EPISODE=3&4
"وہ آپ سے ایک بات کرنی تھی." رات کو ایاز میر سونے کے لئے لیٹ گئے تو ثوبیہ بیگم اسکے پیر گود میں رکھ کر مالش کرواکر ہلکا ہلکا دبانے کر اسے متوجہ کرگئی.یہاں عورت کی صرف اتنی عزت تھی کہ وہ بچے پیدا کرکے اسے پال پوس کر بڑا کریں۔ شادی کی پہلی رات سے ہی عورت کو اسکی اوقات یاد دلائی جاتی ہے۔ یہ باور کروایا جاتا ہے کہ اسکی اصل جگہ مرد کے پیروں میں ہوتی ہے۔۔
"ہال بولو" ایاز میر نے جمائی روکنے کی کوشش کرتے ہوئے اجازت دی۔
"سجاد بھائ نے پھر سے کال کرکے زرغونہ کے رشتے کی بات چھیڑ دی۔ میں نے آپ سے بات کرنے تک کا وقت مانگ لیا۔ اگر آپکی اجازت ہو تو کسی دن بلوا کر رضامندی دے دیں گے۔ زر کا فائنل ائیر چل رہا ہے ۔ تو پھر رخصتی کروادیں گے۔ اب تو ما شاءاللہ حسان( بھائی کا بیٹا) ایک اچھی کمپنی میں اچھی پوسٹ پر ہے۔ اور فرض ادا کرنے میں کوتاہی نہیں برتنی چاہیے۔ ویسے بھی یہ جو لڑکا آیا ہے۔ مجھے اسکی نگاہیں چھب رہی ہے۔ جس طرح زر کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں ایک عجیب سی الوہی چمک آجاتی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہی ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر وہ کچھ غلط نا کر ڈالے." ایک ماں ہونے کے ناطے ثوبیہ بیگم کا تجزیہ سو فیصد درست تھا۔ اپنے بچوں پر اٹھنے والی بری نظر ماں اچھے سے پہچان جاتی ہے۔
"ہممم !! ٹھیک ہے۔ میں جلد ہی سلطان اور امان سے مشورہ کرکے جواب دے دوں گا۔ اور تم زرغونہ کے کان میں بھی یہ بات ڈال دو کہ اسکا رشتہ اسکے ماموں کے گھر میں ہی ہوگا تاکہ کسی اور کے سپنے سجانے کی تمنا چھوڑ دے." ایاز میر نے ناگواریت سے کہہ کر بات ختم کردی.
اپنے باپ کی آخری بات روم کے دروازے پر کھڑی ہوکر زر نے بآسانی سنی۔ غصہ و اہانت کے احساس سے سر چکرا کر قدم لڑکھڑائے مگر بروقت دو ہاتھوں نے مضبوطی سے اسے تھام کر زمین بوس ہونے سے بچایا۔
"کیا ہوا؟؟ یہ چہرے پر ہوائیاں کیوں اڑ رہی ہے"۔آہل نے اسے سیدھا کھڑا کرکے سینے پر ہاتھ باندھنے تفتیشی انداز میں اسکی اڑی ہوئی رنگت دیکھ کر استفسار کیا۔ تو زر کی ویران آنکھیں سامنے والے کے بے تاثر نظروں سے الجھائی۔
"کک. کچھ نہیں!! اپنے کام سے کام رکھے." زر سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے سائیڈ سے نکلنے لگی کہ آہل نے اسکو بازو سے دبوچ لیا۔
"تم مجھے, یعنی اہل یزدان کو اٹیٹیوڈ دکھا رہی ہو۔ داد دینی پڑے گی۔" آہل نے استہزائیہ لہجے میں کہہ کر پوکٹ کے جیبوں میں ہاتھ ڈالے ۔
"دور ہٹئے !! کیوں قریب آنے اور ٹچ کرنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں آپ۔ آپ شائید بھول گئے آپ مجھ سے نفرت کے دعویدار ہیں۔ تو اپنی بات ہر قائم رہ کر مجھ سے فاصلہ بنا کر رکھے۔ بقول آپکے میں تو صرف آپکے لئے ایک مہرہ ہوں۔" زر نے اپنا بازوؤں چھڑایا۔
"واہ بھئی !! میڈم کے تو پر پر نکل آئے ہیں۔ زبان لڑا رہی ہے. سمبھال کر بات کرو۔ مجھے پر کاٹنے بھی آتے ہیں۔ تمہارے یہ ماہتاب جیسے مکھڑے پر کوئی اور مرمٹتا ہوگا. میری ترجیحات زرا الگ قسم کی ہے۔ تو یہ ادائیں کسی اور کے سامنے دکھائیں."آہل نے دو انگلیوں میں اسکی تھوڑی زور سے دبا کر ایک جست میں واپس چھوڑ دی.
"اگر بھول گئی ہو تو یاد دلاؤں تمہیں کہ حویلی والے عورت کو پاؤں کی دھول کے برابر بھی نہیں سمجھتے۔ اور ان میں تم بھی شامل ہو۔ تو آواز نکالنے سے پہلے ہزار بار سوچنا۔ یہاں ہمیشہ کے لئے آواز چھین بھی لی جاتی ہے۔ ویسے میں تو اس حویلی میں پلا بڑھا نہیں مگر اب اسکا حصہ ہوں تو صحبت کا اثر تو ہونا ہی ہے۔" خباثت سے بائیں آنکھ کا کونا دبا کر آہل نے زر کا سیروں خون جلایا۔
جبکہ زر متعجب بے بس نظریں آہل کے چہرے پر گاڑے خاموش کھڑی تھی۔
"ایسے کیا دیکھ رہی ہو. جانتا ہوں کچھ زیادہ ہینڈسم ہوں" اہل نے آئی برو اچھائی.
" یہی کہ اللّٰہ نے اتنا حسن دیا ہے اگر ساتھ میں دل کی خوبصورتی سے نواز دیتا تو کیا برا ہوتا۔ اینی وے آپ سے امید بھی کیا کی جاسکتی ہے؟؟ مگر یاد رکھیں. بدلے اور انتقام کی آگ میں اتنے بھی بہرے گونگے مت بنئے کہ باقی کی عمر پچھتاؤں کے سنگ گزدے." زر نے اپنے امڈنے والے آنسوؤں کا گلہ دبا کر کہا اور سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جانے لگی۔ وہ تو یہ بھی بھول گئی تھی کہ وہ باپ کے پاس کس کام سے جارہی تھی۔ اوپر سے آہل کے کہے گئے الفاظ نے اسکی عزت نفس کو جھنجھوڑا ۔
" کیا کر رہےہو آہل۔ کب سے اتنے کمزور ہوگئے تم کہ ایک عورت کو اپنے انتقام کی آگ میں بھسم کرنے لگے ہو۔ بے چینی اور اضطراب کی حالت میں اس نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں میں اپنے بالوں کو زور سے بھینچا۔
"آئی ایم سوری زر!! میں تمہیں ہرٹ کرنا نہیں چاہتا. مگر کیا کروں۔ تمہاری اس قدر اپنے باپ کے شکل سے مماثلت دیکھ کر مگر مجھے اپنی تزلیل اور محرومیاں یاد آجاتی یے۔ وہ چہرہ جس سے میں بچپن نے نفرت کرتا آیا ہوں ۔ وہ بھی شدید قسم کا۔ تم سے ذاتی عناد رکھنے کا ارادہ نہیں تھا میرا. بس تمہیں سامنے دیکھ کر آپے سے باہر ہوجاتا ہوں۔ اورمیں اپنے اصولوں میں ترمیم کا قائل نہیں. " خود سے مخاطب ہوکر پل میں آہل کی ساری تیز طراری اور تلخی سمٹ گئی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
"آپ کیا کھاتے ہیں. جو اتنے حسین ہیں" اسامہ کی باتیں یاد کرکے وہ ایک بار پھر سےمسکرایا. کہاں حویلی کے تخریب کار لوگ کہاں وہ معصومیت کا شاہکار۔۔۔۔
"ملنا ہے تم سے" یا تو شرافت سے خود آفس اجاؤ یا پھر رات کو میں آجاؤں گا. فیصلہ تم خود کرلو" زر کو میسج کرکے سینڈ کردیا.
"کم ان" ڈور ناک ہوا تو اسکی" پی اے" مس شہری سامنے تھی..
"سر!! آپ نے بلایا تھا۔؟؟ وہ سامنے چئیر پر بیٹھ گئی.
"جی!! کئی دن ہوگئے. پیراڈائز (یتیم خانے) کا چکر نہیں لگایا. تم سامان گاڑیوں میں بھر دو. ہم تھوڑی دیر بعد نکلتے ہیں"
ٹھیک ہے سر!! وہ جانے لگی تو دروازہ نوک ہوا اور مہد نے اندر جھانک کر دانت دکھا کر اجازت مانگی۔
"مے آئی کم ان سر !!
"سر کے کچھ لگتے!! اندر داخل ہونے کے بعد بھلا کون اجازت مانگتا ہے۔ اور تو اتنا شریف کب سے ہوا۔؟؟ آہل نے موبائل پر ایک نظر ڈال کر خوشدلی سے کہا۔
"آئی تھنک غلط وقت پر انٹری ماری تم کہی جارہے تھے کیا؟؟ اسے بار بار گھڑی اور موبائل پر نظر ڈالتے دیکھ کر مہد نے استفسار کیا۔
"ہاں وہ زر آرہی ہے۔ کافی دنوں سے ملا نہیں ہوں تو۔۔۔۔ اور اسکے بعد پیراڈائز جانا ہے۔" آہل نے اپنا پلان بتا دیا۔
"کیا مطلب زر آرہی ہے۔ تم اسکی حویلی شفٹ ہوگئے ہو نا, تو یہاں کس خوشی میں آرہی ہے۔ ۔ اور میٹنگ کا کیا ہوگا؟؟ طلال نے ایک سانس میں سوالات کی بوچھاڑ شروع کردی۔
" کول یار!! وہ حویلی نہیں بلکہ پورا چڑیا گھر ہے. پرائیویسی نام کی کوئی چیز ہی نہیں. بے دھڑک کوئی نا کوئی کہیں سے بھی آٹپکتا ہے. رات کو بلاتا ہوں وہ منع کردیتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کسی کو تو معلوم ہونا چاہیے کہ میں کتنا شریف ہوں." آنکھ کا کونا دبا کر وہ کمینگی سے مسکرایا..
"مگر اس طرح رات کو ملنا ٹھیک نہیں وہ بھی اس کے کمرے میں جاکر یا اپنے کمرے میں بلا کر۔ اس کے کردار پر انگلی اٹھے گی." مہد کسی خوف کے زیر اثر بولا۔
"میں نے کچی گولیاں نہیں کھیلی. دیکھ کر قدم اٹھاتا ہوں. " آہل چئیر سے اٹھ کر کوٹ پہنے لگا. کہ موبائل پر میسج نوٹیفکیشن آیا.
"مم۔میں آرہی ہوں آفس. گھر میں ملنے کی کوشش بھی مت کرنا." زر کا میسج پڑھ کر وہ وہ خباثت سے مسکرایا۔
" زر آرہی ہیں ۔ میرا روم کھلوا کر صفائی کروادے. میں میٹنگ اٹینڈ کرکے آتا ہوں. زر سے ملنے کے بعد آرفنج جانے کی تیاری کرلو." شہری کو مسیج کرکے سینڈ کردیا۔۔
آفس سے ملحقہ روم اس نے اپنے لئے سیٹ کیا تھا.. اور یہاں کبھی کبھار رات کو بھی رک جاتا۔
"میٹنگ ختم ہونے تک وہ آجائے گی. اگر تمہیں اپنے دوست کا ٹائم بچانا ہے. تو چلے میٹنگ اٹینڈ کرنے کے لئے؟؟ کیونکہ جتنی جلدی میٹنگ ختم ہوگی اتنی جلدی زر کو بھی چھٹی مل جائے گی۔ ادروائز اس کے ساتھ وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا۔" آہل اٹھ کر کوٹ پہنے لگا تو مہد بھی کھڑا ہوگیا۔
"یار!! اسے کیوں آزمائش میں ڈالتا ہے ہر وقت۔ جانتا تو ہے کہ اس کے لئے اکیلے گھر سے نکلنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ تم جان بوجھ کر اسے اذیت دیتے ہو. ترس کھاؤ بچی پر." مہد نے اسے لتاڑا۔
اوہ کم آن!! ترس ہی تو نہیں کھانا۔ کچھ تو اپنے باپ کے کئے کا بھگتے وہ۔" آہل اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جانے لگا۔
•••••••••••••••••••••••••••••
مشکل سے پرمیشن ملی تو وہ بڑی سی چادر سے خود کو اچھی طرح ڈھانپ کر نکلی اور کسی کی نظروں میں نا آنے کے لئے آٹو میں بیٹھ گئی.
اپنے آفس کے گلاس ونڈو سے نیچے روڈ پر نظریں گاڑھے وہ وقتاً فوقتاً ہاتھ پر بندھے گھڑی سے ٹایم بھی چیک کرتا رہا. بالآخر صبر آزما انتظار کے بعد ایک رکشہ آفس کے بلند و بالا عمارت کے سامنے رک گیا تو اس کے ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ امڈ ائی۔
سراسیمگی حالت میں لفٹ میں انٹر ہوکر " 6" کا بٹن پریس کرکے اپنی بے ترتیب سانسوں کو ہموار کرنے کی کوشش کی.
لفٹ سے نکل کر وہ سیدھا آہل کے آفس میں داخل ہوئی اور دروازے کیساتھ پشت ٹکا کر سکون کو سانس لیا.
"بہت ویٹ کرواتی ہو قسم سے !! آہل کی بوجھل گھمبیر آواز کانوں سے ٹکرائی تو اس نے ایک قہر آلودہ نظر اس پر ڈالی. تو آہل کے لب بے ساختہ گویا ہوئے....
"وہ تو ہونٹوں سے کچھ نہیں کہتا
اس کی آنــکھیں کلام کــرتی ہیں
بے تکا سا شعر بول کر زر کے غصے کو مزید ہوا دے دی۔
"آہل میں نے آپکا قتل کرنا ہے." وہ اسکے قریب آکر اسکا گریبان مٹھیوں میں دبوچ کر زور سے چلائی.
"آپ جانتے ہیں نا مما سے پرمیشن لینے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں. مگر آپ کیوں کر رہے ہیں یہ سب.؟ کیوں؟؟ اسکے چوڑے سینے سے لگی وہ آہل کے سینے پر مکے مارنے لگی.
کچھ تو ترمیم کرلو سزا میں اہل یزدان !! کیوں مجھے ناکردہ گناہوں کی سزا دے رہیں آپ. رحم کھا لے مجھ پر . یہ دیکھیں میں ہاتھ جوڑتی ہوں آپکے آگے." اداس آنکھوں میں سمندر جیسی طغیانی آگئی. اور آنسو بندھ توڑ کر اسکے رخسار بھگونے لگے.
"نو ٹیرز!! تمہاری یاد آرہی تھی.. تم جانتی ہو نا آہل کو تمہارے نشے کی عادت ہوگئی ہے. اور نشہ نا ملنے پر ایک نشئی کی کیا حالت ہوتی ہے یہ مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا. تمہارے گھر میں تو ہر وقت سرکس لگا رہتا ہے. ایک لمحے کے لئے بھی تنہائی نہیں ملتی." اسکی بکھرتی حالت دیکھ کر آہل کو عجیب سی بےچینی ہونے لگی۔
"آہل اس طرح میرا چھپ چھپ کر آنا , تم سے ملنا. جانتے ہو کیا انجام ہوگا. آپ کے ساکھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ تم مرد ہو مگر میری عزت دو کوڑی کی رہ جائے گی . اور آپک کو تو کوئی بھی انکار نہیں کرسکے گا۔ اگر نشہ ہی پورا کرنا ہے تو میں کیوں. " وہ سسکنے لگی۔
"میں انجام کی پروہ کب کرتا ہوں. میں تو چاہتا ہوں ساری مصلحتیں توڑ کر تمہارے اوپر اپنے نام کا پکا مہر لگادوں مگر تم مانو تب نا۔ اور میں کوئی ہوس پرست بندہ نہیں کہ دلی تسکین کے لئے کسی سے بھی مراسم بڑھا لوں۔" اسکے سر سے چادر ہٹا کر وہاں اپنے لب رکھ دئیے.
"چلو اندر !! اسکا ہاتھ پکڑ کر وہ روم کے اندر لے آیا تو روم کی چکا چوند روشنی آنکھوں کو چبھنے لگی.
"ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟ اور میں کونسا من چاہی لڑکی ہوں اپ کی زندگی میں۔ میرے ساتھ بھی تو اپنے اندر برسوں سے جلے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مراسم بنائے ہیں۔ ورنہ میں تو آپ کی نظر میں دو ٹکے کی حویلی کی ایک مجبور لڑکی ہوں۔ ویسےبھی مما نے آدھے گھنٹے کا ٹائم دیا ہے. مجھے جانا ہے ابھی واپس." زر نے دھک دھک دل کیساتھ عذر پیش کیا۔
"یار ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتی ہو. پہلی دفعہ تو نہیں مل رہی جو اتنا جھجھک رہی ہو."
اسکے بالوں سے کیچر نکال کر بال کھولے. تو پشت پر گہرے سیاہ بال پھیل گئے.
"آہل نہیں پلیز !! وہ مزاحمت کرنے لگی.
"مجھے جگہ جگہ منہ مارنے پر تم مجبور کر رہی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔
"ششش. آہل تمہاری انہی مشکوک حرکتوں کیوجہ سے گھر والے مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہیں. مما کو لگ رہا ہے کہ آپ کی نظر ہے مجھ پر. اور کل رات کو بابا سے حسان ( ماموں کے بیٹے) سے میری شادی کی بات کر رہی تھی.
"تم کیا چاہتی ہو؟ آہل نے آنکھوں کی پتلیاں سکیڑ کر پوچھا.
"آپ کو چاہتی ہوں." بلا ارادہ زبان سے نکل گیا. "مگر یہ جو ہم کر رہے ہیں اسے دنیا کیا نام دیتی ہیں. مجھے وہ نہیں بننا.. پلیز..." وہ گڑگڑائیں.
"چپ !! کچھ نہیں ہوگا. چلو تمہیں گھر ڈراپ کرتا ہوں". اس کے سر پر چادر ٹھیک کرکے بولا۔
لمحے میں ساری بے قراری , بے تابی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی.
گارڈ کی گاڑی کو آگے بھیج کر وہ اپنی گاڑی میں زر کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا. اسکی سرخ آنکھیں دیکھ کر وہ اندر تک تڑپ گیا.
"ناراض ہو." اسے شیشے کے پار دیکھے سوال پوچھا۔ کھلتا گلاب جیسا چہرہ کئی دنوں میں مرجھا گیا تھا۔
"تو کیا خوش ہونا چاہیے ؟؟ الٹا سوال پوچھا گیا.
"پھر نہیں بلاؤں گا کہی پر بھی." اسکے گرد بازو حمائل کرکے اپنے قریب لے آیا.
"کیوں نہیں بلائیں گے۔ ضرور بلائیں گے آپ۔ کتنے ہی معصوم اور بے گناہ لوگوں کی پشت پر قدم رکھ کر, کتنوں کو پاؤں تلے روندھ کر تو آپکو انتقام کی سیڑھیاں چڑھنا ہے." زر نے خشک ہوتے خلق کو بدقت تر کرکے طنزیہ وار کرکے گویا مقابل کو احساس دلانا چاہا ۔ مگر وہ بھی سنگ دل تھا بغیر کسی ردعمل کے بیٹھا رہا۔
"اسامہ بچہ ہے آہل!! اسکو آپ اچھے لگے تو بتا دیا. اس کو ان چیزوں میں انولو مت کرو. اور آپ کیا بول کر گئے تھے کہ آپ میرا خون پیتے ہیں؟ آہل کو تنے اعصاب کے ساتھ بیٹھے دیکھ کر وہ پھر سے گویا ہوئی.
"میں لڑکوں کے شوق نہیں پالتا۔ نا ہی بچوں پر ہاتھ ڈالتا ہوں حویلی کے بزدل مردوں کے طرح. سامنے آکر وار کروں گا. ڈونٹ وری۔ اور ہاں خون ہی تو پیتا ہوں. پلک جھپکتے اسکے اوپر جھک کر اسکی بولتی بند کرگیا. شدت اتنی زیادہ تھی کہ نچھلے ہونٹ سے خون کا بوند نکل گیا.
"اب آگیا یقین !!. انگوٹھے سے خون صاف کرکےجتا دیا. جبکہ زر کا پورا وجود ٹھنڈے پسینے سے بھیگ گیا۔
"ایک ہی دفعہ میں سزا دے کر مار دے آہل!! بار بار یہ عزت نفس پر وار کرکے آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟؟ آپکی یہ دھوپ چھاؤں جیسی عادت میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ کبھی الفاظ سے اتنے گھاؤں دیتے ہیں آپ کہ روح تک کو چھلنی کر دیتے ہیں. اور کبھی لہجہ اتنی شیریں ہوتا ہے کہ مجھے ساتویں آسمان پر پہنچا دیتے ہو۔" زر نے بکھرے تنفس کو بحال کرکے شرر باز نگاہوں سے اسے دیکھا۔
"شٹ اپ!! فضول گوئی سے مجھے خدا واسطے کا بیر ہے. تم یہاں اتر کر پیدل گھر چلی جانا. مجھے تھوڑا کام ہے." آہل نے کرختگی سے کہہ کر ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا بولا تو وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر گاڑی سے نکلی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••
" سر!! سحر کے لئے پرپوزل آیا ہے." زر کو ڈراپ کرکے وہ پیراڈائز ( یتیم خانے ) پہنج گیا تو وارڈن نے اسے سحر کے لئے آنے والے رشتے کے متعلق آگاہ کرنا مناسب سمجھا. سالوں پہلے آہل نے دادا سرکار کے ساتھ ملکر اس یتیم خانے کی بنیاد رکھی تھی. اب تک یہاں ہزاروں یتیم بے آسرا بچیوں کی کفالت ہورہی تھی. وہ خود وقتاً فوقتاً آتا اور یہاں کے معاملات خود دیکھتا. اب تک کئی بچیوں کی شادی بھی کروا چکے تھے.
"کس کا." آہل نے چھوٹی سی سات سال کی بچی کو گود میں بٹھا کر پاکٹ سے چاکلیٹ تھما کر کہا.
"کوئی عامر نامی لڑکا اسکے کالج میں پڑھتا ہے. سحر میں انٹرسٹڈ ہے. اس کے پیرنٹس یہاں آئے تھے. اور سحر کے لئے اپنی پسندیدگی ظاہر کی." وارڈن نے تفصیلاً بتایا۔
"ہممم!! مس شہری کو لڑکے کا نام, باپ کا نام اور ایڈریس سمجھا دو. پوری طرح سے تسلی اور جانچ پڑتال کرنے کے بعد ہم کوئی فیصلہ لیں گے.اور سحر کی کیا رائے ہے.؟؟ ابھی وہ بمشکل سترہ سال کی ہوئی ہے. اتنی جلدی ..."
"اس نے فیصلہ آپ پر چھوڑا ہے. اور بیٹیوں کے فرض سے جتنی جلدی سبکدوش ہوجائے تو بہتر ہے. اور ہماری سحر تو ماشاء اللہ سے کافی سمجھدار ہے. "
"لڑکے کو کل آفس بجھوا دینا. اس معاملے کو میں خود ہینڈل کرلوں گا."
عنایہ کو بھی آہل یہاں سے لیکر گیا تھا. صرف ایک رشتہ تھا اس کے پاس ماں کا۔ اسکی ماں کے وفات کے بعد کوئی بھی اس یتیم بچی کی زمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں تھا پھر دور کی ایک خالہ کو شاید رحم آگیا اور اسے اپنے گھر لے گئی. مگر قسمت کی ستم ظریفی دیکھے, ایک دن خالہ کی غیر موجودگی میں اسکے خالو نے اسکے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی. وہ تو شکر تھا پڑوسیوں نے چیخنے کی آوازیں سنی تو بھاگ کر آئے اور اسکو اس حیوان کے شکنجے سے بچا لیا. اس وقت عنایہ کی عمر دس سال تھی. انتہائی حسین ننھی کلی تھی. تب اسکی خالہ نے اسے یتیم خانے چھوڑ دیا تھا. کچھ عرصہ تک اسے شدید دورے پڑتے اور خود کو مارنے کی کوشش بھی کئی بار کی۔ تب آہل نے اسے ہاسپٹل میں ایڈمٹ کیا تھا. تاکہ وہ شاکڈ سے نکل ائے۔ جبکہ باقی بچیاں اس کے ان اقدام سے خوفزدہ ہورہی تھی. اور پھر وہ آہل کے ساتھ اسکے گھر شفٹ ہوگئی. چوبیس گھنٹے فیمیل ملازمہ اسکے ساتھ ہوتی. اب اسکی عمر انیس سال تھی. آہل نے کئی بار اسے آرفنج بھیجنا چاہا مگر وہ بھوک ہڑتال کرتی اور خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی. تو مجبوراً آہل کو ہتھیار ڈالنے پڑے. وہ ذیادہ تر دوسرے ممالک جاتا تو گھر پر اسکے لئے قابل اعتبار مخصوص ملازمہ کو ہائیر کیا تھا. آہل کے لئے آج بھی وہ وہی دس سال کی چھوٹی بچی تھی مگر وہ خود آہل کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتی تھی.
••••••••••••••••••••••••••••••
"آپ اس وقت یہاں کیا کر رہے ہیں." رات کے ڈیڑھ بجے ازلان کو کچن میں دیکھ کر شزا نے حیرانگی سے پوچھا, جو پانی پینے آئی تھی.
"ڈنر نہیں کیا تھا۔ تو اب ایک آنلائن میٹنگ اٹینڈ کرکے فارغ ہوا ہوں. سوچا کچھ ہلکا پھلکا کھا لوں." ازلان نے سرسری جواب دیا.
"میں بنا دیتی ہوں کچھ. آپ وہاں چئیر پر بیٹھ کر ویٹ کرے".شزا نے آفر کی.
"تمہاری اس عنایت کا میں دل سے ممنون ہوں. لیکن میں اپنے کام خود کرنے کا عادی ہوں". اذلان نے سہولت سے انکار کیا.
"آپ میرے ساتھ ایسا بیہیو کیوں کر رہے ہیں؟؟ میں پیار....."
"شزا !! پلیز... ہم جسٹ کزنز ہیں اور کچھ نہیں. ہزار بار سمجھایا ہے میں نے تمہیں, تم اور سوہا میرے لئے ایک جیسےہو. اور نا ہی میں فیملی میں شادی کرنے کا خواہاں ہوں." ازلان نے ہری جھنڈی دکھا دی،۔
"ایکسکیوزمی !! اگر یہاں لیلی مجنوں کا سین ختم ہوا ہو تو کوئی مجھے ذرا ایک کپ کافی کا بنا کر دے سکتا ہے. شدید طلب ہورہی ہے". مترنم آواز کی سمت دونوں نے دیکھا تو عنایہ شارٹ شرٹ کیساتھ کھلا ٹراؤزر پہنے بالوں کو کھلا چھوڑ کر دوپٹے سے بے نیاز وجود لئے کچن کے دروازے میں کھڑی جمائیاں روکنے کی کوششوں میں تھی. جو کسی بھی زاہد بندے کا ایمان ڈگمگاسکتی تھی.
"ہم نوکر لگتے ہیں تمہارے باپ کے؟؟ شزا کو اسکی ادائیں طیش دلاگئی.
"تو کیا ان صاحب کی( اذلان) نوکر ہو تم. جو اتنے پیار سے آفر کر رہی تھی. کتنی تنخواہ ملتی ہیں. میں اس کا ڈبل پے کردوں گی." عنایہ نے مزید سلگایا. تو اذلان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی اور شیلف کی طرف منہ پھیر دیا.
"بکواس بند کردو دو ٹکے کی لڑکی!! اور کہاں گئی تم لوگوں کی خاصاالخاص ملازمین, یا پھر وہ کوہ نور کا ہیرا (آہل) تم لوگوں کا خلائی مخلوق....." عنایہ کی معصومیت پر شزا بل کھا کر رہ گئی۔
"آہل پر مت جا. ورنہ منہ توڑ دوں گی." آہل کے نام پر عنایہ بپھر گئی.
"اور کون دو ٹکے کی؟؟ مجھے اوقات یاد دلا رہی ہو. تمہارے اس حویلی میں چالیس کے لگ بھگ جتنے لوگ تو ہوں گے، جو آدھی جائیداد کے مالک ہے. اگر بانٹ دیا جائے تم سب میں , تو بمشکل دو دو آنے ہاتھ میں آجائیں گے۔ جبکہ باقی کا آدھا حصہ میرے آہل کے نام پر ہے. اب دو ٹکے میں ہوگئی یا تم لوگ." عنایہ جلدی سے حساب کتاب کرنے بیٹھ گئی۔
"کیا تماشا لگا رکھا ہے. اور عنایہ تمہیں کتنی دفعہ سمجھایا ہے یہاں کسی کے منہ نہیں لگنا. "
آہل اسی وقت تھکا ہارا باہر سے آیا تھا تو کچن سے آتی عنایہ کی تیز آواز کے تعین میں کچن کا رخ کیا.
"اوہ ہیلو مسٹر !!! ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ہے اس دیسی گڑیا کے منہ لگنے کا." شزا کو تو اسکا اتنا حسین ہونا کوفت میں مبتلا کردیتا تھا. لگتا ہے بس حسن سامنے دونوں بندوں پر ختم ہوگیا ہو.
" آہل!! کافی پینی ہے." عنایہ نے لاڈ سے اہل کے بازو کو پکڑا.
"یہ پکڑو. میں بناتا ہوں.. اس وقت بی اماں کی نیند میں خلل ڈالنا مناسب نہیں." اپنا کورٹ عنایہ کو پکڑواکر وہ کافی بنانے لگا. جبکہ عنایہ کی اس قدر آہل کے ساتھ بے تکلفی دیکھ کر اذلان کے من میں رقابت والے جزبات پیدا ہوگئے۔ اور وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا. وجہ خود سمجھنے سے قاصر تھا.
کافی تیار کرکے اس نے کپ عنایا کو پکڑوایا اور اسے ساتھ لئے کچن سے باہر نکل آیا.
دروازے سے نکل کر عنایہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور زبان باہر نکال کر آنکھ ونک کی. اس منظر سے جہاں وہ شزا کو ٹھیک ٹھاک تپا گئی۔ وہاں اذلان کے دل کو بہت بھایا..
اسکے سنیکس بھی تیار ہوچکے تھے چائے بنا کر وہ شزا کو مکمل اگنور کرکے نکل گیا.
"ڈائن..." میرے اذلان پر ڈورے ڈالنے کی حماقت تمہیں بہت مہنگی پڑے گی" عنایہ کے چہرے پر پڑتے اذلان کی پرشوق نگاہیں شزا کو سلگا گئے
•••••••••••••••••••••••
"دوپٹہ کہاں ہے تمہارا؟؟ عنایہ کے روم کے دروازے تک پہنچ کر اس نے لہو چھلکاتے سرخ آنکھوں سے استفسار کیا.
"ووووہ جلدی میں..." عنایہ نے مسمی شکل بنائی.
" کیا وہ !! اور یہ کیا بے ہودہ لباس پہنا ہے تم نے. یہ ہمارا گھر نہیں ہے. جہاں میرے علاؤہ دوسرے مردوں کا داخلہ ممنوع ہے. اور میں خود بھی ہفتوں ہفتوں تک گھر نہیں آتا . مگر یہاں مرد خضرات کی تعداد ذیادہ ہیں. کیوں خود کو مرکز نگاہ بنانے پر تلی ہوئی ہو.. یہ تمہارا سراپا کھلے عام دعوت ہے. زر کی ڈریسنگ دیکھی ہے نا؟؟ کیسے کپڑے پہنتی ہےوہ.. تقریباً اس گھر کی سبھی لڑکیوں کا لباس قیمتی مگر پردے کے اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔ سر پر دوپٹہ ہمہ وقت موجود ہوتا ہے اور یہی پردہ اور حیا عورتوں کا زیور ہوتا ہے. کل شہری کے ساتھ جاکر شاپنگ کروالو. یہ بے ہودہ لباس دوبارہ نا دیکھوں, ورنہ کپڑوں کے ساتھ تمہارے اس وجود کو بھی جلا کر بھسم کردوں گا. " آہل کے کنپٹی کی رگیں پھڑکنے لگی. اذلان کی بے باک نظروں کا ارتکاز عنایہ کے سراپے پر وہ بخوبی محسوس کر چکا تھا.
"جی.۔ سوری!! عنایہ کی آواز رندھ گئی.
آہل سیڑھیاں چڑھنے لگا کہ ازلان بھی ہاتھ میں چائے اور سنیکس پکڑے کچن سے نکلا.
اپنی بے لگام نگاہوں کو لگام دینا. ورنہ دیکھنے لائق ہی نہیں چھوڑوں گا." سرد آنکھوں کا تاثر مزید گہرا ہوگیا اور اذلان کو وہی چھوڑ کر دو دو سیڑھیاں پھلانگتا اوپر چڑھ گیا.
••••••••••••••••••••••••••••
"زر !!! یہ آہل کے ساتھ لڑکی کون ہے؟؟ تم نے پوچھا نہیں." وہ رات کو عاتکہ کے روم میں گئی تو باتوں باتوں میں عنایہ کا ذکر چلا.
"پوچھا تھا مگر ملال اسی بات کا ہے کہ وہ میری بات کو اہمیت ہی نہیں دیتے۔ ان سے بات کرنا گویا دیوار سے سر ٹکرانے کے مترادف ہے. کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ وہ میرے ساتھ بھی صرف دل بہلا رہا ہے." زر نے عاتکہ کی گود میں سر رکھ کر کہا.
"ایسا نہیں ہوسکتا. بابا سرکار کی تربیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہوسکتی. ہوسکتا ہے "پیراڈائز" سے آئی ہوں اہل کے ساتھ." عاتکہ کے دل میں ہوک سی اٹھی.
پھپھو !! پیراڈائز کے بچے بچے کو میں جانتی ہوں۔ دادا سرکار کیساتھ ہزار دفعہ گئی ہوں۔ سب مجھے جانتے پہچانتے ہیں. کہی آہل نے شادی....."
" اللّٰہ نا کرے. ہوش کے ناخن لو. یہ کیا فضولیات سوچنے لگی ہو. اگر شادی کی ہوتی تو وہ لڑکی اسکے ساتھ روم شئیر کرتی نا. الگ روم میں کیوں رہتی." عاتکہ اسکی ہمت باندھنے لگی.
"ڈر لگتا ہے پھپھو.!! میں نہیں جانتی تھی کہ نفرت کا کھیل کھیلتے کھیلتے مجھے آہل سے پیار ہوجائے گا. اور اسکی عادت ہو جائے گی. بغیر اس کا چہرہ دیکھے میں نے صرف اس کے لمس سے,احساس سے پیار کیا ہے. اور یہ عنایہ کس حق سے اسکے اتنی قریب ہے. تکلیف ہوتی ہے." زر کی آواز سے تاسف آور دکھ صاف چھلک رہا تھا۔۔
"اللّٰہ سے اچھے کی امید رکھو بیٹا. تم نے عنایہ کو کچھ ذیادہ ہی اپنے خواسوں پر سوار کیا ہے. سوجاؤ." عاتکہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی. پوری حویلی میں دادا سرکار کے بعد عاتکہ ہی تھی جسکی گود زر کے کےلئے ٹھنڈی چھاؤں جیسا سکون دیتا. [4:03 am, 22/07/2025] 𝐅𝐮𝐥𝐥 𝐍𝐨𝐯𝐞𝐥𝐬🤌🏻❤️: وہ آپ سے ایک بات کرنی تھی." رات کو ایاز میر سونے کے لئے لیٹ گئے تو ثوبیہ بیگم اسکے پیر گود میں رکھ کر مالش کرواکر ہلکا ہلکا دبانے کر اسے متوجہ کرگئی.یہاں عورت کی صرف اتنی عزت تھی کہ وہ بچے پیدا کرکے اسے پال پوس کر بڑا کریں۔ شادی کی پہلی رات سے ہی عورت کو اسکی اوقات یاد دلائی جاتی ہے۔ یہ باور کروایا جاتا ہے کہ اسکی اصل جگہ مرد کے پیروں میں ہوتی ہے۔۔
"ہال بولو" ایاز میر نے جمائی روکنے کی کوشش کرتے ہوئے اجازت دی۔
"سجاد بھائ نے پھر سے کال کرکے زرغونہ کے رشتے کی بات چھیڑ دی۔ میں نے آپ سے بات کرنے تک کا وقت مانگ لیا۔ اگر آپکی اجازت ہو تو کسی دن بلوا کر رضامندی دے دیں گے۔ زر کا فائنل ائیر چل رہا ہے ۔ تو پھر رخصتی کروادیں گے۔ اب تو ما شاءاللہ حسان( بھائی کا بیٹا) ایک اچھی کمپنی میں اچھی پوسٹ پر ہے۔ اور فرض ادا کرنے میں کوتاہی نہیں برتنی چاہیے۔ ویسے بھی یہ جو لڑکا آیا ہے۔ مجھے اسکی نگاہیں چھب رہی ہے۔ جس طرح زر کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں ایک عجیب سی الوہی چمک آجاتی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہی ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر وہ کچھ غلط نا کر ڈالے." ایک ماں ہونے کے ناطے ثوبیہ بیگم کا تجزیہ سو فیصد درست تھا۔ اپنے بچوں پر اٹھنے والی بری نظر ماں اچھے سے پہچان جاتی ہے۔
"ہممم !! ٹھیک ہے۔ میں جلد ہی سلطان اور امان سے مشورہ کرکے جواب دے دوں گا۔ اور تم زرغونہ کے کان میں بھی یہ بات ڈال دو کہ اسکا رشتہ اسکے ماموں کے گھر میں ہی ہوگا تاکہ کسی اور کے سپنے سجانے کی تمنا چھوڑ دے." ایاز میر نے ناگواریت سے کہہ کر بات ختم کردی.
اپنے باپ کی آخری بات روم کے دروازے پر کھڑی ہوکر زر نے بآسانی سنی۔ غصہ و اہانت کے احساس سے سر چکرا کر قدم لڑکھڑائے مگر بروقت دو ہاتھوں نے مضبوطی سے اسے تھام کر زمین بوس ہونے سے بچایا۔
"کیا ہوا؟؟ یہ چہرے پر ہوائیاں کیوں اڑ رہی ہے"۔آہل نے اسے سیدھا کھڑا کرکے سینے پر ہاتھ باندھنے تفتیشی انداز میں اسکی اڑی ہوئی رنگت دیکھ کر استفسار کیا۔ تو زر کی ویران آنکھیں سامنے والے کے بے تاثر نظروں سے الجھائی۔
"کک. کچھ نہیں!! اپنے کام سے کام رکھے." زر سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے سائیڈ سے نکلنے لگی کہ آہل نے اسکو بازو سے دبوچ لیا۔
"تم مجھے, یعنی اہل یزدان کو اٹیٹیوڈ دکھا رہی ہو۔ داد دینی پڑے گی۔" آہل نے استہزائیہ لہجے میں کہہ کر پوکٹ کے جیبوں میں ہاتھ ڈالے ۔
"دور ہٹئے !! کیوں قریب آنے اور ٹچ کرنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں آپ۔ آپ شائید بھول گئے آپ مجھ سے نفرت کے دعویدار ہیں۔ تو اپنی بات ہر قائم رہ کر مجھ سے فاصلہ بنا کر رکھے۔ بقول آپکے میں تو صرف آپکے لئے ایک مہرہ ہوں۔" زر نے اپنا بازوؤں چھڑایا۔
"واہ بھئی !! میڈم کے تو پر پر نکل آئے ہیں۔ زبان لڑا رہی ہے. سمبھال کر بات کرو۔ مجھے پر کاٹنے بھی آتے ہیں۔ تمہارے یہ ماہتاب جیسے مکھڑے پر کوئی اور مرمٹتا ہوگا. میری ترجیحات زرا الگ قسم کی ہے۔ تو یہ ادائیں کسی اور کے سامنے دکھائیں."آہل نے دو انگلیوں میں اسکی تھوڑی زور سے دبا کر ایک جست میں واپس چھوڑ دی.
"اگر بھول گئی ہو تو یاد دلاؤں تمہیں کہ حویلی والے عورت کو پاؤں کی دھول کے برابر بھی نہیں سمجھتے۔ اور ان میں تم بھی شامل ہو۔ تو آواز نکالنے سے پہلے ہزار بار سوچنا۔ یہاں ہمیشہ کے لئے آواز چھین بھی لی جاتی ہے۔ ویسے میں تو اس حویلی میں پلا بڑھا نہیں مگر اب اسکا حصہ ہوں تو صحبت کا اثر تو ہونا ہی ہے۔" خباثت سے بائیں آنکھ کا کونا دبا کر آہل نے زر کا سیروں خون جلایا۔
جبکہ زر متعجب بے بس نظریں آہل کے چہرے پر گاڑے خاموش کھڑی تھی۔
"ایسے کیا دیکھ رہی ہو. جانتا ہوں کچھ زیادہ ہینڈسم ہوں" اہل نے آئی برو اچھائی.
" یہی کہ اللّٰہ نے اتنا حسن دیا ہے اگر ساتھ میں دل کی خوبصورتی سے نواز دیتا تو کیا برا ہوتا۔ اینی وے آپ سے امید بھی کیا کی جاسکتی ہے؟؟ مگر یاد رکھیں. بدلے اور انتقام کی آگ میں اتنے بھی بہرے گونگے مت بنئے کہ باقی کی عمر پچھتاؤں کے سنگ گزدے." زر نے اپنے امڈنے والے آنسوؤں کا گلہ دبا کر کہا اور سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جانے لگی۔ وہ تو یہ بھی بھول گئی تھی کہ وہ باپ کے پاس کس کام سے جارہی تھی۔ اوپر سے آہل کے کہے گئے الفاظ نے اسکی عزت نفس کو جھنجھوڑا ۔
" کیا کر رہےہو آہل۔ کب سے اتنے کمزور ہوگئے تم کہ ایک عورت کو اپنے انتقام کی آگ میں بھسم کرنے لگے ہو۔ بے چینی اور اضطراب کی حالت میں اس نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں میں اپنے بالوں کو زور سے بھینچا۔
"آئی ایم سوری زر!! میں تمہیں ہرٹ کرنا نہیں چاہتا. مگر کیا کروں۔ تمہاری اس قدر اپنے باپ کے شکل سے مماثلت دیکھ کر مگر مجھے اپنی تزلیل اور محرومیاں یاد آجاتی یے۔ وہ چہرہ جس سے میں بچپن نے نفرت کرتا آیا ہوں ۔ وہ بھی شدید قسم کا۔ تم سے ذاتی عناد رکھنے کا ارادہ نہیں تھا میرا. بس تمہیں سامنے دیکھ کر آپے سے باہر ہوجاتا ہوں۔ اورمیں اپنے اصولوں میں ترمیم کا قائل نہیں. " خود سے مخاطب ہوکر پل میں آہل کی ساری تیز طراری اور تلخی سمٹ گئی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
"آپ کیا کھاتے ہیں. جو اتنے حسین ہیں" اسامہ کی باتیں یاد کرکے وہ ایک بار پھر سےمسکرایا. کہاں حویلی کے تخریب کار لوگ کہاں وہ معصومیت کا شاہکار۔۔۔۔
"ملنا ہے تم سے" یا تو شرافت سے خود آفس اجاؤ یا پھر رات کو میں آجاؤں گا. فیصلہ تم خود کرلو" زر کو میسج کرکے سینڈ کردیا.
"کم ان" ڈور ناک ہوا تو اسکی" پی اے" مس شہری سامنے تھی..
"سر!! آپ نے بلایا تھا۔؟؟ وہ سامنے چئیر پر بیٹھ گئی.
"جی!! کئی دن ہوگئے. پیراڈائز (یتیم خانے) کا چکر نہیں لگایا. تم سامان گاڑیوں میں بھر دو. ہم تھوڑی دیر بعد نکلتے ہیں"
ٹھیک ہے سر!! وہ جانے لگی تو دروازہ نوک ہوا اور مہد نے اندر جھانک کر دانت دکھا کر اجازت مانگی۔
"مے آئی کم ان سر !!
"سر کے کچھ لگتے!! اندر داخل ہونے کے بعد بھلا کون اجازت مانگتا ہے۔ اور تو اتنا شریف کب سے ہوا۔؟؟ آہل نے موبائل پر ایک نظر ڈال کر خوشدلی سے کہا۔
"آئی تھنک غلط وقت پر انٹری ماری تم کہی جارہے تھے کیا؟؟ اسے بار بار گھڑی اور موبائل پر نظر ڈالتے دیکھ کر مہد نے استفسار کیا۔
"ہاں وہ زر آرہی ہے۔ کافی دنوں سے ملا نہیں ہوں تو۔۔۔۔ اور اسکے بعد پیراڈائز جانا ہے۔" آہل نے اپنا پلان بتا دیا۔
"کیا مطلب زر آرہی ہے۔ تم اسکی حویلی شفٹ ہوگئے ہو نا, تو یہاں کس خوشی میں آرہی ہے۔ ۔ اور میٹنگ کا کیا ہوگا؟؟ طلال نے ایک سانس میں سوالات کی بوچھاڑ شروع کردی۔
" کول یار!! وہ حویلی نہیں بلکہ پورا چڑیا گھر ہے. پرائیویسی نام کی کوئی چیز ہی نہیں. بے دھڑک کوئی نا کوئی کہیں سے بھی آٹپکتا ہے. رات کو بلاتا ہوں وہ منع کردیتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کسی کو تو معلوم ہونا چاہیے کہ میں کتنا شریف ہوں." آنکھ کا کونا دبا کر وہ کمینگی سے مسکرایا..
"مگر اس طرح رات کو ملنا ٹھیک نہیں وہ بھی اس کے کمرے میں جاکر یا اپنے کمرے میں بلا کر۔ اس کے کردار پر انگلی اٹھے گی." مہد کسی خوف کے زیر اثر بولا۔
"میں نے کچی گولیاں نہیں کھیلی. دیکھ کر قدم اٹھاتا ہوں. " آہل چئیر سے اٹھ کر کوٹ پہنے لگا. کہ موبائل پر میسج نوٹیفکیشن آیا.
"مم۔میں آرہی ہوں آفس. گھر میں ملنے کی کوشش بھی مت کرنا." زر کا میسج پڑھ کر وہ وہ خباثت سے مسکرایا۔
" زر آرہی ہیں ۔ میرا روم کھلوا کر صفائی کروادے. میں میٹنگ اٹینڈ کرکے آتا ہوں. زر سے ملنے کے بعد آرفنج جانے کی تیاری کرلو." شہری کو مسیج کرکے سینڈ کردیا۔۔
آفس سے ملحقہ روم اس نے اپنے لئے سیٹ کیا تھا.. اور یہاں کبھی کبھار رات کو بھی رک جاتا۔
"میٹنگ ختم ہونے تک وہ آجائے گی. اگر تمہیں اپنے دوست کا ٹائم بچانا ہے. تو چلے میٹنگ اٹینڈ کرنے کے لئے؟؟ کیونکہ جتنی جلدی میٹنگ ختم ہوگی اتنی جلدی زر کو بھی چھٹی مل جائے گی۔ ادروائز اس کے ساتھ وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا۔" آہل اٹھ کر کوٹ پہنے لگا تو مہد بھی کھڑا ہوگیا۔
"یار!! اسے کیوں آزمائش میں ڈالتا ہے ہر وقت۔ جانتا تو ہے کہ اس کے لئے اکیلے گھر سے نکلنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ تم جان بوجھ کر اسے اذیت دیتے ہو. ترس کھاؤ بچی پر." مہد نے اسے لتاڑا۔
اوہ کم آن!! ترس ہی تو نہیں کھانا۔ کچھ تو اپنے باپ کے کئے کا بھگتے وہ۔" آہل اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جانے لگا۔
•••••••••••••••••••••••••••••
مشکل سے پرمیشن ملی تو وہ بڑی سی چادر سے خود کو اچھی طرح ڈھانپ کر نکلی اور کسی کی نظروں میں نا آنے کے لئے آٹو میں بیٹھ گئی.
اپنے آفس کے گلاس ونڈو سے نیچے روڈ پر نظریں گاڑھے وہ وقتاً فوقتاً ہاتھ پر بندھے گھڑی سے ٹایم بھی چیک کرتا رہا. بالآخر صبر آزما انتظار کے بعد ایک رکشہ آفس کے بلند و بالا عمارت کے سامنے رک گیا تو اس کے ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ امڈ ائی۔
سراسیمگی حالت میں لفٹ میں انٹر ہوکر " 6" کا بٹن پریس کرکے اپنی بے ترتیب سانسوں کو ہموار کرنے کی کوشش کی.
لفٹ سے نکل کر وہ سیدھا آہل کے آفس میں داخل ہوئی اور دروازے کیساتھ پشت ٹکا کر سکون کو سانس لیا.
"بہت ویٹ کرواتی ہو قسم سے !! آہل کی بوجھل گھمبیر آواز کانوں سے ٹکرائی تو اس نے ایک قہر آلودہ نظر اس پر ڈالی. تو آہل کے لب بے ساختہ گویا ہوئے....
"وہ تو ہونٹوں سے کچھ نہیں کہتا
اس کی آنــکھیں کلام کــرتی ہیں
بے تکا سا شعر بول کر زر کے غصے کو مزید ہوا دے دی۔
"آہل میں نے آپکا قتل کرنا ہے." وہ اسکے قریب آکر اسکا گریبان مٹھیوں میں دبوچ کر زور سے چلائی.
"آپ جانتے ہیں نا مما سے پرمیشن لینے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں. مگر آپ کیوں کر رہے ہیں یہ سب.؟ کیوں؟؟ اسکے چوڑے سینے سے لگی وہ آہل کے سینے پر مکے مارنے لگی.
کچھ تو ترمیم کرلو سزا میں اہل یزدان !! کیوں مجھے ناکردہ گناہوں کی سزا دے رہیں آپ. رحم کھا لے مجھ پر . یہ دیکھیں میں ہاتھ جوڑتی ہوں آپکے آگے." اداس آنکھوں میں سمندر جیسی طغیانی آگئی. اور آنسو بندھ توڑ کر اسکے رخسار بھگونے لگے.
"نو ٹیرز!! تمہاری یاد آرہی تھی.. تم جانتی ہو نا آہل کو تمہارے نشے کی عادت ہوگئی ہے. اور نشہ نا ملنے پر ایک نشئی کی کیا حالت ہوتی ہے یہ مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا. تمہارے گھر میں تو ہر وقت سرکس لگا رہتا ہے. ایک لمحے کے لئے بھی تنہائی نہیں ملتی." اسکی بکھرتی حالت دیکھ کر آہل کو عجیب سی بےچینی ہونے لگی۔
"آہل اس طرح میرا چھپ چھپ کر آنا , تم سے ملنا. جانتے ہو کیا انجام ہوگا. آپ کے ساکھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ تم مرد ہو مگر میری عزت دو کوڑی کی رہ جائے گی . اور آپک کو تو کوئی بھی انکار نہیں کرسکے گا۔ اگر نشہ ہی پورا کرنا ہے تو میں کیوں. " وہ سسکنے لگی۔
"میں انجام کی پروہ کب کرتا ہوں. میں تو چاہتا ہوں ساری مصلحتیں توڑ کر تمہارے اوپر اپنے نام کا پکا مہر لگادوں مگر تم مانو تب نا۔ اور میں کوئی ہوس پرست بندہ نہیں کہ دلی تسکین کے لئے کسی سے بھی مراسم بڑھا لوں۔" اسکے سر سے چادر ہٹا کر وہاں اپنے لب رکھ دئیے.
"چلو اندر !! اسکا ہاتھ پکڑ کر وہ روم کے اندر لے آیا تو روم کی چکا چوند روشنی آنکھوں کو چبھنے لگی.
"ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟ اور میں کونسا من چاہی لڑکی ہوں اپ کی زندگی میں۔ میرے ساتھ بھی تو اپنے اندر برسوں سے جلے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مراسم بنائے ہیں۔ ورنہ میں تو آپ کی نظر میں دو ٹکے کی حویلی کی ایک مجبور لڑکی ہوں۔ ویسےبھی مما نے آدھے گھنٹے کا ٹائم دیا ہے. مجھے جانا ہے ابھی واپس." زر نے دھک دھک دل کیساتھ عذر پیش کیا۔
"یار ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتی ہو. پہلی دفعہ تو نہیں مل رہی جو اتنا جھجھک رہی ہو."
اسکے بالوں سے کیچر نکال کر بال کھولے. تو پشت پر گہرے سیاہ بال پھیل گئے.
"آہل نہیں پلیز !! وہ مزاحمت کرنے لگی.
"مجھے جگہ جگہ منہ مارنے پر تم مجبور کر رہی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔
"ششش. آہل تمہاری انہی مشکوک حرکتوں کیوجہ سے گھر والے مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہیں. مما کو لگ رہا ہے کہ آپ کی نظر ہے مجھ پر. اور کل رات کو بابا سے حسان ( ماموں کے بیٹے) سے میری شادی کی بات کر رہی تھی.
"تم کیا چاہتی ہو؟ آہل نے آنکھوں کی پتلیاں سکیڑ کر پوچھا.
"آپ کو چاہتی ہوں." بلا ارادہ زبان سے نکل گیا. "مگر یہ جو ہم کر رہے ہیں اسے دنیا کیا نام دیتی ہیں. مجھے وہ نہیں بننا.. پلیز..." وہ گڑگڑائیں.
"چپ !! کچھ نہیں ہوگا. چلو تمہیں گھر ڈراپ کرتا ہوں". اس کے سر پر چادر ٹھیک کرکے بولا۔
لمحے میں ساری بے قراری , بے تابی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی.
گارڈ کی گاڑی کو آگے بھیج کر وہ اپنی گاڑی میں زر کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا. اسکی سرخ آنکھیں دیکھ کر وہ اندر تک تڑپ گیا.
"ناراض ہو." اسے شیشے کے پار دیکھے سوال پوچھا۔ کھلتا گلاب جیسا چہرہ کئی دنوں میں مرجھا گیا تھا۔
"تو کیا خوش ہونا چاہیے ؟؟ الٹا سوال پوچھا گیا.
"پھر نہیں بلاؤں گا کہی پر بھی." اسکے گرد بازو حمائل کرکے اپنے قریب لے آیا.
"کیوں نہیں بلائیں گے۔ ضرور بلائیں گے آپ۔ کتنے ہی معصوم اور بے گناہ لوگوں کی پشت پر قدم رکھ کر, کتنوں کو پاؤں تلے روندھ کر تو آپکو انتقام کی سیڑھیاں چڑھنا ہے." زر نے خشک ہوتے خلق کو بدقت تر کرکے طنزیہ وار کرکے گویا مقابل کو احساس دلانا چاہا ۔ مگر وہ بھی سنگ دل تھا بغیر کسی ردعمل کے بیٹھا رہا۔
"اسامہ بچہ ہے آہل!! اسکو آپ اچھے لگے تو بتا دیا. اس کو ان چیزوں میں انولو مت کرو. اور آپ کیا بول کر گئے تھے کہ آپ میرا خون پیتے ہیں؟ آہل کو تنے اعصاب کے ساتھ بیٹھے دیکھ کر وہ پھر سے گویا ہوئی.
"میں لڑکوں کے شوق نہیں پالتا۔ نا ہی بچوں پر ہاتھ ڈالتا ہوں حویلی کے بزدل مردوں کے طرح. سامنے آکر وار کروں گا. ڈونٹ وری۔ اور ہاں خون ہی تو پیتا ہوں. پلک جھپکتے اسکے اوپر جھک کر اسکی بولتی بند کرگیا. شدت اتنی زیادہ تھی کہ نچھلے ہونٹ سے خون کا بوند نکل گیا.
"اب آگیا یقین !!. انگوٹھے سے خون صاف کرکےجتا دیا. جبکہ زر کا پورا وجود ٹھنڈے پسینے سے بھیگ گیا۔
"ایک ہی دفعہ میں سزا دے کر مار دے آہل!! بار بار یہ عزت نفس پر وار کرکے آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟؟ آپکی یہ دھوپ چھاؤں جیسی عادت میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ کبھی الفاظ سے اتنے گھاؤں دیتے ہیں آپ کہ روح تک کو چھلنی کر دیتے ہیں. اور کبھی لہجہ اتنی شیریں ہوتا ہے کہ مجھے ساتویں آسمان پر پہنچا دیتے ہو۔" زر نے بکھرے تنفس کو بحال کرکے شرر باز نگاہوں سے اسے دیکھا۔
"شٹ اپ!! فضول گوئی سے مجھے خدا واسطے کا بیر ہے. تم یہاں اتر کر پیدل گھر چلی جانا. مجھے تھوڑا کام ہے." آہل نے کرختگی سے کہہ کر ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا بولا تو وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر گاڑی سے نکلی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••
" سر!! سحر کے لئے پرپوزل آیا ہے." زر کو ڈراپ کرکے وہ پیراڈائز ( یتیم خانے ) پہنج گیا تو وارڈن نے اسے سحر کے لئے آنے والے رشتے کے متعلق آگاہ کرنا مناسب سمجھا. سالوں پہلے آہل نے دادا سرکار کے ساتھ ملکر اس یتیم خانے کی بنیاد رکھی تھی. اب تک یہاں ہزاروں یتیم بے آسرا بچیوں کی کفالت ہورہی تھی. وہ خود وقتاً فوقتاً آتا اور یہاں کے معاملات خود دیکھتا. اب تک کئی بچیوں کی شادی بھی کروا چکے تھے.
"کس کا." آہل نے چھوٹی سی سات سال کی بچی کو گود میں بٹھا کر پاکٹ سے چاکلیٹ تھما کر کہا.
"کوئی عامر نامی لڑکا اسکے کالج میں پڑھتا ہے. سحر میں انٹرسٹڈ ہے. اس کے پیرنٹس یہاں آئے تھے. اور سحر کے لئے اپنی پسندیدگی ظاہر کی." وارڈن نے تفصیلاً بتایا۔
"ہممم!! مس شہری کو لڑکے کا نام, باپ کا نام اور ایڈریس سمجھا دو. پوری طرح سے تسلی اور جانچ پڑتال کرنے کے بعد ہم کوئی فیصلہ لیں گے.اور سحر کی کیا رائے ہے.؟؟ ابھی وہ بمشکل سترہ سال کی ہوئی ہے. اتنی جلدی ..."
"اس نے فیصلہ آپ پر چھوڑا ہے. اور بیٹیوں کے فرض سے جتنی جلدی سبکدوش ہوجائے تو بہتر ہے. اور ہماری سحر تو ماشاء اللہ سے کافی سمجھدار ہے. "
"لڑکے کو کل آفس بجھوا دینا. اس معاملے کو میں خود ہینڈل کرلوں گا."
عنایہ کو بھی آہل یہاں سے لیکر گیا تھا. صرف ایک رشتہ تھا اس کے پاس ماں کا۔ اسکی ماں کے وفات کے بعد کوئی بھی اس یتیم بچی کی زمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں تھا پھر دور کی ایک خالہ کو شاید رحم آگیا اور اسے اپنے گھر لے گئی. مگر قسمت کی ستم ظریفی دیکھے, ایک دن خالہ کی غیر موجودگی میں اسکے خالو نے اسکے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی. وہ تو شکر تھا پڑوسیوں نے چیخنے کی آوازیں سنی تو بھاگ کر آئے اور اسکو اس حیوان کے شکنجے سے بچا لیا. اس وقت عنایہ کی عمر دس سال تھی. انتہائی حسین ننھی کلی تھی. تب اسکی خالہ نے اسے یتیم خانے چھوڑ دیا تھا. کچھ عرصہ تک اسے شدید دورے پڑتے اور خود کو مارنے کی کوشش بھی کئی بار کی۔ تب آہل نے اسے ہاسپٹل میں ایڈمٹ کیا تھا. تاکہ وہ شاکڈ سے نکل ائے۔ جبکہ باقی بچیاں اس کے ان اقدام سے خوفزدہ ہورہی تھی. اور پھر وہ آہل کے ساتھ اسکے گھر شفٹ ہوگئی. چوبیس گھنٹے فیمیل ملازمہ اسکے ساتھ ہوتی. اب اسکی عمر انیس سال تھی. آہل نے کئی بار اسے آرفنج بھیجنا چاہا مگر وہ بھوک ہڑتال کرتی اور خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی. تو مجبوراً آہل کو ہتھیار ڈالنے پڑے. وہ ذیادہ تر دوسرے ممالک جاتا تو گھر پر اسکے لئے قابل اعتبار مخصوص ملازمہ کو ہائیر کیا تھا. آہل کے لئے آج بھی وہ وہی دس سال کی چھوٹی بچی تھی مگر وہ خود آہل کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتی تھی.
••••••••••••••••••••••••••••••
"آپ اس وقت یہاں کیا کر رہے ہیں." رات کے ڈیڑھ بجے ازلان کو کچن میں دیکھ کر شزا نے حیرانگی سے پوچھا, جو پانی پینے آئی تھی.
"ڈنر نہیں کیا تھا۔ تو اب ایک آنلائن میٹنگ اٹینڈ کرکے فارغ ہوا ہوں. سوچا کچھ ہلکا پھلکا کھا لوں." ازلان نے سرسری جواب دیا.
"میں بنا دیتی ہوں کچھ. آپ وہاں چئیر پر بیٹھ کر ویٹ کرے".شزا نے آفر کی.
"تمہاری اس عنایت کا میں دل سے ممنون ہوں. لیکن میں اپنے کام خود کرنے کا عادی ہوں". اذلان نے سہولت سے انکار کیا.
"آپ میرے ساتھ ایسا بیہیو کیوں کر رہے ہیں؟؟ میں پیار....."
"شزا !! پلیز... ہم جسٹ کزنز ہیں اور کچھ نہیں. ہزار بار سمجھایا ہے میں نے تمہیں, تم اور سوہا میرے لئے ایک جیسےہو. اور نا ہی میں فیملی میں شادی کرنے کا خواہاں ہوں." ازلان نے ہری جھنڈی دکھا دی،۔
"ایکسکیوزمی !! اگر یہاں لیلی مجنوں کا سین ختم ہوا ہو تو کوئی مجھے ذرا ایک کپ کافی کا بنا کر دے سکتا ہے. شدید طلب ہورہی ہے". مترنم آواز کی سمت دونوں نے دیکھا تو عنایہ شارٹ شرٹ کیساتھ کھلا ٹراؤزر پہنے بالوں کو کھلا چھوڑ کر دوپٹے سے بے نیاز وجود لئے کچن کے دروازے میں کھڑی جمائیاں روکنے کی کوششوں میں تھی. جو کسی بھی زاہد بندے کا ایمان ڈگمگاسکتی تھی.
"ہم نوکر لگتے ہیں تمہارے باپ کے؟؟ شزا کو اسکی ادائیں طیش دلاگئی.
"تو کیا ان صاحب کی( اذلان) نوکر ہو تم. جو اتنے پیار سے آفر کر رہی تھی. کتنی تنخواہ ملتی ہیں. میں اس کا ڈبل پے کردوں گی." عنایہ نے مزید سلگایا. تو اذلان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی اور شیلف کی طرف منہ پھیر دیا.
"بکواس بند کردو دو ٹکے کی لڑکی!! اور کہاں گئی تم لوگوں کی خاصاالخاص ملازمین, یا پھر وہ کوہ نور کا ہیرا (آہل) تم لوگوں کا خلائی مخلوق....." عنایہ کی معصومیت پر شزا بل کھا کر رہ گئی۔
"آہل پر مت جا. ورنہ منہ توڑ دوں گی." آہل کے نام پر عنایہ بپھر گئی.
"اور کون دو ٹکے کی؟؟ مجھے اوقات یاد دلا رہی ہو. تمہارے اس حویلی میں چالیس کے لگ بھگ جتنے لوگ تو ہوں گے، جو آدھی جائیداد کے مالک ہے. اگر بانٹ دیا جائے تم سب میں , تو بمشکل دو دو آنے ہاتھ میں آجائیں گے۔ جبکہ باقی کا آدھا حصہ میرے آہل کے نام پر ہے. اب دو ٹکے میں ہوگئی یا تم لوگ." عنایہ جلدی سے حساب کتاب کرنے بیٹھ گئی۔
"کیا تماشا لگا رکھا ہے. اور عنایہ تمہیں کتنی دفعہ سمجھایا ہے یہاں کسی کے منہ نہیں لگنا. "
آہل اسی وقت تھکا ہارا باہر سے آیا تھا تو کچن سے آتی عنایہ کی تیز آواز کے تعین میں کچن کا رخ کیا.
"اوہ ہیلو مسٹر !!! ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ہے اس دیسی گڑیا کے منہ لگنے کا." شزا کو تو اسکا اتنا حسین ہونا کوفت میں مبتلا کردیتا تھا. لگتا ہے بس حسن سامنے دونوں بندوں پر ختم ہوگیا ہو.
" آہل!! کافی پینی ہے." عنایہ نے لاڈ سے اہل کے بازو کو پکڑا.
"یہ پکڑو. میں بناتا ہوں.. اس وقت بی اماں کی نیند میں خلل ڈالنا مناسب نہیں." اپنا کورٹ عنایہ کو پکڑواکر وہ کافی بنانے لگا. جبکہ عنایہ کی اس قدر آہل کے ساتھ بے تکلفی دیکھ کر اذلان کے من میں رقابت والے جزبات پیدا ہوگئے۔ اور وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا. وجہ خود سمجھنے سے قاصر تھا.
کافی تیار کرکے اس نے کپ عنایا کو پکڑوایا اور اسے ساتھ لئے کچن سے باہر نکل آیا.
دروازے سے نکل کر عنایہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور زبان باہر نکال کر آنکھ ونک کی. اس منظر سے جہاں وہ شزا کو ٹھیک ٹھاک تپا گئی۔ وہاں اذلان کے دل کو بہت بھایا..
اسکے سنیکس بھی تیار ہوچکے تھے چائے بنا کر وہ شزا کو مکمل اگنور کرکے نکل گیا.
"ڈائن..." میرے اذلان پر ڈورے ڈالنے کی حماقت تمہیں بہت مہنگی پڑے گی" عنایہ کے چہرے پر پڑتے اذلان کی پرشوق نگاہیں شزا کو سلگا گئے
•••••••••••••••••••••••
"دوپٹہ کہاں ہے تمہارا؟؟ عنایہ کے روم کے دروازے تک پہنچ کر اس نے لہو چھلکاتے سرخ آنکھوں سے استفسار کیا.
"ووووہ جلدی میں..." عنایہ نے مسمی شکل بنائی.
" کیا وہ !! اور یہ کیا بے ہودہ لباس پہنا ہے تم نے. یہ ہمارا گھر نہیں ہے. جہاں میرے علاؤہ دوسرے مردوں کا داخلہ ممنوع ہے. اور میں خود بھی ہفتوں ہفتوں تک گھر نہیں آتا . مگر یہاں مرد خضرات کی تعداد ذیادہ ہیں. کیوں خود کو مرکز نگاہ بنانے پر تلی ہوئی ہو.. یہ تمہارا سراپا کھلے عام دعوت ہے. زر کی ڈریسنگ دیکھی ہے نا؟؟ کیسے کپڑے پہنتی ہےوہ.. تقریباً اس گھر کی سبھی لڑکیوں کا لباس قیمتی مگر پردے کے اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔ سر پر دوپٹہ ہمہ وقت موجود ہوتا ہے اور یہی پردہ اور حیا عورتوں کا زیور ہوتا ہے. کل شہری کے ساتھ جاکر شاپنگ کروالو. یہ بے ہودہ لباس دوبارہ نا دیکھوں, ورنہ کپڑوں کے ساتھ تمہارے اس وجود کو بھی جلا کر بھسم کردوں گا. " آہل کے کنپٹی کی رگیں پھڑکنے لگی. اذلان کی بے باک نظروں کا ارتکاز عنایہ کے سراپے پر وہ بخوبی محسوس کر چکا تھا.
"جی.۔ سوری!! عنایہ کی آواز رندھ گئی.
آہل سیڑھیاں چڑھنے لگا کہ ازلان بھی ہاتھ میں چائے اور سنیکس پکڑے کچن سے نکلا.
اپنی بے لگام نگاہوں کو لگام دینا. ورنہ دیکھنے لائق ہی نہیں چھوڑوں گا." سرد آنکھوں کا تاثر مزید گہرا ہوگیا اور اذلان کو وہی چھوڑ کر دو دو سیڑھیاں پھلانگتا اوپر چڑھ گیا.
••••••••••••••••••••••••••••
"زر !!! یہ آہل کے ساتھ لڑکی کون ہے؟؟ تم نے پوچھا نہیں." وہ رات کو عاتکہ کے روم میں گئی تو باتوں باتوں میں عنایہ کا ذکر چلا.
"پوچھا تھا مگر ملال اسی بات کا ہے کہ وہ میری بات کو اہمیت ہی نہیں دیتے۔ ان سے بات کرنا گویا دیوار سے سر ٹکرانے کے مترادف ہے. کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ وہ میرے ساتھ بھی صرف دل بہلا رہا ہے." زر نے عاتکہ کی گود میں سر رکھ کر کہا.
"ایسا نہیں ہوسکتا. بابا سرکار کی تربیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہوسکتی. ہوسکتا ہے "پیراڈائز" سے آئی ہوں اہل کے ساتھ." عاتکہ کے دل میں ہوک سی اٹھی.
پھپھو !! پیراڈائز کے بچے بچے کو میں جانتی ہوں۔ دادا سرکار کیساتھ ہزار دفعہ گئی ہوں۔ سب مجھے جانتے پہچانتے ہیں. کہی آہل نے شادی....."
" اللّٰہ نا کرے. ہوش کے ناخن لو. یہ کیا فضولیات سوچنے لگی ہو. اگر شادی کی ہوتی تو وہ لڑکی اسکے ساتھ روم شئیر کرتی نا. الگ روم میں کیوں رہتی." عاتکہ اسکی ہمت باندھنے لگی.
"ڈر لگتا ہے پھپھو.!! میں نہیں جانتی تھی کہ نفرت کا کھیل کھیلتے کھیلتے مجھے آہل سے پیار ہوجائے گا. اور اسکی عادت ہو جائے گی. بغیر اس کا چہرہ دیکھے میں نے صرف اس کے لمس سے,احساس سے پیار کیا ہے. اور یہ عنایہ کس حق سے اسکے اتنی قریب ہے. تکلیف ہوتی ہے." زر کی آواز سے تاسف آور دکھ صاف چھلک رہا تھا۔۔
"اللّٰہ سے اچھے کی امید رکھو بیٹا. تم نے عنایہ کو کچھ ذیادہ ہی اپنے خواسوں پر سوار کیا ہے. سوجاؤ." عاتکہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی. پوری حویلی میں دادا سرکار کے بعد عاتکہ ہی تھی جسکی گود زر کے کےلئے ٹھنڈی چھاؤں جیسا سکون دیتا.
••••••••••••••••••••••••
[7:16 pm, 22/07/2025] 𝐅𝐮𝐥𝐥 𝐍𝐨𝐯𝐞𝐥𝐬🤌🏻❤️: Novel Name _میرے نصیب
Episode : 4
Post by : Hammad🔐
"تم سچ بول رہی ہو نا؟؟ سوہا کا تجسس بڑھ گیا.
زر, سوہا اور شزا یونیورسٹی کے لئے نکل گئے تو راستے میں شزا نے گزری رات کی پوری کاروائی زر اور سوہا کے گوش گزار کی.
"ہنڈرڈ پرسنٹ سچ !! اور اس لاڈلی چڑیل کے لئے نواب زادے نے خود اپنے ہاتھوں سے کافی بھی بنوائی۔ بات بات پر "میرا آہل" میرا آہل" کا گردان کرکے اس پر اپنا حق جتا رہی تھی." شزا بڑھا چڑھا کر اپنے دل پر چھایا جمود کم کرنے کی کوششوں میں تھی۔
"یار اگر بیوی ہوتی تو ایک روم میں رہتے دونوں, اسطرح الگ الگ رومز میں کیوں رہ رہے ہیں۔ اور اگر گرل فرینڈ بھی ہے تو میں نے کبھی آہل کو اس کے ساتھ اتنا کلوز نہیں دیکھا. مجھے یقین نہیں آرہا." سوہا نے تردید کی.
جبکہ "میرے آہل" لفظ پر زر کے دھڑکنیں سست پڑ گئی.
"اور حلیہ تو دیکھنے لائق تھا. توبہ, توبہ. شرم وحیا چھو کر بھی نہیں گزری. بغیر دوپٹے کے کھلے عام بدکاری کا دعوت دیتی گھر میں دندناتی پھر رہی تھی. بھئی ہمارے گھر میں جوان شریف لڑکے موجود ہیں." شزا اپنے اندر اٹھتا اشتغال باہر نکال رہی تھی.
"مجھے "سٹی لائبریری"جانا ہے. تم دونوں نے جانا ہے؟؟ زر نے اچانک سے دونوں کو مخاطب کیا.
"نہیں آپ جائے... ہمیں ادھر کیا کام؟؟ ہمارے اسائمنٹ تو یونیورسٹی کے لائیبریری سے بھی بن جاتے ہیں." سوہا نے منع کردیا تو ڈرائیور اسکو لائیبریری کے گیٹ پر اتار کر دونوں کو یونیورسٹی چھوڑنے گیا.
زر نے گیٹ پر کچھ دیر انتظار کیا. جب گاڑی نظروں سے اوجھل ہوگئی تو ایک رکشہ میں بیٹھ گئی. آج آہل سے مل کر عنایہ والا معاملہ آر یا پار کرنا تھا.
رکشے سے اتر کر وہ آفس کے عمارت میں داخل ہوگئی. جیسے ہی لفٹ میں داخل ہوکر "6" کا بٹن پریس کرنا چاہا. آہل کی پی اے شہری عجلت میں اسکے پیچھے لفٹ میں داخل ہوئی.
"اسلام وعلیکم میم !! شہری نے سلام میں پہل کی.
"وعلیکم السلام !! آہل آفس میں ہے؟؟ مجھے ان سے ملنا ہے.اٹس ارجنٹ." زر نے سنجیدگی سے کہا.
"جی آفس میں ہے. لیکن سوری ٹو سے !! آپکو تھوڑا سا ویٹ کرنا ہوگا, میں نے سکرین سے آپکو اندر آتے دیکھا تھا اسلئے نیچے آگئی. سر ابھی میٹنگ میں بزی ہے اور.... "
" آپ انہیں انفارم کردے. مجھے بھی یونیورسٹی جانا ہے. فرصت نکال کر آئی ہوں" اسکی بات درشتی سے کاٹ کر وہ گویا ہوئی..
"امپورٹنٹ میٹنگ ہے. فارن ڈیلیگیشن کے ساتھ. ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ... اس طرح میٹنگ چھوڑ کر آئیں گے, تو کروڑوں کا نقصان ہوگا. پلیز جسٹ تھرٹی منٹس..."
لفٹ سکس فلور پر رک گئی. تو دونوں ساتھ باہر نکلے.
"بھاڑ میں جائے میٹنگ اور نقصان. الریڈی اربوں کا مالک ہے. ایک ڈیل کی وجہ سے سڑک پر نہیں آجائیں گے. مجھے ضروری بات کرنی ہے." زر آگے بڑھنے لگی.
"آپ اس طرح اندر نہیں جاسکتی. میری جاب کا سوال ہے." مس شہرینہ اسکے راستے میں حائل ہوگئی.
"زر نے بےیقینی سے ایک قہرذدہ نظر اس پر ڈالی۔ "یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں کون ہوں آپ میرے راستے میں رکاوٹ بن کے کھڑی ہوگئی. میں میر عالم کی پوتی ہوں. اس کمپنی کے ففٹی پرسنٹ شئیرز کی مالک. آپکو جاب سے بھی فارغ کر سکتی ہوں " زر کی پتلیاں حیرت و بے یقینی سے پھیلی اور کہہ کر پیچھے کی طرف قدم اٹھائے اور پلٹ کر جانے لگی.
"ایکسکیوزمی میم !! پلیز بس تھوڑا سا ویٹ..." شیری گومگو کیفیت میں اس کے پیچھے چلی آئی.
"بسس !! اپنے سر کو بتادو یہ آخری بار تھا کہ میں نے اسکے آفس میں قدم رکھ کر خود کی تذلیل کروائی, وہ بھی "پی اے" کے ہاتھوں. اور یہ میں زندگی بھر یاد رکھوں گی." زر کی آنکھیں بھرآئی..
"اوہ میرے اللّٰہ!! آگے کنواں پیچھے کھائی. کہاں پھنس گئی." شہری نے ماتھا پیٹا. جبکہ زر دل پر منوں بوجھ لیکر چلی گئی۔
آہل ڈیل فائنل کرکے میٹنگ سے فارغ ہوگیا اور مہمانوں کو رخصت کیا تو شہرینہ اسکے لئے کافی لے کر آئی.
"سر !! زر آئی تھی. آپ سے ملنے کے لئے فورس کر رہی تھی. مگر آپ میٹنگ میں بزی تھے اور وہ بضد تھی میں نے روکا تو ناراض ہوکر چلی گئی.."
"یہ تم اب بتا رہی ہو مجھے !! وہ اس طرح خود سے کبھی ملنے نہیں آتی. ضرور کوئی امپورٹنٹ بات کرنی ہوگی. مجھ سے پوچھ تو لیتی. ایک کیا سو ڈیل بھی قربان." آہل کے ماتھے پر ناگواری سے بل نمایاں ہوگئے.
"سوری سر!! شہری نے ندامت سے سر جھکایا..
"سوری کا میں نے اچار ڈالنا ہے." آہل پھٹ پڑا.
"تم سے توقع نہیں تھی اس بے حماقت کی. جاؤ تم. کتنی ہتک محسوس کی ہوگی اس نے, کچھ اندازہ ہے تمہیں".
ٹائی کی ناٹ کھول کر موبائل نکال کر زر کا نمبر ملانے لگا. نمبر سوئچڈ آف آرہا تھا. بگڑے تیوروں کے ساتھ وہ اٹھا اور کوٹ پہن کر ٹیبل سے گاڑی کی کیز اٹھاتا آفس سے نکل گیا۔ شہری اسکے پیچھے نکلی.
"سر میری بات سنے."
"شہری !!. میں خود سے ریلیٹڈ سب لوگوں کی عزت کرتا ہوں. اسکا یہ مطلب نہیں کہ مجھ سے پوچھے بغیر اتنا بڑا قدم اٹھاؤ. وہ کتنی پوزیسیو ہے. جانتی ہو نا تم."
"سر!! آپ نے منع کیا تھا کسی کو بھی اندر بھیجنے سے." شہری نے اپنے دفاع میں بولنا ضروری سمجھا.
"زر کا وجود " کسی" میں شامل نہیں. اس کمپنی کی مالک ہے. تم آفس سنبھالو میں دیکھتا ہوں."
"سحر کے لئے جس لڑکے کا رشتہ آیا ہے وہ آپ سے ملنے آیا ہے.. نیچے ویٹ کر رہا ہے." شہری نے جلدی سے بتاکر اسکے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی.
وہ رک گیا. کنپٹی کی رگ کو سہلا کر خود کو شانت کرکے واپس آفس میں داخل ہوگیا.
"بلاؤ اسے اندر۔
"جی..."
تھوڑی دیر بعد ڈور ناک ہوا۔ اور ایک لمبا پتلا سا معمولی شکل کا لڑکا اندر داخل ہوا.
"سٹ" آہل نے تیز نظروں سے سرتاپا اسکا جائزہ لیا
"عامر؟؟ یہی نام ہے نا؟ آہل نے خود پہل کی.
"ج۔ج۔جی سر!! اٹک اٹک کر جواب ملا.
"بچپن سے عادت ہے ہکلانے کی یا ابھی میرے سامنے آکر لگ گئی؟؟ خاصا طنزیہ انداز تھا.
"نن۔نہیں وہ.. کنفیوز ہو رہا ہوں." عامر سمبھل کر بولا۔ لیکن من میں "جل تو جلال تو" کا ورد کرتا رہا. اتنی بڑی کمپنی کے سی او کے سامنے بیٹھنا کسی محاذ کو سر کرنے کے مترادف تھا۔ اسکی شخصیت سے مرغوب ہوکر ہچکچانا لازم تھا ۔۔
"سحر کو کب سے جانتے ہو؟ آہل نے بغیر لگی پٹی سوال پوچھا ۔
" جانتا کافی عرصے سے ہوں۔ آٹھ مہینے پہلے اسے پروپوز کیا تھا. مگر وہ ٹالتی رہی. پھر میں نے گھر والوں سے بات کرکے ڈائیریکٹ رشتہ بھیجا." عامر نے خلق تر کرکے رٹا رٹایا جواب دیا۔
" ہمممم!! کتنا جانتے ہو اس کے بارے میں.؟" آہل کی کھوجتی نظریں اس پر ٹکی ہوئی تھی۔
"بس لوگوں سے سنا تھا کہ وہ یتیم ہے."
" گڈ!! پھر تو یتیم لڑکی کو کوئی جہیز دینے والا بھی نہیں ہوتا نا. تم اور تمہارے گھر والے بڑے مہان نکلے , پھر بھی راضی ہو گئے."
"مگر لوگ تو کہتے ہیں کہ یتیم خانے کا اونر اچھی خاصی بھاری بھر کم جہیز کیساتھ بچیوں کی شادی کرواکر رخصت کرتا ہے. مم۔میرا مطلب ہے. لوگ ایسا بولتے ہیں۔ ہمیں کوئی انٹرسٹ نہیں. (کتنا سمجھایا تھا ماں نے کہ زبان پر قابو رکھ۔ پھسل گئی)
آہل کے ہونٹوں پر زہریلی مسکان ابھر کر معدوم ہوگئی۔
"لوگوں کا کیا ہے کچھ بھی بول لیتے ہیں. اگر تمہیں پھر بھی اعتراض نا ہو تو و پھر اپنے والدین کیساتھ آکر سادگی سے نکاح کرواکے لے جانا سحر کو. مگر وہ اپنی تعلیم جاری رکھے گی. یہ ایگریمنٹ پہلے سائن کروانا ہوگا."
"جج۔جی.!! عامر نے خلق تر کیا.
"تم جا سکتے ہو." آہل نے تھوڑی بھی مروت نہیں دکھائی۔
عامر سرعت سے اٹھ کر باہر نکلا اور لمبا سانس لیکر خود کو کمپوز کیا.
"ماں تو جان ہی نکال دے گی اگر اسے پتہ چلا کہ لڑکی حالی ہاتھ آئے گی. وہ تو پہلے ہی یتیم سمجھ کر صاف انکار کر چکی ہے۔ جہیز کی لالچ میں مان گئی تھی۔ کیا کیا سپنے سجائے تھے کہ سونے کی چڑیا ہاتھ آجائے گی تو بیٹھ کر عیش کریں گے۔ " اسی کشمکش میں وہ چلتا رہا کہ سامنے زور سے کسی سے تصادم ہوا.
"اندھے ہو کیا؟؟ دیکھ کر نہیں چل سکتے؟؟
تم!!! سامنے عامر کو پاکر سحر کے ماتھے پر ناگواری کے تاثرات پھیل گئے تھے.
"جی میں!! عامر نے سلگتے انداز میں جواب دیا. اندر تو قربانی کا بکرا بن کر سہم سا بیٹھا تھا ابھی شیر بن کر غرایا.
"بھیا سے کیا بات ہوئی؟؟ سحر کو اس کا لہجہ کافی چھبا.
"جا کر اپنے نام نہاد بھائی سے پوچھنا. جو دو وقت کی روٹی کھلا کر تم پر احسان کرکے خرید چکا ہے. اور تم ہر وقت اس کے شان میں قصیدے پڑھتی رہتی ہو." عامر نے کچھ زیادہ دل پر لے لیا تھا ۔
"یہ تم کس لہجے میں بات کر رہے ہو. تم آج تک شرافت کا مظاہرہ کرتے آئے ہو تو میں نے چپ رہ کر رضامندی دی تھی. اگلی بار میرے بھیا کے بارے میں بکواس کی تو زبان گدی سے کھنیچ نکال لوں گی. میری ہمت, میری طاقت,میرا مان,میری پہچان , میرا فخر و غرور ہے آہل بھیا. نیکسٹ ٹائم بی کئیر فل." انگلی اٹھا کر وارن کرکے آگے بڑھ کر آہل کے آفس میں داخل ہوگئی.
"اسلام وعلیکم بھیا !! وہ جو اپنے روم میں جانے کا سوچ کر اٹھنے والا تھا سحر کو دیکھ کر رک گیا.
"وعلیکم السلام بھائی کی جان!! دیر کردی۔ انٹرویو تو ہوگیا."
"ہاں پتہ ہے!! عامر ملا مجھ سے باہر. مگر عجیب طرح کا بی ہیو کر رہا تھا.
"سحر!! ایک بات سچ سچ بتانا۔ تمہارا جو بھی فیصلہ ہوگا مجھے دل و جان سے منظور ہوگا۔ میری پہلی ترجیح تمہاری خوشی ہی ہے. تم پسند تو نہیں کرتی نا اس لڑکے کو." آہل جانچتی نظروں سے اسے دیکھ کر پوچھ بیٹھا۔
"پسند کا تو نہیں پتہ بھائی!! مگر کبھی غلط حرکت نہیں کی تو اچھا لگنے لگا تھا."
"اور اب جب تم ملی باہر تو اسکا انداز , لب و لہجہ کیسا تھا. ائی مین کچھ فرق نظر آیا." اہل نے تفتیشی نظریں اس کے چہرے پر گاڑھی.
"اچھا خاصا!! وجہ پوچھ سکتی ہوں میں. آپ لوگوں کے درمیان کیا باتیں ہوئی ہیں۔ کونسے مذاکرات طے ہوئے ہیں." سحر ٹیبل پر دونوں کہنیاں ٹکا کر بیٹھ گئی۔
"میں نے خود کو جسٹیفائی کرنے کے لئے اس کا ایک چھوٹا سا ٹیسٹ لینا چاہا. جسٹ اتنا بول دیا کہ سحر یتیم ہے تو ظاہر ہے اس کے ساتھ کسی قسم کا جہیز نہیں جائے گا. تو کیا وہ لوگ ایکسپٹ کرلیں گے. ؟؟ تو اسکی رنگت ایک دم متغیر ہوگئی."
اوہ!! اسلئے باہر کتے کی طرح بھونک کر گیا ہے. آپ کے خلاف اکسارہا تھا مجھے." سحر معاملے کی تہہ تک پہنچ گئی. "اب سامنے آنے کی ہمت تو کرکے دکھائے سارے دانت نا تڑوائے تو میرا نام سحر نہیں."
"کول بیٹا!! اسے ایک نظر دیکھ کر ہی پہچان گیا تھا کہ ہوس و لالچ کے پجاری ہیں. تم "پیراڈائز" جاؤ میں حویلی کے لئے نکل رہا ہوں. زر آئی تھی یہاں , میں میٹنگ میں تھا تو شہری نے اسے ملنے سے روک دیا تو کافی طیش میں چلی گئی۔
" بھیا !! مجھے بھی آپ اپنے ساتھ حویلی لے جائے نا پلیز!!
"ایک آفت کو کندھوں پر بٹھا کر ساتھ لے گیا ہوں نا ہر وقت سائے کی طرح سر پر منڈلاتی رہتی ہے۔ کسی نا کسی سے پنگا لیکر مصیبت کھڑی کردیتی ہے. قسم سے ناک میں دم کر رکھا ہے." عنایہ نے آہل کا جینا دوبھر کردیا تھا۔ اور جانتی ہو نا تم حویلی والے کتنے گرے ہوئے لوگ ہے۔ پھر بھی اصرار کر رہی ہو۔
"میں عنایہ نہیں ہوں بھائی !! وہ شارٹ ٹمپر ہے. میں ایک صابر لڑکی ہوں. میں کوئی ایشو کریٹ نہیں کروں گی. بس دیکھنے کا اشتیاق ہے کہ ایک فیملی کے لوگ کس طرح ساتھ میں ہنسی خوشی اور اتفاق و اتحاد سے رہتے ہیں۔ بس دو تین دن کے لئے." وہ فورس کرنے لگی.
"اونلی ٹو ڈیز !! آہل فائنل کرکے رضامند ہو گیا. اور کیز اٹھا کر چلا گیا۔۔
سحر وہی بیٹھی عامر کے بارے میں سوچنے لگی ۔ کیا واقعی وہ رشتہ جہیز کی وجہ سے کرنا چاہتا تھا۔ وہ کیسے اتنی اچھی اداکاری کرکے اسے خود کیطرف مائل کرنے لگا تھا۔ سحر کا دماغ ماؤف ہونے لگا۔ اور پرس اٹھا کر باہر نکل گئی کی دروازے میں ایک بار پھر بری طرح ایک توانا وجود سے متصادم ہوئی۔
"اوہ میرے اللّٰہ!! آج تو پکا دس ٹانکے لگ ہی جانے ہیں میرے سر پر" اپنے چکراتے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے سامنے کھڑے انسان کو تیز تند نظروں سے گھورا۔
"ایم سوری!! مہد نے جلدی سے ایکسکیوز کرلی۔ "وہ میرا پین نیچے گر گیا تھا وہ اٹھا رہا تھا آپ کا دھیان نہیں رہا تو ٹکرائی۔" مہد نے اپنے روبرو کھڑی بگڑی تیور لئے چھوٹی سی پیاری لڑکی کو دیکھ کر ہاتھ میں پکڑے ہیں کی طرف اشارہ کیا۔
"آپکا مطلب ہے کہ میں اندھی ہوں۔ یا پھر جان بوجھ کر آپ سے ٹکرائی۔" سحر سرتاپیر سلگ گئی۔
نووووو... ناٹ اٹ آل!!! میں نے ایسا کب بولا۔ معذرت!! مہد جلدی میں تھا۔ جبکہ سحر عامر کا غصہ اس پر نکالنے لگی تھی۔
"ہنہہہہہہ !! سحر نے ناک بھوں چڑھائی اور سائیڈ سے نکل گئی۔
"بھیا نہیں ہے آفس میں." بغیر مڑے سحر نے اسے آگاہ کیا۔
"بھیا ؟؟؟ مطلب یہ آہل کی بہن ہے. پیراڈائز سے آئی ہے۔" مہد خود سے مخاطب ہوا۔ وہ آہل کے فیملی کے بارے میں اے ٹو زیڈ سب جانتا تھا کہ اسکی کوئی سگی بہن نہیں ہے۔
••••••••••••••••••••••••
کون ہو تم؟؟ اور کس رشتے سے آہل کے ساتھ رہ رہی ہو" عنایہ کچن میں کھڑی فریج سے بوٹل نکال کر کھڑے ہوکر پانی پینے لگی کہ عاتکہ سرتاپیر اسکے سراپے پر نظر ڈال کر مستفسر ہوئی۔
"کیوں ؟ جان کر کیا کرنا ہے؟؟ عنایہ نے رکھائی سے جواب دے کر واپس بوتل منہ سے لگایا۔
'پانی بیٹھ کر بیتے ہیں بیٹا اور بوتل سے نہیں , گلاس میں ڈال کر پیتے ہیں" عاتکہ ازحد نرمی سے اسکے بدلخاظی اور بدزبانی کو نظر انداز کرکے پرسوچ نظریں اسکے چہرے پر ٹکا کر گویا ہوئی۔( کہاں دیکھا ہے اس لڑکی کو)
"اوہ ہیلو !! اپنے کام سے کام رکھیں. میری مرضی میں کھڑے ہوکر پیو, بیٹھ کر پیو یا لیٹ کر. پتہ نہیں حویلی والوں کو کیوں میرے ہر کام میں ٹانگ اڑانے کے بیماری ہے. جہاں دیکھا ,گیان شروع کردیتے ہیں" حسب عادت عنایہ بداخلاقی کا مظاہرہ کرنے لگی.
" ادب نام کے کسی شے سے کبھی پالا پڑا ہے تمہارا. بات بات پر کاٹ کھانے کو دوڑ رہی ہو۔ بدتمیز !! میری پھپھو سے تمیز سے پیش آؤ. ورنہ ..." زر جو اپنے لئے چائے بنانے کچن میں آرہی تھی۔ عنایہ کو عاتکہ کیساتھ بدزبانی کرتے دیکھ کر خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی.
"ورنہ کیا؟ عنایہ ہرنی چال چلتی زر کے قریب آئی اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ دی۔
" کل کا سورج دیکھنے حویلی میں نظر نہیں آوگی۔ جہاں سے آئی ہو وہاں بھیج دوں گی واپس۔ جس کے شہہ پر اتنا اترا رہی ہو یہ اکڑ اس شخص کو جاکر دکھاو." زر نے سخت پتھریلے نظر سے دیکھ کر وارن کیا۔
" یہ میرے آہل کا....... ""
"تمہارا نہیں !! آہل نا کبھی تمہارا تھا اور نا ہوگا. جو شخص جوتے لیتے وقت اسکی کوالٹی بار بار چیک کرتا ہے, ہزار بار سوچتا ہے کہ کہیں چھبتا تو نہیں۔ تو تم جیسی خرد دماغ لڑکی کو ضرور زبردستی اس کے سر پر مسلط کردیا ہوگا۔ جسکا لہجہ ہر ایک کو کانچ کی طرح چھبتا ہے۔ اسلئے آہل نام کی مالا جھپنا بند کردو. اگر نیکسٹ ٹائم میری پھپھو سے زبان درازی کی تو میں بھول جاؤں گی کہ تم مہمان ہو" زر نے زہرخند جتاتے انداز میں قطعیت سے سرزنش کی۔
" ہاؤ ڈئیر یو !! عنایہ اسکی جرات پر پیچ وتاب کھا کر رہ گئی۔ حویلی والے سب اہل کے نام پر دب جاتے تھے۔ جسکا بھرپور فایدہ عنایہ اٹھا رہی تھی۔ مگر یہاں تو منہ کی کھانی پڑی۔
"عنایہ.... !!!! آہل کی اشتعال انگیز دھاڑ سے کچن میں موجود تینوں نفوس کے دل دہل گئے.
" آئیں جناب, عزت مآب , محترم آہل یزدان صاحب !! آپ کی ہی کمی تھی. جو کھٹک رہی تھی. سن لیا اپنی عنایہ کی اخلاقیات سے گندہ لہجہ۔ اب ٹوکنے کا کیا مطلب. جب سکھایا ہی نہیں اسے کسی نے کہ بڑوں کیساتھ بات کس طرح کرتے ہیں. ویسے مجھے تعجب ہے آپ پر. جس آہل یزدان کو پوری دنیا ایک نام اور مقام سے جانتی ہے۔ جسکی لاثانی خوبیوں کی پوری دنیا متعرف ہے۔ جو اپنی زبان اور اصولوں کا بڑا پکا ہے. اسکے گھر ایسے لوگ بھی رہتے ہیں۔ بد ذوق , بد لحاظ, بد اخلاق.." زر نے تمسخرانہ نگاہ آہل کے خون چھلکاتے چہرے پر ڈال کر کہا جو عضب ناک تیور لئے عنایہ کو گھور رہا تھا۔
"چلے پھپھو !! زر نے عاتکہ کے گرد حصار بنا کر قدم بڑھائے کہ آہل نے اسکے دوسرے بازو کو سختی سے دبوچ کر چلتے قدموں کو روکا۔
" عنایہ معافی مانگو ان سے !! بڑھتے خلفشار خون سے دھواں دھواں ہوتے چہرہ لئے اس نے عنایہ کو حکم دیا.
آہل مم میں... ؟؟ عنایہ تیوریاں چڑھائے ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
"ہاں تم!! ورنہ اپنا بوریا بستر سمیٹو اور چلو میرے ساتھ. میں مزید تمہاری ہٹ دھرمی افورڈ نہیں کر سکتا. " آہل کے کہنے پر زر اور عاتکہ ورطہ حیرت میں غوطہ زن ہوگئے۔
"سوری !! بے دلی سے کہہ کر عنایہ نے لب باہم پیوست کردئیے ۔اور زر اور عاتکہ پر ایک تنفر بھری نظر ڈال کر تلملا کر نکل گئی۔
"تم بھی اپنی پرواز نیچی رکھو۔ حد تم بھی پار کرنے لگی ہو۔ ابھی تم اس قابل نہیں ہو کہ میری ذات پر تبصرے کرو۔ " آہل کی بات پر زر کے ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
حد پار بھی ہو اور حد میں نا ہو
مطلب جوانی ہو اور مقدمے نا ہو
"تم....! وہ زر کے قریب آکر اسے اچھے سے جواب دینا چاہتا تھا کہ عاتکہ زر کے سامنے ڈھال بن کر کھڑی ہوگئی۔
"بابا سرکار نے کبھی عورت کو اپنے غیض و غضب کا نشانہ نہیں بنایا. تم نے تو حویلی والوں کا بھی ریکارڈ توڑ دیا. دو ہاتھ آگے نکلے." عاتکہ تلخی سے گویا ہوئی۔
"آپ .... !! آہل نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر خود کو کچھ بولنے سے باز رکھا۔ اور اپنے اشتغال پر قابو پانے کے لئے سامنے دیوار زور سے پنچ مارا۔
"آہل..." زر خواس باختہ سی اسکے قریب پہنچ گئی اور اسکی مٹھی کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیکر زور سے دبایا۔ ہڈیوں کے اوپر سے سکن اتر گئی تھی جس سے خون رسنے لگا تھا۔ جبکہ عاتکہ کی آنکھیں یاسیت سے بھر آئی۔
"یہ کیا کردیا؟؟ آپ تو اپنا غصہ مجھ پر نکالتے ہیں نا۔ یہ پنچ مجھے ماردیتے. مجھے تکلیف دیتے۔ خود کو کیوں اذیت دے رہے ہیں آپ." زر نے دوپٹہ کے پلو سے بہہ رہے خون کو روکنے کی کوشش کی. آہل نے اسکا ہاتھ جھٹک کر اپنا ہاتھ چھڑوایا۔
"مجھے ہمدردیاں بٹورنے سے سخت نفرت ہے۔ "
"آہل !! آپ کا کوئی حق نہیں بنتا میری پھپھو کی تذلیل کرنے کا۔ مجھ پر کتنے ستم ڈھاتے ہیں آپ. کتنی تذلیل کرواتے ہیں . عزت نفس کو بار بار مجروح کرتے ہیں۔ میں قصور وار ہوں اسلئے بغیر اف کئے آپ کی نفرت سہہ رہی ہوں۔ مگر پھپھو نہیں. انہوں نے خود بہت سفر کیا ہے۔ " زر خود پر اوڑھے مظلومیت کی چادر پھینک کر آہل کے روبرو کھڑی تھی۔
"بدلے کی استطاعت رکھ کر بھی سب کچھf اللہ پر چھوڑ دینے والوں کا ظرف بڑا ہوتا ہے آہل !! اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں کہ جب کوئی تم پر ظلم کرے, تو میرے انتقام پر راضی ہوجاو, کیوں کہ میرا انتقام تیرے انتقام سے بہتر ہے۔ دلوں پر انتقام کا بوجھ رکھنا ایسی تھکن دیتا ہے کہ چہرے تک تاریک پڑ جاتے ہیں۔ پھینک دو اپنے اوپر سے یہ تھکا دینی والی بوجھ. آزاد کردو خود کو " عاتکہ نے رندھی ہوئی آواز میں اسے بہت کچھ جتایا مگر وہ بھی اپنی ضد کا پکا اپنی من مانی کرنے والا تھا۔ سنی ان سنی کرکے چلا گیا.
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
" آپی!! جب ہمیں کسی سے پیار ہوتا ہے تو کیسا فیل ہوتا ہے۔" سوہا اور زر رات کو سونے کے لئے لیٹ گئے تو سوہا نے اسے مخاطب کیا۔ وہ خلاف معمول آج زر کے روم میں سونے آگئی تھی۔
"مم۔۔ مجھے کیا پتہ!! میں کونسا کسی کے پیار میں پاگل ہوں." زر نے جز بز ہوتی متحیر نظر سوہا پر ڈالی جو موبائل سکرین پر سرد نظریں گاڑھے سوچوں میں گم تھی۔
"تم کیوں پوچھ رہی ہو؟؟ اسے ہنوز اسی پوزیشن میں بیٹھتے دیکھ کر زر نے تشویش بھری نظر اس پر ٹکا دی۔
"مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ مجھے بھی پیار ہوگیا ہے." سوہا کے سوچوں کا تسلسل ٹوٹ گیا۔۔
"کک۔ کس سے ؟؟ زر نے حلق تر کرکے استفسار کیا۔۔
"آہل یزدان سے!! الفاظ تھے یا بم۔ جو پل بھر میں زر کے خواس جھنجھوڑ دئیے.لفظوں کے تیردل کے آر پار ہوگئے. اور ٹھٹھک کر منجمد نگاہوں سے اپنی بہن کے چہرے کو دیکھ رہی تھی مگر وہاں مذاق کی ہلکی سی رمق بھی شامل نہیں تھی ۔غیر ارادی نظر اسکے ہاتھ میں پکڑے موبائل اسکرین پر نظر پڑی تو دل میں درد کی ٹھیس اٹھی۔ وہاں آہل کی تصویر تھی۔
آہل۔!! وہ زیرلب بڑبڑائی۔
"جی آپی !! پتہ نہیں کب ؟ کیسے؟ مگر اسکو دیکھ کر دل الگ تڑلے سے دھڑکتا ہے۔۔ بس یہی خواہش کرتا ہے کہ وہ آس پاس رہے۔ مناسب موقع ملتے ہی میں اس کو اپنی فیلنگز سے آگاہ کر دوں گی۔" سوہا زر کی دلی کیفیت سے انجان اپنی ہی احساسات کا برملا اظہار کر رہی تھی۔
"مگر سوہا تم ابھی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی. کیا پتہ وہ کسی اور میں انٹرسٹڈ ہو۔۔ یا انگیجڈ ہو. اور تمہارا پروپوزل ریجکٹ کردے۔" زر نے زبان تر کرکے اپنے تئیں اسے روکنے کی کوشش کی۔ ابھی تک تو وہ اپنی محبت سے پوری طرح سیراب بھی نہیں ہوئی تھی۔ ابھی تو آہل کے دئیے گئے زخم بھی مندمل نہیں ہوئے۔ کہ اسکی اپنی سگی بہن نے اسکی خوشیوں کے بیچ فصیل کھڑی کردی۔
" ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ مجھ میں کیا کمی ہے۔ نا صورت کی نا سیرت کی۔ خاندانی لڑکی ہوں. اسکے پاس ریجکٹ کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں۔ بس آپ میرے لئے دعا کرے." سوہا کی باتیں زر کو بے سکون کرگئی۔ وہ حال دل سنا کر پرسکون ہوگئی۔ مگر زر کو ہزاروں وسوسوں اور خدشوں کی زد میں چھوڑ گئی۔ جب دیر تک دماغ پر سوچوں کا غلبہ رہا تو اٹھ کر عاتکہ کے روم میں چلی آئی ۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
"زر بیٹا!! تم جاؤ نا, دیکھ آو آہل کو. ڈنر کرنے بھی نہیں نکلا. شام سے روم میں بند ہے. یہ فرسٹ ایڈ باکس بھی لے جاؤ. زخم صاف کرکے پٹی باندھو. اس نے ایسے ہی کھلا چھوڑ دیا ہوگا زخم کو." عاتکہ جو کب سے آہل کو لیکر مضطرب سی ادھر اُدھر ٹہل رہی تھی زر کو سامنے دیکھ کر جیسے دلی مراد بھر آئی۔
" جی پھپھو !! میں دیکھتی ہوں. مگر وہ اتنے ضدی اور خودسر ہیں. آپکو لگتا ہے کہ وہ میرے ہاتھ سے پٹی کروادیں گے." وہ ہاتھ میں باکس لیکر عاتکہ سے مخاطب ہوئی.
"جانتی ہوں. مگر اسے اسکے حال پر بھی تو چھوڑ نہیں سکتے نا. انکار بھی کرے تو پیچھے نہیں ہٹنا. وہ چاہے لاکھ انکار کردے. آج تم نے ضد پکڑنی ہے." عاتکہ نے اسکی ڈھارس باندھی۔
بڑی اختیاط کے ساتھ ادھر ادھر نگاہیں دوڑا کر آہل کے روم کے سامنے کھڑی تھی۔ دروازے پر ہاتھ رکھا تو کھلتا گیا۔ اور وہ جلدی سے اندر داخل ہوگئی اور لاک لگائی.
"یہ تو روم میں نہیں. خالی کمرہ منہ چڑھا رہا تھا۔ کہاں گئے ہوں گے؟؟ واشروم کا دروازہ کھلا تھا.. آہل روم میں موجود نہیں تھا.
"کہیں عنایہ کے روم... " نہیں نہیں!! اس سے آگے کا سوچ کر ہی اسے موت آنے لگی ایک دم چہرے پر کرب و اذیت کے کئی سائے لہرائے۔ اور بےجان قدموں سے واپس جانے لگی.
"آج تو بڑے بڑے لوگوں نے ہمارے غریب خانے کو عزت بخشی ہے.. واہ جی. اور اپنا دیدار کروائے بغیر جارہی ہو. ادھر کھڑی ہوجاؤ تاکہ آرتی اتاروں تمہاری." واشروم سے نکلے آہل نے طنزیہ تیر اچھال کر چھوٹے سے ٹاول سے اپنے زخمی ہاتھ کو صاف کرکے ٹاؤل صوفے پر پھینک دیا اور زر کے قریب آکر نافہمی سے اسکے صاف شفاف من موہنی صورت پر نظر ڈالی.
"وہ مم- میں۔۔ آپکا ہاتھ... پٹی کروانی ہے". اپنے چہرے پر گہری نظروں کا ارتکاز محسوس کرکے وہ اٹک اٹک کر بولی.
"ہاہاہاہاہاہا.... بھیگی بلی." آہل نے اسکے ماتھے پر پسینے کے موتی اپنے انگلی سے چن لئے. زر نے آنکھوں میں خفگی لئے اسے گھورا۔
سرعت میں اسکو ہاتھ سے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا اور اسکے برابر بیٹھ کر کانپتے ہاتھوں سے باکس کھولا اور ضرورت کی چیزیں نکال دی۔
"اوئے ہیلو!! یہ خوش فہمی کیونکر ہونے لگی تمہیں, کہ میں تمہاری ہلف لوں گا." آہل نے سیکنڈ کے اندر اسکو صحیح معنوں میں زمیں پر پٹخ دیا۔
"میری ہلف نہیں لینی تو کم از کم خود کروالو پٹی. زخم کھلا رہے گا تو خراب ہو جائے گا۔" عنایہ نے باکس اس کیطرف بڑھایا۔
"اچھا ہے نا خراب ہو جائے. تمہیں مجھ سے چھٹکارا مل جائے گا. آزاد ہو جاؤ گی میرے قید سے اگر مجھے کچھ ہوگیا تو . اور یہ فکرمندی کا ڈرامہ رچا کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو کہ تمہیں میری بہت پروا ہے؟؟ وہ آہل ہی کیا جو سیدھے منہ بات کرے. طنز و طیش بھری آواز میں بولا۔
" آپ کی طرح بے حس نہیں ہوں میں. آپکی تکلیف پر مجھے بھی درد ہوتا ہے. کیونکہ میں پیار کرتی ہوں آپ سے. یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ مجھ سے سخت نالاں ہیں. میری پوری زندگی داؤ پر لگائی ہیں آپ نے." عنایہ آبدیدہ ہوگئیں. کیسی آزمائش تھی یہ. یہ شخص اتنے پاس ہوکر بھی اپنا نہیں تھا.
" اور مجھے بے حس بنانے میں تمہارے حویلی والوں کا بڑا ہاتھ ہے.


Comments
Post a Comment