Skip to main content

روح یارم

Novel Name میرے نصیب


EPISODE=2
 

سر!! آئی تھنک یہ وقت مناسب نہیں ہوگا جانے کا. رات کے ڈھائی بج رہے ہیں. حویلی والے یقیناً سب سو رہے ہوں گے، تو........"


"تو کیا مس شہری؟  اب اپنے گھر میں جانےکے لئے کونسے رولز فالو کرنے پڑتے ہیں. یا پھر دن کی روشنی میں وہاں قدم رکھنے پر پھول بچھا کر یا پھولوں کے ہار پہنا کر شاندار طریقے سے میرا استقبال کیاجائے گا." آہل نے درشتی سے بات کاٹ دی۔


"ڈرائیور کو بول دو گاڑی نکال دے." آہل نے اپنا سامان اور ضرورت کی تمام چیزیں پہلے سے بھجوائی تھی.


"اوکے سر!! شہری نے مودبانہ سر ہلایا.اور پھر اگلے دس منٹ میں آہل یزدان کی گاڑی بمعہ دو اور گاڑیوں کے حویلی کے راستے پر گامزن تھی۔


گیٹ پر موجود گارڈز کو پہلے سے انفارم کیا گیا تھا. اسلئے بغیر کسی حیل و حجت کے اسکے لئے مین گیٹ کھول دیا گیا. تینوں گاڑیاں ایک ساتھ حویلی میں داخل ہوئی. ہر سو بکھری تاریکی بتا رہی تھی کہ حویلی کے مکین خواب خرگوش کے 

مزے لےکر غفلت کی نیند سو رہے ہیں. گارڈز کو سرونٹ کوارٹرز بھیج کر وہ خود دادا سرکار کے روم میں آگیا. ہر چیز اسکے چوائس کےمطابق تھی. کوٹ صوفے پر پھینک کر شوز نکال کر رینک میں رکھ دئیے. 


اس نے ڈنر بھی نہیں کیا تھا. اور اسکی بھیجی گئی ملازمہ بھی سو چکی تھی. عنایہ کو بھی وہ اس کے روم میں بجھوا چکا تھا. 

موبائل اٹھا کر اپنا مطلوبہ نمبر ڈائل کیا.

بیل جارہی تھی مگر جواب ندارد......


"یہ لڑکی کتنا سوتی ہے. کھانا تو تم ہی لا کر دوگی بےبی ."  ایک دفعہ پھر سے نمبر ڈائل کیا اور آخری بل پر کال پک کر لیا گیا.  


"ہیلو!! نیند سے بوجھل خمار بھری آواز

 میں کہا گیا۔


"آہل یزدان اسپیکنگ!!!!!  دوسری طرف سے بھاری گھمبیر آواز میں کئے گئے تعارف پر اسکی نیند بھک سے اڑ گئی.جیسے کسی نے سماعتوں میں پگھلا سیسہ انڈیلا ہو۔ موبائل کان نے ہٹا کر بدحواسی کی کیفیت میں سکرین پر نظریں گاڑھے فق چہرے کے ساتھ بیٹھ گئی. 


"ابھی تو صرف آواز سن لی اور یہ حال ہے تمہارا،پسینے چھوٹ گئے۔ روبرو دیکھ کر کہیں ہواس کھو نا دینا...."

دوسری طرف سے ٹھٹھرا دینے والے سرد لہجے وار کیا گیا۔


"آآپ !!!!  کک_ کیا بات ہے ؟؟ اور اتنی رات کو کیوں فون کیا؟؟" زر کے ہاتھ پیر پھول گئے.


"تمہاری یاد آرہی تھی۔ یہی سنا چاہتی ہو؟؟

ہاہاہاہاہاہا۔ ویسے ڈئیر!! تم میری ٹائپ کی ہو نہیں, بس حویلی کی شریف زادی ہو نا تو تم بس ایک مہرہ ہو میرے لئے، نتھنگ مور......" آہل کی بات سے اسکے دل میں درد کی ٹھیس اٹھی۔


"بکواس بند کرو. شرافت سے بتاؤ ورنہ میں نے موبائل سوئچڈ آف کرنا ہے". زرغونہ اپنی اس قدر تذلیل پرسیخ پا ہوگئی. 


"سوچنا بھی مت۔" ورنہ تمہارا روم بغل میں ہی ہے ۔ایک سیکنڈ نہیں لگے گا وہاں آتے ہوئے اور تمہارے ہوش ٹھکانے لگانے." کرختگی سے کہہ کر 

اسے وارن کیا۔


"مم۔مطلب آپ حویلی آگئے ہیں؟"زرغونہ کا حلق سوکھ گیا. 


" ہاں....!!  بھوک لگی ہے مجھے کھانا گرم کرکے لادو میرے روم میں. جانتی ہو نا تم, میں حویلی کے کسی بھی شخص کو بھروسے کے قابل نہیں سمجھتا ,سوائے دادا سرکار کی لاڈلی پوتی کے" اہل نے ڈھٹائی کی حد کردی۔


" زہر نا لاکر دوں آپکو.. اور میں اس وقت آپکے روم میں کیوں آوں. آپکی نوکر نہیں ہوں میں. اور کہاں گئے آپکے وہ وفادار ملازم!! ان کو

 بول دے"

 "حویلی کی باقی افراد کی طرح میں بھی آپکو نہیں جانتی. سمجھے...  اور جتنا زیادہ آپ نے میرا جینا ان چند مہینوں میں دوبھر کر رکھا ہے یہ بات ذیادہ دیر تک چھپ نہیں رہ سکتی" آہل کی حویلی میں موجودگی کا سن کر زر کی خواس منجمد ہوگئے۔۔اوپر سے آتے ہی فرمائشیں شروع کردی۔


" ہاہاہاہاہاہا.. جان جاوگی بہت قریب سے اب، پاس جو آگیا ہوں. اتنی جلدی بھی کیا ہے. پہلے کھانا لادو.  دادا سرکار کے روم کا انتخاب میں نے کیوں کیا تھا, یہ تم اچھے سے جانتی ہو، کیوں کہ یہ روم تمہارے روم کے ساتھ ملحق ہے.

 اگر سات منٹ میں مجھے کھانا نہیں ملا تو اگلے آٹھویں منٹ میں, میں تمہارے روم میں ہوں گا. تمہارے علم میں اضافہ کرکے بتاتا چلوں کہ میں نے حویلی کے ہر روم کی ڈوپلیکیٹ کیز بنوائی ہوئی ہے۔  تو کوئی ہوشیاری کرنے کی سوچنا بھی مت۔ اور یہ سب کروانا میری قابل پی اے کے لئے ہرگز مشکل نہیں تھا. اور تیسری بات میں نے تمہارے منہ پر قفل تھوڑی لگایا ہے کہ میری شناخت چھپاؤ. ایکسپوز کردو مجھے۔  آغاز تم کرو، انجام میں کروادوں گا." آہل کی بات پر زر پور پور کانپ اٹھی۔ 


" ڈور اوپن رکھنا.. میں دروازے میں کھانا رکھ کر واپس چلی جاؤں گی." مجبوراً اس نے خامی بھری ورنہ آہل جیسے بے لگام گھوڑے سے کیا بعید , واقعی اسکے روم میں گھس نا جائے..


"گڈ... یہ ہوئی نا عقل مندوں والی بات!! اب جلدی کرو. میں ذرا بھوک کا کچا ہوں."  آہل نے اسے مزید سلگایا.


کال کاٹ کر بالوں کا جوڑا بنا کر دوپٹہ سر پر اوڑھا کر وہ دبے پاؤں کچن میں چلی آئی. ایک ایک برتن اٹھا کر چیک کیا کھانا ختم ہوگیا تھا  "اب میں اس وقت کیا بناؤں. اور اگر کوئی برتنوں کی شور کی آواز سن کر جاگ بھی گیا تو میں کیا جواب دوں گی. رات کو تو سب کے سامنے اتنا سب کچھ ٹھونس کر کھا چکی ہوں."


 چائے بنا کر دو تین کباب فرائی کرکےٹرے میں رکھ کر وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ کر واپس 

اوپر آگئی اور آہل کے روم کے دروازے پر ہاتھ رکھ کر دروازہ کھولنا چاہا، کہ اگلے پل اسکا ہاتھ کھینچا گیا اور وہ روم کے اندر موجود تھی. یہ سب پلک جھپکتے ہوا کہ اسے سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ آہل نے اسے بازو سے پکڑ کر اسکی بھاگ جانے کی کوشش ناکام بنا دی تھی. 


" یہ کیا بدتمیزی ہے." یہ روم میں اتنااندھیرا کیوں کیا ہوا ہے؟  لائٹ آن کردے پلیز."  زرغونہ سرتاپا لرز رہی تھی. رات کے اس پہر اس شخص کے روم میں وہ اسکے اتنے قریب کھڑی تھی. 


"کھانا ختم ہوگیا تھا یہ چائے اور کباب فرائی کرکے لائی ہوں اسی پر گزارا کرلو" خود کو چھڑانے کی کوشش کرتی وہ دوبارہ بول اٹھی. مگر آہل کے انگلیاں اس کے بازوؤں پر رینگنے لگی۔


"آپکے پاس وہ لڑکی..." زر نے اسکی گستاخانہ خرکتوں کے پیش نظر بات ادھوری چھوڑ دی. 


"لڑکی کو چھوڑ دو مجھ پر دھیان دو." اسکے ہاتھوں کی لغزش محسوس کرکے آہل نے  ترس کھا کر ایک ہاتھ سے ٹرے لیکر ٹیبل پر رکھ دیا.  جبکہ دوسرے ہاتھ سے اب بھی اسکی کلائی کو پکڑا تھا.


"آہل چھوڑو مجھے !! میرا ہاتھ دکھ رہا ہے." زرنے منت بھرے انداز میں کہا.


جبکہ وہ سب کچھ نظر انداز کرکے اسکی جسم سے اٹھتی دلفریب خوشبووں میں کھویا ہوا تھا.

"آہل !!! آہل کے مسحورکن پرفیوم کی مہک نتھنوں سے ٹکرائی تو منمنائی.


"شششش...." اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروایا.


 اور تھوڑا سا جھک کر  اسکی گردن سے دوپٹہ سائیڈ پر کرکے اس کے گردن میں منہ چھپا لیا ۔

"مجھے عورت کے جسم میں کوئی انٹرسٹ نہیں مگر پتہ نہیں تمہاری قربت میں کیا جادو ہے کہ ہر بار میں اپنے اصول توڑ دیتا ہوں" 


"سسس...." یہ صحیح نہیں ہے پلیز دور ہٹے" زر نافہم نگاہوں سے اسکی طرف دیکھنے لگی۔ مگر اندھیرا ہونے کی وجہ سے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ سوائے اسکے منہ سے نکلنے والے سرگوشیوں کے۔ اسکے سینے پر ہتھیلیاں جما کر دھکا دے کر پیچھے دھکیلا. اور اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹ کر دروازہ کھول کر اپنے روم میں پہنچ کر دروازہ اندر سے لاک کر دیا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی. 


 وہ کون سا منحوس لمحہ تھا جب وہ اس بےباک شخص سے ٹکرائی تھی جس کا پچھتاوا اب اسے عمر بھر ہونا تھا. اپنے گردن پر اسکا دہکتا لمس وہ اب بھی محسوس کر رہی تھی. یہ شخص اس حد تک جاسکتا ہے وہ نہیں 

جانتی تھی۔ 

"اگر میں اس طرح خاموش رہ کر اسکی پذیرائی کرتی رہی تو جذبات کے لاوے میں بہہ کر ایک دن خود اپنا نقصان کروادوں گی. اس سے بہتر ہے کہ سب گھر والوں کو اعتماد میں لے کر سچ بتادوں." وہ سوچنے لگی۔


                     •••••••••••••••••••••••••

"یہ تو صرف ٹریلر تھا بے بی.!! پوری فلم تو ابھی باقی ہے. ایسے ہی سسکتےسسکتے  تڑپاوں گا تمہیں. جس دہری اذیت سے تمہارے گھر والوں کی طرف سے میں دوچار تھا، اب تم  ساری رات کروٹیں بدلتے گزاروگی.  چین کی نیند تمہیں بھی سونے نہیں دوں گا. جو کچھ میں نے جھیلا ہے, میرے تکلیف کے مقابلے میں یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ " آہل کمینگی سے  ہونٹوں پر زبان پھیر کر مسکرایا اور چائے کباب سے لطف اندوز ہونے لگا.  

            °°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ڈائیننگ ٹیبل پر ایاز میر کے ہمراہ حویلی کے سب چھوٹے بڑے ناشتے میں مصروف تھے. جبکہ دوسری طرف کچن میں موجود آہل کی ملازمہ بڑی پھرتی اور مہارت سے آہل کے لئے ناشتہ بنانے میں مصروف تھی. سویرے ہی سب کو آہل کی حویلی میں موجودگی کا علم ہوگیا تھا.  سب اسے ایک نظر دیکھنے کو بے تاب تھے، جبکہ موصوف خود جاگنک کے لئے صبح کے گئے, ابھی تک لوٹے نہیں تھے.  سب کے برعکس زرغونہ جلدی جلدی ناشتہ ٹھونس رہی تھی وہ رات کی تاریکی میں اس سے مل چکی تھی۔ مگر دن کے اجالے میں اسکا سامنا کرنے کی اس میں ہمت نہیں تھی. 


"بیٹا دھیان سے....!!  ٹرین تو نہیں چھوٹ رہی نا؟" سلطان میر نے اپنی سدا مستقل مزاج بھتیجی کو کن اکھیوں سے دیکھ کر پوچھا جو خواس باختگی کے عالم میں بڑے بڑے نوالے بمشکل خلق سے اتار رہی تھی. 


"جی چچا سرکار !! وہ آج ہمارا ایک امپورٹنٹ اسائمنٹ جمع کروانے کی آخری تاریخ ہے اسلئے ہمیں جلدی یونیورسٹی پہنچ کر سبمٹ کروانا ہے. " زرغونہ نے جھوٹا بہانہ گھڑا. اور ٹشو سے ہاتھ صاف کرکے اٹھنے لگی کہ سنگ مرمر کی فرش پر بھاری بوٹوں کی آواز سے وہ اپنی جگہ جم گئی. سب کی متخیر نظریں ڈائیٹنگ روم کے داخلی دروازے کی طرف اٹھتے دیکھ کر اسے جیسے سانپ سونگھ گیا. 


 جاگنگ سوٹ اور شوز میں ملبوس,  پسینے سے شرابور , چوڑے جسامت کا مالک آہل یزدان ہاتھ میں اورنج جوس کا گلاس پکڑے دوسرے ہاتھ سے کندھے پر رکھے چھوٹے سے ٹاول سے چہرے کا پسینہ صاف کرتے, اردگرد سے بے نیاز  پی اے کیساتھ محو گفتگو اندر کی طرف قدم بڑھا رہے تھے. اور یہ قدم جیسے زرغونہ کو اپنے دل پر پڑتے محسوس ہو رہے تھے. ڈائیننگ ہال کے دروازے پر ایک اور ہستی نے بھی اسے جوائن کیا.


" ما شاءاللہ!! جیسا سوچا تھا اس سے بڑھ کر ہینڈسم ہے جناب. ثانی یوسف۔ ویسے یہ ساتھ میں اتنی خوبصورت چڑیل کون ہے." پاس بیٹھی سوہا کی ستائش بھری نظریں آہل کے کسرتی بدن پر مرکوز تھی. جبکہ یہی حال وہاں سب موجود لوگوں کا تھا سوائے حویلی کے ایک فرد کے جو پورے انہماک سے ناشتے کے پلیٹ پر جھکی ہوئی تھی، جسے کوئی فرق ہی نا پڑا ہو۔ اور وہ تھی ان سب کی پھپھو عاتکہ میر....


"گڈ مارننگ ایوری ون!! میں نے تو سنا تھا حویلی والے بڑے مہمان نواز ہوتے ہیں.  پہلے مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں پھر خود پیٹ پوجن کرتے ہیں. مگر یہاں تو لگ رہا ہے کہ آپ لوگوں نے ناشتہ تقریباً ختم کر لیا ہے.. چلو ہم کون سا مہمان ہے گھر کے فرد ہی ہیں."  طنزیہ تیر چلانے کے بعد کسی کی طرف دیکھے بغیر ہی وہ سیدھا زر کے قریب آیا.


" ایکسکیوزمی !! زر جو چئیر سے اٹھ کر جانے والی تھی مگر آہل کی آمد سے اب چئیر کے سہارے کھڑی تھی ، کہ اس نے مخاطب کیا. 

 

"آپ ہاتھ ہٹانے کی زخمت کرکے ہمیں بیٹھنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے." زر کے کملاتے مرجھائے چہرے پر نظریں گاڑھے وہ بول اٹھا۔ سوجی ہوئی سرخ آنکھیں رت جگے کی چغلی کھا رہی تھی۔


کچھ لمحوں کی دیر تھی زر نے بوجھل اعصاب کے سنگ نظر اٹھا کر اپنے سامنے موجود حسن بے مثال لئے شخص کو دیکھا، جو آنکھوں میں فاتحانہ چمک لئے اسے ایکسرے کرتی نظروں سے دیکھ رہا تھا. اور وہ صرف اسے آنکھوں سے ہی پہچان سکی جو وہ بار بار دیکھتی. گرے قاتل آنکھیں.. جو کسی کو بھی تسخیر کرنے کا ہنر رکھتی ہے. یقیناً وہی تھا آہل یزدان.. سحرانگیز شخصیت کا مالک, صاف شفاف ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے چمک رہے تھے ایک پل کو اسکا دل دھڑکا گئے.. وہ پلک چھپکائے بغیر آہل کو دیکھ رہی تھی جو واقعی اپنے حسن پر نازاں دکھائی دے رہا تھا. 


"چلو آپی دیر ہو رہی ہے." اسامہ نے اسکی محویت توڑ دی تو حقیقت کی دنیا میں واپس آگئی۔ اور چئیر کی پشت سے ہاتھ ہٹا کر دو قدم پیچھے ہوگئی..


آہل اسی چئیر پر بیٹھ گیا تو ملازموں کے دوڑیں لگ گئی. اور چند سیکینڈز میں ٹیبل پورا بھرپور لوازمات سے بھر دیا گیا. 


"یہ انسان ہے کہ حیوان !!!  اتنا کچھ اکیلے ٹھونسے گا." شزا نے جاتے ہوئے سوہا کے کان میں سرگوشی کی تو وہ بھی کندھے اچکا کر کھڑی ہوگئی. اور سب ینگ پارٹی یونیورسٹیوں کے لئے نکل گئے. لیکن جاتے جاتے زر نے ایک سرد پتھریلی نظر آہل کے پہلو میں بیٹھے وجود پر ڈال کر کلس کر رہ گئی.  جس کو آہل نے کھوجتی نگاہوں سے دیکھا بھی اور محسوس بھی کیا۔ اب صرف گھر کے بڑے بزرگ موجود تھے۔ جن کی تنقیدی اور تجسّس بھری نظریں آہل یزدان اور اس کے ساتھ بیٹھی حسین ترین دوشیزہ پر مرکوز تھی. جو پورے استحقاق کیساتھ ناشتے میں مصروف ہوچکا تھا. اور اچھنبے کی بات یہ تھی کہ اسکی پی اے کیساتھ ملازمہ بھی ارد گرد کرسیوں پر بیٹھ کر اسکے ساتھ ناشتہ کرنے لگے.  عاتکہ نے داد بھری نظروں سے اسے دیکھا.. "تربیت بولتی ہے."  بابا سرکار بھی گھر کے ملازمین کو ساتھ بٹھا کر کھانا کھاتے تھے.. مگر ان کے اپنے گھر والے یہ روایت توڑ چکے تھے.. 


اذلان اور حدید پہلی نظر میں آہل کو پہچان چکے تھے وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں تھا. آہل کی کمپنی کی ساتھ  ازلان اور حدید نے ایک بار ایک پروجیکٹ پر کام بھی کیا تھا. انہوں نے دوبارہ بھی پیش کش کی تھی مگر آہل نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ لوگ ابھی بزنس کی دنیا میں نئے منظر پر آئیے ہیں, اسلئے بغیر کسی بڑے حوالے اور سہارے کے خود کو منوانا سیکھ لے.. قدر و منزلت بغیر کسی محنت کے ہاتھ نہیں آتی. دونوں کا انداز آہل سے بس لیا دیا سا تھا. نا نفرت بھرا نا اپنائیت والا ۔۔۔۔۔


             °°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

آہل پورا دن زر کے حواسوں پر چھایا ہوا تھا. وہ جب تک یہاں تھا زر کو اس سے کسی قسم کی رعایت کی امید نہیں تھی. اور اس کے ساتھ وہ لڑکی اس کی سوچوں کا محور تھی. سو اس نے خود سے عہد کیا کہ وہ اہل کا سامنا بہت کم کرے گی. اور اس لڑکی کو وہ آہل کے آس پاس بھٹکنے بھی نہیں دے گی. مگر  یہ اسکا وہم ثابت ہونے والا تھا کیونکہ آہل یزدان ایک بار کسی کی دم پر پاؤں رکھے اسے اتنی آسانی سے اٹھاتا نہیں.. 


ڈنر کرتے وقت بھی زرغونہ جلدی جلدی ہاتھ چلا رہی تھی ، یا شائد خدا کو بھی اس پر رحم آگیا تھا کہ وہ ڈنر کے وقت موجود نہیں تھا.. تشکر بھرا سانس خارج کرکے وہ اپنے روم میں چلی آئی اور دروازہ بند کرکے اسائمنٹ لکھنے بیٹھ گئی..


 سوہا،شزا ،اور اسامہ حسب معمول ہال میں بیٹھے مووی دیکھنے لگے, کہ آہل تھکا ہارا ہال میں داخل ہوا. وہاں صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گیا تو  ملازمہ جلدی سے پانی کا گلاس پکڑے خاضر ہوگئی۔


"اس روبوٹک ملازمہ پر وحی نازل ہوگئی کیا کہ انکے بگڑے رئیس زادے صاحب کی آمد ہوگئی، جو بوتل کے جن کی طرح خاضر ہوگئی. " شزا نے بڑبڑا کر کہا جو صرف پاس بیٹھے نفوس نے سنا۔


" آہل بیٹا کھانا..." 

 ملازمہ نے مؤدب ہوکر کہا۔ جبکہ پی اے رات کو اپنے گھر جاتی اور صبح ناشتے سے پہلے آتی..


"کھا کر آیا ہوں بی اماں !! بس ایک کپ سٹرونگ سی چائے بنا کر لاؤ. اور عنایہ نے ڈنر کیا تھا نا؟؟ آہل نے اپنے دکھتے سر کو دبایا۔


" جی بیٹا!! میں نے زبردستی کروایا تھا. آپکے بغیر کھانا نہیں چاہتی تھی.' ادھیڑ عمر ملازمہ کہہ کر جانے لگی. 


"بیٹا.."  " اماں.." اتنی ریسپیکٹ وہ بھی ملازمہ کی, یہ کچھ ذیادہ نوکروں کو بھاؤ نہیں دے رہا.  ویسے سر درد تو ہونا ہی ہے. انسان نا ہوا کوئی پیسہ بنانے کی مشین ہوگئی. اب سارا دن ادھر ادھر سر کھپائے گا تو تھکان تو ہوگی..." شزا کے ریمارکس سن کر اسامہ نے اسے تنقیدی گھوری سے نوازہ.  وہ آہل کی صلاحیتوں کا بڑا فین تھا مگر کسی کے سامنے ظاہر نہیں کر رہا تھا.کیونکہ سب کے دلوں میں آہل کے لئے ناپسندیدگی تھی. 


 سب پر ایک اچٹتی نظر ڈال کر  آہل صوفے کی پشت پر سر ٹکا کر سنجیدگی سے بیٹھا تھا. سوچوں کا محور زرغونہ ہی تھی اور شائد نہیں یقیناً وہ اس کا سامنا کرنے سے کتراتے ہوئے اپنے روم میں  نظربند ہوگئی تھی.  آہل کی سنجیدگی پل بھر میں دور ہوگئی. موبائل نکال کر مسیج ٹائپ کرکے سینڈ کردیا. 


"" ڈنر تو میرے بغیر کرہی لیا ہے اب چائے پینے میں کمپنی دو """


زر جو آلتی پالتی مارے بیٹھی اسائمنٹ لکھنے میں مصروف تھی میسج نوٹیفکیشن پر موبائل چیک کیا تو غصے سے لال بھبھوکا ہوگئی. 


" آپ کون سے میرے مامے یا چاچے کے بیٹے ہو جو آپکو کمپنی دینے آجاؤں.. بھاڑ میں جائے آپ اور آپ کی چائے.. مجھے ڈسٹرب مت کریں میں اپنا اسائمنٹ لکھ رہی ہوں. " زر نے ریپلائے دیکر موبائل واپس رکھ دیا. 


توقع کے مطابق جواب ملنے پر وہ مسکرایا..

" میری شیرنی."

 اور دوبارہ ٹائیپنگ سٹارٹ کردی.


"شزا !! تجھے کیا لگتا ہے ان جیسے دنیا سے الگ تھلگ اپنے خول میں بند  رہنے والے مشین کی کوئی گرل فرینڈ بھی ہوگی. دیکھو کیسے مسکرا کر کچھ ٹائپ کر رہا ہے."  اب سوہا کی تفتیشی نظریں آہل کے چہرے کا طواف کر رہی تھی. وہ بھی ایک انجانی کشش کے زیرِ اثر اہل میں دلچسپی رکھنے لگی تھی۔


"" تم شائد بھول گئی کہ یہاں تم مکمل میرے رحم و کرم پر ہو. اگر تھوڑی سی بھی ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی تو خود کا تماشا بناوگی. میں دوبارہ بولوں گا نہیں وہاں تمہارے روم میں آکر چائے ساتھ پی لیں گے, اور پھر ساتھ میں اور بھی بہت..... مجھے تو کوئی اعتراض نہیں""" آہل نے بات ادھوری چھوڑ کر میسج سینڈ کردیا. 


"کیا پتہ بہن ہو یا موم بھی تو ہو سکتی ہے. ضروری تو نہیں کہ گرل فرینڈ چہرے پر بشاشت لاسکتی ہے. اور وہ جو ساتھ میں حور پری کو لایا ہے کیا پتہ وہی کوئی گرل فرینڈ ہو یا بیوی " شزا نے سوہا کی بات کی تردید کی.. وہ لوگ دیکھ تو مووی رہے تھے مگرآج کل  فوکس گھر میں چلنے والا رئیل ڈرامہ تھا..


"یا اللّٰہ!!  یہ شخص مجھے ذلیل کروا کے چھوڑے گا. "موبائل بیڈ پر پٹخ کر وہ چپل پہن کر نیچے آئی.  اور ہال میں موجود تمام نفوس بمعہ آہل, کو اگنور کرکے  ڈائریکٹ کچن میں چلی گئی اور ناچاہتے ہوئے بھی اپنے لئے چائے بنا دی. 


آہل کی چائے تیار ہوگئی تھی. کپ ہاتھ میں پکڑے اسی کا ویٹ کر رہا تھا.


"آپ کب آئے ؟؟  اور مجھے بلایا کیوں نہیں؟ اس چڑیاگھر میں تو کھانا بھی نہیں کھایا جاتا." آہل کو دیکھ کر عنایہ کی آنکھوں کی چمک گہری ہوگئی اور پاس آکر اسکے ساتھ صوفے کے ہینڈل پر اسکے کندھے پر سر رکھ کر بیٹھ گئی. آہل کو اسکی یہ نازیبا حرکت ایک آنکھ نہیں بھایا اسکو دور کرنے کے لئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ زر  کو سیڑھیاں اترتے دیکھ کر ارادہ منسوخ کرکے پہلوؤں میں ہاتھ گرا لیا ۔

"تھوڑی سزا تو بنتی ہے."


وہ سیدھی کچن میں گئی اور اپنے لئے چائے بنا کر لائی تو سب سے پہلے اسامہ کی نظر اس پر پڑی.


"یار آپی!!! اتنا من کر رہا تھا چائے پینے کا, اگر اپنے لئے بنانا ہی تھا تو ہمارے لئے بنانے میں کیا حرج تھا."


"وہ میں اسائمنٹ لکھ رہی تھی تو سر میں تھوڑا درد ہورہا تھا اس لئے بنا دی."  آہل کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھ کر چائے کا گھونٹ بھر لیا جو اس وقت اسے زہر کا کڑوا گھونٹ لگا. جبکہ اس کے برعکس آہل کے چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ نمایاں ہوگئی.


"ویسے کافی فرمانبردار ہو,  اور سمجھدار بھی" آہل نے کان کجھا کر سرگوشی نما آواز میں کہا.


"آپ سے مطلب..." زر نے عنایہ پر ناپسندیدہ نظر ڈال کر دانت پیسے. 


" مطلب تو سارے مجھ سے ہی نکلتے ہیں.. آفٹر آل اس حویلی کا مالک جو ٹھہرا ."  آہل نے قدرے تحکم لہجے میں بہت کچھ باور کروا دیا اور ساتھ میں عنایہ کا سر اپنے کندھے سے ہٹایا. 


"زر !!! " تم ادھر کیا کر رہی ہو, جاؤ اپنے روم میں. " ابھی زر اسے اسکی پست ذہنیت پر جلی کٹی سنانے والی تھی کہ زر کی ماں ثوبیہ بیگم نے اسے آہل کے ساتھ بات کرتے دیکھ کر غصیلی آواز میں پکارا..


"جی مما !!! وہ چائے کا خالی کپ زور سے ٹیبل پر رکھ کر ایک سخت غصیلی نظر آہل اور عنایہ پر ڈال کر چلی گئی. 


"اور تم لوگ ابھی تک یہاں مخفل جما کر بیٹھے ہو,اٹھو یہاں سے سب".  ایک ایک کرکے سب جانے لگے تو اسامہ نے جاتے وقت ثوبیہ بیگم سے نظر بچا کر آہل کی طرف مسکراہٹ اچھالی۔ جواب میں آہل کے ہونٹ تعجب سے پھیلے. امید جو نہیں تھی اس پیش قدمی کی..


 ثوبیہ بیگم بھی مطمئن ہوکر چلی گئی. 


"بڑے پاپڑ بیلنے پڑیں گے منزل مقصود تک پہنچنے میں آہل بیٹا. جس کے سہارے آیا تھا وہی بھاؤ کھا رہی ہے۔ باقی تو خدا حامی و ناصر ہو. " آہل پیچ و تاب کھا کر رہ گیا اور کوٹ اٹھا کر اپنے روم کی طرف بڑھ گیا.


"چلو اپنے روم میں جاکر سو جاؤ. اور ٹائم سے یونیورسٹی کے لئےاٹھنا. مجھے انتظار نہیں پسند. اور ایک بات اور.... کھانا وقت پر کھانا. میں آؤں یا نہیں. اور ابھی جو حرکت کی بھری مخفل میں, دوبارہ نا ہو ورنہ جانتی ہو مجھے. جس طرح سب کی نگاہیں ہمارے طرف اٹھی تھی۔ دیکھ لی میں نے۔  اپنی طرف اٹھنے والی انگلی کو میں دوبارہ اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑتا." آہل نے کرختگی سے وارن کیا.


اور زر کے روم کے سامنے سے گزرتے ہوئے قدم رک گئے. پھر سر جھٹک کر آگے بڑھا.

                  ••••••••••••••••••••••

"بابا مجھے وہی بائیک چاہئے. کب سے بول بول کر تھک گیا ہوں, آپ بس ہاں بول کر بھول جاتے ہیں. " اسامہ نے صبح ناشتے کے ٹیبل پر ایک بار پھر نئی سپورٹس بائیک کا ذکر چھیڑا. 


"امان !! میرے بچے کی اتنی سی فرمائش بھی آپ پورا نہیں کر سکتے۔ ایک ہی تو بیٹا ہے ہمارا"  اسکی ماں منیزہ نے اپنے بیٹے کی وکالت کی. 


"یار وہ فرمائش بھی تو لاکھوں کی چیز کا کر رہا ہے نا.. اس کے لئے کوشش تو کر رہا ہوں. اب جیب میں اتنی گنجائش ہی نہیں." امان میر نے مفلسی کا رونا رو کر جیسے قصہ ہی ختم کردیا. 


"ہاں ہم مڈل کلاس لوگ ہیں نا اس لئے گنجائش نہیں ہے." اسامہ نے ناشتے کی پلیٹ دور کھسکا کر  ایک زہریلی نظر باپ پر ڈال دی اؤر بغیر ناشتے کے کھڑا ہوکر جانے لگا. اس کی آخری بات ڈائیننگ ہال میں داخل ہوتے آہل نے بھی سنی مگر وہ ان سنی کرکے آگے بڑھا. جبکہ اس کے اس طرح روٹھ کر جانے پر کسی کو کوئی فرق نہیں پڑھا.. سب اپنے اپنے ناشتے میں مگن تھے..


"سیلفش پیپل..." اربوں کی جائیداد ہے اور بچوں کو چھوٹی چھوٹی آسائشیں فراہم کرنے میں جان جاتی ہے." آہل کے لب متحرک ہوئے. 


          •••••••••••••••••••••••••••••••••

آفس کے لئے تیار ہوکر وہ روم سے نکلا تو زر کے روم کی دوسری طرف روم سے اسامہ یونیورسٹی کے لئے تیار ہوکر نکل رہا تھا. آہل کو دیکھ کر وہ رک گیا.


" آپ کیا کھاتے ہیں؟؟ وہ جو اسامہ کر یکسر نظر انداز کرکے گزرنے والا تھا. حلاف توقع پوچھے گئے سوال پر اچھنبے سے اسکی طرف رخ موڑا. 


"مطلب" آہل نے آئی برو اچکائی.


"مم۔میرا مطلب ہے۔کوئی اتنا حسین اور فٹ کیسے ہوسکتا ہے. یقیناً کچھ خاص کھاتے ہوں گے" اسامہ نے معصومیت کی انتہا کردی۔


آہل کو اس طرح صاف گوئی کی قطعی امید نہیں تھی. لب متبسم ہوئے.


"میں ایک خوبصورت لڑکی کا خون پیتا ہوں"

زر کے روم کا دروازہ کھلا تو اس کو سنانے کے لئے سرد برفیلے لہجے میں جواب دیا. 


"کک۔ کیا مطلب؟؟ اسامہ کے ہاتھ پیر پھول گئے. 


"مطلب کبھی فرصت میں سمجھا دوں گا۔

 ابھی مجھے دیر ہو رہی ہے.." زر پر ایک گہری نظر ڈال کر وہ چلا گیا.


"کیا بول رہا تھا؟ اور تم ایک ہی دن میں اس کے ساتھ اتنے فرینک کیسے ہوگئے؟؟ زر تفتیشی افسر کی طرح پوچھ تاچھ کرنے لگی.


"کچھ نہیں. میں نے بس ویسے پوچھا کہ آپ کیا کھاتے ہیں جو اتنے پیارے ہیں. تو بولے ایک خوبصورت لڑکی کا خون پیتا ہوں. عجیب سا پرسرار بندہ ہے۔ سیدھے منہ جواب ہی نہیں دیا.  ویسے آپی اچھا لگتا ہے. اپنا اپنا سا.." اسامہ کی نظریں آہل پر ٹکی ہوئی تھی جو اب سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا ہے۔۔


"اف میرے اللّٰہ!! اسامہ پاگل ہو تم.. کچھ بھی بول لیتے ہو۔ کسی کو بھنک بھی لگ گئی نا تو پاپا نے آپکا سر منڈوانا ہے. آئیندہ بات کرتے نا دیکھوں ان کے ساتھ." زر  لب بھینچ کر رہ گئی۔


" آپی!! ویسے یہ سچ میں خون پیتے ہیں کیا.؟؟ چہرے پر تو مذاق کی ہلکی سی رمق بھی موجود نہیں تھی". اسامہ کی سوئی وہی اٹکی ہوئی تھی.

زر کو زور کا اچھو لگا.


"جس طرح  دو دن میں ہمارا منوں خون جلایا ہے نا اس طرح کسی اور کا بھی پیتے ہوں گے۔ ڈفر انسان اس کو کیوں بتایا کہ پیارے ہو." زر کو کم از کم اسامہ سے اس حماقت کی امید نہیں تھی..


" مجھے تو اذلان اور حدید بھائی جیسا لگا. بلکہ ان سے بھی ذیادہ ہینڈسم ہے. تو بتا دیا. " ا

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Novel Name : روح_یارم

EPISODE=1&16 یہ منظر دبئی کے بہت بڑے شہر راس الخیمہ کا ہے ۔اس شہر کو راس الخیمہ اس لیے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں خیموں سے مشاہبت رکھنے والے چھوٹے چھوٹے مکان ہیں  جو ساحل سمندر پر موجود ہیں ۔ وہ اس طرح کے چھوٹے چھوٹے کام کرنے کے لیے خود نہیں آتا تھا لیکن اس وقت سوال اس کے لایفٹ ہینڈ شارف کا تھا  وہ جو بچپن سے اس کے ساتھ تھا اس کے ہر کام میں برابر کا شریک ۔ آج وہ اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا وہ اس وقت دبئی کی ایک بہت بڑی جیل میں تھا ۔اس کا وفادار ساتھی اس پر جان نچھاور کرنے والے کو وہ اس طرح سے نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔ یہ سچ تھا کہ ڈان کو اس سے کوئی محبت نہ تھی اس کے ساتھ کوئی دلی وابستگی نہ تھی مگر   وہ اس کے لئے جان دینے کا حوصلہ رکھتا تھا اور ڈان کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت تھی ۔ رات  ایک بجے کا وقت تھا راس الخیمہ شہر دن میں جتنا ویران اور خاموش ہوتا رات میں اتنا ہی روشنیوں سے بھرا ہوتا ۔ اور ڈان اکثر اپنے کام روشنیوں میں کرنے کا عادی تھا کیونکہ اسے پتہ تھا ۔کہ گناہ کار کو اس کا گناہ نہیں بلکہ گناہ چھپانے کا طریقہ مار دیتا ہے  اس لیے وہ جو بھی کرتا کھلے عام...

Novel Name میرے نصیب

EPISODE=1 واٹ...  وکیل صاحب  بابا سرکار ایسا کیسے کر سکتے ہیں. جب حیات تھے تب ماہانہ لاکھوں اس منحوس کے اکاؤنٹ میں جمع کرواتے. اور اب وفات پا گئے, تو ہم سمجھے یہ چیپٹر کلوز ہوگیا ہوگا. مگریہاں تو اس کو آدھی وراثت کامالک بنا دیا گیا ہے. آخر کون ہے یہ آہل یزدان نامی بچھو جو ہمارا ہی حق ڈسے جا رہا ہے. خود تو منوں  مٹی تلے سو گئے بابا سرکار, اسے ہمارے سروں پر مسلط کرکے چھوڑ گئے. مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ بابا سرکار نے ضرور خفیہ دوسری شادی کی ہوگی اور یہ آہل نامی بلا اسکا پوتا یا نواسا ہی ہوگا. کس طرح  کھلم کھلا بے انصافی کردی ہے بابا سائیں نے." ایاز میر منہ سے زہر اگل رہا تھا. "نہیں. وصیت کے مطابق عالم میر صاحب نے صرف ایک ہی شادی کی تھی وہ بھی آپ کی اماں حضور سے. مگر اس لڑکے کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں ہے، کہ کون ہے. کہاں سے آیا ہے. اور حاکم سرکار کے ساتھ اس کا کیا رشتہ ہے۔ مگر یہ لیگل کاغذات ہیں جس کے مطابق عالم سرکار کی آدھی جائیداد ان کے تینوں بیٹوں یعنی ایاز میر ، سلطان میر اور سب سے چھوٹے امان میر کے نام ہے. جبکہ آدھا حصہ آہل یزدان کے نام پر." وکیل جغفر قریشی ص...

آزمـؔ͜ــائش محـؔ͜ــبت کـؔ͜ــی

EPISODE 1 & 6 دل کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی باتیں،   خوابوں کی دنیا میں، خوابوں کی راتیں۔   محبت کی خوشبو، وفا کی روشنی،   زندگی کی راہوں میں، چمکتی خوشی۔ چپکے چپکے دل کی دھڑکن سنو،   اس کی خاموشی میں کتنی کہانیاں ہیں۔   رنگ برنگے احساسات کی بوندا باندی،   زندگی کی کتاب میں، یہ سب کہانیاں ہیں۔ خود سے ملنے کا یہ لمحہ خاص ہے،   دل کی وادیوں میں، یہ سفر بے مثال ہے۔   محبت کا چہرہ، دوستی کی روشنی،   دل کی گہرائیوں میں، یہ سب خوشبوئیں ہے    سورج کی اجلی روشنی ہر سو چھائی ہوئی تھی ۔ سردیوں کی ٹھندی ٹھندی ہوائیں بارش کا پتا دے رہی ۔ پنجاب کے اس چھوٹے سے شہر میں یہ ایک چھوٹا سا سکول ہے ۔ جہاں سے بچوں کی پڑھنے کی آوازیں سنائی دیں رہی تھی ۔ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ،  اس کی خوبصورت آواز کا بچوں نے پیچا کیا  "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،  وہ بلیک کالر کے سادہ سے عبائے میں نفاست سے نکاب کیے بچوں کو پڑھا رہی تھی ۔ میم اریشہ ایک سادہ سے خلیہ والی (آیا) نے اسے مخاطب کیا...