Skip to main content

روح یارم

عشق اور یقین





                                                                                    1    

استنبول کی شام تھی۔ ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک اور نمی تھی، جیسے بارش ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی رکی ہو۔ ایئرپورٹ کے باہر روشنیوں کا سیلاب پھیلا ہوا تھا، اور مسافروں کے چہرے اپنے اپنے خوابوں کا بوجھ لیے تیز قدموں سے گزر رہے تھے۔ انہی چہروں میں سے ایک چہرہ تھا — امبریا کا۔

لمبے دوپٹے کے اندر چھپی آنکھیں بےچینی اور اشتیاق کے سنگم پر جھلک رہی تھیں۔ وہ پاکستان سے یہاں تعلیم کے لیے آئی تھی، لیکن شاید دل کے کسی کونے میں یہ خواہش بھی تھی کہ وہ اپنی زندگی کا ایک نیا باب یہاں سے شروع کرے۔ ایک ایسا باب جہاں ماضی کے زخموں کی پرچھائیاں کم ہوں، اور روشنی زیادہ۔

ہاسٹل کی کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے امبریا نے پہلی رات استنبول کو دیکھا۔ شہر کی رونق اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی لیکن اس کا دل جیسے دھیرے دھیرے کسی انجانی بےچینی میں ڈوب رہا تھا۔

“کاش یہ سفر صرف تعلیم تک محدود نہ رہے…” اس نے دل ہی دل میں دعا کی۔

اسی دوران کمرے کا دروازہ کھلا۔ ایک پرجوش لڑکی اندر آئی، بال کھلے ہوئے، اور مسکراتی آنکھوں کے ساتھ۔
“ہیلو! تم نئی اسٹوڈنٹ ہو؟ میں عنایہ ہوں، تمہاری روم میٹ۔”

عنایہ کی باتوں میں ایک چمک تھی، جیسے اس کے پاس دنیا کی ہر خوشی کا خزانہ ہو۔ اس نے فوراً امبریا کو گلے لگایا اور کہا:
“فکر مت کرو، یہاں تم اکیلی نہیں ہو۔ ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔”

امبریا نے ہلکی سی مسکراہٹ دی، مگر دل کے اندر ایک خالی پن ابھی بھی باقی تھا۔

اگلے دن یونیورسٹی کے کیفے میں ایک واقعہ ہوا جس نے اس کی سوچ بدل دی۔ وہ اپنا ٹرے اٹھائے ہوئے تھی کہ اچانک پاؤں پھسلا۔ اس لمحے کوئی مضبوط ہاتھ آگے بڑھا اور ٹرے زمین پر گرنے سے بچا لی۔

“احتیاط کیا کرو، ہر بار کوئی ہاتھ تھامنے نہیں آئے گا۔”
یہ آواز گہری اور پراسرار تھی۔

امبریا نے سر اٹھایا تو سامنے ایک لمبا، سنجیدہ چہرے والا نوجوان کھڑا تھا — زیان۔
اس کی آنکھوں میں ایک ایسا سکوت تھا جس کے پیچھے طوفان چھپا ہو۔

امبریا نے شکریہ کہنا چاہا لیکن زیان بنا کچھ کہے آگے بڑھ گیا۔ عنایہ نے اس کی حیرت دیکھی تو ہنستے ہوئے بولی:
“وہ زیان ہے۔ ہمیشہ اکیلا رہتا ہے۔ کسی سے بات کم ہی کرتا ہے۔ لیکن پتہ ہے؟ اس کی آنکھوں میں کوئی راز چھپا ہے۔”

اس رات امبریا کھڑکی کے پاس کھڑی بار بار زیان کا چہرہ یاد کر رہی تھی۔ ایک ایسا چہرہ جو اجنبی بھی تھا اور مانوس بھی۔ 

                                                                                    2

صبح کی ہلکی ہلکی روشنی کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ امبریا نے آنکھیں کھولیں تو عنایہ پہلے ہی تیار بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک موٹی سی کتاب اور کپ میں کافی۔

“Good morning sleepy head!” عنایہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
امبریا نے مسکرا کر جواب دیا: “تم ہر وقت اتنی energetic کیسے رہتی ہو؟”
“بس… زندگی کو جتنا خوشی سے جیو گی، اتنی ہی آسان ہو جائے گی۔” عنایہ نے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔

یونیورسٹی کا پہلا لیکچر تھا۔ ہال میں طلبہ کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ امبریا خاموشی سے ایک کونے میں جا بیٹھی۔ پروفیسر کا لیکچر شروع ہوا لیکن اس کا دھیان بار بار دروازے کی طرف جا رہا تھا۔ پھر اچانک وہ آیا — زیان۔

وہ آہستہ قدموں سے آیا، کسی سے نظر ملائے بغیر پچھلی کرسی پر جا بیٹھا۔ اس کی موجودگی میں ایک عجیب سا سکوت تھا۔ جیسے وقت کچھ لمحوں کے لیے تھم جائے۔

امبریا نے دل ہی دل میں کہا:
“آخر یہ لڑکا اتنا الگ کیوں ہے؟”

لیکچر ختم ہونے کے بعد طلبہ گروپ میں باتیں کرتے ہوئے نکل گئے۔ عنایہ نے امبریا کو بازو سے پکڑا:
“آو، کیفے چلتے ہیں۔”

وہ دونوں کیفے میں جا بیٹھیں۔ عنایہ باتوں میں مگن تھی لیکن امبریا کی نظر بار بار زیان کی طرف جا رہی تھی جو ایک میز پر اکیلا بیٹھا تھا۔ سامنے کھلی ہوئی کتاب تھی مگر آنکھیں کہیں اور گم تھیں۔

“عنایہ…” امبریا نے دھیرے سے کہا۔ “یہ زیان ہمیشہ اکیلا کیوں رہتا ہے؟”
عنایہ نے شانے اچکائے: “پتہ نہیں، کوئی اسے سمجھ ہی نہیں سکا۔ بس اتنا جانتی ہوں کہ اس کی زندگی میں کوئی بھاری راز ہے۔”

امبریا نے بےاختیار سوچا:
“راز؟ کیسا راز…؟”

رات کو ہاسٹل واپس آ کر جب وہ اپنی ڈائری لکھنے بیٹھی تو باہر کوریڈور میں کسی کی آواز آئی۔ وہ دبے پاؤں دروازے تک گئی۔ زیان فون پر بات کر رہا تھا۔ اس کی آواز دھیمی مگر سخت تھی:

“ہدف اب یونیورسٹی کے اندر ہے… مجھے مزید احتیاط کرنی ہوگی۔ کوئی بھی شک نہ کرے۔”

امبریا کا دل زور سے دھڑکا۔
“یہ کس بارے میں بات کر رہا ہے؟ یہ صرف ایک عام طالب علم نہیں ہے…”

وہ واپس اپنے بستر پر آ کر دیر تک جاگتی رہی۔ پہلی بار اسے احساس ہوا کہ استنبول کی یہ نئی زندگی صرف کلاسز اور دوستوں تک محدود نہیں رہے گی۔ اس کے گرد ایک ایسا دائرہ بننے جا رہا ہے جس میں محبت بھی ہوگی اور خوف بھی۔

                                                                                3

شام کا وقت تھا۔ یونیورسٹی کے لان میں ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ امبریا ایک بेंچ پر بیٹھی کتاب پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی مگر ذہن بار بار زیان کی پراسرار گفتگو کی طرف جا رہا تھا جو اس نے پچھلی رات سن لی تھی۔

عنایہ اس کے پاس آئی اور مسکراتے ہوئے کہا:
“کتاب پڑھ رہی ہو یا خیالات میں کھو گئی ہو؟”
امبریا چونکی: “نہیں، بس… یونہی۔”

عنایہ نے آنکھیں سکڑ کر کہا:
“کہیں یہ خیالات زیان سے تو متعلق نہیں؟”
امبریا فوراً سرخ ہو گئی: “نہیں! ایسی کوئی بات نہیں۔”

لیکن دل اس کی گواہی نہیں دے رہا تھا۔


اسی دوران زیان لان کے دوسرے کونے سے گزرا۔ وہ ہمیشہ کی طرح سنجیدہ تھا، نظریں جھکائے ہوئے۔ لیکن جیسے ہی اس کی نظر ایک لمحے کے لیے امبریا سے ملی، وقت جیسے رک گیا۔
امبریا نے دل کی دھڑکن تیز ہوتے محسوس کی۔
وہ لمحہ چھوٹا تھا، لیکن اس کی گونج اندر تک اتر گئی۔


کچھ دن بعد یونیورسٹی کی لائبریری میں ایک واقعہ ہوا۔ امبریا ریسرچ کے لیے کتابیں دیکھ رہی تھی۔ اچانک اس کے ہاتھ سے ایک کتاب زمین پر گری۔ جیسے ہی وہ جھک کر اٹھانے لگی، زیان بھی سامنے سے آیا اور کتاب اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دے دی۔

“یہ کتاب تمہیں زیادہ بوجھ لگ رہی تھی شاید…” زیان نے دھیرے سے کہا۔
امبریا نے ہلکا سا شکریہ ادا کیا۔ لیکن اس بار زیان رکا۔
“تم یہاں نئی ہو… احتیاط سے رہنا۔ ہر کوئی ویسا نہیں ہوتا جیسا نظر آتا ہے۔”

یہ کہہ کر وہ چل دیا۔
امبریا دیر تک اس کی بات سوچتی رہی۔
“وہ مجھے یہ سب کیوں کہہ رہا ہے؟ کیا وہ خود اپنے بارے میں اشارہ دے رہا ہے؟”


رات کو جب سب سو گئے تو عنایہ بھی گہری نیند میں تھی۔ امبریا نے کھڑکی کے پردے ہٹا کر باہر دیکھا۔ صحن میں زیان کھڑا کسی سے موبائل پر بات کر رہا تھا۔
“کل کی میٹنگ طے ہو چکی ہے۔ وقت قریب ہے… مجھے ہر حال میں کامیاب ہونا ہوگا۔”

امبریا کا دل جیسے رک گیا۔
“زیان آخر کس مشن پر ہے؟ اور وہ اپنی حقیقت سب سے کیوں چھپا رہا ہے؟”


🌙 اس رات پہلی بار امبریا کو لگا کہ اس کا دل محبت اور خوف دونوں کے درمیان الجھ رہا ہے۔

                                                                       4

امبریا کو دن بہ دن یہ احساس گہرا ہوتا جا رہا تھا کہ زیان صرف ایک عام طالبِ علم نہیں۔ اس کی موجودگی میں ہوا کا رخ بدل جاتا، الفاظ میں وزن ہوتا، اور خاموشی میں کوئی ڈھیر ساری کہانیاں کانپتی رہتی تھیں۔ ایک شام جب یونیورسٹی کے پچھلے صحن میں ہلکی بارش شروع ہوئی، امبریا کتاب کے ساتھ ایک سنگ مرمر کی بینچ پر بیٹھی تھی۔ بارش کی بوندیں پتھروں سے ٹکرا کر چمک اگلتی تھیں، اور اس دھواں سا ماحول میں ہر چیز دھندلی مگر خوبصورت لگ رہی تھی۔

وہ کتاب بند کر کے سامنے گھڑی دیکھی — دیر ہو رہی تھی۔ اٹھتے ہی اس کے قدم کسی پر ٹکرائے، اور مڑ کر دیکھا تو زیان کھڑا تھا۔ اس کے بال نم تھے اور جھنٹے جلی ہوئی روشنیاں اس کے چہرے پر نرم چھایاں ڈال رہی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں وہی گہرائی تھی، مگر اس رات کچھ نرم سی مسکراہٹ بھی تھی، جو امبریا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

زیان نے بے تکلف انداز میں کہا، "بارش اچھی لگتی ہے؟"
امبریا نے فوراً سر хилایا، مگر جواب دینے سے پہلے دل نے ایک قدم آگے بڑھا لیا۔ "ہاں… اور آپ؟؟"
زیان نے نظریں ادھر ادھر گھمائیں، پھر آہستگی سے بولا، "بارش کبھی کبھی سب کچھ دھو دیتی ہے — اچھا بھی برا بھی۔"

وہ لمحہ خاموشی سے بھرا رہا۔ امبریا نے محسوس کیا کہ ان کے درمیان کوئی ان کہی بات پل باندھ رہی ہے۔ پھر زیان نے کہا، "تم تنہا ہو تو سوالات خود ہی جنم لیتے ہیں۔"
امبریا نے جواب دینے سے انکار کیا، مگر وہ جان چکی تھی کہ اب سچی باتیں چھپیں نہیں رہ سکتیں — چاہے وہ زیان کے راز ہوں یا خود اس کے اپنے احساسات۔

اسی ہفتے یونیورسٹی میں ایک سیمینار ہوا جس میں مختلف ممالک کے طلبہ نے حصہ لیا۔ زیان نے یہاں بھی غیر معمولی دلچسپی دکھائی — وہ محوِ سماعت رہا، ہر چھوٹی بات کو نوٹ کرتا، اور کبھی کبھار نظریں امبریا پر آ جاتیں۔ لوگ اس پہ خاموشی سے تبصرہ کرتے، مگر زیان کو پرواہ نہیں تھی۔ وہ کسی اور کام میں مگن تھا — ایک داخلی دھڑکن جو شاید بہت سے رازوں کو آگے بڑھا رہی تھی۔

ایک دوپہر جب کلاس ختم ہوئی تو امبریا کو ایک نوٹ ملا — بغیر دستخط کے۔ اس میں چند الفاظ تھے:
"کبھی ہر راستہ سچائی تک نہیں جاتا۔ سمجھداری وہ ہے جو دل کو محفوظ رکھے۔"

امبریا کے ہاتھ کانپ گئے۔ اس کا دل کہہ رہا تھا کہ یہ نوٹ زیان سے جڑا ہے، مگر عقل کہتی تھی کہ یہ خطرے کی علامت ہے۔ وہ نوٹ لپیٹ کر اپنی ڈائری میں چھپا گئی۔ وہ جان گئی تھی کہ اب اس کا ہر دن پہلے جیسا نہیں رہے گا — ہر مسکراہٹ، ہر بات میں ایک ثقل کا احساس رہے گا۔

رات کو جب وہ واپس ہاسٹل پہنچی تو عنایہ نے ایک کپ چائے بڑھایا اور آنکھوں میں خباثت چھپا کر پوچھا، "کسی نے تمہیں نوٹ دیا؟"
امبریا نے جھٹ سے سر ہلایا، "نہیں۔" مگر اندر سے وہ جانتی تھی کہ راز بڑھتے جا رہے ہیں۔ عنایہ نے تھوڑا سا خاموشی اختیار کی، پھر کہا، "کبھی کبھی جو دور دکھتا ہے، وہی قریب ہوتا ہے۔" اور مسکرا دی — مسکراہٹ میں تھوڑی سی تلخی تھی، جیسے وہ بھی کچھ چھپا رہی ہو۔

امبریا رات بھر جاگتی رہی۔ اس کے ذہن میں زیان کی آوازیں اور نوٹ کے الفاظ گردش کرتی رہیں۔ وہ ایک طرف محبت کی نازک لکیروں کو محسوس کر رہی تھی تو دوسری طرف خطرے کا سایہ بھی واضح ہوتا جا رہا تھا۔ زندگی کے یہ دو دھڑے ایک دوسرے میں اٹک کر رہ گئے تھے — اور امبریا کا جیون اب انہی دھاگوں میں الجھنے لگا تھا۔

                                                                                     5

ایک صبح یونیورسٹی میں شور مچ گیا — کسی نے داخلہ دروازے کے قریب چھیڑ چھاڑ کے آثار بتائے۔ سیکیورٹی سخت ہو گئی۔ امبریا نے دیکھا کہ زیان اکثر امن و امان کی نگرانی میں مصروف ہے، وہ یونیورسٹی کے کونوں پر نظر ڈالتا، چھوٹے سے چھوٹے اشارے بھی نوٹ کر لیتا۔ اس نے کبھی بھی دکھاوا نہیں کیا مگر اس کا ہر عمل کسی نہ کسی پیچیدہ منصوبے کی طرف اشارہ کرتا تھا۔

ایک دن امبریا لائبریری سے باہر نکلتے ہوئے ایک بند دروازے کے پاس پہنچ گئی۔ وہاں دو آدمی کسی بات پر گرم ہو رہے تھے۔ الفاظ میں تلخی، اور ہاتھوں میں ہلکی کشمکش۔ اچانک ایک قوت نے دروازہ کھینچا اور زیان نمودار ہوا۔ اس نے سکون سے صورتحال کو قابو کیا، مگر اس کی آواز میں ٹھنڈک اور حکم دونوں تھے۔ لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ امبریا نے سمجھا کہ زیان کا دائرہ عام افراد تک محدود نہیں — وہ طاقتور لوگوں کے سامنے بھی ڈٹ جاتا ہے۔

وہی رات امبریا نے سامنے سے ایک خط پکڑا — یہ خط کسی نے صحن میں پھینکا تھا اور اس میں ایک دھمکی چھپی ہوئی تھی:
"بینا سوچے سمجھے قدم نہ اٹھانا، ورنہ انجام تلخ ہوگا۔"

یہ دھمکی امبریا کے لئے کسی سرد پانی جیسی تھی۔ اس نے زیان کو دیکھنے کی کوشش کی مگر وہ دور کھڑا اپنے موبائل میں مشغول تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجب سی چمک تھی، جیسے کوئی فیصلہ ہو چکا ہو — مگر امبریا کو بتایا نہ گیا۔ دل میں بے چینی بڑھتی گئی، مگر ساتھ ہی ایک کشش بھی پیدا ہو گئی — ایک ایسی کشش جو خطرے کے قریب جانے کا خوف رکھنے کے باوجود دل کو زور دیتی رہی۔

کچھ دن بعد یونیورسٹی کے علاقے میں ایک واقعہ پیش آیا: ایک طالب علم نے کالعدم گروپ کے متعلق معلومات دینے کی کوشش کی اور اس پر حملہ ہوا۔ ہر طرف خوف پھیل گیا۔ زیان نے فوراً تحقیقات شروع کیں اور امبریا بھی ان میں شامل ہو گئی — مگر اس کا انداز محبت اور خواشوں سے بھرپور تھا۔ اس وقت امبریا نے پہلی بار محسوس کیا کہ زیان جب بھی قریب آتا ہے تو وہ خود کو محفوظ محسوس کرتی ہے، یہاں تک کہ خطرہ بھی عارضی محسوس ہوتا ہے۔

رات کے آخری پہروں میں جب وہ دونوں خاموشی میں چہل قدمی کر رہے تھے، زیان نے اچانک کہا، "تم میرے قریب کیوں آتی ہو؟"
امبریا نے جھٹ سے جواب دینے کی کوشش کی مگر کچھ کنجکر سی رہی۔ پھر آہستگی سے بولی، "شاید مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے… اور شاید میں تمہارے بارے میں جاننا چاہتی ہوں۔"
زیان کی آنکھوں میں ایک لمبا سانس ٹوٹا، پھر بولا، "دیکھنا، ہر کہانی کا ایک دارومدار ہوتا ہے — میرے فیصلے کبھی کسی کو خوش نہیں کرتے۔"
امبریا نے ہاتھ پکڑ کر کہا، "پھر بھی میں ساتھ رہوں گی۔"
زیان نے خاموشی سے اس کا ہاتھ تھاما — وہ ہاتھ جس نے امبریا کو سکون دیا اور زیان کو اَن کہی ہمدردی کا پہلو دکھایا۔

                                                                               6

امبریا کی زندگی تیزی سے پلٹ رہی تھی۔ دن کے امور اور رات کے راز مل کر ایک ایسی پیچیدہ تصویر کھینچ رہے تھے جسے دیکھ کر عقل کو راہ نہیں ملتی تھی۔ عنایہ کی خوش مزاجی میں بھی اب ایک سختی آ گئی تھی — کبھی کبھی وہ تنہا کمرے میں لا کر خاموشی سے کچھ لکھتی، کبھی دعاؤں میں مصروف دکھائی دیتی۔ ایک دن امبریا نے عنایہ کے کمرے سے ایک چھوٹا سا صندوق دیکھا، جس میں پرانے کاغذات، ایک مختلف پاسپورٹ، اور چند احکام تھے — ایسے دستاویزات جو عام طالبہ کی میلیت سے میل نہ کھاتے تھے۔

عنایہ نے جب امبریا کی آنکھوں میں سوال دیکھا تو چپکی آواز میں کہا، "ہر انسان کی اپنی لڑائی ہوتی ہے۔ میں اپنے ماضی کو چھپاتی ہوں تاکہ آج جیت سکوں۔" امبریا نے پوچھا، "کیا تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو؟" عنایہ نے لمبی سانس لی، "شاید۔ مگر جب وقت آئے گا، سب کچھ واضح ہو جائے گا۔"

اسی دوران یونیورسٹی انتظامیہ نے اندرونی جانچ شروع کی — کسی کو معلوم ہوا تھا کہ کچھ بیرونی قوتیں یونیورسٹی میں سرگرم ہیں۔ زیان کی ٹیم نے معلومات اکٹھی کیں اور ایک بڑی منصوبہ بندی کے بارے میں سراغ ملا۔ وہ منصوبہ شاید یونیورسٹی کے اندر ایک نیٹ ورک سے مربوط تھا — مگر اصل سوال یہ تھا کہ اس نیٹ ورک کا مقصد کیا تھا؟ اور کیوں امبریا جیسی بے گناہ لڑکیاں بھی اس میں پھنس رہی تھیں؟

زیان نے امبریا کو ایک رات بلایا۔ وہ ایک خالی کلاس روم میں ملے جہاں کھڑکی سے چاندنی جھلک رہی تھی۔ زیان نے آہستگی سے کہا، "میں تمہیں خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔" امبریا نے نرم لہجے میں کہا، "مگر تم ابھی بھی میرے ساتھ ہو — اور یہ چاہتی ہوں کہ سچ جانوں۔"
زیان نے لمبا سانس لیا، پھر بولا، "میرے پاس تمہارے لئے بہت سی باتیں ہیں، مگر سب کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔" اس نے امبریا کو ایک چھوٹا سا رَنک دیا — ایک کڑا جس میں خفیہ شے چھپی ہوئی تھی — "اگر کبھی تمہیں میری طرف سے خطرہ محسوس ہو تو یہ پہچان لینا۔"

امبریا نے کڑا ہاتھ میں لیا، اس کی ٹھنڈک نے دل کو ایک عزم دیا۔ اس رات جب وہ واپس ہاسٹل پہنچی تو اس کی آنکھوں میں ایک نئے سفر کی چمک تھی۔ اس نے محسوس کیا کہ زندگی میں اب کوئی ٹھٹھکنے کی جگہ نہیں باقی — سچ سامنے آئے گا، اور اسے خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اس سچ کو گلے لگائے یا بھاگ جائے۔

                                                                                          7

خواب سے کم، حقیقت نے اپنا چہرہ کھولا۔ یونیورسٹی کے اندر ایک زنجیر سی کھلنے لگی جس نے کئی لوگوں کو جھنجھوڑ دیا۔ کچھ طالب علم غلط راستوں پر اتر رہے تھے، کچھ دبے لہجے میں باتیں کر کے اختیارات بیچ رہے تھے، اور کچھ ایسے لوگ تھے جو پردے میں بیٹھ کر منصوبے بنا رہے تھے۔ زیان کی ٹیم نے ایک مخصوص تاریخ مقرر کی — جب انہوں نے پلان کو ناکام بنانا تھا۔ مگر اس میں خطرہ بہت تھا؛ ایک غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی۔

امبریا اب اس معاملے میں براہِ راست ملوث تھی — اس نے زندگی میں پہلی بار واضح طور پر فیصلہ کیا کہ وہ سچ کے ساتھ کھڑی رہے گی، چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو۔ زیان نے اسے مشورہ دیا کہ وہ سیف پوائنٹس پر رہے، مگر امبریا نے اصرار کیا کہ وہ ساتھ رہے گی۔ ان دونوں کے درمیان جو قربت بڑھی تھی، وہ اب مضبوطی کی صورت اختیار کر گئی تھی — محبت اور اعتماد کی ایک نرم مگر مضبوط رسی۔

جس رات کاروائی ہونی تھی، وہ چاند چھپا ہوا تھا۔ زیان کی ٹیم خاموشی کے ساتھ جگہ پر پہنچ گئی۔ امبریا نے ہمت کر کے کہا، "میں تمہارے ساتھ ہوں،" اور زیان نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا، "تم نے جو فیصلہ کیا ہے، وہ بہت جوا ہے — مگر میں تمہارے ساتھ ہوں۔"

کاروائی میں جھنجھلاہٹ، شور اور خوف سب شامل تھے۔ کچھ لمحوں کے لئے سب کچھ بکھرتا سا محسوس ہوا۔ پھر ایک زور دار دھماکہ — ہال کا شیشہ ٹوٹ گیا اور لوگوں کے چہروں پر خوف کے داغ بن گئے۔ زیان نے امبریا کو ایک جانب جھپٹا اور خود آگے بڑھا۔ اس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر چند اہم کاغذات اور افراد کو محفوظ بنایا۔ مگر اس میں وہ زخمی ہوا — گہرا زخم اس کے سینے میں تھا۔ امبریا نے ہنگامے کے بیچ زیان کو سہارا دیا، آنکھوں میں آنسو اور دل میں ایک ایسے احساس کے ساتھ جو لفظوں میں بند نہ ہوتا تھا۔

اس دوران عنایہ کا اصل چہرہ بھی سامنے آگیا — وہ زیان کی ایک خفیہ معاون نکلی، مگر اس کی مدد بذاتِ خود ایک ذاتی عاشقانہ کیفیت سے بھری تھی۔ عنایہ نے اپنی اصل ڈیوٹی نبھائی مگر اپنے دل میں امبریا کے لئے محبت بھی چھپائے رکھی۔ اس کی وجہ سے چند فیصلے مشکل ترین ثابت ہوئے، مگر اس نے اپنی وفاداری ایک دفعہ پھر دکھا دی۔

جب سب کچھ ختم ہوا تو زیان کو شدید طبی امداد کی ضرورت تھی۔ امبریا اس کے پاس بیٹھی تھی، اس کے چہرے پر خون تھا مگر آنکھیں ابھی زندہ تھیں۔ زیان نے ہلکی سی آواز میں کہا، "میں نے جو راستہ چنا، اسے بدلنا مشکل تھا… مگر تم نے مجھے انسان بنایا۔" امبریا نے اس کے ہاتھ پکڑ کر کہا، "تم زندہ رہو گے۔" مگر اندر سے اسے خوف تھا — ایسا خوف جو موت کی خاموشی جیسا تھا۔

                                                                                    8

خمی زیان کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ امبریا نے مسلسل دعا کی، علاج کے لمحے گنتی کئے۔ زیان کی صحت کے زوال کے بیچ زندگی نے ایک نیا رنگ دکھایا — لوگوں کی مدد، عنایہ کی سچی مخالفتِ ماضی، اور یونیورسٹی کا ایک عہد جو سب نے لیا کہ وہ بہتر تیرے راستے چلے گا۔ مگر زیان کا زخم گہرا تھا؛ اس کا علاج ممکن تھا مگر وقت اور معالجین کا کام تھا۔

روزگار کا شور تھم گیا مگر دلوں کی دھڑکنیں بلند رہیں۔ امبریا روزانہ اسپتال آتی، زیان کے سر پر ہاتھ رکھتی اور اس کی آنکھوں میں ان ہی لمحوں کو تلاش کرتی جو ان دونوں نے ساتھ نبھائے تھے۔ ایک دن جب زیان نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں تو امبریا نے اپنی سانس روکی۔ زیان نے آہستہ سے کہا، "تم نے جو راہ اختیار کی، اسے میں غلط نہیں کہوں گا۔" امبریا نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑا اور کہا، "ہم اس راہ کو ساتھ چلیں گے۔"

زیان نے کچھ دن بعد آہستہ آہستہ بَہتری کی طرف قدم بڑھایا۔ جسم کے زخموں کے ساتھ ساتھ اس کے اندر کی آوازیں بھی نرم ہونے لگیں۔ اس نے امبریا کو بتایا کہ اس کی زندگی کا مقصد صرف ایک مشن نہیں تھا — بلکہ کسی ایسے نظام کو روکنا تھا جو نوجوانوں کو تباہ کر رہا تھا۔ اس مقصد میں وہ خود پر بھاری بوجھ لے چکا تھا مگر اب جب امبریا اس کے ساتھ تھی تو اسے محسوس ہوا کہ انسانیت کی امید باقی ہے۔

کتنے ہی ماہ گزرے، یونیورسٹی نے تبدیلیاں کیں، خطرناک حوالہ جات ختم کیے گئے، اور عنایہ نے اپنی کھلی شناخت کے بعد لوگوں کو بتایا کہ سچائی کو چھپانا کبھی فائدہ نہیں دیتا۔ زیان اور امبریا نے ایک دوسرے کے ساتھ نئے عہد کئے — نہ محض محبت بلکہ ایک ایسی ذمہ داری جو ان دونوں نے سنجیدگی سے قبول کی تھی: نئی نسل کی حفاظت، تعلیم کی حرمت اور ایمان کی روشنی کو آگے بڑھانا۔

ناول کے آخری صفحات میں ایک منظر ایسا تھا جو دل کو پگھلا دے: استنبول کے ایک ہلکے سا گرم دن، بوسفرس کے کنارے زیان اور امبریا ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے تھے۔ ہوا میں نمک کی خوشبو تھی اور دور کشتیوں کی نرم آواز۔ زیان نے امبریا کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا، "ہم نے جو منہ مانگے راستے چھوڑ کر یہ راستہ چنا — وہ کٹھن تھا، مگر لازم تھا۔" امبریا نے ہاتھ پکڑ کر جواب دیا، "اور ہم نے سیکھا کہ محبت میں قربانی ہے، مگر ایمان سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔"

ناول کا اختتام ایک امید آمیز دعا کے ساتھ ہوتا ہے — ایک چھوٹی سی لائن جو ہر قاری کے دل میں گیہوں کی مانند اَنگڑائی لے:
"ہم سب کو اپنا راستہ خود چننا ہے — مگر جو رہنمائی ایمان اور محبت دے، وہ ہر تاریکی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے۔"

Comments

Popular posts from this blog

Novel Name : روح_یارم

EPISODE=1&16 یہ منظر دبئی کے بہت بڑے شہر راس الخیمہ کا ہے ۔اس شہر کو راس الخیمہ اس لیے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں خیموں سے مشاہبت رکھنے والے چھوٹے چھوٹے مکان ہیں  جو ساحل سمندر پر موجود ہیں ۔ وہ اس طرح کے چھوٹے چھوٹے کام کرنے کے لیے خود نہیں آتا تھا لیکن اس وقت سوال اس کے لایفٹ ہینڈ شارف کا تھا  وہ جو بچپن سے اس کے ساتھ تھا اس کے ہر کام میں برابر کا شریک ۔ آج وہ اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا وہ اس وقت دبئی کی ایک بہت بڑی جیل میں تھا ۔اس کا وفادار ساتھی اس پر جان نچھاور کرنے والے کو وہ اس طرح سے نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔ یہ سچ تھا کہ ڈان کو اس سے کوئی محبت نہ تھی اس کے ساتھ کوئی دلی وابستگی نہ تھی مگر   وہ اس کے لئے جان دینے کا حوصلہ رکھتا تھا اور ڈان کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت تھی ۔ رات  ایک بجے کا وقت تھا راس الخیمہ شہر دن میں جتنا ویران اور خاموش ہوتا رات میں اتنا ہی روشنیوں سے بھرا ہوتا ۔ اور ڈان اکثر اپنے کام روشنیوں میں کرنے کا عادی تھا کیونکہ اسے پتہ تھا ۔کہ گناہ کار کو اس کا گناہ نہیں بلکہ گناہ چھپانے کا طریقہ مار دیتا ہے  اس لیے وہ جو بھی کرتا کھلے عام...

Novel Name میرے نصیب

EPISODE=1 واٹ...  وکیل صاحب  بابا سرکار ایسا کیسے کر سکتے ہیں. جب حیات تھے تب ماہانہ لاکھوں اس منحوس کے اکاؤنٹ میں جمع کرواتے. اور اب وفات پا گئے, تو ہم سمجھے یہ چیپٹر کلوز ہوگیا ہوگا. مگریہاں تو اس کو آدھی وراثت کامالک بنا دیا گیا ہے. آخر کون ہے یہ آہل یزدان نامی بچھو جو ہمارا ہی حق ڈسے جا رہا ہے. خود تو منوں  مٹی تلے سو گئے بابا سرکار, اسے ہمارے سروں پر مسلط کرکے چھوڑ گئے. مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ بابا سرکار نے ضرور خفیہ دوسری شادی کی ہوگی اور یہ آہل نامی بلا اسکا پوتا یا نواسا ہی ہوگا. کس طرح  کھلم کھلا بے انصافی کردی ہے بابا سائیں نے." ایاز میر منہ سے زہر اگل رہا تھا. "نہیں. وصیت کے مطابق عالم میر صاحب نے صرف ایک ہی شادی کی تھی وہ بھی آپ کی اماں حضور سے. مگر اس لڑکے کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں ہے، کہ کون ہے. کہاں سے آیا ہے. اور حاکم سرکار کے ساتھ اس کا کیا رشتہ ہے۔ مگر یہ لیگل کاغذات ہیں جس کے مطابق عالم سرکار کی آدھی جائیداد ان کے تینوں بیٹوں یعنی ایاز میر ، سلطان میر اور سب سے چھوٹے امان میر کے نام ہے. جبکہ آدھا حصہ آہل یزدان کے نام پر." وکیل جغفر قریشی ص...

آزمـؔ͜ــائش محـؔ͜ــبت کـؔ͜ــی

EPISODE 1 & 6 دل کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی باتیں،   خوابوں کی دنیا میں، خوابوں کی راتیں۔   محبت کی خوشبو، وفا کی روشنی،   زندگی کی راہوں میں، چمکتی خوشی۔ چپکے چپکے دل کی دھڑکن سنو،   اس کی خاموشی میں کتنی کہانیاں ہیں۔   رنگ برنگے احساسات کی بوندا باندی،   زندگی کی کتاب میں، یہ سب کہانیاں ہیں۔ خود سے ملنے کا یہ لمحہ خاص ہے،   دل کی وادیوں میں، یہ سفر بے مثال ہے۔   محبت کا چہرہ، دوستی کی روشنی،   دل کی گہرائیوں میں، یہ سب خوشبوئیں ہے    سورج کی اجلی روشنی ہر سو چھائی ہوئی تھی ۔ سردیوں کی ٹھندی ٹھندی ہوائیں بارش کا پتا دے رہی ۔ پنجاب کے اس چھوٹے سے شہر میں یہ ایک چھوٹا سا سکول ہے ۔ جہاں سے بچوں کی پڑھنے کی آوازیں سنائی دیں رہی تھی ۔ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ،  اس کی خوبصورت آواز کا بچوں نے پیچا کیا  "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،  وہ بلیک کالر کے سادہ سے عبائے میں نفاست سے نکاب کیے بچوں کو پڑھا رہی تھی ۔ میم اریشہ ایک سادہ سے خلیہ والی (آیا) نے اسے مخاطب کیا...