EPISODE=5&6
" میں مر جاؤں گی آہل!! آپکی ںےرخی برداشت کرتے کرتے اتنی نہیں ٹوٹی, جتنی تمہارے دور جانے سے بکھر جاؤں گی." زر کی آواز ایسی تھی جیسے کسی گہرے کھائی میں گری ہو.
"اور اگر تم آج چلی گئی تو میں جیتے جی مر جاؤں گا." آہل اسکے پاس آکر دوزانو بیٹھ گیا اور اسے سینے سے لگا کر خود میں بھینچا۔
"مجھے ضرورت ہے تمہاری !! تھک گیا ہوں خود سے لڑتے, حالات سے لڑتے. اگر تمہیں تکلیف دی ہے تو کم اذیت میں میں بھی نہیں تھا." آہل کے لہجے میں ایسی تڑپ تھی کہ زر کی نظریں اٹھی اور مقابل کی شدت سے سرخ آنکھوں سے ٹکرائی.
"بہت ضدی ہے آپ !! زر نے ہتھیار ڈال دئیے. سچ تھا وہ خود آہل سے دور جانا نہیں چاہتی تھی۔ وہ اس کے پیروں میں اپنی محبت کی زنجیریں ڈال کر اسے فتح کرکے قید کرنا چاہتی تھی. کسی بہکتے ہوئے لمحے کے نظر ہوکر خود کو گنوانا نہیں چاہتی تھی . مگر ایک تو یہ ظالم سماج والے, اور دوسرا اپنی بہن کے جذبات جان کر اسکے دل میں خدشات نے جنم لیا تھا۔
آہل اسے واپس بیڈ تک لے آیا. اور بلینکٹ دونوں کے اوپر ڈال کر اسے خود میں سمیٹ لیا اور اس کے ماتھے پر لب رکھ کر اس پر گھیرا مزید تنگ کردیا۔
"آہل ڈر لگ رہا ہے !! زر نے ہاتھ اسکے بے لگام لبوں پر رکھا۔
"کچھ نہیں ہوگا. ٹرسٹ می." اور اپنی شدتیں اس پر لٹانے لگا۔ اس کا ہر لمس اتنی شدت سے بھرپور ہوتا کہ زر تڑپ کر رہ جاتی. آج سارے فاصلے مٹا کر وہ دونوں کے بیچ دوریاں ختم کرنے لگا. زر کے لئے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ آیا وہ بدلہ لے رہا, یا محبتیں لٹا رہا ہے. اس نے ساری منفی خیالات کو ذہن سے نکال کر اسکے چاہت,محبت اور وعدوں پر اپنا سب کچھ قربان کر دیا. اسکی دی گئی اذیتیں وہ فراموش کر گئی۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
"زر ... !!
اپنی پہلو میں سکون کی نیند سوئی زر کو اس نے ہولے سے پکارا.
"ہمممم!! زر نے کروٹ لیکر اسکے سینے میں منہ چھپایا۔
"صبح کی اذان ہوگئی ہے . تم اپنے روم میں جاؤ۔ اٹھو شاباش" زر نے مندی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ آج یہ شخص اس کی دسترس میں تھا۔
"آئی لو یو آہل !! اس نے ہاتھ کا پیالا بنا کر آہل کے رخسار پر رکھ کر دھڑکتے دل سے اظہار محبت کیا.
آہل نے اس کے ہاتھ کی ہتھیلی پر اپنے لب رکھ دئے." میں تمہیں اپنے سنگ عشق کی انتہاؤں پر لے جانا چاہتا ہوں. اپنے پاسٹ سے دور. جہاں صرف تم ہو اور میں. ہمارا خوشیوں بھرا گھر. ابھی تک زندگی گزار رہا تھا مگر اب جینا چاہتا ہوں. تمہارے ساتھ اپنی زندگی کا یہ خوشیوں بھرا سفر طے کرنا چاہتا ہوں. جاؤں گی نا میرے ساتھ, میری دنیا میں.؟؟ آہل کی آواز میں میٹھی خماری گھلی تھی.
"جی..!! زر نے بس اتنا کہنے پر اکتفا کیا.
"آہل !! آپ مجھے چھوڑیں گے تو نہیں نا. مجھے اپنائیں گے !! ڈر دل کے کسی کونے میں اب بھی موجود تھا.
"کیوں چھوڑوں گا !! بتایا تو تھا کہ تم نا چھوٹنے والا نشہ بن گئی ہو. اسکے تھرتھراتے لبوں پر انگوٹھا پھیر کر مسلنے لگا.. اور پھر سے وہ خود پر قابو نا رکھ پایا اور جھکا مگر زر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر روک دیا۔
"آہل!! بس کردے. کوئی آجائے گا." زر جلدی سے راہ فرار ڈھونڈنے لگی۔
"آپ باہر جاکر چیک کرلے." زر نے دوپٹہ اٹھا کر اوڑھ لیا.
آہل نے اپنے بےقابو جذبات کو تھپکی دی اور باہر نکلا.
اردگرد کا جائزہ لیکر وہ زر کو باہر لے ایا۔ تو وہ اپنے روم میں گھس گئی۔ وہ واپس آکر لیٹ گیا. ویسے بھی سنڈے تھا۔ اور آج اسے سحر کو بھی لیکر آنا تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ فریش ہوکر وہ ناشتے کی ٹیبل پر آئی تو خود کو اچھی طرح دوپٹہ سے کور کرنے کے بعد بھی وہ بےچین و مضطرب تھی۔ اور جز بز ہوکر بار بار دوپٹہ ٹھیک کر رہی تھی. کسی اور کو تو محسوس نہیں ہوا مگر عاتکہ کی جہاندیدہ نظروں سے مخفی نا رہ سکی. وہ جانچتی نظروں سے اسکے کھلتے چہرے کا جائزہ لے رہی تھی. جس پر کسی کے قربت کے دلکش رنگ نمایاں تھے. اس کا دل اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب کر ابھرا. اس نے خود رات کو اسے آہل کے روم میں بھیجا تھا. مگر جب کافی دیر بعد بھی وہ نہیں آئی تو وہ بھی یہ سوچ کر سو گئی کہ شائد اپنے روم گئی ہوگی.
اس نے ناشتہ کرکے زر کو اشارے سے اپنے روم میں آنے کا بولا. آنے والے لمحات کا سوچ کر ہی اسکی جان جانے لگی.
زر اس کے پیچھے روم میں چلی گئی تو عاتکہ نے بغیر کچھ پوچھے اسکے سر سے دوپٹہ تھوڑا سا سرکایا. تو اسکا رنگ فق ہوگیا.
"زر !! یہ... تم رات کو آہل کے روم میں سوئی تھی؟؟ زبان ساتھ دینے سے انکاری تھی.
"جی پھپھو!! زر کا چہرہ حیا اور جھجھک سے سرخ قندھاری ہوگیا اور مارے حجالت کے پلکیں جھکالی۔
"کچھ ہوا ہے تم دونوں کے بیچ !! شک کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہی تھی مگر من کی تسلی کے لئے پوچھ لیا.
اس بار زر نے صرف اثبات میں سر ہلایا.
"یا اللّٰہ !! آہل اس طرح کیسے کرسکتا ہے. کیسے اپنے نفس کا غلام بن گیا وہ. " عاتکہ بے یقینی سے زر کو تکنے لگی.
"پھپھو اس میں میری مرضی بھی شامل تھی. انہوں نے مجھے فورس نہیں کیا." زر کو برا لگا تو آہل کے دفاع میں بول اٹھی.
"تو تم بچی ہو کیا؟ کچھ سمجھ بوجھ ہے کہ نہیں. یہ تمہارا چہرہ اور اس پر چھائے اسکے قربتوں کے ہزاروں رنگ آج میں نے دیکھ لئے کل کو کسی اور کی نظر پڑ گئی تو کیا کروگی. تازہ تازہ محبت کا نشہ چڑھا ہے تمہیں , تو کچھ بھی کرلو گی. زندہ دفنا دےگا تمہارا باپ تمہیں. اگر بھنک بھی لگ گئی اسے. شادی نہیں ہوئی تمہاری ابھی." عاتکہ ہولے سے چلائی اس پر۔
"پھپھو!! آہل نے پرومس کیا ہے کہ وہ سب ٹھیک کردے گا. وہ کبھی میرا ساتھ نہیں چھوڑے گا." زر پھر سے آہل کی حمایتی بن گئی۔
"تو اس ٹھیک وقت کا تھوڑا انتظار کرلیتے تم لوگ. جب سب ٹھیک ہوجاتا. تو ......."
"مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے پھپھو !! مجھے آہل چاہئے تھا پورا کا پورا. اور میں نے انہیں پا لیا . باقی جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ زر نے بات ختم کردی اور پیچھے عاتکہ کو ہزاروں وسوسوں میں غوطہ زن چھوڑ کر چلی گئی.
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ سحر کو ساتھ لیکر دوپہر کے وقت حویلی پہنچا تو سب ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھے لنچ کرنے میں مصروف تھے. اسے دیکھ کر ملازمہ کھانا نکالنے لگی اور دوسری ملازمہ عنایہ کو بلانے چلی گئی. جبکہ آہل کے ساتھ ایک نئی چھوٹی سی لڑکی کو دیکھ کر وہاں موجود نفوس میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی. زر کے کشادہ پیشانی پر سلوٹیں پڑ گئی۔ اور ایک کوفت بھری سلگتی نظر دونوں پر ڈال کر سر جھکاکر کھانے میں مصروف ہوگئی۔ خالانکہ وہ سحر کو اچھے سے جانتی تھی مگر اسے پتہ تھا کہ اب کونسا طوفان سر اٹھانے والا ہے۔
عنایہ گرم جوشی سے سحر سے گلے ملی۔ جیسے ہی آہل نے کھانے کا پہلا نوالہ منہ میں ڈالا , سلطان میر کی کاٹ دار آواز سماعتوں میں گھونجی.
"یہ ہماری حویلی ہے مسٹر!! کوئی کوٹھا نہیں, کہ روز نت نئے لڑکی کو اٹھا کر اپنے شوق پورے کرنے لے آتے ہو۔ ہم تو تمہیں شریف انسان سمجھتے تھے اسلئے اجازت دے دی۔ ورنہ۔۔۔۔۔"
آہل کے اندر سونامی امڈنے لگا. ماتھے پر تناؤ سے سلوٹیں پڑ گئی..ایک تیز تند سلگتی نظر اس نے سامنے بیٹھی زر او عاتکہ پر ڈالی, جو اسے کل صبر و برداشت پر ایک بڑا لیکچر دے گئے تھے۔ ویسے بھی کافی دنوں سے وہ کسی دھماکے کا منتظر تھا. اس نے زور سے ہاتھ ٹیبل پر مارا کہ ٹیبل پر موجود برتنوں کے ارتعاش سے سب سہم گئے.
" آواز نیچے سلطان میر !! میری بہن کے بارے میں سوچ کر بولنا۔ میں آہل یزدان ہوں۔ ایک پاکباز عورت کے بطن سے جنم لیا ہے میں نے۔ میری پہلی ترجیح عورت کی عزت ہوتی ہے. خواہ رشتہ کسی بھی نوعیت کا کیوں نا ہو, نا کہ حویلی کے مردوں جیسا عیاش ہوں جو سفید لباس پہن کر, عزت کی پگڑی سر پر سجائے اپنی عیاشی کا سامان ڈھونڈنے ہر ہفتے کوٹھے پر تشریف لے جاکر اسے عزت بخشتے ہیں" وہ خون آشام نظر سلطان میر پر ڈال کر اتنا تیز دھاڑا کہ سب کے حواس مفلوج ہوگئے. اور ایاز میر سمیت سب کو سانپ سونگھ گیا. حدید اپنے باپ کی اس قدر بے عزتی پر تلملایا کچھ بولنے کے لئے لب واہ کئے کی عاتکہ بیگم نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر روکا۔
"اور ایک اہم بات !! مرد اپنی جوانی کے اعمال سے اپنے بیٹیوں کا نصیب لکھ رہا ہوتا ہے. ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں آپکی جوانی نے کتنی زندگیاں اجاڑ دی ہے جس کا خمیازہ تمہاری بیٹیوں کو بھگتنا پڑے گا۔" آہل کے آخری بات پر سلطان میر سمیت دونوں بھائیوں کے اوسان صحیح معنوں میں خطا ہوگئے۔ منہ مقفل ہوگئے۔ جبکہ سلطان میر کی بیوی قدرت کے انتقام پر حیران اپنے شوہر کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ رہی تھی. جس نے کبھی اسے بیوی کا درجہ دیا ہی نہیں.
"بی اماں !! ہمارا کھانا میرے روم میں بھجوا دو, وہاں ساتھ بیٹھ کر کھا لیں گے۔ ان جیسے اناپرست شریفوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی ساکھ خراب کرنے کا میرا قطعی موڈ نہیں. کچھ لوگوں کو عزت ان کی اوقات کے مطابق دینی چاہئے ورنہ وہ اسکا بوجھ نہیں اٹھا پائیں گے. جب تک میرا منہ بند ہے تم لوگوں کے لئے غنیمت ہے۔ جس دن کھل گیا, کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہو گے. " اس نے سحر کے گرد بازوؤں کا حصار بنا کر عنایہ کو بھی اشارے سے اٹھنے کا حکم دیا۔ اور چلنے لگا۔
"اور ہاں!! کل یہاں دوسرے کچن بمعہ دائیننگ روم کا بندوبست ہوجانا چاہیے۔ ورنہ کل شام تک حویلی کا بٹوارا میرے مبارک ہاتھوں سے ہوگا پھر مجھے دوش مت دیجئے گا." سب کو خیرتوں کے کنویں میں دھکیل کر وہ چلا گیا.
"کیا ضرورت تھی یہ گل افشانیاں کرنے کی !! ایاز میر نے خود سے چھوٹے بھائی کی اس قدر تذلیل پر دانت پیسے. وہ بھی کتنے دیدہ دلیری سے گھر کے خواتین اور بچوں کے سامنے اسے آئینہ دکھا کر چلا گیا.
••••••••••••••••••••••
"ہوگیا شوق پورا,ہیپی فیملی دیکھنے کا!! آہل نے سحر کو سرد نظروں سے دیکھ کر کہا.
"سوری بھیا !! سحر کے ہوائیاں اڑتے چہرے پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے۔ وہ شرمندہ ہوگئی اپنی زات کی اس قدر تضحیک پر.
"بھیا !! انہوں نے مجھے اتنا گرا ہوا سمجھ لیا۔ مجھے بازاری بکاؤ لڑکی کا خطاب دیا۔" سحر کے حلق میں آنسوؤں کا گولہ آٹک گیا۔ ایک آسودہ بھری نظر اس نے آہل پر ڈالی۔
"چپ !! تم میری بہن ہو. ان لوگوں نے تمہارے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی جو جرات کی اسکا خساب دینا پڑے گا ان سب کو." آہل نے کرب سے لب بھینچے۔
" نہیں بھائی پلیز !! کسی لڑکی سے انتقام کا آپ سوچئے گا بھی مت." سحر سہمی سی اسکے کندھے سے لگی۔
"واٹ ربش!! مجھے اتنا گرا ہوا سمجھا ہے کہ صنف نازک کے ناتواں کندھوں پر بندوق رکھ کر گولی چلاؤں گا۔ میری مثال اڑیل گھوڑے کیطرح ہے۔ جو اپنے پیچھے لگائے گا ۔ پیروں تلے روندھ دیا جائے گا." آہل کے لہجے میں کرختگی عود آئی۔
"نن۔نہیں !! میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔ بس اتنا بتانا چاہ رہی تھی کہ آپ غصے میں کوئی انتہائی قدم نا اٹھا لے." سحر دکھ و اضطراب کی ملی جلی کیفیت سے دوچار تھی۔
"ڈونٹ وری !! اتنا کم ظرف نہیں ہوں میں. اپنے بازوؤں کے دم پر لڑائی لڑ سکتا ہوں۔
••••••••••••••••••••••
"یہ آہل کے کچھ ذیادہ پر نہیں نکل آئیں. لگ رہا ہے اس کا ہمارے پاسٹ سے کوئی کنیکشن ہے." امان میر نے اپنے بڑے بھائیوں کو رازدارانہ انداز میں مخاطب کیا. تینوں بھائی اپنے ہجرے کے روم میں بیٹھے گتھ جوڑ میں مصروف تھے.
"وہی تو!! کچھ تو ہے جو ہمیں نہیں معلوم. کتنی کوشش کی مگر اس کے ذات پات ,خاندان کا کچھ اتا پتہ نہیں چلا. بابا سرکار ضرور کسی کچرے سے اٹھا کر لائیں ہوں گے." سلطان میر کا غصہ سوا نیزے پر تھا. اور ہوتا بھی کیوں نہیں. بھرے مجمع میں اس کی عزت افزائی جو ہوئی تھی.
"شکار کتنا ہی ہوشیار کیوں نا ہو۔ شکاری کے شکنجے میں پھنس ہی جاتا ہے. یہ کل کا پیدا ہوا لڑکا ہمارے ساتھ شطرنج کھیل رہا ہے مگر وہ جانتا نہیں ہم اس کھیل کے پرانے کھلاڑی ہیں۔اچھے اچھوں کو ہرایا ہے." سالوں پہلے کئے گئے اپنے غلیظ عمل کو یاد کرکے تینوں کے چہروں پر شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوگئی.
" اس کو بھی مات دے کر ہمیشہ کے لئے راستے سے ہٹا دیں گے." سلطان میر نے اپنے مکروہ منصوبے سے دونوں بھائیوں کو آگاہ کیا.
"مگر بھائی صاحب!! اس میں صرف وہ لڑکی نہیں ہمارے بچے کی بھی بدنامی ہوگی." امان میر کو اس پلان سے اختلاف تھا.
"لڑکے کی کون سی بدنامی؟؟ میری ہوئی تھی کیا؟؟ بال بال بچ گیا تھا. اور سارا ملبہ اس دو ٹکے کی بازاری عورت کے اوپر آگیا تھا." سلطان میر نے اپنا حوالہ دیا.
"مگر سلطان!! پھر بھی اس وقت قسمت نے ہمارا ساتھ دیا تھا. بازی پلٹ بھی تو سکتی ہے. تھوڑی سی بے صبری بڑے بڑے مقاصد کو تباہ کردیتی ہے۔" ایاز میر ایک خدشے کے تحت بولا.
'تو ہم ایسے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ نہیں سکتے. مجھے اپنی تزلیل کا بدلہ لینا ہے وہ بھی سود سمیت." سلطان میر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا.
آخر کار اس نے دونوں بھائیوں کو کنوینس کر ہی لیا.
•••••••••••••••••••••••••••••
کھانا کھانے کے بعد اسے مہد سے ملنے ارجنٹ جانا تھا۔۔ سحر اور عنایہ کو ہدایات دے کر وہ کال ملا کر گارڈز اور ڈرائیور کو انفارم کرنے لگا کہ آخری سیڑھی پر قدم منجمد ہوکر آگے چلنے سے انکاری ہوگئے۔
ہال میں رکھے سنٹر صوفے پر عاتکہ کی گود میں حدید سر رکھ کر لیٹا ہوا تھا۔ جس کے سر میں تیل کی مالش ہورہی تھی۔ سنڈے کو وہ زبردستی تمام بچوں کے بالوں میں تیل کی مالش کیا کرتی تھی. اور حدید اپنی پھپھو کی نرم انگلیوں کی حرکت سے سرور کی وادیوں میں چلا گیا۔ آنکھیں موندھ کر وہ سیٹی سے کچھ کنگنا رہا تھا ۔ یہ منظر دیکھ کر آہل کے آنکھوں میں کرچیاں چھبی۔ اسے نہیں یاد کہ وہ کبھی کسی مہربان گود میں سر رکھ کر سکون کی نیند سویا ہو.. جارہانہ تیور لئے وہ آگے بڑھا.
"قسم ہے جادو ہیں آپکے ہاتھوں میں پھپھو. ساری تھکان, بے چینی لمحے میں اتر گئی. بلکل ریلیکس فیل کر رہا ہوں " حدید کے محبت سے لبریز انداز پر غیر ارادی طور پر اسکی نظریں واپس سے دونوں پر جم گئی۔ جہاں حدید نے عاتکہ کے ہاتھوں کا عقیدت سے بوسہ لیا اور پھر آنکھوں سے لگایا۔ آہل کی آنکھیں حقارت اور کم مائیگی کے احساس سے جلنے گئے۔ اچانک ہی عاتکہ کی نظریں اس پر پڑی تو چہرے پر آرزدگی کے تاثرات پھیل گئے. دھڑکنیں سست پڑ گئی. آہل نے کینہ توز نظروں سے اسے دیکھ کر ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر رخ موڑ لیا۔ جبکہ عاتکہ کے خلق میں نمکین گولہ اٹک گیا۔ وہ کھل کر رو بھی نہیں سکتی تھی۔ سب کے سوالوں کے جوابات دے نہیں سکتی اس لئے چپ کا روزہ رکھے ہوئی تھی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
عنایہ سحر کو حویلی دکھانے باہر لے آئی. سحر تو ایک وسیع رقبہ پر پھیلی حویلی کو دیکھ کر حیران ہوئی. ہال سے گزرتے ہوئے عاتکہ کی نظر دونوں پر پڑی تو سوچوں کا محور پھر سے عنایہ ٹہری. دماغ پر زور ڈالا مگر کچھ یاد نہیں آرہا تھا کہ یہ چہرہ اس نے کہاں دیکھا ہے. دوبارہ عنایہ کو محاطب کرنا اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا۔ مگر سحر کی عقابی نظریں عاتکہ پر تھی. یہ لڑکی عنایہ سے یکسر مختلف تھی. عنایہ منہ پھٹ تھی جبکہ سحر سلجھی ہوئی باشعور. سحر کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر عاتکہ کے لب مروتا متبسم ہوئے ۔ تو سحر کی پتلیاں حیرت سے پھیلی۔
"آپ ذرا پھر سے مسکرائے پلیز!! دوسرے پل وہ عاتکہ کے قریب کھڑی ہوکر انوکھی فرمائش کرنے لگی۔
"سحر !! چلو۔۔" یہاں رشتہ داریاں نبھانے آئی ہو تم؟؟ عنایہ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھنا چاہا کہ سحر نے اسکی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑایا۔
"ون منٹ !! آپ پلیز دوبارہ سے اسمائل کرے نا بہت اچھی لگتی ہیں" سحر کو بچوں کی طرح ایک ہی رٹ لگائے دیکھ کر حدید بھی متعجب سا عاتکہ کی گود سے سر اٹھا کر بیٹھ گیا۔ جبکہ عاتکہ کا چہرہ دھواں دھواں ہونے لگا. وہ اس چھوٹی سی لڑکی کی ہوشیاری پر عش عش کرنے لگی۔ وہ سحر کی بات کا مفہوم اچھے سے سمجھ گئی اسلئے سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے اٹھ کر جانے لگی.
" پھپھو کیا ہوا؟؟ اس کی پھپھو ایک شفیق اور ملنسار خاتون تھی. کبھی اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہیں دی. اپنائیت سے لبریز انداز ہوتا تھا. اس کی اچانک سے ٹون بدلنے پر حدید بھی شاکڈ تھا. جبکہ سحر کے چہرے پر کچھ دیر پہلے والی شوخی ایک دم غائب ہوگئی.
"کچھ نہیں بیٹا !! نماز پڑھنی ہے مجھے. دیر ہورہی ہے تم جاکر ریسٹ کرلو." سرد آنکھوں اور فق چہرے کیساتھ اس نے جواب دیا۔ تو حدید نے کندھے اچکائے اور روم میں چلا گیا۔
" یہ کیا پاگل پن ہے !! آہل کو پتہ چل گیا تو ایک سیکینڈ بھی تمہیں رہنے نہیں دے گا یہاں۔ یہ حویلی والے کسی کے سگے نہیں ہوتے."عنایہ نے اسے آئینہ دکھایا۔
"تم نے نوٹ کیا, جب وہ لیڈی سمائل کر رہی تھی تو یہاں, اسکا ڈمپل بن گیا تھا." سحر نے ٹھوڑی پر انگلی رکھ دی. بھلا اب مسکرانے میں کیا کنجوسی۔ اتنی بھلی تو لگ رہی تھی"
"ہاں تو کون سا معجزہ ہوگیا. سب کے بنتے ہیں. کسی کے گال پر کسی کے ٹھوڑی پر؟؟ عنایہ نے بات کو سرسری گھمایا. سیرییس ہی نہیں لیا۔
"جیسے آہل بھیا کا بنتا ہے چن پر. جو کہ ہمیں دیکھنے کو بہت کم ملتا ہے. مگر مجھے ہوبہو ان کے جیسے دکھا". سحر عاتکہ کی کیفیت سے انجان اپنی دُھن میں لگی ہوئی تھی جبکہ اس کے الفاظ ہتھوڑے کی طرح عاتکہ کے اعصاب پر وار کرنے لگے. حواس مفلوج ہوگئےاور سیڑھیوں کے بیچ توازن برقرار نا رکھتے ہوئے دھڑام سے گر گئی.
"ہائے اللّٰہ!! بیک وقت سحر اور عنایہ نے مڑ کر دیکھا. تو سیڑھیوں کے اوپر عاتکہ گری ہوئی پڑی تھی.
گرنے اور ساتھ دل خراش چیخنے کی آوازیں سن کر سارے گھر والے ہال کی طرف دوڑ کر ائیں۔۔
"پھپھو !! سب سے پہلے اذلان اسکے قریب پہنچ گیا اور اسے بازوؤں میں بھر کر سنٹر صوفے پر لٹایا. جس کی آنکھیں درد اور تکلیف سے بند تھی.
زرغونہ بھی خواس باختہ سی نیچے آئی اور اپنی پھپھو کے زرد پڑتے چہرے کو دیکھ کر خود پر ضبط نا رکھ سکی اور رو پڑی۔ "کیا ہوا انہیں"
"آپ تو ابھی بلکل ٹھیک ٹھیک تھی. یہ کیسے ہوگیا اچانک "حدید جو ابھی اسے صحیح سلامت چھوڑ کر روم میں گیا تھا اب اسکی خالت دیکھ کر بلبلا اٹھا.
"تم نے نظر لگا دی نا میری پھپھو کو۔ تم فورس کر رہی تھی انہیں کہ اسمائل کرے. ما شاءاللہ نہیں بول سکتی تھی تم. تمہاری نظر لگ گئی انہیں" حدید سحر کے سر پر کھڑا چلا رہا تھا. جو خود اس اچانک پڑنے والے افتاد پر دم سادھے کھڑی تھی.
"مم۔ میں نے کچھ نہیں کیا. میں نے جسٹ اتنا بول دیا کہ وہ بہت پیاری لگتی ہے جب مسکراتی ہے۔ بلکل میرے بھیا کی طرح." سحر خود پر لگے الزام پر بوکھلا گئی تو جو منہ میں آیا بک دیا۔ جب کہ افراتفری کے عالم میں کسی کا دھیان نہیں گیا کہ کون سے بھیا. جبکہ زر کے اوپر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے. وہ یک ٹک سحر کے سپید پڑتے چہرے کو دیکھ رہی تھی.
" بھائی بچی ہیں وہ !! کیا کر رہے ہیں آپ؟؟ پھپھو ہے ہی اتنی پیاری, سب کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہیں. اسکو اچھی لگی ہوگی تو بتا دیا. بچے من کے سچے ہوتے ہیں. ان کی نظر نہیں لگتی. آپ پلیز جلدی سے پھپھو کو ڈاکٹر کے پاس لے جائے کہیں فریکچر وغیرہ تو نہیں آیا." زر نے جلدی سے حالات کشیدگی کو ختم کرکے سحر کی طرف سے سب کا دھیان ہٹا دیا.
" ایک بھی گاڑی نہیں ہیں گھر میں. ایک گاڑی ڈرائیور لیکر گیا ہے۔ اور میری اور اذلان کی گاڑی سروس کے لئے گئی ہے." حدید فکرمندی سے زمین پر بیٹھا عاتکہ کے پیر کو چیک کر رہا تھا۔
"آہل بھائی کی گاڑی ہے باہر. آپ لوگ اس میں لے جائے۔ " سحر نے حویلی کے سیر کے لئے جاتے وقت اہل کی گاڑی دیکھی تھی۔ عاتکہ کی حالت اس سے بھی دیکھی نہیں جارہی تھی.
وہ گارڈ کی ایک گاڑی ساتھ لیکر گیا تھا۔ دوسری کھڑی تھی۔
عاتکہ کی تکلیف بڑھنے لگی تو وہ کراہ اٹھی۔ ازلان نے بغیر سوچے سمجھے اسے باہوں میں بھر لیا اور باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔ عاتکہ میں سب بچوں کی جان بستی تھی۔ اس حویلی میں صرف وہی تھی جو بچوں کی ہم راز اور ساتھی تھی۔ حدید سرونٹس کواٹر بھاگ کر گیا اور آہل کے ڈرائیور کو لے ایا۔ تو وہ آہل کے اجازت کے بغیر چابی دینے سے ہچکچا رہا تھا۔
"چابی دو جلدی!! حدید نے ہاتھ بڑھایا تو وہ بدک کر دو قدم پیچھے ہوگیا۔
"ہمارے صاحب کی اجازت کے بغیر ہم نہیں دے سکتے۔" ڈرائیور نے ہری جھنڈی دکھا دی۔
زر جو پھپھو کے ساتھ ہی جارہی تھی وہ ڈرائیور کر قریب آئی ۔
"سنا نہیں چابی دو!! اس نے غصے سے پھنکارتے ہوئے ہتھیلی آگے کی تو ڈرائیور کے پسینے چھوٹ گئے۔
"جی جی!! اس نے جلدی سے چابی زر کو پکڑوادی اور زر نے حدید کو۔۔
عاتکہ کو گاڑی میں بٹھا کر سب ہسپتال کی طرف روانہ ہوگئے۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
مہد سے ملنے کے بعد وہ شام کو حویلی لوٹ آیا ۔ ڈرائیور نے پورچ میں گاڑی کھڑی کردی اور وہ نکل گیا۔ مگر پورچ خالی دیکھ کر اسے کچھ کھٹکا۔
"زبیر!!
آہل نے گارڈ کو پکارا تو عجلت میں گاڑی سے نکل کر اس کے قریب ایا۔
"جی سر!!
"گاڑی کہاں گئی؟؟ شفیق چاچا نے کچھ بولا تھا؟؟ آہل نے دوسرے ڈرائیور کا نام لیا۔
"نہیں سر!! زبیر نے مؤدب کھڑے ہوکر جواب دیا۔
وہ سیدھا حویلی کے پچھلے حصے میں بنے سرونٹ کوارٹرز کیطرف چلا گیا. شفیق اسے باہر ہی بے چینی سے ادھر اُدھر ٹہلتا ہوا نظر آیا۔
"آپ یہاں ہیں تو گاڑی کہاں ہے؟؟
"وہ صاحب جی !! حویلی میں کوئی بیمار تھا شاید. وہ لوگ لے کر گئے." شفیق نے خلق تر کرکے سراسیمگی کیفیت میں صفائی دی۔ جبکہ حویلی کے نام پر اہل کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔
" اپنی گاڑیوں کو استعمال کرکے موت آتی ہیں ان لوگوں کو جو میری گاڑی سرکاری مال سمجھ کر لے گئے. وہ بھی میری اجازت کے بغیر.." شدید غصے سے آہل پھٹ پڑا۔
"ہم نے انکار کیا تھا دینے سے مگر...... "
" مگر وہ گن پوائنٹ پر تین ہٹے کٹے گارڈز کی موجودگی میں چابی لے کر گئے نا۔" آہل تنے غضلات کیساتھ استہزائیہ چلایا۔
"کون لے کر گیا ؟؟ شدید برہمی ظاہر کرکے ناگواری سے پوچھا.
"میں لے کر گئی تھی آہل!! اپنے عقب میں مخصوص نسوانی آواز سن کر وہ ایڑھیوں کے بل گھوما۔
"تت۔تم ؟! کیا ہوا تمہیں ؟؟ ٹھیک ہو نا تم ؟؟ اس سے ایک انچ کے فاصلے پر کھڑے ہوکر وہ ارد گرد سے بے نیاز دیوانوں کی طرح زر کا ہاتھ پکڑ کر ادھر اُدھر کرنے لگا پھر چہرے کو دائیں بائیں گھما کر چیک کیا۔ مگر کہیں کوئی چوٹ نہیں لگی.
"مم۔ بلکل ٹھیک ہوں۔ پھپھو گر گئی تھی سیڑھیوں سے." سب کے سامنے اس قدر بے تکلفی اور بے باکی کا مظاہر کر رہا تھا کہ وہ شرم سے دوہری ہوگئی۔ جبکہ سارے گارڈز بمعہ ڈرائیور سر جھکا کر سرونٹ کوارٹر کے اندر گھس گئے۔
"شفیق چاچا نے انکار کیا تھا حدید بھائی کو۔ مگر میرے مانگنے پر دے دی." زر کے کہنے پر آہل کے تنے غضلات ڈھیلے پڑ گئے.
"تمہاری خدمت میں تو یہ ادنی حقیر بادشاہ بمعہ پوری سلطنت کے خاضر ہے. ایک بار تو ملکہ بن جاؤ اس سلطنت کی, حقیقی خوشی سے روشناس کروادوں گا." آہل نے تعظیما سر جھکایا۔
"زر!! وہ جواب میں کچھ بولنے والی تھی کہ دور سے اذلان کی آواز سن کر آہل سے فاصلہ بنا کر کھڑی ہوگئی۔
"تھینکس آہل !! اینڈ سوری. تمہارے پرمیشن کے بغیر گاڑی لے کر گئے تھے۔ ایمرجنسی تھیں. ہماری گاڑی موجود نہیں تھی." اذلان نے زر کے ہاتھ سے چابی لے کر اہل کر سامنے کردی۔ جسے اس نے بغیر کسی تاثر کے پیشانی پر بل ڈالے کے لیا۔
"گھمنڈی !!! اذلان زیرلب بڑبڑایا مگر اسکی بڑبڑاہٹ آہل نے سنی۔۔
"چلے !! زر کے گرد حصار بنا کر اذلان جانے لگا کہ زرغونہ نے بلا اختیار مڑ کر دیکھا. اور مسکرادی. آہل کو ایسا لگا جیسے تپتی دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں مل گئی ہو۔ اسکی بےتاب نظریں نے دور تک زر کا تعاقب کیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کیا آہل اور زر کی شادی ہوپائے گی۔ یا پھر اپنے ہی گھر والے زر کے خوشیوں کے قاتل بن جائے گے۔ ٹارگٹ پورا نہیں ہوا 200 کا پھر بھی ایپی دے دی۔ آج سرپرائز ایپی دینے کا اردہ ہے تو جلدی جلدی لائیکس کومنٹس کرے ۔۔حویلی بیسڈ,کزن فورسڈ میرج اور انتقام پر مبنی خوبصورت تحریر)
"بی اماں !! ایک کپ چائے کا بن....." وہ بے خیالی میں کچن میں داخل ہوا مگر سامنے نظر پڑتے ہیں زبان کو بریک لگ گئی۔
"آئی ایم سوری !! میں سمجھا بی اماں ہے." سامنے سلطان میر کی بیوی انیلا بیگم کو کھڑے دے کر آہل نے وضاحت دی.
"کوئی بات نہیں . وہ شاید نماز پڑھنے گئی ہوگی۔ میں بنا کر دیتی ہوں۔" انیلا بیگم نے اپنائیت سے کہہ کر ترچھی نگاہ سے اسکے وجیہہ چہرے کو دیکھا جس پر ایک خاص قسم کی سنجیدگی اور دبدبہ ہمہ وقت موجود رہتا جو اسکی پرسنالٹی کو دو چند کردیتا تھا۔
"نن۔ نہیں شکریہ !! آہل تو پہلے اسکے لہجے پر ششدر رہ گیا۔ اتنی مٹھاس وہ بھی حویلی کے مکینوں کی زبان میں۔ اور پھر سلطان میر کی جتنی انسلٹ وہ دوپہر کو کرچکا تھا اس کے بعد تو سب ایسے بپھرے ہوئے تھے۔ جیسے بس چلے تو آہل کو ذندہ نگل لے۔
"مجھے پتہ ہے۔ تم حویلی کی کسی فرد پر بھروسہ نہیں کرتے۔ تمہارا خوف فطری ہے۔ دشمن کے ہاتھ کی بنی ہوئی کوئی چیز تھوڑی کھاؤگے۔ مگر میں تمہارے سامنے بنارہی ہوں." انیلا بیگم روانی سے کہتی ہوئی کتیلی میں دودھ ڈالنے لگی۔
"اور اس عنایت کی وجہ جان سکتا ہوں۔ یہ مہربانی کیوں کر ہورہی ہے مجھ پر. کیونکہ جن لوگوں کو میں نہیں جانتا, ان کی عنایتیں میں قبول نہیں کرتا" آہل نپے تلے قدم اٹھاتا اس کے مقابل آکر کھڑا ہوگیا۔ اسکی حیرانگی بجا تھی۔
" یہ میں نہیں بتا سکتی. کیونکہ آپ کے علم میں ہوگا کہ یہاں عورتوں کی کوئی بات نا سنی جاتی ہے نا اسکو وضاحتیں پیش کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔" چولہا بند کرکے اس نے کپ میں چائے ڈال کر آہل کو تھمائی۔
" بس اتنا جان لو تمہاری سینے میں پوشیدہ رازوں کی چشم دید گواہ میں خود ہوں. اگر پچھلے ماہ وسال کا احتساب کرلو میں تو آج ایک بھاری بوجھ سر سے سرک گیا. اور میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگی ہوں. باقی تم سمجھدار ہو."
"میں نے تو ایسا کچھ کیا ہی نہیں سوائے آپکے شوہر نامدار کو اسکا اصلی دکھانے کے, پھر بھی یہاں مجھ پر مہربانیاں کی جارہی ہے. بھئی حویلی والوں کے منطق میری سمجھ سے بالاتر ہے." اسکی زومعنی بات سے کوئی مفہوم اخذ نا کرتے ہوئے وہ نافہمی سے اسے دیکھنے لگا۔ جبکہ وہ چائے کا دوسرا کپ اٹھا کر چلی گئی.
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ڈوپلیکیٹ کیز سے دروازہ احتیاط کی ساتھ کھول کر وہ اندر داخل ہوا تو پورا کمرا تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا.
" لگتا ہے سوگئی!!
آہستہ سے چپل اتار کر بیڈ کے دوسرے طرف چڑھ کر وہ زر کے پہلو میں لیٹ گیا. تو بیڈ پر ہل چل محسوس کرکے زر نے پٹ سے آنکھیں کھول دی۔
"پھپھو کو بہت چوٹیں آئی ہیں. اور پیر میں شدید موچ آئی ہے۔" اپنے پھپھو کی تکلیف پر ایک بار پھر اسکی آنکھیں بھر آئی۔
" حد کرتی ہو تم بھی. میں سکوں کی تلاش میں تمہارے پاس آتا ہوں۔ جبکہ تم اوروں کے دکھڑے سننے بیٹھ جاتی ہو. اچھے بھلے موڈ کو غارت کر دیتی ہو" آہل کا پارہ چڑھ گیا۔
"وہ میری عزیز از جان پھپھو ہے آہل!! آپ اتنے کٹھور کیسے ہوسکتے ہیں۔" زر کو اسکی بے حسی پر غصہ اگیا۔
" میں کوئی طبیب تھوڑی ہوں جو اسکے زخموں کا علاج کر سکوں. چھوڑو لوگوں کو, مجھے تمہاری توجہ درکار ہے. تم اس قیمتی مومنٹ کو سپوئل مت کرو". آہل نے ریمورٹ اٹھا کر اے سی آن کردیا۔
"آہل ٹھنڈ زیادہ ہے۔ اسکی کیا ضرورت؟؟
تم نے میرے غصے کو ہوا دے کر کمرے کی درجہ حرارت کو بڑھا دیا ہے۔ آہل نے ریموٹ زور سے سائیڈ ٹیبل پر پٹخ دیا۔
"جب میں پاس ہوتا ہوں تو کسی اور کو بیچ میں مت گھسانہ۔ زہر لگتا ہے مجھے کوئی ہمارے بیج آئے. اور تم بار بار یہی گستاخی کر رہی ہو. مجھے حویلی کی کسی بھی بندے میں انٹرسٹ نہیں۔ کوئی جیے یا مرے۔ آئی ڈونٹ کئیر." آہل کی کہے گئے الفاظ نے زر کے اعصاب جھنجھوڑ دئے. خالت غیر سی ہوگئی۔ تو آہل سے فاصلہ بنا گیی۔
اپنی الفاظ کی سنگینی کا احساس ہوا اسے تو لمبا سانس کھینچ کر خود کو قابو کردیا۔۔
" آپ چلے جائے یہاں سے" کافی دیر بعد وہ بولنے کے قابل ہوگئی۔
"آئی ایم سوری یار " اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے قریب کردیا۔
"جب تمہیں پتہ ہے کہ ان لوگوں کے ذکر سے مجھے تکلیف ہوتی ہے تو کیوں بار بار یہ حماقت کرکے میرے غصے کو بھڑکا رہی ہو۔" اس نے زر کا سر اپنے سینے پر رکھا۔
" مجھے ایسا کیوں لگ رہا کہ ہم نے جلدبازی سے کام لیا۔ پھپھو ٹھیک بول رہی تھی۔ ہمیں نفس کا غلام نہیں بننا چاہیے تھا۔" زر کو اب صحیح معنوں میں احساس ندامت نے آگھیرا۔
"کیا مطلب !! پھر کون سی پٹیاں پڑھائی تمہاری پھپھو نے تمہیں میرے خلاف. میں اپنے دل کی سنتا ہوں۔ سوچ سمجھ کر آگے قدم اٹھاتا ہوں. اب بھی جو بہتر لگے گا ڈنکے کی چوٹ پر کروں گا. کسی اور کے حکم کا محتاج نہیں" آہل کو اسکا انداز بے رخی سلگا گئی۔ وہ لمحہ ضائع کئے بغیر بیڈ سے اترنے لگا کہ زر نے اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچ لیا۔ آہل نے اپنے اندر اٹھتے اشتغال کو دبا دیا۔
" تم مجھے جوروں کا غلام بنانے پر تلی ہوئی ہو۔ یہ چاہتی ہو کہ میں زن مرید بن کر تمہارے آگے پیچھے دم ہلا کر چلوں." آہل کی بھنویں تنتی, اور الجھن بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔
"باخدا میں ایسا نہیں سوچ بھی نہیں سکتی, چاہنا تو دور کی بات ہے۔ بس میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے سنے, سمجھے . اگر میرے درد کی دوا نہیں بن سکتے تو حوصلے کے دو بول, بول کر میری ہمت باندھ سکتے ہیں نا۔ مرد پر مردانگی چجتی ہے نا کہ عورت کا پلو پکڑ کر چلنا. مگر آپ دی گریڈ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے" زر کی بے بسی عروج پر تھی۔
" اٹس اوکے!! تم بھی تو دنیا بھر کے فکر و غم اپنے سر لے کر گھومتی ہو نا ,خود کے لئے نہیں جیتی. " آہل نے اس کے شانوں کے گرد بازوؤں پھیلایا۔ اور اسکے بالوں پر لب رکھ دیے۔
"آپ کو اسطرح بھری مخفل میں چچا سرکار کی انسلٹ نہیں کرنی چاہیے تھی۔ وہ بھی سب کے سامنے." زر نے آج دونوں کے درمیان تلخ کلامی کا ذکر چھیڑا۔
" افسسس !! مطلب کچھ بھی ! بھینس کے آگے بین بجانا. ابھی بھی تمہاری سوچیں وہی اٹکی ہوئی ہے۔
وہ کریں تو اچھا ہم کرے تو برا !! اس نے میرے کردار پر انگلی اٹھائی تو اتنا برا نہیں لگا, مگر ایک معصوم, باکردار لڑکی کے دامن کو داغدار کرنا چاہا, تو میں تو پھولوں کا ہار پہنانے سے رہا. ویسے میں نے بزرگوں سے سنا ہے۔ عزت کرانے کے لئے پہلے عزت دینی پڑتی ہے. اور میں خود پر کسی کا ادھار نہیں چھوڑتا. ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ جانتی تو ہو تم ,کیا کچھ کیا ہے میرے ساتھ ان لوگوں نے۔ درد تو میرے نصیب میں لکھا گیا تھا۔ ان لوگوں کی کیا اوقات مجھے تڑپانے کی۔ مگر چالیں انہوں نے چلی تھی۔ یتیموں جیسی زندگی گزاری ہیں میں نے۔ آہل جذبات کی رو میں بہہ کر بہت آگے نکل گیا۔
"سوری آہل!! میرا مطلب آپکے زخم کریدنا نہیں تھا." عنایہ نے اسکے لہو رنگ آنکھوں پر نرمی سے لب رکھے.
" ہم شادی کب کریں گے؟؟ اہل کا موڈ قدرے بخال ہوا تو عنایہ نے شادی کا ذکر چھیڑا۔
"جب تم چاہو. ویسے دلہن بننے کی اتنی جلدی ؟؟ آہل اسے زچ کرنے لگا۔
" نہیں آپ کا ہونے کے لئے جلدی ہے۔ آپکے ساتھ ہمیشہ رہنے کے لئے جلدی ہے." آہل کو اسکے معصومانہ خواہش پر ٹوٹ کے پیار آیا.
" تم اتنی جلدی سب کچھ بھول گئی؟؟ کتنا تڑپایا تھا میں نے تمہیں. تمہاری شخصیت کے ٹکرے ٹکرے کئے. عزت نفس پر وار کئے. کتنے گھاؤ دئیے اپنے زہریلے الفاظ سے؟؟ آہل کی بات سے زر کے چہرے پر ایک تاریک سایہ لہرایا۔
"بے انتہا پیار کرتی ہوں آپ سے. کبھی آپ کی طرف سے بدگمان ہی نہیں ہوئی میں. کبھی کبھی رشتوں کو جوڑے رکھنے کے لئے گونگا,اندھا اور بہرا ہونا پڑتا ہے. اور عورت کی خمیر شائد برداشت ذیادہ شامل کردیا جاتا ہے۔ جو مرد کی تھوڑی سی توجہ تھوڑا سا پیار پاکر برسوں کی بے اعتنائی اور تکلیف لمحے میں بھول جاتی ہے۔ پتہ ہے محبت میں جیت تب ہوتی ہے جب استطاعت رکھتے ہوئے بدلہ نا لیا جائے. معاف کیا جائے انہیں, جنھوں نے ہمیں تکلیف دی ہو. اور میں نے آپکو جیت لیا." زر نے دکھی مسکان کیساتھ آہل کے سینے پر سر کر آنکھیں موندھ لی۔
•••••••••••••••••••••••••••••
وہ جو آج حسب معمول شام کو حویلی پہنچا تھا۔ عجلت میں گاڑی سے نکل کر اندر کی طرف قدم بڑھا دئیے کہ اسامہ کی معصومیت بھری آواز سماعتوں سے ٹکرائی۔
" یار کردو نا تھوڑی سی ہلف !! آپ دونوں سے تو زر آپی اچھی ہے۔ ہوم ورک بھی کرواتی ہے. میتھس کوئسچن بھی سولو کرکے دیتی ہے. رشوت بھی نہیں لیتی. آپ دونوں کے لئے پاکٹ بھر بھر کے چاکلیٹ بھی لاتا ہوں پھر بھی اٹیٹیوڈ دکھا رہی ہو. پتہ نہیں لوگوں سے میتھ کے کوئسچن کیسے حل ہوتے ہیں. مجھے تو چکر آجاتے ہیں۔ کچھ بھی دماغ میں نہیں گھستا" اسامہ کی بات سے آہل کے لب متبسم ہوئے۔ اور آواز کی تعین میں قدم بڑھا دئے۔
"آہل بھائی !!
اس نے سامنے دیکھا تو اسامہ , شزا اور سوہا تینوں لان میں پیٹھے اسائمنٹ لکھنے میں مصروف تھے۔ اسامہ کی نظر اس پر پڑی تو پکارا۔
"ہاں !! اس کے لہجے کا والہانہ پن دیکھ کر وہ ہولے سے ہنکارا بھرا۔
"یہ ٹاپک سمجھا دے. زر آپی سمجھاتی ہے مگر کل اسکی بھی پریزینٹیشن ہے تو اسکی تیاری کررہی ہے." اسامہ نے بک اسکی طرف بڑھائی۔ منتانہ لہجہ تھا کہ آہل نے بک اسکے ہاتھوں سے لے لیا۔
"کیوں یہ دو خواتین سیر سپاٹوں کے لئے یونیورسٹی جاتی ہے کیا. جو اتنا آسان سا ٹاپک نہیں سمجھا سکتی۔" ساتھ میں شزا اور سوہا پر طنز کرنا نہیں بھولا۔
"ایکسکیوزمی !! ہمارا بھی کل پیپر ہے. ٹائم نہیں ہے ہمارے پاس. اور اسکے سبجیکٹ الگ ہیں ہمارے الگ." شزا نے پلٹ کر جواب دیا۔ جبکہ سوہا تو اتنے دنوں بعد آہل کو سامنے دیکھ کر تشنگی بجھا رہی تھی۔ اسکی بےباک نظریں آہل کے دلکش نقوش کا طواف کر رہی تھی۔ خود پر گہری نظروں کا ارتکاز رتکاز محسوس کرکے اس نے نگاہ اٹھائی تو سوہا کی نظریں اسے چبھی۔ مگر وہ اگنور کرکے بک پر نظریں جمائے گیا۔
پھر اس نے آڑی ترچھی لکیریں کھینچ کر ایک ڈائیگرام بنا کر اسامہ کو سمجھایا۔ وہ کسی بہانے زر کو باہر لے جانا چاہتا تھا۔ مگر اس کا نمبر سوئیچڈ آف آرہا تھا ۔ وہ بہت غصے و اضطراب کی ملی جلی کیفیت میں حویلی آیا تھا مگر اسامہ نے انجانے میں اسکو زر کی مصروفیت سے آگاہ کیا.
"کچھ اور... !! سوال سمجھا کر اس نے استفہامیہ نگاہوں سے اسامہ کیطرف دیکھا۔
"جی ...! وہ میتھس کے کوئیسچن." اسامہ نے ندامت سے سر جھکا لیا۔
" ابھی مجھے کچھ کام ہے ۔ تم ایسا کرو یہ نوٹ بک میرے روم میں لے جاؤ۔ رات کو فری ہوکر کروادوں گا۔ صبح آکر لے لینا " آہل فون پر آتے کال کی جانب متوجہ ہونے لگا کہ پلک جھپکتے ہی اسامہ نے اسکے گال پر کس کیا۔
"تھینکس آہل بھائی۔ یو آر گریٹ!! جبکہ اسکی حرکت پر سوہا اور شزا کے ساتھ آہل کی بھی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔ جبکہ وہ اپنی دھن میں مست آہل کے روم کی طرف بڑھ گیا۔ آہل نے تاسف سے سر جھٹک کر اپنے گال پر ہاتھ رکھا۔ اور کال اٹینڈ کی۔
کال آف کرکے رخ موڑ کر وہ جانے لگا کہ پھر سے اپنے نام کی پکار سنی.
"آہل!! نسوانی آواز ماتھے پر ناگواری کے تاثرات لے آئے. پلٹ کر دیکھا تو سوہا چیئر سے اٹھ کر اسکی طرف آگئی.
"اپنی بہن سے کتنے سال چھوٹی ہو تم ؟؟ سوہا کے کچھ بولنے سے پہلے ہی آہل نے سرد پتھریلی لہجے میں سوال پوچھا
"جی!! تین سال... " سوہا نے اسکے لہجے کی اکتاہٹ اور سردمہری بخوبی نوٹ کی۔
"اور میں تمہارے بھائی سے بھی دو سال بڑا ہوں۔ اگر بھائی, بھیا جیسے الفاظ کہہ کر مخاطب نہیں نہیں کر سکتی , پھر ضرورت ہی نہیں بلانے کی." آہل نے درشتی سے وارن کیا. اور لمبے لمبے ڈگ اٹھا کر اندر داخل ہوا.
ہفتہ دس دن وہ اتنا مصروف رہا کہ اس دن کے بعد زر سے ملاقات ہی نہیں ہوئی. اگلے ہفتے اسے دس پندرہ دن کے لئے دبئی جانا تھا. باہر لے جانے کا ارادہ بھی ملتوی ہوگیا.
روم سے نکل کر زر کے روم میں جانے والا تھا کہ اسامہ نے آواز دی.
"آپ آپی کے روم میں کیوں جارہے ہیں؟؟
"افسسس !! اب یہ کباب میں ہڈی بن کر کہاں سے آگیا." آہل نے کنپٹی کو ہولے سے سہلایا۔
"ادھر آؤ !! اس نے اسامہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا.
تمہاری ہلف کی نا۔ اور آگے بھی کوئی کنفیوژن ہو میں کلئیر کردیا کروں گا. بس ایک پرومس کردو. یہ بات راز رکھو گے کہ میں تمہاری آپی کو پسند کرتا ہوں."
"واٹ!! آپی کو... اور آپی بھی کرتی ہے کیا؟؟ وہ تو آپکے اگینسٹ تھی نا ." اسامہ کی آنکھیں تخیر سے پھیلی.
"اس کو منانے کی کوشش ہی تو کر رہا ہوں مان ہی نہیں رہی. اگر تم ساتھ دو گے تو پاسبل ہوجائے گا." آہل اسے شیشے میں اتارنے لگا.
"مم۔میں کیسے."
"بس تم مجھے موقع فراہم کرنا ملنے کا۔ باقی کام میں خود کرلوں گا. آئی مین خود کنوینس کرلوں گا. " آہل نے اسکے کندھے پر تھپکی دی ۔
"مگر آپی نہیں مانے گی." آپ چاہے جتنی بھی کوشش کرلے." اسامہ کو زر کی باتیں زیر و زبر یاد تھی. جو اسے اہل سے دور رکھنے کی تاکید کر رہی تھی.
"وہ تم مجھ پر چھوڑ دو. ہینڈسم ہوں نا۔ تمہیں بھی اچھا لگتا ہوں۔ تمہاری آپی کو بھی لگنے لگوں گا۔" آہل نے آنکھ دبا دی تو اسامہ بلش ہوگیا۔۔
"آپ اچھے لگتے ہیں تو ہیلف کر دوں گا آپکی. رشوت نہیں چاہیے." اسامہ نے اپنائیت سے کہا.
"گڈ !! تم بہت اچھے ہو اسامہ !! اور بہت معصوم بھی. کبھی بھی کسی چیز کی ضرورت ہو بلا جھجھک بتا دینا." آہل اس کی اچھائی کا قائل ہوگیا.
"پتہ نہیں کیوں آپ اپنے اپنے سے لگتے ہیں. جیسے بہت قریبی رشتہ ہو آپ سے. جیسے حدید بھائی اور اذلان بھائی." جبکہ وہ متبسم سا اسامہ کو تکنے لگا۔
"اتنا ہی قریبی تعلق تو ہے۔" بے اختیار منہ سے نکل گیا.
" میرا مطلب ہے اپنا بھائی ہی سمجھنا.( یہ چاہت بے وجہ نہیں ہے برو) اسکا چہرہ تھپتھپا کر زر کے روم میں گھس گیا.
دروازہ کھلنے کی آواز پر زر جو واش روم سے نکل رہی تھی آہل کو اتنے دنوں بعد سامنے کھڑا دے کر دل جھوم اٹھا اور تولیہ بیڈ پر پھینک کر آہل کے گلے لگی۔
" آپ کہاں تھے اتنے دنوں سے. ایک فون کال ایک میسیج بھی نہیں کیا. نا ملنے آئے" زر بے قراری سے اسکے سینے سے لگی استفسار کرنے لگی.
"یہ کیا آتے ہی ٹیپیکل عورتوں کیطرح پوچھ گچھ شروع کردی. کچھ کام تھا ضروری. گھر بھی نہیں آیا تھا تین دن سے." آہل نے اس کے کنپٹی پر لب رکھے.
"آہل !! میں بہت مس کرتی ہوں آپ کو. مجھے آپکے ساتھ رہنا ہے. آپکے بغیر سانس بھی مشکل سے لے رہی ہوں."دوری کا احساس ہی روح فرسا تھا.
"میں دس پندرہ دن کے لئے دبئی جارہا ہوں. کام نبھٹاتے ہی تمہارے پاس آوں گا پھر رشتے کی بات آگے بڑھا لیں گے. اگر تمہارے گھر والے ماننے سے انکار کردے تب میں تمہیں حویلی سے اپنے ساتھ لیکر چلا جاؤں گا۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے. اتنا انتظار کرلیا بس تھوڑا اور...." آہل نے اسے ایک آس دلائی.
"آپ سے ایک پل دوری صدیوں پر محیط ہے." زر کی آنکھیں بھر آئی.
" اسلئے تو آیا ہوں کچھ پل ساتھ بتانے." اہل ڈور بند کرکے اسے اپنے مقابل بیڈ پر بٹھا گیا۔
"میرے جانے کے بعد عنایہ پر نظر رکھنا تمہاری زمہ داری ہوگی. وہ منہ پھٹ ہے گستاخ ہے مگر اس میں بچپنا ہے. کوئی بھی ایسی حرکت کرے فورآ مجھے اطلاع کردینا۔ میں اسے بھی اچھے سے سمجھا دوں گا۔ میں جلدی آنے کی کوشش کروں گا. تب میں اپنے رشتے کی بات سب کے سامنے رکھ دوں گا. تم بھی خود کو ذہنی طور تیار کرلو. کیونکہ یہ سب کچھ کرنا اتنا آسان نہیں جتنا ہم سوچ رہے ہیں. کافی دشواریاں پیش آئیں گی" آہل اسے سمجھانے لگا.
"میں سب سہہ لوں گی۔ بس آپ سے دوری نہیں.آپ جہاں جائیں گے میں گھر فیملی سب کچھ چھوڑ کر آپ کے ساتھ جانا چاہوں گی۔ باقی کا سفر آپ کے سنگ طے کرنا ہے." زر نے اسکے سینے پر سر رکھا.
"اسامہ نے مجھے یہاں آتے دیکھ لیا." آہل نے گویا اسکے سر پر دھماکہ کیا۔
"تت۔تو آپ نے کیا بولا." زر کا خلق خشک ہونے لگا۔
" اور کیا بولتا صاف صاف بتا دیا کہ تمہیں لائک کرتا ہوں. اور تمہیں کنوینس کرنے کی کوششوں میں ہوں مگر تم مان ہی نہیں رہی." آہل کی بات پر زر نے بے یقینی سے اسکی آنکھوں میں دیکھا.
"بچہ ہے وہ آہل !! زر نے چبا چبا کر کہا۔
"جانتا ہوں. تم سے تو اچھا ہے سب کے سامنے مجھے کس بھی کیا۔" آہل ہے درپے جھٹکے دے رہا تھا۔
"کک۔کس؟؟؟ اس نے کس کیوں کیا آپ کو؟ اور سب کے سامنے ۔۔۔" زر کا چہرہ لہو چھلکانے لگا۔
" اس کو کوئی سوال سمجھ نہیں آرہا تھا میں نے سولو کردیا تو... یار کیا پپی لی ." آہل جان بوجھ کر بات کو تڑکا لگا کر اسے چھڑانے لگا۔
" اول درجے کا بے وقوف لڑکا ہے وہ." اس نے سختی سے ہونٹ بھینچے۔
" تم تو عقلمند تھی نا, تم کیوں جھانسے میں پھنس گئی. سر آنکھوں پر بٹھا لیا ہے." آہل کی بات پر زر کا دل جیسے کسی پاتال میں جا ڈوبا۔
"میری بات اور ہے. میرا شمار تو احمقوں کے اعلیٰ ترین درجے میں شامل ہوتا ہے۔" دوپٹہ گردن نے نکال کر سائڈ پر رکھ کر وہ بالوں کو سکارف سے باندھنے لگی۔
"آہل عنایہ کون ہے؟ کیوں آپ کے ساتھ رہ رہی ہے؟ آپ ہر بار اسکا ذکر آنے پر موضوع سے ہٹ جاتے ہیں."
"یہ لمبی کہانی ہے. پھر بعد میں تفصیل سے بتادوں گا۔ بس اتنا یقین رکھو جو جگہ تمہاری ہے میرے دل میں, کسی اور کی نہیں ہوسکتی." آہل نے لائٹ آف کرکے اسے باہوں میں بھر لیا.
"میں آپ سے عشق کرنے لگی ہوں آہل!! آپ کو اندازہ بھی نہیں ہوگا گہرائی کا. پہلے آپ جب بھی میری مرضی کے بغیر مجھے چھوتے۔ بہت تکلیف ہوتی. پھر آپ جب جرمنی گئے تھے ایک منتھ کیلئے تب مجھے رئیلائز ہوگیا کہ مجھے آپکے لمس سے پیار ہوگیا ہے. مگر جب آپ یہاں رہنے آگئے پہلی رات ہی آپ کی گئی بات نے میری ذات کے بخیے اکھاڑ دییے۔ جب آپ نے یہ بول کر میری توہین کی کہ آپکو میرے دو ٹکے کے وجود سے کوئی سروکار نہیں. کیا واقعی آپ نے صرف حویلی والوں سے بدلہ لینے کے لئے یہ کھیل کھیلا ہے. یا دل بہلانے کے لئے میرے قریب آئے. میں اسے کیا سمجھو؟؟ سوالات کا انبار تھا جو آج وہ ایک ایک کرکے پوچھ رہی تھی.
" پہلے تمہارے قریب صرف تمہیں تکلیف دینے کے لئے آتا تھا. یہ سچ ہے مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی تم میں. بدلے کی آگ میں جھلس رہا تھا میں. مگر یہ حقیقت ہے کہ مجھے تمہاری عادت ہوگئی تھی. جب بھی پاس آیا ہوں. دلی سکون ملا ہے۔ بدلا کہیں بہت پیچھے رہ جاتا ہے. دل بغاوت پہ اتر آیا ہے کہ بس تم پاس رہو۔ اور میرے ساتھ جو ہوا ہے اس میں تمہارا کیا دوش. یہ سارے خدشات دل سے اکھاڑ کر پھینک دو. تمہارے وجود پر آہل یزدان نے اپنے پیار کی مہر لگائی ہے. اب تم میری سانس لینے کی وجہ بن چکی ہو۔" اسکی دونوں آنکھوں پر باری باری لب رکھ کر سرشار کردیا.
••••••••••••••••••••••••••
صبح ہی سے وہ لان میں گھاس پر ننگے پیر چہل قدمی کر رہی تھی. اس نے آج یونیورسٹی سے آف لیا تھا ۔ اور آہل بھی بتا کر گیا تھا کہ وہ کچھ دن کے لئے باہر جارہا ہے تو اس کے جانے کا سن کر دل اداس ہورہا تھا. سحر بھی دو دن گزار کر واپس چلی گئی. کیونکہ ان کو حویلی کے لوگوں کی منفی خیالات سے کراہیت محسوس ہونے لگی تھی. مزید خود کا تماشا دیکھنے نہیں رکنا تھا اسے.
اذلان جو ایک امپورٹنٹ فایل گھر بھول گیا تھا وہ لینے واپس آگیا تو عنایہ کو اکیلے دیکھ کر اس کی طرف چلا آیا.
"تم یونیورسٹی نہیں گئی؟؟
"تم سے مطلب!! عنایہ نے بے رخی سے جواب دیا.
"تمہارے اس روبوٹک مشین نے یہ نہیں سکھایا تمہیں کہ بڑوں کو آپ کہہ کر بلاتے ہیں؟؟ حویلی میں بڑوں کے ساتھ اس طرح روبرو کھڑے ہوکر آنکھوں سے آنکھیں ملا کر بات نہیں کی جاتی تھی. اسلئے ازلان کو اسکا لب و لہجہ کافی گراں گزر رہا تھا.
"تو مجھ سے بات ہی کیوں کرنی ہے. نا کیا کرے. جائیے میرا موڈ ویسے ہی خراب ہے۔" عنایہ نے ناگواری سے ٹوکا۔
"اچھی لگتی ہو مجھے. اس لئے بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں." ازلان نے صاف گوئی سے کام لیا.
"مگر مجھے تم بالکل بھی اچھے نہیں لگتے." عنایہ کی ڈھیٹائی عروج پر تھی۔
"کیوں؟ ناپسندیدگی کی وجہ جان سکتا ہوں؟؟ ازلان سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا ہوگیا.
"ہاں کیونکہ تم غیرت مند حویلی والوں کی نظر میں لڑکیوں کی کوئی اوقات, کوئی عزت نہیں ہوتی. یہاں مرد ذات کو عورت پر ترجیح دیا جاتا ہے. عورت کو محکوم بنا کر رکھتے ہیں. جبکہ ہم آزاد پنچی ہے. ہمیں کسی کے قید میں رہنا نہیں پسند" عنایہ نے پیروں میں چپل پہن کر طنزیہ وار کیا.
"اور مجھے اسی آزاد پنچی کو اپنی قید میں رکھنا ہے." اذلان صرف سوچ سکا.
"باقی شکل وصورت قابل قبول ہے. مگر وہ میرے کسی کام کا نہیں". عنایہ کی مسکراہٹ گہری ہوگئی جبکہ مقابل کے ہونٹ بھی تعجب سے پھیلے. یہ منظر اپنے روم کی کھڑکی سے شزا نے بہت غور سے دیکھا. جہاں اس کے دل پر برچھیاں چل رہی تھی وہاں لان کے دوسرے طرف لگے کرسیوں میں ایک پر بڑے کروفر سے براجمان ہوتے سلطان میر کے دل میں ٹھنڈک پڑ گئی.
"چوہی تو خود بل سے نکلنے کو بے تاب تھی. اب زیادہ تگ و دو کرنے کی ضرورت نہیں ہے." اس کے شیطانی دماغ نے کام شروع کردیا تھا،۔
••••••••••••••••••••••••
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
رات کے ڈھائی بجے اسکی روانگی تھی۔ اسلئے ہال میں بیٹھا بلیو ٹوتھ لگائے پی اے کے ساتھ محو گفتگو تھا۔ پی اے مس شہری بھی اسکے ساتھ جارہی تھی۔ ساتھ ہی لیپ ٹاپ پر بھی جلدی جلدی ہاتھ چلا رہا تھا۔
ملازمہ نے چائے کا کپ سامنے رکھ دیا تو اس نے تشکرانہ نظر اس پر ڈالی۔
"تھینکس اماں!! کتنی طلب ہورہی تھی۔ اسلئے تو آپ سے پیار بھی بے شمار کرتے ہیں. بغیر کچھ کہے میرے دل کا حال جان لیتی ہے۔"
" بیس سالوں سے تمہارے ساتھ ہوں بیٹا۔ اپنی ہاتھوں سے تمہاری پرورش کی ہے۔ ماں بن کر پالا ہے۔ پتہ تو ہونا ہی ہے۔ مگر آہل مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی." ملازمہ اسکے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔
"جی جی اماں!! کیا بات ہے۔ بولے آپ!!" شیری کو اللّٰہ خافظ بول کر پوری طرح متوجہ ہوا۔
'چھوٹی منہ بڑی بات۔ مگر آہل مجھے حویلی والوں پر رتی برابر یقین نہیں۔ عنایہ ان لوگوں کے بیج رہے گی تو خدانخواستہ یہ لوگ ۔۔۔۔۔" اس سے آگے اماں کی زبان نے ساتھ نہیں دیا۔ مگر آہل اسکے ڈھکے چھپے الفاظ کی گہرائی تک پہنچ گا۔
"اماں!! بات تو سو آنے درست کہی آپ نے۔ مگر میں زر اور عنایہ دونوں کیطرف سے ان سیکیور فیل کر رہا ہوں۔ اگر آپ کو عنایہ کیساتھ گھر بھیج دیا تو یہاں زر کی فکر ہوگی مجھے۔ کم از کم دونوں آپ کے نظروں کے سامنے ہوں گی تو میری پریشانی کم ہوگی۔" پریشانی آہل کے چہرے سے عیاں تھی۔
"ہاں بیٹا!! مگر حویلی والوں کے ارادے کچھ نیک نہیں لگ رہے۔ عمر کا تجربہ ہے مجھے۔ دیکھ کر بتا سکتی ہوں کہ ان لوگوں کے من میں کیا چل رہا ہے۔ یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ لگ رہی ہیں."
"میں کوشش کروں گا کہ جلد از جلد اپنا کام ختم کرکے واپس لوٹوں۔ تب تک آپ نے ایک ایک سیکنڈ کی اپ دیٹ مجھے دینی ہے۔ عنایہ کو گارڈز یونیورسٹی پک اینڈ ڈراپ کردیا کریں گے۔۔اور اسکے بعد اسکو حویلی سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیں گے اپ۔ اگر ضد کرے تب مجھے انفارم کرے اور زر کا بھی خیال رکھنا ہے۔" وہ آہستہ آواز میں اسے ہدایات دے رہا تھا۔۔
"اب آپ جائے آرام کرلے میں بس تھوڑی دیر بعد نکلنے والا ہوں۔" آہل نے اسکے سامنے سر جھکایا۔ تو اماں نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی۔۔
اپنے روم میں آکر فریش ہوکر اپنا سفری بیگ اٹھایا اور روم لاک کرکے زر کے روم میں گھس گیا۔ تو زر کو محو انتظار کرتے پایا۔
"جارہا ہوں میں۔۔ یاد ہے کیا سمجھایا تھا" اہل نے زر کے گرد بازوؤں حمائل کرکے رخسار پر بوسہ دیا۔
"جی!! اپنا خیال رکھنا ہے۔۔بلا ضرورت باہر نہیں جانا اور عنایہ کا بھی خیال رکھنا ہے۔" زر نے گلوگیر لہجے میں کہا۔
"گڈ !! بس کچھ دن کی جدائی برداشت کرلو۔ پھر تم میرے زندگی میں پورے استحقاق کیساتھ داخل ہوجاوگی۔ پھر یہ آہل تمہارا ۔ اور تمہیں ایک لمحے کی بھی فراغت نہیں ہوگی۔
"ان شاءاللہ !! زر نے پورے یقین سے کہا۔۔
"میں چلتا ہوں, دیر ہورہی ہے۔ زر کے پیشانی پر اپنے لب رکھ کر وہ پیچھے ہٹا۔
"آہل !! دروازے کیطرف بڑھتے قدم رک گئے۔
"ہاں !! ترچھی نظر سے دیکھ کر استفسار کیا۔
وہ آہل کے سامنے آئی اور پنجوں کے بل کھڑے ہوکر اسکے ماتھے پر بکھرے بال ہٹا دئیے اور وہاں اپنا نرم لمس چھوڑا ۔
"میں انتظار کروں گی۔۔"
آہل نے اثبات میں سر ہلایا اور دوم سے نکل گیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
لو جی ہیرو صاحب کو منظر سے غائب ہوگئے کچھ وقت کے لئے۔ اب میر سنز کا اگلا وار کیا ہوگا

jj
ReplyDelete