EPISODE=7&8
" تم مجھے اگنور کیوں کر رہی ہو. اتنی اکڑ کس بات کی ہے تمہیں ۔کب سے وضاحتیں دے دے کر تھک گیا میں. کہ مجھے جہیز وغیرہ میں کوئی انٹرسٹ نہیں۔ یا پھر تم نے کسی اور کو اپنے اداؤں کا اسیر بنایا ہے. کوئی اور مجھ سے بہتر مل گیا ہے. یا مجھ سے امیر باپ کی اولاد کو جال میں پھنسایا ہے۔ تم جیسی یتیم لاوارث لڑکیوں کا تو کام ہی ......."
" چٹاخ!!!!!!!
فضا میں تھپڑ کی زوردار آواز گھونجی۔
" میں سحر یزدان ہو. کس نے بولا میں دو ٹکے کی لڑکی ہوں. یتیم ضرور ہوں مگر لاوارث نہیں. ایک شہزادے کی بہن ہوں. جو میری ماں, میراباپ, بھائی دوست سب کردار خوش اسلوبی سے نبھا کر مجھے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھتے ہیں۔ زمانے کے گرم سرد ہوا سے بچا کر رکھتا ہے۔ آہل یزدان کی بہن ہوں میں. تم جیسے بدتمیز, بد اخلاق اور لالچی انسان کو میں جوتی کی نوک پر رکھنے کی روداد نہیں۔ میرے بھائی نے تمہیں پرکھنے میں کوئی غلطی نہیں کی. تم جیسے سڑک چھاپ غنڈے موالی جیسے لڑکوں کو وہ ایک نظر دیکھ کر پہچان لیتا ہے۔" سحر نے ہنکارا بھر کر استہزائیہ لہجے میں اسے آئینہ دکھایا۔ جو روز کی طرح آج پھر سحر کے پیچھے کالج کی گیٹ تک آیا تھا. جب بات نہیں بنی تو اپنی اوقات دکھا کر کردار پر انگلی اٹھانی شروع کردی۔
مہد جو اپنی بہن کو پک کرنے کالج آیا تھا. سحر کو کسی لڑکے کی ساتھ بحث کرتے اور اسے تھپڑ مارتے دیکھ کر قریب آیا تھا.مگر اسکی دیدہ دلیری دیکھ کر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرکے سامنے منظر سے مخفوظ ہونے لگا۔
"تت تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔ اس نے سحر کے سر سے اسکارف اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھایا مگر ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔
"اگر مزید خود کا تماشا نہیں بنانا تو چپ چاپ واپس جلتے بنو۔ لڑکی کے ہاتھ سے مار کھا چکے ہو تم۔ اور وہ بھی اتنے لوگوں کی موجودگی میں۔ تمہیں تو چھلو بھر پانی میں ڈوب کر مرنا چاہئے۔" مہد نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔ وہ چہرے پر ہاتھ رکھ کر پلٹنے لگا لیکن سحر کو خون آشام نظروں سے دیکھ کر وارن کرنا نہیں بھولا۔
"بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی تمہیں اس تھپڑ کی۔"
"جو اکھاڑنا ہے اکھاڑ لے. اس کے بعد اگر کتے کی طرح راستہ روکنے اور بھوکنے کی کوشش کی تو ابھی تو صرف تھپڑ ماردیا, پھر ہاتھ پیر تڑوا کر ٹنڈ کرواکر بازار میں دوڑاؤں گی." سحر دوبدو بولی۔
"تم لوگوں کی گاڑی کہاں ہے۔ ؟؟ عامر کے جانے کے بعد مہد نے پوچھا۔
"وہ گاڑی میں کوئی فالٹ آیا ہے۔ تو ہم نے سوچا بھیا کو زحمت دیے بغیر خود چلے جائیں گے۔ ویسے بھی بھائی آؤٹ آف کنٹری ہیں. اپنے چھوٹے جھوٹے کاموں کے لیے انکو زحمت دیں گے تو کب اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے۔ مگر اب لگتا ہے بھیا کے عتاب کا نشانہ بننے والے ہیں ہم۔ شدید قسم کی ڈانٹ پڑنے والی ہے" سحر کے اوازمیں فکر و اندیشہ صاف ظاہر تھا۔
"تو اسے بتانے کی کیا ضرورت ہے. جانتی ہو نا اپنے بھیا کو. سولی پر چڑھا دےگا اس کمینے کو۔" مہد آہل کے رگ رگ سے واقف تھا۔
"چلو تم لوگوں کو ڈراپ کردیتا ہوں. مہد نے آفر کی تو سحر سمیت تینوں لڑکیاں اسکی گاڑی تک اگئی۔ اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔
"کنزہ یہ سحر ہے آہل کی بہن !! مہد نے اپنی بہن کو دیکھا جو فرنٹ سیٹ پر بیٹھی پیشانی پر لاتعداد بل لئے کن اکھیوں سے پہلے اسے اور پھر پیچھے بیٹھی چار لڑکیوں کو دیکھ رہی ہے۔
"اوہ۔۔۔ ہیلو !!!! اچانک ہی آہل کے نام پر کنزہ نے پنتیرا بدلا۔
"آہل بھائی کی بہن کو اتنا پیارا ہی ہونا چاہیے۔" اس نے سحر کی دلکش نقوش پر ستائشی نظر ڈالی۔
"تھینکس!! دیکھنے والی آنکھیں خوبصورت ہو تو سامنے موجود ہر چیز خوبصورت دکھائی دینے لگتی ہے۔" سحر نے خوش اخلاقی سے جواب دیا۔
"تم لیڈیز پھر کبھی فرصت میں بیٹھ کر ایک دوسرے کی تعریفوں کے پل باندھنا۔۔ پہلے یہ بتاؤ کہاں ڈراپ کرنا ہے۔" مہد نے بیک ویو مرر میں سحر کو نظروں کے حصار میں لیکر پوچھا تو وہ جزبز ہوگئی۔
"پیراڈائز..." یک لفظی جواب ملا۔
پیراڈائز لفظ سن کر کنزہ کے ہونٹ تعجب سے پھیلے۔۔ وہ کچھ بولنے والی تھی کہ مہد نے اسکی آنکھوں میں پلتے سوال پڑھ لئے اور اشارے سے اسے چپ رہنے کا بولا۔
پیراڈائز کے سامنے سب کو اتارا تو سحر کنزہ کی سائیڈ پر آگئی اور شیشہ ناک کیا۔ کنزہ نے شیشہ نیچے کیا۔
"کبھی فرصت ملے تو ہماری جنت میں آجانا۔ آپکو اچھا لگے گا۔ یہاں موجود ہر لڑکی کے پاس ایک ہی سگا رشتہ ہے۔ وہ ہے آہل یزدان۔ آپکو خیرت ہوگی نا؟؟ مگر یہی حقیقت ہے۔۔ اینڈ تھینکس ڈراپ کرنے کے لئے۔" کنزہ ہونق بنی اسے دیکھتی رہی اور وہ مسکراہٹ اچھال کر چلی گئی۔
"میں سمجھی آہل بھائی کی سگی بہن ہے۔ مطلب کچھ بھی۔ کسی بھی راہ چلتی لڑکی کو آپ اس کی بہن سمجھ کر لفٹ دیں گے۔" کنزہ پست ذہنیت کی ثابت ہوگئی۔
"سگی ہی تو ہے. اور تم کب سے اتنا نیگیٹیو سوچنے لگی؟؟ مہد کو اپنی بہن سے یہ امید نہیں تھی۔
"اوہ کم آن بھائی!! اتنا لو سٹینڈرڈ نہیں ہے آہل کا۔ بزنس کی دنیا کا ابھرتا ہوا تارا ہے۔ اب یتیم خانے کو چلا رہا ہے تو اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہاں کی ہر لڑکی خود کو اسکی بہن کہہ کر متعارف کروائے۔ ہنہنہ!! کنزہ نے استہزائیہ ہنکارا بھرا۔
مہد نے لب بھینچ کر تاسف سے سر ہلایا۔ اب بہن کی سوچ کو وہ بدل نہیں سکتا ہے۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
آہل کو گئے بارہ دن ہوگئے تھے. عنایہ نے روم سے نکلنا کم ہی کردیا تھا۔ بوقت ضرورت نکلتی۔ آہل نے دو گھنٹے کا لیکچر دے کر اسے اچھے سے سمجھایا تھا کہ حویلی والوں سے بچ کر رہنا.. آستین کا سانپ ہیں۔ کسی بھی وقت ڈس سکتے ہیں. سحر نہایت سمجھدار اور قابل اعتبار لڑکی تھی اسلئے آہل نے اسے سے اپنے اور زر کے رمیان تعلق کا بتایا تھا. جبکہ عنایہ لاعلم تھی.
وہ تینوں بھائی جو اپنی چال چلنے کے لئے مناسب وقت کا انتظار کر رہے تھے آج وہ موقع مل ہی گیا تھا. آہل سےصبح ویڈیو کال پر بات کرنے سے طبیعت میں سرشاری عود آئی تھی تو آج ناشتہ روم سے باہر کرنے کا من کیا. ڈائیننگ ٹیبل سے اٹھ کر گئی تو اپنا موبائل وہی بھول گئی تھی. سلطان میر نے نظر بچا کر موبائل کوٹ کی جیب میں رکھ دیا.
عنایہ روم میں جاکر لیپ ٹاپ لیکر بیٹھ گئ اور اپنی اسائمنٹ مکمل کرنے لگی. دوپہر کے تین بج گئے تو آرام کی عرض سے لیٹ گئی کہ آنکھ لگ گئی.
آج بھی وہ تینوں لان میں ساتھ بیٹھے عنایہ کا موبائل ہاتھ میں پکڑے خباثت سے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے لگے۔ اس نے عنایہ کے موبائل سے اذلان کو میسج لکھ کر سینڈ کردیا تھا اور اب وہ نتائج کا ویٹ کرنے لگے.
تھوڑی ہی دیر بعد پورچ میں اذلان کی گاڑی آکر رکی تو تینوں چوکنا ہوگئے. مطلب کھیل شروع ہوچکا تھا. وہ عجلت میں گاڑی سے نکل کر حویلی کے اندر داخل ہوگیا اور عنایہ کے روم کے سامنے کھڑے ہوکر ہلکا سا ڈور ناک کیا مگر جواب ندارد..
پھر ہمت مجتمع کرکے آہستہ سے دروازہ کھول کر روم میں قدم رکھا .دن کے وقت بھی روم میں ملگجہ اندھیرا تھا. پردے گرائے تھے. اس نے بیڈ کی جانب قدم بڑھائے.
عنایہ کے سرہانے دوزانو بیٹھ کر اس نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا .بے انتہا حسن سے مالا مال, سرخ و سپید چہرے پر لمبی گھنیر پلکیں اسکی دھڑکنیں منتشر کرنے لگا. "جب تک چپ ہو تب تک کیوٹ ہو ورنہ تمہاری یہ بدتمیز اور بد اخلاقی بھی جان لیوا ہے جس سے ہم عشق کرنے لگے ہیں." اپنے جذبوں پر بندھ باندھ کر ہلکا سا اسکا کندھا جھنجھوڑا.
"عنایہ!! عنایہ نے نیند میں کروٹ لی.
اذلان نے پھر سے پکارا.
"عنایہ!! ویک اپ. اگر طبیعت ذیادہ خراب ہو تو ڈاکٹر کے پاس چلے؟؟
عنایہ نے نیند سے بوجھل آنکھیں کھولی تو اذلان کو اپنے اوپر جھکا دیکھ کر اس پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے.
"تت۔تم !! تم یہاں کیا کر رہے ہو." وہ جلدی سے سائیڈ میں رکھا دوپٹہ اوڑھ کر بیٹھ گئی.
"کیا مطلب کیا کر رہا ہوں؟؟ تم نے خود بلایا تھا مجھے." اذلان کے ماتھے پر شکن پڑ گئے.
"میرے چہرے پر پاگل لکھا ہے کیا !! جو تمہیں بلاؤں گی. اور بلاوں گی بھی تو کس حق سے. نکل جاؤ میرے روم سے۔ کسی نے دیکھ لیا تو میری بدنامی ہوگی." عنایہ کو تو اسکی بات سن کر پتنگیں لگ گئی.
"ویٹ ویٹ !! اگر یہ مذاق ہے عنایہ تو بہت برا مذاق تھا. میں تمہارے ایک میسیج پر اپنا امپورٹنٹ کام چھوڑ کر بھاگ کر آیا ہوں اور تم میری انسلٹ کر رہی ہو. " اذلان ماننے کو تیار ہی نہیں تھا. جو اس کو بلا کر اب انجان بننے کا ناٹک کر رہی تھی۔
"کون سا میسج ؟؟ کہاں کا میسیج؟ اپنے دماغ کا علاج کرواؤ. مجھے پاگل کتے نے کاٹا ہے جو میں تمہیں میسیج کرکے بلاؤں گی. اور نا ہی میرے پاس تمہارا نمبر ہے." عنایہ بپھر گئی.
"اگر تم نے نہیں کیا تو تمہارے موبائل سے خود میسیج ٹائپ ہوکر مجھے سینڈ ہو گیا." اذلان نے اپنا موبائل اس کے سامنے کردیا.
" میری طبیعت بہت خراب ہے۔ پلیز آپ جلدی آ جائے۔مجں روم میں ہوں۔ مجھ سے چلا بھی نہیں جا رہا." عنایہ نے تیز آواز میں میسیج پڑھ کر نمبر دیکھا۔ تو اس کا نمبر تھا. اس نے جلدی موبائل کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں۔
"یہ۔۔یہ میں نے نہیں کیا !! اور میرا موبائل؟؟ اس نے کمبل الٹ دیا۔ ہر چیز تہس نہس کردی, مگر موبائل نہیں ملا.
جبکہ اذلان کی سوئی میسیج میں لکھے گئے لفظ "آپ" پر اٹکی ہوئی تھی.
"میں نے پہلے کیوں دھیان نہیں دیا. عنایہ "آپ" لفظ غلطی سے بھی استمعال نہیں کرتی تھی. کال بیک کرکے پوچھ لینا چاہئے تھا۔" لیکن عنایہ نام دیکھ کر اسکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہوچکی تھی اسلئے عجلت میں نکل گیا. کسی انہونی کا احساس ہونے لگا . تو خواس باختہ جلدی سے دروازے کی طرف بڑھ گیا جبکہ عنایہ خود بھی موبائل ڈھونڈنے باہر کی طرف قدم بڑھانے لگی۔ اذلان نے جیسے ہی دروازے پر ہاتھ رکھا. شک یقین میں بدل گیا دروازہ لاکڈ تھا۔ دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی. آنکھوں میں بے بسی لئے پیچھے مڑ کر عنایہ کو دیکھا تو عنایہ کے قدم لڑکھڑائے۔ مطلب دونوں ٹریپ ہوچکے تھے.
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
"یہ دروازہ کیوں لاک کردیا ہے تم نے. کس ارادے سے میرے روم میں آئے تھے ؟؟ عنایہ نے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیر دی.
"مم۔ میں نے نہیں کیا یہ!! تم میری بات تحمل سے سنو. ہمیں کسی نے پھنسایا ہے۔ ایک سوچھی سمجھی سازش کے تحت. پہلے تمہارے نمبر سے مجھے مسیج کرنا, مجھے روم میں بلانا, باہر سے دروازہ لاک کرنا." اذلان نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی.
"کیا مطلب کسی کی سازش ہے!! یہ تمہارا گھر ہے نا۔ تو تمہارے گھر میں بھلا کوئی کیوں تمہیں پھنسانے کی کوشش کرے گا. یہ سب تمہاری کارستانیاں ہیں. شرافت سے دروازہ کھول دو. ورنہ میں چیخ کر سب کو بلادوں گی اور تمہارا یہ مکروہ چہرہ سب کے سامنے پیش کروں گی." عنایہ سارا ملبہ اس کے سر ڈال کر غرائی.
"ششش!! بڑا شوق ہے خود کا اشتہار لگوانے کا تو شوق سے چیخو. بھلا میں کیوں خود کو بدنام کرکے زلیل کرواؤں گا. ہوش میں تو ہو"" اذلان خود تذبذب کا شکار تھا. یہ گھناؤنا کھیل کون کھیل سکتا ہے. اس نے ہزار بار کوشش کی دروازہ کھولنے کی, نا کھلنا نا نہیں کھلا. اب تو اسے بھی تشویش لاحق ہوگئی. سارے دراڑ ,کبرڈ کنگال دئے۔ مگر چابیاں نہیں ملی. وہ بے سدھ سا صوفے پر بیٹھ گیا.
عنایہ غصے سے اس کی ساری کاروائی ملاحظہ کر رہی تھی. سب اسکا ڈرامہ سمجھ کر اس نے زور زور سے دروازہ بجانا شروع کردیا۔
"کوئی ہے دروازہ کھولے پلیز!! جبکہ اذلان آنے والے لمحات کا سوچ کر ہاتھوں میں سر گھرائے بے خود سا بیٹھا تھا۔ جبکہ وہ پاگلوں کیطرح چیخ کر سب کو بلا رہی تھی.
ایک دم دروازہ کھلا اور سامنے کا منظر دیکھ کر حقیقی معنوں میں عنایہ کے پیروں تلے زمین کھینچ لی گئی. کیونکہ گھر کے مردوں سمیت حواتین,بچے, ملازمین سب دروازے پر جمع تھے. وہ بے یقینی سے سب کیطرف دیکھنے لگی. جبکہ اذلان کی ہمت نہیں تھی سر اٹھانے کی.
"کیوں چلا رہی ہوں لڑکی!! کیا آفت آن پڑی ہے؟؟ سلطان میر کی آواز سے سب کا سکتہ ٹوٹ گیا. اور سب سے پہلے ایاز میر نے اس کو سامنے سے ہٹا کر اندر قدم رکھے تو اذلان کو صوفے پر بیٹھتا دیکھ کر آنکھوں میں ڈھیر سارا مصنوعی تحیر ابھر لایا۔
"تم دونوں ایک ساتھ ایک روم میں کیا کر رہے تھے." سنجیدگی اور بے نیازی کی دبیز چادر اوڑھے وہ باری باری عنایہ اور اذلان سے مخاطب ہوا.
"بابا آپ میری بات سنے!! وہ سرعت سے اٹھ کر اپنے باپ کے قریب آیا۔
" ہمیں کسی نے پھنسانے کی کوشش کی ہے. یہ دیکھیں میرے موبائل پر اس کے نمبر سے میسج آیا ہے. جبکہ اسکا موبائل اس کے پاس ہے ہی نہیں. میں سمجھا اسکی طبیعت خراب ہوگی تو ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں گا۔ مگر جیسے ہی میں اندر گیا یہ بلکل ٹھیک تھی۔ اسکا موبائل غائب, اور دروازہ کسی نے باہر سے بند کردیا." اذلان نے ایک سانس میں پوری بات بتا دی. جبکہ اسکے برعکس عنایہ آنکھیں پھاڑے حالات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی.
ایاز میر نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو ڈریسنگ ٹیبل پر نظر ٹہر گئی۔ سب نے اس کے نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو وہاں موبائل پڑا تھا. جو سلطان میر کے ہاتھوں کی صفائی کا منہ بولتا ثبوت تھا.
"یہ۔یہ نہیں تھا یہاں!! آئی سوئیر بابا. ہم نے ہر جگہ چیک کیا تھا۔ تم بتاؤ نا عنایہ یہ موبائل فون یہاں نہیں تھا." اس نے اب عنایہ کیطرف مدد طلب نظروں سے دیکھا.
"بند کردو اپنا یہ ناٹک!! سب جانتی ہوں میں۔ یہ تم حویلی والوں کا کیا دھرا ہے. تم باپ بیٹے ملکر مجھے بدنام کرنا چاہتے ہو نا تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا." عنایہ نے انگلی اٹھا کر سب کو تنفر کی نظر سے دیکھا۔
"دیکھ رہے ہیں آپ بھائی صاحب!! چوری اوپر سے سینہ زوری. دن دیہاڑے ہمارے بچے کو روم میں بھلا کر رنگ رنگلیاں مناتے ہوئی پکڑی گئی ۔اور پھر بھی بے شرموں کی طرح ہمیں الزام دے رہی ہے." زر اور شزا دونوں کے چہرے لٹھے کی مانند سفید پڑھ گئے تھے. شزا تو اذلان کی آنکھوں میں عنایہ کے لئے واضح پسندیدگی دیکھ چکی تھی۔ جبکہ زر کو عنایہ کی آنکھوں میں سچائی صاف دکھ رہی تھی. آہل اسکو تاکید کرکے گیا تھا کہ عنایہ کا خیال رکھے. تو کیا ماضی پھر سے پلٹ کر آگیا. برسوں پہلے جو طوفان آیا تھا وہ پھر سے سر اٹھا گیا. پھر سے کوئی کھیل کھیلا گیا ۔ کوئی سازش رچائی گئی۔ اور کھیلنے والے دودھ میں سے مکھی کیطرح نکل کر کامیاب ہو جائیں گے. پھر سے کوئی بےگناہ لڑکی معاشرے کی بے انصافی کے نذر ہو جائے گی. پھر سے کوئی بچہ اپنوں سے بچھڑ جائے گا؟؟ کئی سوال زر کے دل کو چھیدنے لگے. یہی حال عاتکہ کا تھا.
"چچا سرکار!! آپ کیسے ایسا بول سکتے ہیں۔عنایہ پر نہیں تو کم از کم اپنے خون پر تو بھروسہ رکھیں. مجھ پر تو یقین رکھے." اذلان سرخ آنکھیں لئے سلطان میر کے سامنے کھڑا ہوگیا. تو سلطان میر نے ایک زور دار چھانٹا اس کے منہ پر مارا.
"کیا کمی رہ گئی تھی ہماری تربیت میں جو تم نے یہ غلیظ قدم اٹھا لیا. اگر پسند کرتے تھے اس لڑکی کو تو ہمیں بتا دیتے۔ ہم عزت سے تم دونوں کی شادی کروادیتے۔ مگر۔۔۔۔"
'بس کردے آپ چچا سرکار!! اور کتنا گریں گے. ہم نے کچھ نہیں کیا. مما!! آپکو یقین ہے نا اپنے بیٹے پر. مجھے آپکی سر کی قسم!! ہم دونوں کچھ نہیں جانتے. یہ کسی نے جان بوجھ کر یہ گھٹیا حرکت کرکے ہمیں پھنسایا ہے." ہر طرف سے مایوس ہوکر وہ آخری امید لیکر اپنی ماں کے قریب آیا. اسکو اپنے بیٹے پر یقین تھا۔ اسکی ممتا گواہ تھی مگر یہاں کی عورتوں کی آواز کو ازل سے دبا دیا جاتا تھا. مردوں کی بات سے اختلاف کی صورت میں اسے رشتے اور گھر دونوں سے بے دخل کر دیا جاتا تھا. اس نے خاموشی سے سر جھکایا.
"کھاؤ اپنی ماں کی سر کی قسم کہ تم اس لڑکی کو پسند نہیں کرتے تھے. ہم نے کئی بار تم دونوں کو اکیلے گپیں ہانکتے دیکھا ہے." سلطان میر نے آخری داؤ کھیلا.
"ہاں کرتا ہوں پسند. لیکن عورت کی عزت کرنا جانتا ہوں. میں نے کوئی غیر اخلاقی اور گری ہوئی حرکت نہیں کی." اظہار بھی کیا تو کن حالات اور کن الفاظ میں۔ عنایہ کو اس پر یقین ہونے لگا کہ ایک انسان چاہے کتنا بھی گرجائے اپنی ماں کی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا.
"دیکھ لیا بھائی صاحب!! دال میں کچھ کالا نہیں پوری دال ہی کالی ہے." سلطان میر پھر سے بھڑک اٹھا.
"پھپھو!! آپ تو کرے یقین میرا. آپ کی گود میں پلا بڑھا ہوں میں." اذلان ہر طرف سے مایوس ہوکر عاتکہ کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ تو عاتکہ نے سے خود سے لگایا. مگر وہ بھی بے بسی کے ڈوروں میں بندھی ہوئی تھی.
جبکہ عنایہ کے آنسو لڑیوں کی شکل میں پہنے لگے
"نا رو میرا بچہ !! یہاں تو ایک سگی ماں کو اپنے بچوں کی تربیت پر شک ہیں جسکے کھوکھ سے جنم لیا ہے. مگر میں نے صرف تمہاری پرورش کی ہے۔ مجھے اپنی بچی پر بھروسہ ہے۔" بی اماں نے عنایہ کو خود سے لگا کر پیار کیا۔
" یا اللّٰہ میں آہل کو کیا جواب دوں گی؟ وہ میرے سہارے عنایہ کو چھوڑ کر گیا تھا." زر کی حالت ایک دم خراب ہوگئی۔ اسے چکر آنے لگے
ہواس کھونے لگی۔۔۔۔۔
"زر آپی....!! اسامہ کی نظر سب سے پہلے زر پر پڑی تو وہ دوڑ کر آیا اور اسے بازوں میں بھر کر گرنے سے بچایا.
سب زر کی طرف متوجہ ہوگئے.
"زر میری بچی!! عاتکہ بھی اسکے پاس آئی۔ اسے عنایہ کی بیڈ پر لٹایا. تو اسکی ماں نے جلدی سے پانی کی چھینٹیں اسکے منہ پر مارے ۔
تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھول دی تو زور سے ابکائی ائی۔ جلدی منہ پر ہاتھ رکھ کر واش روم کی طرف دوڑی. سب کی متخیر نظریں اب زر پر ٹکی ہوئی تھی. جبکہ عاتکہ کو لگا کہ وہ اگلا سانس نہیں لے پائے گی.
" اسامہ ڈاکٹر کو بلاؤ جلدی !! شزا کو ہوش آیا تو اسامہ کو محاطب کیا.
"جی.....!! اسامہ سر ہلا کر چلا گیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
"شی از ون منتھ پریگننٹ !! ڈاکٹر کی آواز تھی کہ بم... سب کے سروں کے اوپر ساتوں آسمان دھڑا دھڑ گرنے لگے. حواس برف کی طرح منجمد ہوچکے تھے.
ڈاکٹر جاچکا تھا. سب خالی الذہنی کی کیفیت میں شانت بیٹھے تھے. جیسے بہت بڑا طوفان ہر طرف تباہی مچا کر تھم گیا ہو۔ کیا مکافات عمل اتنی جلدی وقوع پذیر ہوتا ہے. دوسروں کی بیٹی کو بدنام کرنے چلے تھے اپنی ہی بیٹی گناہگار ٹھہری.
"زر !!! کس کا بچہ ہے یہ؟؟ سب سے پہلے اذلان نے حالات کی کشیدگی کو سائیڈ پر رکھ کر نرمی سے استفسار کیا.
"بھیا وہ.... !! آنسو کا سیلاب بند توڑ کر رواں دواں ہوگیا. بلا ارادہ نظر اسامہ پر پڑی تو شرمندگی سے سر جھکا دیا۔ کیونکہ اسامہ کی نظروں کی سرد مہری اسے باور کروا گئی کہ وہ جانتا ہے بچے کا باپ کون ہے۔ اور حقیقت بھی یہی تھی۔۔
"بتاؤ آوارہ بدچلن !! کس کیساتھ منہ کالا کردیا ہے. یہ ہمارے بچوں کو ہو کیا گیا ہے. کس چیز کی کمی تھی تم لوگوں کو؟ کیوں بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہو سب کے سب ." سلطان میر نے اگے بڑھ کر زر کو ایک ساتھ دو تین تھپڑ رسید کردیے. ویسے بھی اسکے سارے پلان چوپٹ ہوگیا۔ جبکہ عاتکہ آنکھیں بند کرکے دل میں خدائی مدد کی طلبگار تھی.
"یا اللّٰہ آہل کو بھیج دے."
"بولتی کیوں نہیں !! کس کے گناہ کا بوجھ اٹھا کر گھوم رہی ہو." ایاز میر نے طیش میں آکر اپنی بیٹی پر ہاتھ اٹھانا چاہا کہ اذلان نے ہوا میں روک دیا.
" اگر وہ اپنی صفائی میں کچھ بولے گی تو کیا آپ لوگ یقین کر لیں گے ؟؟ میں وضاحتیں اور اپنی بے گناہی کے ثبوت اور قسمیں دے دیکر تھک گیا۔ آپ لوگوں کو یقین آگیا کیا؟؟ نہیں نا ۔یہاں چھ فٹ کا ایک مرد خود کو بے گناہ ثابت کرنے میں ناکام ہے تو ایک کمزور لڑکی کی بات کا خاک یقین کرنا ہے آپ سب نے." اذلان پھٹ پڑا.
"تم بڑھاوا دے رہے ہو اسے۔ اس کے گناہ کی پردہ پوشی کر رہے ہو۔" ایاز میر اپنے بیٹے کے دلائل سن کر بل کھا کر رہ گیا۔
"یہ بڑھاوا نہیں ہے۔ عبرت ہے آپ لوگوں کے لئے۔ دوسروں کی بیٹیوں پر اٹھنے والی انگلی اپنے ہی گھر کی دہلیز پر آکر رک جاتی ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ میں اور عنایہ بے قصور ہیں, مگر آپ لوگ پے درپے الزامات لگا کر میری اور اس کی کردارکشی کر رہے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ اس پورے گیم کا ماسٹر مائنڈ کون ہے مگر خالات پلٹا کھا چکے ہیں۔ اور ابھی ثابت نہیں ہوا ہے کچھ بھی. " ازلان نے تاسف بھری سرد آہ خارج کی۔
جبکہ اسکی ماں منہ پر ہاتھ رکھ کر ہچکیاں دبائے رو رہی تھی. نا بیٹے کی بے گناہی میں کچھ بول پائی نا ہی بیٹی کے قصوروار ہونے میں منہ کھولا. بس چپ چاپ تماشائی بنتے دیکھنے لگی.
"میں کسی کو جواب دینے کی پابند نہیں ہوں. سمجھے آپ لوگ." زر ہذیانی کیفیت میں چلائی اور بلکتے ہوئے دیوار کے سہارے زمیں پر بیٹھتی چلی گئی.
حدید بھی آگیا تھا سب بڑے سے ہال میں جمع تھے. ایک طرف اذلان اور عنایہ کا سن کر وہ حیران تھا تو دوسری طرف زر کی پریگننسی.
"کیسے جواب دہ نہیں ہوں گی. بتاؤ بچے کا باپ کون ہے." ایاز میر تلملایا.
"میں" بھاری گھمبیر آواز نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔
"آہل!!! زر کے لب بے آواز متحرک ہوئے. اور ایک دم وجود میں توانائی کی لہر دوڑ گئی اور بھاگ کر آہل کے سینے سے لگ گئی۔
خلاف توقع آہل کو اپنے بے انتہا وجاہت لئے سامنے کھڑا دیکھ کر سب کی آنکھیں حیرت و بے یقینی سے پھیل گئی. تھکن سے چور, بکھرے بال, صبیح پیشانی پر لاتعداد شکن لئے, کوٹ بازو پر ڈالے, کپ کہنیوں تک فولڈ کئے ازلی اعتماد کے ساتھ لوٹا تھا. بارغب نقوش میں ناگواری کے اثرات نمایاں ہوگئے.اور زر کے گرد حصار باندھ کر متوازن چال چلتا ہوا سب کے بیچوں بیچ آکھڑا ہوا تھا.
"یہ میرا بچہ ہے. کسی میں ہمت ہے تو مجھ سے روبرو بات کرے. تم لوگ ہمیشہ سے کمزوروں کو کیوں کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیتے ہو۔" آہل تحمل سے سینے پر ہاتھ باندھ کر گویا ہوا. جبکہ اس کا کہا گیا ایک ایک لفظ وہاں موجود لوگوں کے رگ و پے کو چیرتا ہوا گزر گیا. جبکہ زر کے چہرے پر تھپڑ کے نشان دیکھ کر سب پر کینہ توز نگاہیں ڈال کر اس نے ضبط سے ہونٹ بھینچے۔
" کس نے نے جرات کی ہے اس پر ہاتھ اٹھانے کی۔؟؟ زر کے رخسار پر نرمی سے بوسہ دیکر وہ زخمی شیر کی طرح پھنکارا۔ مگر اسکی اتنی بے باکی پر حویلی کے مرد سیخ پا ہوگئے جبکہ عورتوں نے ندامت سے سر جھکا لئے۔۔
" میں نے مارا ہے اسے. یہ تو صرف تھپڑ تھا میں اسے جان سے مار ڈالوں گا۔ اس نے ہماری عزت کے پرخچے اڑا دیئے. اور تمہاری یہ مجال ہمارے ناک کے نیچے سے ہماری بیٹی کی عزت داغدار کی. عورت کے حوالے سے تمہارے وہ بڑے بڑے دعوے فریب نکلے. یہ سب کرنے کیلئے یہاں پر آئے تھے تم !! احسان فراموش۔" سلطان میر نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھ کر منہ سے آگ اگل رہا تھا.
"ذبان سنھبال کے سلطان میر !! کسی کے باپ میں اتنا دم نہیں کہ اہل یزدان سےسوال و جواب کرے یا انگلی اٹھائیں.اور یہ سب کچھ میری غیر موجودگی میں کیا تم نے۔ میرے سامنے اسے ہاتھ لگائے ذرا میں مان جاؤں گا کہ تم واقعی مرد کہلانے کے قابل ہو. کچھ لمحے نظروں سے اوجھل کیا ہوگیا یہاں تو کایا پلٹ گئی. پانی پت کا میدان بن گیا ہے.اور کونسے احسان کی بات کر رہے ہو تم. زرا روشنی ڈالنا پسند کرو گے . ویسے وہ کیا کہتے ہیں لوگ۔۔۔
°°کردار جن کے خود مرمت مانگ رہے ہیں۔۔۔۔
نکلے ہیں وہ لوگ میری شخصیت بگاڑنے۔"
آہل کا انداز ٹھٹھرا دینے والا تھا.
ایاز میر کا خرافاتی دماغ اس وقت بھی گتھ جوڑ میں مصروف تھا. اگر بچہ واقعی آہل کا ہے تو اس بچے کو مہرہ بنا کر آہل کے نام ساری جائیداد ضبط کی جاسکتی ہے. جو بابا سرکار نے اس کے نام کیا تھا.
"تم اس بےحیا کو ابھی اسی وقت لیکر ہاسپٹل چلی جاؤ اور اس غلاظت سے اسکا وجود آزاد کرواؤ. اور پھر جلد از جلد اپنے بھائی کو بلا کر اسکا نکاح حسان( بھتیجے ) کیساتھ کرواکر اس کی رخصتی کروادو"۔ ایاز میر نے اپنی بیوی کو مخاطب کرکے اگلی چال چلی. زر آہل کے سینے سے لگی اسکے شرٹ کو زور سے مٹھیوں میں دبوچ لی۔
"آہل !! مم. میرا بچہ!! زر نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ لہو رنگ آنکھیں اوپر اٹھا کر آہل کو بے بسی سے دیکھا۔
"خبردار !! زر کو یا میرے بچے کو کسی نے ہاتھ بھی لگایا تو ہاتھ پیر سلامت نہیں رہیں گے. میں تم لوگوں پر اپنا بچہ قتل کروانے کا مقدمہ درج کروادوں گا. " آہل زر کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہوگیا.
"کونسا بچہ!! نامی گرامی بزنس مین آہل یزدان کا ناجائز, زنا سے پیدا ہونے والا ........
" بیوی ہے میری...... !!! جائز اولاد ہے۔" سلطان میر کی بات کاٹ کر وہ اتنا تیز دھاڑا کہ لہجے میں اژدھے جیسی پھنکار تھی.
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
لو جی۔بہت سی ریڈرز کو کنفیوژن تھی کہ آہل اور زر کے بیچ کیا تعلق ہے۔ بغیر شادی کے اتنا کلوز ری
"بیوی"
سب ہونق بنے آہل کی طرف دیکھ رہے تھے. آج پے درپے انکشافات کا دن تھا.
"صحیح سنا. بیوی !! ہمارا نکاح ہوا ہے. زر شرعی اور قانونی بیوی ہے میری. اور میری بیوی ایک باحیا اور باکردار لڑکی ہے۔ جس نے زر کے بارے میں اب مزید کوئی الٹی سیدھی بکواس کی تو میں منہ سے کچھ نہیں بولوں گا ڈائریکٹ عمل کروں گا. کھڑے کھڑے تم سب کو یہاں سے نکلوا دوں گا". آتش زدہ انداز تھا۔
"تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوا۔ ہماری بیٹی کا کوئی نکاح نہیں ہوا۔ اور نکاح گھر کے بڑے سربراہ کی غیر موجودگی میں کی جائے تو ناجائز قرار دیا جاتا ہے۔ اگر یہ بیوی ہے تو جس کو یہاں لیکر آیا تھا وہ کون ہے۔ جو مردوں کو قابو میں کرنے کا ہنر بخوبی جانتی ہے۔ ابھی ابھی ایک کیساتھ منہ کالا کرنے بند روم میں پکڑی گئی." سلطان میر نے معاملہ ٹھنڈا دیکھ کر تیر پھینکا۔
"وہ سب بھی تم لوگوں کی کوئی من گھڑت چال ہی ہوگی. عنایہ کی پرورش میں نے کی ہے. اور مجھے خود سے بڑھ کر مان ہے اس پر کہ یہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی کہ میرا سر شرم سے جھک جائے". آہل نے پاس کھڑی سہمی سی عنایہ کو خود سے لگایا۔
"تمہیں میں نے وارن کیا تھا نا کہ عنایہ سے دور رہ ۔ اپنی غلیظ نظروں کو قابو میں رکھ. مگر تم سب نے میری غیر موجودگی کا فایدہ اٹھایا۔ مجھے تمہاری لگامیں کھینچنی چاہئے تھی" اہل زخمی شیر کی طرح اذلان پر جھپٹا. اور گریبان سے پکڑ کر پیٹ میں دو تین مکے مار دئے.
"مار دو. میں اف تک نہیں بولوں گا. میرے اپنے خون کے رشتے میری بے گناہی کا ثبوت مانگ رہے ہیں تو بھلا آپ کو کیا صفائی دوں۔غلطی میری ہی تھی کہ بغیر کنفرم کئے میں عنایہ کی طبیعت کی خرابی کا سن کر بھاگتا آیا." اذلان نے بے بسی سے ہونٹ چبائے. تو آہل نے اسے ایک جھٹکے سے چھوڑا تو وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہوگیا۔
"کب نکاح کیا ہے تم نے؟؟ حدید نے زر کی حالت کے پیش نظر ذرا نرمی سے استفسار کیا.
"دو سال پہلے !! زر بس اتنا بول پائی.
ہال میں ایک دم سکوت چھا گیا اور وجہ آہل کے پی اے کا آنا تھا. جس کے ہاتھ میں اہل کا بریف کیس تھا جس میں اس کے ضروری فائلز اور ڈاکومنٹس ہوتے ہیں۔
آہل نے اس کے ہاتھ سے بریف کیس لیکر کھول دیا اور ایک پیپر نکال کر ایاز میز اور سلطان میر کیطرف اچال دیا.
"خود کو اچھی طرح مطمئن کرلو. میری بیوی تم لوگوں کے کسی سوال و جواب کی پابند نہیں۔ اور کیا کہا تم نے؟ گھر کے سربراہ کی غیر موجودگی؟؟ تو پڑھ لو یہ. بھگا کر نہیں لے کر گیا تھا۔"
اذلان نے زمین سے پیپیر اٹھاکر اس پر ایک نظر ڈالی تو چار سو وولٹ کا کرنٹ لگا۔ پھر اس نے پیپر باپ کی طرف بڑھایا.
"بابا سرکار؟؟ یہ نکاح بابا سرکار نے خود کروایا ہے. وہ کیسے مجھ سے پوچھے بغیر میری بیٹی کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ میں نہیں مانتا ایسے کسی نکاح کو" وہ پیپیر پر نظر گاڑھے متغیر رنگت کے ساتھ خود کو یقین دلانے کی کوششوں میں تھا.
" نیچے زر کے سائن بھی ہے سسر جی !! اور نکاح کے وقت زر کی عمر اکیس سال تھی۔ اپنے فیصلے کرنے میں خودمختار... اب بھی کوئی شک ہے؟ یہ حویلی جتنی تم لوگوں کی ہے۔ اتنی میری. اور میں نے اپنے حصے کی پوری پراپرٹی زر کے نام کی ہے. ساتھ میری کمپنی میں بھی ففٹی پرسنٹ کے شئیرز کی مالک ہے ۔ تو اگر کسی نے میری بیوی اور ہونے والے بچے کو ہرٹ کرنے کی کوشش کی تو نتائج کے زمہ دار تم لوگ خود ہوں گے. میں لمبا سفر کرکے آیا ہوں۔ بہت تھک چکا ہوں۔ اسلئے مجھے اب گھر میں کوئی تماشا کوئی ہنگامہ نہیں چاہئے۔ پھر زرا فرصت میں عنایہ والا معاملہ بھی نبھٹاتے ہیں." اکتاہٹ کا اظہار کرکے وہ زر اور عنایہ دونوں کے گرد بازوؤں حمائل کرکے جانے لگا۔ عنایہ کے تاثرات بلکل سپاٹ تھے. وہ تو اہل کے منہ سے زر کے لئے کہے گئے لفظ "بیوی" سن کر تڑپ اٹھی. جبکہ یہی حال سوہا کا بھی تھا۔ جس کے دل میں محبت کی ننھی کلی نے سر اٹھایا تھا۔ وہ شکست خوردہ سی تنے غضلات کیساتھ آہل کے سینے سے لگی اپنی بہن کو تنفر زدہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
عنایہ کے روم کے سامنے رک کر اس نے عنایہ کو اندر بھیج دیا اور زر کو اپنے ساتھ اپنے روم کے آیا.
اذلان خوش تھا اپنی بہن کے لئے۔ دادا سرکار نے برسوں پرانی فرسودہ روایات کو ختم کرنے کے لئے اسٹیپ لیا تھا جو کہ خوش آئند قدم تھا.
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زر کو اپنے روم میں لا کر اسے بیڈ پر بٹھایا. اور اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر اسکے قریب بیٹھ گیا.
" یہ خوشخبری سننے کا پہلا حق میرا تھامسز!! آہل کے متغرض لہجے نے اسے چونکا دیا.
"آہل میں نے آپکو بولا بھی تھا. مجھے اپنی ذات کا تماشا نہیں بنانا۔ نکاح ہوا تھا وہ بھی دادا سرکار اور پھوپھو کی موجودگی میں. تو ہمیں تب تک اپنے رشتے کو آگے نہیں بڑھانا تھا جب تک سب کچھ منظر عام پر نہیں اتا۔ آج بے گناہ ہوکر بھی میرے کردار پر جو کیچڑ اچھالا گیا۔ سگے باپ , چچا نے مجھے بے حیا, بدکردار کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا, میں یہ ڈیزرو نہیں کرتی تھی. دو سال آپ نے شوہر ہوتے بھی اپنا حق نہیں مانگا کچھ وقت اور انتظار کر لیتے تو آج میں اسطرح سب کے سامنے سر جھکا کر کھڑی نہیں ہوتی۔ بلکہ فخر سے آپکے کندھے سے کندھا ملا کر عزت سے , مان سے مسز آہل یزدان بن کر کھڑی ہوتی." زر دل پر چھایا جمود کم کرنے کی کوشش کرنے میں ہلکان ہوگئ۔۔
"یار مجھے تھوڑی نا پتہ تھا کہ ہمارے بچے کو دنیا میں آنے کی اتنی جلدی ہوگی. ورنہ میں تمہیں ان جابر لوگوں کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ کر جاتا. اور تم بھی برابر کی قصور ہو. تمہیں میں اپنے ساتھ اپنے گھر میں رکھنے کے لئے منتیں کرتا رہا, مگر تمہیں تو اسطرح خود ذلیل ہونے کا شوق تھا۔ کہ مجھے سارے رسموں رواجوں کے ساتھ دنیا کے سامنے عزت سے بیاہ کر لے جاؤ. ورنہ اب ہم اپنے گھر میں سکون کی زندگی جی رہے ہوتے۔ مجھے نا اس حویلی میں کوئی انٹرسٹ ہے نا یہاں کے مکینوں میں. نا ان کی پراپرٹی میں. " اہل اس کے آنسو اپنے انگلی کے پوروں سے صاف کرنے لگا.
"ہاں تو کونسا گناہ کیا۔ سب لڑکیوں کی طرح میرے بھی کچھ خواب تھے کہ میری شادی دھوم دھام سے ہو۔ میں نے دادا سرکار کے سامنے بھی اپنی خواہش کا برملا اظہار کیا تھا۔ اور انہوں نے رضامندی بھی ظاہر کی تھی۔ مگر ان کی سانسیں ختم ہوگئی تھی۔ چل بسے اور میرے خواب ادھورے رہ گئے" زر سسکنے لگی۔
اسطرح رو کر اسٹریس لیکر خود پر اور میرے بچے پر ظلم کر رہی ہو. رونا بند کردو۔ ابھی تو عشق کے امتحاں اور بھی ہے۔ وہ تم نے سنا ہوگا نا غیروں کے مقابلے میں اپنے ذیادہ خطرناک ہوتے ہیں. صرف نکاح کی بات باہر آئی ہے۔ ابھی اور کتنے رازوں سے پردہ اٹھانا ہے....."
"ایک منٹ!! زر نے سرعت سے اہل کی بات کاٹ دی۔۔
آپ نے تو صبح بات کی تھی نا مجھ سے۔۔ آپ تو پرسوں آنے والے تھے تو....؟؟؟
"جب عنایہ والی بات ہوگئی تو بی اماں نے مجھے کال کرکے سب بتا دیا تھا۔ اور میں اسی وقت نکل گیا۔ اور دبئی کتنا دور یے۔ تمہارے سامنے ہوں۔ وعدہ کیا تھا نا میں نے آپکے دادا سرکار سے کہ چاہے جیسے بھی حالات کیوں نا ہو۔ میں نے اپنی بیوی کا ساتھ ہمیشہ دینا ہے۔ اس کی ڈھال بننا ہے۔ لو دیکھ لو۔ خاضر ہوگیا."
" میں نہیں جانتی عنایہ کے ساتھ سب کیسے ہوگیا۔ میری صبح سے طبیعت کافی خراب تھی۔ میں پھپھو کے روم میں جارہی تھی کہ اسکو ساتھ لیکر چیک اپ کے لئے جاؤ. مجھے ڈاوٹ ہوا تھا کہ یہ طبیعت بے وجہ خراب نہیں. مگر اس سے پہلے ہی اچانک طوفان کیسے اگیا۔ اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے زر کی گال دہک اٹھے۔
"ہاہاہاہاہاہا... تم بلش کر رہی ہو. آہل نے اسکے گال پر چٹکی کاٹی۔
" تم خود کو دوش مت دو۔ سالوں پہلے جو ہوا تھا. وہی دہرایا جا رہا ہے۔ اور آج بھی وہی لوگ مقابل ہیں جو برسوں پہلے تھے۔ مگر شائید بھول گئے یہ لوگ کہ اس بار کس سے پالا پڑنے والا ہے۔ انکا سامنا کرنے کے لئے کمزور و لاچار کامل یزدان نہیں جس سے اسکی زندگی کا مقصد ہی چھین لیا گیا۔ اسکی بہن اسکی آنکھوں کے سامنے دم توڑ گئی۔. اور وہ کچھ نہیں کرپایا تھا۔ اب میدان میں اسکا شیر جیسا بہادر بیٹا اترے گا۔ جسے طوفانوں سے ٹکرانے کی ہمت ہے ۔یہ آندھیاں اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ اب تم نے وہی کرنا ہے جو میں بولوں گا۔ وقت آگیا ہے۔ حساب چکتا کرنے کا۔ میری پھپھو اور تمہاری پھپھو کو انصاف دلانے کا۔ آخر میں آہل کی آواز میں دکھ کا عنصر شامل تھا۔
"جی !! میں ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہوں۔ بس آپ مجھے مت چھوڑیں گا" زر کو اسکے چہرے پر چھائی کرب کے آثار صاف دکھے۔ باپ کو کھویا تھا۔ بھری جوانی میں پھپھو کے اوپر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے جس کی تاب نا لاتے ہوئے وہ ابدی نیند سوگئی. ماں سے بچھڑ گیا تھا۔ بہت کچھ کھویا تھا اس نے۔
"میں فریش ہوکر آتا ہوں۔ تم بی اماں کو بول دو
میرے لئے چائے بنا کر لائے۔" زر کر سر پر ہونٹ رکھ کر وہ واشروم میں بند ہوگیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
عنایہ ابھی تک آہل کے کہے گئے الفاظ کے زیر اثر سکتے میں بیٹھی تھی۔ یہ بات ہضم بھی نہیں ہورہی تھی کہ آہل شادی شدہ ہے۔ اور اب باپ بننے والا ہے۔ وہ تو آہل کے خواب دیکھنے لگی تھی۔ اور اوپر سے آج ہونے والے حادثے نے اسکا دماغ ماؤف کردیا تھا۔ وہ ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی تھی۔ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا کہ روم کا دروازہ کھلا اور آہل فریش سا اندر داخل ہوا۔
ماتھے پر گیلے بال سکن کلر ہالف سلیوز شرٹ پہنے وجاہت کا بھرپور شاہکار۔
"آپ نے مجھے بھی اندھیرے میں رکھا۔؟؟ سب سے پہلے جو سوال دماغ میں آیا پوچھ ڈالا ۔
" صرف تمہیں نہیں کسی کو بھی علم نہیں تھا۔ آہل اسکے مقابل صوفے پر بیٹھ گیا۔
"مگر ہم ایک گھر میں ایک چھت کے نیچے رہ رہے تھے۔ آپ تو کم از کم مجھے بتا سکتے تھے." عنایہ نے جھلائی آواز میں گلہ کیا۔
"ہماری شادی دوسری شادیوں کی طرح کوئی روایتی انداز سے نہیں ہوئی تھی۔ جس کا کھلے عام پرچار کرتے۔ اسکو حفیہ رکھنے کی بہت سی وجوہات تھی۔ اسلئے وقت سے پہلے بتانا مناسب نہیں تھا۔ چھوڑو وہ سب۔ اب تم دھیان سے میری بات سنو۔ جو میں بول رہا ہوں۔ دماغ میں ڈال دو. آہل چن چن کر الفاظ کا انتخاب کرنے لگا۔
" جی!! وہ مٹی کا مادھو بن کر بیٹھی تھی۔
"ان لوگوں کی تمہارے ساتھ کوئی دشمنی نہیں۔ صرف مجھے گرانے کی لئے چال چلی تھی۔ اور خود کے بیٹے کو بھی نہیں بخشا,اس کی بھی بلی چڑھا دی۔۔ میں تمہارے نکاح کی بات کروں گا۔ تم......
"واٹ!!!! آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتےہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی یہ لوگ کتنے پست ذہنیت کے مالک ہیں۔ مجھے ان لوگوں کی بہو بنا رہے ہیں۔ بیوی کے پیار میں اتنے اندھے ہوگئے آپ۔ کہ مجھے بھی کنویں میں ڈال رہے ہیں۔ آہل کی بات بیچ میں درشتی سے کاٹ کر عنایہ کی آنکھیں لبالب پانیوں سے بھر گئی.
"ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی۔" پھر آہستہ آہستہ آہل نے اسے پوری بات بتا دی۔ مگر عنایہ کو پھر بھی اعتراض تھا۔
آہل !! مجھے یہ لوگ زہر لگتے ہیں۔ اور نکاح کا بندھن تو اتنا پاکیزہ ہوتا ہے ہم اسے ذاتی مفاد کے لئے کیوں استمعال کرے۔" دماغ پر چھائی کثافت چھٹنے لگی مگر وہ نکاح کے حق میں نہیں تھی.
"ازلان تمہیں لائک کرتا ہے۔ جیسا کہ تم نے بتایا کہ اس نے خوداظہار کیا۔ تو وہ بخوشی راضی ہوجایے گا۔ اگر تم چاہو اپنی میرہڈ لائف شروع مت کرنا۔ مگر ازلان ہمارے کام کا بندہ ہے۔ اپنے باپ کے خلاف ہماری مدد کرسکتا ہے۔ اگر پھر تم چاہو خلع لیکر الگ ہوسکتی ہو ۔ میرے گھر کے دروازے تمہارے لئے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ وہاں کی بیٹی ہو تم۔" آہل نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیا تو عنایہ اس کے ہاتھوں پر سر رکھ کر بلک بلک رودی.
"ششش !! آہل نے اپنائیت سے لبریز انداز میں اسے خود سے لگایا۔
"میں سوچوں گی..." بالآخر کچھ صبر آزما انتظار کے بعد وہ بس اتنا بول پائی تو اہل نے ایک پرسکون سانس فضا کے سپرد کی.
"کل تک کا ٹائم ہے. سوچ لو. ازلان دل کا بہت اچھا ہے۔ اسے خود بھی باپ اور چچا کے کالے کرتوتوں کا علم نہیں۔ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اللّٰہ وہ نہیں دیتا جو ہمیں اچھا لگتا ہے۔بلکہ وہ دیتا ہے جو ہمارے لئے اچھا ہوتا ہے۔ میں نے زر کو لیکر یہاں سے جانا ہے۔ تمہیں بغیر کسی بڑے حوالے کے یہاں چھوڑ نہیں سکتا, تو ازلان بیسٹ آپشن ہے۔"
عنایہ کے دل پر برچھیاں برس رہی تھی۔ کل تک وہ آہل کو اپنے ہمسفر کے روپ میں دیکھ کر سوچتی۔ اور آج وہی اہل کسی دوسری لڑکی کا سہاگ نکلا۔ اور اوپر سے نکاح۔ وہ بھی ایک انجان شخص سے۔ وہ تذبذب کا شکار تھی۔

Comments
Post a Comment