انفارمیشن نکال چکا تھا اسے یقین تھا ۔
اگر روح اپنے گھر فون کرے گی تو اس بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا ہوگا لیکن پھر بھی وہ روح پر کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا ۔
پاکستان میں موجود لوگ یہی سمجھتے تھے کہ شمس زندہ ہے اور وہ اس کے پاس ہے ۔شمس کی موت کی خبر کو اس نے بالکل بھی پھیلے نہ دیا تھا
وہ اسے خود سے دور کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔اگر وہ سب کچھ پہلے ہی پلان نہ کر چکا ہوتا تو روح کو اتنی آسانی سے پاکستان میں کسی سے بات نہیں کرنے دیتا ۔
لیکن پھر بھی اس کے اندر ایک ڈر تھا کہیں روح سے دور نہ ہو جائے کہیں اسے سب کچھ پتہ نہ چل جائے
وہ کتنی ہی دیر اس کے فون پر فاطمہ بی بی سے باتیں کرتی رہی ۔
جب کہ یارم بھی اب بے فکری سے ناشتہ کر رہا تھا ۔
میں نے تمہیں روح کے پاسپورٹ اورکارڈ کا کہا تھا ۔
ہاں میں دو دنوں میں انتظام کر دیتا ہوں میں سب کچھ کروا چکا ہوں خضر بھی پرسکون ہو گیا
یارم یہ میرا آئی ڈی کارڈ ہے ۔وہ تو آئی کارڈ پاسپورٹ اور ہنی مون کی ٹکٹ ہاتھوں میں لیے بے یقینی سے پوچھ رہی تھی ۔
ہاں میری جان یہ تمہارا ہے ۔ تمہیں یاد نہیں تم نے فوٹو بنوایا تھا اور ان پیپر پے اپنے سائن بھی کیے تھے ۔
میں کتنی اچھی لگی ہوں نا اس میں ۔وہ کارڈ پر اپنا فوٹو دیکھتے ہوئے بولی ۔
یارم بے اختیار مسکرایا ۔
میری جان ہے ہی بہت خوبصورت ۔اس کا ماتھا چومتے ہوئے پیار سے اس کے ہاتھ سے پیپرز لے لیے۔کیوںکہ اسے ہنی مون اور پاسپورٹ سے زیادہ اپنا کارڈ بننے کی خوشی ہورہی تھی ۔
دو دن کے بعد ہم یہاں سے اپنے ہنیمون ٹور کے لئے نکل رہے ہیں لیکن اس سے پہلے یہاں پر تمہاری ساری رجسٹریشن ضروری ہے تمہیں فیک پاسپورٹ سے دبئی بلایا گیا تھا وہ سب کچھ بھی ٹھیک کروانا ہوگا ۔
یارم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔
اف یارم اگر آپ مجھے ٹھیک طریقے سے یہاں بلاتے تو یہ سب کچھ نہیں ہوتا نا ایک اور مصیبت پتا نہیں آپ کو اتنی جلدی کیوں تھی ۔
روح ٹیڑے مڑے منہ بناتی لیٹ گئی۔
ہاں تو تمہارے بغیر نہیں رہا جا رہا تھا وہ اس پہ جھکتا زور سے اس کا گال چومتے ہوئے بولا
یارم ہم کہاں جائیں گے ۔وہ ایکسائٹڈ ہو کر اس کی طرف کروٹ لے کر پوچھنے لگی۔
آئس لینڈ اس نے اس کے گرد اپنے بازو حائل کرتے ہوئے کہا
یہاں سے کتنی دور ہے ۔
زیادہ نہیں فلائٹ میں گیارہ ساڑھے گیارہ گھنٹے لگ جاتے ہیں ۔
یااللہ گیارہ ساڑھے گیارہ گھنٹے اتنی دیر ہم کیسے بیٹھیں گے جہاز میں ۔وہ اس کے مزید قریب ہو کر پوچھنے لگی
ویسے ہی جیسے تم پاکستان سے دبئی تک بیٹھی تھی ۔
پاکستان سے دبئی بہت دور ہے نہ ۔۔
آئس لینڈ بھی دبئی سے بہت دور ہے ۔
وہاں پر چہاڑ ہیں۔ ۔۔۔؟ یارم نے اس کی باتیں سنتے ہوئے سونے کے لیے آنکھیں بند کی تو وہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کے پوچھنے لگی ۔
وہ اکثر ایسے ہی باتیں کرتے ہوئے سوتے تھے لیکن آج شاید روح کے سونے کا کوئی ارادہ نہ تھا ۔
ہاں وہاں پرپہاڑ ہیں برف ہے سمندر ہیں ۔ اور بہت سردی ہے
اکتوبر کے اینڈ میں دبئی میں خاصی گرمی تھی صرف رات کے وقت تھوڑی بہت سردی لگتی لیکن یہاں کے لوگ تو اتنے نازک تھے ۔
کہ ابھی سے کمبل لینے لگے ۔جبکہ روح کو تو اپنے پر کمبل بالکل بھی اچھا نہیں لگتا تھا
۔ اگر رات میں یار م غلطی سے اس پر کمبل ڈال لیتا تو وہ جلدی سے ہٹا دیتی اور کہتی اتنی گرمی میں آپ کیسے کمبل لےکے سوتے ہیں ۔
جبکہ اس علاقے میں سمندر کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں کافی ٹھنڈ پڑ رہی تھی ۔
رات ایسے ہی گزری ساری رات یارم اس کی باتیں سنتا رہا مجھ ایسے آئس لینڈ میں گھومنے پھرنے کی بات کر رہی تھی ۔
یارم سن کر ہنسنے لگتا
وہاں بہت سردی ہے میری جان ۔
ہاں جیسے یہاں آپ کو بہت سردی لگتی ہے بالکل ویسے ہی نہ ۔میں پہلے بتا دیتی ہوں ہم ساری جگہوں پر گھومنے جائیں گے ۔خبردار جو آپ وہاں جاکے بستر میں گھسے ۔
وہ ابھی سے اسے دھمکیاں دے رہی تھی ۔
وہ جب بھی سونے لگتا پھر اسے کوئی بات یاد آجاتی ۔
ساری رات سو تی جاگتی کیفیت میں گزر گئی ۔جبکہ روح تو ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہ سوئی تھی ۔
صبح اٹھتے ہی ناشتہ کرکے یارم اپنے کام پر جانے لگا وہ ہنی مون پر جانے سے پہلے سارا کام نپٹا دینا چاہتا تھا ۔
وہ دروازے پر رک کے روح کا انتظار کرنے لگا ۔جو کہ کچن میں کھڑی برتن دھو رہی تھی ۔
روح یار جلدی آؤ مجھے کام پے جانا ہے ۔
اس نے پکارا تو جلدی جلدی ہاتھ صاف کرتی کچن سے باہر نکلی۔
روح یارم سے ہائیٹ میں کافی کم تھی
یارم کواس کے سامنے مکمل جھکنا پڑتا ۔
یارم اس کے سامنے جھکا اور ہمیشہ کی طرح اس نے شرماتے ہوئے اس کے سر پر بوسہ دیا ۔
یہ عادت ان کے نکاح کے روح سے برقرار تھی
جبکہ یارم کو اس کی یہ عادت سب سے پیاری لگی تھی
اس کے سر پر پیار کر کے وہ ہمیشہ شرماتی اور اس پیاری سی ادا پے یار م کے ڈمپل نمایاں ہوتے ۔
پھر یار م نے دروازہ بند کرنے کا آرڈر دیا جس کی روح نے تکمیل کرتے ہوئے فوراً دروازہ بند کر دیا ۔
اور ایک بار پھر سے ائس لینڈ کے بارے میں سوچنے لگی ۔
کل تقریبا ایک گھنٹہ فاطمہ بی بی سے باتیں کرتی رہی اس کے ان سے گھر کا نمبر بھی مانگا تھا
لیکن فاطمہ بی بی نے کہا کہ انہیں تو کبھی نمبر کی ضرورت نہیں پڑی لیکن کل یا پرسوں وہ اس کے گھر جا کر اس کی امی کا نمبر لے لیں گی ۔
وہ چاہتی تھی کہ وہ آج ہی امی سے بات کر لے کیونکہ یارم نے کہا تھا کہ ہنیمون پر کوئی انہیں ڈسٹرب نہیں کرے گا ۔
شارف آفس پہنچا سب سے پہلے ٹکراؤ اس کا لیلیٰ سے ہوا
تم مجھے اگنور کیوں کر رہے ہو میں تم سے بات کرنا چاہتی ہوں اور تم مجھے دیکھتے تک نہیں کیا مسلہ ہے تمہیں
مجھے کوئی مسئلہ نہیں لیکن میں تم سے بات نہیں کرنا چاہتا تم نے جو اس دن میرے ساتھ کیا ہے نہ وہی بہت ہے تم نے ڈیول کی نظروں میں مجھے گرانے کی کوشش کی ۔
لیلیٰ مجھے لگا تھا تم چاہے کتنی بھی مطلبی کیوں نہ ہو جاؤ لیکن اپنے مطلب کے لئے کسی دوسرے کا استعمال نہیں کرو گی بہت غلط سوچ تھی میری میں یہ سوچتا تھا کہ تم ڈیول کو سمجھتی ہو تم اس کے لئے ایک پرفیکٹ لائف پارٹنر ہو لیکن سچ تو یہ ہے کہ تم اس کے قابل ہی نہیں ہو۔شارف ایک ایک لفظ چھپا چھپا کر بولا ۔
تم اس دو ٹکے کی لڑکی کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔
زبان سنبھال کر بات کرو لیلیٰ تو میری بہن کے بارے میں بات کر رہی ہو اگر ایک بھی لفظ اور کہا تو زبان کاٹ دوں گا تمہاری وہ غصے سے دھاڑا تھا
جبکہ لیلی تو اس کا اندازہ و لہجہ دیکھ کر رہ گئی ۔
میں تمہیں آخری بار بتا رہا ہوں لیلیٰ اگر تم نے میری بہن کی خوشیوں میں آگ لگانے کی کوشش کی تو میں بھول جاؤں گا کہ تم میری دوست تھی اس نے ' تھی ' پر زور دیا ۔
اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ اسے نکل گیا ۔
جبکہ لیلی سرخ چہرہ لئے اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔
فرقان بھائی میری مدد کرے ڈیول نے میرے بھائی کو مار دیا میری آنکھوں کے سامنے آپ یقین نہیں کریں گے اس نے میرے بھائی کو کیسے تڑپا تڑپا کر مارا اس نے میرے سامنے اس کے منہ میں تزاب سے بھری ہوئی بوتل ڈال دی اس کی ساری نسیں گھل چکی تھی بھائی وہ میرے سامنے مر گیا
میں کچھ نہیں کر سکا یہاں تک کہ وہ میرے پاس موجود ساری ویڈیوز بھی ڈیلیٹ کروا چکے ہیں ۔
مجھے اور کچھ نہیں چاہیے بس مجھے میرے بھائی کی موت کا بدلہ لینا ہے ۔
فرقان بھائی آپ کے علاوہ اور کوئی میری مدد نہیں کر سکتا ۔
وکرم دادا بھی ہمارے خلاف ہیں ۔انہیں بھی یہ کام پسند نہیں تھا ورنہ وہ اس معاملے میں میری مدد ضرور کرتے لیکن اسے ڈیول کے کام کرنے کا انداز پسند ہے ۔
فرقان بھائی میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں مجھے اور کچھ نہیں چاہیے بس اپنی آنکھوں سے ڈیول کی لاش دیکھنا چاہتا ہوں ۔
راشد اس وقت اپنے سامنے صوفے پر بیٹھے فرقان کی منتیں کر رہا تھا ۔فرقان کا بہت بڑا گینگ تھا ۔ وہ اپنے آپ میں بہت پاور رکھتا تھا ۔
وہ اس علاقے پر حکومت کرتا تھا ۔پرڈیول کو اپنا سب سے بڑا دشمن مانتا تھا ۔
تم فکر مت کرو راشد میں تمہارے ساتھ ہوں ۔اور جہاں تک بات وکرم دادا کی ہے ۔تو ہم ان کوصرف یہی بتائیں گے ڈیول کے ہاتھوں تمہارا بھائی مارا گیا یہ نہیں کہ وہ کیوں مارا گیا وکرم دادا ہمارا ساتھ ضرور دیں گے ۔
اور پھر لگے ہاتھ میں بھی ڈیول سے اپنے پرانے حساب جھکا لونگا ۔
لیکن ڈیو ل کو ختم کرنا اتنا بھی آسان نہیں وہ بازکی نظر رکھتا ہے ۔ شیر کی طرح دھاڑنا جانتا ہے تو چیتے کی طرح چیڑنا جانتا ہے ۔
وہ اتنی آسانی سے ہمارے ہاتھ نہیں آئے گا اوپر سے اس کی کوئی کمزوری بھی نہیں نہ دوست نہ ساتھی نا عورت نا دولت اخر کس طرح سے ہم اس کو مات دیں ۔
ڈیول کو راستے سے ہٹانا اتنا آسان نہیں ۔
لیکن ہم وکرم اور ہم ایک ساتھ ہو جائیں تو یہ زیادہ مشکل بھی نہیں رہے گا ۔
تم سب کچھ سنبھالو گے نہ خضر۔
مجھے شکایت کا موقع نہ ملے ۔ اور شارف کی طرف سے تو ہرگز نہیں ۔
وہ اس وقت خضر کو سارا کام سمجھا رہا تھا وہ اپنے پیچھے خضر کو چھوڑ کر جارہا تھا ۔
تم بالکل فکر مت کرو میں ہوں نہ تم ٹھیک سے اپنا ہنیمون انجوائے کرنا ۔
یہاں میں سب کچھ سنبھال لوں گا اور شارف کی طرف سے بھی تمہیں کوئی شکایت نہیں ملے گی ہاں لیکن میں لیلی کی کوئی گارنٹی نہیں دے رہا ۔
وہ سر پھری لڑکی تین دن سے یہاں نہیں آرہی تھی اور آج ائی ہے تو باہر بیٹھی اپنی فیشن کی دکان کھول رکھی ہے ۔
میں نے اسے کہا تھوڑا کام پہ دھیان دو تو کہتی ہے جس پر دھیان دیتی تھی اسے تو میرا دھیان ہی نہیں ۔
مجھے تو لگتا ہے اس کا سر گھوم گیا ہے خضر لیلی سے کافی اکتایا ہوا تھا ۔
جو کسی کو کھاتے میں ہی نہیں لا رہی تھی جبکہ ہیکنگ کا سارا کام صرف لیلیٰ کر رہی تھی جو بہت دنوں سے رکا ہوا تھا ۔
بلاؤ اسے میں خود بات کرتا ہوں ۔
یارم کے آرڈر پر خضر نے فورا اسے بلایا اور اگلے پانچ منٹ میں وہ اس کے کیبن میں تھی
دیکھو لیلیٰ اگر تمہیں کام کرنے میں انٹرسٹ نہیں ہے تو تم یہاں سے ہمیشہ کے لئے جا سکتی ہو مجھے تمہارے جیسے ورکر نہیں چاہیے
۔ڈیول نے دو ٹک لہجے میں بات کی ۔
میں نے کب کہا مجھے انٹرسٹ نہیں ہے ۔میں آج ہی سارا کام نپٹا دوں گی لیلیٰ جانتی تھی کہ ڈیول اسے واپس وہیں پر بھیج دے گا جہاں سے وہ اسے لایا تھا اور وہاں واپس تو مرتے دم تک نہیں جانا چاہتی تھی لیکن اسے یہ نہیں پتا تھا کہ شکایت اتنی جلدی یہاں پہنچ جائے گی ۔
ہمہمہم تم جا سکتی ہو جاؤ اپنا کام کرو ۔
اگلے آرڈر پر لیلیٰ فورا کمرے سے باہر نکل گئی ۔
وہ دوسری لڑکی کہاں ہے ۔۔۔؟ ڈیول نے معصومہ کا پوچھا
وہ شارف کے ساتھ سائٹ پر کام دیکھنے گئی ہے ۔ شارف نے کہا تھا کہ وہ دونوں سائٹ پر کام کریں گے اور وہ شارف کی مدد کرے گی ۔
شارف کو سائیڈ پے کام کرنے کے لیے کب سے مدد کی ضرورت پڑ نے لگی ۔ڈیول نے پوچھا
جب سے معصومہ محترم آئی ہے خضر نے جل کر جواب دیا
وہ بیٹھی سوچ رہی تھی کہ ائس لینڈ میں جانے کے لیے وہ کون سی قسم کے کپڑے پیک کرے کہ دروازے کی گھنٹی بجی
ارے یہ کون آگیا یار م کا تو ابھی واپسی کا ٹائم نہیں ہوا ضرور شارف بھائی ہوں گے ۔
وہ سوچتے ہوئے دروازے کی طرف آئی ۔
دروازہ کھولا تو سامنے وہ انسان کھڑا تھا اسے پہچانا اس کے لیے مشکل نہ تھا یہ تو وہی انسپیکٹر تھا جو اسے اس دن یارم کے آفس چھوڑ کے آیا تھا ۔
السلام علیکم کیسی ہیں آپ کیا میں اندر آ سکتا ہوں اس نے مسکرا کر پوچھا ۔
وعلیکم سلام ایم سوری میرے شوہر گھر پر نہیں ہیں آپ اندر نہیں آ سکتے ۔روح کو یار م کی باتیں یاد آئی یارم نے اسے بتایا تھا کہ یہ آدمی اسے پھسانا چاہتا ہے ۔
اٹس اوکے ٹھیک ہے میں اندر نہیں آرہا ۔وہ ڈٹھوں کی طرح مسکرایا تھا ۔
میں تو بس آپ سے یہ پوچھنے آیا تھا کیا آپ جانتی ہیں کہ آپ کاشوہر کیا کام کرتا ہے صارم فور اپنے مطلب کی بات پے آیا تھا ۔
جی ہاں وہ ایک کمپنی چلاتے ہیں روح نے فورا جواب دیا
کس قسم کی کمپنی ۔۔۔۔۔؟صارم نے پھر پوچھا
وہ کوئی دوائیوں کی کمپنی چلاتے ہیں ۔
کس قسم کی دوائیاں ۔۔۔۔۔۔؟
جان بچانے والی دوائیاں ۔۔۔۔۔روح نے جواب دیا
بہت غلط معلومات دی گئی ہے آپ کو آپ کے شوہر جان بچانے والی دوائیاں نہیں بلکہ جان لینے والے اسلحے کی خرید و فروخت کرتے ہیں یہاں تک کہ کئی لوگوں کی جان بھی لے چکے ہیں ۔
آئی ایم سوری روح لیکن تمہارا شوہر ایک قاتل ہے ۔
دوبئی کا ایک بہت بڑا ڈان ہے ۔ڈان کا مطلب سمجھتی ہو تم گناہوں کی دنیا کا بادشاہ ۔
ایک قاتل ۔جس کی نظروں میں کسی کی جان کی کوئی اہمیت نہیں ۔
چٹاخ۔
خبردار جو آپ نے میری شوہر کے خلاف ایک لفظ بھی کہا مہربانی فرما کے یہاں سے چلے جائیں ۔یا پھر میں گارڈز کو بلا کر آپ کو دھکے مروا کر یہاں سے باہر نکلواوں۔
روح خود بھی نہیں جانتی تھی کہ اس میں اتنی ہمت کہاں سے آئی ۔
روح تم بہت بڑی غلطی کر رہی ہو تمہارا شوہر اتنا اچھا نہیں ہے جتنا وہ بن رہا ہے وہ تمہیں دھوکے میں رکھ رہا ہے ۔
بہت پچھتاؤ گی روح میری مدد کرو ۔
ایسے انسان کی عام دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہے اس کی جگہ جیل کے اندر ہے ۔
وہ انسان نہیں درندہ ہے ڈیول کا مطلب سمجھتی ہو شیطان وہ ایک شیطان ہے روح اور انسانوں کی دنیا میں شیطانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے
بس کرے خدا کے لیے چلے جائیں یہاں سے روح تقریبا چلاتے ہوئے بولی اور اس کے منہ پر سے دروازہ بند کر دیا ۔
صارم کافی دیر تک دروازہ کھٹکھٹاتا رہا لیکن روح نے دروازہ نہیں کھولا ۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ چلا گیا تو روح نے یارم کو فون کرکے سب کچھ بتایا ۔
وہ فون پر بھی مسلسل رو رہی تھی
وہ تو شکر ہے
روح کا فون بند ہوتے ہی اس نے صارم کو فون کیا تھا ۔
اس کا نمبر دیکھتے ہی صارم نے فون اٹھا لیا ۔
بھابھی کے ہاتھ کا تھپڑ کیسا لگا پہلا سوال ہی بے ڈنگا سا تھا ۔
یارم تو بہت غلط کر رہا ہے اس لڑکی کو دھوکہ دے کر آج نہیں تو کل اسے سب کچھ پتہ چل جائے گا پھر کیا کرے گا تو ۔
آج ثبوت نہیں تھا میرے پاس کل ضرور ہوگا ۔
اور تجھے لگتا ہے کہ وہ تیرے ثبوتوں پر یقین کرے گی یارم زرا سا مسکرایا تھا ۔
سوچنا بھی مت صارم وہ کبھی تجھ پر یقین نہیں کرے گی ۔لیکن میری پیٹھ پیچھے میرے گھر آ کر بہت بڑی غلطی کی ہے تو نے ۔ آج کے بعد ایسی غلطی مت کرنا ۔ورنہ تو جانتا ہے میرے ساتھ غداری کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے ۔
یقین کر میں ابھی تک تیری اس دوستی کی خاطر تجھے چھوڑ رہا ہوں ۔جو کبھی ہمارے درمیان تھی ۔آج کے بعد روح سے دور رہنا ۔اتنا دور کہ ڈھونڈنے پر بھی نظر نہ آو ۔
ورنہ اپنی بیوی اور بچی کو دیکھنے کے لئے ترس جائے گا ۔
یا رم نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔
او تو اب تم اپنے معیار سے گر کر مجھے میری بیوی اور بچی کی دھمکیاں دے رہے ہو صارم غصے سے چلایا ۔
اگر تم میری پرسنل لائف میں انٹر فیر کروگے تو مجھے بھی تو کرنا پڑے گا نہ صارم
جس طرح سے تجھے بھابھی اور ماہرہ عزیز ہیں اسی طرح سے مجھے روح عزیز ہے دور رہنا اس سے ۔یار م نے فون کاٹ کر شارف کو فون کیا ۔
ہاں ڈیول بولو ۔
نظر رکھو انسپکٹر پر ۔آج میرے گھر پہنچ گیا تھا وہ ۔
ڈونٹ وری میں نظر رکھتا ہوں اس پر شارف کا جواب سن کر اس نے فون کاٹ کر ٹیبل رکھا اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا
یہ تم نے اچھا نہیں کیا صارم ۔ اگر وہ مجھ سے دور ہوئی تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔
آنکھیں بند کئے وہ اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا
آج یارم اور روح کی ائس لینڈ کی فلائٹ تھی ۔
روح تو جانے کے لیے بہت ایکسائٹڈ تھی لیکن جہاز میں بیٹھنے میں اسے ڈر بھی لگ رہا تھا ۔
پہلے پاکستان سے دبئی آتے ہوئے بھی وہ کتنا ڈررہی تھی لیکن تب وہ اکیلی تھی اب یارم اس کے ساتھ تھا
وہ اس وقت ایئرپورٹ پر بیٹھے اپنی فلائٹ کے انوسمنٹ کا انتظار کر رہے تھے ۔
روح تویہ سوچ سوچ کر خوش ہو رہی تھی کہ وہ پہاڑوں سمندروں اور برف کے بیچ جارہی ہے ۔
وہ تو اپنے گھر سے بھی کبھی باہر نہ نکلی تھی اور ابھی اتنے دور دوسرے ملک میں وہ ہمیشہ سے برف گرتے دیکھنا چاہتی تھی لیکن ملتان جیسے شہر میں برف گرنا اک خواب جیسا تھا ۔
یارم کا سارا دھیان اس کے چہرے کے ایکسپریشنز پرتھا ۔
جہاں ایک رنگ آرہا تھا اور ایک رنگ جا رہا تھا وہ اپنے چہرے سے اپنے دل کا حال چھپا نہیں سکتی تھی۔
صارم کے بارے میں اس نے روح کو دوبارہ بھی یہی بتایا کہ وہ اسے پھنسانا چاہتا ہے ۔وہ اس کے دشمنوں کے ساتھ ملا ہوا ہے
روح کا اس کی ایک ایک بات پر ایمان لانا یارم کو گلٹ میں مبتلا کر گیا تھا ۔لیکن پھر بھی وہ اسے کچھ نہیں بتا پایا اور نہ ہی اسے کچھ بھی بتانے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
تھوڑی دیر میں فلائٹ کی اناؤنسمنٹ ہوگئی ۔
یارم میرا ہاتھ پکڑ کے رکھیے گا مجھ سے ایک سیکنڈ کے لیے بھی دور مت جائیے گا ۔ سارا وقت میرے ساتھ رہئے گا ۔اگر میں سو گئی تو بھی مجھے اکیلا چھوڑ کے کہیں مت جائیے گا ۔ مجھے بہت ڈر لگے گا ۔روح اس کے ساتھ تقریبا چپکی ہوئی تیز تیز بول رہی تھی ۔
میری جان میں تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا ۔ وہ اسے اپنے ساتھ لئے اپنی سیٹ پے آ بیٹھا تھا
تھوڑی دیر کے بعد جہاز نے اڑان بھرنی تھی جبکہ روح آنکھیں بند کیے اس کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے تھامے نجانے کیا زیر لب بڑبڑا رہی تھی ۔
یارم نے ذرا غور کیا اور اس کے لبوں کے پاس اپنا کان رکھا تو پتہ چلا وہ قرآنی آیات پڑھ رہی تھی ۔
اف ڈرپوک لڑکی یارم اس کے ڈر پر ذرا سا مسکرایا اور اس کا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں تھام کر اسے سیٹ بیلٹ پہنانے لگا ۔
اور پھر جب فلائٹ اڑان بھرنے لگی تو وہ چیخ مار کے اس کے سینے میں منہ چھپا گئی ۔
شاید لوگوں کے لئے یہ کوئی نئی بات نہ تھی اس لیے کسی نے بھی مڑکر نہ دیکھا ۔
اور اگر کوئی دیکھتا بھی تو کونسا یارم کو پروا تھی ۔
وہ تو اسے اپنے سینے سے لگائے بالکل پر سکون تھا
روح اس طرف دیکھو یارم نے اسے کھڑکی کی طرف متوجہ کیا۔
جہاں سے برج خلیفہ کی بلڈنگ بالکل ان کے ساتھ ساتھ نظر آ رہی تھی ۔
یارم یہ تو اس ہوٹل سے بھی نظر آتا ہے نہ جہاں ہم کھانا کھانے جاتے ہیں ۔روح نے ذرا سے اس کی سینے سے منہ نکال کر پوچھا ۔
ہاں روح کیوں کہ یہ دنیا کی سب سے اونچی ترین بلڈنگ ہے
دیکھو اسے یہ کتنی خوبصورت لگ رہی ہے ۔
تم تو بے کار میں اونچائی سے ڈرتی ہو لوگ یہاں پہ آ کر سیلفی بناتے ہیں ۔
مجھے نہیں بنا نی کوئی سیلفی میں یہیں پر ٹھیک ہوں ۔
وہ مزید اس کے سینے میں گھستے ہوئے بولی ۔
یہاں پر تو میں بھی ضرورت سے زیادہ ٹھیک ہوں وہ اس کے گرد بازو کا گھیرا مضبوط کرتے ہوئے بولا ۔
یارم یہ ہمارا بیڈروم نہیں ہے آپ میرے اوپر سے ہاتھ ہٹائیں
وہ منہ بنا کر بولی ۔مگر سچ تو یہ تھا کہ وہ یہ سوچ کر کہ لوگ انہیں دیکھ رہے ہوں گے اسے شرما رہی تھی لیکن وہ اپنے معصوم سے ڈر کا کیا کرتی ۔پاکستان سے دبئی آتے وقت اس کے ذہن میں یہ بات تھی کہ نہ جانے یارم کیسا ہوگا ۔وہ بھی انہی لوگوں جیسا ہوگا جن کے ساتھ وہ آج تک رہتی آئی ہے ۔
اگر وہ ایسا ہوتا تو شاید وہ صبر اور شکر سے زندگی گزار لیتی لیکن یارم تو اس سے بے انتہا محبت کرتا تھا ۔ اور روح کی نظر میں وہ بگڑ چکی تھی یارم کی محبتوں نے اسے بگاڑ دیا تھا ۔
اب وہ یارم کی سختی برداشت نہیں کرسکتی تھی ۔ اسے اب صرف یارم کی محبت ہی چاہیے تھی
۔یارم کا اس کی پرواہ کرنا اس کا خیال رکھنا اسے محبت دینا کوئی بھی بات اسے پیار سے سمجھانا ۔اگر یہ سب کچھ بدل جائے ۔تو شاید روح زندہ بھی نہ رہ پائے ۔
تو ٹھیک ہے تم بھی ذرا اپنے (بل) میرا مطلب ہے میرے سینے سے باہر نکلو
آخر یہ ہمارا بیڈروم تھوڑی ہے ۔اس نے روح کے سر کو ذرا سا اپنے آپ سے الگ کیا مگر روح نے دوبارہ اس کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا ۔
نہیں میں یہی ٹھیک ہوں بس آپ اپنے آپ پر کنٹرول کریں۔
تو پھر میں بھی ایسے ہی ٹھیک ہوں ۔یارم نے پھر سے اس کے گرد اپنے بازو رکھے ۔
پلیز نہیں نہ ۔۔۔روح نے معصوم سی شکل بنا کر اس کی طرف دیکھا تو یارم نے اس کے گرد سے ہاتھ ہٹا لیے ۔
اور تھوڑی ہی دیر بعد وہ گہری نیند سو گئی ۔
تویارم نے اپنے ہاتھ دوبارہ سے اس کے گرد رکھ لیے تاکہ اس کی نیند خراب نہ ہو ۔
آنکھ کھلی تویارم اب بھی اس کے گرد اپنے بازوں کا گھیرا بنائے اسے اپنے سینے سے لگائے محبت سے دیکھ رہا تھا ۔
یارم ہم ابھی تک نہیں پہنچے ۔روح نےآنکھیں ملتے ہوئے پوچھا وہ گہری نیند سے جاگی تھی ۔
نہیں میری جان ابھی تو بمشکل آدھا سفر ہوا ہے ۔
یہ تو بہت دور ہے ۔روح معصومیت سے کہتی ایک بار پھر سے اس کے سینے پر اپنا سر رکھ گئی ۔
یارم آئس لینڈ کیا گوروں کا ملک ہے ۔۔۔؟ نیند تو وہ پوری کرچکی تھی تو اس کا سوالنامہ ایک بار پھر سے شروع ہوگیا ۔
ہاں یہ انگریزوں کا ملک ہے ۔یارم روح سے پہلے کبھی کسی سے اتنی بات نہیں کرتا تھا وہ یہ سوچتا تھا کہ وہ اتنے سوال کہاں سے لاتی ہے اور وہ بنا اکتائے اس کے ہر سوال کا جواب محبت سے دیتا ہے ۔
میں نے تو خبروں میں کبھی اس ملک کے بارے میں کچھ خاص نہیں سنا ۔
ہاں کیوں کے اس ملک میں کچھ خاض ہوتا ہی نہیں ہر ملک اپنی لڑائیوں اور فوج کی وجہ سے مشہور ہوتا ہے جبکہ آئسلینڈ میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔
آئس لینڈ کے چاروں طرف سمندر ہے تمہیں پتا ہے روح آئس لینڈ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس میں کوئی فوج سرے سے ہے ہی نہیں ۔ یارم نے اس کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا
کیا مطلب فوج کے بغیر ملک کیسے چلتا ہے کیا ان پر حملےنہیں ہوتے روح حیران اور پریشان اس سے پوچھنے لگی
نہیں روح اس ملک میں ایسا کچھ نہیں ہوتا یہ دنیا کا سب سے امن پسند ملک ہے یہاں پر کوئی فوج نہیں یہاں تک کہ یہاں کی پولیس بھی اپنے پاس پستول بندوق یا اس طرح کی کوئی چیز نہیں رکھتی ۔
یہاں کے پولیس میں صرف نام کی پولیس ہے اس ملک کو پولیس کی بھی ضرورت نہیں ۔یہاں کے لوگ ایک دوسرے سے بے وجہ نہیں لڑتے ۔یہاں کی عورتیں اپنے شوہر کے ساتھ بے وفائی نہیں کرتی
۔یہاں کے مرد ایک ہی شادی کرتے ہیں اور شادی سے پہلے کسی کے ساتھ بھی کوئی تعلقات قائم نہیں رکھتے ۔اور سب سے خاص بات اس ملک میں جانور نہیں ہیں ۔اور جو ہیں وہ نظر نہیں آتے ۔میرا مطلب ہے اس ملک میں جانوروں کی تعداد صرف ڈیڑھ ہزار ہے ۔اور انسانوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ ۔اب تین لاکھ لوگوں میں صرف ڈیڑھ ہزار جانوروں کو ڈھونڈنا تو ناممکن ہے ۔
یہاں کے لوگ جانور نہیں پالتے ۔
اس ملک کی کرنسی کی قیمت بہت کم ہے لیکن سب سے اہم بات یہ دنیا کے سب سے امیر ترین ملکوں میں نویں نمبر پر ہے ۔
اور کوئی سوال ۔۔۔؟ یار م کے ذہن میں جو بہت سارے سوال آرہے تھے ۔ ان سب کے جواب دے چکا تھا لیکن پھر بھی شرارت سے اس سے پوچھنے لگا ۔تو وہ نفی میں سرہلا کر بیٹھ گئی ۔
ایک سوال اور ہے ۔پھر اچانک اٹھ کر بولی
اسے آئس لینڈ کیوں کہتے ہیں ۔
کیوں کہ یہ دنیا کا سرد ترین علاقہ ہے جہاں سب سے زیادہ برف گرتی ہے ۔یارم نے ٹھہرٹھہر کا جواب دیا
یار م یہ خوبصورت تو ہے نا ۔میرا مطلب ہے جو کچھ آپ بتا رہے ہیں اس کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ یہ جگہ کچھ خاص خوبصورت ہوگی روح نے منہ بنا کر کہا تویارم مسکرایا ۔
یہ دنیا کےخوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک ہے ۔
آپ کو تو اس ملک کے بارے میں بہت کچھ بتا ہے ۔ آپ یہاں پہلے بھی آئے ہیں ۔
ہاں میں جب بھی سکون چاہتا ہوں میں یہاں آتا ہوں ۔ابھی تو میں نے تمہیں ٹھیک سے کچھ بتایا بھی نہیں ۔تمہیں پتا ہے اس ملک میں اتنی سردی ہونے کے باوجود بھی لوگ زیادہ کپڑے پہننا پسند نہیں کرتے ۔یارم نے مسکراتے ہوئے بتایا ۔
کیا مطلب یہاں کے لوگ کپڑے نہیں پہنتے ۔روح کے کہتے ہوئے گال سرخ ہو رہے تھے ۔
پہنتے ہیں میری جان لیکن زیادہ نہیں پہنتے کم کم پہنتے ہیں
یارم کے ڈمپل گہرے ہوئے ۔
اس کے علاوہ ایک اہم ملامات جو میں وہاں پہنچ کر بتاؤں گا تمہارے لیے سرپرائز سے کم نہیں ہوگی ۔یار م نے مسکرا کر بتایا ۔
یارم نے اسے اور بھی کچھ بتانا چاہا لیکن روح تو ابھی تک کپڑوں والی بات پے اٹکی ہوئی تھی ۔
آئس لینڈ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا یار م ہمیں پہنچتے ہوئے تو رات ہو گئی روح نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا ۔
تو یار م ذرا سا مسکرا دیا ۔
نہیں بےبی یہاں رات نہیں ہوئی یہاں دوپہر کا ڈیڑھ بج رہا ہے ۔یار م نے بتایا تو وہ حیران اور پریشان اسے دیکھنے لگی ۔
کیا مطلب ہے آپ کا اگر یہاں دوپہر ہے تو اتنا اندھیرا کیوں ہو رہا ہے جیسے شام ہو ۔
روح نے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
یہی تو وہ معلامات ہے جو تمہیں میں دینا چاہتا تھا ۔
آئس لینڈ میں میں سردیوں میں سورج طلوع نہیں ہوتا ۔
اور اگر ہفتہ 15 دنوں کے بعد ایک بار ہو بھی جائے تو صرف اور صرف تین سے ساڑھے تین گھنٹے کے لیے ہی ۔
ورنہ یہاں پر ایسے ہی شام کا منظر چھایا رہتا ہے وہ اس کا ہاتھ پکڑ کے اپنے ساتھ لگائے آگے لے کے جا رہا تھا یقینا اسے بہت سردی لگ رہی تھی وہ تو ٹھنڈ سے کانپ رہی تھی
یارم آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا یہاں اتنی سردی ہو گئی ۔
وہ اپنے آپ کو شال سے کور کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ناکام سردی سے بچنا اتنا آسان نہ تھا ۔
میں نے بتایا تھا بےبی لیکن تم نے کہا کہ وہاں پر بھی ایسی ہی سردی ہوگی جیسے دبئی میں ہوتی ہے یارم شرارت سے بولا ۔توروح اسے گھور کر رہ گئی
اب اس بیچاری کو کیا پتا تھا وہ اسے ایسے ملک میں لے کے جانے والا ہے جہاں سورج طلوع نہیں ہوتا ۔
یارم ہہاں میری کلفی جم جائے گی پلیز جلدی چلیں ۔
ایئرپورٹ سے انہیں اس ہوٹل کی گاڑی لینے آئی تھی جہاں انہوں نے ہنیمون سویٹ بک کروایا تھا ۔
اب صرف پارکنگ سے وہ ہوٹل کے اندر جا رہے تھے جس پر روح سردی سے کانپ کانپ کر بے حال ہو رہی تھی
ایم سوری میری جان میں تو بس تمہیں یہ بتانا چاہتا تھا کہ دبئی میں سردی ہوناہو باقی ملکوں میں ہے اب تمہیں اکتوبر میں بھی سردی نہیں لگ رہی تھی تو مجھے کچھ تو کرنا ہی تھا نا وہ اب بھی شرارتی انداز اپنائے ہوئے تھا ۔
جبکہ ساتھ ساتھ روح کو اپنے ساتھ لگائے اس کے بازو سہلا رہا تھا ۔
آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں یارم وہ منہ بنا کر بولی جبکہ بولتے ہوئے دانت بھی بج رہے تھے ۔
یارم ہمارے کمرے میں کھڑکی تو ہوگی نا ۔۔۔؟
اب تمہیں کھڑکی کیوں چاہیے ۔۔۔؟
دیکھیں نہ یارم یہ ہوٹل کتنا خوبصورت ہے میں کھڑکی سے دیکھوں گی کیونکہ باہر آنے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں اتنی سردی ہے یہاں وہ اب بھی کانپ رہی تھی ۔
کیا مطلب ہی نہیں نکلو گی تم تو مجھے دھمکیاں دے رہی تھی کہ مجھے بستر میں نہیں گھسنے دوگی ۔اب اپنے ہی ارادے بدل لئے محترمہ نے ۔
ہاں تو آپ نے مجھے دھوکے میں رکھا آپ نے مجھے بتایا ہی نہیں اتنی سردی ہوگی ۔۔اگر آپ مجھے بتا دیتے تو میں ایسے الفاظ نہیں کہتی نا ۔ وہ منہ بناکے سارا الزام اسے ہی دینے لگی ۔
جسے یارم نے مسکراتے ہوئے قبول کرلیا ۔
بتائیں نہ کمرے میں کھڑکی ہے یا ایسے ہی ڈمپلز دکھاتے رہیں گے ۔وہ اس کے ڈمپل کو دیکھتے ہوئے بولی
اگر نہیں ہوئی تو یارم کچھ سوچتے ہوئے بولا
تو تو تو میں آپ کے ڈمپلز کھا جاؤں گی وہ تھوڑی پہ ہاتھ رکھتے ہوئے سوچ کر بولی
بھوکی کہیں کی ۔
یار م اس کے گال پر چٹکی کاٹتے ہوئے مینیجر سے اپنے روم کی چابی لینے لگا
یارم یہ کتنا پیارا کمرہ ہے اس نے کمرے میں آتے ہی کہا کمرے کو مکمل پھولوں سے سجایا گیا تھا ہر جگہ لال پھولوں کی پتیاں ہی پتیاں تھی ۔
یہاں تک کہ ٹیبل اور بیڈ کے سائیڈ ٹیبلز پر پھولوں کے بڑے بڑے بوکے تھے ۔
روح ایک ایک پھول کو چھوتی اصلی ہونے کا اندازہ لگا رہی تھی ۔
یارم مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا ہم یہاں اس کمرے میں رہیں گے ۔ کتنے پیارے پھول ہیں ۔
آپ وہاں آرام سے کیوں بیٹھے ہیں دیکھیں تو سہی ۔وہ ایک پل کے لئے ساری سردی بھول چکی تھی ۔
پھر پھولوں کے بوکے کےقریب جاکر اس کے پھولوں کو اپنی انگلیوں سے چھونے لگی ۔
وہ اس کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کر رہا تھا اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیے محبت سے دیکھ رہا تھا پھر اٹھا اور آہستہ آہستہ چلتا اس کے قریب آ کر کھڑا ہوا ۔
دیکھیں کتنا پیارا ہے وہ اسے پھول دکھاتے ہوئے بولی گلاب کی ایک ننی سی کلی جو ابھی کھلی تھی ۔
یارم میں نے کبھی اتنے پھول ایک ساتھ نہیں دیکھے ۔ہمارے گھر میں اتنی جگہ ہی نہیں تھی کہ ہم پھول وغیرہ لگائیں یہ کتنے پیارے لگتے ہیں نا ایک ساتھ اور یہ والا دیکھیں کتنا پیارا ہے وہ ابھی بھی اسی پھول کو چھو رہی تھی
ہاں پیارا ہے لیکن میری جان سے زیادہ نہیں وہ اس کا گال چومتے ہوئے بولا ۔
اور اگلے ہی لمحے سے کھینچ کر اپنے قریب کر لیا ۔
وہ میں یہ بتا رہا تھا کہ اس کمرے میں کھڑکی نہیں ہے ۔
یار م نے اپنا گال اس کے ہونٹوں کے قریب کرتے ہوئے کہا ۔
وہ نہ سمجھی وہ اس سے انچ بھر کے فاصلے پر کھڑی سے دیکھنے لگی ۔
کھڑکی نہ ہونے کی صورت میں تم نے میرا ڈمپل کھانا تھا نا ۔
وہ اس کے لبوں کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے بولا ۔
یارم میں بہت تھک گئی ہوں مجھے بہت نیند آ رہی ہے اور بہت سردی بھی لگ رہی ہے ۔اس کے ارادے جان کر وہ فورا بولی۔
ہاں لیکن میری تھکن اتارے بغیر تم سو نہیں سکتی ۔ اگلے ہی لمحے کو اس سے بات کرنے کا موقع دیے بغیر اپنے ہونٹ اس کے لبوں پر رکھ چکا تھا ۔
اٹھ جاؤ روح یار کتنا سونا ہے ۔ فلائٹ میں بھی بس سوتی رہی ہو اب بھی سوئے جا رہی ہو
تمہاری یہ نیند پوری ہونی ہے کہ نہیں مجھے تو لگتا ہے کہ یہ ہنیمون ٹور سارا ہی تمہاری نیندیں پوری کرنے میں گزر جائے گا ۔
اٹھ جاؤ یار ۔
وہ محبت سے اس کے بال چہرے سے ہٹاتے ہوئے بولا ۔جبکہ روح ایک نظراسے دیکھ کے دوسری طرف کروٹ لے کر سو گئی ۔
یارم دوبار ہوٹل کا وزٹ کر چکا تھا ۔ وہ دو بار سارے ہوٹل کا راونڈ لگا چکا تھا ۔اور ایک روح تھی جس کی نیند ابھی تک پوری نہیں ہوئی تھی ۔
کل جب وہ لوگ یہاں پہنچے تب یہاں برف باری نہیں ہو رہی تھی ۔ہاں لیکن ساری روڈز برف سے بھری ہوئی تھی روح نے کہا کہ اسے روی جیسی برف خود پہ گرتے ہوئے دیکھنے کا شوق ہے ۔
اور صبح سے ہی یہاں پے برف باری ہو رہی تھی ۔اور روح اپنے بستر میں گھسی ہوئی تھی ۔ یار م اپنا فون تک وہیں چھوڑ آیا تھا ۔اس نے کہا تھا کہ انہیں کوئی ڈسٹرب نہ کرے ۔
ہاں لیکن اسے اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ روح نے یہاں آ کر صرف اپنی نیند ہی پوری کرنی ہیں ۔
اگر تم ایک منٹ میں نہ اٹھیں نا تو انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی ۔اس کی دھمکی سے بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوئی ۔
یارم اٹھ کر کھڑکی کے پاس آیا جو کہ کل پھولوں سے ڈکی ہونے کی وجہ سے روح کو نظر نہیں آئی تھی اور اسی کا فائدہ اٹھا کر یارم نے کہا تھا کہ اس کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں ۔
جبکہ ہوٹل کا یہ کمرہ الریڈی یارم کے نام پر بک تھا
یارم جب بھی یہاں آتا تب اسی کمرے میں رکھتا تھا ۔وہ اس کمرے کے چپے چپے سے واقف تھا ۔یہ کمرہ اس کی اپنی ملکیت تھا ۔ جو اس نے خریدا نہیں تھا بلکہ ہتھیایا تھا ۔
ہوٹل کا مالک ایک بار دبئی آیا تھا ۔
اپنا کوئی کام کروانے جس کے بدلے میں یار م نے اس سے اس کے ہوٹل کاسب سے پرسکون اور خوبصورت کمرہ اپنے نام لکھوالیا تھا ۔
یار م نے اپنا ہاتھ کھڑکی سے باہر نکالا ۔ اور اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ تیز برفباری کی وجہ سے برف سے ڈکنے لگا ۔
برف کے نیچے ہاتھ بھی ٹھنڈہ یخ ہو رہا تھا ۔
اس نے مڑ کر بیڈ کی طرف دیکھا ۔ذرا سا ڈمپل نمایاں ہوا ۔
میرا معصوم سا بچہ۔وہ اس کا ری ایکشن سوچتے ہوئے آئستہ قدم اٹھاتا بیڈ کی طرف بھرا۔
اور برف سے بڑا ہاتھ اس کے چہرے پر اڈیلنے لگا ۔لیکن اگلے ہی لمحے اسے ترس آنے لگا ۔وہ اپنی بےبی گرل کے ساتھ ایسا تو نہیں کرسکتا تھا ۔
اس نے اپنے دوسرے ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے زرا سی برف اٹھائی۔اور آہستہ سے روح کی چھوٹی سی ناک پر رکھی
وہ بلبلا کر اٹھ کر بیٹھی۔
اور اس کے ہاتھ میں برف دیکھ کر اسے گھورنے لگی ۔
یارم یہ آپ کیا کرنے والے تھے میرے ساتھ اس نے برف سے بھرے ہوئے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا وہ صدمے سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
بےبی سوچا تو بہت کچھ تھا لیکن کر نہیں پایا تمہارے معصوم چہرے کے آگے میں ہمیشہ بے بس ہو جاتا ہوں ۔
تمہارے معاملے میں یہ دل بہت ڈھیٹ ہوتا جا رہا ہے میری تو کوئی بات سنتا ہی نہیں
وہ ہاتھ سے برف ڈس بن میں پھینکتا ہوا بولا ۔
آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں یارم ۔وہ صدمے سے بولتی ہوئی ایک بار پھر سے بستر میں گھس گئی
یہ کیا حرکت ہے روح تم ایک بار پھر سے سونے لگی ہو
اس نے روح کے چہرے سے کمبل ہٹایا ۔
لیکن افسوس روح سونے نہیں لگی تھی بلکہ وہ سوچکی تھی ۔
یااللہ کونسی نیندیں ہیں اس کی جو پوری ہی نہیں ہورہی
یار م سوچتا ہوا ۔۔۔ جیکٹ اور شوز اتار کر اسے کسی تکیہ کی طرح اپنی باہوں میں بھر کر اس کے ساتھ ہی لیٹ گیا
نیند تو ویسے بھی پوری کر چکا تھا ۔
لیکن پھر بھی یہاں روح کے قریب اس کا سکون تھا
ررح آخرکار اپنی نیندیں پوری کرکے اٹھیں تو اسے بھوک ستانے لگی جب کہ یارم اس کے ساتھ ہی آنکھیں موندھے لیٹا ہوا تھا ۔
یارم آپ سو رہے ہیں یا جاگ رہے ہیں ۔
روح معصومیت سے اس کے چہرے پہ ہاتھ پھیرتی پوچھنے لگی ۔جبکہ نیند میں ہونے کی وجہ سے 3 گھنٹے پہلے یارم نے جو ظلم نے اس پر کیا تھا وہ بھول چکی تھی ۔
جاگ رہا ہوں بےبی وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر چومتے ہوئے بولا ۔۔
تو پھر کچھ کریں میری پیٹ میں چوہے خودکشی کرکے حرام موت مریں ۔ انہیں کچھ کھلا کر ان کی جان بچا لیں۔ روح معصومیت سے اپنے بھوکے چوہوں کی داستان سنا رہی تھی
نہیں میری جان میں تمہارے معصوم چوہوں کو اس طرح سے حرام موت نہیں مرنے دوں گا
تم جاؤ فریش ہو جاؤ میں آرڈر کرتا ہوں ۔
وہ زور سے اس کا گال چومتے ہوئے اٹھا ۔
پھر ہم باہر چلیں گے گھومنے کے لیے ۔آج کی رات میں نے تمہارے لئے بہت اسپیشل سرپرائز پلان کیا ہے ۔ وہ مسکرا کر اسے بتاتا ہوا لینڈ لائن فون اٹھانے لگا ۔
یارم باہر تو بہت سردی ہوگی نہ۔ وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی ۔
بےبی سردی جتنی محسوس کرو گی اتنی لگے گی نہ ۔تم اسے محسوس ہی مت کرو ۔ بس تم آج رات کے سرپرائز کے بارے میں سوچو ۔
میں یہ ہنیمون ہمارا بیسٹ ٹور بنانا چاہتا ہوں ۔اس کا ایک ایک پل ہم ساری زندگی یاد رکھیں گے ۔ میں اسے ا سپیشل بنانا چاہتا ہوں ۔اور میں جانتا ہوں اسے اسپیشل بنانے میں تم میری مدد ضرور کرو گی ہیں نہ ۔۔۔۔؟
وہ اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے پوچھنے لگا تو روح جوش میں زور زور سے گردن ہلانے لگی ۔
یہ بات الگ تھی کے اگر اسے پتہ ہوتا کہ یہاں اتنی سردی ہے تو وہ یہاں کبھی نہیں آتی
یارم یہ دیکھیں کیا ہوگیا وہ ابھی اپنے کپڑے نکالنے رہی تھی جب اسی طرح بیگ اٹھا کر باہر آگئی
کیا ہوگیا۔۔۔۔؟
یارم بھی پریشانی سے اسے دیکھنے لگا
یارم یہ سب میرے کپڑے تو نہیں ہیں۔
دیکھیں یہ پتا نہیں کس کے کپڑے ہیں یہ جینز یہ چھوٹی سی شرٹس۔
اور میں نے تو کبھی ایسے کپڑے نہیں پہننے یہ میرے نہیں ہیں ۔
وہ حیران اور پریشان ایک ایک کپڑا اٹھا کر اسے دکھا رہی تھی جو واقع ہی اس کے نہیں تھے یارم بھی پریشان ہو کر کھڑا ہو گیا
لگتا ہے تمہارا بیگ کسی کے ساتھ چینج ہوگیا رکو میں مینیجر سے پوچھ کے آتا ہوں ۔
وہ سارے کپڑے بیگ میں ڈالتے ہوئے بولا ۔
ایسے کیسے میرا بیگ چینج ہوگیا یہ مینیجر دیکھ نہیں سکتا تھا روح منہ بنا کر بولی ۔
روح منہ بنائے اتنی کیوٹ لگ رہی تھی کہ یارم مسکرائے بنا نہ رہ سکا
بےبی غصہ مت کرو ۔
میں ابھی پوچھ کے آتا ہوں اسے تب تک تم یہ سارے کپڑے واپس پیک کر دو جس کے ہیں اسے واپس بھی دینے پڑیں گے نہ ۔وہ مسکراتا ہوا روم سے باہر نکل آیا ۔
Virkilega því miður herra Taska konan þín hefur breyst og þeir sem hafa skipt um töskur með sér hafa kíkt á hótelið
(ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں سر آپ کی وائف کا بیگ جن لوگوں کے ساتھ بدلا ہے وہ یہاں سے چیک آؤٹ کر چکے ہیں ۔)
ہوٹل کے منیجر نے اپنی مخصوص زبان میں جواب دیا
lagiSkiptir engu að það sé í lagi
(کوئی بات نہیں اٹس اوکے ۔)
یارم ائسلینڈک زبان میں جواب دیتا ہوں واپس کمرے میں آگیا
بےبی کچھ بھی پہن لوان میں سے کیونکہ تمہارے لئے ایک بہت بری خبر لایا ہوں میں
یارم کمرے میں آتے ہی بیڈ پر لیٹ گیا
جن لوگوں کے ساتھ تمہارا بیگ چینج ہوا ہے نہ وہ اس ہوٹل کو چھوڑ کر جا چکے ہیں ۔
اور اس ملک میں تمہیں پاکستانی کپڑے نہیں ملیں گے ۔
دعا کرو کہ اس لڑکی کو وقت پر پتہ چل جائے ۔کہ اس کا بیگ چینج ہوا ہے اسی کنڈیشن میں تمہیں تمہارا بیگ واپس مل سکتا ہے ۔
ورنہ تمہیں یہاں پہ انہی کپڑوں کے ساتھ گزارہ کرنا ہوگا
اگر تم چاہو تو ہم شوپنگ پے بھی جا سکتے ہیں لیکن تمہیں یہاں پر ایسے ہی کپڑے ملیں گے ۔
یارم میں تو اسے کپڑے نہیں پہنتی آپ کو تو پتا ہے نہ میں یہ عجیب کپڑے نہیں پہن سکتی ۔وہ پریشانی سے ایک ایک کپڑا اٹھا کر اسے دکھا رہی تھی ۔
دیکھو روح جلدی فیصلہ کرو میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ اب ہم باہر جانے والے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ کپڑوں کی ضد کی وجہ سے میرا سرپرائز خراب ہو ۔اسی لیے جلدی سے ان میں سے پہننے کے لائق کپڑے دیکھو اور پہن لو ۔
اور فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے
ہم کل ہی شاپنگ کریں گے اور تمہارے لیے کچھ پہننے کے لائق کپڑے خرید لیں گے ۔
لیکن وقتی گزارا تو کرنا پڑے گا نا ۔
پلیز اب جلدی کرو ۔
آپ نے مجھے حجاب بھی نہیں لانے دیا ۔اگر وہ میرے پاس ہوتا تو میں نیچے یہی کپڑے پہن لیتی ۔
لیکن اب بنا عبایا کے آپ مجھے یہ بے فضول ناقابل قبول کپڑے پہننے کے لئے کہہ رہے ہیں ۔
آپ نے ایسا جان بوجھ کر تو نہیں کیا روح نے انگلی اٹھا کر اس کی طرف شک کی نظروں سے دیکھا
روح میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی بیوی کو کسی اور کی توجہ بنائے ۔
اگر میں تمہیں ایسے کپڑے پہنانا چاہوں تو مجھے اس طرح کے بہانے کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
یہ میری مجبوری ہے کہ میں تمہیں یہ کپڑے پہننے دے رہا ہوں ۔ورنہ کب کا باہر رکھ کے آگ لگا چکا ہوتا ۔
اب جلدی کرو کچھ دیکھ کر پہن لو یار م خود ہی بیگ سے کوئی قابل کپڑے ڈھونڈنے لگا
اور پھر جینز کے ساتھ ایک لانگ شرٹ نظر آہی گئی لیکن افسوس سلیوزلیس
یہ لو یہ پہن لو ۔
ہائے یار م یہ کیسے پہنوں میں ۔ان کپڑوں کے ساتھ بازو کا کپڑا ہی نہیں ہے میں نہیں پہن سکتی ۔
روح کپڑے بیڈ پر پھینک کر وہی منہ بنا کر بیٹھ گئی لیکن یارم کی گھوری پرنظریں پڑتے ہی خاموش ہوگئی
کیا چاہتی ہو تم میں خود اپنے ہاتھوں سے پہناوں یارم نے گھورکر کہا
نہیں میں خود پہن لو ں گی وہ منہ بناتے ہوئے اٹھی اور واش روم میں گھس گئی ۔
ایسے منہ بنائے ہوئے اتنی پیاری لگ رہی تھی کی یارم کا اس پر غصہ کرنے کا بالکل دل نہیں کر رہا تھا لیکن ہائے یہ مجبوری
وہ چینج کرکے باہر آئی کپڑے بلکل اس کے ناپ کے تھے ۔
لیکن بازو پہ بالکل بھی کپڑا نہ تھا ۔ وہ اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے بازو کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی اب بھی وہ یارم سے بہت زیادہ شرماتی تھی ۔ اور پھر کبھی اس کے سامنے ایسے کپڑے نہیں پہنے تھے سو بہت شرم آ رہی تھی
یارم اس کی شرم و حیا دیکھ کر بہت محفوظ ہو رہا تھا
اسے مزید شرمندگی سے بچانے کے لیے یار م نے اپنا جیکٹ اتارا اور اسے پہنانے لگا ۔اس نے بھی فوراً جیکٹ پہن لی
یارم بازو کا تو ہوگیا لیکن دوپٹہ نہیں ہے
دوپٹہ تو مسئلہ ہے ۔لیکن تمہارے پاس شال ہے نہ ۔یار م نے بتایا تو خوش ہوگئی
شکر ہے اس کے پاس شال تو تھی ورنہ ایسے بے ڈھنگے کپڑے وہ پہن کر باہر کیسے جاتی ویسے یہ کپڑے صرف اسی کو بے ڈھنگے لگ رہے تھے ۔یارم نے اس کے لئے ایسے کپڑے ڈھونڈے تھے جینے وہ آسانی سے پہن سکے ۔ان کپڑوں میں کہیں سے بھی وہ بے لباس نہیں ہو رہی تھی اور بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔
وہ باہر نکلنے تو باہر کافی اندھیرا چھا چکا تھا یار م یہ کیا اتنا اندھیرا کیوں ہے یہاں ۔
تمہیں بتایا تو تھا کہ یہاں پردودو ہفتے سورج طلوع نہیں ہوتا ۔
تمہیں کہا بھی تھا اٹھ جاؤ جلدی چلتے ہیں لیکن تم نے تب میری بات نہیں مانی اب اندھیرے میں ہی چلنا ہوگا اور ویسے بھی اتنا زیادہ ٹائم نہیں ہوا ابھی تو صرف تین ہی بجے ہیں ۔
ہاں صرف تین ہی بجے ہیں لیکن ایسا لگ رہا ہے شام کے سات بج رہے ہیں ۔روح اس کے ساتھ چلتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ اپنے آپ کو مکمل طور پر شال ٹوپی دستانوں اور جیکٹ سے ڈھکا ہوا تھا ۔
یہاں آتے ہی یارم کو ایک بات بتا چلی تھی کہ اسے سردی بہت لگتی ہے یا وہ سردی کو بہت زیادہ محسوس کرتی ہے یہ بات الگ تھی کہ اگر برف گر رہی ہو تو سردی اتنی زیادہ محسوس نہیں ہوتی ۔
یہ یہاں کے لوگوں کا کہنا تھا اور یارم بھی اس بات سے اتفاق کرتا تھا ۔
یارم ہم جا کہاں رہے ہیں وہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولی ۔
ہوٹل کی پچھلی جانب یارم اس کا ہاتھ تھامے اپنے ساتھ چلائے جا رہا تھا ۔
پھر ایک جگہ جہاں پر ہوٹل کے ہی کچھ لوگ کھڑے کچھ کر رہے تھے ان کے قریب چلا گیا
Allt gert
(سب کام ہو گیا )۔۔۔؟یارم نے پوچھا
Já, báðir eruð þið með áætlun
(جی سب ہو چکا ہےآپ دونوں انجوائے کریں ۔)
آدمی کہہ کر چلے گئے ۔
یارم یہ لوگ آپ سے کیا کہہ رہے تھے یہ کون سی زبان بولتے ہیں مجھے تو یہ عربی نہیں لگتی ۔
ان لوگوں کے جانے کے بعد روح یارم سے پوچھنے لگی
ہر ملک کی اپنی زبان ہوتی ہے روح ہر کوئی اپنی زبان بولتا ہے جیسے ہم اردو میں بات کرتے ہیں دبئی والے عربی میں بات کرتے ہیں یہاں کے لوگوں کی اپنی ایک زبان ہے ۔
اب تم ان سب کو چھوڑو یہاں اندر آؤ ۔
اگلے دو منٹ پچاس سیکنڈ میں تمہاری خواہش پوری ہونے والی ہے ۔
وہ ا سے کھینچ کر اس جگہ پر لانے لگا جہاں کچھ دیر پہلے وہ آدمی کچھ کر رہے تھے یہاں ایک گول سی شکل میں ایک گریل نما کوئی چیز بنائی گئی تھی جس کے آگے پیچھے ہر طرف لال گلاب لگے تھے ۔
یارم نے گریل کا دروازہ کھولا اور اسے اندر لایا ۔
یارم یہ کتنا پیارا لگ رہا ہے ۔ روح دل سے تعریف کرتی ہوئی مسکرائی۔
ہاں لیکن تم سے پیارا نہیں ۔ یارم نے اس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا ۔
آج تک میں کہتا آیا ہوں آج تم کہو گی تم نے خدا سے مجھے تو مانگ لیا اب مجھے یہ بتاؤ کہ تم بھی میری ہو کہ نہیں ۔
روح میں تمہاری زبان سے سننا چاہتا ہوں کیا تم مجھ سے پیار کرتی ہو ۔۔۔۔؟
وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامے پوچھنے لگا ۔
روح نے شرماتے ہوئے ہاں میں گردن ہلائی
ایسے نہیں زبان سے بولو ۔
ہاں ۔رؤح شرماتے ہوئے اس کے سینے سے لگی
اوہو پورا بولو بےبی یارم نے اسے خودسے قریب کرتے ہوئے مزید باہوں میں بھرا ۔
مجھے ان گوروں کی زبان میں بولنا ہے ۔اپنا بچنامشکل دیکھ کر روح نے بہانہ گرا ۔
اچھا جی ۔۔یہ بھی اچھی بات ہے ۔
تو پھر کہو مجھ سے کہ
ég elska þig
یارم نے مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ تھاما ۔
یہ کیا ہے روح نے ٹھیڑا میڑا منہ بنا کر اس ائسلینڈک زبان کا اظہار محبت سنا ۔
اس کا مطلب ہے کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں ۔
اب تم بھی بولو جلدی
میں کیا بولوں ۔۔۔روح نے شرارتی انداز میں کہا تو یارم اسے گھورکے رہ گیا ۔
اچھا اچھا کہتی ہوں یہ بڑی بڑی آنکھوں سے ڈرانہ بند کریں مجھے ۔ روح نے احسان کرنے والے انداز میں کہا ۔
یارم کے ڈیمپل نمایاں ہوئے
ہاں کیا تھا وہ میں بھول گئی
وہ آئگو میگو۔
روح وہ آئگو میگو نہیں
ég elska þig
ہے یارم نے صدمے سے ائسلینڈک کا بیرا غرق ہوتے ہوئے سنا
ہاں ہاں وہی
ég elska þig
روح نے دانت دکھاتے ہوئے کہا ۔
اور اس کے اظہار کرتے ہی آسمان سے برف گرنے لگی ۔یارم نے پورا انتظام کیا تھا کہ وہ اس سے اظہار محبت کرے گی تب ہی برف گرنا شروع ہو گی اس لئے تو وہ اتنی جلدی مچا رہا تھا اس سے پہلے
اس نے ہر ایک سیکنڈ کے ٹائم کا حساب کیا تھا ۔
یہاں کے لوگوں کو پہلے ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ برف کب گرنا شروع ہوگی ۔
لیکن یارم کو اس بات کا اندازہ ہرگز نہ تھا کہ اس کا اظہار محبت اس طرح سے ہوگا ۔
وہ اسے موسٹ رومینٹک بنانا چاہتا تھا ۔ لیکن روح کا آئیسلینڈک زبان سیکھنے کا شوق اس کے اظہار محبت کا بیڑہ غرق کر گیا تھا
یارم کا ارادہ ابھی وہیں رکنے کا تھا لیکن روح نے برف کی وجہ سے جلدی واپس چلنے کو کہا ۔
یارم کا کہنا تھا کہ وہ ڈنر کرکے جائیں گے ۔
لیکن روح نے کہا کہ وہ ڈنربھی روم میں کریں گے کیونکہ اسے بہت سردی لگ رہی تھی ۔
آخر یارم کو روح کی ہی بات ماننی پڑی ۔
وہ اسے روم میں چلنے کا کہہ کر کھانا آرڈر کرنے چلا گیا
Sjáðu hversu falleg og heit þessi stelpa er
(اس لڑکی کو دیکھو کتنی خوبصورت اور ہاٹ ہے )
Já maður, þetta er of heitt
(ہاں یار یہ تو بہت ہی زیادہ ہاٹ ہے )۔
روح اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی جب پاس کھڑے لڑکوں نے اس کی طرف دیکھ کر کومنٹس پاس کیے۔
روح تو ان کی زبان سمجھی ہی نہیں اور نہ ہی اس نے ان لڑکوں کو اپنی طرف متوجہ دیکھا ۔
وہ تو ان کے پاس سے گزر کر اپنے کمرے کی طرف جانے لگی ۔
جبکہ یارم یہ سب کچھ سن چکا تھا ۔
غصے سے اس کے ماتھے کی رگیں تک باہر ابھر رہی تھی ۔
کوئی اس کی بیوی پر اس طرح سے کمنٹ پاس کرے وہ کیسے برداشت کرسکتا تھا ۔
وہ تو کسی دوسرے کی ماں بہن کی ذات پر اس طرح سے بات نہیں کرنے دیتا تھا یہاں تو اس کی بیوی کے بارے میں بات ہو رہی تھی ۔
وہ خاموشی سے کھانا آرڈر کرکے وہاں سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف جانے لگا ۔
جب مڑ کر ایک دفعہ ان دو لڑکوں کو دیکھا ۔جواب کسی اور لڑکی کو دیکھ کر اس طرح سے کمنٹ پاس کر رہے تھے
اس نے کمرے میں قدم رکھا توروح اس کا کرتا پہن کر جو کہ زمین پر لٹک رہا تھا نماز ادا کر رہی تھی ۔
اس نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔
اس کے کرتے میں وہ ناصرف بہت پیاری لگ رہی تھی ۔ بلکہ یارم تو یہ سوچ کر خوش ہو رہا تھا کہ کتنے حق سے وہ اس کی چیزیں استعمال کر رہی ہے ۔
وہ بیڈ پر بیٹھ کر اس کے نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا
تب یہی ویٹر کھانا لے کر آگیا ۔
یارم نے دروازے سے ہی اس کے ہاتھ سے کھانے والی ٹرالی کو خود پکڑ کر اندر گھسیٹ لیا ۔
پھر کھانا ٹیبل پر لگا کر اس کا انتظار کرنے لگا جو کہ اب دعا مانگ رہی تھی ۔
میں یہ کپڑے چینج کرکے آتی ہوں
وہ نماز سے فارغ ہوکر واش روم جانے لگی ۔
ارے کیوں جا رہی ہو اتنی پیاری تو لگ رہی ہوان میں کیوں چینج کرنا چاہتی ہویہاں آؤ بیٹھو اور کھانا کھاؤ ۔
کہاں پیاری لگ رہی ہوں مجھے تو لگتا ہے میں ان میں گم ہو جاؤں گی روح نے منہ بنا کر کہا ۔
ڈونٹ وری میں ڈھونڈ نکالوں گا ۔ یارم نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ اس کے قریب آ کر بیٹھ گئی ۔
آپ کتنے جھوٹے ہیں نہ آپ کہتے ہیں آپ مجھ سے اتنا پیار کرتے ہیں اور میں آپ سے ایک چیز مانگتی ہوں وہ آپ مجھے دیتے ہی نہیں روح روٹھے انداز میں بولی
ارے میری جان میں تو انتظار میں بیٹھا رہتا ہوں کہ تم کب مجھ سے کچھ مانگو گی بتاؤں تمہیں کیا چاہیے ۔یارم پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھا ۔
جب روح نے اپنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی اسکے ڈمپل پر رکھی
یہ مجھے یہ چاہیے ۔
ارے میرا بےبی یہ تو ہیں ہی تمہارے تم جب چاہے لے لو بلکہ میں ایسا کرتا ہوں اس گال پے ایک ٹیٹو بنوا لیتا ہوں جس پہ لکھا ہو روحِ یارم کی پراپرٹی ۔
تاکہ یہ تم سے کوئی بھی نہ چھین پائے ۔
اس نے مکمل ڈمپلز کی نمائش کرتے اپنے لب اس کے گال پر رکھے ۔
یارم آنکھیں بند کریں ۔روح نے شرماتے ہوئے کہا
کیوں ۔۔یارم کا بس چلتا تو وہ کبھی اس کا شرمایا شرمایا سے یہ روپ اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیتا ۔
کریں نا پلیز ۔ روح ضدی سے انداز میں بولی
اوکے یارم نے بس اتنا کہہ کر اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔
نو چیٹنگ ۔۔۔ روح نے پھر سے کہا
آئی نیور چیٹ ۔ روح ۔۔۔یارم آنکھیں بند کئے ہوئے بولا ۔
روح نے یقین کرکے اس کی آنکھیں بند ہیں اس کے چہرے کے قریب آئی۔
اور اپنے ہونٹوں کو بالکل اس کے لبوں کے قریب لے گئی ۔
مگر ہمت نہ کر پائی اس لیے پیچھے ہوگئی ۔ پھر حوصلہ پیدا کیا اور پھر اس کے قریب گئی ۔
رہنے دو روح تم سے نہیں ہوگا یارم آخر بول پڑا
ہہہہیو ہو گا نہ ۔ ۔۔۔ روح کنفیڈنس سے بولی مگر لڑکھڑا گئی ۔
اااااااوکے دئن ۔ وہ اسی کے انداز میں کہتا مزید اس کے قریب ہوا ۔
روح نے ایک بار پھر سے اپنی تمام تر ہمت جمع کی اور اس کے قریب گئی ۔
اور پھر ہمت ہار کے اس کے گال پر اپنے لب رکھ دئے ۔
بس ہوگیا کہا تھا نا تم سے نہیں ہوگا یارم جی بھر کے بدمزا ہوا ۔
ہاں مجھ سے نہیں ہوتا ۔ اور آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں مجھ سے بات مت کیجئے گا ۔ روح اپنی شرمندگی چھپاتے ہوئے اٹھ کر بیڈ پر گئی اور سر سے پیر تک کمبل تان کےلیٹ گئی ۔
جبکہ اسکا پیارا ساروپ یارم کو اندر تک سرشار کر گیا تھا ۔
رات کے تقریبا ایک بجے کا وقت تھا یار م ابھی تک جاگ رہا تھا جبکہ اس کے پاس لیٹی روح مکمل خوابوں کی دنیا میں تھی ۔
وہ آرام سے اس کے قریب سے اٹھا ۔
اور اپنے بیگ کی طرف گیا ۔
ایک مٹھی میں بیگ سے کوئی چیز نکالی اور اسے مٹھی میں دبا کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔
وہ آہستہ آہستہ چلتا پورے ہوٹل کو دیکھ رہا تھا ۔
جہاں اس وقت رسیپشن پر ایک لڑکی بیٹھی تھی ۔ اس لڑکی کی آنکھیں بند تھی ویسے بھی یارم اس لڑکی کی نظروں میں آئے بغیر وہاں سے نکلنا چاہتا تھا
اس نے اپنے آپ کو ہوڈ سے کور کیا تاکہ کوئی اسے پہچان نہ پائے
یارم اتنی خاموشی سے نکلا کہ اپنی آہٹ تک اس لڑکی کو محسوس نہ ہونے دی۔
باہر ابھی تک برف باری ہو رہی تھی یارم آہستہ سے چلتا سویمنگ پول تک آیاجو کہ برف سے ڈھکا ہوا تھا ۔
اتنی سردی میں بھی یہاں پر لوگ نشے میں دھت موسم انجوائے کر رہے تھے ۔
اس ملک میں شراب پینا غلط نہ سمجھا جاتا تھا یہاں ہر کوئی شراب کا عادی تھا ۔
وہ آہستہ سے ان آدمیوں کے قریب آیا ۔اور ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہنے لگا
Einhver þarna úti hringir í þig
(وہاں پے باہر تمہیں کوئی بلا رہا ہے )
وہ آدمی ایک نظر دروازے کی طرف دیکھتے اور پھر اس کی طرف اسمائل پاس کرکے باہر کی طرف نکل گئے
یارم کچھ دیر ان لڑکوں کے ساتھ رہا جو ڈانس اور نشے میں مکمل ہوش و حواس سے بیگانہ تھے ۔
پھر آہستہ آہستہ غیر محسوس انداز میں وہاں سے نکل کر ان لڑکوں کے پیچھے چلا گیا ۔
Enginn hér virðist hafa logið að okkur.
Ég mun sjá hvers vegna hann laug að okkur. Við skulum sjá. Enginn hringdi í okkur hingað
(یہاں پر تو کوئی نہیں ہے لگتا ہے اس لڑکے نے ہم سے جھوٹ کہا ہے ۔
اس نے ہم سے جھوٹ کیوں بولا دیکھ لوں گا میں اسے ۔ چلو چل کے دیکھتے ہیں ۔ یہاں پر تو ہمیں کسی نے نہیں بلایا یہاں پر تو کوئی ہے ہی نہیں ۔)
وہ دونوں واپس جانے کے لیے مڑے جب دیکھا یارم سامنے گیٹ پر کھڑا تھا ۔
روح کی آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو یارم کے حصار میں پایا ۔
وہ مسکراتے ہوئے اٹھی اور واش روم جانے لگی ۔
جب باہر سے ذرا ذرا شور کی آواز سنی تو کھڑکی کی طرف جانے لگی جہاں سے آواز آرہی تھی یا رم نے اسے جھوٹ بولا تھا کہ اس کمرے میں کھڑکی نہیں ہے ۔
اس بات کو یا رم نے خود ہی بعد میں بتایا تھا ۔
اس نے کھڑکی کھولی تو باہر مکمل اندھیرا تھا لیکن باہر مین گیٹ نظر آرہا تھا یہاں پر کچھ لوگ یونیفارم میں کھڑے تھے ۔
جو کہ ہاتھ میں ٹارچ لیے آگے پیچھے دیکھ رہے تھے ۔ ہوٹل کی انتظامیہ بھی وہیں کھڑی تھی۔
اس نے سوچا کیوں نہ وہ یارم کو جگائے لیکن وہ گہری نیند میں سو رہا تھا اس لیے اسے جگائے بغیر ہی وہ کھڑکی پر کھڑے ان لوگوں کو دیکھتی رہی ۔
وہ باہر جانا چاہتی تھی لیکن وہ ان لوگوں سے کیسے پوچھتی کی آخر کیا مسئلہ ہے کیونکہ نہ تو اسے انگلش ٹھیک آتی تھی اور نہ ہی ان کے ملک کی زبان ۔اس لئے خاموشی سے کھڑی یہ سب کچھ دیکھتی رہی ۔
پھر وہاں ایک ایمولیس آئی اور دو لوگوں کو گاڑی میں ڈال کر لے گئی
یا خدایا اس کا مطلب یہاں پر قتل ہوئے ہیں ۔
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ بیمار ہوں ضروری تو نہیں کہ وہ لوگ مرے ہوئے ہوں لیکن اگر وہ لوگ صرف بیمار ہوتے تو پولیس یہاں کیوں آتی ۔
یہی سب کچھ دیکھتے ہوئے اس نے یارم کو جگانا ہی بہتر سمجھا
یارم اٹھیں ۔ دیکھیں باہر پولیس آئی ہے مجھے لگتا ہے یہاں کچھ گڑبڑ ہوئی ہے ایمولیس بھی آئی ہے ۔
کچھ لوگوں کو لے کر گئے ہیں یہاں سے
وہ اس کے قریب آ کر اس کو جگانے لگی ۔
لیکن شاید یارم کے اٹھنے کا کوئی ارادہ نہ تھا وہ کروٹ لے کر دوسری طرف مڑ گیا
یارم اٹھیں نا دیکھیں نہ ۔روح نے ہمت نہ ہاری ایک بار پھر سے اسے جگانے لگی ۔
جب اچانک یارم نے اسے پکڑ کر ایک جھٹکے سے بیڈ پر گرایا اور اس کے اوپر جھکا ۔
تمہیں کیا ہے وہ جو بھی کریں دوسروں کی فکر کرتی ہو کبھی میرے بارے میں سوچا ہے ۔
اس کے ارادے جان کر روح نے فورا بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کی ۔ مگر یارم کی گرفت اتنی بھی ہلکی نہ تھی
وہ اس کا دوپٹا ایک طرف پھینکتا ایک بار پھر سے اس کے چہرے پر جھکا تھا ۔
یارم میری بات تو سنیں باہر وہاں ۔ ۔ اس سے پہلے کے روح کچھ اور کہتی یارم نے اس کے لبوں پر اپنی انگلی رکھ دی ۔
میری بات سنو ۔
آئی لو یو ۔ بھول جاؤ سب کچھ صرف میرے بارے میں سوچو ۔ صرف مجھے سنو ۔
اس کے بالوں میں منہ چھپاتا وہ دھیرے دھیرے سرگوشیاں کر رہا تھا ۔
کچھ دیر میں روح بھول ہی گئی کہ وہ اسے کیا کہنے والی تھی ۔
اگر یاد رہا تو بس اتنا کہ وہ اس وقت یارم کی باہوں میں ہے ۔دھیرے دھیرے اس کے کان میں سرگوشیاں کرتے یارم اسے کسی اور دنیا میں لے گیا ۔
جہاں صرف روح اور یارم تھے جہاں کسی تیسرے وجود کی کوئی جگہ نہ تھی ۔
اپنے چہرے پر اپنے ہونٹوں پر اپنی گردن پر یارم کے لبوں کا لمس محسوس کرتی وہ اس وقت صرف یارم کو ہی سوچ رہی تھی ۔
جبکہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا یارم مکمل طور پر اپنی روح میں کھو چکا تھا ۔
روح کی آنکھ کھلی تو ساڑھے دس بج رہے تھے یارم کمرے میں نہیں تھا ۔
اٹھ کر فریش ہوئی اور یارم کا انتظار کرنے لگی یار م کے پاس اس کا فون نہیں تھا ۔۔۔ وہ اپنا فون لایا ہی نہیں تھا جبکہ وہ اپنا فون ساتھ لائی تھی ۔
لیکن اس فون پر سوائے یارم کے اور کوئی فون نہیں کر سکتا تھا ۔اور یہ بات روح کو پتا ہی نہیں تھی
کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بھی یارم واپس نہیں آیا ۔
نہ جانے کہاں چلے گئے بتا کر تو جاتے ۔
وہ کافی دیر کمرے میں ٹہلتی رہی ۔ویٹراس کے لئے ناشتہ لے کر آیا ۔
لیکن وہ اس سے بھی یا رم کے بارے میں کچھ نہیں پوچھ سکتی تھی کیوںکہ اس بچارے کو اردو آتی نہیں تھی ۔
اور روح اس کی زبان سمجھ جائے یہ تقریبا ناممکن تھا ۔
خود کمرے سے باہر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔اسے یارم کے وہ تھپڑ آج بھی یاد تھے ۔
جب کچھ بھی نہ بچا تو ٹی وی اون کرکے بیٹھ گئی
یارم تقریبا بارہ بجے واپس آیا ۔
اس کے کمرے میں آتے ہی روح منہ پھیر کر بیٹھ گئی اس کے اس طرح سے بیٹھنے پر یارم بےساختہ مسکراتے ہوئے اس کے قریب آیا ۔
تو میرا بےبی ناراض ہے مجھ سے ۔میرا بچہ بات بھی نہیں کرے گا مجھ سے ۔ وہ اس کے قریب آیا اور اسے اپنی باہوں میں لیا
مجھے لگا ابھی تمہارے جاگنے کا کوئی چانس نہیں ہے اس لیے گیا تھا
ہاں تو بتا کے بھی تو جاسکتے تھے میں کتنی دیر سے انتظار کررہی ہوں ۔ جائیں مجھے نہیں بات کرنی ہے آپ سے ۔۔۔ ایسے کیسے مجھے اکیلے چھوڑ کر چلے گئے ۔ ۔وہ اب بھی غصے سے منہ پھیرے ہوئے تھی۔
بےبی بولانا آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی وہ دونوں ہاتھوں سے اپنے کان پکڑ کر بولا ۔
اٹس اوکے لیکن آپ گئے کہاں تھے ۔ اس کے ہاتھ کانوں سے ہٹاتے ہوئے پوچھا ۔
ایسے نہیں بتاؤں گا پہلے اپنی آنکھیں بند کرو
آپ میرے لیے گفٹ لائیں ہیں ۔روح آنکھیں چمکا کے بولی
ہاں لایا ہوں بابا گفٹ لایا ہوں تمہارے لیے اب آنکھیں بند کرو
یارم نے اسے پیار سے پچکارتے ہوئے کہا ۔
روح نے فوراً آنکھیں بند کر لیں ۔
جب یارم اپنی جیب سے کچھ نکالنے لگا تب روح نے ذرا سی آنکھ کھولی ۔
امہم ۔ نو چیٹنگ ۔ یارم نے سختی سے کہا ۔
اوکے سوری سوری اب نہیں کرتی روح نے زورسے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا ۔
جب یارم نے اس کے گلے سے دوپٹہ نکالتے ہوئے کچھ پہنایا ۔
دنیا کی سب سے خاص لڑکی کے لئے ایک خاص تحفہ ۔
آنکھیں کھولوں ۔ روح نے ایکسائٹڈ ہو کر پوچھا ۔
ہاں اب کھولو۔
یارم کا آرڈر ملتے ہی روح نے فوراً آنکھیں کھولی اور اپنے گلے میں پہنا لاکٹ دیکھنے لگی ۔
جس میں ایک نیلے رنگ کا ہیرا تھا ۔ اس ہیرے کو اس چین میں کس طرح سے جوڑا گیا تھا سمجھنا بہت مشکل تھا ۔
جبکہ ہیرے کے اندر ایک تحریر لکھی تھی ۔
یارم یہ کیا لکھا ہے اس کے اندر ۔۔۔؟
سمجھنا مشکل تھا لیکن اس کے اندر روحِ یارم پڑھنا اتنا مشکل نہ تھا
Yaram elskar rooh
یعنی کہ یارم اپنی روح سے بے انتہا محبت کرتا ہے ۔
یارم نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ہیرے پر لکھی تحریر اسے سنائی۔
روح نے شرما کے نظریں جھکا لیں ۔
ویسے تم آئی لو یو ٹو بول سکتی ہو ۔یارم نے شرارت سے کہا ۔
اف لڑکی کتنا شرماتی ہو ۔ چلو ادھرآو اور بدلے میں مجھے اس کے کوئی گفٹ دو ۔یارم نے کھینچ کر اسے اپنے قریب کرتے ہوئے کہا۔
میں کیا دوں۔۔۔؟ وہ اتنی ہلکی آواز میں منمنائی کے یارم بمشکل سن پایا۔
وہ جو کل دینے والی تھی ۔
یارم نے اس کے ہونٹوں کو انگلی سے سہلاتے ہوئے کہا ۔
میں تو نہیں دوں گی ۔
روح شرارت سے کہتی ہے اسے دھکا دے کر دور ہوئی ۔ جب کہ یارم نے ایک ہی جھٹکے میں اسے پکڑ کر واپس اپنے قریب تر کر لیا ۔
لیکن تم مجھے جانتی ہو میں تو لے ہی لوں گا ۔اس کی ہونٹوں پر پورے استحاق سے مہر ثبت کرتے ہوئے کہا۔
تم نے مجھے پاگل کر دیا ہے ۔
سوچتا ہوں تم مجھ سے دور چلی گئی تو میرا کیا ہوگا۔
آئی لو یو ۔ اس کے چہرے پر جابجا اپنی محبت کی نشانی چھوڑتا ۔ایک بار پھر سے اس کے ہوش ٹھکانے لگا رہا تھا ۔
جب اچانک روح کو صبح والا قصہ یاد آگیا ۔
یارم صبح ہوٹل میں کیا ہوا تھا آپ تو باہر گئے تھے نہ کچھ تو پتا چلا ہوگا پولیس کیوں آئی تھی ۔ روح پوچھنے لگی ۔
ہاں وہ دو لڑکے تھے کسی نے ان کی زبان کاٹ دی۔ اور ان کے جسم پر چھوٹے چھوٹے زخموں کے نشان تھے ۔
جیسے کسی نے بلیڈ سے ان کے جسم کے چھوٹے چھوٹے حصے کاٹے ہوں ۔
ویسے خبر ملی ہے کہ وہ ریپ کر کے اس ہوٹل میں چھپے ہوئے تھے ۔
پولیس ویسے بھی ان کی تلاش میں تھی ۔
اچھا ہی ہوا کسی نے پولیس کی ہیلپ کردی۔ یارم نے مسکراتے ہوئے بتایا ۔
یارم لیکن وہ پولیس کو گرفتار بھی تو کروا سکتا تھا اس طرح سے ان پر ظلم کرنے کی کیا ضرورت تھی یہ تو بے حسی کی انتہا ہے ۔
پجارے کتنی تکلیف میں ہوں گے اور کسی نے ان کی زبان کاٹ دی ۔ جسم پر کٹ لگا دیے۔ جانے کتنا بے حس آدمی ہے ۔جسے ان پر ترس نہیں آیا ۔
انسان تو ہو ہی نہیں سکتا ۔کتنا بے رحم تھا وہ۔ اس نے
بس بہت ہو گیا کیا بیکار باتیں لے کر بیٹھ گئی ہو ۔کب سے بکواس کیے جا رہی ہو۔کوئی اور بات نہیں ہے کہ تمہارے پاس کرنے کی وہ اتنے زور سے چلایا کہ روح گھبرا کر اس سے دور ہوئی۔
میں تو بس ۔ وہ منمنائی ۔
جب یارم نے کھینچ کر قریب کیا ۔ دور مت جایا کرو مجھ سے ۔کبھی نہیں ۔اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولا ۔
اس کے ہاتھ کی گرفت اتنی سخت تھی ۔کہ رو ح کو اپنے بازو میں اس کی انگلیاں دستی ہوئی محسوس ہوئی۔
یارم مجھے درد ہو رہا ہے ۔ ۔ اس نے یارم کے ہاتھوں پہ اپنے ہاتھ رکھنے کی کوشش کی ۔
مجھ سے دور نہیں جاؤ گی نا ۔۔۔؟ ایک عجیب جنون سے وہ پوچھ رہا تھا ۔
کہاں جاؤں گی آپ کے بغیر کیا ہوگیا ہے آپ کو چھوڑیں مجھے ۔ وہ اپنے آپ چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی ۔
اگر مجھ سے دور جانے کی کوشش کی نہ تو میں جان لے لوں گا ۔اس کے بازو چھوڑ کر اس سے اپنے سینے میں بھیجتے ہوئے بولا ۔
جبکہ روح حیران اور پریشان اس کا یہ روپ دیکھ رہی تھی
یارم بے مقصد گاڑی سڑکوں پر دوڑہا رہا تھا یہ گاڑی اس نے یہاں آکر لی تھی ۔
تقریبا تین گھنٹے ہو چکے تھے اس کمرے سے نکلے ہوئے ۔
اور پچھلے تین گھنٹے سے وہ صرف اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا وہ جانتا تھا وہ روح کو ضرور کچھ نہ کچھ کر دے گا ۔
اور وہ روح کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا تھا وہ اسے کبھی خود سے دور نہیں جانے دے سکتا تھا ۔
وہی تو تھی جس کے سامنے وہ اپنے دل کی ہر بات کہنا چاہتا تھا ۔
وہ اسے تکلیف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔
مجھے کوئی نہیں سمجھ سکتا تم تو سمجھنے کی کوشش کرو ۔روح ۔ میرا کوئی نہیں ہے تمہارے علاوہ
میرا یقین کرو روح میں نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا میں جو بھی کرتا ہوں وہ بالکل سہی ہے اچھے کے لئے ہے ۔
میں تمہیں تکلیف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تم تو اس درندے کی زندگی میں آیا ہوا فرشتہ ہو ۔
اسے یاد تھا ۔جب یارم نے روح کو گلے لگایا وہ کس طرح سے اس کی گرفت میں مچلی تھی ۔
اس سے دور جانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
اس سے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی اور یہی وہ بات یارم کو اندر تک ہلا کر رکھ گئی تھی ۔
وہ اس کی گرفت کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی جب یارم نے خود ہی اسے خود سے دور کیا اور کمرے سے باہر نکل گیا
تم میرے لیے میرا سب کچھ ہو روح
جب پہلی بار تم آئی وہ معصوم چہرہ وہ معصوم روپ مجھے اندر تک ہلا گیا روح
وہ جو مجھے پہلی نظر میں ہی ہوگئی وہ محبت تھی روح
ہاں میں تمہارے سامنے پہلی نظر میں ہی ہار گیا تھا ۔
تمہارا معصوم چہرہ مجھے ایک ہی نظر میں اپنا دیوانہ کر گیا ۔
اس دن میرے دل نے فیصلہ کرلیا کہ تم میری زندگی میں آؤگی ۔
لیکن میں جانتا تھا یہ ممکن نہیں ہے ۔ میں اپنی دنیا کا ایک شیطان ہوں ۔
ایک درندہ جسے کبھی کسی پر ترس نہیں آتا
میں نے اسی وقت اپنے جذبات تو کو لگام دینے کی کوشش کی ۔
لیکن جب تم نے مجھ سے کہا کہ تم فلائٹ میں ڈر گئی تھی تو میرا دل چاہا کہ میں سب کچھ بھول بھال کے تمہیں اپنے سینے سے لگا کے تمہارا سارا ڈر بھلا دوں ۔
کمرے سے نکل کر میں نے یہی فیصلہ کیا کہ میں دوبارہ تمہارے سامنے نہیں آؤں گا
میرا دل چاہا میں تم سے سختی سے بات کروں۔ تمہیں نرمی سے مخاطب کرکے میں غلطی کر رہا ہوں لیکن میں ایسا نہیں کر پایا روح بہت کوشش کے باوجود بھی میں تمہارے ساتھ سختی سے بات نہیں کر پایا اسی وجہ سےکہ میں اس دن اس کمرے سے باہر نکل گیا ۔
کبھی تمہارے سامنے واپس نہ آنے کے لئے ۔
لیلیٰ نے تمہیں اپنے ساتھ لے جانے سے انکار کردیا میں خود بھی یہی چاہتا تھا کہ تم اس کے ساتھ نہیں بلکہ میرے ساتھ چلو ۔
میں تمہیں اپنے ساتھ اپنے گھر میں لے کے آیا ۔
اور تمہاری معصومیت ایک ایک پل ایک ایک سیکنڈ مجھے بے بس کرتی رہیں ۔
اور پھر اس دن تم چلی گئی فلیٹ سے ۔
روح مجھے لگا تم مجھے چھوڑ کر چلی گئی میں نے بہت کوشش کی کہ میں تم سے دور رہوں لیکن نہیں رہ پایا تمہاری غلطی ہے سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے ہاں یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے میں تو محبت کرتا تھا ٹھیک ہے محبت تو کوئی بھی کر سکتا ہے نہ
لیکن نمازوں میں مجھے مانگ مانگ کر خود سے عشق کرنے پر مجبور تم نے کیا ۔
ہاں ساری غلطی تمہاری ہے ۔
مجھے اپنے آپ سے عشق کرنے پر مجبور کرنے والی تم ہو ۔
تم آئی تھی میرے پاس میں تو تم سے دور رہنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
اللہ جی پلیز میری روح کو مجھ سے دور مت کیجئے گا وہ کیسے کہہ سکتی ہے کہ میں بے رحم بے حس ہوں
اللہ جی مجھے ساری دنیا کی نظروں کے سامنے گرادیں لیکن روح کی نظروں میں اچھا بنا دیں
میری روح مجھ سے نفرت نہ کرے برداشت نہیں کر سکتا کہ وہ مجھ سے دور ہو جائے ہاں میں نہیں برداشت کر پاؤں گا میں ساری دنیا کو آگ لگا دوں گا ۔
اگر وہ مجھ سے دور ہوئی تو میں اسے بھی مار دوں گا ۔
وہ صرف میری ہے ۔
سڑک پر گاڑی دوڑاتے ہوئے وہ جنونی انداز میں بول رہا تھا ۔
وہ ہوٹل کے روم میں واپس آیا ۔
تو دیکھا کمرے میں گھپ اندھیرا ہے ۔اس وقت رات کے دس بج رہے تھے یارم نے ہاتھ بڑھا کر ساری لائٹس ان کردی۔
وہ جاگ رہی تھی لیکن کروٹ دوسری طرف لی ہوئی تھی ۔
بیڈ کے بیچوں بیچ تکیوں کی دیوار تھی ۔
اس نے ایک نظر تکیوں کی اس دیوار کو دیکھا اور پھر آہستہ چلتا ہوا اس کے بالکل قریب آیا
ایک ایک کرکے سب تکیوں کو زمین پر ایسے پھینکا جیسے وہ جیتا جاگتا کوئی وجود ہوں۔
روح یہ تو جانتی تھی کہ وہ تکیے کو زمین پر گرا کر اپنی اور روح کے درمیان یہ دیوار ہٹا رہا ہے ۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ یہ کام وہ کتنے غصے سے کر رہا ہے ۔
پھر کچھ دیر بعد اسے اپنے بازو پر یارم کے ہونٹوں کا لمس محسوس ہوا ۔
روح نے ابھی تک یارم کا وہی کرتا پہن رکھا تھا ۔
یارم نے آہستہ سے اس کا کرتا بازو سے اوپر کیا ۔
جہاں پر نیل کے نشان تھے ۔
بہت درد ہو رہا ہے ۔
وہ آہستہ آہستہ اس کے بازو کو سہلاتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔
میں آپ سے ناراض ہوں روح خاصی اونچی آواز میں بولی جیسے کہ وہ بہت دور بیٹھا ہو ۔
تو میرا بچہ مجھ سے ناراض ہے ۔
اس کے انداز پر مسکراتے ہوئے یارم مزید اس کے قریب ہوا ۔
روح نے اس کی طرف دیکھ کر زور زور سے گردن ہاں میں ہلائی ۔
معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔۔؟ انداز میں دنیا بھر کے ندامت تھی ۔
آپ آئندہ مجھ پر اس طرح سے غصہ نہیں ہوں گے نہ ۔۔۔؟ پلیز مجھ پر چلایا مت کریں ۔مجھے بہت ڈر لگتا ہے ۔
آپ کے علاوہ کوئی نہیں ہے میرا ۔یارم میں غلط ہوں تو مجھے بتایا کریں ۔
آپ کے سامنے کسی دوسرے کے بارے میں بات نہیں کروں گی ۔لیکن پلیز مجھ پر ایسے غصہ مت ہوا کریں ۔
امی اور آپی بھی ایسے ہی چلاتی رہتی تھی مجھ پر ۔
میں آپ سے کبھی دور نہیں جاؤں گی ۔
لیکن آپ اگر مجھ پر چلائیں گے ۔تو میں بیڈ کے بیچ میں ایسے ہی دیوار بنا دوں گی ۔معصوم سے انداز میں معصوم سی دھمکی دے ڈالی ۔
نہیں پلیز یہ غضب مت کرنا ۔ ورنہ میں تمہارے ایک ایک تکیے کو ٹانگ مار مار کر نیچے پھینکوں گا ۔وہ شرارت سے بولا ۔
روح بھی کھلکھلا کر ہنس دی
ویسے تمہیں منانے کا اسپیشل انتظام بھی کیا تھا میں نے لیکن تم تو ہے ایسے ہی مان گئی ۔
اسپیشل انتظام کیا کیا تھا آپ نے جلدی بتائیں مجھے وہ ایکسائٹمنٹ میں بالکل اس کے قریب جڑکر بیٹھ گئی۔
یار م نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے سے مزید اپنے قریب کیا
یہاں نہیں بتاؤں گا تمہیں میرے ساتھ چلنا ہوگا ۔
یارم نے اس کے گال پر اپنے لب رکھتے ہوئے کہا ۔
وہ شرما کر پیچھے ہٹی ۔
باہر بہت سردی ہے روح نے بے بسی سے کہا ۔
روح تم نے سارا ہنیمون یہیں پر نکلوا دینا ہے ۔تم تو اس روم سے باہر ہی نہیں نکلتی ہو ۔
چلو جلدی یہاں سے اٹھو اور میرے ساتھ چلو ۔
یارم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔
اچھا بابا مجھے کپڑے چینج کرنے دیں ۔
روح نے اپنا حلیہ دیکھا جو ابھی تک یارم کے کپڑوں میں تھی ۔
کوئی ضرورت نہیں ہے کپڑے چینج کرنے کی تم بہت پیاری لگ رہی ہو ان میں ۔
اب جلدی چلو اسے زبردستی اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے کہا ۔
ارے بابا شوز تو پہنے دیں مجھے ۔ روح نے یارم کو پیچھے کی طرف کھینچنے کی کوشش کی جو اسے گھسیٹتے ہوئے روم سے باہر لے کے جا رہا تھا ۔
جلدی کرو یارم نے احسان کرنے والے انداز میں کہا ۔
وہ بےحد خوش تھا کیوں کہ اس کی روح اس سے ناراض نہیں تھی ۔
روح نے شوز پہنے تو یارم ہنسی خوشی روم سے باہر نکلا اور وہ روم لاک کرنے لگی۔
ابھی وہ ہوٹل سے باہر نکلنے ہی والے تھے کہ ریسپشنسٹ نے یارم کو مخاطب کرکے اس کی فون کال کے بارے میں بتایا ۔
کون ہے یہ بدتمیز یہاں پر بھی مجھے سکون سے نہیں رہنے دیتے ۔
یارم روح کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے ساتھ لیے فون سننے آیا ۔
ہاں کیا ہوا ہے ۔۔؟ اسنے سلام کرنے یا خریت پوچھنے کی زحمت نہ کی ۔شاید اسے اندازہ تھا کہ آگے سے کون بولنے والا ہے ۔
ڈیول تم نے وہاں کسی کو زخمی کردیا ہے تم ٹھیک تو ہو نہ کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا روح ٹھیک ہے نا خضرنے فکر مندی سے پوچھا ۔
بھابھی۔۔ اس کے اتنے سارے سوالوں کے جواب میں یارم نے بس اتنا ہی کہا ۔
ہاں میرا مطلب ہے روح بھا بھی ۔
ہاں تمہاری بھابھی بالکل ٹھیک ہے میں بھی بالکل ٹھیک ہوں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہوا ۔ ہاں ہوٹل میں کوئی مسئلہ ہوا ہے ۔ دو ریپرسٹ یہاں پر تھے ۔ کسی نے ان کی زبانی کاٹ ڈالی ۔
ضرور کیسی کی بیوی کیلئے غلط الفاظ استعمال کئے گئے ہوں گے ۔ وہ آہستہ آہستہ سے کہتا ہے خضر کو سب کچھ بتا گیا تھا ۔
جب کہ بار بار روح کا اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا ہاتھ اپنے لبوں تک لے کے جاتا ۔
جس پر روح شرماتی آگے پیچھے سے بے خبر کچھ سن بھی نہیں پا رہی تھی ۔
تمہیں یہ سب کچھ کیسے پتہ چلا تم نے کیا میرے پیچھے جاسوس لگا رکھے ہیں ۔۔یارم نے شکی انداز میں پوچھا
تم جہاں جاتے ہو ہمیں وہاں کی خبر رکھنی پڑتی ہے اور یہاں پر بھی کافی مسائل ہوگئے ہیں وہ انسپیکٹر آیا تھا ۔
تمارے بارے میں پوچھ رہا تھا ۔میں نے اسے بتایا کہ تم روح بھابھی کے ساتھ ہنی مون پر گئے ہو تو کہنے لگا کہ شادی کو اتنا وقت ہوگیا ہے اب کیوں گئے ہیں ۔
یہ انسپیکٹر بات کی کھال اُتار تا ہے ۔
اور راشد نے رونا دھونا مچاکر وکرم دادا کو اپنے ساتھ کرلیا ہے ۔
راشد نے وکرم دادا کے سامنے کہا ہے کہ تم نے اس کے بھائی کا قتل کر دیا ہے ۔
خضر فکرمندی سے بتا رہا تھا ۔
تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے خضر۔وکرم دادا کبھی غلط بات کا ساتھ نہیں دیتے ۔
اب تم فون رکھو روح بور ہو رہی ہے ۔یارم نے اس کے شرماتے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
یارم کے اس طرح سے کہنے پر روح کا چہرہ مزید سرخ ہو چکا تھا ۔
کیا ۔ تم روح بھا بھی کے ساتھ کھڑے مجھ سے بات کر رہے ہو۔ خضر نے پریشانی سے پوچھا ۔
بعد میں بات کریں گے ۔۔۔ یارم نے بس اتنا کہہ کر فون رکھ دیا

Comments
Post a Comment