واٹ...
وکیل صاحب بابا سرکار ایسا کیسے کر سکتے ہیں. جب حیات تھے تب ماہانہ لاکھوں اس منحوس کے اکاؤنٹ میں جمع کرواتے. اور اب وفات پا گئے, تو ہم سمجھے یہ چیپٹر کلوز ہوگیا ہوگا. مگریہاں تو اس کو آدھی وراثت کامالک بنا دیا گیا ہے. آخر کون ہے یہ آہل یزدان نامی بچھو جو ہمارا ہی حق ڈسے جا رہا ہے. خود تو منوں
مٹی تلے سو گئے بابا سرکار, اسے ہمارے سروں پر مسلط کرکے چھوڑ گئے. مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ بابا سرکار نے ضرور خفیہ دوسری شادی کی ہوگی اور یہ آہل نامی بلا اسکا پوتا یا نواسا ہی ہوگا. کس طرح کھلم کھلا بے انصافی کردی ہے بابا سائیں نے." ایاز میر منہ سے زہر اگل رہا تھا.
"نہیں. وصیت کے مطابق عالم میر صاحب نے صرف ایک ہی شادی کی تھی وہ بھی آپ کی اماں حضور سے. مگر اس لڑکے کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں ہے، کہ کون ہے. کہاں سے آیا ہے. اور حاکم سرکار کے ساتھ اس کا کیا رشتہ ہے۔ مگر یہ لیگل کاغذات ہیں جس کے مطابق عالم سرکار کی آدھی جائیداد ان کے تینوں بیٹوں یعنی ایاز میر ، سلطان میر اور سب سے چھوٹے امان میر کے نام ہے. جبکہ آدھا حصہ آہل یزدان کے نام پر." وکیل جغفر قریشی صاحب فائل ٹیبل پر رکھ کر مزید گویا ہوئے...
"اس حویلی میں وہ برابر کا حصہ دار ہے. اور یہ اس نے تم لوگوں کے نام قانونی نوٹس بھیجوایا ہے کہ وہ بہت جلد یہاں اس حویلی میں کچھ وقت گزارنے آرہا ہے. اگر آپ لوگوں نے اسے روکنے کی کوشش کی تو وہ اپنا حصہ لیکر الگ ہو جائے گا. اور مجھے یقین ہے آپ لوگ ایسا کرنے کے بارے میں سوچیں گے بھی نہیں, کیونکہ جائیداد کا بٹوارہ کرکے آپ لوگوں کے ہاتھوں کچھ بھی نہیں آنے والا. زمینوں اور کارخانوں سے ماہانہ جتنا بڑا پروفٹ آپ لوگوں کے ہاتھوں میں آتا ہے اس میں آہل صاحب کا آدھا حصہ بھی ہوتا ہے. مگر آج تک اسے ایک روپیہ بھی نہیں ملا اور نا ہی اس نے کبھی مانگا ہے۔ اسلئے شرافت کا تقاضا یہی ہے کہ اسے آنے دو اور کیا پتا وہ آپ لوگوں کی اچھائی کا قائل ہوجائے اور اپنے حصے کی جائیداد سے بھی دستبردار ہو جائے. تم لوگ نہیں جانتے کہ آہل یزدان کوئی معمولی انسان نہیں ہے. بزنس کی دنیا کا ایک ابھرتا ہوا تارا ہے وہ. آج تک کوئی پروجیکٹ کوئی ٹینڈر وہ نہیں ہارا. وہ اکیلے ہی مخالف کو چاروں شانے چت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے. یہ جائیداد وغیرہ اسکے لئے کوئی معنی نہیں رکھتے. صرف پاکستان میں ہی نہیں باہر کے ملکوں میں بھی اسکے اثاثے موجود ہے.بس وہ عالم سرکار کی یاد میں کچھ دن یہاں رہنا چاہتا ہے."
"مگر ہمارے گھر میں جوان بیٹیاں ہیں. جو پردہ کرتی ہے۔ اسطرح کسی ایرے غیرے کو ہم کیسے اپنی حویلی میں رکھ کر بھروسہ کرسکتے ہیں". کچھ توقف کے بعد سلطان میر نے اپنا اندیشہ ظاہر کیا.
"بھول ہوگی آپ سب کی کہ وہ آپکی حویلی کے کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کا روداد بھی ہوگا۔ وہ صرف خود کی ذات میں گم رہنے والا بندہ ہے. اپنے آپ کو دیکھتا اور سوچتا ہے. اسے کوئی سروکار نہیں اردگرد کیا ہوتا رہتا ہے, کون لوگ رہتے ہیں .اس کے سر پر عالم سرکار نے دست شفقت رکھا تھا تو خود سوچے اسکا کردارکتنا پختہ ہوگا. تھوڑا سا بدتمیز ہے، اڑیل گھوڑے کی طرح جلدی بدک جاتا ہے, مگر آپ لوگوں کو کونسا اس کے ساتھ رشتہ داریاں نبھانی ہے. کچھ وقت کی تو بات ہے، چلا جائے گا."وکیل صاحب نے فائل ایاز میر کی طرف کھسکایا. اور سب سے اہم بات.....
"اپنے ذاتی کام کرنے کے لئے ان کے ساتھ اپنے ہی ملازم آئیں گے. وہ ہرکسی پر بھروسہ کرنے کا قائل نہیں. کھانا بنانے سے لیکر بیڈروم کی صفائی وغیرہ تک یہ سب کام اسکی پرسنل اسسٹنٹ کی نگرانی میں ہوں گے. سٹاف فیمیل ہی ہوگا."
اب میں چلتا ہوں. وکیل صاحب جانے کے لئے اٹھے مگر کچھ یاد آنے پر کنپٹی پر انگلی رکھ کر واپس بیٹھ گئے.
"بڑے سرکار کے روم میں اس کے رہنے کا بندوبست کیا جائے اور اس کے ساتھ ایک لڑکی بھی ہے اسکے لئے الگ روم سیٹ کرے. حویلی کے پچھلے حصے میں بنے سرونٹ کوارٹرز اسکے
گارڈز اور انیکسی سرونٹس کے لئےکھلوائیں. اور صاف صفائی کروائیں۔ ایسا اس کہنا ہے."
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
عالم میر کے چار بچے تھے. تین بیٹے اور ایک بیٹی. بڑے بیٹے ایاز میر کی شادی عالم میر نے اپنے بڑے بھائی کی بیٹی ثوبیہ بیگم سے کروائی تھی. جس سے ان کا ایک بیٹا اذلان میر اور دو بیٹیاں زرغونہ میر اور سوہا میر پیدا ہوئی. دوسرے بیٹے سلطان میر کی شادی خالہ زاد بہن انیلا بیگم سے ہوئی تھی. جس کا ایک بیٹا حدید میر اور ایک بیٹی شزا میر تھی. تیسرے نمبر پر ایک بیٹی عاتکہ میر تھی جس کی شادی اپنے خالہ زاد الطاف (انیلا بیگم کا بھائی) سے طے پائی گئی تھی مگر کچھ وجوہات کی بنا پر شادی نہیں ہوئی اس کے بعد اس نے شادی ہی نہیں کی. سب سے چھوٹا بیٹا امان میر جو پیشے سے ایک ڈاکٹر تھا اس نےاپنی کولیگ ڈاکٹر منیزہ سے شادی کی تھی اور اسکا ایک بیٹا تھا اسامہ میر۔۔
•••••••••••••••••••••••••••••
عالم میر طویل علالت کے بعد دو مہینے پہلے انتقال کر گئے. بیوی اسکی چھ سال پہلے ہی دنیا چھوڑ چکی تھی۔ انہوں نے اپنی جائیداد بیٹوں کے ساتھ ساتھ ایک اور انجان شخص کے نام کردی تھی ۔جس کے بارے میں سن کر سب کافی مشتعل تھے۔
•••••••••••••••••••••••••••••
"ابھی ابھی میرے گناہ گار آنکھوں نے جو کچھ سنا توبہ توبہ..... تم لوگوں نے سنا تو رونگھٹے کھڑے ہو جائیں گے."
زرغونہ ، سوہا اور اسامہ ہال میں بیٹھے موی دیکھ رہے تھے کہ شزا بھاگتی ہوئی آئی اور صوفہ پر چڑھ کر بیٹھ گئی.
"کیا سنا شزا ؟؟ کانوں سے تو تم ویسے بھی پیدائشی محروم ہو اسلئے آنکھوں سے ہی سنو گی نا , اور دماغ کی دہی مت بنا صاف صاف بول." زرغونہ نے تیکی چتونوں سے اسے گھورا.
شزا کو سب بی بی سی ( BBC) نیوز کہہ کر بلاتے۔ ہر قسم کی سنسنی خیزاور چٹ پٹی خبریں اڑتے اڑتے سب سے پہلے اسکے پاس پہنچ جاتی. جسے وہ مرچ مسالہ لگا کر بڑھا چڑھا کر پیش کرتی.
شزا فائن آرٹس کی سٹوڈنٹ تھی جبکہ سوہا کو لاء پڑھنے کا شوق تھا. زرغونہ جو لڑکیوں میں بڑی تھی وہ سائیکالوجی پڑھ رہی تھی. اذلان اور حدید نے ملکر ایک چھوٹا سا بزنس سٹارٹ کیا تھا جو رفتہ رفتہ ترقی کے منازل طے کر رہا تھا. جبکہ اسامہ انجینئرنگ کا سٹوڈنٹس تھا۔
"دادا سرکار کے وکیل آئے تھے ان کا وصیت نامہ لیکر. میں وہاں سے گزر رہی تھی تو سن لیا ورنہ آپ لوگ تو جانتے ہیں کہ مجھے چھپ کر باتیں سننے کی عادت نہیں. ہاں وہ میں بول رہی تھی
کہ دادا سرکار نے اپنی آدھی جائیداد کسی "آہل یزدان " نامی شخص کے نام کی ہوئی ہے. اور موصوف کچھ عرصہ یہاں حویلی میں رہنے کے لئے تشریف لا رہے ہیں".
شزا نے جو کچھ سنا تھا سب گوش گزار کیا.
"اور بڑے پاپا مان گئے ؟ " سوہا کو اپنے باپ کی ریزورڈ طبیعت کا پتہ تھا. اس طرح کسی باہر والے کا گھر میں داخلہ معیوب سمجھا جاتا تھا. جبکہ آہل نام پر زرغونہ کے ہاتھ کپکپائے اور ریموٹ ہاتھ سے پھسل کر نیچے گر گیا۔ میکانکی انداز میں اپنا ہاتھ چہرے پر رکھا. اسے لگا وہ ابھی بھی آس پاس ہی ہے اور اسکی پرحدت دہکتی سانسوں کی تپش اسکے چہرے کو جھلسا رہی ہے. اس بندے کو ہمیشہ ایک ہی گیٹ اپ میں آس پاس دیکھا تھا. ہڈی پہنے چہرے پر ماسک لگائے ۔ کافی پراسرار سا شخص تھا.
کتنی بار دل نے اسے دیکھنے کی خواہش کی مگر لاکھ کوششوں کے باوجود نہیں دیکھ پائی.
" کیوں نہیں!! حویلی میں تو بھونچال آنے والا ہے. بڑے پاپا نے سوال اٹھایا تھا مگر آہل صاحب شاطر کھلاڑی ہیں۔ قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔ اسلئے چاروناچار اجازت دے دی گئی. بندہ کوئی بڑی وی آئی پی شخص ہے. اور تو اور اپنا سٹاف بھی ساتھ لیکر آرہے ہیں کہ انہیں کسی اور پر بھروسہ نہیں. بھئی اب اتنی بھی کیا بے اعتباری. ہم اسے زہر دے کر اس کی جان لینے سے تو رہے." شزا نے ناک چڑھائی.
"ہمیں کیا. ہم اپنی مووی دیکھتے ہیں." سوہا نے کہہ کر والیوم بڑھا دی جبکہ زرغونہ آنے والےوقت کے بارے میں سوچ کر پریشان سی مراقبے میں چلی گئی ۔
••••••••••••••••••••••
" سر!! جغفر صاحب کی کال آئی تھی. حویلی والے اتنی آسانی سے مان جائیں گے یقین نہیں ہورہا. آپ میٹنگ میں مصروف تھے. اسلئے مجھ سے بات کی۔ اب اگلا حکم کیا ہے ؟؟ کب جانا ہے حویلی کے درشن کرنے." وہ میٹنگ سے فارغ ہوکر آگیا تو اسکی پی اے مس شہرینہ (شہری) نے کافی کا کپ اسکے سامنے رکھ کر اسے انفارم کیا.
"ہممم ....!! نیکسٹ منڈے کو ٹھیک رہے گا.
آپ سب کو مطلع کردیجئے گا." آہل آنکھیں
بند کرکے رولنگ چئیر پر جھولنے لگا. مس شہری اسے سوچوں میں غرق دیکھ کر چلی گئی. ان اٹھائیس سالوں میں دادا سرکار کے بارہا اصرار پر بھی وہ حویلی نہیں گیا مگر اب اسے جانا تھا. حویلی کا مالک بن کر نہیں اپنےگزرے انتیس سالوں کے شب و روز کا حساب چکتا کرنے، سب کو تگنی کا ناچ نچانے." کافی کے کپ کو ہونٹوں سے لگا کر اس نے سیگریٹ سلگائی اور ایک گہرا کش لیکر دھواں فضا کے سپرد کردیا. حویلی والے بیشک آہل یزدان کے صرف نام سے واقف تھے مگر وہ حویلی کے بچے بچے پر نظر رکھے ہوئے تھا. سب کے بارے میں جان کاری حاصل تھی اسے.
"زر ......" ایک خوبصورت تشبہہ اڑتے ہوئے دھوئیں میں ابھر کر معدوم ہوگئی. بہت ہوگیا
یہ ہائیڈ اینڈ سیک ڈئیر. اب زرا آمنے سامنے ملاقات ہوجائے." اسکی گرے آنکھوں کی چمک گہری ہوگئی. "بہت شوق تھا نا میرا چہرہ دیکھنے کا، اب جی بھر کر دیکھ لینا." مگر ایک مسئلہ عنایہ کا اہل کے گھر موجودگی تھی. اسکو یہاں اکیلا چھوڑ بھی نہیں سکتا تھا اور وہاں ساتھ لے جانا بھی کافی رسکی تھا.
"چلو اسکو بھی حویلی کی دیدار کروادوں گا".
ایک زہرخند مسکان لبوں پر پھیل گئی اور آگے کا لائحہ عمل طے کرنے لگا.
موبائل بیل پر اس نے کال پک کرلی۔
ہاں مہد!! کیسے ہو بڈی؟؟
مہد آہل کا دوست تھا۔ تین سال پہلے وہ ایک سیمینار اٹینڈ کرنے جرمنی گیا تھا وہاں اس کی مہد کے ساتھ جان پہچان ہوگئی تھی۔ جو ایک قابل بزنس مین تھا۔ اور پھررفتہ رفتہ دونوں ایک دوسرے کے بہترین ساتھی بن گئے۔
" ٹھیک ہوں۔ پاکستان آیا ہوا ہوں۔ اور کئی دن سے ایک پراجیکٹ میں پھنسا ہوا تھا۔ آج فارغ ہوا ہوں۔ تو سوچا تم سے مل لو۔ کیا پروگرام ہے۔" مہد نے گھڑی پر نظر ڈالی تو شام کے پانچ بج رہے تھے۔
" یار میں تو حویلی شفٹ ہونے والا ہوں کچھ وقت کے لئے۔ رات کو ساتھ ڈنر کرتے ہیں پھر تفصیل سے بات ہوگی۔ آہل نے فائلز وغیرہ سمیٹے اور کھڑا ہوگیا۔
"اوکے!! پھر ملتے ہیں رات کو۔ طلال نے کال کاٹ دی۔
••••••••••••••••••••••••••••
پھپھو !! آپ سے ایک بات کرنی تھی."زرغونہ عاتکہ کے روم میں چلی گئی اسے بتانے کہ آہل یزدان حویلی آرہا ہے. ایک ہی نہج پر سوچتے اسکا دماغ ماؤف ہونے لگا تو عاتکہ سے بات کرنے میں عافیت سمجھی۔
"جی بیٹا !!! کیا بات ہے؟ اتنی سہمی ہوئی کیوں ہو ؟" پھپھو نے اسکے چہرے پر ہوائیاں اڑتے دیکھ کر نرمی سے استفسار کیا.
"وہ آہل..." زر ہچکچائی
"افسس ..." پھر سے آہل. وہ پھر سے یونیورسٹی آیا ہوگا اور تمہیں ڈرایا دھمکایا ہوگا یا پھر...."
"نن.نہیں... وہ اب ڈائریکٹ حویلی آرہا ہے."
پھر سب کچھ اس نے عاتکہ کو خرف بہ خرف
بتا دیا تو اس کے بھی ہواس جھنجھوڑ دیے.
"وہ کیوں آرہا ہے یہاں؟؟ اب تو بابا سرکار بھی نہیں ہے اس کا دفاع کرنے. " آہل کی غیر متوقع آمد سے دونوں پھپھو بھتیجی تشویش کا شکار ہوگئی.
" تم اسے فون لگاؤ اور یہاں آنے سے منع کردو."
عاتکہ شدید گبھراہٹ کا شکار ہورہی تھی.
"مم۔میں کیسے.... اور آپکو لگتا ہے وہ میرے منع کرنے سے مان جائے گا. پتا نہیں کیا کھچڑی پک رہی ہے ان کی شیطانی دماغ میں، جو شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے آرہا ہے. اسکی منطق میرے سمجھ سے بالاتر ہے. کافی خودسر ہے دادا سرکار کے چہیتے۔۔ بڑے پاپا اور چچا سرکار تو ویسے بھی اسکے یہاں رہنے کے حق میں نہیں." زرغونہ کو سوچ کر جھرجھری آنے لگی.
"اب ہم کیا کرسکتے ہیں. اس نے فیصلہ لیا ہے تو وہ ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے گا. جو ہوگا دیکھا جائے گا. وہ طوفانوں سے ٹکرانے کی ہمت رکھتا ہے. ویسے کم از کم تمہاری دیرینہ خواہش تو پوری ہو جائےگی اسے دیکھنے کی. اور ہم بھی دیکھ لیں گے کہ جن خوبصورت آنکھوں کی ہماری بچی دیوانی ہے وہ اصل میں ہے کیا چیز...." عاتکہ نے زر کو سٹپٹانے پر مجبور کیا۔
"پھپھو!! میں کب دیوانی ہوں. ہمیشہ بزدلوں کی طرح چہرہ ڈھانپ کر سامنےآتا ہے ۔ تو آنکھیں ہی نظر آتی ہے، بس ویسے ہی دیکھنے کا اشتیاق تھا. اور چھوڑیں یہ سب آج میں آپکے ساتھ سوؤں گی." زرغونہ نے اپنے اوپر بلینکٹ ڈال کر چہرہ چھپاکر اپنی خفت مٹانے کی کوشش کی۔۔
•••••••••••••••••••
حویلی کے ملازمین نے سب سے پہلےعالم سرکار کا روم صاف کروایا. کرٹنز ،بیڈ شیٹ، کشن وغیرہ کے کوورز چینج کروادیے اورپھرسرونٹس کوارٹر اور انیکسی کی صفائی بھی کروائی. مگر
اگلے دن آہل کے پی اے کی آمد سے حویلی
والے پیچ و تاب کھا کر گئے۔ کیونکہ اس نے اپنی نگرانی میں دو ملازماؤں کے ہمراہ روم کی دوبارہ سے صاف صفائی کروادی اور حویلی والوں کے لگائے گئے کرٹنز وغیرہ ہٹا دیے اور اپنے لائے گئے بیڈ شیٹس اور پردے لگادیے ،جس سے حویلی کے تمام مکین عش عش کرنے لگے.
"کوئی بڑی توپ چیز ہے یہ آہل یزدان. پتہ نہیں سمجھتا کیا ہے خود کو۔ ہمارے بچھائے گئے کورز میں کانٹے لگے تھے کیا جو اس کے نازک بدن کو چھب جاتے, کہ اس کی پی اے ان کے لئے مخملی شیٹ بچھا کر چلی گئی. "شزا کے ساتھ ساتھ سب کا تجسس بڑھنے لگا آہل کو دیکھنے کا.
" میں نے ناک میں دم کردینا ہے۔ کہ آہل نامی بلا نے ایک ماہ کے بجائے ایک دن میں بھاگ جانا ہے اور پھر ساری زندگی حویلی کا رخ کرنے کا
سوچے گا بھی نہیں."
وہ مسلسل ہال میں ادھرادھر جلی پیر بلی کی طرح چکر لگا کر دل ہلکا کر رہی تھی.
"خوش فہمی ہے تمہاری شزا ڈارلنگ!!. کوئی اسکا بال بھی بھیکا نہیں کرسکتا. گوگل پر سرچ کرلو تم, سوائے شکل کے اسکے بارے میں A ٹو Z سب جان جاوگی. میں نے کل رات اسکی پوری بائیو ریڈ کی ہے. مٹی میں ہاتھ ڈالتا ہے تو سونا بنتا ہے. اڑتی چڑیا کے پر گن لیتا ہے وہ. اسکے پاس تقریباً ہر کنٹری کی نیشنلٹی ہے. دادا سرکار نے کچھ سوچ کر ہی اتنا بڑا ڈیسیجن لیا ہوگا." سوہا نے شزا کو کچی نیند سے جگا دیا.
"ہاں تو ہم بھی کچھ کم نہیں.. خاندانی رئیس ہے. باپ دادا کی کروڑوں کی جاگیر ہے، ہم کیوں دب جائے." شزا بھی اپنے نام کی ایک تھی۔۔
"چپکلی!! باپ دادا کی جاگیر تمہیں وراثت میں ملی ہے جس پر تو اترا کر عیش کر رہی ہیں، اسی جاگیر کے آدھے حصے کابلا شرکت غیرے مالک ہے. اور اس نے اپنے دم پر خود کی پہچان بنائی ہے۔ وہ اپنے قابلیت کے بل بوتے پر آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے. اسکی شخصیت کی ہر جگہ کافی چرچے ہیں" اسامہ بھی کافی متاثر تھا.
"تم لوگ پھر سے آہل نامہ لیکر شروع ہوگئے. کوئی اور کام نہیں ہے تم سب کو.. " زرغونہ انکی بک بک سن کر بور ہورہی تھی تو ڈانٹ دیا.
"لو بھئی.... حویلی میں طوفان آنے والا ہے اور یہ محترمہ ایسی پرسکون سی اپنی دنیا میں مگن ہے." شزا نے اب اسے آڑے ہاتھوں لے لیا.
" دادا سرکار کو بڑا مان تھا آپ پر نا اب اسکے لاڈلے کو بھی بھگتے آپ"
" میں کیوں بھگتوں ؟میں نے تھوڑی دعوت نامہ بھجوا کر بلایا ہے انہیں" زرغونہ صاف مکر گئی۔۔

Nice
ReplyDeleteWallah
ReplyDeletenice
ReplyDeleteNice
ReplyDeletenice
ReplyDelete