Skip to main content

روح یارم

میرا دل تم پے قربان



EPISODE=1&2

لے جائے گے لے جائے گے دل والوں دلہنیاں لے جائے گے ماہی مسکراتے ہوئے گنگناتے ہوئے روم میں داخل ہوئے  


کچھ شرم کرو ماہی جب دیکھو گاتی رہتی ہو پتا نہیں کس پر چلی گئی ہو زویا ماہی کو گاتے دیکھ کر غصے سے بولی 


ارے کیا ہو گیا ہے زویا شادی والا گھر ہے ناچ گانا تو ہوگا نہ تم کیا چاہتی ہو سوگ منانے لگ جائے ماہی منہ بناتے ہوئے بولی 


استغفرالله ماہی تم سے تو اللّه ہی بچائی زویا نے کانو کو ہاتھ لگا کر کہا 


جس پر ماہی کا قہقہ پورے روم میں گونجا جب ک زویا تو گھورتی ہی رہ گئی 


پھر تو تمہاری دعائیں قبول ہو گئے ہے  اللّه نے تمہاری مجھ سے جان چھڑالی ہے اس لیے اب تمہاری شادی ہو رہی ہے ماہی نے ہنستے ہوئے  زویا کے گال کھینچتے ہوئے کہا جس پر زویا نفی میں سر ہلانے لگی 


ارے تم دونوں یہاں پر بیٹھی باتیں کر رہی ہو پتا ہے نا پھپھو آ رہی ہے تیاری ہی کرلو روحان کمرے میں آتے ہوئے بولا 


اہ میں آ ہی رہی تھی باہر اس ماہی کی بچی نے مجھے باتوں میں لگا لیا زویا اپنے سر پر ہاتھ مارتے کمرے سے نکل گئے 


بھائی میں بھی ایئر پورٹ آپ ک ساتھ جاؤ گی پھوپھو کو لینے ماہی نے مسکراتے ہوئے کہا 


کوئی ضرورت نہیں ہے گھر بیٹھو روحان نے  صاف منع کردیا 


مجھے منع کیا اب دیکھو میں ابھی دادی کو اپکی شکایت لگاتی ہو ماہی منہ بناتے ہوئے کمرے سے بھاگ کر چلی گئے 


دادی بھائی کو دیکھیں مجھے اپنے ساتھ نہیں لے کر جا رہے میں نے بھی پھوپھو کو لینے جانا ہے ماہی دادی کے پاس آتے آنسو بہاتے ہوئے بولی 


اچھا میری بچی چلی جانا روحان کے ساتھ دادی نے پیار سے کہاں 


میں بھی پھوپھو کو لینے جاؤ گی ہانیہ بھی ان کے پاس آ کر بولی 


ایک کام کرتے ہے پورے محلے کو ساتھ لے جاتے ہیں روحان غصے سے بولا  جس ماہی اور ہانیہ نے برا سا منہ بنا کر دادی کو دیکھا 


ایک کام کر محلے والوں کو چھوڑ پورے پاکستان کو لے جا پھوپھو جان خوش ہو جائے گی ماہر مسکراہٹ دباتے ہوئے روحان کو دیکھتے ہوئے بولا 


تو اپنی بکواس بند کر روحان نے دانت پیستے ہوئے کہا 


یار اب بحث ختم کرو لیٹ ہو رہا جانا بھی ہے ارسل جو کب سے ان کو بحث کرتے دیکھ رہا تھا اب آخر کار بول ہی اٹھا 


میں بھی جاؤ گی مجھے نہیں پتا ماہی ضدی انداز سے بولی 


بیٹا تم ماہی کو اپنے ساتھ لے جاؤ دادی جان نے ہار مانتے ہوئی بولی  . ان کی بات سن کر ماہی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی 


اچھا میری ماں اٹھو چلو روحان نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا 


دادی جان کے دو بیٹے تھے بڑے بیٹے کا نام عرفان شاہ اور اس کے چھوٹے کا حارس شاہ دونوں بھائیو میں بہت پیار تھا اور ان سے چوٹی ایک بہن تھی آسیہ  عرفان صاحب کے تین بچے تھے زویا سب سے بڑی بیٹی بہت پیاری اور سمجھدار لڑکی تھی ایک سال بعد روحان ہوا پھر دو سال بعد ہماری پیاری ماہی شاہ اس دنیا میں آئیں جو سب کی لاڈلی تھی  حارس صاحب کے بھی تین بچے تھے بڑے بیٹے کا نام  ارسال اس سے چھوٹے کا نام  ماہر اور اس سے سب سے چھوٹی پیاری لاڈلی ہانیہ  . ان دونوں کے  ماں باپ ایک شادی میں گئے تھے ان کے دوست کی بیٹی کی شادی تھی وہاں پر اچانک سے آگ لگ جن کی وجہ سے ان کے ماں باپ دنیا سے رخصت ہو گئے  وه دن ان کے لیے قیامت کا دن تھا  اور پھر دادی نے ہی ان سب کی پروش کی ان کا خیال رکھا اور آج وه زندہ تھی تو ان کی وجہ سے تھی 


بھائی اتنا اتنا بڑا ایئر پورٹ ہے پھوپو کو کیسے ڈھونڈے گے ماہی چاروں طرف نظر گھماتے روحان کو دیکھ کر معصومیت سے بولی 


ارے مل جائے گی تم زیادہ مت سوچو روحان نے مسکراتے ہوئے ہلکا سا سر پر تھپڑ لگایا 


اچھا میری کال آ رہیہے  یہی پر رکو میں آ رہا ہوں روحان سنجیڈگی سے کہتے ایک سائیڈ پر ہو گیا کال سنے کے لیے 


اتنا بڑا ایئر پورٹ مجھے خود ہی پھوپھو کو ڈھونڈنا ہوگا یہ نا ہو وه گھم ہو جائے ماہی خود سے بڑبڑاتے ہوئے آگے بڑھی تھی  . . 


جب کسی ک ساتھ  تکڑا گئی  ایک پل کو تو اس کو زمین آسمان گھومتا ہوا محسوس ہوا 


اف میرا سر توڑ دیا ماہی اپنا چکرتا سر تھامتے غصے سے بولی 


اہ میڈم کوئی نہیں توٹا تمہارا سر  لگا ہوا ہے مقابل سخص نے بھی دانت پیستے ہوئے کہا اور نیچے جھک کر اپنا موبائل اٹھایا جو تکڑانے کی صورت میں اس سے موبائل گر گیا 


تمہاری غلطی ہے نظر نہیں آتا تمہیں اندھے ہو کیا ماہی غصے سے بھرے لہجے میں کہاں جس پر مقابل سخص نے گھوڑ کر اسے دیکھا 


اہ لڑکی پاگل تو نہیں ہو تم دماغ سیٹ ہے اندھو کی طرح میں نہیں تم اندھوں کی طرح چل رہی تھی اور الزام مجھ پر لگا رہی ہو  اشعر  نے خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا  


چلو مان لیا میں اندھی ہو تم تو نہیں ہو دیکھ سکتے تھے نہ وه انگلی اٹھاتے آنکھیں دیکھاتے ہوئے بولی 


اشعر تو ایک پل کو رک سا گیا کالی شلوار قمیض میں ڈالی ہوئی گوری رنگت ہلکا ہلکا سا میکپ بالوں کو کھلا چھوڑے وه بے حد حسین لگ رہی تھی 


اہ ہیلو گھوڑ کیوں رہے ہو ماہی خود پر گھوڑتی دیکھ کر غصے سے بولی 


تم اتنی کوئی حسین نہیں ہو جو تمہیں دیکھو گا ویسے مجھے لگتا ہے تم جان پوچھ کر مجھ سے تكڑ ائی ہو ہینڈسم لڑکا دیکھا نہیں  چھیڑنے آ گئی  وه مسکرا کر کہتا اسے آگ بگولا کر گیا  


استغفرالله استغفرالله  شکل دیکھی ہے تم نے  لنگور جیسی ایسی شکل پر میں تمہیں چھیڑو گی توبہ ماہی دانت پیستے ہوئے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی   اشعر اس کی بات سنتے حیرت اس آفت کو دیکھنے لگا 


یہ لنگور تم نے کس کو کہاں ہے جانتی ہو میں کون مشہور سینگر ہوں میں لڑکیاں مرتی ہے مجھ پر سمجھی اشعر تو بھڑک اٹھا خود کے لانگور جیسا لفظ سن کر اور یہ بات سچ تھی لاکھوں لڑکیاں اس پر مرتی تھی صرف ایک جھلک دیکھنے کو ترس جاتی تھی اور سامنے کھڑی لڑکی اس کی عزت کا جنازہ نکالنے پر تلی ہوئی تھی 


اہ رئیلی ایسی شکلوں پر بھی لڑکیاں مرتی ہے بیٹا بندہ کتا پال لے بلی پال لے لیکن تم جیسے خوش فہمی نا پالے وه بھی مسکرا مسکراکر کہتے اس کا صبر آزماں رہی تھی اشعر تو اس کی چک چک پر گھوڑتا رہ گیا 


ویسے یہ لے لو تمہارے کام آئیں گی ماہی نے اپنے پرس سے ایک کارڈ نکال کر اس کے آگے بڑھایا  


یہ کیا ہے اشعر نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوے پوچھا 


یہ ڈاکٹر کا کارڈ ہے خاص طور پر آنکھوں کا بہت اچھا علاج کرتے ہیں تم اپنا چیکپ کرواؤ یا پھر ان لڑکیوں کا کرواؤ جو تم جیسے لنگور اور کھڑوس پر مرتی تاک وه تھیک طرح سے دیکھ سکے  ماہی مسکراتے ہوئے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولی مقابل سخص تو بس اسے دیکھتے ہی رہ گیا 


اہ ہیلو لڑکی تمہیں تمیز نہیں ہے کسی سے بات کرنے کی گھر والوں نے تمیز نہیں سکھائی ذرا سی بھی اشعر تو بھڑک پڑا تھا اتنی بیزاتی پر 


نہیں سکھائی ہے انہوں نے تمیز بہت میں ان سے تمیز سے بات کرتی ہو جو تمیز کے قابل ہوتے ہے تم تو بلکل بھی نہیں ہو ماہی آنکھیں گھماتے ہوئے  سمائل پاس کرتے ہوئے بولی  مقابل سخص کو اندر تک جلا کر رکھ گئی 


بتمیز جنگلی کالی بلی اشعر نے دانت پیستے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں دال کر سرد پن سے کہاں  . 


کیا کہاں تم نے مجھے جنگلی کالی بلی اب تمہیں میں بتاتی ہوں جنگلی کالی بلی کہتے کسے ہے ماہی خود ک لیے جنگلی کالی بلی سنتے تپ گئی تھی اور اگلے پل اپنی حیل والی جوتی اس کے پاؤ پر زور سے دے ماری 


اہ اہ 

میرا پاؤ توڑ دیا تم پاگل لڑکی اشعر نیچے زمین پر بیٹھتے اپنا پاؤ پکڑتے ہوئے چلایا اسے بلکل اندازہ نہیں تھا سامنے کھڑی لڑکی کس قدر تیز اور خطرناک تھی 


اب دیکھا جنگلی کالی بلی کسے کہتے اور کیسی ہوتی ہے ماہی ہاتھوں کو فولڈ کرتے پرسکون لہجے میں کہتی مسکراتے ہوئے بولی اشعر کا دل کیا اس لڑکی کا سر پیٹ دے لیکن افسوس ابھی وه کچھ کر نہیں سکتا تھا 


تم نا میری نظروں سے چلی جاؤ اپنی منحوس شکل گھم کرو میرے سامنے سے اور آئندہ میرے سامنے  غلطی سے بھی مت آنا ورنہ تمہارے ساتھ اچھا نہیں ہوگا اشعر اپنا غصہ ضبط کرتے دانت پیستے ہوئے بولا آنکھیں کافی خطرناک تک سرخ تھی  


اہ ہیلو مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے تم سے ملنے کا اور تم میرے سامنے مت آنا ورنہ میں تمہارے ساتھ وه کرو گی تم سوچ بھی نہیں سکتے ابھی تم مجھے جانتے نہیں ہو اور اگلی بار یہ آنکھیں کھول کر چلنا سمجھے ماہی اپنے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے اسے وارننگ کرتے وہاں سے نکل گئی  . پیچھے اشعر اس آفت کو جاتا دیکھ رہا تھا  .   


اللّه میرا پاؤ توڑ دیا اس نے کتنا کھاتی ہے اتنا زور ہے اس چڑیل میں آج کا دن ہی منحوس ہے جنگلی کالی بلی ایک بار تم مجھے ملوں تو پھر تمہیں بتاؤ گا اشعر خانزادہ سے تم نے ٹکر لے کر زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے  اشعر دل ہی دل اسے مخاطب ہوا  


اسلام علیکم پھوپھو کیسی ہے آپ ماہی خوشی سے آسیہ بیگم کے لگے لگتے بولی 


میں تھیک میرا بچہ تم کیسی ہو آسیہ بیگم ماہی کو پیار کرتے ہوئے پوچھنے لگی 


میں بلکل تھیک ماہی مسکرائی 


ہیلو ماہی کیسی ہو زارا فیک سمائل کرتے ہوئے بولی 


میں تھیک آپ کیسی ہے ماہی بھی اسی انداز سے بولی 


ان دونوں کزنز کی آپس میں نہیں بنتی تھی زارا کچھ زیادہ ہی نخرے دکھاتی تھی کیوں وه دبئی میں رہتی بس اس ہی بات کا غرور تھا اسے 


اور تم کیسی ہو ماہی حمدان ماہی کو سر سے پیر تک گھورتے ہوئے دیکھ کر بولا 


تھیک ماہی نے اسے بنا دیکھتے ہوئے کہا 


اب ساری باتیں یہی پر ہی کرنی ہے چلے گھر دادی جان انتظار کر رہی ہوگی روحان ہنستے ہوئے کہاں تو سب نے ہاں میں سر ہلایا اور ایئر پورٹ سے نکل گئی 


حور تم اشعر کو فون کرو وه تو کہہ رہا تھا آ رہا ہوں ابھی تک نہیں آیا  سمن بیگم اپنی بیٹی حور سے بولی 


ماما آ جائے گے بھائی آپ آرام سے بیٹھے ادھر حور نے مسکراتے ہوئے اپنی ماں کو صوفے پر بیٹھایا 


کیا ہوا ماما آپ کا لاڈلا بیٹا ابھی تک نہیں آیا رومان سمن بیگم کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولا 


ہاں نا ابھی تک نہیں آیا ایئر پورٹ سے لانے سے منع کردیا یہ کہہ کر میں خود آ جاؤ گا ابھی نہیں آیا پورے تین سال بعد اپنے بیٹے کو دیکھوں گی میں اسے اپنے سینے سے لگاؤ گی سمن بیگم بے قراری سے بولی 


ماما آ جائے گا راستے میں ہوگا پریشان کیوں ہو رہی ہے رومان نے سمن بیگم کو گلے لگاتے ہوئے تسلی دیتے ہوئے بولا 


ہاں جی ماما آ جائے گے آپ بھی جلدی پریشان ہو جاتی ہے اریبہ بھی ان کے ساتھ بیٹھتے منہ بناتے ہوئے بولی 


کون بہت جلد پریشان ہو جاتا ہے اشعر ڈرائیگ روم میں داخل ہوتے مسکراتے ہوئے بولا 


میرا بچہ آ گیا ماں صدقے تین سال بعد تجھے دیکھ رہی ہوں سمن بیگم روتے ہوئے اپنے بیٹے کو لگاتے ہوئے بولی 


کیا ہو گیا ہے ماما آ گیا اب نہیں جاؤ گا اشعر نے بھی اپنی ماں کو گلے  لگاتے ہوئے مسکرا کر کہاں 


بھائی ہم سے بھی مل لے اریبہ نے منہ بناتے ہوئے کہا جس اشعر مسکراتے ہوئے اریبہ کو بھی اپنے گلے لگا گیا اور باری باری سب سے ملا 


اشعر سب سے باتیں کر رہا جب اپنے پاؤ پر پھر سے درد پڑتا محسوس ہوا تو منہ سے ہلکی سی سسکی نکلی 


کیا ہوا تجھے تو کیوں سی سی کر رہا ہے رومان اس کو سسکی لیتے دیکھ کر گھوڑ کر بولا 


جنگلی کالی بلی نے ایئر پورٹ پر کاٹ لیا تھا مجھے اشعر ماہی کا چہرہ یاد کرتے منہ بناتے ہوئے بولا 


جنگلی کالی بلی کہاں کاٹا ہے اس نے تم ڈاکٹر کے پاس گئے خیال رکھا کرو اپنا سمن بیگم فورن پریشان ہوتے ہوئے بولی  ان کی بات سنتے اشعر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئیں 


دانت کیوں نکال رہے ہو تم سیدھا سیدھا بتاؤ کیا بات ہے رومان نے سنجیڈگی سے پوچھا  تو پھر اشعر نے ساری ایئر پورٹ والی بات بتائیں  اس کی بات سنتے رومان حور اور اریبہ کے قہقہوںکی گونج پورے گھر میں گوجنے لگی جس پر اشعر اور تپ گیا 


اپنے اپنے منہ بند کرلو پہلے مجھے اس چڑیل پر کافی غصہ آ رہا ہے اشعر کشن رومان کو مارتے ہوئے بولا جس پر ان کی ہنسی کو بریک لگی 


ویسے بھائی لاکھوں لڑکیاں آپ پر مرتی ہے یہاں تک میری دوست تک اور وه لڑکی آپ کی اتنی بیزاتی کر کے چلی گئی یقین نہیں آ رہا اریبہ اپنی ہنسی دباتے ہوئے بولی 


ہاں اور ساتھ ہمارے بھائی کا پاؤ بھی کچل گئے حور نے اشعر کی طرف دیکھتے ہوئے بولی جو سرخ آنکھیں سے انہیں ہی گھوڑ رہا تھا 


اشعر کو اپنی عقل پر افسوس ہوا کیوں بتا دیا اس نے سب کو اور ہی اس کا مذاق بن گیا 


ویسے  رومان تمھاری تو شادی ہے بھابھی سے تو ملوایا ہی نہیں ہے میں نے  تو بھابی دیکھی ہی نہیں ہے اشعر نے فورن پہلو بدلا 


ہاں مل لینا کل ہم تمہاری بھابی کے گھر جائے گے کچھ چیزے دینے تم ساتھ چلنا اور مل لینا سمن بیگم بولی 


ہم تھیک ویسے ماما آپ مجھ سے لکھوالے رومان شادی کے فورن بعد آپکو رن مرید بنتا ہوا نظر آئیں گا اشعر مسکراہٹ ضبط کرتے شرارت سے بولا جس رومان نے گھوڑ کر اشعر کو دیکھا 


ہاں اور اپنا کیا خیال ہے تیرا ایک لڑکی سے بیزاتی کروا آیا پاؤ کچلوا لیا ہے اور مجھے کہہ رہا ہے رومان نے  بھی حساب برابر کیا  اشعر تو بس دانت پیستا رہ گیا 


بس بہت ہو گیا جاؤ اشعر تم فریش ہو تھک گئے ہوگے تم سمن بیگم ان کی لڑائی دیکھتے فورن بولی 


اشعر بھی صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوا  پاؤ میں پھر سے شدید درد محسوس ہوا لیکن اس نے کسی پر ظاہر نہیں کیا اور آرام سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا 


کاشان تم آ گئے تم جانتے ہو میں نے کتنا انتظار کیا تمہارا حیا اشعر کو اپنے سامنے دیکھ خوش ہوتے بولی 


ہم اشعر اتنا کہتا پھر سے جانے لگا جب حیا دوبارہ اس کے سامنے آئیں 


اشعر میں تم سے بہت محبت کرتی ہو تم جانتے ہو میں تین سال سے تمہارا کتنا انتظار کیا حیا اپنی محبت کا اظہار کرتے اشعر کے سینے سے لگ گئی  


اشعر تو ہکا ہکا رہ گیا اسے بلکل امید تھی حیا سے اس حرکت کی 


میں تم سے بہت محبت کرتی ہو ممانی سے بات کرو ہمارے رشتے کی اب اور دور نہیں رہ سکتی تم سے ابھی حیا اور کچھ کہتی اشعر کا صبر جواب دے گیا تھا اگلے پل اس نے حیا کو دور پھینکا حیا گرتے گرتے بچی 


ذرا سی شرم ہے تم میں کچھ تو شرم کرو نا محرم گلے گئی ہو کوئی تمیز ہے تم میں اشعر غصے سے بولا 


میں تم سے محبت کرتی ہو بچپن سے تم نے ہمیشہ میری محبت کی تذلیل کی ہے کیا کمی ہے مجھ میں وه بھی غصے سے چلائی 


شٹ اپ اپنی بکواس بند کرو مجھے نہیں ہے تم سے کوئی محبت شرم کرلو کچھ تم بہن سمجھتا ہوں میں تمہیں اور پتا نہیں تمہارے دماغ میں فتور بھر گیا ہے اب تم نے مجھ سے اس بارے میں بات کی حیا تو اپنے انجام کی تم خود ذمدار ہوگی وه طیش نگاہ اس پر ڈالتے سرد پن سے بولتا اپنے کمرے میں چلا گیا 


بہت ہو گیا اشعر بہت تم نے میری محبت kکی تذلیل کرلی  اب نہیں اب تم میری ضد بن چکے ہو اب تمہیں میں حاصل کر ک ہی رہو گی چاہے کچھ بھی ہو جائے حیا اپنے آنسو صاف کرتے شیطانی مسکراہٹ چہرے پر لاتے دل ہی دل میں پلان کرنے لگی 


حیا اشعر کی پھوپھو کی بیٹی ہے حیا کے بچپن میں ہی اس کی والدہ کی ڈیتھ ہوگی تھی باپ نے ایک سال بعد شادی کرلی تھی دوسری ستیلی ماں کی اس سے نہیں بنتی تھی تب ہی اشعر کے والد حیا کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے آئیں اس کو اچھی تعلیم دی اور حیا اشعر سے محبت کرنے لگ گئی اشعر ہے بھی بہت خوبصورت تھا بہت بار حیا نے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا لیکن ہمیشہ اشعر نے انکار کیا تھا 


کیا ہوا ماہی تم نے ہم سب کو روم میں کیوں بلایا ہے ماہر ماہی کو دیکھتے ہوئے پوچھا 


ہاں کیوں کے مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے اس لیے سب اپنا دماغ اور کان کھول کر میری سنے،،


اچھی جی بولے کیا بات ہے ہم سن رہے ہے روحان نے پیار سے ماہی کو دیکھتے ہوئے کہا 


ہاں میں کہہ رہی تھی یہ جو زارا اور حمدان ہے ان کو زیادہ فالتو منہ لگانے کی ضرورت نہیں اور یہ میکپ کی دکان زارا اتنے نخرے اسکے  جیسے نواز شریف کی اولاد ہو ماہی نے ناک چڑاتے ہوئے منہ بنا کر کہاں جب ک اس کی بات پر سب نے قہقہ لگایا 


ہنسے مت سچ بول رہی ہو ہم ایک دوسرے کے لیے کافی ہے ہمارا گروپ بیسٹ ہے ماہی نے انتہائی معصومیت سے اپنی بات کی اس کی معصومیت پر روحان کو ٹوٹ کر پیار آیا اپنی بہن پر 


ہاں بلکل وه تو ہے ہی میکپ کی دکان ہے ہمارا گروپ بیسٹ سے بھی بیسٹ ہے ہانیہ نے مسکراتے ہوئے اپنی ماہی کا ساتھ دیا 


مجھے ہنسی آ رہی ہے ہمارے گھر میں نواز شریف کی اولاد آئیں ہوئی ہے ماہر ماہی کی بات یاد کرتے قہقہ لگا کر بولا سب ہنسنے لگے


ماما آپ نے مجھے بلایا اشعر سمن بیگم کے کمرے میں آتے ہوئے پوچھا 


ہاں میں نے بلایا ہے بیٹھو سمن نے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو اشعر بھی بیٹھ گیا اور اپنی ماں کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا 


شام کو میں اور تمہاری بہنے زویا کے گھر جا رہے ہے تم تیار رہنا سمن بیگم نے اشعر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا 


ارے فکر مت کریں میں تیار ہو جاؤ گا  بس آپ لوگ جلدی تیار ہو جانا اشعر نے معصومیت سے کہتا  اور روم سے باہر چلا گیا 


بھائی کہاں ہے آپ ماہی روحان کے روم میں آتے اسے آوازیں دیتے ہوئے بولی 


ہاں میری پنکی کیا ہوا ہے روحان واشروم سے نکلتے ہوئے ماہی کو دیکھتے پوچھنے لگا 


اہ تو واشروم میں تھے مجھے آپ سے بات کرنی ہے  ماہی نے ہنستے ہوئے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا تو روحان بھی حیرت سے اسے دیکھنے لگا 


ہاں بولو کیا بات ہے وه بھی اس کے سامنے کھڑا ہو کر بولا 


بھائی زویا کی شادی ہے مجھے شاپنگ کرنی ہے پیسے دے ماہی ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے دانتوں تلے لب دباتے انتہائی معصومیت سے بولی 


کر تو لی ہے تم نے شاپنگ ساری اور کتنی کرنی ہے روحان نے  صدمے سے  پوچھا ۔کیوں کے وه تین دن پہلے ساری شاپنگ کر چکی تھی اور اب پھر سے پیسے مانگ رہی تھی 


کیا بھائی آپکو نہیں پتا میری ایک ہی بہن کی شادی ہے اور ہاں کی تھی میں نے شاپنگ میری اور بھی بہت ساری چیزے رہ گئی ہے لینی ہے اور ایک آپ مجھے باتیں سنا رہے ہے ماہی نے خفگی بھرے لہجے میں کہتے منہ بناتے ہوئے کہا جس پر روحان نے گہرا سانس لیا 


کتنے چاہیے پیسے روحان نے گھوڑ کر اسے دیکھتے ہوئے کہا اسے پتا تھا اس نے پیسے نکلوانے تھے ہر خال میں اس لیے بنا کوئی بحث کیے ہار مان گیا 


ایک لاکھ ماہی نے لاپرواہی سے کہاں 


ایک لاکھ روحان نے چونک کر پوچھا 


ہاں تو حیران ہونے والی کیا بات ہے بہن کو پیسے دینے سے  رزق میں اضافہ ہوتا برکت ہوتی ہے بہت ماہی نے ایک ادا سے اپنی بات کی تھی  روحان تو منہ کھولے اپنی بہن کو دیکھتا رہ گیا 


ایسا بھی ہوتا ہے میں نے تو سنا تھا بیوی پر پیسا خرچ کرنے سے رزق بھرتا ہے روحان ہنسی دباتے ہوئے ماہی کو دیکھتے ہوئے بولا 


حد ہو گئی  تھیک ہے اپنی بیوی پر ہی خرچ کرنا جا رہی ہوں میں ماہی غصے سے کہتی وہاں سے جانے لگی روحان نے جلدی سے پیچھے سے ماہی کا ہاتھ پکڑا 


ارے میری پیاری ماہی میری گڑیا مذاق کر رہا تھا  اتنی جلدی سیریس ہو گئی ہو روحان نے ماہی کو اپنے گلے لگاتے نہایت محبت سے گویا ہوا 


اہ بس رہنے دے چھوڑے مجھے ماہی اب مزید نخرے دیکھاتے ہوئے منہ بنا کر بولی 


اچھا نہ مذاق کر رہا تھا ابھی میں اپنی پیاری سی بہن کو پیسے دیتا ہو جی بھر کر شاپنگ کرنا روحان محبت سے اپنی بہن کی پیشانی پر لب رکھ کر ہنس کر بولا 


یہ لو کارڈ جتنی چاہے شاپنگ کرو روحان نے مسکراتے ہوئے ماہی کو اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہاں 


ارے تھینک یو سو مچ بھائی آئی لو یو ماہی ایک دم خوش ہوتے اچھل کر بولی 


اچھا اب پیسے مل گئے ہے تو ایک کپ اچھی سی چاۓ پلا دو روحان نے بیچارہ سا منہ بنا کر کہاں 


اچھا تھیک ہے بنا دیتی ہوں ماہی نے منہ پھیلاتے ہوئے احسان کرنے والے انداز سے کہتی کمرے سے نکل گئی 


روحان تو اپنی بہن کو گھوڑتے ہوئے ہی رہ گیا 


کیا کر رہی ہو ماہی  کچن میں کھڑی چاۓ بنا رہی تھی جب زارا کچن میں آ کر بولی 


میں چاۓ بنا رہی ہوں زارا باجی  ماہی بے زاری سے بولی  


کیا کہاں تم نے مجھے میں تمہیں باجی لگتی ہوں زارا اپنے لیے باجی کا لفظ سنتے آگ بگولا  ہو گئی  جس پر ماہی نے اپنی ہنسی دبائی 


آپ مجھ سے بڑی ہے اس لیے اخترام کرتی ہوں اب  منہ پھاڑ کر آپ کا نام تو نہیں لے سکتی یہ تو بتمیزی میں شامل ہوتا ہے نا ماہی نے انتہائی معصوم سی شکل بنا کر اپنی بات کی وضاحت دی  جس پر زارا اور تپ گئی 


میں اتنی بھی بڑی نہیں ایک دو  سال ہی بڑی ہوں اور ویسے زویا تم سے چار سال بڑی اس کا تو تم نام لیتی ہو اور مجھے تم باجی کہہ رہی ہو زارا کو اچھا خاصہ غصہ چرا تھا باجی کا سن کر 


جی بلکل وه میری بہن ہے ہمارا دوستی کا رشتہ زیادہ ہے اس لیے میں اس کا نام لیتی ہوں تم تو اتنی دور ہوتی ہو اس لیے ہماری دوستی بھی نہیں ہے اس لیے اخترام کر رہی ہوں زارا باجی ماہی نے کیوٹ سا فیس بناتے ہوئے جان پوچھ کر دوبارہ باجی کہتے اس کو اندر تک جلا گئی تھی 


ویسے آپ کو کوئی کام تھا زارا کو غصے سے کھڑا دیکھتے ماہی نے اس سے پوچھا 


کچھ نہیں زارا غصے سے تن فتن کرتی وہاں سے چلی گئی 


ایک دو سال بڑی ہو جھوٹی کہی کی ماہی بڑابڑاتے ہوئے چاۓ کا کپ لیتے وہاں سے چلی گئی 


آپ اچانک یہاں پر دادی جان سمن بیگم کی فیملی کو اچانک اس وقت گھر میں آتے دیکھ کر بولی 


آپ کو ہمارا آنا اچھا نہیں لگا سمن بیگم نے پوچھا 


ایسی بات نہیں ہے اچانک آپ لوگ آ گئے اس لیے پوچھا دادی نے اپنی بات کی  وضاحت دیتے ہوئے کہاں کہی  ان کو برا نا لگ جائے 


بس مجھے زویا کی کچھ چیزے دینی تھی اور یہ میرا بیٹا ہے اشعر آپ تو جانتی ہے یہ باہر تھا کل ہی آیا ہے تو اپنی بھابی سے ملنے کی خوائش کی تو میں اسے زویا سے ملانے لاۓ ہوں سمن بیگم نے مسکراتے اپنے یہاں آنے کی وجہ بتائیں 


اچھا اچھا کیسے ہو بیٹا دادی جان نے مسکراتے ہوئے اشعر کی جانب دیکھتے نرمی سے بولی 


میں بلکل تھیک دادی اشعر نے بھی مسکراتے ہوئے کہاں 


دادی ہماری بھابی کو بلا دے حور نے بھی مسکراتے ہوئے زویا کو بلانے کا کہاں 


ہانیہ جاؤ زویا کو بلا کر لاؤ دادی جان نے ہانیہ کو دیکھتے زویا کو بلانے کاکہاں  جب ک ہانیہ کی نظریں اشعر سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی وه تو اس کی فین تھی اس کو یقین نہیں آ رہا اشعر خانزادہ اس وقت اس کے سامنے بیٹھا ہے


کیا کھڑی دیکھ رہی ہو جاؤ بلاؤ زویا کو دادی جان ہانیہ کو وہی کھڑا دیکھتے تھوڑا سخت لہجے میں بولی جس پر ہانیہ ایک دم خوش میں آئیں اور ہاں میں سر ہلاتے وہاں سے چلی گئی 


ماہی ماہی ماہی ہانیہ ماہی کے کمرے میں آتے ماہی ماہی کی گلدان کرتے ہوئے بولی 


اے کیا ہو گیا ہے کیوں ماہی ماہی کر رہی ہے ماہی جو کمرے میں بیٹھی بک پڑھ رہی تھی ہانیہ کی آواز سنتے چڑ کر بولی 


اہ سوری تمہیں معلوم ہے ہمارے گھر اس وقت کون آیا ہے ہانیہ نے برپور خوش ہوتے ہوئے بولی 


کون آ گیا ویسے آتے تو رہتے ہے لوگ تمہارے چہرے سے دیکھ کر لگتا ہے جیسے بادشاہ سلامت آئی ہو ماہی ٹیڑا میرا منہ بناتے ہوئے بولی 


چپ لڑکی ہمارے گھر میں مشہور سنگر اشعر خانزادہ آیا ہے تم جانتی ہو اتنا پیارا ہے وه ہانیہ گھومتے ہوئے اشعر کی تعریف کرتے ہوئے مسکرا کر بولی جب کے ماہی ہانیہ کو اس طرح خوشی سے ناچتے دیکھ کر حیران رہ گئی 


حانو تم کب سے اتنی اوچھی ہو گئے شرم نہیں آتی تجھے ماہی نے کشن اٹھاتے ہوئے ہانیہ کی طرف پھینکا سہی وقت پر ہانیہ نے کیچ کرلیا ورنہ اس کے منہ پر لگتا سیدھا 


کیا تونے مجھے اوچھی بولا ہانیہ کو صدمہ لگا تھا اپنے لیے اوچھی کا لفظ سن کر 


ہاں تو اور کیا بولو تجھے خوش تو ایسے ہو رہی ہے تیرا رشتہ آیا ہو ماہی نے دانت پیستے ہوئے کہاں جب ک ہانیہ کا  منہ بن گیا 


یار کیا ہو گیا ہے وه زویا آپی کا دیور ہے ان سے ملنے آیا ہے ہانیہ نے صاف سی بات کی 


کیا تم دونوں یہاں کیا کر رہی ہو زویا کمرے میں آتے ان سے پوچھنے لگی 


اہ تیری اب بیزاتی پکی ہے زویا آپی آپ کو دادی جان بلا رہی ہے آپ ک سسرال والے آئی ہے جائے ملے ہانیہ نے اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا وه تو بھول ہی گئے تھی وه تو زویا کو بلانے ک لیے آئی تھی 


وه یہاں اس وقت سب خیریت ہے زویا تھوڑی پریشان ہو کر بولی 


وه آپ کا دیور آپ سے ملنے آیا ہے پلز چلے ہانیہ نے کہاں 


ہاں جاؤ تم میں بھی تیار ہو کر آتی ہوں زویا جانے لگی تھی ماہی کی بات سن کر رکی 


تم کیوں تیار ہو رہی ہو زویا نے حیرت سے ماہی کو دیکھتے ہوئے پوچھا ہانیہ بھی سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی 


ارے میری حالت دیکھو ملازمہ جیسی ہوئی پڑی ہے اب ایسے جاؤ گی ملنے کیا سوچے گے دلہن کی بہن ماسی کی طرح گھوم رہی ہے ماہی نے معصومیت چہرے پر لاتے اپنی ایک ادا سے بات کی اس کی معصومیت پر زویا اور ہانیہ نے ہمشکل سے اپنی ہنسی روکی 


اچھا آ جاؤ زویا کہتی وہاں سے نکل گئی جب ک ہانیہ بھی سر ہلاتی زویا ک پیچھے چلی گئی 


ارے واہ بھابی تو بہت چن کر ڈھونڈی ہے میرے بھائی نے اشعر زویا کو  دیکھ رومان کے کان میں سرگوشی کرتے شرارت سے بولا 


ہاں تو چوائس کس کی رومان نے اشعر کو آنکھ ونک کرتے ہوئے کہا جس پر اشعر نے اپنی مسکراہٹ دبائی


رومان کی مسلسل نظریں زویا پر ٹک رہی تھی جس پر زویا شرم سے لال پیلی ہو رہی تھی 


دادی ماہی کہاں ہے وه نظر نہیں آ رہی اریبہ نے ماہی کو یہاں نا پاتے دیکھ کر ماہی کا پوچھا ان کی کافی اچھی دوستی ہو گئی تھی ایک دوسرے سے 


ہاں وه آ رہی ہے ہانیہ نے کہا 


ہانیہ چاۓ دو سب کو دادی نے ہانیہ سے کہاں 


میں دیتی ہوں تم رکو ہانیہ آگے بڑھ رہی تھی جب تیزی سے زارا بولی جس پر ہانیہ نے برا سا منہ بنایا سب ہی لاؤنچ میں بیٹھے ہوئے تھے گھر کے لڑکے بھی  


زارا نے سب کو چاۓ پکڑائی اب وه اشعر کی جانب بڑھی زارا تو بس اس خوبصورت سے نوجوان کو دیکھنے لگی وه بھی اس کو پانے کی خوائش کر بیٹھی باقی لڑکیوں کی طرح 


زارا نے مسکراتے ہوئے اشعر کی طرف کپ بڑھایا تھا جب اچانک اس کو دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھ لکھڑایا تھا کپ سے چاۓ اشعر کی بلیک شرٹ پر گر گئی 


اہ اشعر ایک دم سے اٹھا سب ہی چونک کر دیکھنے لگے 


ائم سوری وه غلطی سے گر گئی زارا ڈرامہ کرتے ہوئے بولی 


زارا جب تم سے کوئی کام سیدھا نہیں ہوتا تو مت کیا کرو روحان نے غصے سے زارا کو دیکھتے ہوئے کہا 


کوئی بات نہیں بچی کو کیوں ڈانٹ رہے ہو اتنا بھی نہیں کچھ ہوا سمن بیگم نے نرمی سے کہاں 


اشعر کو اس پر بے حد غصہ آیا تھا یہ اس کی پسند کی شرٹ تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا باقی کی چاۓ اٹھا کر اس کے منہ پر پھینک دے لیکن وه یہ کر نہیں سکتا تھا 


اؤ تم اپنی شرٹ صاف کرلو ماہر نے اشعر سے کہاں وه بھی سر ہلاتا اس کے ساتھ جانے لگا 


اہ ہو میری کال آ رہی ہے تم ایسا کرو یہاں سے اوپر جاؤ گے تو ساتھ ہی روم ہوگا میرا وہاں سے واش کرلو میں آتا ہوں ماہر اس کو ہدایت دیتے ہوئے کہتا  کال سنے چلا گیا  . اشعر بھی مزے سے  اوپر کی جانب چل دیا اوپر پہنچتے ہی اس کو ایک کمرہ نظر آیا اور دروازہ کھول کر اندر چلا گیا یہ جانے بغیر وه غلط روم  میں پہنچ گیا ہے 


تم یہاں ماہی نہا کر واش روم نکلی تھی اپنے سامنے اپنے دشمن کو دیکھتے حیرت اور غصے سے دیکھتے ہوئے بولی 


تم یہاں اشعر بھی اس آفت لڑکی کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر صدمے کی کیفیت میں دیکھتے چونک کر بولا 


دونوں کی حالت ایک جیسی تھی ایک دم جیسے جھٹکا لگا تھا 


تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی ماہی غصے سے آگے بڑھتے ہوئے  چلائی اس سے پہلے وه اس تک پہنچتی ماہی کا پاؤ موڑا اور اس سے پہلے وه نیچے زمین پر گرتی اشعر نے فورن سے اس کی کمر  سے تھامتے ہوئے اسے گرنے سے بچایا  ایک پل کو ان کی آنکھیں ملی تھی اشعر تو اس کی سبز جیسی پیاری آنکھوں میں کھو گیا تھا گھوری گھوری رنگت بال نہانے کی وجہ سے بھیگے ہوئی تھی بالوں سے پانی ٹپک ٹپک  کر اس کے چہرے کو بھیگو رہے تھے  دونوں کا دل دھڑکا تھا 


کیا جانے تو میرے ارادے 

لے جاؤ گا  سانسیں چڑاکے 

دل کہہ رہا ہے گناہگار بن جا  

بڑا بے چین ہے گناہ ہوں سے آگے 

 

Comments

Popular posts from this blog

Novel Name : روح_یارم

EPISODE=1&16 یہ منظر دبئی کے بہت بڑے شہر راس الخیمہ کا ہے ۔اس شہر کو راس الخیمہ اس لیے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں خیموں سے مشاہبت رکھنے والے چھوٹے چھوٹے مکان ہیں  جو ساحل سمندر پر موجود ہیں ۔ وہ اس طرح کے چھوٹے چھوٹے کام کرنے کے لیے خود نہیں آتا تھا لیکن اس وقت سوال اس کے لایفٹ ہینڈ شارف کا تھا  وہ جو بچپن سے اس کے ساتھ تھا اس کے ہر کام میں برابر کا شریک ۔ آج وہ اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا وہ اس وقت دبئی کی ایک بہت بڑی جیل میں تھا ۔اس کا وفادار ساتھی اس پر جان نچھاور کرنے والے کو وہ اس طرح سے نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔ یہ سچ تھا کہ ڈان کو اس سے کوئی محبت نہ تھی اس کے ساتھ کوئی دلی وابستگی نہ تھی مگر   وہ اس کے لئے جان دینے کا حوصلہ رکھتا تھا اور ڈان کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت تھی ۔ رات  ایک بجے کا وقت تھا راس الخیمہ شہر دن میں جتنا ویران اور خاموش ہوتا رات میں اتنا ہی روشنیوں سے بھرا ہوتا ۔ اور ڈان اکثر اپنے کام روشنیوں میں کرنے کا عادی تھا کیونکہ اسے پتہ تھا ۔کہ گناہ کار کو اس کا گناہ نہیں بلکہ گناہ چھپانے کا طریقہ مار دیتا ہے  اس لیے وہ جو بھی کرتا کھلے عام...

Novel Name میرے نصیب

EPISODE=1 واٹ...  وکیل صاحب  بابا سرکار ایسا کیسے کر سکتے ہیں. جب حیات تھے تب ماہانہ لاکھوں اس منحوس کے اکاؤنٹ میں جمع کرواتے. اور اب وفات پا گئے, تو ہم سمجھے یہ چیپٹر کلوز ہوگیا ہوگا. مگریہاں تو اس کو آدھی وراثت کامالک بنا دیا گیا ہے. آخر کون ہے یہ آہل یزدان نامی بچھو جو ہمارا ہی حق ڈسے جا رہا ہے. خود تو منوں  مٹی تلے سو گئے بابا سرکار, اسے ہمارے سروں پر مسلط کرکے چھوڑ گئے. مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ بابا سرکار نے ضرور خفیہ دوسری شادی کی ہوگی اور یہ آہل نامی بلا اسکا پوتا یا نواسا ہی ہوگا. کس طرح  کھلم کھلا بے انصافی کردی ہے بابا سائیں نے." ایاز میر منہ سے زہر اگل رہا تھا. "نہیں. وصیت کے مطابق عالم میر صاحب نے صرف ایک ہی شادی کی تھی وہ بھی آپ کی اماں حضور سے. مگر اس لڑکے کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں ہے، کہ کون ہے. کہاں سے آیا ہے. اور حاکم سرکار کے ساتھ اس کا کیا رشتہ ہے۔ مگر یہ لیگل کاغذات ہیں جس کے مطابق عالم سرکار کی آدھی جائیداد ان کے تینوں بیٹوں یعنی ایاز میر ، سلطان میر اور سب سے چھوٹے امان میر کے نام ہے. جبکہ آدھا حصہ آہل یزدان کے نام پر." وکیل جغفر قریشی ص...

آزمـؔ͜ــائش محـؔ͜ــبت کـؔ͜ــی

EPISODE 1 & 6 دل کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی باتیں،   خوابوں کی دنیا میں، خوابوں کی راتیں۔   محبت کی خوشبو، وفا کی روشنی،   زندگی کی راہوں میں، چمکتی خوشی۔ چپکے چپکے دل کی دھڑکن سنو،   اس کی خاموشی میں کتنی کہانیاں ہیں۔   رنگ برنگے احساسات کی بوندا باندی،   زندگی کی کتاب میں، یہ سب کہانیاں ہیں۔ خود سے ملنے کا یہ لمحہ خاص ہے،   دل کی وادیوں میں، یہ سفر بے مثال ہے۔   محبت کا چہرہ، دوستی کی روشنی،   دل کی گہرائیوں میں، یہ سب خوشبوئیں ہے    سورج کی اجلی روشنی ہر سو چھائی ہوئی تھی ۔ سردیوں کی ٹھندی ٹھندی ہوائیں بارش کا پتا دے رہی ۔ پنجاب کے اس چھوٹے سے شہر میں یہ ایک چھوٹا سا سکول ہے ۔ جہاں سے بچوں کی پڑھنے کی آوازیں سنائی دیں رہی تھی ۔ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ،  اس کی خوبصورت آواز کا بچوں نے پیچا کیا  "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،  وہ بلیک کالر کے سادہ سے عبائے میں نفاست سے نکاب کیے بچوں کو پڑھا رہی تھی ۔ میم اریشہ ایک سادہ سے خلیہ والی (آیا) نے اسے مخاطب کیا...